Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Manzoor ul Hassan Profile

Manzoor ul Hassan

  manzoorhsyed@hotmail.com
Author's Bio
Visit Profile
یسئلون | اشراق

یسئلون

[جناب جاوید احمد صاحب غامدی اپنے ہفتہ وار درس قرآن وحدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے
جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے چند منتخب سوال وجواب تحریر میں منتقل کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]

 

نماز میں سلام پھیرنا اور شہادت کی انگلی اٹھانا

سوال : نماز میں سلام پھیرنے اور جلسے میں شہادت کی انگلی اٹھانے کا پس منظر کیا ہے ؟
جواب : نماز میں سلام پھیرتے وقت ہم ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر اصل میں نماز سے فارغ ہوتے ہیں ۔ یہ بڑا پاکیزہ طریقہ ہے ۔ نماز پڑھتے ہوئے ہم اللہ کے حضور میں ہوتے ہیں ، اس سے نکلنے کے لیے کوئی علامت تو بہرحال ہونی چاہیے تھی۔ اس کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا تھاکہ جب ہم نماز مکمل کریں تو اپنے دائیں بائیں رخ کر کے اللہ کی مخلوق کے لیے سلامتی کی دعا کریں۔
جلسے میں شہادت کی انگلی توحید کی علامت کے طور پر اٹھائی جاتی ہے۔ نماز کے ارکان اصل میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلق کا علامتی اظہار (Symbolic Expression)ہیں ۔ یہی معاملہ حج اور قربانی کے ارکان کا بھی ہے۔ یہ علامتی اظہار بڑا اہم ہوتا ہے اور عبادا ت میں اس سے مقصود درحقیقت ایمانیات کے مختلف اجزا کو ذہن میں قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اس کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے ملک کے جھنڈے کو سلام کرتے ہیں، ترانے کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اصل میں ہمارے جذبات کا ، ہماری تعظیم کا علامتی اظہار ہیں ۔(اگست ۲۰۰۴)

 

قیامت میں فرشتوں اور جنوں کا حساب

سوال: کیا قیامت کے روز انسانوں کی طرح فرشتوں اور جنوں کا بھی حساب ہو گا؟
جواب : جنات کے بارے میں قرآن مجید نے ہم کو بتا دیا ہے کہ وہ بھی اسی طریقے سے خیر و شر کی کشمکش میں ڈالے گئے ہیں جس طرح انسان ڈالے گئے ہیں اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ ان کے انجام کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا ہے کہ انسانوں کی طرح ان کے ساتھ بھی اچھائی اور برائی کی بنا پر معاملہ کیاجائے گا۔ مزید یہ بات بھی بتا دی ہے کہ جس طرح ہماری طرف اللہ کے پیغمبر آئے ہیں ، اسی طرح ان کی طرف بھی اللہ کے پیغمبر آئے ہیں ۔ اس لیے جنوں کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں ، لیکن فرشتوں کے بارے میں ایسی کوئی بات ہمارے علم میں نہیں ہے ۔ البتہ ، ان کے متعلق قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی حضوری میں رہتے ہیں اور اختیار رکھنے کے باوجود وہ نہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں اور نہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا۔ (اگست ۲۰۰۴)

 

بینک کی ملازمت اور سود

سوال : بنک کی ملازمت، کیا سود کی دستاویز لکھنے اور اس کی گواہی دینے کے زمرے میں آتی ہے؟
جواب: بنک کی ملازمت سود کی دستاویز لکھنے اور اس کی گواہی دینے کے زمرے میں تو یقیناًآتی ہے، لیکن موجودہ دور میں اس معاملے کو اسی طرح دیکھا جائے گا جس طرح اسلام کے ابتدائی زمانے میں غلامی کے معاملے کو دیکھا گیا تھا۔ اس وقت سود کا کاروبار ایسے ہی پھیل چکا ہے جیسے قدیم زمانے میں غلامی پھیل چکی تھی ۔ اس وقت اسلام نے غلامی پر یک لخت پابندی عائد کرکے لوگوں کو کسی بڑی مشقت میں مبتلا نہیں کیا، بلکہ ایک تدریج کے ساتھ اس کے خاتمے کی راہ ہموار کی ۔ پہلے اس کے راستے بند کیے اور پھر وہ قوانین بنائے جن کے ذریعے سے سوسائٹی سے اس کا خاتمہ ہو سکے۔
سود پر اسلام کو اصل اعتراض یہ ہے کہ یہ ایک اخلاقی برائی ہے۔ آپ کو قرض پر متعین منفعت لینے کا حق نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق یہ درحقیقت دوسرے کا مال غلط طریقے سے کھانا ہے ۔
تاہم ، موجودہ دور میں اس کاروبار کی نوعیت یہ بن چکی ہے کہ پوری معیشت اس پر منحصر ہے، بینکوں کا سارا نظام اس پر چل رہا ہے۔ اس لیے اس میں جن لوگوں کو کوئی ملازمت کرنا پڑتی ہے، ان کے لیے وہی قواعد ہوں گے جو غلامی کے نظام میں پھنسے ہوئے لوگوں کے بارے میں تھے۔
آدمی اگر بہتر ماحول میں جا سکے تو اس کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے عفو و درگزر کی توقع رکھنی چاہیے۔(اگست ۲۰۰۴)

 

اسلام سے پہلے نماز

سوال : کیا اسلام سے پہلے بھی نماز پڑھی جاتی تھی؟ اگر ایسا ہے توکیا اس میں بھی سورۂ فاتحہ اور باقی آیات ایسے ہی پڑھی جاتی تھیں جیسے اب مسلمان پڑھتے ہیں؟
جواب : نماز اصلاً رکوع ، سجود ، قعدے اور قیام کا نام ہے ۔ اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے ، جتنی خود مذہب کی ہے۔ اس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے اور اس کے مراسم اور اوقات بھی کم و بیش متعین رہے ہیں ۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اللہ کے تمام پیغمبروں نے اس کی تعلیم دی ہے ۔ جہاں تک اس میں پڑھے جانے والے اذکار کا تعلق ہے تو اسلام سے پہلے جو الہامی کتابیں موجود تھیں، انھی کے کلمات پڑھے جاتے تھے۔ یہ اذکار قدیم صحائف میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ( اگست ۲۰۰۴)

 

مجبوری کی وجہ سے غلط کام کا ارتکاب

سوال: انسان کو زندگی میں اگر کسی وقت حالات اس قدر مجبور کر دیں کہ صحیح بات کو جاننے کے باوجود غلط بات کو اختیار کرنا اس کی مجبوری بن جائے تو اس صورت حال میں اسے کیا کرنا چاہیے ؟
جواب : اگر کوئی آدمی کسی اضطرار یا مجبوری کی وجہ سے کوئی غلط کام کرتا ہے تو خدا کی رحمت سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ اسے معاف فرما دیں گے ۔ البتہ ، اضطرار اور مجبوری کی کیا نوعیت ہے، اس کا ادراک ضروری ہے ۔ لوگ بعض اوقات بہت معمولی باتوں کو مجبوری بنا لیتے ہیں۔ اللہ کے ہاں اس کا راز بھی کھل جائے گا۔ (اگست ۲۰۰۴)

یہود و نصاریٰ کے لیے دعا کرنا

سوال : درود ابراہیمی پڑھتے ہوئے ہم ’آل ابراہیم‘ کے الفاظ ادا کرتے ہیں ، جس سے یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے بھی دعا بن جاتی ہے ، اس لحاظ سے درود ابراہیمی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
جواب : یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے دعا کرنے میں کیا حرج ہے ۔ ان کے نیک لوگوں کے لیے ہم کو دعا ہی کرنی چاہیے ۔ وہ بھی اللہ کے دین کو ماننے والے ہیں اور ہمارے بھائی ہیں ۔ ان میں سے جولوگ جانتے بوجھتے حق کا انکار نہیں کر رہے، ان کے لیے ہم دعا کیوں نہیں کریں گے ! (اگست ۲۰۰۴)

 

انسانوں کی آزمایش کی حکمت

سوال : اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے ۔ کیا وہ انسانی مزاج کو نہیں جانتا پھر اسے امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے ؟
جواب : اللہ تعالیٰ نے یہ امتحان اپنے لیے نہیں لیا ، بلکہ آپ کے لیے لیا ہے، تاکہ آپ کو استحقاق کی بنا پر اجر دے سکے۔ اگر وہ اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کر دیتا تو آپ قیامت میں اس کی عدالت میں مقدمہ لے کر کھڑے ہو جاتے کہ آپ نے موقع تو دیا ہی نہیں تھا۔ چنانچہ جان رکھیے کہ یہ ساری آزمایش آپ کے استحقاق کو قائم کرنے کے لیے ہے۔(اگست ۲۰۰۴)

 

معصوم لوگوں کا نمونۂ عبرت بنایا جانا

سوال : بعض اوقات اللہ تعالیٰ بے گناہ اور معصوم لوگوں کو دوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیتے ہیں۔ جنھیں عبرت بنایا گیا ہے، ان کا کیا قصور ہے ؟
جواب : یہ دنیا انصاف کے اصول پر نہیں ، بلکہ امتحان کے اصول پر قائم کی گئی ہے ۔ انصاف کے اصول پر قائم ہونے والی دنیا قیامت کے بعد ظہور پذیر ہو گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اس دنیا میں ظلم بھی ہو گا، زیادتی بھی ہو گی اور کسی کو عبرت بھی بنایا جائے گا، یہ سب معاملات اسی طرح ہوں گے، کیونکہ یہ سب امتحان کے لیے ہے ۔ اگر آپ اس میں کامیاب ہو گئے تو انصاف آپ کا منتظر ہے ۔ اُس دنیا میں انصاف حاصل کیجیے اور اِس کو امتحان سمجھ کر زندگی بسر کیجیے ۔ (اگست ۲۰۰۴)

 

اسلام کا زبان سے اقرار اور عمل سے نفی کرنا

سوال : زبان سے کلمۂ اسلام کا اقرار اور عمل سے اس کی نفی کرنے والے کو کیا کہیں گے ؟
جواب : کہنے کی ضروت کیا ہے ؟ یعنی کیا یہ ضروری ہے کہ ایسے شخص پر لازماً کوئی فتویٰ لگایا جائے ۔ اگر کوئی آدمی کوتاہی کر رہا ہے تو ہمیں اپنے بھائی کو اس کوتاہی سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسے بھلائی کی طرف دعوت دینی چاہیے، اس تک اللہ کا پیغام پہنچانا چاہیے۔ اس کے بارے میں فتویٰ صادر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔(اگست ۲۰۰۴)

 

خاوند سے پوچھے بغیر خرچ کرنا

سوال: خاوند اگر سخت مزاج ، بلکہ بد مزاج ہو تو کیا یہ ٹھیک ہے کہ بیوی اس کی کمائی کو گھریلو اخراجات کے لیے اس سے پوچھے بغیر استعمال کر سکتی ہے؟ یہ عمل چوری کے زمرے میں تو نہیں آجاتا؟
جواب : بیوی کے نان و نفقے کی ذمہ داری شوہر پر ڈالی گئی ہے۔ ایک بار جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سوال پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنے خرچ کے برابر لے سکتی ہو۔ اس کو چوری نہیں کہا جائے گا۔ یہ شوہر پر تمھاری ذمہ داری ہے۔
مگر، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ اس رعایت سے فائدہ اٹھا لیں اور جو جی چاہے کرنا شروع کر دیں ۔(اگست ۲۰۰۴)

 

زکوٰۃ یا ٹیکس

سوال: زکوٰۃ اسلامی حکومت کا ٹیکس ہے ، ہماری حکومت خالصتاً اسلامی نہیں اور نہ وہ ہم سے وصول کیے ہوئے ٹیکس کو زکوٰۃ کے آٹھ مصارف پر خرچ کرتی ہے ، تو پھر ہم کیسے سمجھ لیں کہ ہماری زکوٰۃ ادا ہو گئی ہے؟
جواب: ٹیکس کو خرچ کرنا حکومت کا کام ہے۔ آپ جس کو اسلامی حکومت کہتے ہیں وہ بھی جب قائم ہو جائے گی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنا صحیح خرچ کرے گی اور کتنا غلط ، کیونکہ ہر حکومت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماکی حکومت نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اپنا فرض پورا کریں اور حکومت کو تلقین اور نصیحت کریں کہ وہ اپنے رویے ٹھیک کرے۔
زکوٰۃ کو ٹیکس کی حیثیت سے حکومت کو ادا کر کے باقی ٹیکسوں سے خود کو بری سمجھنا ایک اجتہادی رائے ہے، اگر آپ کا اس پر اطمینان نہیں ہوتا تو آپ دوسری صورت اختیار کرسکتے ہیں ، یعنی ٹیکس بھی ادا کر دیں اور زکوٰۃ بھی ۔( اگست ۲۰۰۴)

 

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List