Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.

saving...

saving...

Loading...

Rafi Mufti Profile

Rafi Mufti

  rafimufti@yahoo.com
Author's Bio
Visit Profile
محرم کے بغیر سفر اور نامحرم کے ساتھ تخلیہ کی مناہی | اشراق

محرم کے بغیر سفر اور نامحرم کے ساتھ تخلیہ کی مناہی

(۵۸)

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃَ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ.(بخاری، رقم ۱۰۸۸)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو عورت اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر کسی محرم کے ایک دن رات کا سفر کرے۔

(۵۹)

>عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَۃٌ إِلَّا وَمَعَہَا مَحْرَمٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اکْتُتِبْتُ فِیْ غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا وَخَرَجَتِ امْرَأَتِیْ حَاجَّۃً قَالَ: اذْہَبْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ.(بخاری، رقم ۳۰۰۶)
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی مرد اور عورت ہرگز تنہائی میں اکٹھے نہ ہوں اور کوئی عورت محرم کے بغیر ہرگز سفر نہ کرے ، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا :یا رسول اللہ ،میں نے اپنا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھوا رکھا ہے، جبکہ میری بیوی حج کرنے کے لیے جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر تم اس کے ساتھ حج پر جاؤ۔

(۶۰)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ.(بخاری، رقم ۱۰۸۶)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین دن سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔

(۶۱)

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا یَکُوْنُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَہَا أَبُوْہَا أَوْ ابْنُہَا أَوْ زَوْجُہَا أَوْ أَخُوْہَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْہَا.(مسلم، رقم ۳۲۷۰)
ابو سعید خدری( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے ،اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا اس کا بیٹایا اس کا شوہر یا اس کا بھائی یا اس کا کوئی اور محرم رشتہ دار ہو۔

توضیح:

ان احادیث میں یہ باتیں بتائی گئی ہیں:

۱۔ نامحرم مرد و عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ (کسی خاص مجبوری کے بغیر) تنہائی میں اکٹھے ہوں۔
۲۔کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی (غیر محفوظ) سفر تنہا کرے، بلکہ ضروری ہے کہ ایسے اسفار میں اس کا کوئی محرم رشتہ دار اس کے ساتھ موجود ہو۔
۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں موجود صورت حال کے مطابق بعض موقع و محل میں اس سفر کی حد ایک دن رات یا اس سے زیادہ اور بعض میں تین دن رات یا اس سے زیادہ مقرر کی ہے۔

 

خواتین کے لیے تیز خوشبو کی مناہی

 

(۶۲)

عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَہِدَتْ إِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِیْبًا.(مسلم، رقم، ۹۹۷)
عبد اللہ (بن مسعود) کی بیوی زینب( رضی اللہ عنہما) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔

(۶۳)

أَبِیْ مُوْسٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَۃُ فَمَرَّتْ عَلَی الْقَوْمِ لِیَجِدُوْا رِیْحَہَا فَہِیَ کَذَا وَکَذَا قَالَ قَوْلًا شَدِیْدًا.(ابوداؤد، رقم ۴۱۷۳)
ابو موسیٰ اشعری( رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت مردوں میں خوشبو لگا کر جاتی ہے تاکہ وہ اُس کی خوشبو سونگھیں تو وہ اِس اِس طرح کی ہے، آپ نے (اُس کے بارے میں) بہت سخت الفاظ فرمائے۔

(۶۴)

عَنِ الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّمَا امْرَأَۃٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلٰی قَوْمٍ لِیَجِدُوْا مِنْ رِیْحِہَا فَہِیَ زَانِیَۃٌ.(نسائی، رقم ۵۱۲۹)
ابو موسیٰ اشعری (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو عورت مردوں میں خوشبو لگا کر جاتی ہے تاکہ وہ اُس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے۔

توضیح:

ان احادیث سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

۱۔ جنس مخالف کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اگر کوئی خاتون تیز ،یعنی پھیلنے والی خوشبو لگاتی ہے تو یہ صریحاً حرام ہے اور ایسی عورت بدکاری کرنے والوں کے ذیل میں شمار ہو گی۔
۲۔ اگر ایسی کسی نیت کے بغیر کوئی عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے تو یہ بھی ممنوع ہے، البتہ یہ عورت بدکاری کرنے والوں کے ذیل میں شمار نہیں ہو گی۔ اس مناہی کی نوعیت ویسی ہے، جیسی کہ غیر محرموں کی موجود گی میں گھر کی خواتین کو چلتے ہوئے پازیب کی جھنکار پیدا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ.(النور۲۴:۳۱)
’’اور (عورتیں) اپنے پاؤں زمین پر (اس طرح سے) مار کر (جھنکار پیدا کرتی ہوئی) نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو۔‘‘

۳۔ پھیلنے والی خوشبو لگا کر مسجد میں آنے سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ ایسی خوشبو خواہی نخواہی لوگوں کی توجہ کھینچ لیتی ہے۔

دیور (اور جیٹھ) کے ساتھ تخلیہ کی مناہی

 

(۶۵)

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِیَّاکُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ.(بخاری، رقم ۵۲۳۲۔مسلم ، رقم ۵۶۷۴)
عقبہ بن عامر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے پاس (تنہائی میں) جانے سے بچو، انصار کے ایک آدمی نے کہا کہ آپ کا دیور (یا جیٹھ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دیور (یا جیٹھ کا تنہائی میں جانا) تو موت (کو دعوت دینا) ہے۔

توضیح:

نامحرم خاتون کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا ممنوع ہے۔ اگر تنہائی میں بیٹھنے والا دیور، جیٹھ یا اس طرح کا کوئی اور قریبی رشتہ دار ہو، تو یہ اور بھی خطرناک بات ہے، کیونکہ اسے اپنی رشتہ داری کی وجہ سے خرابی کے زیادہ مواقع میسر آ سکتے ہیں۔

 

غض بصر کا حکم

 

(۶۶)

عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَ ۃِ فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِیْ.(مسلم، رقم ۵۶۴۴)
جریر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (غیرمحرم خاتون پر)اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہ پھیر لیا کروں۔

توضیح:

جنس مخالف کی طرف رغبت اور اُس سے تعلق کی خواہش ایک فطری چیز ہے۔ اسلام کے نزدیک اس رغبت و تعلق کے قیام کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ نکاح ہے۔اس کے سوا دوسری ہر صورت ناجائز ہے۔
چنانچہ اس فطری رغبت کی بنا پر کسی غیر محرم کو دیکھنا بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے اور اگر کسی وقت اچانک نظر پڑ جائے، تو یہ حکم دیا گیا کہ فوراً اپنی نگاہ پھیر لو۔

 



 Collections Add/Remove Entry

You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



 Tags Add tags

You are not logged in. Please login to add tags.


Join our Mailing List