Honesty in Weighing
The eighth directive is that things should be weighed and measured with honesty. The Almighty says that He has set the earth and the heavens on a scale and thus it is necessary that a person in his circle should remain just and measure with the right scale and weights. The Qur’ān says:
وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (55: 7-9)
And He raised high the heaven and set the scale of all things that you might not transgress that scale. Give just weight and full measure. (55:7-9)
It is evident from these verses that this is a very important directive and in its essence is actually a corollary of the scale of justice on which this world has been created. Thus if anyone deviates from it, it means that his conception of justice and fairness has become defective and he actually does not believe in a just God. After this, obviously the economic and social systems of the society are shaken from their bases and no ingredient of the society remains in its place. The people of the Prophet Shu‘ayb (sws) were involved in such malpractices. At more than one instance, his advice and sermon to his people in this regard is mentioned in the Qur’ān. At one place, it is said:
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (26: 181-183)
Give just measure and defraud none. Weigh with the right scales and do not cheat your fellow men of what is rightly theirs; and do not spread anarchy in the land. (26:181-183)
Adulteration in things is also a similar case. If a person mixes water in milk, or sand in sugar or wheat in grain, he commits the same crime because even if he weighs accurately he is not giving the buyer in full what he is buying. This is like usurping the rights of others for which he will have to face grave consequences both in this world and in that to come. Thus the Qur’ān has said: “give full measure, when you measure, and weigh with correct scales. This is better and fairer as far as the consequences are concerned.”
References in this article
- Chapter 026 Verse 181
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ
26.181
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
تم لوگ پورا پورا ناپا کرو اور خسارہ پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ناپ تول میں کمی نظام کائنات کے منافی ہے: اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انھوں نے بڑی ترقی کر لی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر بے ایمانی، ناپ تول میں دغابازی، ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہو جاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائے تو یہ آسمان وزمین درہم برہم ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبۂ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ ان شاء اللہ سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔
- Chapter 026 Verse 182
وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
26.182
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور صحیح ترازو سے تولا کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ناپ تول میں کمی نظام کائنات کے منافی ہے: اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انھوں نے بڑی ترقی کر لی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر بے ایمانی، ناپ تول میں دغابازی، ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہو جاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائے تو یہ آسمان وزمین درہم برہم ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبۂ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ ان شاء اللہ سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔
- Chapter 026 Verse 183
وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ
26.183
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں مفسد بن کر نہ پھیلو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اشیاء میں ملاوٹ: یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی ماری کر کے لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گندم میں جو، گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کر دیتا ہے لیکن سا کے اندر اصل شے ایک ثلث کے بقدر بھی مشکل سے ہوتی ہے۔ اور اس میں مضر صحت اشیاء کی جو ملاوٹ ہوتی ہے وہ مزید برآں۔ یہاں تک کہ آدمی بازار کی کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز کھارہا ہے یا زہر نگل رہا ہے۔
حرام خوری کا موٹاپا راس آنے والی چیز نہیں ہے: ’وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ‘ یعنی میزان حق و عدل کو درہم برہم کر کے اگر تم نے دنیا میں ترقی کی تو یہ ترقی کوئی مبارک ترقی نہیں ہے۔ دنیا میں بڑھو تو مفسدبن کر نہ بڑھو بلکہ مصلح بن کر پھلو پھولو۔ اگر حرام کی نفع اندوزی سے موٹے ہوئے تو یہ مٹاپا راس آنے والی چیز نہیں ہے۔ اس کا انجام نہایت مہلک ہو گا!
- Chapter 055 Verse 007
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
55.7
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور اس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
آسمان کی بعض روشن نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خود آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو، ستونوں کے بغیر کس طرح تمہارے رب نے ایسی ناپیدا کنار چھت بلند کر دی جس کی وسعتوں کاکوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ پھر دیکھو کہ اس بے پایاں عظمت و وسعت کے باوصف اس میں اس نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اس کے کسی کونے گوشے میں نہ کوئی جھول کا پتہ دے سکتا ہے نہ کسی رخنے اور دراڑ کا۔ دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے:
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ. (لقمان: 10)
اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔
سورۂ ملک میں فرمایا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ہ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ. (الملک: 4-3)
وہی ہے جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے اور تم خدائے رحمان کی اس کاریگری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ نگاہ دوڑاؤ، کیا دیکھتے ہو کہیں کوئی خلل! پھر نگاہ دوڑاؤ بار بار، نگاہ ناکام اور تھک کر واپس آ جائے گی۔
’بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ آسمان کی چھت میں توازن (میزان) قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جذب و کشش کے ایسے ستون استعمال کیے ہیں جودوسروں کو نظر نہیں آتے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اُس میں میزان قائم کر دی۔
- Chapter 055 Verse 008
أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ
55.8
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
آسمان کے خالق کی پسند کا اظہار اس کی صفت سے: یعنی جب خالق نے اس کے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہو جائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اورقسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسی عدل و قسط کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے جس کی شہادت تمہارے سروں پر پھیلے ہوئے آسمان کے ہر گوشے سے مل رہی ہے اور اسی کی خلاف ورزی کے نتائج سے تمہیں وہ ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے طغیان سے اندھے ہو کر یہ میزان درہم برہم کر ڈالی تو اس کی سزا اس دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اس کا وبال تم پر آئے گا توآخر یہ واضح بات جس کی شہادت آسمان و زمین کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی! آفاق کی ان سبق آموز نشانیوں کو نظر انداز کر کے کسی صاعقۂ عذاب کے درپے کیوں ہو!
ترجمہ جاوید احمد غامدی
کہ (اپنے دائرۂ اختیار میں) تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو۔
- Chapter 055 Verse 009
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
55.9
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور ٹھیک تولو پورے انصاف کے ساتھ۔ اور وزن میں کمی نہ کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اوپر والی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اسی کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سرگزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید حقیقت واضح ہوئی کہ یہ برائی درحقیقت اس میزان کے منافی ہے جس ہر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین قائم فرمائے ہیں۔ اگر کوئی قوم اس فساد کو قبول کر لیتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اس بنیاد ہی کے ڈھا دینے کے درپے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی تعمیر فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی زمین پر ایسے لوگوں کو کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔
یہاں یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ ایک ہی بات مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے فرمائی گئی ہے۔ قرآن مجید پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان مواقع پر اختیار فرمایا گیا ہے جہاں اصل حکم کی خلاف ورزی نہایت خطرناک نتائج پر منتہی ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کر دیتی ہے وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیتی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
مطلب یہ ہے کہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں جس عدل و قسط کی دعوت قرآن دے رہا ہے اور جس کی خلاف ورزی کے نتائج سے خبردار کر رہاہے، اُس کی گواہی تو یہ پوری کائنات اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ یہ بتا رہی ہے کہ آسمان کے سیارے اور ستارے ، سب خدا کے حکم کے پابند ہیں اور ٹھیک اُس توازن پر قائم ہیں جو اُن کے خالق نے اُن کے اندر رکھ دیا ہے۔ اِس کا تقاضا یہی ہے اور یہی ہونا چاہیے کہ تم بھی قائم بالقسط ہو کر حق کی شہادت دو اور خدا کی دنیا میں کسی جگہ بھی ڈنڈی ماری کی زندگی بسر نہ کرو، ورنہ اِس کی سزا دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اِس کا وبال تم پر لازماً آئے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’... اِس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اُس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اِس میں فساد برپا کردیتی ہے، وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیتی ہے۔‘‘(تدبر قرآن۸/ ۱۳۰)
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
ناپ تول میں دیانت
حوالہ جات
- Chapter 026 Verse 181
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
تم لوگ پورا پورا ناپا کرو اور خسارہ پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ناپ تول میں کمی نظام کائنات کے منافی ہے: اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انھوں نے بڑی ترقی کر لی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر بے ایمانی، ناپ تول میں دغابازی، ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہو جاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائے تو یہ آسمان وزمین درہم برہم ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبۂ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ ان شاء اللہ سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔
- Chapter 026 Verse 182
وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور صحیح ترازو سے تولا کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
ناپ تول میں کمی نظام کائنات کے منافی ہے: اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انھوں نے بڑی ترقی کر لی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر بے ایمانی، ناپ تول میں دغابازی، ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہو جاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائے تو یہ آسمان وزمین درہم برہم ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبۂ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ ان شاء اللہ سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔
- Chapter 026 Verse 183
وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں مفسد بن کر نہ پھیلو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اشیاء میں ملاوٹ: یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی ماری کر کے لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گندم میں جو، گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کر دیتا ہے لیکن سا کے اندر اصل شے ایک ثلث کے بقدر بھی مشکل سے ہوتی ہے۔ اور اس میں مضر صحت اشیاء کی جو ملاوٹ ہوتی ہے وہ مزید برآں۔ یہاں تک کہ آدمی بازار کی کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز کھارہا ہے یا زہر نگل رہا ہے۔
حرام خوری کا موٹاپا راس آنے والی چیز نہیں ہے: ’وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ‘ یعنی میزان حق و عدل کو درہم برہم کر کے اگر تم نے دنیا میں ترقی کی تو یہ ترقی کوئی مبارک ترقی نہیں ہے۔ دنیا میں بڑھو تو مفسدبن کر نہ بڑھو بلکہ مصلح بن کر پھلو پھولو۔ اگر حرام کی نفع اندوزی سے موٹے ہوئے تو یہ مٹاپا راس آنے والی چیز نہیں ہے۔ اس کا انجام نہایت مہلک ہو گا!
- Chapter 055 Verse 007
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور اس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
آسمان کی بعض روشن نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خود آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو، ستونوں کے بغیر کس طرح تمہارے رب نے ایسی ناپیدا کنار چھت بلند کر دی جس کی وسعتوں کاکوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ پھر دیکھو کہ اس بے پایاں عظمت و وسعت کے باوصف اس میں اس نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اس کے کسی کونے گوشے میں نہ کوئی جھول کا پتہ دے سکتا ہے نہ کسی رخنے اور دراڑ کا۔ دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے:
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ. (لقمان: 10)
اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔
سورۂ ملک میں فرمایا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ہ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ. (الملک: 4-3)
وہی ہے جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے اور تم خدائے رحمان کی اس کاریگری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ نگاہ دوڑاؤ، کیا دیکھتے ہو کہیں کوئی خلل! پھر نگاہ دوڑاؤ بار بار، نگاہ ناکام اور تھک کر واپس آ جائے گی۔
’بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ آسمان کی چھت میں توازن (میزان) قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جذب و کشش کے ایسے ستون استعمال کیے ہیں جودوسروں کو نظر نہیں آتے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اُس میں میزان قائم کر دی۔
- Chapter 055 Verse 008
أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
آسمان کے خالق کی پسند کا اظہار اس کی صفت سے: یعنی جب خالق نے اس کے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہو جائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اورقسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسی عدل و قسط کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے جس کی شہادت تمہارے سروں پر پھیلے ہوئے آسمان کے ہر گوشے سے مل رہی ہے اور اسی کی خلاف ورزی کے نتائج سے تمہیں وہ ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے طغیان سے اندھے ہو کر یہ میزان درہم برہم کر ڈالی تو اس کی سزا اس دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اس کا وبال تم پر آئے گا توآخر یہ واضح بات جس کی شہادت آسمان و زمین کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی! آفاق کی ان سبق آموز نشانیوں کو نظر انداز کر کے کسی صاعقۂ عذاب کے درپے کیوں ہو!
ترجمہ جاوید احمد غامدی
کہ (اپنے دائرۂ اختیار میں) تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو۔
- Chapter 055 Verse 009
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور ٹھیک تولو پورے انصاف کے ساتھ۔ اور وزن میں کمی نہ کرو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
اوپر والی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اسی کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سرگزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید حقیقت واضح ہوئی کہ یہ برائی درحقیقت اس میزان کے منافی ہے جس ہر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین قائم فرمائے ہیں۔ اگر کوئی قوم اس فساد کو قبول کر لیتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اس بنیاد ہی کے ڈھا دینے کے درپے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی تعمیر فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی زمین پر ایسے لوگوں کو کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔
یہاں یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ ایک ہی بات مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے فرمائی گئی ہے۔ قرآن مجید پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان مواقع پر اختیار فرمایا گیا ہے جہاں اصل حکم کی خلاف ورزی نہایت خطرناک نتائج پر منتہی ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کر دیتی ہے وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیتی ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
مطلب یہ ہے کہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں جس عدل و قسط کی دعوت قرآن دے رہا ہے اور جس کی خلاف ورزی کے نتائج سے خبردار کر رہاہے، اُس کی گواہی تو یہ پوری کائنات اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ یہ بتا رہی ہے کہ آسمان کے سیارے اور ستارے ، سب خدا کے حکم کے پابند ہیں اور ٹھیک اُس توازن پر قائم ہیں جو اُن کے خالق نے اُن کے اندر رکھ دیا ہے۔ اِس کا تقاضا یہی ہے اور یہی ہونا چاہیے کہ تم بھی قائم بالقسط ہو کر حق کی شہادت دو اور خدا کی دنیا میں کسی جگہ بھی ڈنڈی ماری کی زندگی بسر نہ کرو، ورنہ اِس کی سزا دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اِس کا وبال تم پر لازماً آئے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’... اِس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اُس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اِس میں فساد برپا کردیتی ہے، وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کر دیتی ہے۔‘‘(تدبر قرآن۸/ ۱۳۰)
حواشی
ماخذ
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi
Honesty in Weighing
Javed Ahmad Ghamidi
The eighth directive is that things should be weighed and measured with honesty. The Almighty says that He has set the earth and the heavens on a scale and thus it is necessary that a person in his circle should remain just and measure with the right scale and weights. The Qur’ān says:
وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (55: 7-9)
And He raised high the heaven and set the scale of all things that you might not transgress that scale. Give just weight and full measure. (55:7-9)
It is evident from these verses that this is a very important directive and in its essence is actually a corollary of the scale of justice on which this world has been created. Thus if anyone deviates from it, it means that his conception of justice and fairness has become defective and he actually does not believe in a just God. After this, obviously the economic and social systems of the society are shaken from their bases and no ingredient of the society remains in its place. The people of the Prophet Shu‘ayb (sws) were involved in such malpractices. At more than one instance, his advice and sermon to his people in this regard is mentioned in the Qur’ān. At one place, it is said:
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (26: 181-183)
Give just measure and defraud none. Weigh with the right scales and do not cheat your fellow men of what is rightly theirs; and do not spread anarchy in the land. (26:181-183)
Adulteration in things is also a similar case. If a person mixes water in milk, or sand in sugar or wheat in grain, he commits the same crime because even if he weighs accurately he is not giving the buyer in full what he is buying. This is like usurping the rights of others for which he will have to face grave consequences both in this world and in that to come. Thus the Qur’ān has said: “give full measure, when you measure, and weigh with correct scales. This is better and fairer as far as the consequences are concerned.”
ناپ تول میں دیانت
Javed Ahmad Ghamidi
Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours
Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.
Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.