Need for a Prophet
About this article.
Javed Ahmad Ghamidi
1 Comments
Login to Save
Just as a person has been given the ability to infer through parables and induction, to make a whole through components and then explain the components through the whole, to assimilate ideologies through what is obvious and to draw analogies from what can be felt through the senses for what cannot be felt, he has also be given the ability to distinguish between good and evil and to make a distinction between what is right and what is wrong and in fact he even has a comprehension of his Lord and his justice. We have already alluded to these abilities of man earlier. Thus a prophet is not needed to inform people of these things. All these are ingrained in his nature and innately found in him. The Qur’ānic verse (4:163-165) which has been earlier referred to at the beginning of this section “Belief in the Prophets” shows that the need for a prophet did not arise to inform man of these things; it arose because of two other reasons:
Firstly, for completion of guidance. This means that man be reminded of whatever is ingrained in his nature in concise form and of whatever he has known eternally and all its details be specified for him. In certain verses, the Qur’ān has regarded this to be a completion of divine favour:
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُوْنَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيْتَآء الزَّكَاةِ وَكَانُوْا لَنَا عَابِدِيْنَ
And We made these [prophets] leaders to give guidance at Our behest, and revealed to them to do pious deeds, show diligence in the prayer and give zakāh. And they worshipped none but Ourself. (21:73)
Secondly, for itmām al-hujjah. This means to awaken man from his slumber of unawareness and after providing the testimony of his intellect and knowledge provide another testimony through these prophets to such an extent that no one is left with any excuse to deny the truth:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ آيَاتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَـذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِيْنَ ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُوْنَ
“O Jinn and men! Did there not come to you prophets from among you who proclaimed to you My revelations and warned you of [your] meeting with this day?” They will reply: “We bear witness against our own souls” – And indeed, the life of this world deceived them and they testified against themselves that they were disbelievers – this was because your Lord does not destroy cities because of their oppression if their inhabitants are not aware of the truth. (6:130-131)
References in this article
- Chapter 004 Verse 163
- Chapter 004 Verse 164
- Chapter 004 Verse 165
- Chapter 006 Verse 130
- Chapter 006 Verse 131
- Chapter 021 Verse 073
- Bukhari 1374
- Bukhari 1379
إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا
4.163
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
ہم نے تمھاری طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح نوح اور اس کے بعد آنے والے نبیوں کی طرف وحی کی اور ہم نے ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب، اولاد یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان پر وحی بھیجی۔ اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
لفظ ’اسباط‘ پر سورۂ بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔
زبور: ’زبور‘ کے نام سے ایک صحیفہ حضرت داؤد کی دعاؤں اور مناجاتوں پر مشتمل تورات کے مجموعہ میں شامل ہے۔ قرآن میں اس کا نام معرفہ کی شکل میں بھی آیا ہے۔ یہاں نکرہ کی صورت میں میرے نزدیک تفخیم شان کے لیے ہے جس سے زبور کی اہمیت واضح ہو تی ہے۔ اگرچہ موجودہ زبور کو تورات کے دوسرے صحیفوں ہی کے درجے میں رکھنا صحیح ہے۔ اس میں ترجمہ کے نقائص بھی ہیں اور کمی بیشی کا بھی خاصا امکان ہے تاہم اس کو پڑھیے تو سینہ ایمان و توکل کے نور سے لبریز ہو جاتا ہے۔
انبیاء کے ناموں میں ترتیب کی نوعیت: یہاں حضرات انبیاء کے جو نام گنائے گئے ہیں ان کی ترتیب حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت یعقوبؑ اور ان کی اولاد کے ذکر تک تو تاریخی ہے لیکن اس کے بعد ترتیب صفاتی ہو گئی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ ، حضرت ایوبؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت ہارون ؑ اپنے خاص نوع کے ابتلا اور خاص نوع کی تائید الٰہی میں فی الجملہ اشتراک رکھتے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤد ؑ دونوں نبی بھی ہیں اور دونوں بادشاہ بھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکرحضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد لانے کی وجہ خاص اہتمام کے ساتھ زبورکی طرف توجہ دلانا ہے۔ سب سے آخر میں حضرت موسیٰؑ کا ذکر ہے اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰؑ مماثل نبی ہیں۔ اس بات کا ذکر قرآن اور احادیث دونوں میں ہے۔
انبیاء کے ذکر سے مقصود: یہاں اگرچہ تمام انبیاء کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن ان کے اندر اشتراک کے ساتھ با عتبارِ صفات جو تنوع ہے وہ بھی نمایاں ہو گیا ہے اور با عتبار وحی و خطاب اور کلام ان میں سے اگر کسی کو کوئی اختصاص و امتیاز حاصل ہوا ہے تو وہ بھی سامنے آگیا ہے۔ اس تمام حوالے سے قرآن کا مقصود یہ ہے کہ یہ انبیاء ہیں جن کے نام اور کام تورات کے صحیفوں میں بھی بیان ہوئے ہیں اور یہ طریقہ رہا ہے جس طریقہ پر اللہ نے ان نبیوں کو اپنی وحی اور اپنے خطاب و کلام سے نوازا ہے۔ ۱ (۱ وحی کی حقیقت اور اس کے اقسام پر ان شاء اللہ ہم سورۂ شوریٰ میں بحث کریں گے۔) ان سب سے اہل کتاب واقف ہیں، بھلا ہے اس میں کہیں ذکر اس بات کا کہ اللہ نے کسی نبی پر اس طرح کتاب اتاری ہو کہ اس کو اترتے سب نے دیکھا ہو؟ موسیٰؑ سے بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ، جس طرح کلام کیا جاتاہے، لیکن ان یہود کا اطمینان اس سے بھی نہ ہوا ۔ انھوں نے اس پر بھی یہ شبہ وارد کر دیا کہ جب تک خدا ہم سے رُودررُوہو کر کلام نہ کرے ہم کس طرح باور کریں کہ وہ تم سے کلام کرتا ہے۔ شک کے ایسے مریضوں کا کیا علاج؟
ان آیات میں استدلال کا پہلو: ان آیات میں استدلال کا پہلو ، جیا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اگر وحی کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا تجربہ تنہا تمھی نے پیش کیا ہوتا اور نبوت و رسالت کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا دعویٰ دنیا میں اکیلے تمھی نے کیا ہوتا تب تو ایک حد تک گنجائش تھی کہ ان لووں کو معذور خیال کیا جائے جو تمھارے دعوے پر اضطراب کا اظہار کریں اور اس انوکھے دعوے کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک ہر پہلو سے اپنا اطمینان نہ کر لیں۔ لیکن جب انبیاء کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے اور ان پر جن شکلوں میں اور جن باتوں کی وحی آئی ان کے بھی دفاتر موجود ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے تمہاری صداقت کے ثبوت کے لیے ایسے بے سروپامطالبات کے کیا معنی جو ان تمام رسولوں اور نبیوں کے نام لیوا بھی ہیں اور ان تمام کتابوں کے حامل ہونے کے مدعی بھی جو ان انبیاء پر نازل ہوئیں جس طرح ہر گروہ کی کچھ مشترک خصوصیات و صفات ہوتی ہیں اسی طرح انبیا کے گروہ کی بھی مشترک خصوصیات و صفات ہیں اور یہ ایسی نمایاں ہیں کہ ان کے حامل تمام دنیا سے الگ نظر آتے ہیں۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ کوئی جھوٹا مدعی ان کے اندر داخل ہو سکے اور نہ اس کا امکان ہے کہ جو ان کے اندر شامل ہواس کو ان کے زمرے سے الگ کیا جا سکے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(اِن کی پروانہ کرو، اے پیغمبر)، ہم نے تمھاری طرف اُسی طرح وحی کی ہے، جس طرح نوح پر اور اُس کے بعد آنے والے پیغمبروں پر کی تھی۔ ہم نے ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب، اولاد یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف بھی وحی کی اور داؤد کو ہم نے زبور عطا فرمائی تھی۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
زبور کا لفظ اِس آیت میں نکرہ آیا ہے۔ یہ تفخیم شان کے لیے ہے جس سے الہامی کتابوں میں زبور کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
وَرُسُلا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا
4.164
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور دوسرے بھی بہت سے رسولوں پر وحی بھیجی جن کا حال ہم تم کو پہلے سنا چکے ہیں اور بہت سے رسولوں کا حال نہیں سنایا اور موسیٰ سے تو اللہ نے کلام کیا۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
حضرت موسیٰ ؑ سے مکالمۂ الٰہی کی نوعیت: ’وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا‘پر ہم دوسرے مقام میں گفتگو کر چکے ہیں۔ تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے خاص خطاب و کلام سے نوازا ہے اور اس خطاب و کلام کی شان اس وحی سے مختلف تھی جس سے دوسرے انبیا مشرف ہوئے ہیں۔
انبیاء کے ناموں میں ترتیب کی نوعیت: یہاں حضرات انبیاء کے جو نام گنائے گئے ہیں ان کی ترتیب حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت یعقوبؑ اور ان کی اولاد کے ذکر تک تو تاریخی ہے لیکن اس کے بعد ترتیب صفاتی ہو گئی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ ، حضرت ایوبؑ ، حضرت یونسؑ ، حضرت ہارون ؑ اپنے خاص نوع کے ابتلا اور خاص نوع کی تائید الٰہی میں فی الجملہ اشتراک رکھتے ہیں۔ حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤد ؑ دونوں نبی بھی ہیں اور دونوں بادشاہ بھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکرحضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد لانے کی وجہ خاص اہتمام کے ساتھ زبورکی طرف توجہ دلانا ہے۔ سب سے آخر میں حضرت موسیٰؑ کا ذکر ہے اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰؑ مماثل نبی ہیں۔ اس بات کا ذکر قرآن اور احادیث دونوں میں ہے۔
انبیاء کے ذکر سے مقصود: یہاں اگرچہ تمام انبیاء کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن ان کے اندر اشتراک کے ساتھ با عتبارِ صفات جو تنوع ہے وہ بھی نمایاں ہو گیا ہے اور با عتبار وحی و خطاب اور کلام ان میں سے اگر کسی کو کوئی اختصاص و امتیاز حاصل ہوا ہے تو وہ بھی سامنے آگیا ہے۔ اس تمام حوالے سے قرآن کا مقصود یہ ہے کہ یہ انبیاء ہیں جن کے نام اور کام تورات کے صحیفوں میں بھی بیان ہوئے ہیں اور یہ طریقہ رہا ہے جس طریقہ پر اللہ نے ان نبیوں کو اپنی وحی اور اپنے خطاب و کلام سے نوازا ہے۔ ۱ (۱ وحی کی حقیقت اور اس کے اقسام پر ان شاء اللہ ہم سورۂ شوریٰ میں بحث کریں گے۔) ان سب سے اہل کتاب واقف ہیں، بھلا ہے اس میں کہیں ذکر اس بات کا کہ اللہ نے کسی نبی پر اس طرح کتاب اتاری ہو کہ اس کو اترتے سب نے دیکھا ہو؟ موسیٰؑ سے بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ، جس طرح کلام کیا جاتاہے، لیکن ان یہود کا اطمینان اس سے بھی نہ ہوا ۔ انھوں نے اس پر بھی یہ شبہ وارد کر دیا کہ جب تک خدا ہم سے رُودررُوہو کر کلام نہ کرے ہم کس طرح باور کریں کہ وہ تم سے کلام کرتا ہے۔ شک کے ایسے مریضوں کا کیا علاج؟
ان آیات میں استدلال کا پہلو: ان آیات میں استدلال کا پہلو ، جیا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اگر وحی کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا تجربہ تنہا تمھی نے پیش کیا ہوتا اور نبوت و رسالت کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا دعویٰ دنیا میں اکیلے تمھی نے کیا ہوتا تب تو ایک حد تک گنجائش تھی کہ ان لووں کو معذور خیال کیا جائے جو تمھارے دعوے پر اضطراب کا اظہار کریں اور اس انوکھے دعوے کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک ہر پہلو سے اپنا اطمینان نہ کر لیں۔ لیکن جب انبیاء کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے اور ان پر جن شکلوں میں اور جن باتوں کی وحی آئی ان کے بھی دفاتر موجود ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے تمہاری صداقت کے ثبوت کے لیے ایسے بے سروپامطالبات کے کیا معنی جو ان تمام رسولوں اور نبیوں کے نام لیوا بھی ہیں اور ان تمام کتابوں کے حامل ہونے کے مدعی بھی جو ان انبیاء پر نازل ہوئیں جس طرح ہر گروہ کی کچھ مشترک خصوصیات و صفات ہوتی ہیں اسی طرح انبیا کے گروہ کی بھی مشترک خصوصیات و صفات ہیں اور یہ ایسی نمایاں ہیں کہ ان کے حامل تمام دنیا سے الگ نظر آتے ہیں۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ کوئی جھوٹا مدعی ان کے اندر داخل ہو سکے اور نہ اس کا امکان ہے کہ جو ان کے اندر شامل ہواس کو ان کے زمرے سے الگ کیا جا سکے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
ہم نے اُن رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی جن کا ذکر تم سے پہلے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں کی طرف بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا اور موسیٰ سے تو اللہ نے کلام کیا تھا، جس طرح کلام کیا جاتا ہے۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
انبیا علیہم السلام کے نام یہاں جس ترتیب سے گنائے گئے ہیں، اُس میں کیا چیز ملحوظ ہے اور اِس تمام حوالے کا مقصود کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...اِن کی ترتیب حضرت نوح سے لے کر حضرت یعقوب اور اُن کی اولاد کے ذکر تک تو تاریخی ہے، لیکن اِس کے بعد ترتیب صفاتی ہو گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ، حضرت ایوب، حضرت یونس، حضرت ہارون اپنے خاص نوع کے ابتلا اور خاص نوع کی تائید الٰہی میں فی الجملہ اشتراک رکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان اور حضرت داؤد دونوں نبی بھی ہیں اور دونوں بادشاہ بھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد لانے کی وجہ خاص اہتمام کے ساتھ زبور کی طرف توجہ دلانا ہے۔ سب سے آخر میں حضرت موسیٰ کا ذکر ہے، اِس لیے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ مماثل نبی ہیں۔ اِس بات کا ذکر قرآن اور احادیث، دونوں میں ہے۔ ...اِس تمام حوالے سے قرآن کا مقصود یہ ہے کہ یہ انبیا ہیں جن کے نام اور کام تورات کے صحیفوں میں بھی بیان ہوئے ہیں اور یہ طریقہ رہا ہے جس طریقے پر اللہ نے اِن نبیوں کو اپنی وحی اور اپنے خطاب و کلام سے نوازا ہے۔ اِن سب سے اہل کتاب واقف ہیں، بھلا ہے اِس میں کہیں ذکر اِس بات کا کہ اللہ نے کسی نبی پر اِس طرح کتاب اتاری ہو کہ اُس کو اترتے سب نے دیکھا ہو؟ موسیٰ سے بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام کیا، جس طرح کلام کیا جاتا ہے، لیکن اِن یہود کا اطمینان اِس سے بھی نہ ہوا۔ اُنھوں نے اِس پر بھی یہ شبہ وارد کر دیا کہ جب تک خدا ہم سے رو در رو ہو کر کلام نہ کرے، ہم کس طرح باور کریں کہ وہ تم سے کلام کرتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/۴۳۱)
یہ موسیٰ علیہ السلام کا خاص امتیاز ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن سے خطاب و کلام کی شان اُس سے مختلف تھی جو دوسرے انبیا کے ساتھ تھی۔ تاہم یہ خطاب و کلام بھی خدا سے رو در رو نہیں، بلکہ ’مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘، یعنی پردے کی اوٹ ہی سے تھا۔
رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
4.165
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اللہ نے رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بنا کر بھیجا تاکہ ان رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اللہ غالب اور حکیم ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
’رُسُلاً‘ فعل محذوف سے منصوب بھی ہو سکتا ہے اور بدل بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں ہی شکلوں میں معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔
انبیاء کا مشترک مشن: اس آیت میں رسولوں کا مشترک مشن بھی بتا دیا اور وہ ضرورت بھی جو ان کے بھیجنے کی داعی ہوئی۔ ان کا مشترک مشن لوگوں کو بشارت دینا اور خطرے سے آگاہ کرنا ہے۔ بشارتاس بات کی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کے لیے ابدی زندگی کی خوشیاں اور کامرانیاں ہیں۔ آگاہی اس بات کی کہ جو لوگ کفر اور بد عملی کی راہ اختیار کریں گے ان کے لیے دائمی عذابِ نار ہے۔
انبیاء کی بعثت کی ضرورت: اس کی ضرورت یہ بتائی کہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہو جائے۔ یہ کہنے کا موقع کسی کے لیے باقی نہ رہے کہ ان کے پاس اس خطرے سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں آیا ورنہ وہ ہرگز کفر و بد عملی کی راہ نہ اختیار کرتے۔ اگرچہ خدا عزیز ہے، وہ انبیاء کے بھیجے بغیر بھی لوگوں کو ان کی نا فرمانیوں پر سزا دیتا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا لیکن وہ حکیم بھی ہے، اس کی حکمت کا تقاضایہ ہوا کہ وہ کسی کو سزا دے تو اتمامِ حجت کے بعد ہی دے۔ یہ حجت رسولوں کے آنے کے بعد پوری ہو گئی۔ عقل و فطرت کی جو شہادت ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور نیکی اور عدل سے محبت، ظلم و گناہ سے نفرت کی انسان کے اندر ودیعت تھی وہ ان انبیاء نے پوری طرح آشکارا کر دی۔ ان کے جو تقاضے ہو سکتے تھے وہ بھی پوری تفصیل سے بیان کر دیے۔ اب اگر کوئی ٹھوکر کھاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں آنکھیں رکھتے ہوئے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھاتا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت خیر و شر کے شعور سے محروم نہیں ہے اور نہ عقل حق و باطل میں امتیاز سے قاصر ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم پر پیدا کیا ہے اوراس کو خیر و شر کی معرفت بخشی ہے لیکن اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ عقل و فطرت کی رہنمائی کے ساتھ وحی اور انبیا کی رہنمائی سے بھی اس کو نوازے تاکہ عقل و فطرت کے تقاضے اس کے سامنے بالکل مبرہن ہو کر آجائیں اور گمراہی کے لیے ادنیٰ عذر بھی باقی نہ رہ جائے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
یہ رسول جو بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر بھیجے گئے تاکہ لوگوں کے لیے اِن رسولوں کے بعد اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
یہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی بعثت کا مقصد بھی بتا دیا ہے اور وہ ضرورت بھی جو اِن کے بھیجنے کی داعی ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ وہ انذار و بشارت کے لیے آتے ہیں تاکہ لوگوں کو غفلت سے بیدار کیا جائے اور اُن کو بھیجنے کی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ علم و عقل کی شہادت کے بعد ایک دوسری شہادت بھی پیش کر دی جائے جو حق کو اِس درجہ واضح کر دے کہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
6.130
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمھارے پاس تمھیں میری آیتیں سناتے اور تمھارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ہوشیار کرتے ہوئے تم میں سے رسول نہیں آئے۔ وہ بولیں گے ہم خود اپنے خلاف شاہد ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بے شک وہ کافر رہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
سوال بطور قطع عذر: ’یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا‘۔ یہ سوال ان سے بطور قطع عذر کے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ شامت زدو، کیا تمھارے پاس تمھی میں سے میری آیتیں سناتے اور اس دن کی آمد سے ہوشیار کرتے ہوئے رسول نہیں آئے؟ پھر تم نے آخر اپنی یہ شامت کیوں بلائی؟ رسول نہ آئے ہوتے تو تم کوئی عذر پیش کر سکتے تھے، اب کیا عذر پیش کر سکتے ہو؟ تم نے تو سب کچھ سن اور سمجھ کے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند رکھے۔
جنوں کے رسول انہی کے اندر سے ہوتے ہیں: ’رُسُلٌ مِّنْکُمْ‘ سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے اسی طرح جنوں کے اندر جنوں میں سے رسول بھیجے۔ انبیا و رسل کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اور جو تفصیل سے قرآن میں بیان ہوئی ہے اس کا لازمی اقتضا بھی یہی ہے کہ جنوں کے اندر انہی کے اندر سے رسول آئیں جو ان کی بولی میں، ان کی ضروریات و حالات کے مطابق ان پر اللہ کی حجت تمام کریں۔ اتمام حجت انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد ہوتا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ ہر گروہ کے اندر ان کی فطرت کے مطابق رسول آئیں۔ انسان اور جن دو مختلف نوعیں ہیں۔ دونوں کے مسائل اگر کل نہیں تو بیشتر الگ الگ ہیں۔ اشتراک ہو سکتا ہے تو عقائد اور اخلاق کے بعض اصولوں میں ہو سکتا ہے، شریعت، قانون، معاشرت کے مسائل تو لازماً الگ الگ ہوں گے۔ پھر رسول جو اسوہ اور نمونہ بن کر آتے ہیں اگر ان کے اندر سے نہ ہوئے تو وہ ان کے لیے اسوہ اور نمونہ کیسے بن سکتے ہیں؟ جب ہم انسانوں کے لیے جنات میں سے کوئی رسول اسوہ نہیں بن سکتا تو انسانوں میں سے کوئی رسول جنوں کے لیے کیسے اسوہ بن سکتا ہے؟ ہر قوم کا رسول ان کے اندر سے ہونے کا خاص پہلو، اتمام حجت کے نقطۂ نظر سے یہی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ گویا اس قوم پر خود اس کی زبان، خود اس کے ضمیر، خود اس کے ایک بھائی اور خود اسی کے ایک فرد کامل کے ذریعے سے اس پر حجت قائم کر دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جنات قیامت کے روز اس سوال کے جواب میں یہ عذر کرسکتے تھے کہ اے رب ہم جنات کے لیے کسی غیر جن کا قول و عمل کس طرح حجت ہو سکتا تھا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جس طرح جنوں کے اشرار و شیاطین اور انسانوں کے اشرار و شیاطین میں حق کی مخالفت کے لیے سنگھٹن ہو جایا کرتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں بیان ہوا، اسی طرح بعض مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ جنوں کے اندر جو ابرار و صالحین ہیں ان کی طرف سے اس حق کی بھی تائید ہوتی ہے جو انسانوں کے ابنیاء و صالحین کے ذریعے سے ظاہر ہوا ہے اس لیے کہ حق، اصولی حیثیت سے، نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان ایک متاع مشترک کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تمام کائنات کی متاع مشترک ہے۔ اس مسئلے پر انشاء اللہ تفصیل کے ساتھ ہم سورۂ جن میں بحث کریں گے۔ یہاں اس اشارے پر کفایت کیجیے۔
’یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ‘ میں ممکن ہے کسی کو ’یَقُصُّ‘ کا لفظ آیات سنانے کے لیے کھٹکے اس لیے کہ اس لفظ کا معروف استعمال سرگزشتیں سنانے ہی کے لیے ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ لفظ اس وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ آیات سے یہاں مراد آیات انذار ہں جن کا غالب حصہ مکذبین و منکرین کے انجام اور ان کی سرگزشتوں کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں موقع و محل اسی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے جو سوال فرمائے گا اس کا مطلب یہی ہو گا کہ کیا تمھیں میرے رسولوں نے جھٹلانے والوں کے انجام اور اس دن کی آمد سے خبردار نہیں کیا تھا کہ تم نے اپنے آپ کو اس ابدی ہلاکت میں ڈالا۔
اپنی گواہی خود اپنے خلاف: ’قَالُوْا شَھِدْنَا عَلآی اَنْفُسِنَا وَغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَھِدُوْا عَآٰی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ‘۔ بعینہٖ یہی بات سورۂ ملک میں یوں بیان ہوئی ہے۔
’کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ ہ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ ۵لا فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ہ وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ‘ 9۔11 ملک (جب جب اس میں جھونکی جائے گی کوئی پارٹی، دوزخ کے داروغے اس سے سوال کریں گے، کیا تمھارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے، ہاں، بے شک ہمارے پاس آگاہ کر دینے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سننے اور سمجھنے والے لوگ ہوتے تو دوزخ میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اعتراف کر لیں گے، پس دفع ہوں یہ دوزخ والے)
آیت کے بیچ میں ’غَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا‘ کے الفاظ بطور جملہ معترضہ کے اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جس بات کا آج اس جسارت سے انکار کر رہے ہیں، کل اس بے بسی کے ساتھ اس کا اعتراف کریں گے اور اپنے خلاف خود گواہ بنیں گے کیونکہ آج ان کے انکار کی بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اس دنیا کی ظاہر فریبی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اس دنیا کا کارخانہ چونکہ جزا و سزا کے اصول پر نہیں چل رہا ہے بلکہ ابتلا کے اصول پر چل رہا ہے، جس میں حق کے ساتھ باطل کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے اس وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جزا و سزا ہے ہی نہیں اور نبی جو کچھ کہتے ہیں یہ محض ہوائی باتیں ہیں۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ، کیا تمھارے پاس خود تمھارے اندر سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو میری آیتیں تمھیں سناتے اور اِس دن کی ملاقات سے خبردار کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔ (اِن پر افسوس)، دنیا کی زندگی نے اِنھیں دھوکے میں ڈالے رکھا اور اب خود اپنے خلاف گواہی دے رہے ہیں کہ وہ منکر تھے۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
یہ سوال قطع عذر کے لیے ہو گا۔ ضمناً یہ بات بھی اِس سے معلوم ہوئی کہ پیغمبر جس طرح انسانوں میں بھیجے گئے، اُسی طرح جنوں میں بھی اُن کے اندر سے بھیجے گئے۔اِس کے لیے اصل میں ’اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اِس باب میں بالکل صریح ہیں اور یہی بات اُس قاعدے کے مطابق بھی ہے جو نبیوں کی بعثت سے متعلق قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان ہوا ہے کہ وہ جن کی طرف بھیجے جاتے ہیں، اُنھی کے اندر سے بھیجے جاتے ہیں۔
آیت میں لفظ ’یقص‘بھی قابل توجہ ہے۔ اِس کے معروف معنی سرگذشتیں سنانے کے ہیں، لیکن یہ یہاں آیتیں سنانے کے لیے آیا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...ہمارے نزدیک یہاں یہ لفظ اِس وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ آیات سے یہاں مراد آیات انذار ہیں جن کا غالب حصہ مکذین ومنکرین کے انجام اور اُن کی سرگذشتوں کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں موقع و محل اِسی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن سے جو سوال فرمائے گا، اُس کا مطلب یہی ہو گا کہ کیا تمھیں میرے رسولوں نے جھٹلانے والوں کے انجام اور اِس دن کی آمد سے خبردار نہیں کیا تھا کہ تم نے اپنے آپ کو اِس ابدی ہلاکت میں ڈالا ۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۶۶)
ذَلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ
6.131
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
یہ اس وجہ سے کہ تیرا رب بستیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ان کے باشندے بے خبر ہوں۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
عذاب سے پہلے اتمام حجت: ’ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَھْلُھَا غٰفِلُوْنَ‘۔ یہ وجہ بیان فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ اہتمام کیا گیا کہ ہر قوم کے اندر، خواہ انسان ہوں یا جن، انہی کے اندر سے رسول آئیں۔ فرمایا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ تیرے رب کی رحمت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفروشرک پر، اس کے نتائج و عواقب سے آگاہ کیے بغیر، ان پر عذاب بھیج دے۔ وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دیتا ہے تاکہ وہ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ و اصلاح کر لیں اور اگر نہ کرنا چاہیں تو اپنی ذمہ داری پر اس کے نتائج بھگتیں۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(ہم نے) یہ (پیغمبر) اِسی لیے (بھیجے تھے) کہ تمھارا پروردگار بستیوں کو اُن کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے، جبکہ اُن کے باشندے (حقیقت سے) بے خبر ہوں۔
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ
21.73
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہماری ہدایت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے ان کو بھلائی کے کام، نماز کے اہتمام اور زکوٰۃ کے ادا کرنے کی ہدایت کی۔ اور وہ ہماری ہی بندگی کرنے والے تھے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
’وَجَعَلْنٰھُمْ اَءِمَّۃً‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امتوں کے بانی اور قوموں کے امام ہوئے۔ اگرچہ ہر نبی اپنے منصب کے لحاظ سے امام ہوتا ہے لیکن بعض انبیاؑ ء ایسے بھی گزرے ہیں جن کے سایہ کے سوا ان کا کسی نے ساتھ نہیں دیا مگر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کو بالفعل اللہ تعالیٰ نے منصب امامت پر سرفراز فرمایا اور انھوں نے ایک عظیم امت کی قیادت فرمائی۔ ’وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآءَ الزَّکٰوۃِ وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ‘۔ ’اِقَامَ الصَّلٰوۃِ‘ دراصل ’اِقَامَۃَ الصَّلٰوۃِ‘ ہے ’اِقَامَۃ‘ کی ’ۃ‘ آہنگ و صوت کے تقاضے سے گر گئی ہے۔ اس قسم کی تخفیف بتقاضائے حسنِ صوت عربی میں معروف ہے۔ ان انبیاؑ ء کی دعوت کے ان اجزاء کے گنانے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کی دعوت وہی رہی ہے جو قرآن دے رہا ہے اور یہ تمام انبیاؑ ء صرف خدا ہی کے عبادت گزار تھے، خدائے واحد کے سوا انھوں نے کسی اور کے آگے سر نہیں جھکایا۔ مطلب یہ ہے کہ جولوگ ان نبیوں کے نام لیوا اور ان کے ساتھ نسبت کے مدعی ہیں وہ اس آئینہ میں اپنے منہ دیکھیں اور اپنے قول و عمل کا جائزہ لیں۔ وہ کیا تھے اور یہ کیا بن کے رہ گئے۔
عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِکٍ رضی اللّٰہ عنہ ۔۔۔ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وََسَلَّمَ قال إِنَّ الْعَبْدَ إذا وُضِعَ فی قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عنہ أَصْحَابُہُ وَإِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُولَانِ ما کُنْتَ تَقُولُ فی ہذا الرَّجُل لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وََسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فیقول أَشْہَدُ أَنَّہُ عبد اللّٰہِ وَرَسُولُہُ فَیُقَالُ لہ انْظُرْ إلی مَقْعَدِکَ من النَّارِ قد أَبْدَلَکَ اللّٰہ بِہِ مَقْعَدًا من الْجَنَّۃِ فَیَرَاہُمَا جَمِیْعًا ۔۔۔ أَنَّہُ یُفْسَحُ فی قَبْرِہِ ۔۔۔ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَیُقَالُ لہ ما کُنْتَ تَقُولُ فی ہذا الرَّجُلِ فیقول لَا أَدْرِی کنت أَقُولُ ما یقول الناس فَیُقَالُ لَا دَرَیْتَ ولا تَلَیْتَ وَیُضْرَبُ بِمَطَارِقَ من حَدِیدٍ ضَرْبَۃً فَیَصِیحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُہَا من یَلِیہِ غیر الثَّقَلَیْنِ۔
Revelation
حدیث کا ترجمہ
’’ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان کو اُس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اُس کے بھائی بند واپس چل پڑتے ہیں تو ابھی وہ اُن کے جوتوں کی آواز سن ہی رہا ہوتا ہے کہ دو فرشتے اُس کے پاس آ موجودہوتے ہیں اور اُس کو بٹھا دیتے ہیں، پھر اُس سے پوچھتے ہیں کہ تو اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا، تو جہاں تک مومن کا تعلق ہے، وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ پھر اُس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھو! دوزخ میں اپنے اُس ٹھکانے کی طرف جسے اللہ نے تمھارے لیے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔ ۔۔۔ اُس کی قبر خوب کشادہ کر دی جاتی ہے ۔۔۔ اور جہاں تک منافق اور کافر کا تعلق ہے تو جب اُس سے کہا جاتا ہے کہ تو اِس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا، تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں نہیں جانتا، میں وہی کہا کرتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ تواُس سے کہا جائے گا کہ نہ تو نے خود جاننے کی کوشش کی اور نہ جاننے والوں کی پیروی کی۔ پھر اُسے لوہے کے گرزوں کے ساتھ بڑی زور سے مارا جائے گا، جس کے نتیجے میں وہ چیخے گا، اُس کی اِس چیخ کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ ارد گرد کی سب مخلوقات سنیں گی۔‘‘
عَنْ عبدِ اللّٰہِ بنِ عُمَرَ رضی اللّٰہ عنہما أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وََسَلَّمَ قال إِنَّ أَحَدَکُمْ إذا مَاتَ عُرِضَ علیہ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ إن کان من أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَإِنْ کان من أَہْلِ النَّارِ فَمِنْ أَہْلِ النَّارِ فَیُقَالُ ہذا مَقْعَدُکَ حتی یَبْعَثَکَ اللّٰہ یوم الْقِیَامَۃِ۔
Revelation
حدیث کا ترجمہ
’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے جب کوئی مرتا ہے تو اُسے صبح و شام اُس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کے ٹھکانوں میں سے اُس کا ٹھکانا اور اگر اہلِ دوزخ میں سے ہو تو اہلِ دوزخ کے ٹھکانوں میں سے اُس کا ٹھکانا اور پھر اُس سے کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمھیں اٹھائے گا تو یہ تمھارا ٹھکانا ہو گا ۔‘‘
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi












Comments on this Article
THIS IS A VERY GOOD ARTICLE…
Fri, April 15, 2011 - 12:02:30You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.