Īmān: The Inner Aspect of Religion
The inner aspect of religion is “imān” (belief). As per its details mentioned in the Qur’ān, this inner aspect also consists of five things:
1. Belief in God
2. Belief in the Angels
3. Belief in the Prophets
4. Belief in Divine Books
5. Belief in the Day of Judgement
The Qur’ān says:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
The Messenger has believed in what has been revealed to him by His Lord, and so do those who follow [him]. All of them professed faith in God and His angels and His books and His Messengers. [They affirm:] “We do not discriminate between any of God’s Messengers”, and they said: “We heard and have obeyed. Lord! We seek Your forgiveness, and [believe that on the Day of Judgment] to You shall we return. ” (2:285)
References in this article
- Chapter 002 Verse 285
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
2.285
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس پر اس کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور مومنین ایمان لائے۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ان کا اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار! ہم تیری مغفرت کے طلب گار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ایمان نہ لانے والوں سے بے پروائی: یہاں رسول اور مسلمانوں کے ایمان کی خبر دینے سے مقصود محض یہ ایک واقعے کی خبر دینا نہیں ہے بلکہ قرآن کے مخالفین بالخصوص یہود کی مخالفت سے بے پروائی کا اظہار ہے۔ سورہ کا آغاز ، یاد ہو گا، اس بات سے ہوا تھا کہ قرآن کے کتابِ الٰہی ہونے میں تو کسی شبے کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے اندر خدا ترسی ، حقیقت بینی اور حق طلبی ہو گی۔ جو لوگ گروہ پرستی ، عصبیت اور اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہوں گے وہ اس کتاب پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ اب یہاں خاتمے پر یہ اعلان فرما دیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے واضح کر دیا کہ اس ایمان کی سعادت سے بہرہ مند ہونے والے کون لوگ تھے۔ گویا دودھ کے اندر جتنا مکھن تھا وہ نکال کرسامنے رکھ دیا اور اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کر دیا کہ اس دودھ کے اندر یہ مکھن تھا جو نکل آیا ہے۔ اب جو بچ رہا ہے یہ چھاچھ ہے خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
قانون کی فرمانبرداری کے معاملے میں نبی اور امتی یکساں ہیں: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ کتابِ الٰہی پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے جس کا ذکر ہوا ہے وہ خود رسول کی ذات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قانون کی فرمانبرداری اور اطاعت کے معاملے میں پیغمبرؐ بھی اسی سطح پر ہے جس پر عام اہل ایمان ہیں۔ دنیوی بادشاہ اپنی رعایا کو جو قانون دیتے ہیں وہ خود اس قانون سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن خدا کے قانون میں خود اس قانون کا لانے والا نہ صرف یہ کہ اس کے تحت ہوتا ہے بلکہ اسے سب سے آگے بڑھ کر اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کہتے ہوئے اس کا قلاوہ اپنی گردن میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ ان پیغمبروں کی سچائی کی ایک ایسی شہادت ہے جس کو صرف ایک ہٹ دھرم ہی جھٹلا سکتا ہے۔
اجمالی ایمان تمام انبیاء اور تمام صحیفوں پر: ’کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ الایۃ‘میں جن جزائے ایمان کا ذکر ہوا ہے ان پر ہم اسی سورہ کی آیت ۱۷۷ کے تحت گفتگو کر چکے ہیں۔ وہاں اللہ ، فرشتوں ، کتابوں اور نبیوں پر ایمان کی حقیقت سمجھنی چاہیے۔ خاص طور پر فرشتوں پر ایمان کی ضرورت ہم نے وہاں تفصیل سے واضح کی ہے۔ البتہ ایک بات کی طرف یہاں بھی اشارہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہاں کتاب کالفظ ہے، یہاں کتاب کے بجائے کُتب کا لفظ ہے جو کتاب کی جمع ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے لیے تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اہل کتاب صرف اپنی کتاب اور صرف اس نبی یا ان نبیوں پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں جن وہ اپنے یا اپنا نبی خیال کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے کہ یہ امت اللہ کے تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہے، جہاں تک اجمالی ایمان کا تعلق ہے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء، قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ البتہ چونکہ دوسرے انبیاء اور ان کے صحیفوں کی تعلیم محفوظ نہیں رہی نیز ان صحیفوں اور ان انبیا نے خود خبر دی تھی کہ ان کی شریعت کامل نہیں ہے ، کامل شریعت قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دنیا کو ملے گی، اس وجہ سے ہم قرآن اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی ایمان بھی رکھتے ہیں اور اسی تفصیلی ایمان کی دعوت دنیا کو بھی دیتے ہیں۔
اسلوب کی تبدیلی میں بلاغت کا نکتہ: ’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘اس ٹکڑے کی شرح ہم اسی سورہ کی آیت 135 کے تحت، امت وسط کے کلمہ کی وضاحت کرتے ہوئے کر چکے ہیں۔ البتہ اس میں یکایک اسلوب کی جو تبدیلی ہوئی ہے یعنی بات غائب کے صیغے سے نکل کرجو متکلم کے صیغے میں آ گئی ہے، یہ دھیان میں رکھنے کی ہے ۔ اوپر کے ٹکڑے میں بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہے لیکن یہ جملہ براہِ راست امت کی طرف سے اعتراف و اظہار کی شکل میں نمایاں ہوا ہے۔ اس پر بلاغت کا یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ اوپر کے ٹکڑے میں مسلمانوں کا جو ایمان و عقیدہ بیان ہوا ہے پوری امت اس کا اقرار و اظہار کرتی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے باب میں کسی تعصب میں گرفتار نہیں ہیں، یہ تمام انبیا ایک ہی سلسلۃ الذھب کی کڑیاں ہیں اس وجہ سے ہم یہود و نصاریٰ کی طرح یہ نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو رد کر دیں۔ ’احد‘ کا لفظ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے۔ جیسے لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآء اس وجہ سے اس کے ساتھ لفظ ’بین‘ کا لفظ استعمال صحیح ہے۔
’سمع و طاعت‘ کا مفہوم:’وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ سمع کا لفظ یہاں مجرد سننے کے معنی میں نہیں بلکہ ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اردو میں بھی سننے کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں سَمِعْنَا کا لفظ دل کی قبولیت کا اظہار کرتا ہے اور وَاَطَعْنَا کا لفظ عملی اطاعت کا اور ایمان و اسلام کی اصل حقیقت یہی ہے ۔ اس میں یہود کے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا پر ایک لطیف تعریض بھی ہے۔
حذفِ فعل کا ایک فائدہ: ’غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘ ’غُفْرَانَکَ‘ فعل محذوف کا مفعول ہے۔اس طرح کے مواقع میں فعل کا حذف دعا کرنے والے کے اضطراب کو ظاہر کرتا ہے جو قبولیت دعا کے لیے ایک نہایت موثر سفارش ہے۔
سمع و طاعت کے اقرار سے دعا کا تعلق: سمع و طاعت کے اقرار کے بعد معاً دعا کا زبان پر جاری ہو جانا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقرار ایک عظیم ذمہ داری کا اقرار ہے، یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے، اس میں بڑی بڑی آزمائشیں پیش آنی ہیں اور ہر قدم پر لغزشوں ، کوتاہیوں اور ٹھوکروں کے اندیشے ہیں۔ اس حقیقت کے شعور نے ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ کے اقرار کے فوراً بعد طلب مغفرت کی طرف متوجہ کر دیا ۔ اس لیے کہ جب راہ بھی کٹھن ہے اور پرسش بھی ہر پوشیدہ اور علانیہ پر ہونی ہے جیسا کہ اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے اور عذاب اور رحمت سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے تو اس کی مغفرت کے سہارے کے سوا ہر سہارا بے حقیقت ہے۔ ’وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘ میں کامل سپردگی ہے، یعنی تیرے سوا کوئی نہیں ہے جو کسی پہلو سے مرجع و ماویٰ بن سکے۔ اس میں ایک لطیف تعریض یہودو نصاریٰ پر بھی ہے کہ وہ اپنے آباواجداد اور شرکاو شفعا کے اعتماد پر سمع و طاعت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو بیٹھے۔ لیکن اس امت پر یہ حقیقت واضح ہے کہ سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا، اسی کے آگے پیش ہونا اور اسی کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(تم نہیں مانتے تو اِس کا نتیجہ بھی تمھیں ہی دیکھنا ہے)۔ ہمارے پیغمبر نے تو اُس چیز کو مان لیا جو اُس کے پروردگار کی طرف سے اُس پر نازل کی گئی ہے ، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی ۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے ، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبر وں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سر اطاعت جھکا دیا ۔ پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے ۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
اِس مضمون کے ساتھ ، اگر غور کیجیے تو یہود پر اتمام حجت اور ایک نئی امت کی تاسیس کے بعد بات وہیں پہنچ گئی ، جہاں سے شروع ہوئی تھی کہ اِس کتاب سے ہدایت وہی لوگ پائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں ۔ یہی اِس سورہ کا اصل پیغام ہے اور عود علی البدء کے اسلوب پر قرآن نے خاتمۂ کلام میں ایک مرتبہ پھر اِسے نہایت خوبی کے ساتھ نمایاں کر دیا ہے ۔
اِس سے واضح ہے کہ پیغمبر جس چیز کو لے کر آتا ہے ، ’ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘کہتے ہوئے سب سے پہلے اور سب سے آگے بڑھ کر اُسے مانتا بھی ہے ۔
یہ تمام ایمانیات اِس سے پہلے آیت ۱۷۷ کے تحت زیر بحث آ چکے ہیں ۔ یہاں اِن کا ذکر جس بات کو واضح کرنے کے لیے ہوا ہے ، وہ آگے بیان ہو گئی ہے کہ یہ نئی امت خدا کی پوری ہدایت پر ایمان لائی ہے ۔ یہود کی طرح اِس کے ایک حصے کو مان کر دوسرے کا انکار نہیں کر رہی ہے۔
اِس جملے میں غائب کے صیغے سے یکایک متکلم کی طرف اسلوب کی جو تبدیلی ہوئی ہے، اُس کا مقصد یہ ہے کہ بات کو محض خبر کی جگہ سے اٹھا کر اُس میں اعتراف و اقرار کا مضمون نمایاں کر دیا جائے ۔
اِس جملے میں ، اگر غور کیجیے تو یہود کے ’ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا‘ پر ایک لطیف تعریض بھی ہے ۔
اصل میں لفظ ’ غُفْرَانَکَ‘ آیا ہے ۔ یہ فعل محذوف کا مفعول ہے ۔ اِس موقع پر حذف کا یہ اسلوب دعا کرنے والے کے اضطراب کو نمایاں کرتا ہے اور سمع و طاعت کے اقرار کے معاً بعد یہ دعا بتاتی ہے کہ خدا کی مغفرت کا سہارا نہ ہوتو بندہ اِس دنیا میں اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی ذمہ داری بھی اٹھانے کا حوصلہ نہیں کر سکتا ۔
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
دین کا باطن
حوالہ جات
- Chapter 002 Verse 285
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس پر اس کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور مومنین ایمان لائے۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ان کا اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار! ہم تیری مغفرت کے طلب گار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ایمان نہ لانے والوں سے بے پروائی: یہاں رسول اور مسلمانوں کے ایمان کی خبر دینے سے مقصود محض یہ ایک واقعے کی خبر دینا نہیں ہے بلکہ قرآن کے مخالفین بالخصوص یہود کی مخالفت سے بے پروائی کا اظہار ہے۔ سورہ کا آغاز ، یاد ہو گا، اس بات سے ہوا تھا کہ قرآن کے کتابِ الٰہی ہونے میں تو کسی شبے کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے اندر خدا ترسی ، حقیقت بینی اور حق طلبی ہو گی۔ جو لوگ گروہ پرستی ، عصبیت اور اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہوں گے وہ اس کتاب پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ اب یہاں خاتمے پر یہ اعلان فرما دیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے واضح کر دیا کہ اس ایمان کی سعادت سے بہرہ مند ہونے والے کون لوگ تھے۔ گویا دودھ کے اندر جتنا مکھن تھا وہ نکال کرسامنے رکھ دیا اور اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کر دیا کہ اس دودھ کے اندر یہ مکھن تھا جو نکل آیا ہے۔ اب جو بچ رہا ہے یہ چھاچھ ہے خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
قانون کی فرمانبرداری کے معاملے میں نبی اور امتی یکساں ہیں: یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ کتابِ الٰہی پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے جس کا ذکر ہوا ہے وہ خود رسول کی ذات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قانون کی فرمانبرداری اور اطاعت کے معاملے میں پیغمبرؐ بھی اسی سطح پر ہے جس پر عام اہل ایمان ہیں۔ دنیوی بادشاہ اپنی رعایا کو جو قانون دیتے ہیں وہ خود اس قانون سے بالا تر ہوتے ہیں لیکن خدا کے قانون میں خود اس قانون کا لانے والا نہ صرف یہ کہ اس کے تحت ہوتا ہے بلکہ اسے سب سے آگے بڑھ کر اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کہتے ہوئے اس کا قلاوہ اپنی گردن میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ ان پیغمبروں کی سچائی کی ایک ایسی شہادت ہے جس کو صرف ایک ہٹ دھرم ہی جھٹلا سکتا ہے۔
اجمالی ایمان تمام انبیاء اور تمام صحیفوں پر: ’کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ الایۃ‘میں جن جزائے ایمان کا ذکر ہوا ہے ان پر ہم اسی سورہ کی آیت ۱۷۷ کے تحت گفتگو کر چکے ہیں۔ وہاں اللہ ، فرشتوں ، کتابوں اور نبیوں پر ایمان کی حقیقت سمجھنی چاہیے۔ خاص طور پر فرشتوں پر ایمان کی ضرورت ہم نے وہاں تفصیل سے واضح کی ہے۔ البتہ ایک بات کی طرف یہاں بھی اشارہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہاں کتاب کالفظ ہے، یہاں کتاب کے بجائے کُتب کا لفظ ہے جو کتاب کی جمع ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے لیے تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اہل کتاب صرف اپنی کتاب اور صرف اس نبی یا ان نبیوں پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں جن وہ اپنے یا اپنا نبی خیال کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے کہ یہ امت اللہ کے تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہے، جہاں تک اجمالی ایمان کا تعلق ہے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء، قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ البتہ چونکہ دوسرے انبیاء اور ان کے صحیفوں کی تعلیم محفوظ نہیں رہی نیز ان صحیفوں اور ان انبیا نے خود خبر دی تھی کہ ان کی شریعت کامل نہیں ہے ، کامل شریعت قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دنیا کو ملے گی، اس وجہ سے ہم قرآن اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی ایمان بھی رکھتے ہیں اور اسی تفصیلی ایمان کی دعوت دنیا کو بھی دیتے ہیں۔
اسلوب کی تبدیلی میں بلاغت کا نکتہ: ’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ‘اس ٹکڑے کی شرح ہم اسی سورہ کی آیت 135 کے تحت، امت وسط کے کلمہ کی وضاحت کرتے ہوئے کر چکے ہیں۔ البتہ اس میں یکایک اسلوب کی جو تبدیلی ہوئی ہے یعنی بات غائب کے صیغے سے نکل کرجو متکلم کے صیغے میں آ گئی ہے، یہ دھیان میں رکھنے کی ہے ۔ اوپر کے ٹکڑے میں بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہے لیکن یہ جملہ براہِ راست امت کی طرف سے اعتراف و اظہار کی شکل میں نمایاں ہوا ہے۔ اس پر بلاغت کا یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ اوپر کے ٹکڑے میں مسلمانوں کا جو ایمان و عقیدہ بیان ہوا ہے پوری امت اس کا اقرار و اظہار کرتی ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کے باب میں کسی تعصب میں گرفتار نہیں ہیں، یہ تمام انبیا ایک ہی سلسلۃ الذھب کی کڑیاں ہیں اس وجہ سے ہم یہود و نصاریٰ کی طرح یہ نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو رد کر دیں۔ ’احد‘ کا لفظ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے۔ جیسے لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآء اس وجہ سے اس کے ساتھ لفظ ’بین‘ کا لفظ استعمال صحیح ہے۔
’سمع و طاعت‘ کا مفہوم:’وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ سمع کا لفظ یہاں مجرد سننے کے معنی میں نہیں بلکہ ماننے اور قبول کرنے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اردو میں بھی سننے کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں سَمِعْنَا کا لفظ دل کی قبولیت کا اظہار کرتا ہے اور وَاَطَعْنَا کا لفظ عملی اطاعت کا اور ایمان و اسلام کی اصل حقیقت یہی ہے ۔ اس میں یہود کے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا پر ایک لطیف تعریض بھی ہے۔
حذفِ فعل کا ایک فائدہ: ’غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘ ’غُفْرَانَکَ‘ فعل محذوف کا مفعول ہے۔اس طرح کے مواقع میں فعل کا حذف دعا کرنے والے کے اضطراب کو ظاہر کرتا ہے جو قبولیت دعا کے لیے ایک نہایت موثر سفارش ہے۔
سمع و طاعت کے اقرار سے دعا کا تعلق: سمع و طاعت کے اقرار کے بعد معاً دعا کا زبان پر جاری ہو جانا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقرار ایک عظیم ذمہ داری کا اقرار ہے، یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے، اس میں بڑی بڑی آزمائشیں پیش آنی ہیں اور ہر قدم پر لغزشوں ، کوتاہیوں اور ٹھوکروں کے اندیشے ہیں۔ اس حقیقت کے شعور نے ’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘ کے اقرار کے فوراً بعد طلب مغفرت کی طرف متوجہ کر دیا ۔ اس لیے کہ جب راہ بھی کٹھن ہے اور پرسش بھی ہر پوشیدہ اور علانیہ پر ہونی ہے جیسا کہ اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے اور عذاب اور رحمت سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے تو اس کی مغفرت کے سہارے کے سوا ہر سہارا بے حقیقت ہے۔ ’وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘ میں کامل سپردگی ہے، یعنی تیرے سوا کوئی نہیں ہے جو کسی پہلو سے مرجع و ماویٰ بن سکے۔ اس میں ایک لطیف تعریض یہودو نصاریٰ پر بھی ہے کہ وہ اپنے آباواجداد اور شرکاو شفعا کے اعتماد پر سمع و طاعت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو بیٹھے۔ لیکن اس امت پر یہ حقیقت واضح ہے کہ سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا، اسی کے آگے پیش ہونا اور اسی کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
(تم نہیں مانتے تو اِس کا نتیجہ بھی تمھیں ہی دیکھنا ہے)۔ ہمارے پیغمبر نے تو اُس چیز کو مان لیا جو اُس کے پروردگار کی طرف سے اُس پر نازل کی گئی ہے ، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی ۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے ، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبر وں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سر اطاعت جھکا دیا ۔ پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے ۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
اِس مضمون کے ساتھ ، اگر غور کیجیے تو یہود پر اتمام حجت اور ایک نئی امت کی تاسیس کے بعد بات وہیں پہنچ گئی ، جہاں سے شروع ہوئی تھی کہ اِس کتاب سے ہدایت وہی لوگ پائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں ۔ یہی اِس سورہ کا اصل پیغام ہے اور عود علی البدء کے اسلوب پر قرآن نے خاتمۂ کلام میں ایک مرتبہ پھر اِسے نہایت خوبی کے ساتھ نمایاں کر دیا ہے ۔
اِس سے واضح ہے کہ پیغمبر جس چیز کو لے کر آتا ہے ، ’ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘کہتے ہوئے سب سے پہلے اور سب سے آگے بڑھ کر اُسے مانتا بھی ہے ۔
یہ تمام ایمانیات اِس سے پہلے آیت ۱۷۷ کے تحت زیر بحث آ چکے ہیں ۔ یہاں اِن کا ذکر جس بات کو واضح کرنے کے لیے ہوا ہے ، وہ آگے بیان ہو گئی ہے کہ یہ نئی امت خدا کی پوری ہدایت پر ایمان لائی ہے ۔ یہود کی طرح اِس کے ایک حصے کو مان کر دوسرے کا انکار نہیں کر رہی ہے۔
اِس جملے میں غائب کے صیغے سے یکایک متکلم کی طرف اسلوب کی جو تبدیلی ہوئی ہے، اُس کا مقصد یہ ہے کہ بات کو محض خبر کی جگہ سے اٹھا کر اُس میں اعتراف و اقرار کا مضمون نمایاں کر دیا جائے ۔
اِس جملے میں ، اگر غور کیجیے تو یہود کے ’ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا‘ پر ایک لطیف تعریض بھی ہے ۔
اصل میں لفظ ’ غُفْرَانَکَ‘ آیا ہے ۔ یہ فعل محذوف کا مفعول ہے ۔ اِس موقع پر حذف کا یہ اسلوب دعا کرنے والے کے اضطراب کو نمایاں کرتا ہے اور سمع و طاعت کے اقرار کے معاً بعد یہ دعا بتاتی ہے کہ خدا کی مغفرت کا سہارا نہ ہوتو بندہ اِس دنیا میں اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی ذمہ داری بھی اٹھانے کا حوصلہ نہیں کر سکتا ۔
حواشی
ماخذ
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
Īmān: The Inner Aspect of Religion
Javed Ahmad Ghamidi
The inner aspect of religion is “imān” (belief). As per its details mentioned in the Qur’ān, this inner aspect also consists of five things:
1. Belief in God
2. Belief in the Angels
3. Belief in the Prophets
4. Belief in Divine Books
5. Belief in the Day of Judgement
The Qur’ān says:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
The Messenger has believed in what has been revealed to him by His Lord, and so do those who follow [him]. All of them professed faith in God and His angels and His books and His Messengers. [They affirm:] “We do not discriminate between any of God’s Messengers”, and they said: “We heard and have obeyed. Lord! We seek Your forgiveness, and [believe that on the Day of Judgment] to You shall we return. ” (2:285)
دین کا باطن
Javed Ahmad Ghamidi
Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours
Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.
Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.