Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Javed Ahmad Ghamidi Profile

Javed Ahmad Ghamidi

  javedghamidi@javedahmadghamidi.com
Author's Bio
I do not wield the pen of a writer nor do I possess the wisdom of a scholar. I am just a student. I am embarking on this journey with trust in Allah. I know that previous writers acquitted themselves gloriously. I see their footprints and am aware of their staging posts and destinations. I am aware of my weaknesses. I would not have chosen this path but I know that all other avenues lead to loss, and I also know that Allah helps those who tread this trail. I have decided to write only with this confidence. I am sure that one day thoughts and penned words both will be called to account before Allah. I pray that He empowers me to tell the truth and stand by it. I trust in Him and to Him do I revert.
Visit Profile
سورۃ الانعام (۱۲ | اشراق

سورۃ الانعام (۱۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِھًا وَّغَیْرَ مُتَشَابِہٍ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ(۱۴۱) وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۴۲)
ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ قُلْءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ نَبِّءُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۴۳) وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِھٰذَا فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۴۴)
قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْلَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْفِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَاعَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴۵)
وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَآ اِلَّا مَاحَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَآ اَوِالْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(۱۴۶) فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْرَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۴۷)
سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآءَ اللّٰہُ مَآاَشْرَکْنَا وَلَآ اٰبَآؤُنَاوَلَاحَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتّٰی ذَاقُوْا بَاْسَنَا قُلْ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ(۱۴۸) قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْشَآءَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ(۱۴۹) قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ھٰذَا فَاِنْ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَھُمْ بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ(۱۵۰)
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۵۱) وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْکَانَ ذَاقُرْبٰی وَبِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(۱۵۲) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)
ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ بِلِقَآءِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ(۱۵۴)
وَھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ(۱۵۵) اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآءِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِھِمْ لَغٰفِلِیْنَ(۱۵۶) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّآ اَھْدٰی مِنْھُمْ فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَصَدَفَ عَنْھَا سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓ ءَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یَصْدِفُوْنَ(۱۵۷) ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَآٰءِکَۃُ اَوْیَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْیَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَاخَیْرًا قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ(۱۵۸)
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْاشِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْءٍ اِنَّمَآ اَمْرُھُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۱۵۹) مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۰)
قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(۱۶۱) قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۶۲) لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۶۳) قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ وَلَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْھَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ(۱۶۴) وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْم.

ترجمہ

اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریک نہیں، بلکہ) وہی اللہ ہے جس نے قسم قسم کے باغ پیدا کیے ہیں، (اِن میں سے) کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں۲۲۴؂ اور کچھ نہیں چڑھائے جاتے۔۲۲۵؂ (اِسی طرح) کھجور پیدا کی اور کھیتیاں اگائی ہیں جن کے طرح طرح کے پھل ہیں اور زیتون اور انار کے درخت جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور الگ الگ بھی۔۲۲۶؂ اِن کی پیداوار میں سے کھاؤ، جب یہ پھلیں ۲۲۷؂اور اِن کا حق ادا کرو، جس دن یہ کاٹے جائیں ۲۲۸؂اور بے جا نہ اڑاؤ۔۲۲۹؂ اللہ (اِس طرح) اڑا دینے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ سواری اور باربرداری کے چوپائے بھی اُسی نے پیدا کیے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے چلتے ہیں۲۳۰؂۔ اللہ نے جو کچھ تمھیں بخشا ہے، اُس سے فائدہ اٹھاؤ ۲۳۱؂اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو،۲۳۲؂ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔۱۴۱۔۱۴۲
(تم اِن چوپایوں میں سے) آٹھ نر و مادہ کو لو، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے، پھر اِن سے پوچھو۲۳۳؂ کہ اللہ نے اِن دونوں کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ یا اُس بچے کو حرام ٹھیرایا ہے جو مادینوں کے پیٹ میں ہے۲۳۴؂؟ مجھے کسی سند کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو؟۲۳۵؂ (اِسی طرح) دو اونٹ کی قسم سے اور دو گائے کی قسم سے، پھر پوچھو کہ اللہ نے اِن دونوں کے نرحرام کیے ہیں یا مادہ یا اُس بچے کو حرام ٹھیرایا ہے جو مادینوں کے پیٹ میں ہے؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے، جب اللہ نے تمھیں اِس کی ہدایت فرمائی تھی؟۲۳۶؂ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اِس لیے کہ بغیر کسی علم کے لوگوں کو گمراہ کرے ۔ اللہ ایسے ظالم لوگوں کو کبھی راستہ نہیں دکھائے گا۲۳۷؂۔ ۱۴۳۔۱۴۴
(اِن سے) کہہ دو، (اے پیغمبر کہ) جو وحی میرے پاس آئی ہے، اُس میں تو میں نہیں دیکھتا کہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام کی گئی ہے ،جسے وہ کھاتا ہے۲۳۸؂،سواے اِس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو، اِس لیے کہ یہ ناپاک ہیں۲۳۹؂، یا خدا کی نافرمانی کرکے کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔۲۴۰؂ اِس پر بھی جو مجبور ہو جائے، نہ چاہنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا۲۴۱؂ تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔۱۴۵
(یہ ، البتہ ٹھیک ہے کہ) جن لوگوں نے یہودیت اختیار کر رکھی ہے، اُن پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے۲۴۲؂ اور گائے اور بکری کی چربی بھی سواے اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی رہ جائے۲۴۳؂۔ یہ ہم نے اُن کی سرکشی کی سزا اُنھیں دی تھی ۲۴۴؂اور ہم بالکل سچے ہیں۲۴۵؂۔ اِس کے بعد بھی اگر وہ تمھیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمھارے پروردگار کی رحمت میں بڑی وسعت ہے، لیکن (اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اُس کی دی ہوئی مہلت ختم ہو گئی تو) مجرموں سے اُس کا عذاب ٹالا نہ جا سکے گا۲۴۶؂۔۱۴۶۔۱۴۷
(اِس کے جواب میں) یہ مشرک اب کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے ۲۴۷؂۔ اُن لوگوں نے بھی اِسی طرح جھٹلایا تھا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں، یہاں تک کہ اُنھوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ (اِن سے) پوچھو، تمھارے پاس کوئی علم ہے کہ ہمارے سامنے اُسے پیش کر سکو؟(حقیقت یہ ہے کہ) تم محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو۔ (اِن سے) کہو کہ اللہ کے پاس تو (اب تمھارے لیے) صرف حجت بالغہ ہے۲۴۸؂۔ پھر (یہ بھی سوچو کہ) وہ اگر چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لاتا، (کبھی شرک اور گمراہی میں نہ ڈالتا۲۴۹؂)۔ (اِن سے) کہو کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو (علم و عقل کی بنیاد پر) شہادت دیں کہ اللہ نے یہ چیز حرام ٹھیرائی ہے۔ پھر اگر وہ (ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹی) شہادت کے لیے کھڑے ہو جائیں تو تم اُن کے ساتھ یہ شہادت نہ دینا اور اُن لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۲۵۰؂ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا ہے، جو آخرت کو نہیں مانتے اور اپنے پروردگار کے ہم سر ٹھیراتے ہیں۔۱۴۸۔۱۵۰
(اِن سے ) کہو کہ آؤ، میں تمھیں سناؤں کہ تمھارے پروردگار نے تم پر کیا حرام ٹھیرایا ہے۲۵۱؂۔یہ کہ کسی چیز کو اُس کا شریک نہ ٹھیراؤ ۲۵۲؂اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، (اُن کے ساتھ کبھی کوئی برا رویہ اختیار نہ کرو۲۵۳؂)اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم تمھیں بھی روزی دیتے ہیں اور اُن کو بھی دیں گے۔۲۵۴؂اورفواحش کے قریب نہ جاؤ، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۲۵۵؂۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھیرایا ہے، ناحق قتل نہ کرو۲۵۶؂۔ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۲۵۷؂۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو (اُس کے لیے )بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے۲۵۸؂۔ اورناپ تول انصاف کے ساتھ پوری رکھو۔۲۵۹؂ ہم کسی جان پر اُس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔۲۶۰؂ اور جب بات کہو تو حق کی بات کہو، اگرچہ معاملہ اپنے کسی رشتہ دار ہی کا ہو۔۲۶۱؂ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۲۶۲؂۔ یہ چیزیں ہیں جن کی اللہ نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۲۶۳؂۔ (اور فرمایا ہے) کہ یہی میرا راستہ سیدھا راستہ ہے،۲۶۴؂ سو اِسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھارے پروردگار کی راہ سے تمھیں الگ کر دیں۔ یہ باتیں ہیں جن کی اُس نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ (اُس کی گرفت سے) بچے رہو۔۱۵۱۔۱۵۳
(یہ ابراہیم کا دین ہے، اِس کے بعد) پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی، اُس پر اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے جس نے خوبی اختیار کی تھی، ۲۶۵؂(دین و شریعت سے متعلق) ہر چیز کی تفصیل کے طور پر اور ہدایت و رحمت بنا کر، اِس لیے کہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لائیں۲۶۶؂۔۱۵۴
اور (اب) یہ کتاب ہے ، جو ہم نے اتاری ہے، خیروبرکت والی کتاب۲۶۷؂۔ سو اِس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اِس لیے (اتاری ہے) کہ مبادا ۲۶۸؂تم کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں پر اتاری گئی تھی اور ہم اُن کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بے خبر تھے۔ یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم اُن سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ چنانچہ تمھارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح حجت۲۶۹؂ اور ہدایت و رحمت تمھارے پاس آگئی ہے، اب اُن سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلادیں اور اُن سے منہ موڑیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑ رہے ہیں، اُنھیں اِس روگردانی کی پاداش میں ہم عنقریب نہایت بری سزا دیں گے۔ کیا وہ اِسی کے منتظر ہیں کہ اُن کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا پروردگار آجائے یا تیرے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی خاص نشانی ظاہر ہو جائے؟ جس دن تیرے پروردگار کی نشانیوں میں سے (اِس طرح کی) کوئی نشانی ظاہر ہوجائے گی، (اُس دن) کسی ایسے شخص کو اُس کا ایمان کچھ نفع نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں اُس نے کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۲۷۰؂۔ کہہ دو کہ (اِسی پر اصرار کرتے ہو تو) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۲۷۱؂۔۱۵۵۔۱۵۸
(خدا کی بتائی ہوئی اِس سیدھی راہ کو چھوڑ کر، اے پیغمبر) جن لوگوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں اور فرقوں میں بٹ گئے ہیں، اُن سے تمھارا کچھ واسطہ نہیں۲۷۲؂۔ اُن کا معاملہ بس اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہی اُنھیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ (اُس کا وعدہ ہے کہ اُس کے حضور) جو نیکی لے کر آئے گا، اُس کے لیے دس گنا بدلہ ہے۲۷۳؂ اور جو برائی لے کر آئے گا، اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس کی برائی ہے اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ ۱۵۹۔۱۶۰
(اِن سے ) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو میری رہنمائی ایک سیدھے رستے کی طرف فرما دی ہے۔ دین قیم، یعنی ملت ابراہیم کی طرف جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۲۷۴؂۔کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگارعالم کے لیے ہے۲۷۵؂۔ اُس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اِسی کا حکم ملا ہے۲۷۶؂ اور سب سے پہلے میں سر اطاعت جھکانے والا ہوں۔ (اِن سے) پوچھو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کروں، جبکہ وہی ہر چیز کا پروردگار ہے۲۷۷؂؟ (میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ تم نہیں مانتے تو جان لو کہ) ہر شخص جو کچھ کماتا ہے ، اُس کا ذمہ دار وہ خود ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔پھر تمھارے پروردگار ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔ اُس وقت وہ تمھیں بتا دے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ (یاد رکھو کہ) وہی ہے جس نے تمھیں زمین کا اقتدار بخشا اور ایک کو دوسرے سے بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے،اُس میں تمھارا امتحان کرے۲۷۸؂۔ (تم مطمئن رہو، اے پیغمبر)، تمھارا پروردگار سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بڑا بخشنے والا اور رحم فرمانے والا بھی ہے۲۷۹؂۔۱۶۱۔blockquote

 

تفسیر

۲۲۴؂ یعنی انگور وغیرہ جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔
۲۲۵؂ یعنی خربوزے، تربوز اور ککڑیاں جن کی بیلیں زمین پر ہی پھیلتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ سورۂ عبس (۸۰) کی آیت ۲۸ میں یہی مضمون ’عِنَبًا وَّ قَضْبًا‘کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
۲۲۶؂ یہاں چونکہ خدا کی توحید اور بندوں پر خدا کے حقوق کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے، اِس لیے باغوں اور کھیتیوں کی گونا گونی و بوقلمونی اور اُن کی پیداوار کے تنوعات کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...اِس کائنات میں کثرت کے اندر وحدت، گوناگونی کے اندر ہم آہنگی، اختلاف کے اندر سازگاری ، ہر گوشے میں نمایاں ہے۔ مٹی، پانی، ہوا ایک ہی ، لیکن اشیا گوناگوں قسم کی، رنگ مختلف قسم کے، مزے، خوشبو، قدوقامت الگ الگ۔ پھر یہ سب انسان کے لیے نعمت و برکت ، غذا اور لذت ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس خالق نے ہمارے جسم کے اندر گلوکوز اور فولاد کا تقاضا ودیعت کیا ، اُسی نے انار اور انگورکے دانوں کے اندر رس بھرے۔ جس نے ہماری زبان کے اندر مختلف ذائقے ودیعت کیے، اُسی نے اِن اشیا کے اندر مختلف مزے پیدا کیے۔ جس نے ہماری نگاہوں کو حسن و جمال کا ذوق بخشا، اُسی نے ہر چیز کو حسن و رعنائی، دل کشی و دل ربائی کا پیکر بنادیا۔ قرآن نے یہاں اشیا کے ظاہری تضاد و اختلاف کے اندر اِسی وحدت مقصد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہ چیز اِس کائنات کے خالق اور اِس کے مصرف کی توحید کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/۱۸۳)
اِس کا لازمی نتیجہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کا حق پہچانے اور اُس کا شکرگزار ہو کر زندگی بسر کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے، وہ بڑا ہی جواد و کریم ، فیاض و مہربان، سخی اور بندہ نواز ہے۔ اُس نے بندوں میں رزق کی احتیاج رکھی تو یہ نہیں کیا کہ جیسا تیسا پیٹ بھرنے کا سامان پیدا کر دیا ہو، بلکہ الوان نعمت کے انبار لگا دیے۔ باغ اگائے تو گونا گوں قسم کے ، کھجور اور غلے پیدا کیے تو بے شمار اقسام کے، زیتون، انار اور دوسرے پھل پھول عنایت کیے تو نت نئے انواع کے۔ آخر مجرد زندگی باقی رکھنے کے لیے تو یہ تنوعات، یہ بوقلمونیاں، شکلوں، رنگوں، ذائقوں اور مزوں کی یہ رنگ آرائیاں و رعنائیاں ناگزیر نہیں تھیں، لیکن اِس دنیا کے خالق نے بغیر اِس کے کہ اُس کی کوئی ضرورت ہم سے وابستہ ہو، ہمارے لیے اتنا وسیع دسترخوان بچھایا کہ ہم اُس کے لذائذ کے انواع و اقسام گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے۔ سوچنے والوں کے لیے سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اِس لیے ہے کہ انسان یہ جانے کہ اُس کا رب منعم و کریم اور فیاض و مہربان ہے، جس نے بلا کسی استحقاق کے اُس کے لیے یہ سارے سامان مہیا فرمائے ہیں اور پھر اِس کا فطری اثر اُس کے دل پر یہ طاری ہو کہ وہ اُس کا شکر گزار بندہ بنے اور اُس کا حق پہچانے۔ یہی شکر گزاری کا جذبہ اور حق شناسی کا احساس ہے جو تمام دین و شریعت کی ... بنیاد ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۸۳)
۲۲۷؂ اصل الفاظ ہیں: ’کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ‘۔ یہاں بھی اور اِس سے آگے ’یَوْمَ حَصَادِہٖ‘میں بھی ضمیر واحد آئی ہے، لیکن اِس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا ذکر ہوا ہے۔ عربی زبان میں اِس طرح ضمیر یا فعل واحد آئے تو اِس سے مقصود ایک ایک چیز کا حکم فرداً فرداً بیان کرنا ہوتا ہے۔
۲۲۸؂ یعنی فصل کے درو کا وقت آئے تو اُس میں اللہ کا جو حق زکوٰۃ کی صورت میں قائم کیا گیا ہے، وہ ادا کرو۔ آیت سے واضح ہے کہ اِس سے کوئی پیداوار بھی مستثنیٰ نہیں ہے، الاّ یہ کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی حالات کی رعایت سے کسی چیز کو مستثنیٰ قرار دے یا جن چیزوں پر زکوٰۃ وصول کرے، اُن کے لیے کوئی نصاب مقرر کر دے۔ یہ درحقیقت اُس نعمت الٰہی کا شکرانہ ہے جو کسان کو اُس کے پروردگار نے بخشی ہے ۔ اِس زمانے میں پیداوار کی جو دوسری صورتیں وجود میں آگئی ہیں، مثلاً صنعتی پیداوار، فیسیں، کرایہ اور معاوضۂ خدمات وغیرہ، اُن کو بھی اِس پر قیاس کرنا چاہیے اور زکوٰۃ کی وہی شرح اُن پر بھی عائد کرنی چاہیے جو زمین کی پیداوار کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
۲۲۹؂ اِس لیے کہ مال اللہ کی نعمت ہے اور اُس کے بارے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ آدمی اعتدال اور کفایت شعاری کے ساتھ اُسے اپنی جائز ضرورتوں پر خرچ کرے اور جو کچھ بچائے، اُسے حق داروں کی امانت سمجھے اور اِس امانت کو نہایت احتیاط کے ساتھ ادا کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...جو شخص مسرف اور فضول خرچ ہو، اُس کے اپنے ہی شوق پورے نہیں ہو پاتے، وہ دوسروں کے حقوق کیا ادا کرے گا۔ شیطان ارباب مال پر سب سے زیادہ حملہ اِسی راہ سے کرتا ہے۔ وہ اُن کو طرح طرح کی آرزوؤں اور خواہشوں میں پھنساتا ہے اور وہ اُن خواہشات و تعیشات کے ایسے غلام ہو جاتے ہیں کہ اُن کے نزدیک اِن کا درجہ ضروریات سے بھی کچھ بڑھ کر ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ بھلا کس طرح سو چ سکتے ہیں کہ جس مال میں اُن کے یہ اللے تللے ہیں، اُس میں خدا کے دوسرے بندوں کے بھی حقوق ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کے کتے،باز، شکرے تو آسودہ رہتے ہیں، لیکن اُن کے پڑوسی بھوکے سوتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۸۵)
۲۳۰؂ مثلاً، بھیڑیں اور بکریاں وغیرہ۔ باغات اور کھیتیوں کا ذکر کرتے ہوئے ’مَعْرُوْشٰتٍ وَّ غِیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ اُس کے مقابل میں چوپایوں کے لیے یہاں ’حَمُوْلَۃ‘اور ’فَرْش‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ نہایت حسین تقابل ہے۔ یعنی جس طرح باغوں میں ایسی بیلیں ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھ جاتی ہیں،اور ایسی بھی جو زمین پر پھیلتی ہیں، اُسی طرح چوپایوں میں بڑے قد کے اونٹ، گھوڑے اور خچر بھی ہیں اور زمین سے لگ کر چرتے چگتے بھیڑ بکریوں کی قسم کے چھوٹے قد کے چوپائے بھی۔
۲۳۱؂ اصل میں لفظ’کُلُوْا‘آیا ہے۔ یہ یہاں اپنے محدود معنی میں نہیں، بلکہ برتنے اور فائدہ اٹھانے کے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
۲۳۲؂ یعنی اُس کی مشرکانہ وسوسہ اندازیوں سے متاثر ہو کر خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام نہ ٹھیراؤ۔
۲۳۳؂ ’ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاج‘ میں فعل امر محذوف ہے اور مدعا یہ ہے کہ یہ آٹھ نرو مادہ ہیں، اِن میں سے ایک ایک کو فرداً فرداً لے کر اِن سے پوچھو۔
۲۳۴؂ مطلب یہ ہے کہ جب یہ بھی مانتے ہیں کہ اصلاً یہ جانور حلال ہیں تو پھر وہ حرمتیں کہاں سے پیدا ہو جاتی ہیں جو اِن احمقوں نے اپنے مشرکانہ توہمات سے پیدا کر رکھی ہیں کہ کسی کا کھانا جائز نہیں ہے، کسی پر سواری حرام ہے، کسی کو صرف مرد کھا سکتے ہیں ، عورتیں نہیں کھا سکتیں اور کسی کو فلاں اور فلاں صورت میں دونوں کھا سکتے ہیں۔
۲۳۵؂ یعنی اِس کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ تمھارے آبا اِن چیزوں کو حرام سمجھتے رہے ہیں، بلکہ کوئی واضح علمی دلیل ہونی چاہیے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ حرمتیں عقل و فطرت کا تقاضا ہیں یا خدا کے کسی پیغمبر نے تمھیں اِس کی ہدایت فرمائی تھی۔
۲۳۶؂ یہ اتمامِ حجت کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عقل و نقل میں تو کوئی چیز تمھارے دعووں کے حق میں نہیں ہے، پھر کیا یہ کہنا چاہتے ہو کہ تم اُس وقت موجود تھے، جب اللہ نے اُن حرمتوں کا حکم دیا تھا جو تم نے اپنے مزعومات کے تحت قائم کر رکھی ہیں؟
۲۳۷؂ یعنی نہ اِس پہلو سے راستہ دکھائے گا کہ اپنی ہدایت سے بہرہ یاب کرے اور نہ اِس پہلو سے کہ لوگوں کو گمراہ کر دینے کی جو مہم یہ چلا رہے ہیں، اُسے کامیابی سے ہم کنار کر دے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ نہایت لطیف انداز میں دعوت حق کی کامیابی کی بشارت بھی ہے۔
۲۳۸؂ یعنی جو اصلاً من جملہ طیبات ہے اور کھانے والے اُسے کھانے کی چیز سمجھ کر ہمیشہ کھاتے رہے ہیں۔ اِس سے وہ چیزیں آپ سے آپ نکل گئیں جو ممنوعات فطرت ہیں اور انسان ہمیشہ سے جانتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں، مثلاً شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گد، عقاب، سانپ اور بچھو وغیرہ۔ یہی معاملہ گھوڑوں، گدھوں اور بعض دوسرے خبائث کا بھی ہے۔
۲۳۹؂ اصل الفاظ ہیں:’فَاِنَّہٗ رِجْسٌ‘۔ اِن میں ضمیر اگرچہ واحد ہے، لیکن اِس کا تعلق تینوں ہی چیزوں سے ہے۔ یہ واحد اِس لیے آئی ہے کہ ایک ایک چیز کی طرف فرداً فرداً لوٹانا پیش نظر ہے۔
۲۴۰؂ لوگ جن چیزوں کو کھانے کی چیزیں سمجھ سکتے تھے،اُن میں سے یہی چار چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھیرائی ہیں۔ خون کو اِس لیے کہ درندگی کی طرف مائل کرتا ہے، مردار کو اِ س لیے کہ طبعی موت مرنے سے خون رگوں ہی میں رہ جاتا ہے، سؤر کو اِس لیے کہ اگرچہ انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے، مگر درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے اور ذبیحہ لغیر اللہ کو اِس لیے کہ یہ صریح شرک ہے جس کا ارتکاب وہی کر سکتے ہیں جو خدا سے سرکش ہو گئے ہوں۔ چنانچہ جانور پاک بھی ہو تو علم و عقیدہ کی یہ نجاست اُسے ناپاک کر دیتی ہے۔ آیت میں ’فِسْقًا‘کا لفظ اِسی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔
۲۴۱؂ اصل الفاظ ہیں:’غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ‘۔اِن میں ’بَاغٍ‘’بغی یبغی‘سے اسم فاعل ہے۔ اِس پر ’عَادٍ‘ کے عطف سے واضح ہے کہ اِس کے معنی یہاں چاہنے اور طلب کرنے ہی کے ہیں۔ یہ اُس حالت اضطرار کے لیے رخصت ہے جو کھانے کی کوئی چیز میسر نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔
۲۴۲؂ یعنی وہ جانور جن کے پاؤں چرے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ سم کی صورت میں بند ہیں اور اُن کے سامنے کے حصے پر ناخن ہیں۔ چنانچہ تورات میں اونٹ، سافان اور خرگوش کی حرمت کا ذکر اِسی بناپر ہوا ہے۔
۲۴۳؂ اِس کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: احبار۳:۱۵۔۱۷ اور احبار۷:۲۲۔۲۵۔
۲۴۴؂ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں نہ خبائث ہیں اور نہ اصلاً کبھی حرام رہی ہیں۔ یہود کی سرکشی اور گردن کشی تھی جس کی سزا کے طور پر یہ اُن پر حرام کی گئی تھیں۔بائیبل کے صحیفوں میں اِس سرکشی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ سورۂ بقرہ میں گائے کا قصہ بھی اِسی کی مثال ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے جب اِن کا حکم اُنھیں دیا تھا تو اُسی وقت وعدہ کیا تھا کہ نبی امی کی بعثت ہو گی اور وہ اُن پر ایمان لائیں گے تو یہ اصرو اغلال بھی اُن کے اوپر سے اتار دیے جائیں گے۔ چنانچہ ٹھیک اُس وعدے کے مطابق اب دین کو اصل ملت ابراہیمی پر بحال کر دیا گیا ہے اور صرف وہی حرمتیں باقی رہ گئی ہیں جو دین حق میں ہمیشہ سے رہی ہیں۔
۲۴۵؂ یہ الفاظ نہایت بلیغ ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے ہونے پر جو اتنا زور دیا ہے تو مقصود صرف اپنے سچے ہونے کا اظہار نہیں ہے، بلکہ اِس میں حریف کے جھوٹے ہونے کا اعلان بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیم اور شریعت بنی اسرائیل سے متعلق یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، ہم اُس میں بالکل سچے ہیں اور جوژاژخائی یہ قریش اور یہود کے مفسدین و اشرار کر رہے ہیں، یہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘ (تدبرقرآن۳/۱۹۳)
۲۴۶؂ اصل الفاظ ہیں:’وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ‘۔’رَبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ‘کے بعد یہ جملہ جس طریقے سے آیا ہے، اُس سے واضح ہے کہ اِس کا عطف استدراک کے لیے ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
۲۴۷؂ یہ آخری بات ہے جو مشرکین بحث میں ہر طرف سے پسپا ہو جانے کے بعد کہتے تھے کہ اگر ہم غلطی کر رہے ہیں تو خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، وہ ہمیں اِس غلطی سے روک کیوں نہیں دیتا۔ جب اُس نے نہیں روکا تو اِس کے معنی یہی ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، خدا کی مرضی سے اور اُس کے حکم کے مطابق کر رہے ہیں۔
۲۴۸؂ یعنی خدا کی اُس اسکیم میں جو دنیا میں تمھارے امتحان کے لیے جاری کی گئی ہے، خدا کے پاس اب تمھارے لیے جبر نہیں، بلکہ صرف ایسی حجت ہے جو دل و دماغ میں اتر جانے والی ہے۔ اِس معاملے میں وہ تمھارے ارادہ و اختیار میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ اُس نے تمھیں آزادی دے رکھی ہے۔ وہ صرف دلیل و حجت کے ذریعے سے رہنمائی فرماتا ہے۔
۲۴۹؂ یہ برسبیل تنزل فرمایا ہے کہ اگر خدا کو کچھ چاہنا تھا تو وہ لوگوں کی ہدایت چاہتا یا اُنھیں اپنے شریک ٹھیرانے کے لیے مجبور کرتا یا اِس بات کے لیے مجبور کرتا کہ میرے پیدا کیے ہوئے طیبات کو حرام ٹھیراؤ؟ مطلب یہ ہے کہ احمقو، یہ تم کیسی باتیں کرتے ہو؟
۲۵۰؂ یعنی اُن خواہشوں کی پیروی نہ کرنا جو اُنھیں شرک و بدعت کی اِس ضلالت میں مبتلا کر دینے کا باعث ہوئی ہیں۔ یہاں مشرکین کی بدعتوں کو خواہشوں کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کے حق میں علم و عقل کی کوئی دلیل نہ ہو، اُس کی دلیل صرف خواہش ہی ہو سکتی ہے۔
۲۵۱؂ مطلب یہ ہے کہ تمھارے پروردگار کی حرام کی ہوئی چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم اپنے توہمات کی بنیاد پر حرام قرار دے رہے ہو، بلکہ اصل حرمتیں یہ ہیں جو اللہ نے اپنی شریعت میں قائم کی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جس دین پر تمھیں چھوڑ ا تھا، اُس میں بھی یہ سب چیزیں حرام تھیں۔ تمام شرائع الٰہیہ میں یہ ہمیشہ اِسی طرح حرام مانی گئی ہیں۔
۲۵۲؂ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ مانا جائے تو قرآن اپنی اصطلاح میں اُسے شرک سے تعبیر کرتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو خدا کی ذات سے یا خدا کو اُس کی ذات سے سمجھا جائے یا خلق میں یا مخلوقات کی تدبیر امور میں کسی کا کوئی حصہ مانا جائے اور اِس طرح کسی نہ کسی درجے میں اُسے اللہ کا ہم سر بنا دیا جائے۔
پہلی صورت کی مثال سیدنا مسیح ، سیدہ مریم اور فرشتوں کے بارے میں عیسائیوں اور مشرکین عرب کے عقائد ہیں۔صوفیوں کا عقیدۂ وحدت الوجود بھی اِسی کے قبیل سے ہے۔
دوسری صورت کی مثال ہندوؤں میں برہما، وشنو، شیو اور مسلمانوں میں غوث، قطب، ابدال، داتا اور غریب نواز جیسی ہستیوں کا عقیدہ ہے ۔ ارواح خبیثہ، نجوم و کواکب اور شیاطین کے تصرفات پر ایمان کو بھی اِسی کے ذیل میں سمجھنا چاہیے۔
۲۵۳؂ خدا کے بعد سب سے بڑاحق والدین کا ہے۔ چنانچہ دوسرا حکم یہی بیان ہوا ہے۔ یہ اگرچہ ’مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ‘ ہی کے تحت ہے، لیکن قرآن نے اِس کے لیے منفی کے بجاے مثبت اسلوب اختیار کیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’...زیر بحث آیات میں اسلوب کی یہ ندرت قابل لحاظ ہے کہ بعض باتیں منفی پہلو سے بیان ہوئی ہیں، بعض مثبت پہلو سے۔ مثلاً شرک، قتل اولاد، فحشا، قتل نفس اور اکل مال یتیم کا ذکر تو منفی پہلو سے ہے اور والدین کے ساتھ احسان، ایفاے کیل و میزان، قول و عمل میں اہتمام عدل اور ایفاے عہد الٰہی کا ذکر مثبت اسلوب سے ہے۔ بعینہٖ یہی اسلوب، بعینہٖ اِنھی امور کے بیان میں بنی اسرائیل کی آیات ۲۲۔۳۸ میں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نفی سے اثبات اور اثبات سے نفی کا استنباط ایک بدیہی چیز ہے۔ جب ایک شے کا اثباتی انداز میں حکم ہے تو اِس کے لازمی معنی یہ ہیں کہ جو چیز اُس کی ضد ہے، اُس کی لازماً ممانعت ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس ایک چیز کی ممانعت ہے تو اِس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اُس کا مقابل پہلو مطلوب ہے۔ یعنی اگرشرک کی نہی ہے تو توحید مطلوب ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر والدین کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے تو اُن کے ساتھ بد سلوکی اور اُن کی نافرمانی حرام ہے۔ اِس اسلوب کی روشنی میں وہ تمام باتیں جو بیان تو ہوئی ہیں اثبات کے الفاظ میں، لیکن ہیں ظاہری تالیف کلام کے اعتبار سے’حَرَّمَ‘ ہی کے تحت، اُن سب کے ضد پہلو کو بھی مدنظر رکھیے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ’نہ والدین کو اف کہو، نہ جھڑکو، بلکہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘۔ اِس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اِس میں جو پہلو زیادہ زور و قوت سے ظاہر کرنے کا ہے، وہ تو الفاظ میں بیان ہو جاتا ہے اور اُس کا ضد پہلو بغیر الفاظ کی مدد کے مجردفحواے کلام اور اقتضاے نظام سے سمجھ میں آجاتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۹۸)
۲۵۴؂ یہ عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے کی اُس سنگ دلانہ رسم کی طرف اشارہ ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت چونکہ کوئی کماؤ فرد نہیں ہے، اِس لیے اُس کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔ فرمایا ہے کہ اُنھیں قتل نہ کرو۔ تم اُن کے رازق نہیں ہو۔ اُن کا رزق تو درکنار، تم اپنا رزق بھی خدا ہی سے پاتے ہو۔ تمھاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پوری محنت کے ساتھ رزق کے اسباب پیدا کرو۔ اِس کے بعد یہ خدا کا کام ہے کہ وہ اِن اسباب سے تمھارے لیے کیا ثمرات و نتائج پیدا کرتا ہے۔
۲۵۵؂ یعنی بدکاری علانیہ کی جائے یا چھپ کر، ہر حال میں حرام ہے۔ اِس کے لیے جمع کا لفظ اِس لیے استعمال فرمایا ہے کہ یہ زنا، لواطت، وطی بہائم اور اِس نوعیت کے تمام جرائم کو شامل ہو جائے۔ پھر روکنے کے لیے ’لَا تَقْرَبُوْا‘ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ ایسی تمام باتوں سے دور رہو جو بدکاری کی محرک ، اُس کی ترغیب دینے والی اور اُس کے قریب لے جانے والی ہوں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...’لَا تَقْرَبُوْا‘کا لفظ اُن برائیوں سے روکنے کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے جن کا پرچھاواں بھی انسان کے لیے مہلک ہے، جو خود ہی نہیں، بلکہ جن کے دواعی و محرکات بھی نہایت خطرناک ہیں، جو بہت دور سے انسانوں پر اپنی کمند پھینکتی ہیں اور پھر اِس طرح اُس کو گرفتار کرلیتی ہیں کہ اُن سے چھوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے میں آدمی کو کامیابی صرف اُسی صورت میں حاصل ہوتی ہے، جب وہ اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنے دل کی پوری پوری حفاظت کرے اور ہر اُس رخنے کو پوری ہوشیاری سے بند رکھے جس سے کوئی ترغیب اُس کے اندر راہ پا سکتی ہو اور ہر ایسے مقام سے پرے پرے رہے، جہاں کوئی لغزش ہو سکتی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۳/ ۲۰۱)
۲۵۶؂ انسانی جان کو جو حرمت ہر مذہب اور ہر اخلاقی نظام میں ہمیشہ حاصل رہی ہے، یہ اُس کا بیان ہے۔ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳۲میں صراحت ہے کہ کسی انسان کی جان دو ہی صورتوں میں لی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ نظم اجتماعی سے سرکشی کرکے وہ دوسروں کی جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائے۔ قرآن میں اِسے فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس کے سوا ہر قتل ایک ناحق قتل ہے جو قرآن کی رو سے شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ ہے۔
۲۵۷؂ مطلب یہ ہے کہ سمجھ سے کام لو اور اپنی طرف سے حلت و حرمت کے فیصلے کرنے کے بجاے اصل ملت ابراہیمی کی طرف رجوع کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ احکام دیے تھے۔
۲۵۸؂ اِس حکم کے الفاظ وہی ہیں جو اوپر فواحش سے روکنے کے لیے آئے ہیں۔ یعنی یتیم کی بہتری اور بہبود کے ارادے کے سوا اُس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یاد رکھو کہ یتیم کے مال میں صرف وہی تصرف جائز ہے جو اُس کی حفاظت اور نشوونما کی غرض سے کیا جائے اور اُسی وقت تک کیا جائے، جب تک یتیم سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا۔
۲۵۹؂ یہ ایک عظیم حکم ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے اُسی میزان انصاف کی فرع ہے جس پر یہ دنیا قائم ہے۔ چنانچہ اِس سے انحراف اگر کوئی شخص کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ عدل و قسط کے تصور میں اختلال واقع ہو چکا اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ معیشت اور معاشرت کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور تمدن کی کوئی اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہتی۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیت ۳۵ میں اِس کی برکات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ نتیجے اور مآل کار کے لحاظ سے یہی بہتر ہے اور لوگوں کے لیے اِس میں بڑی برکتیں ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...آخرت میں اِس کی برکات توواضح ہیں ہی، دنیا میں بھی باعتبار مآل...یہی رویہ معاش و معیشت، کاروبار اور تجارت اور عادلانہ تمدن کے فروغ کے نقطۂ نظر سے بابرکت ہے۔ کوئی ڈنڈی مارنے والی قوم دنیا میں نہ فروغ پائی ہے، نہ پائے گی۔ یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں ہے، بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔ جس قوم کے اندر یہ برائی پائی جاتی ہے، خبر دیتی ہے کہ یہ قوم عدل و قسط کے تصور سے خالی ہے۔ اِس وجہ سے یہ کسی صالح تمدن کے قیام کی صلاحیتوں سے نہ صرف محروم ہے، بلکہ یہ خدا کی زمین میں فساد کے بیج بونے والی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۳/ ۲۰۲)
۲۶۰؂ یہ ایک برسرموقع تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام بھی دیے ہیں، وہ لوگوں کی برداشت اور استطاعت سے زیادہ نہیں ہیں۔ اُس نے یہ احکام انسان کی صلاحیتوں اور اُس کی فطرت کو تول کر دیے ہیں۔ لہٰذا اِن کو نہ اپنی استطاعت کے حدود خود طے کرکے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور نہ احتیاط کے نام پر خود اُن کے حدود سے آگے بڑھانا چاہیے۔
۲۶۱؂ یہ وہی بات ہے جسے سورۂ نساء (۴) کی آیت ۱۳۵اور سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۸ میں قیام بالقسط سے تعبیر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندۂ مومن کو نہ صرف یہ کہ حق و انصاف پر قائم رہنا چاہیے، بلکہ یہ اگر گواہی کا مطالبہ کریں تو اِن کا یہ مطالبہ لازماً پورا کرنا چاہیے۔ رشتے، ناتے، جذبات اور خواہشات ، کسی چیز کو بھی اِس میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
۲۶۲؂ یہ ایک جامع بات ہے۔ عہداللہ سے کیا جائے یا بندوں سے یا فطری طور پر بندھ جائے، وہ اللہ ہی کا عہد ہے، اِس لیے کہ بندے عنداللہ اُس کے لیے مسؤل ٹھیرائے گئے ہیں۔
۲۶۳؂ اصل الفاظ ہیں:’لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘۔اوپر اِسی سیاق میں ’تَعْقِلُوْنَ‘اور آگے’تَتَّقُوْنَ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...’تَعَقُّل‘، ’تَذَکُّرْ‘اور ’تَقْوٰی‘ میں بڑا گہرا معنوی ربط ہے۔ انسان جب اندھی تقلید کی بیڑیوں سے آزاد ہو کر سنجیدگی سے ایک بات پر غور کرنے کا عزم کرتا ہے تو یہ’تَعَقُّل‘ ہے۔ اِس ’تَعَقُّل‘ سے وہ حقائق آشکارا ہوتے ہیں جو فطرت انسانی کے اندر ودیعت ہیں، لیکن انسان کی غفلت کی وجہ سے اُن پرذہول کا پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے، اِن حقائق کا آشکارا ہونا ’تَذَکُّرْ‘ہے۔یہ ’تَذَکُّرْ‘ انسان کی رہنمائی ’تَقْوٰی ‘کی منزل کی طرف کرتا ہے جو خلاصہ ہے تمام تعلیم و تزکیہ اور تمام قانون شریعت کا ...اِس وجہ سے جہاں تک دین کے مبادی اور اصول کا تعلق ہے، وہ خارج سے نہیں آتے، بلکہ انسان کی فطرت ہی سے برآمد ہوتے ہیں، بشرطیکہ انسان خدا کی ’تذکیر‘ سے بیدار ہو کر ’تذکر‘ کرے۔ شریعت درحقیقت ہمارے ہی معدن فطرت کا برآمد شدہ خزانہ ہے جو ہماری گود میں ڈال دیا جاتا ہے، بشرطیکہ ہم اُس کی قدر کریں۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۰۴)
۲۶۴؂ اصل میں لفظ’مُسْتَقِیْمًا‘آیا ہے۔ اِس کا نصب حال کے لیے ہے جس میں اسم اشارہ فعل کا عمل کر رہا ہے۔
۲۶۵؂ یہ الفاظ موسیٰ علیہ السلام کی صفت کے طور پر بالکل اُسی طرح آئے ہیں، جس طرح سورۂ نجم (۵۳) کی آیت ۳۷میں حضرت ابراہیم کے لیے ’الَّذِیْ وَفّٰی‘کے الفاظ ہیں۔ اِن سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ اُن پر اگر اتمام نعمت ہوا ہے تو وہ اِس کے مستحق تھے۔ اللہ تعالیٰ جب منصب نبوت کے لیے کسی کا انتخاب فرماتا ہے تو ایسے ہی جلیل القدر انسانوں کا انتخاب فرماتا ہے جو ظاہر و باطن میں اُس کی عنایتوں کا حق پہچانتے اور اُسے خوبی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
۲۶۶؂ یعنی اپنے مقصد کے لحاظ سے ہدایت اور ثمرات و نتائج کے لحاظ سے رحمت بنا کر عطا فرمائی تاکہ دنیا میں لوگ اُس کے ذریعے سے خدا کی ملاقات پر ایمان کی ہدایت پائیں اور قیامت کے دن خدا کی رحمت و عنایت کے سزاوار ہوں۔
۲۶۷؂ تورات کے بعد اب یہ قرآن کا حوالہ دیا ہے اور اُس کی صفت کے طور پر اصل میں لفظ ’مُبٰرَک‘استعمال فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’لفظ’مُبٰرَک‘اُس بارش کے لیے قرآن میں بار بار استعمال ہوا ہے جو زمین کی سیرابی ، روئیدگی اور سرسبزی کا ذریعہ بنتی، اُس کے خزانوں اور اُس کی برکتوں کو ابھارتی اور اُس کے مردہ اور بے آب و گیاہ ہو جانے کے بعد اُس کو ازسرنو حیات تازہ بخشتی ہے۔ قرآن کے لیے اِس لفظ کے استعمال میں یہ استعارہ ہے کہ یہ بھی دنیا کو اُس کی روحانی موت کے بعد ازسرنو حیات تازہ بخشنے اور شریعت و ہدایت کے خزاں رسیدہ چمن کو پھر سے بہار کی رونقوں سے معمور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۰۶)
۲۶۸؂ اصل میں ’اَنْ تَقُوْلُوْٓا‘کے الفاظ ہیں۔ اِن سے پہلے ایک مضاف عربیت کے قاعدے سے حذف ہو گیا ہے، یعنی’کراھۃ ان تقولوا‘۔
۲۶۹؂ قرآن کے لیے یہ لفظ دو پہلوؤں سے استعمال ہوا ہے: ایک اِس پہلو سے کہ قرآن آپ اپنی صداقت کی دلیل اور اِس لحاظ سے بجاے خود حجت و برہان ہے۔ اُس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ دوسرے اِس پہلو سے کہ اپنی بات وہ ایسے وضوح اور قطعیت سے اور ایسے عقلی و فطری اور مضبوط و مستحکم دلائل کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ اُس کے مخاطبین کے پاس اُس کے مقابل میں کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہیں رہ جاتا۔
۲۷۰؂ اِس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اللہ کے نزدیک ایمان وہی معتبر ہے جو سمع و بصر اور دل و دماغ کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے لایا جائے نہ کہ خدا اور اُس کے فرشتوں کو سامنے دیکھ کر۔ انسان کو یہ صلاحیتیں اِسی لیے دی گئی ہیں کہ وہ بن دیکھے محض عقل و فطرت کے دلائل کی بنیاد پر ایمان لائے۔ قرآن میں اِسی کو ایمان بالغیب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نیز یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ نجات کے لیے ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ جس کے پاس عمل صالح کی کوئی کمائی نہیں ہے، اُسے اپنے ایمان سے بھی کسی نفع کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
۲۷۱؂ یعنی خدا کے اُس فیصلے کا انتظار کرتے ہیں جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اُن کے منکرین کے لیے لازماً صادر ہو جاتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...نبی اور اُس کے ساتھی جب اپنا حق ادا کر چکتے ہیں، لیکن ضدی اور سرکش لوگ کسی طرح اُن باتوں پر کان نہیں دھرتے تو اُنھیں بھی فیصلۂ الٰہی کا انتظار ہوتا ہے، کیونکہ اِسی فیصلے کے ظہور کے ساتھ حق کا غلبہ وابستہ ہوتا ہے۔ اِس انتظار میں اصلاً مخالفوں کی تباہی کی خواہش مضمر نہیں ہوتی، بلکہ حق کی فتح مندی کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ انبیا علیہم السلام دنیا میں تزکیہ و اصلاح کے مشن پر آتے ہیں۔ وہ اِس کام میں اپنی پوری قوت نچوڑ دیتے ہیں۔ جن کے اندر خیر کی ادنیٰ رمق بھی ہوتی ہے، وہ اصلاح قبول کر لیتے ہیں۔ جو بالکل اندھے بہرے بن جاتے ہیں، وہ مردوں کے حکم میں داخل ہیں جو زمین پر پڑے رہیں تو عفونت اور فساد کے سوا کچھ نہیں پھیلا سکتے۔ اِس وجہ سے اُن کے فنا ہو جانے میں ہی خلق کی بہبود ہوتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۰۸)
۲۷۲؂ مطلب یہ ہے کہ خدا کی سیدھی راہ تو یہی ملت ابراہیم ہے جسے قرآن نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے۔ اِس کے پیرو ایک ہی جماعت تھے۔یہود و نصاریٰ اور عرب کے مشرکین اگر اُس میں پگ ڈنڈیاں نکال کر گروہ گروہ بن گئے ہیں تو اِن کو اب اِن کے حال پر چھوڑو اور پوری مضبوطی کے ساتھ اِس راہ پر قائم رہو۔ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ یہ نہیں مانتے تو تمھیں اِس سے کچھ سروکار نہیں ہونا چاہیے۔
۲۷۳؂ یہ کم سے کم اجر ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔ اِس سے اُن افضال و عنایات کی نفی نہیں ہوتی جو دوسرے مقامات میں مذکور ہیں۔
۲۷۴؂ یعنی میرا راستہ یہی ہے۔ تم اگر اپنے نکالے ہوئے راستوں پر چلنے کے لیے مصر ہو تو چلتے رہو۔ میری بات ختم ہو گئی۔ اب جس کو خدا توفیق دے ،وہ اِس راستے پر آجائے۔ مجھے تو ہر حال میں اِسی پر چلنا ہے، اِس لیے کہ میرے پروردگار نے بتا دیا ہے کہ یہی دین قیم اور یہی ملت ابراہیم ہے۔
۲۷۵؂ یہ نہایت خوبصورت تقابل ہے۔ بندۂ مومن جیتا ہے تو روزوشب کی ہر کروٹ پر نماز میں ہوتا ہے اور مرتا ہے تو اِسی آرزو میں کہ جان و مال کی جس قربانی کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہا، اُس کا پروردگار اُسے قبول کرلے۔ چنانچہ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:
’’...یہ اشارہ ہے کہ جو اِس ملت پر ہے، وہ جیتا ہے تو خدا کے لیے اور مرتا ہے تو خدا کے لیے۔ اُس کی زندگی میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔ یہ از ابتدا تا انتہا بالکل ہم رنگ اور ہم آہنگ ہے۔ خدا کا کوئی ساجھی نہیں،’لَاشَرِیْکَ لَہٗ‘۔ اِس وجہ سے بندے کی زندگی میں بھی کوئی ساجھی نہیں۔ یہ پوری کی پوری، بغیر کسی تقسیم و تجزیہ اور بغیر کسی تحفظ و استثنا کے صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کے لیے ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۱۱)
۲۷۶؂ یعنی یہی میری فطرت ہے اور اوپر سے بھی مجھے اِسی کی ہدایت کی گئی ہے۔
۲۷۷؂ اوپر جو کچھ فرمایا ہے، یہ اُس کی دلیل بیان کر دی ہے۔
۲۷۸؂ زمین کی بادشاہی ہو جو انسان کو انسان کی حیثیت سے دی گئی ہے یا مختلف قوموں اور افراد کی ایک دوسرے پر برتری، یہ سب اُسی پروردگار کی عطا کی ہوئی اور محض امتحان کے لیے ہے۔ لہٰذا نہ دینے میں کسی کا حصہ ہے کہ اُسے شریک ٹھیرایا جائے اور نہ استحقاق کی بنیاد پر ملی ہے کہ اِس کے بل بوتے پر اطاعت کے بجاے استکبار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا جائے۔
۲۷۹؂ یہ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف التفات اور تسلی کے جملے پر سورہ ختم کر دی ہے کہ مطمئن رہو، یہ نہیں مانیں گے تو بہت جلد خدا کی گرفت میں ہوں گے اور مان لیں گے تو وہ غفور و رحیم ہے۔ سچے دل سے اُس کی طرف لوٹیں گے تو اِن کے گناہ معاف کر دے گا اور اِنھیں اپنے دامن رحمت میں سمیٹ لے گا۔

 

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List