اسلامی شریعت میں جرائم کی سزاؤں سے متعلق اپنا جو نقطۂ نظر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے ، اُس سے واضح ہے کہ یہ صرف پانچ ۱ ؂ جرائم ہیں جن کی سزا شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کے علاوہ باقی سب جرائم کا معاملہ اسلامی ریاست کے ارباب حل و عقد سے متعلق ہے ۔ حدودو تعزیرات کے باب میں شریعت اتنی ہی ہے جتنی ہم نے وہاں بیان کر دی ہے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز شریعت نہیں ہے ، لیکن اِس معاملے میں رائج تصورات کی رو سے یہ چار سوالات پیدا ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے کیا شریعت کی رو سے مقرر نہیں ہے ؟ دوسرا یہ کہ کیا ارتداد کی سزا بھی شریعت میں قتل بیان نہیں ہوئی؟ تیسرا یہ کہ شریعت کے علاوہ باقی جرائم میں ارباب حل و عقد کیا موت کی سزا بھی کسی مجرم کو دے سکتے ہیں ؟ چوتھا یہ کہ کیا قید کی سزا بھی اِن باقی جرائم میں کسی شخص کو دی جا سکتی ہے ؟ ذیل میں ہم اِنھی سوالوں کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے :

شراب نوشی

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ شراب نوشی کی یہ سزا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے اُن کے ارباب حل و عقد کے ساتھ مشورے سے مقرر کی ہے ۔ اِس کی تاریخ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو شخص اِس جرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا ، اُسے بالعموم جوتے، لات، مکے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اِس کے لیے باقاعدہ چالیس کوڑے کی سزا مقرر کی اور سیدنا عمر نے اپنے دور خلافت میں جب یہ دیکھا کہ لوگ اِس جرم سے باز نہیں آتے تو اُسے اسی کوڑے میں بدل دیا ۔ ابن رشد لکھتے ہیں :

فعمدۃ الجمھور تشاور عمر والصحابۃ لماکثر فی زمانہ شرب الخمر، واشارۃ علی علیہ بان یجعل الحد ثمانین قیاسًا علی حد الفریۃ، فانہ کما قیل عنہ رضی اللّٰہ عنہ، اذا شرب سکر واذا سکر ھذی واذا ھذی افتری. (بدایۃ المجتہد ۲/۳۳۲) ’’جمہور کا مذہب اِس معاملے میں صحابۂ کرام کے ساتھ سیدنا فاروق کی مشاورت پر مبنی ہے جو اُس وقت ہوئی، جب اُن کے زمانے میں لوگ کچھ زیادہ شراب پینے لگے اور سیدنا علی نے مشورہ دیا کہ حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے اِس کی سزا بھی اسی کوڑے مقرر کر دی جائے ۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ اِس کے استدلال میں اُنھوں نے فرمایا: یہ جب پیے گا تو مدہوش ہو گا اور مدہوش ہو گا توبکواس کرے گا اور بکواس کرے گا تو دوسروں پر جھوٹی تہمتیں بھی لگائے گا۔‘‘

اِس سے واضح ہے کہ یہ شریعت ہرگز نہیں ہو سکتی ۔ اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں ، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے ۔ یہ اگر شریعت ہوتی تو نہ سیدنا صدیق اِسے چالیس کوڑوں میں تبدیل کرتے اور نہ سیدنا فاروق اِن چالیس کو اسی میں بدلتے ۔ اِس صورت میں یہ حق اِن میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں تھا ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر شراب نوشی کے مجرموں کو پٹوایا تو شارع کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے پٹوایا اور آپ کے بعد آپ کے خلفا نے بھی اُن کے لیے چالیس کوڑے اور اسی کوڑے کی یہ سزائیں اِسی حیثیت سے مقرر کی ہیں ۔ چنانچہ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی حد نہیں ، بلکہ محض تعزیر ہے جسے مسلمانوں کا نظم اجتماعی ، اگر چاہے تو برقرار رکھ سکتا اور چاہے تو اپنے حالات کے لحاظ سے اِس میں تغیر و تبدل کر سکتا ہے ۔

ارتداد

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ارتداد کی سزا کا یہ مسئلہ محض ایک حدیث کا مدعا نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بخاری میں اِس طرح نقل ہوئی ہے :

من بدل دینہ فاقتلوہ.(رقم ۳۰۱۷) ’’جو شخص اپنا دین تبدیل کرے ، اُسے قتل کردو۔‘‘

ہمارے فقہا اِسے بالعموم ایک حکم عام قرار دیتے ہیں جس کا اطلاق اُن کے نزدیک اُن سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانۂ رسالت سے لے کر قیامت تک اِس زمین پر کہیں بھی اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں گے۔ اُن کی رائے کے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنی آزادانہ مرضی سے کفر اختیار کرے گا، اُسے اِس حدیث کی رو سے لازماً قتل کر دیا جائے گا ۔ اِس معاملے میں اُن کے درمیان اگر کوئی اختلاف ہے تو بس یہ کہ قتل سے پہلے اُسے توبہ کی مہلت دی جائے گی یا نہیں اور اگر دی جائے گی تو اُس کی مدت کیا ہونی چاہیے ۔ فقہاے احناف البتہ ، عورت کو اِس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ اُن کے علاوہ باقی تمام فقہا اِس بات پر متفق ہیں کہ ہر مرتد کی سزا ، خواہ وہ عور ت ہو یا مرد ، اسلامی شریعت میں قتل ہے ۔ لیکن فقہا کی یہ رائے محل نظرہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تو بے شک ثابت ہے ، مگر ہمارے نزدیک یہ کوئی حکم عام نہ تھا، بلکہ صرف اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھا جن پر آپ نے براہ راست اتمام حجت کیا اور جن کے لیے قرآن مجید میں ’مشرکین‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ۔ ذیل میں ہم اپنے اِس نقطۂ نظر کی تفصیل کیے دیتے ہیں : اِس زمین پر ہر شخص اِس حقیقت سے واقف ہے کہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع حاصل ہوا ہے ، وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ، بلکہ محض آزمایش کے لیے ہے ۔ عالم کا پروردگار جب تک چاہتا ہے ، کسی کو یہ موقع دیتا ہے اور جب اُس کے علم کے مطابق آزمایش کی یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو موت کا فرشتہ آسمان سے اترتا ہے اور اُسے یہاں سے لے جا کر اُس کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ عام انسانوں کے لیے یہ مدت اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے مطابق جتنی چاہیں مقرر کرتے ہیں ، لیکن وہ لوگ جن میں رسول کی بعثت ہوتی ہے اور جنھیں اُس کے ذریعے سے براہ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے، اُن پر چونکہ آخری حد تک اتمام حجت ہو جاتا ہے ،اِس وجہ سے اِس اتمام حجت کے بعد بھی وہ اگر ایمان نہ لائیں تواُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن مجید میں پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ وہ پھر اُس کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔ زمین پر وہ آزمایش ہی کے لیے رکھے گئے تھے اور رسول کے اتمام حجت کے بعد یہ آزمایش چونکہ آخری حد تک پوری ہو جاتی ہے ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قانون بالعموم یہی ہے کہ اِس کے بعد زندہ رہنے کا یہ حق اُن سے چھین لیا جائے اور اُن پر موت کی سزا نافذ کر دی جائے ۔ اس قانون کے مطابق رسول کے براہ راست مخاطبین پر موت کی یہ سزا اِس طرح نافذ کی جاتی ہے کہ رسول اور اُس کے ساتھیوں کو اتمام حجت کے بعد اگر کسی دارالہجرت میں سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ابرو باد کی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور رسول کی قوم کو موت کی نیند سلا دیتا ہے ۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ عادو ثمود ، قوم نوح ، قوم لوط اور دوسری بہت سی قومیں اِسی طرح زمین سے مٹا دی گئیں ، لیکن اِس کے برعکس اگر رسول کو کسی سرزمین میں سیاسی اقتدار حاصل ہو جائے تو قوم کے مغلوب ہو جانے کے بعد اُس کے ہر فرد کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی جاتی ہے جو رسول اور اُس کے ساتھی اُس پر نافذ کرتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چونکہ یہی دوسری صورت پیش آئی ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مشرکین میں سے جو لوگ ۹ ہجری، حج اکبر کے دن تک بھی ایمان نہ لائیں ، اُن کے لیے اِسی تاریخ کو میدان عرفات میں اعلان کر دیا جائے کہ ۹ ذوالحجہ سے محرم کے آخری دن تک اُن کے لیے مہلت ہے ۔ اِس کے بعد بھی وہ اگر اپنے کفر پر قائم رہے تو موت کی سزا کا یہ قانون اُن پر نافذ کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ فرمایا ہے :

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ. فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکوٰۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹:۵) ’’پھر جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکین کو جہاں پاؤ، قتل کر دو اور اِس کے لیے اُن کو پکڑو، گھیرو اور ہر گھات میں اُن کے لیے تاک لگاؤ ، لیکن وہ اگر کفر و شرک سے توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو اُنھیں چھوڑ دو۔ بے شک، اللہ مغفرت کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

یہی قانون ہے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح فرمائی :

امرت ان اقاتل الناسحتی یشھدوا ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلٰوۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا وحسابھم علی اللّٰہ.(مسلم ، رقم ۱۲۹) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اُن لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں محفوظ ہو جائیں گی، الاّ یہ کہ وہ اسلام کے کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں ۔ رہا باطن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘

یہ قانون ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، صر ف اُن مشرکین کے ساتھ خاص تھا۔ جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا۔ اُن کے علاوہ اب قیامت تک کسی دوسری قوم یا فرد کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، یہاں تک کہ وہ اہل کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے ، قرآن مجید نے اُنھیں بھی اِس سے بالصراحت مستثنیٰ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں جہاں مشرکین کے لیے قتل کی یہ سزا بیان ہوئی ہے، وہیں اہل کتاب کے بارے میں صاف فرمایا ہے کہ وہ اگر محکومی قبول کرکے اور جزیہ دے کر مسلمانوں کی ریاست میں ایک شہری کی حیثیت سے رہنا چاہیں تو اُن سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ۔ ارشاد خداوندی ہے :

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ. (۹ : ۲۹) ’’ اُن اہل کتاب سے لڑوجو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں ، نہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے ، اُسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی کرتے ہیں۔ اُن سے لڑو ، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور زیر دست بن کر رہیں ۔ ‘‘

ہماری اِس بحث سے اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اگر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو اِس کا یہ لازمی تقاضا بھی صاف واضح ہے کہ اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا تو اُسے بھی لامحالہ اِسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ وہ لوگ جن کے لیے کفر کی سزا موت مقرر کی گئی ، وہ اگر ایمان لا کر پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹتے تو لازم تھا کہ موت کی یہ سزا اُن پر بھی بغیر کسی تردد کے نافذ کر دی جائے ۔ چنانچہ یہی وہ ارتداد ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’من بدل دینہ فاقتلوہ ‘ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں ’من‘ اُسی طرح زمانۂ رسالت کے مشرکین کے لیے خاص ہے ، جس طرح اوپر ’امرت ان اقاتل الناس‘ میں ’ الناس‘ اُن کے لیے خاص ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اصل جب قرآن مجید میں اِس خصوص کے ساتھ موجود ہے تو اِس کی اِس فرع میں بھی یہ خصوص لازماً برقرار رہنا چاہیے۔ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے ’الناس‘کی طرح اِسے قرآن میں اِس کی اصل سے متعلق کرنے اور قرآن و سنت کے باہمی ربط سے اِس حدیث کا مدعا سمجھنے کے بجائے، اِسے عام ٹھیرا کر ہر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اِس طرح اسلام کے حدودوتعزیرات میں ایک ایسی سز اکا اضافہ کر دیا جس کا وجود ہی اسلامی شریعت میں ثابت نہیں ہے۔

موت کی سزا

تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ موت کی سزا قرآن مجید کی رو سے قتل نفس اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جا سکتی ۔فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کو شریعت دی گئی تو یہ بات اُسی وقت اُن پر لکھ دی گئی تھی:

اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا.(المائدہ۵: ۳۲) ’’جس نے کسی کو قتل کیا ، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا سب انسانوں کو قتل کیا۔‘‘

یہ قرآن کا صریح ارشادہے، لہٰذا اِن دو جرائم کے سوا، فرد ہو یا حکومت ، یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کی جان کے درپے ہو اور اُسے قتل کر ڈالے ۔

قید کی سزا

چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ قید کی سزا محض سزا نہیں، بلکہ ایک بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب خود انسان نے اپنے خلاف کیا ہے ۔ اِس لیے مسلمانوں کی کسی حکومت سے ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے ضابطۂ حدود و تعزیرات میں اِس سزا کو کبھی شامل کرے گی ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ کال کوٹھڑیاں ، قلعہ کے برج اور تیرہ و تار تہ خانے اِس دنیا میں انسان کی معلوم تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ مسیح ناصری سے انیس صدی پہلے کے ایک پیغمبر یوسف علیہ السلام کی داستان زنداں بائیبل اور قرآن ، دونوں میں بیان ہوئی ہے ۔ آٹھویں صدی کے عظیم فقیہ ابوحنیفہ اور پھر تیرھویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق ابن تیمیہ جس طرح قید ہی میں دنیا سے رخصت ہوئے، اُس کی روداد بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے ، تاہم اٹھارہویں صدی سے پہلے یہ بندی خانے بالعموم حوالات کے طورپر استعمال ہوتے تھے ۔ مجرم اِن میں زیادہ تر مقدمے کی تحقیقات یا مو ت، تازیانہ اور اِس طرح کی دوسری سزاؤں کے نفاذ کے انتظار میں رکھے جاتے تھے ۔ یہ تصور کہ جرم کی پاداش میں کسی شخص کو دو سال ، چار سال یا دس پندرہ سال کے لیے قید کر دیا جائے ، اِن پچھلی تین صدیوں ہی میں اِس قدر عام ہوا ہے کہ اب زیادہ تر جرائم کی سزا اِسی صورت میں دی جاتی ہے ۔ یورپ میں اگرچہ زندان سے ملتے جلتے بعض ادارے ، جیسے فلورنس کا دلی ستن چودھویں صدی کی ابتدا میں موجود تھے ۔ اِسی طرح ۱۵۵۷ء میں لندن ، ۱۵۹۶ء میں ایمستردم ، ۱۷۰۴ء میں روم اور ۱۷۷۳ء میں بلجیم کے قدیم شہر غنت میں جو اصلاح خانے قائم ہوئے ، اُن میں بھی کم و بیش یہی تصور کارفرما تھا ، لیکن عام خیال یہی ہے کہ پہلا جدید قید خانہ وال نٹ اسٹریٹ جیل کے نام سے ۱۷۹۰ء میں فلاڈلفیا میں قائم ہوا اور پھر مغربی تہذیب کے غلبہ کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ وہ زنداں وجود میں آ گئے جن میں آدم کے بیٹے اب برسوں اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ترستے اور جرم و سزا کے تصور سے ناآشنا بچے اپنے باپ کو آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے شباب کی عمر کو پہنچتے ہیں ۔ تازیانہ چند لمحوں کے لیے پیٹھ پر برستا ہے، ہاتھ بس ایک دفعہ کاٹ دیا جاتا ہے، صلیب پورے جسم کو اذیت دے کر اُس کا رشتہ روح سے منقطع کرتی ہے اور قتل کی مختلف صورتیں اِس دنیا کا ہر معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہیں ، لیکن یہ وہ سزا ہے جس کے ذریعے سے انسان کے اندر چھپی ہوئی اُس کی اصل شخصیت کو برسوں عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ اُس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا ، سونا جاگنا، یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے جانا بھی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ وہ پانی کے ایک گلاس، روٹی کے ایک لقمے، پان کی ایک بیڑی اور سگریٹ کے ایک کش کے لیے دوسروں کا منہ دیکھتا اور بارہا اِن چیزوں کے لیے اپنی عزت نفس کھو دیتا ہے ۔ وہ جیتے جی ماں کی محبت، باپ کی شفقت، بچوں کے پیار اور بیوی کی الفت کے لیے ترستا ہے اور اپنے وجود کے اُن تقاضوں کو بھی دبانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن پر عالم کے پروردگار نے رمضان کے ماہ تربیت میں بھی اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی ۔ اُس کی زندگی فی الواقع ’لا یموت فیھا ولا یحییٰ ‘ کی تصویر بن جاتی ہے ۔ پھر یہ سزا صرف مجرم کو نہیں ، اُس کے سب اہل تعلق کو بھی ملتی ہے ۔ سب سے زیادہ درد انگیز صورت حال اِس میں بیوی کے لیے پیدا ہو جاتی ہے ۔ اُس کا شوہر اگر نو دس سال کے لیے قید میں ڈال دیا گیا ہے تو اِس عرصے میں اُسے جن نفسیاتی ، معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی مسائل کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے اور محض ایک مجرم کی بیوی ہونے کے جرم میں گزرنا پڑتا ہے ، اُس کا اندازہ صرف وہ باوفا خواتین ہی کر سکتی ہیں جو کبھی اِس مصیبت سے دوچار ہوئی ہوں ۔ یہی معاملہ ننھے بچوں کا بھی ہے ۔ اپنے باپ کو مسلسل کئی سال تک آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے رہنے سے اُن کی جو نفسیات وجود میں آتی ہے ، اُس کا اندازہ ہر صاحب عقل بہت آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے ۔ تازیانے کی سزا، قطع ید ، صلیب اور پھانسی ایک واقعہ ہے جو ایک ہی مجرم کے لیے ہر روز نہیں ہوتا ، لیکن اِس سزا کے نتیجے میں سنگین دیواروں کے پیچھے مقید باپ کے ساتھ ہر ملاقات کے موقع پر جو غیر معمولی جذبات اِن بچوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، اُن کے ساتھ اِن کی شخصیت میں توازن کی توقع آخر کس طرح کی جا سکتی ہے ؟ وہ اگر معاشرے سے یہ پوچھیں تو یقیناًحق بجانب ہوں گے کہ باپ کے ہوتے ہوئے باپ سے محرومی کی جو سزا اُنھیں ملی ، اُس کے لیے آخر کیا جواز ہے جو اخلاقیات قانون کی کتابوں سے اُن کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ؟ پھر یہ بھی دیکھیے کہ تادیب و تنبیہ کے بعد ہر معاشرہ یہی چاہتا ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے ۔ اِس کے لیے سب سے زیادہ موثر چیز اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ اچھی صحبت ہے ، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ اِس سزا کے ذریعے سے مجرم کو معاشرے ، خاندان اور خود اُس کے اہل خانہ میں اصلاح کی ہر دعوت اور خیر کی ہر تحریک سے الگ کر کے برسوں مجرموں کی صحبت میں رکھنے کا اِس طرح اہتمام کیا جاتا ہے کہ اُس میں اگر سدھرنے کی کوئی خواہش ہو بھی تو وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔ اِس سارے عرصے میں وہ جرم کی دنیا میں جیتا ، جرم کی باتیں سنتا ، جرم ہی کے نقطۂ نظر سے ہر چیز کو دیکھتا اور جرم ہی کے محرکات کو شب و روز عمل اور اقدام کے لیے ایک زندہ محرک کی حیثیت سے اپنے سامنے پاتا ہے ۔ اِس کے بعد ، ہمیں نہیں معلوم کہ اُسے رہا کر دینے کے بعد معاشرہ اُس سے کیا توقع کر سکتا ہے ؟ پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ تازیانہ ، قطع ید اور اِس طرح کے دوسرے طریقوں سے تادیب و تنبیہ کے بعد ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی مجرم کب اپنے لیے خیر کا راستہ منتخب کر لے ۔ یہ واقعہ اُس کی زندگی میں کسی وقت بھی ہو سکتا ہے ۔ عقل کا تقاضا لامحالہ یہی ہے کہ یہ توفیق اگر اُسے حاصل ہو جائے تو اُس کے لیے فوراً اپنے آپ کو تبدیل کر لینے اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر وقت کھلے رہیں، لیکن ساری سزاؤں میں یہی وہ سزا ہے جس میں اِس کا وقت قانون مقرر کرتا ہے ، دراں حالیکہ اِس کی تعیین کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس موجود نہیں ہے ۔ اِس سزا کے یہی مفاسد ہیں جن کی وجہ سے خدا کی شریعت میں مجرم کو اُس کے گھر ہی میں نظر بند کر دینے یا علاقہ بدر کر دینے کی سزا تو روا رکھی گئی ہے ، جہاں وہ اپنے اہل وعیال کو بھی اگر چاہے تو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے ، لیکن اُس کو برسوں کے لیے زنداں میں ڈال دینے کا کوئی تصور اِس شریعت کے ضابطۂ حدودوتعزیرات میں موجود نہیں ہے ۔ [۳ ۱۹۹ء]