Islam: The Name of this Religion
The religion introduced in the foregoing pages is called “Islam”, and the Almighty has asserted in the Qur’ān that no other religion is acceptable to Him:
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ … وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (3 :19 ، 85)
The only true religion in God’s sight is Islam … and he that chooses a religion other than Islam, it will not be accepted from him and in the world to come he will surely be among the losers. (3:19, 85)
Just as the word “Islam” is used for the whole corpus of religion, it is also sometimes used to imply its outer form. As regards its outer form, it consists of the following five things:
1. Bearing witness that there is no god besides Allah and Muhammad (sws) is His Messenger.
2. Offering the prayer
3. Paying zakāh
4. Keeping fasts of Ramadān
5. Offering the hajj of the Baytullāh
References in this article
- Chapter 003 Verse 019
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
3.19
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اللہ کا اصل دین اسلام ہے۔ اہل کتاب نے تو اس میں اختلاف علمِ حق کے آجانے کے بعد محض باہمی ضدّم ضدّا کے سبب سے کیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
’’الدین‘‘ سے مراد دین حقیقی، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اتارا۔ اس پر الف لام اسی طرح کا ’’الکتب‘‘ پر ہے۔ اس کی وضاحت تفسیر سورۂ بقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔
’’العلم‘‘ سے مراد علم حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کو واضح کرنے اور اختلاف کو دور کردینے کے لیے نازل ہوا۔
دین اسلام ہی اللہ کا دین ہے: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو صحیح زندگی گزارنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک دین عطا فرمایا جس کا نام اسلام ہے۔ یہی دین اللہ کا دین ہے یہ دین عدل و قسط کی میزان ہے۔ یہی دین اس کائنات کے تمام نظام تکوینی میں نافذ ہے۔ اسی دین پر فطرتِ انسانی کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہی دین اس نے ابتدا سے تمام نبیوں اور رسولوں پر اتارا۔ اس سے الگ اس نے کسی کو کوئی اور دین نہیں دیا لیکن یہود و نصاریٰ نے باہمی اختلاف و عناد اور ضدم ضدا کی وجہ سے اس میں بہت سے اختلافات پیدا کر دیے اور یہودیت و نصرانیت کے ناموں سے اپنے الگ الگ دین کھڑے کر لیے۔ ان کا یہ اختلاف کسی بے خبری پر مبنی نہیں تھا بلکہ حق واضح ہو جانے کے باوجود محض شرارت نفس، باہمی عناد اور اپنی اپنی بدعات کی پچ میں تھا۔ اس طرح انھوں نے اللہ کی عظیم نعمت پا کر ضائع کر دی۔ اللہ چونکہ حیی و قیوم اورقائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس نے اس نظام عدل و قسط یعنی اسلام کو ازسرِ نو تازہ اور مکمل صورت میں نازل فرمایا تاکہ لوگ ہدایت کی صراط مستقیم پائیں اور دنیا و آخرت دونوں کی فلاح حاصل کریں۔ اب بھی اگر انھوں نے وہی روش اختیار کیے رکھی جو اس سے پہلے اختیار کی اور خدا کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حساب بہت جلد چکا دینے والا ہے۔ یعنی یہ مہلت جو انھیں ملی ہوئی ہے اس کو بہت طویل نہ سمجھیں بلکہ حضرت یحییٰؑ کے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔
یہ مضمون سورہ بقرہ میں بھی آ چکا ہے اور وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس پر گفتگو کر چکے ہیں۔ ہم آیت نقل کیے دیتے ہیں ۔ تفصیل کے طالب اسی مقام میں اس کی تفسیر دیکھیں۔ فرمایا ہے:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَاجَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo (213۔بقرہ)
لوگوں کو اللہ نے ایک ہی امت بنایا۔ پھر انھوں نے اختلافات پیدا کیے تو اللہ نے اپنے انبیا بھیجے خوش خبری دیتے ہوئے اور آگاہ کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری حق کے ساتھ تاکہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے۔ اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جن کو یہ کتاب ملی، کھلی کھلی تنبیہات کے باوجود، محض آپس کی ضدم ضدا کے سبب سے، تو اللہ نے ایمان لانے والوں کو اپنی توفیق بخسی سے اس حق کی ہدایت دی جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(یہ حقیقت ہے تو پھر اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ )اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، (اِس لیے کہ وہی اللہ کو اِ س طرح ماننے کی دعوت دیتا ہے)، اور جنھیں کتاب دی گئی ، اُنھوں نے تواللہ کی طرف سے اِس حقیقت کا علم اُن کے پاس آجانے کے بعد محض آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے اِس میں اختلاف کیا ہے۔ (یہ صریح انکارہے )،اورجو اللہ کی آیتوں کے اِس طرح منکر ہوں، (وہ یاد رکھیں کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا دین بھی یہی تھا ۔اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں پرابتداسے یہی دین اتارا۔ اِس سے الگ کوئی دین اُس نے کسی کونہیں دیا ۔یہودیت اورنصرانیت کے نام سے جودین اِس وقت موجو دہیں،یہ اُن کے ماننے والوں نے اصل دین میں محض ضدم ضدا کی وجہ سے بہت سے اختلاف پیدا کرکے کھڑے کر لیے ہیں ۔
- Chapter 003 Verse 085
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
3.85
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہو گا۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اسلام کے حق میں دلائل واضح کر دینے کے بعد اب یہ صاف الفاظ میں اعلان فرما دیا کہ جو لوگ اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب بنیں گے یا اس پر جمے رہیں گے، عام اس سے کہ وہ یہودیت ہو یا نصرانیت یا کوئی اور دین، وہ اللہ کے ہاں قبول نہ ہو گا۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم و نا مراد ہوں گے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(یہی اسلام ہے) اورجو اسلام کے سوا کوئی اوردین اختیارکرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا۔
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
دین حق ۔ اسلام
حوالہ جات
- Chapter 003 Verse 019
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اللہ کا اصل دین اسلام ہے۔ اہل کتاب نے تو اس میں اختلاف علمِ حق کے آجانے کے بعد محض باہمی ضدّم ضدّا کے سبب سے کیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
’’الدین‘‘ سے مراد دین حقیقی، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اتارا۔ اس پر الف لام اسی طرح کا ’’الکتب‘‘ پر ہے۔ اس کی وضاحت تفسیر سورۂ بقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔
’’العلم‘‘ سے مراد علم حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کو واضح کرنے اور اختلاف کو دور کردینے کے لیے نازل ہوا۔
دین اسلام ہی اللہ کا دین ہے: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو صحیح زندگی گزارنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک دین عطا فرمایا جس کا نام اسلام ہے۔ یہی دین اللہ کا دین ہے یہ دین عدل و قسط کی میزان ہے۔ یہی دین اس کائنات کے تمام نظام تکوینی میں نافذ ہے۔ اسی دین پر فطرتِ انسانی کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہی دین اس نے ابتدا سے تمام نبیوں اور رسولوں پر اتارا۔ اس سے الگ اس نے کسی کو کوئی اور دین نہیں دیا لیکن یہود و نصاریٰ نے باہمی اختلاف و عناد اور ضدم ضدا کی وجہ سے اس میں بہت سے اختلافات پیدا کر دیے اور یہودیت و نصرانیت کے ناموں سے اپنے الگ الگ دین کھڑے کر لیے۔ ان کا یہ اختلاف کسی بے خبری پر مبنی نہیں تھا بلکہ حق واضح ہو جانے کے باوجود محض شرارت نفس، باہمی عناد اور اپنی اپنی بدعات کی پچ میں تھا۔ اس طرح انھوں نے اللہ کی عظیم نعمت پا کر ضائع کر دی۔ اللہ چونکہ حیی و قیوم اورقائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس نے اس نظام عدل و قسط یعنی اسلام کو ازسرِ نو تازہ اور مکمل صورت میں نازل فرمایا تاکہ لوگ ہدایت کی صراط مستقیم پائیں اور دنیا و آخرت دونوں کی فلاح حاصل کریں۔ اب بھی اگر انھوں نے وہی روش اختیار کیے رکھی جو اس سے پہلے اختیار کی اور خدا کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حساب بہت جلد چکا دینے والا ہے۔ یعنی یہ مہلت جو انھیں ملی ہوئی ہے اس کو بہت طویل نہ سمجھیں بلکہ حضرت یحییٰؑ کے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔
یہ مضمون سورہ بقرہ میں بھی آ چکا ہے اور وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس پر گفتگو کر چکے ہیں۔ ہم آیت نقل کیے دیتے ہیں ۔ تفصیل کے طالب اسی مقام میں اس کی تفسیر دیکھیں۔ فرمایا ہے:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَاجَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo (213۔بقرہ)
لوگوں کو اللہ نے ایک ہی امت بنایا۔ پھر انھوں نے اختلافات پیدا کیے تو اللہ نے اپنے انبیا بھیجے خوش خبری دیتے ہوئے اور آگاہ کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری حق کے ساتھ تاکہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے۔ اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جن کو یہ کتاب ملی، کھلی کھلی تنبیہات کے باوجود، محض آپس کی ضدم ضدا کے سبب سے، تو اللہ نے ایمان لانے والوں کو اپنی توفیق بخسی سے اس حق کی ہدایت دی جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(یہ حقیقت ہے تو پھر اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ )اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، (اِس لیے کہ وہی اللہ کو اِ س طرح ماننے کی دعوت دیتا ہے)، اور جنھیں کتاب دی گئی ، اُنھوں نے تواللہ کی طرف سے اِس حقیقت کا علم اُن کے پاس آجانے کے بعد محض آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے اِس میں اختلاف کیا ہے۔ (یہ صریح انکارہے )،اورجو اللہ کی آیتوں کے اِس طرح منکر ہوں، (وہ یاد رکھیں کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا دین بھی یہی تھا ۔اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں پرابتداسے یہی دین اتارا۔ اِس سے الگ کوئی دین اُس نے کسی کونہیں دیا ۔یہودیت اورنصرانیت کے نام سے جودین اِس وقت موجو دہیں،یہ اُن کے ماننے والوں نے اصل دین میں محض ضدم ضدا کی وجہ سے بہت سے اختلاف پیدا کرکے کھڑے کر لیے ہیں ۔
- Chapter 003 Verse 085
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہو گا۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اسلام کے حق میں دلائل واضح کر دینے کے بعد اب یہ صاف الفاظ میں اعلان فرما دیا کہ جو لوگ اسلام کے سوا کسی اور دین کے طالب بنیں گے یا اس پر جمے رہیں گے، عام اس سے کہ وہ یہودیت ہو یا نصرانیت یا کوئی اور دین، وہ اللہ کے ہاں قبول نہ ہو گا۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم و نا مراد ہوں گے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(یہی اسلام ہے) اورجو اسلام کے سوا کوئی اوردین اختیارکرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا۔
حواشی
ماخذ
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
Islam: The Name of this Religion
Javed Ahmad Ghamidi
The religion introduced in the foregoing pages is called “Islam”, and the Almighty has asserted in the Qur’ān that no other religion is acceptable to Him:
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ … وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (3 :19 ، 85)
The only true religion in God’s sight is Islam … and he that chooses a religion other than Islam, it will not be accepted from him and in the world to come he will surely be among the losers. (3:19, 85)
Just as the word “Islam” is used for the whole corpus of religion, it is also sometimes used to imply its outer form. As regards its outer form, it consists of the following five things:
1. Bearing witness that there is no god besides Allah and Muhammad (sws) is His Messenger.
2. Offering the prayer
3. Paying zakāh
4. Keeping fasts of Ramadān
5. Offering the hajj of the Baytullāh
دین حق ۔ اسلام
Javed Ahmad Ghamidi
Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours
Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.
Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.