Pinnacle of Morality - Veracity
The fourth quality is veracity. It means that a person’s intention, words and deeds are upright and in harmony with one another. A person should not utter a single word which is untrue, his deeds should not contradict his words and if he adheres to every word he gives, then this is the veracity of his words and deeds; however, this should necessarily be supplemented with the veracity of his intentions. The Qur’ān has termed it as ikhlās (sincerity) and its antithesis as hypocrisy and at various places clarified that to God the real deeds are those which spring forth from within a person; thus the pinnacle of veracity is achieved through this harmony of words and deeds and intention. The Qur’ānic words
صَدَقُوْا مَا عَاهَدُ اللهِ عَلَيْه (23: 33)
(Those who made a promise with God and then fulfilled it, (33:23))
point to this very aspect; ie, truth and veracity should manifest themselves in the words uttered by the tongue, by the intention of the heart and by every deed done. The Qur’ān says:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (15:49)
True believers are those who professed faith in God and His Messenger and then never remained in any doubt and fought with their wealth and with their persons in the cause of God. Such are those who veracious. (49:15)
References in this article
- Chapter 033 Verse 023
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا
33.23
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کر دکھایا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کر چکے اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
سورۂ اعراف کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’رجال‘ جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو وہ تفخیم شان پر دلیل ہوتا ہے، اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ ’مردان حق‘ یا ’مردان کار‘ کیا جائے تو یہ ترجمہ لفظ کی روح کے مطابق ہو گا۔
لفظ ’نعب‘ وسیع معنوں میں آتا ہے۔ عزم و ہمت، عہد و پیمان، نذر، سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ امام بخاریؒ نے اس کی تفسیر ’عھد‘ سے کی ہے اور یہ تفسیر لفظ کی روح اور موقع و محل کے مقتضیات کے بالکل مطابق ہے۔
اوپر آیت ۱۵ میں منافقین کا حال بیان ہو چکا ہے کہ انھوں نے اللہ اور رسول سے یہ عہد کیا تھا کہ اب کسی جنگ کا موقع آیا تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن جب موقع آیا تو محاذ سے فرار کے بہانے ڈھونڈنے لگے۔ یہ ان کے مقابل اللہ کے وفادار بندوں کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ مردان حق بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو اس کی راہ میں جانیں دے کر پورا کر دکھایا اور جو ابھی یہ عہد پورا نہیں کر سکے ہیں وہ سر ہتھیلی پر لیے کھڑ ے ہیں کہ کب موقع آئے کہ وہ اس فرض سے سبکدوش ہوں۔ ’وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا‘ اور انھوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد میں سرمو تبدیلی نہیں کی۔
- Chapter 049 Verse 015
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
49.15
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
حقیقی اہل ایمان کے اوصاف: فرمایا کہ ہر مدعی ایمان، اللہ کے نزدیک مومن نہیں بن سکتا۔ حقیقی مومن اللہ کے نزدیک وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر صدق دل سے ایمان لائے، پھر شک و تذبذب میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ مال و جان دونوں سے اللہ کی راہ میں برابر جہاد کیا۔ اپنا مال بھی دین کی تقویت و تائید کے لیے صرف کیا اور جان قربان کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے ہیں لیکن اپنے تذبذب کے سبب سے اس راہ میں نہ کوئی چوٹ کھانے کے لیے تیار ہیں اور نہ جان و مال کی قربانی کا کوئی حوصلہ رکھتے ہیں، وہ محض دکھاوے کے مجنوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔
یہان غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِھِمْ‘ کا ذکر ان کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔ ایک شخص اگر ایک نصب العین کے لیے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا تو یہ ایک ناقابل انکار شہادت اس بات کی ہے کہ اس کو اس نصب العین کی صداقت پر پورا یقین ہے اور اگر وہ اس کی خاطر نہ مال قربان کرنے پر تیار ہے نہ اپنی جان کو کسی خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو اگرچہ وہ اس کے عشق میں کتنی ہی لاف زنی کرے لیکن اس کا عمل گواہ ہے کہ وہ اس کے باب میں ابھی مبتلائے شک ہے۔
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
جمال و کمال ۔ صدق
حوالہ جات
- Chapter 033 Verse 023
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اہل ایمان میں وہ جانباز بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کر دکھایا۔ سو ان میں سے بعض تو اپنا عہد پورا کر چکے اور بعض منتظر ہیں۔ اور انھوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
سورۂ اعراف کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’رجال‘ جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو وہ تفخیم شان پر دلیل ہوتا ہے، اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ ’مردان حق‘ یا ’مردان کار‘ کیا جائے تو یہ ترجمہ لفظ کی روح کے مطابق ہو گا۔
لفظ ’نعب‘ وسیع معنوں میں آتا ہے۔ عزم و ہمت، عہد و پیمان، نذر، سب اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ امام بخاریؒ نے اس کی تفسیر ’عھد‘ سے کی ہے اور یہ تفسیر لفظ کی روح اور موقع و محل کے مقتضیات کے بالکل مطابق ہے۔
اوپر آیت ۱۵ میں منافقین کا حال بیان ہو چکا ہے کہ انھوں نے اللہ اور رسول سے یہ عہد کیا تھا کہ اب کسی جنگ کا موقع آیا تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے لیکن جب موقع آیا تو محاذ سے فرار کے بہانے ڈھونڈنے لگے۔ یہ ان کے مقابل اللہ کے وفادار بندوں کا ذکر ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ مردان حق بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو اس کی راہ میں جانیں دے کر پورا کر دکھایا اور جو ابھی یہ عہد پورا نہیں کر سکے ہیں وہ سر ہتھیلی پر لیے کھڑ ے ہیں کہ کب موقع آئے کہ وہ اس فرض سے سبکدوش ہوں۔ ’وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا‘ اور انھوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد میں سرمو تبدیلی نہیں کی۔
- Chapter 049 Verse 015
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
حقیقی اہل ایمان کے اوصاف: فرمایا کہ ہر مدعی ایمان، اللہ کے نزدیک مومن نہیں بن سکتا۔ حقیقی مومن اللہ کے نزدیک وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر صدق دل سے ایمان لائے، پھر شک و تذبذب میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ مال و جان دونوں سے اللہ کی راہ میں برابر جہاد کیا۔ اپنا مال بھی دین کی تقویت و تائید کے لیے صرف کیا اور جان قربان کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کرتے ہیں لیکن اپنے تذبذب کے سبب سے اس راہ میں نہ کوئی چوٹ کھانے کے لیے تیار ہیں اور نہ جان و مال کی قربانی کا کوئی حوصلہ رکھتے ہیں، وہ محض دکھاوے کے مجنوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔
یہان غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِھِمْ‘ کا ذکر ان کے عدم تذبذب کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔ ایک شخص اگر ایک نصب العین کے لیے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا تو یہ ایک ناقابل انکار شہادت اس بات کی ہے کہ اس کو اس نصب العین کی صداقت پر پورا یقین ہے اور اگر وہ اس کی خاطر نہ مال قربان کرنے پر تیار ہے نہ اپنی جان کو کسی خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو اگرچہ وہ اس کے عشق میں کتنی ہی لاف زنی کرے لیکن اس کا عمل گواہ ہے کہ وہ اس کے باب میں ابھی مبتلائے شک ہے۔
حواشی
۷۷ الاحزاب۳۳: ۲۳۔
ماخذ
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
Pinnacle of Morality - Veracity
Javed Ahmad Ghamidi
The fourth quality is veracity. It means that a person’s intention, words and deeds are upright and in harmony with one another. A person should not utter a single word which is untrue, his deeds should not contradict his words and if he adheres to every word he gives, then this is the veracity of his words and deeds; however, this should necessarily be supplemented with the veracity of his intentions. The Qur’ān has termed it as ikhlās (sincerity) and its antithesis as hypocrisy and at various places clarified that to God the real deeds are those which spring forth from within a person; thus the pinnacle of veracity is achieved through this harmony of words and deeds and intention. The Qur’ānic words
صَدَقُوْا مَا عَاهَدُ اللهِ عَلَيْه (23: 33)
(Those who made a promise with God and then fulfilled it, (33:23))
point to this very aspect; ie, truth and veracity should manifest themselves in the words uttered by the tongue, by the intention of the heart and by every deed done. The Qur’ān says:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (15:49)
True believers are those who professed faith in God and His Messenger and then never remained in any doubt and fought with their wealth and with their persons in the cause of God. Such are those who veracious. (49:15)
جمال و کمال ۔ صدق
Javed Ahmad Ghamidi
Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours
Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.
Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.