Contents of Religion
About this article.
Javed Ahmad Ghamidi
0 Comments
Login to Save
The metaphysical and ethical bases of this worship which have been prescribed by religion are called al-Hikmah, and the rituals and limits prescribed for it by religion are called al-Kitāb by the Qur’ān:
وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا
And God has revealed to you al-Kitāb and al-Hikmah and in this manner taught you what you did not know before, and great is God’s favour upon you. (4:113)
وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
And remember the favors He has bestowed upon you, and the al-Kitāb and al-Hikmah which He has revealed to you, of which He instructs you. Fear Allah and know that He has knowledge of all things. (2:231)
The Qur’ān also refers to al-Kitāb as sharī‘ah:
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
Then We set you on a clear sharī‘ah regarding religion. So follow it, and do not yield to the desires of men who know not. (45:18)
Al-Hikmah has always remained the same in all revealed religions; however, al-Kitāb has remained different due to evolution and change in human civilizations and societies:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
We have ordained a law and assigned a path for each of you. Had God pleased, He could have made of you one community. (5:48)
A study of divine scriptures shows that the sharī‘ah constitutes the major portion of the Torah and the hikmah generally constitutes the Injīl. The Psalms are hyms which glorify the Almighty and are a fore runner to the hikmah of the Injīl. The Qur’ān was revealed as a masterpiece of literature comprising both sharī‘ah and hikmah giving warning to those who evade it and glad tidings to those who follow it. The fact that the Qur’ān is a blend of both sharī‘ah and hikmah is clearly mentioned in the verses 2:231 and 4:113 quoted above. About the Torah and the Injīl, the Almighty while narrating one of His dialogues which will take place with Jesus (sws) on the Day of Judgement says:
وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ
And when I instructed you with the sharī‘ah and the hikmah, that is the Torah and the Gospel. (5:110)
al-Hikmah basically comprises the following two topics:
1. Faith
2. Ethics
al-Kitāb comprises the following ten topics:
1. The Sharī‘ah of Worship Rituals
2. The Social Sharī‘ah
3. The Political Sharī‘ah
4. The Economic Sharī‘ah
5. The Sharī‘ah of Preaching
6. The Sharī‘ah of Jihād
7. The Penal Sharī‘ah
8. The Dietary Sharī‘ah
9. Islamic Customs and Etiquette
10. Oaths and their Atonement
References in this article
- Chapter 002 Verse 231
- Chapter 004 Verse 113
- Chapter 005 Verse 048
- Chapter 005 Verse 110
- Chapter 045 Verse 018
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
2.231
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ پہنچ جائیں اپنی مدت کو تو ان کو دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق رخصت کر دو اور تم ان کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ تم حدود سے تجاوز کرو اور جو ایسا کرے گاتو وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب و حکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
شریعت الٰہی سے مذاق کا انجام: ایک مطلقہ کے لیے انتظار کی جو مدت شریعت نے مقرر کی ہے وہ آیت 228 میں بتا دی گئی ہے اور آیت 229 میں طلاق کا صحیح طریقہ بھی بتا دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ تیسرے طہر میں یا تو دستور کے مطابق بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کر لو اور اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر حسن و خوبی کے ساتھ اس کو رخصت کر دو۔ اب اس آیت میں اس امر کی مزید وضاحت فرما دی کہ ’’دستور کے مطابق روکنے‘‘ سے شریعت کا کیا منشاء ہے؟ اس منشا کی وضاحت یوں فرمائی کہ یہ روکنا ہرگز ہرگز اس ارادے کے ساتھ نہ ہو کہ اس طرح بیوی تمھارے پنجۂ ستم میں اسیر رہے اور تم اس کو اپنی خواہش کے مطابق اذیت پہنچا سکو۔ مثبت پہلو سے بات اوپر کہہ چکنے کے بعد منفی پہلو سے بھی اس کی وضاحت اس لیے کر دی گئی کہ ظالم لوگ طلاق اور طلاق کے بعد مراجعت کے شوہری حق کو اس ظلم کے لیے استعمال کر سکتے تھے حالانکہ یہ صریح اعتداء یعنی اللہ کے حدود سے تجاوز اور اس کی شریعت کو مذاق بنانا ہے۔ فرمایا کہ جو ایسی جسارت کرتے ہیں بظاہر تو وہ ایک عورت کو نشانہ ظلم بناتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ظلم اپنی جان پر کرتے ہیں کیونکہ اللہ کے حدود کو پھاندنے اور اس کی شریعت کو مذاق بنانے کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔
ْ آخر میں فرمایا کہ اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمھیں ایک برگزیدہ امت کے منصب پر سرفراز فرمایا ، تمھاری ہدایت کے لیے تمھارے اندر اپنا نبی بھیجا، تمھیں خیر و شر اور نیک و بد سے آگاہ کرنے کے لیے تمھارے اوپر کتاب اتاری جو قانون اور حکمت دونوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد اگر تم نے ان کا یہی حق ادا کیا کہ خدا کے حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو سوچ لو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوسکتا ہے! پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ وہ تمھاری ہر بات سے با خبر ہے، یعنی وہ لوگوں کی شرارتوں کے باوجود ان کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن جب وہ پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی چھوٹ نہ سکے گا۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ شریعت کو مذاق بنانے سے صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جائے بلکہ اس کی ایک نہایت سنگین شکل یہ بھی ہے کہ ظاہری اعتبار سے تو کام ایسا کیا جائے کہ اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جا سکے لیکن مقصد و منشاء کے لحاظ سے وہ کام شریعت کے مقصد کے بالکل خلاف ہو۔ مثلاً تیسرے طہر میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مراجعت کر لے تو ازروئے شریعت اس کو اس کا حق تو حاصل ہے لیکن اگر اس نے اس کا مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اللہ کی آیات کے پردے میں اللہ ہی کی مخالفت کی۔ ظاہر ہے کہ یہ اللہ اور اس کی شریعت کے ساتھ صریح مذاق ہے۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو اُنھیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو اوراُنھیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے ہرگز نہ روکو کہ (اِس طرح اُن پر) زیادتی کرو۔ اور (جان لو کہ)جو ایسا کرے گا، وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا ۔ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ ، اور اپنے اوپر اللہ کی عنایت کو یاد رکھو، اور اُس قانون اور حکمت کو یاد رکھو جو اُس نے اتاری ہے ، جس کی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
یہ بھلے طریقے سے روکنے کی وضاحت فرمائی ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...مثبت پہلو سے بات اوپر کہہ چکنے کے بعد منفی پہلو سے بھی اُس کی وضاحت اِ س لیے کر دی گئی کہ ظالم لوگ طلاق اور طلاق کے بعد مراجعت کے شوہری حق کو اِس ظلم کے لیے استعمال کر سکتے تھے ۔ حالاں کہ یہ صریح اعتدا ، یعنی اللہ کے حدود سے تجاوز اور اُس کی شریعت کو مذاق بنانا ہے۔ فرمایا کہ جو ایسی جسارت کرتے ہیں ، بظاہر تو وہ ایک عورت کو نشانۂ ظلم بناتے ہیں ، لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ظلم اپنی جان پر کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ کے حدود کو پھاندنے اور اُس کی شریعت کو مذاق بنانے کی سزا بڑی ہی سخت ہے ۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ کے اِس احسان کو یاد رکھو کہ اُس نے تمھیں ایک برگزیدہ امت کے منصب پر سرفراز فرمایا ، تمھاری ہدایت کے لیے تمھارے اندر اپنا نبی بھیجا، تمھیں خیر و شر اور نیک و بد سے آگاہ کرنے کے لیے تمھارے اوپر اپنی کتاب اتاری جو قانون اور حکمت ، دونوں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد اگر تم نے اُن کا یہی حق ادا کیا کہ خدا کے حدود کو توڑا اور اُس کی شریعت کو مذاق بنایا تو سوچ لو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ وہ تمھاری ہر بات سے باخبر ہے ، یعنی وہ لوگوں کی شرارتوں کے باوجود اُن کو ڈھیل تو دیتا ہے ، لیکن جب وہ پکڑے گا تو اُس کی پکڑ سے کوئی بھی چھوٹ نہ سکے گا۔‘‘ (تدبر قرآن ۱/۵۳۹)
وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا
4.113
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو یہ ٹھان ہی لی تھی کہ تمھیں بے راہ کر کے رہے گا حالانکہ یہ اپنے آپ ہی کو بے راہ کر رہے ہیں، تمھارا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں۔ اور اللہ نے تم پر کتاب و حکمت نازل فرمائی اور تمھیں وہ چیز سکھائی جو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
آنحضرت صلعم کی طرف التفات اور مسلمانوں کو آگاہی: یہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف التفات اور آپ کے واسطے سے مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ یہ اللہ کا تمھارے اوپر خاص فضل و احسان ہے کہ تم ان منافقین کے شر سے محفوظ رہے ورنہ ان کی ایک جماعت کی تورات دن کوشش اورسازش یہی ہے کہ تمھیں راہ سے بے راہ کر کے رہے لیکن اللہ نے اپنے فضل خاص سے تمھیں کتاب و حکمت کی جو روشنی عطا فرمائی ہے اس نے تمھیں لغزش سے محفوظ رکھا۔ اس میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ ہے کہ اس گروہ کی آفتوں اور فتنوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور ساتھ ہی اس سے محفوظ رہنے کی تدبیر بھی بتا دی کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب و حکمت کی جو نعمت ان کو ملی ہے اس کی سچے دل سے قدر کریں اور ان لوگوں کے چکموں میں نہ ائیں جو اس سے ہٹ کر اپنی راہ نکال رہے ہیں۔
راہِ حق سے ہٹ کر چلنے والے خود اپنے کو گمراہ کرتے ہیں: ’وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْءٍ‘ میں اس حقیقت نفس الامری کا بیان ہے کہ راہِ حق سے منحرف ہو کر چلنے والے اگر راہِ حق پر چلنے والوں کو حق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو پھر وہ اپنی تمام دانش فروشیوں کے باوجود صرف اپنے ہی کو گمراہ کرتے ہیں، جادۂ حق پر اتوار رہنے والوں کووہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف حق پر ڈٹے ہوئے دیکھتے رہو کہ یہ تباہی کے کس کھڈ میں جا کر گرتے ہیں۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
تم پر اللہ کی عنایت اور اُس کی رحمت نہ ہوتی، (اے پیغمبر) تو اِن میں سے ایک گروہ نے تو فیصلہ کر لیا تھا کہ تمھیں راہ راست سے ہٹا کر رہے گا، دراں حالیکہ وہ اپنے سوا کسی کو راہ راست سے نہیں ہٹا رہے اور نہ تمھیں کوئی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (وہ تمھیں کس طرح راہ راست سے ہٹا سکتے ہیں)؟ اللہ نے تم پر اپنا قانون اور اپنی حکمت نازل فرمائی ہے اور (اِس طرح) تمھیں وہ چیز سکھائی ہے جو تم نہیں جانتے تھے اور اُس کی تم پر بڑی عنایت ہے۔
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ لِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةًۭ وَمِنْهَاجًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَحِدَةًۭ وَلَكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَتِ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
5.48
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ، مصداق اس سے پیشتر سے موجود کتاب کی اور اس کے لیے کسوٹی بنا کر، تو ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا اور اس حق سے ہٹ کر، جو تمہارے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک ضابطہ اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے چاہا کہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تم کو بخشی، تو بھلائیوں کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے تووہ تمہیں آگاہ کرے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
حاملین قرآن کی ذمہ داری:اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ بعینہٖ انہی ذمہ داریوں اور اسی عہد و میثاق کے ساتھ یہ کتاب تمھارے حوالے کی جا رہی ہے تو تم ان کے درمیان بہرحال اللہ کی اس کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کرو۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہین کہ اس سیاق میں ’بالحق‘ کے معنی قول فیصل کے ہوتے ہیں۔ اہل کتاب نے اپنے صحیفوں کو تحریفات کے ذریعے سے حق و باطل دونوں کا مجموعہ بنا دیا تھا۔ قرآن نے اللہ کا دین تمام آمیزشوں اور تحریفات سے پاک کرکے بالکل ٹھیک ٹھیک پیش کر دیا۔ ’مصدقا‘ کی تاویل مختلف مقامات میں گزر چکی ہے۔
’مھیمن‘ کا مفہوم: ’مُھَیْمِن‘ اصل میں ’مُاَ أْمِن‘ ہے دوسرا ہمزہ ی سے اور پہلا ہ سے بدل گیا ہے۔ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہواہے (23۔ حشر) اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ’ھیمن الطائر علی فراخہ‘ کا مطلب یہ ہو گا کہ پرندہ اپنے بچوں کے اوپر پر پھیلائے ہوئے منڈلا رہا ہے، گویا ان کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے ہے۔ ’ھَیْمن فلان علی کذا‘ فلاں اس چیز کا محافظ اور نگران بن گیا۔ اپنے سے سابق صحیفہ پر قرآن کے ’مُھَیْمِن‘ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ قرآن اصل معتمد نسخہ کتاب الٰہی کا ہے اس لیے وہ دوسرے صحیفوں کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے کسوٹی ہے۔ جو بات اس کسوٹی پر کھری ثابت ہو گی وہ کھری ہے، جو اس پر کھوٹی ثابت ہو گی وہ محرف ہے۔ یہاں ’الکتاب‘ کا لفظ واحد استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سے پہلے اصل شریعت کے اعتبار سے کتاب الٰہی کی حیثیت درحقیقت تورات ہی کو حاصل ہے، بقیہ صحائف اس کے اجزاء و فروع کی حیثیت رکھتے ہیں۔
’فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ‘ قرآن سے متعلق یہ اسی طرح کا عہد و میثاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے واسطہ سے آپؐ کی امت سے لیا گیا ہے جس طرح کا عہد تورات اور انجیل سے متعلق ان کے حاملین سے لیا گیا ہے اور جس کا ذکر اوپر گزرا۔ مطلب یہ ہے کہ اب یہی کتاب حق و باطل کی کسوٹی اور احکام الٰہی کا قابل اعتماد مجموعہ ہے تو تم لوگوں کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرو اور جو حق تمھارے پاس آ چکا ہے، ہرگز اس سے منحرف ہو کر ان منافقین اور یہود کی خواہشات و بدعات کی پیروی نہ کرنا جو اپنی خواہشوں کے مطابق فیصلے حاصل کرنے کے لیے تمھارے پاس آتے ہیں۔ یہ بات یہاں بغیر کسی اظہار کے ظاہر ہے کہ اس حق کو چھوڑ کر کسی باطل کے مطابق معاملات کے فیصلے کرنا اسی طرح کفر ، ظلم اور فسق ہے جس طرح اوپر تورات و انجیل سے متعلق مذکور ہوا۔
’لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا ط وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ‘، اس ٹکڑے کے صحیح موقع و محل اور اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے بقرہ کی مندرجہ ذیل آیات پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ دونوں بالکل ایک ہی موقع و محل کی آیات ہیں ایک ہی حقیقت کو واضح کر رہی ہیں۔
وَلَءِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّاتَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ج وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ ج وَمَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط وَلَءِنِ اتَّبََعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ہ م اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآ ءَ ھُمْ ط وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْہُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ہ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ہ وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اَیْنَ مَا تَکُونُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (البقرہ148-145:2) اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانیاں لا کر رکھ دو جب بھی تمھارے قبلہ کی یہ پیروی نہیں کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرنے کے ، اور نہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے کا اور اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے بعد اس کے کہ تمھارے پاس علم حق آ چکا ہے تو تم اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے بن جاؤ گے۔ جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ البتہ ان میں سے ایک گروہ حق کو جانتے بوجھتے چھپاتا ہے۔ یہی حق ہے تیرے رب کی جانب سے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو، ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے، وہ اسی کی طرف رخ کرے گا تو تم بھلائیوں کی سمت میں سبقت کرو، جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو اکٹھا کرے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
جس طرح یہاں سیاق و سباق دلیل ہے کہ ’وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ‘ کا ٹکڑا، جیسا کہ ہم اپنی تفسیر میں واضح کر چکے ہیں، اہل کتاب کے ساتھ رواداری کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ ان کے رویہ سے بیزاری کے اظہار کے لیے ہے۔ اسی طرح مائدہ کی زیر بحث آیت میں ’لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا‘کا ٹکڑا بھی اہل کتاب کے ساتھ اظہار رواداری کے لیے نہیں بلکہ ان کے رویے سے اظہار بیزاری اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تسکین و تسلی اور راہ حق میں سبقت کی دعوت کے لیے ہے۔
اسی طرح سورۂ حج میں ارشاد ہوا ہے۔
لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ط اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ہ وَاِنْ جٰدَلُوْکَ فَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ہ اَللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (حج:29-28) ہم نے ہر امت کے لیے ایک طریقہ عبادت ٹھہرایا وہ اسی پر چلیں گے تووہ تم سے جھگڑنے کی کوئی راہ اس معاملے میں نہ پائیں اور تم اپنے رب کی طرف بلاتے رہو اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوف واقف ہے۔ اللہ تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن اس چیز میں جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔
آیت زیر بحث میں ’لِکُلٍّ‘ سے مراد وہی تینوں گروہ مراد ہیں جن کا اوپر ذکر گزرا یعنی یہود و نصاریٰ اور مسلمان۔ فرمایا کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ شرعۃ اور منھاج مقرر کیا ہے۔ شرعۃ اور منھاج سے مراد شریعت کا وہ ظاہری ڈھانچہ اور قالب ہے جو دین کے حقائق کو بروئے کار لانے کے لیے ہر مذہب میں اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً عبادتِ الٰہی ایک حقیقت ہے جس کو مختلف مذاہب میں نماز، قربانی اور حج کی مختلف شکلوں صورتوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض حقائق کے لیے قالب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے۔ بعض کے لیے اللہ تعالیٰ کے اذن سے نبی نے مقرر فرمایا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے یہاں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ پہلے کے لیے ’شرعت‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، دوسرے کے لیے منہاج کا۔
مختلف امتوں کی شریعت کے اختلاف کی حکمت: جہاں تک دین کے حقائق کا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے غیر متغیر ہیں اور غیر متغیر ہی رہیں گے لیکن شریعت کے ظواہر و رسوم ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ مقرر فرمائے تاکہ یہ چیز امتوں کے امتحان کا ذریعہ بنے اور وہ دیکھے کہ کون ظواہر و رسوم کے تعصب میں گرفتارہو کر حقائق سے منہ موڑ لیتا ہے اور کون حقیقت کا طالب بنتا ہے، اور اس کو ہر اس شکل میں قبول کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے جس میں وہ خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس کے سامنے آتی ہے۔ سورۂ بقرہ میں ،قبلہ کی بحث میں اس امتحان کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ط وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ ط وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (البقرہ143:2) اور ہم نے اس قبلہ کو، جس پر تم تھے، نہیں جائز رکھا تھامگر اس لیے کہ ہم چھانٹ کر الگ کر دیں ان لوگوں کو جو رسول کی پیروی کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے جو پیٹھ پیچھے پھر جاتے ہیں، اگرچہ یہ بہت بھاری باتی تھی مگر ان لوگوں کے لیے جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق بخشی اور اللہ کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ وہ تمھارے ایمان کو برباد کردے، اللہ تو لوگوں پر بڑی رافت و رحمت رکھنے والا ہے۔
یہ حکمت واضح فرمائی گئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اول اول اہل کتاب کے قبلہ پر باقی رکھا، پھر کچھ عرصہ کے بعد اس کو چھوڑ کر بیت اللہ کو قبلہ بنانے کا حکم دیا؟ ایسا کیوں نہ ہوا کہ پہلے ہی روز سے بیت اللہ ہی کو قبلہ قرار دے دیا جاتا ؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ یہ تبدیلی مخلصین و منافقین کے درمیان امتیاز کا ایک ذریعہ بنے۔ اس امتحان کے ذریعہ سے اس نے حق کے طالبوں اور رسول کے پیرووں کو ان لوگوں سے الگ کر دیا جو محض ظاہر دارانہ طور پر رسول کے ساتھ ہو گئے تھے، فی الحقیقت انھوں نے کوئی تبدیلی قبول نہیں کی تھی بلکہ دستور اپنے پچھلے رسوم و قیود میں گرفتار تھے۔
اسی طرح آیت زیر بحث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ منافقین اور یہود جو تم سے اور تمھاری لائی ہوئی شریعت سے بدکتے ہیں تو تم ان کی پروا نہ کرو۔ یہ اپنے پچھلے رسول و قیود میں گرفتار ہیں، ان کا تعصب ان کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان سے آزاد ہو کر اس حق کو شرح صدر کے ساتھ اپنا لیں جو تم نے ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ اللہ نے ہر امت کے لیے شرعت اور منہاج الگ الگ بنائے ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی منہاج دیتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ منہاج کی اس تبدیلی کو لوگوں کے امتحان کا ذریعہ بنائے اور دیکھے کہ کون حق کا طالب بنتا ہے اور کون صرف لکیر کا فقیر اور رسوم و ظواہر کا غلام بن کے رہ جاتا ہے۔ اللہ عقل، اختیار اور شریعت کی جو نعمت دیتا ہے اس میں وہ لوگوں کا امتحان کرتارہتا ہے کہ کون ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے ، ان کی قدر کر رہا ہے، ان کی مغز اور قشر میں امتیاز رکھتا ہے اور کون بالکل اندھا بہرا بن کر محض رسم کا پجاری بن کر رہ گیا ہے تو تم ان اندھوں بہروں کو ان کے حال پر چھوڑو اور پیغمبر نے تمھارے سامنے حصولِ قربِ الٰہی کا جو میدان کھولا ہے اس میں ایک دوسرے سے گوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ یہاں ’وَلَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ‘ والے ٹکڑے کو پھر ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر منافقین اور ان کے مرشد یہود کفر کی راہ میں مسابقت کر رہے ہیں تو ان کی اس بد بختی پر غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اہل ایمان ، ایمان کے میدان میں بازی جیتنے کی کوشش کریں۔
’اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا‘ الایۃ یعنی اس دنیا میں تو بہرحال آزادی حاصل ہے، کوئی شخص چاہے کفر کی راہ اختیار کرے، چاہے ایمان کی لیکن منزل ہر شخص کی ایک ہی ہے، لوٹنا سب کو خدا ہی کی طرف ہے، ایک دن یہ سارا اختلاف اسی کے سامنے پیش ہو گا اور وہ اس اختلاف کا فیصلہ فرمائے گا۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
پھر ہم نے، (اے پیغمبر) تمھاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے، قول فیصل کے ساتھ اور اُس کتاب کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہے اور اُس کی نگہبان بنا کر، اِس لیے تم اِن کا فیصلہ اُس قانون کے مطابق کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور جو حق تمھارے پاس آچکا ہے، اُس سے ہٹ کر اب اِن کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت،یعنی ایک لائحۂ عمل مقرر کیا ہے۔ اللہ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا، مگر اُس نے یہ نہیں کیا، اِس لیے کہ جو کچھ اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے، اُس میں تمھاری آزمایش کرے۔ سو بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم سب کو (ایک دن) اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا سب چیزیں جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
اِس سے تورات مراد ہے۔ انجیل کا ذکر اِس لیے نہیں ہوا کہ قرآن سے پہلے اصل کتاب کی حیثیت تورات ہی کو حاصل تھی۔ زبور، انجیل اور انبیا علیہم السلام کے دوسرے صحائف درحقیقت اُسی کے فروع ہیں۔
اصل میں لفظ ’مُہَیْمِن‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’ہیمن فلان علی کذا‘ سے بنا ہوا اسم صفت ہے جو محافظ اور نگران کے معنی میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کتاب الٰہی کا اصل قابل اعتماد نسخہ اب قرآن ہی ہے۔ تورات اور دوسرے صحائف سے متعلق بھی کسی چیز کے حق و باطل کا فیصلہ کرنا ہو تو اُس کے لیے کسوٹی اور معیار یہی ہے۔ جو بات اِس پر کھری ثابت ہو گی، وہ کھری ہے اور جو اِس پر کھری ثابت نہ ہو سکے، وہ یقیناً کھوٹی ہے جسے ہر حال میں رد ہو جانا چاہیے۔
اصل الفاظ ہیں: ’لاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ‘۔ اِن میں ’لَا تَتَّبِعْ‘ کے بعد ’عن‘ دلالت کرتا ہے کہ یہ ’لاتنحرف‘ یا اِس کے ہم معنی کسی لفظ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اپنے مقدمات لے کر یہ آپ کے پاس آئیں توآپ کا فیصلہ اُس قانون کے مطابق ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا ہے۔ آپ اُسی کے پابند ہیں۔ اُس سے منحرف ہو کر اِن کی خواہشات و بدعات کی پیروی میں آپ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہ اگر اپنے فقہا کے پاس جائیں تو جس طرح اُن کا فرض ہے کہ تورات و انجیل کے مطابق فیصلہ کریں، اِسی طرح آپ کے پاس آئیں تو آپ کو قرآن کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ اِسے چھوڑ کر کسی دوسرے قانون کے مطابق معاملات کا فیصلہ کرنا اُسی طرح کفر، ظلم اور فسق ہے، جس طرح اوپر تورات و انجیل سے متعلق ذکر ہوا ہے۔
اصل میں ’شِرْعَۃ‘ اور ’مِنْہَاج‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں دوسرا پہلے کے لیے بمنزلۂ تفسیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے جو شریعت دی ہے، وہ اُس کے ماننے والوں کے لیے زندگی گزارنے کا دستور، لائحۂ عمل اور طریق کار ہے جس سے دین کے حقائق زندگی کے احوال سے متعلق ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کو الگ الگ شریعت کیوں دی؟ یہ اِس کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’جہاں تک دین کے حقائق کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ سے غیر متغیر ہیں اور غیر متغیر ہی رہیں گے، لیکن شریعت کے ظواہر و رسوم ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ مقرر فرمائے تا کہ یہ چیز امتوں کے امتحان کا ذریعہ بنے اور وہ دیکھے کہ کون ظواہر و رسوم کے تعصب میں گرفتار ہو کر حقائق سے منہ موڑ لیتا ہے اور کون حقیقت کا طالب بنتا ہے اور اُس کو ہراُس شکل میں قبول کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے جس میں وہ خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے اُس کے سامنے آتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن۲/۵۳۵)
مطلب یہ ہے کہ تم اِن یہود و نصاریٰ کی طرح لکیر کے فقیر اور رسوم و ظواہر کے غلام بن کر نہ رہ جاؤ، بلکہ دین کی اصل حقیقت کو سامنے رکھو اور اللہ کے پیغمبر نے نیکی، خیر اور حصول قرب الٰہی کے لیے جدوجہد کی جو راہ تمھارے لیے کھول دی ہے، اُس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ کا قانون جس صورت میں بھی آئے، تمھارے لیے زیبا یہی ہے کہ اُس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو اور شرائع میں اختلاف کو بنیاد بنا کر دین کی اصل حقیقت، یعنی خدا کی بندگی سے روگردانی نہ کرو۔
إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِئُ الأكْمَهَ وَالأبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلا سِحْرٌ مُبِينٌ
5.110
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
جب کہ اللہ کہے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! میرے اس فضل کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پرکیا۔ جب کہ میں نے روح القدس سے تمہاری تائید کی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گہوارے میں بھی اور ادھیڑ ہو کر بھی۔ اور یاد کرو جب کہ میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور یاد کرو جب کہ تم مٹی سے ایک صورت پرندے ک صورت کی مانند میرے حکم سے بناتے تھے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور تم اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور یاد کرو جب کہ تم مُردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور یاد کرو جب کہ بنی اسرائیل کے شر کو میں نے تم سے دور رکھا جب کہ تم ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ان کے کافروں نے کہا کہ یہ تو بس صریح جادو ہے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
یہاں حضرت عیسیٰؑ کے جو معجزات مذکور ہیں یہ سب سورۂ آل عمران میں بھی بیان ہو چکے ہیں۔ وہاں ہم ان کی وضاحت کر چکے ہیں۔
’وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ ےْلَ عَنْکَ‘ اشارہ بنی اسرائیل کی ان سازشوں کی طرف ہے جو انھوں نے سیدنا مسیحؑ کے قتل اور سولی کے لیے کیں۔
سوالات نصاریٰ کی فضیحت کے لیے: یہ تمام باتیں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نصاریٰ پر حجت تمام کرنے کے لیے فرمائے گا۔ گویا حضرت عیسیٰؑ کی موجودگی میں نصاریٰ پر یہ حقیقت واضح کر دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ پر جو انعام بھی ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، انھوں نے جو معجزے بھی دکھائے سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے اور یہودیوں نے ان کو جن خطرات میں ڈالا ان سے ان کو اللہ تعالیٰ ہی نے نکالا۔ پھر جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور اس کے سب سے بڑے گواہ خود عیسیٰ ہیں تو نصاریٰ بتائیں کہ انھوں نے کس کے کہنے سے ان کو خدا بنا ڈالا۔ یہاں ’بِاِذْنِیْ‘ (میرے حکم سے) کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔ ایک ایک بات پر اللہ تعالیٰ اس کو دہرائے گا اور ان میں سے ہر بات پر سیدنا مسیحؑ اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا ہی کہیں گے تو ظاہرہے کہ جن معجزات کے بل پرنصاریٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو خدا بنایا جب وہ سب خدا کے ’اذن‘ سے ہوئے اوراس کا اعتراف خود معجزات کا دکھانے والا ہی کرے گا تو نصاریٰ کے حصے میں فضیحت اور رسوائی کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا۔
ترجمہ جاوید احمد غامدی
جب اللہ کہے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، میری اُس عنایت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمھاری ماں پر کی تھی، (اُس وقت) جب میں نے روح القدس سے تمھاری مدد کی، تم گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔ اور یاد کرو، جب میں نے تمھیں قانون اور حکمت سکھائی، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور یاد کرو، جب تم میرے حکم سے پرندے کی ایک صورت مٹی سے بناتے تھے، پھر اُس میں پھونکتے تھے اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور یاد کرو، جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور یاد کرو، جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تم سے روک دیے، جب تم کھلی ہوئی نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے اور اُن کے منکروں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
تفسیر جاوید احمد غامدی
مسیح علیہ السلام کے معاملے میں یہ غیرمعمولی واقعہ اِس لیے ہوا کہ یہود پر اتمام حجت ہو اور سیدہ مریم پر کسی تہمت کی گنجایش نہ رہے۔
تورات میں زیادہ تر شریعت اور انجیل میں ایمان و اخلاق کے مباحث بیان ہوئے ہیں۔ پہلی چیز کے لیے قرآن نے یہاں ’الْکِتٰب‘ اور دوسری کے لیے ’الْحِکْمَۃ‘ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ قرآن کا یہ جملہ، اگر غور کیجیے تو اِس تعبیر کو ہر لحاظ سے واضح کردیتا ہے۔
اِس کی صورت یہ ہوئی کہ جب یہود آپ کے قتل کے درپے ہو گئے تو اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کا جسم مبارک بھی اپنی طرف اٹھا لیا۔ چنانچہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے آپ کو ہاتھ لگانا بھی یہود کے لیے ممکن نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ یہ تمام باتیں جو یہاں تک بیان ہوئی ہیں، نصاریٰ پر اتمام حجت اور اُن کی فضیحت کے لیے فرمائے گا۔ چنانچہ حضرت مسیح کے سامنے اور خود اُن کے اعترافات سے یہ حقیقت نصاریٰ پر واضح کر دی جائے گی کہ اُنھوں نے جو کچھ کیا، وہ صریح گمراہی تھی۔ مسیح علیہ السلام کے کسی قول و فعل یا اُن کی تعلیمات سے اِس کا کوئی تعلق نہ تھا۔
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الأمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ
45.18
ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)
پھر ہم نے تم کو اللہ کی ایک واضح شریعت پر قائم کیا تو تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔
تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)
نبی صلعم کو اللہ کے اصل دین پر جمے رہنے کی تاکید: ’شریعۃ‘ کے معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ کے ہیں۔ اور ’مِنَ الْاَمْرِ‘ جس مفہوم میں اوپر والی آیت میں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں اس آیت میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فرمایا کہ جب ان اہل کتاب نے اللہ کی بتائی ہوئی صراط مستقیم گم کر دی اور خلق کو صحیح راہ بتانے والا کوئی نہیں رہا تب اللہ نے تم کو اپنی ایک واضح شریعت پر مبعوث فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آج بنی اسرائیل تمہاری دعوت کے خلاف یہ وسوسہ اندازی کرتے پھرتے ہیں کہ ان کے اور ان کی شریعت کے ہوتے کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی کیا ضرورت تھی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر نہیں ہے۔ اگر ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر ہوتی تو وہ جان جاتے کہ تمہاری بعثت دین کے کن تقاضوں اور خلق کی کس ضرورت کی تکمیل کے لیے ہوئی ہے۔ یہ مضمون ’حٰمٓ السجدۃ‘ کی آیت 45 میں بھی گزر چکا ہے۔
’فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ‘۔ ’اَھْوَآءَ‘ سے مراد، جیسا کہ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آرہے ہیں، بدعات ہیں۔ بدعات کی ایجاد چونکہ اپنی خواہشوں ہی کو دین کی سند دینے کے لیے لوگ کرتے ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو ’اَھْوَآءَ‘ سے تعبیر کر کے ان کے اصل منبع کا پتہ دے دیا کہ وہ دین یا عقل سے نہیں وجود میں آتی ہیں بلکہ ان کو نفس کی خواہشیں جنم دیتی ہیں۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید ہے کہ تم کو اللہ نے جو واضح شریعت تمام بدعات و خرافات سے پاک کر کے، دی ہے اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو نہیں جانتے ہیں۔ ان، نہیں جاننے والوں میں، مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب شامل ہیں۔ مشرکین عرب تو ظاہر ہے کہ کتاب و شریعت سے بالکل نا آشنا امّی تھے۔ وہ دین ابراہیمی کے وارث ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن ان کے حصہ میں صرف وہ بدعات آئی تھیں جو ان کے جاہل باپ دادا نے دین ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے گھڑ رکھی تھیں۔ انہی کی حمایت میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے کہ آپ اپنی دعوت سے ان کے آبائی دین کو مٹا رہے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن، جیسا کہ اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے، انھوں نے اللہ کے دین میں اتنے اختلافات پیدا کر لیے تھے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہو گئی تھی۔ قرآن نے جب اصل حقائق واضح کیے اور وہ ان کی بدعات (اَھْوَآءَ) کے خلاف پڑے تو ان کے اندر بھی آگ لگ گئی کہ اس نئی دعوت سے تو ان کی دین داری کا سارا کاروبار معرض خطر میں ہے۔ حالانکہ قرآن کی دعوت سے نہ صرف انبیاء کا اصل دین نکھر کر سامنے آرہا تھا بلکہ اس کی تکمیل بھی ہو رہی تھی لیکن یہود و نصاریٰ چونکہ اصل دین سے بالکل تاریکی میں تھے۔ اس وجہ سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کے ساتھی بن کر اسلام کو مٹانے کے درپے ہو گئے۔ قرآن نے اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید فرمائی کہ اللہ کی اصل شریعت پر تمہی ہو۔ یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اسی پرجمے رہو اور ان لوگوں کی بدعتوں کی پیروی ہرگز نہ کرنا جو اللہ کے اصل دین سے بے خبر ہیں۔
اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے نہیں پیدا ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدانخواستہ یہ اندیشہ تھا کہ آپ ان کی بدعات کی طرف مائل ہو جائیں گے بلکہ لوگوں کی بدعات سے یہ بالواسطہ اظہار نفرت کا ایک طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مخاطب کرنا پسند نہیں فرمایا اس وجہ سے اپنے پیغمبرؐ کو خطاب کر کے ان بدعات سے احتراز کی تاکیدفرما دی۔ یہ اسلوب کلام قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
Comments/Notes
There are no comments by the author.
Source:
- "Meezan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi












Comments on this Article
You are not logged in.
To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please Login Now, or you can Register for a free account.