loading...
Report a Bug

Home » The Divine Law » Society » Penalties » Hadood-o-Taziraat: Chand Aham Mubaahis

Join Ghamidi International Community!

(Movement for Reconstruction of Muslim Religious Thought)

حدودو تعزیرات ۔۔۔ چند اہم مباحث

Article Image اسلامی شریعت میں جرائم کی سزاؤں سے متعلق اپنا جو نقطۂ نظر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے ، اُس سے واضح ہے کہ یہ صرف پانچ ۱ ؂ جرائم ہیں جن کی سزا شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کے علاوہ باقی سب جرائم کا معاملہ اسلامی ریاست کے ارباب حل و عقد سے متعلق ہے ۔ حدودو تعزیرات کے باب میں شریعت اتنی ہی ہے جتنی ہم نے وہاں بیان کر دی ہے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز شریعت نہیں ہے ، لیکن اِس معاملے میں رائج تصورات کی رو سے یہ چار سوالات پیدا ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے کیا شریعت کی رو سے مقرر نہیں ہے ؟ دوسرا یہ کہ کیا ارتداد کی سزا بھی شریعت میں قتل بیان نہیں ہوئی؟ تیسرا یہ کہ شریعت کے علاوہ باقی جرائم میں ارباب حل و عقد کیا موت کی سزا بھی کسی مجرم کو دے سکتے ہیں ؟ چوتھا یہ کہ کیا قید کی سزا بھی اِن باقی جرائم میں کسی شخص کو دی جا سکتی ہے ؟ ذیل میں ہم اِنھی سوالوں کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے :
شراب نوشی
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ شراب نوشی کی یہ سزا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے اُن کے ارباب حل و عقد کے ساتھ مشورے سے مقرر کی ہے ۔ اِس کی تاریخ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو شخص اِس جرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا ، اُسے بالعموم جوتے، لات، مکے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اِس کے لیے باقاعدہ چالیس کوڑے کی سزا مقرر کی اور سیدنا عمر نے اپنے دور خلافت میں جب یہ دیکھا کہ لوگ اِس جرم سے باز نہیں آتے تو اُسے اسی کوڑے میں بدل دیا ۔ ابن رشد لکھتے ہیں :
فعمدۃ الجمھور تشاور عمر والصحابۃ لماکثر فی زمانہ شرب الخمر، واشارۃ علی علیہ بان یجعل الحد ثمانین قیاسًا علی حد الفریۃ، فانہ کما قیل عنہ رضی اللّٰہ عنہ، اذا شرب سکر واذا سکر ھذی واذا ھذی افتری. (بدایۃ المجتہد ۲/۳۳۲) ’’جمہور کا مذہب اِس معاملے میں صحابۂ کرام کے ساتھ سیدنا فاروق کی مشاورت پر مبنی ہے جو اُس وقت ہوئی، جب اُن کے زمانے میں لوگ کچھ زیادہ شراب پینے لگے اور سیدنا علی نے مشورہ دیا کہ حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے اِس کی سزا بھی اسی کوڑے مقرر کر دی جائے ۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ اِس کے استدلال میں اُنھوں نے فرمایا: یہ جب پیے گا تو مدہوش ہو گا اور مدہوش ہو گا توبکواس کرے گا اور بکواس کرے گا تو دوسروں پر جھوٹی تہمتیں بھی لگائے گا۔‘‘
اِس سے واضح ہے کہ یہ شریعت ہرگز نہیں ہو سکتی ۔ اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں ، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے ۔ یہ اگر شریعت ہوتی تو نہ سیدنا صدیق اِسے چالیس کوڑوں میں تبدیل کرتے اور نہ سیدنا فاروق اِن چالیس کو اسی میں بدلتے ۔ اِس صورت میں یہ حق اِن میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں تھا ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر شراب نوشی کے مجرموں کو پٹوایا تو شارع کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے پٹوایا اور آپ کے بعد آپ کے خلفا نے بھی اُن کے لیے چالیس کوڑے اور اسی کوڑے کی یہ سزائیں اِسی حیثیت سے مقرر کی ہیں ۔ چنانچہ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی حد نہیں ، بلکہ محض تعزیر ہے جسے مسلمانوں کا نظم اجتماعی ، اگر چاہے تو برقرار رکھ سکتا اور چاہے تو اپنے حالات کے لحاظ سے اِس میں تغیر و تبدل کر سکتا ہے ۔
ارتداد
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ارتداد کی سزا کا یہ مسئلہ محض ایک حدیث کا مدعا نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بخاری میں اِس طرح نقل ہوئی ہے :
من بدل دینہ فاقتلوہ.(رقم ۳۰۱۷) ’’جو شخص اپنا دین تبدیل کرے ، اُسے قتل کردو۔‘‘
ہمارے فقہا اِسے بالعموم ایک حکم عام قرار دیتے ہیں جس کا اطلاق اُن کے نزدیک اُن سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانۂ رسالت سے لے کر قیامت تک اِس زمین پر کہیں بھی اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں گے۔ اُن کی رائے کے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنی آزادانہ مرضی سے کفر اختیار کرے گا، اُسے اِس حدیث کی رو سے لازماً قتل کر دیا جائے گا ۔ اِس معاملے میں اُن کے درمیان اگر کوئی اختلاف ہے تو بس یہ کہ قتل سے پہلے اُسے توبہ کی مہلت دی جائے گی یا نہیں اور اگر دی جائے گی تو اُس کی مدت کیا ہونی چاہیے ۔ فقہاے احناف البتہ ، عورت کو اِس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ اُن کے علاوہ باقی تمام فقہا اِس بات پر متفق ہیں کہ ہر مرتد کی سزا ، خواہ وہ عور ت ہو یا مرد ، اسلامی شریعت میں قتل ہے ۔ لیکن فقہا کی یہ رائے محل نظرہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تو بے شک ثابت ہے ، مگر ہمارے نزدیک یہ کوئی حکم عام نہ تھا، بلکہ صرف اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھا جن پر آپ نے براہ راست اتمام حجت کیا اور جن کے لیے قرآن مجید میں ’مشرکین‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ۔ ذیل میں ہم اپنے اِس نقطۂ نظر کی تفصیل کیے دیتے ہیں : اِس زمین پر ہر شخص اِس حقیقت سے واقف ہے کہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع حاصل ہوا ہے ، وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ، بلکہ محض آزمایش کے لیے ہے ۔ عالم کا پروردگار جب تک چاہتا ہے ، کسی کو یہ موقع دیتا ہے اور جب اُس کے علم کے مطابق آزمایش کی یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو موت کا فرشتہ آسمان سے اترتا ہے اور اُسے یہاں سے لے جا کر اُس کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ عام انسانوں کے لیے یہ مدت اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے مطابق جتنی چاہیں مقرر کرتے ہیں ، لیکن وہ لوگ جن میں رسول کی بعثت ہوتی ہے اور جنھیں اُس کے ذریعے سے براہ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے، اُن پر چونکہ آخری حد تک اتمام حجت ہو جاتا ہے ،اِس وجہ سے اِس اتمام حجت کے بعد بھی وہ اگر ایمان نہ لائیں تواُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن مجید میں پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ وہ پھر اُس کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔ زمین پر وہ آزمایش ہی کے لیے رکھے گئے تھے اور رسول کے اتمام حجت کے بعد یہ آزمایش چونکہ آخری حد تک پوری ہو جاتی ہے ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قانون بالعموم یہی ہے کہ اِس کے بعد زندہ رہنے کا یہ حق اُن سے چھین لیا جائے اور اُن پر موت کی سزا نافذ کر دی جائے ۔ اس قانون کے مطابق رسول کے براہ راست مخاطبین پر موت کی یہ سزا اِس طرح نافذ کی جاتی ہے کہ رسول اور اُس کے ساتھیوں کو اتمام حجت کے بعد اگر کسی دارالہجرت میں سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ابرو باد کی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور رسول کی قوم کو موت کی نیند سلا دیتا ہے ۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ عادو ثمود ، قوم نوح ، قوم لوط اور دوسری بہت سی قومیں اِسی طرح زمین سے مٹا دی گئیں ، لیکن اِس کے برعکس اگر رسول کو کسی سرزمین میں سیاسی اقتدار حاصل ہو جائے تو قوم کے مغلوب ہو جانے کے بعد اُس کے ہر فرد کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی جاتی ہے جو رسول اور اُس کے ساتھی اُس پر نافذ کرتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چونکہ یہی دوسری صورت پیش آئی ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مشرکین میں سے جو لوگ ۹ ہجری، حج اکبر کے دن تک بھی ایمان نہ لائیں ، اُن کے لیے اِسی تاریخ کو میدان عرفات میں اعلان کر دیا جائے کہ ۹ ذوالحجہ سے محرم کے آخری دن تک اُن کے لیے مہلت ہے ۔ اِس کے بعد بھی وہ اگر اپنے کفر پر قائم رہے تو موت کی سزا کا یہ قانون اُن پر نافذ کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ فرمایا ہے :
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ. فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکوٰۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹:۵) ’’پھر جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکین کو جہاں پاؤ، قتل کر دو اور اِس کے لیے اُن کو پکڑو، گھیرو اور ہر گھات میں اُن کے لیے تاک لگاؤ ، لیکن وہ اگر کفر و شرک سے توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو اُنھیں چھوڑ دو۔ بے شک، اللہ مغفرت کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
یہی قانون ہے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح فرمائی :
امرت ان اقاتل الناسحتی یشھدوا ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلٰوۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا وحسابھم علی اللّٰہ.(مسلم ، رقم ۱۲۹) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اُن لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں محفوظ ہو جائیں گی، الاّ یہ کہ وہ اسلام کے کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں ۔ رہا باطن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘
یہ قانون ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، صر ف اُن مشرکین کے ساتھ خاص تھا۔ جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا۔ اُن کے علاوہ اب قیامت تک کسی دوسری قوم یا فرد کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، یہاں تک کہ وہ اہل کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے ، قرآن مجید نے اُنھیں بھی اِس سے بالصراحت مستثنیٰ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں جہاں مشرکین کے لیے قتل کی یہ سزا بیان ہوئی ہے، وہیں اہل کتاب کے بارے میں صاف فرمایا ہے کہ وہ اگر محکومی قبول کرکے اور جزیہ دے کر مسلمانوں کی ریاست میں ایک شہری کی حیثیت سے رہنا چاہیں تو اُن سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ۔ ارشاد خداوندی ہے :
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ. (۹ : ۲۹) ’’ اُن اہل کتاب سے لڑوجو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں ، نہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے ، اُسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی کرتے ہیں۔ اُن سے لڑو ، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور زیر دست بن کر رہیں ۔ ‘‘
ہماری اِس بحث سے اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اگر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو اِس کا یہ لازمی تقاضا بھی صاف واضح ہے کہ اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا تو اُسے بھی لامحالہ اِسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ وہ لوگ جن کے لیے کفر کی سزا موت مقرر کی گئی ، وہ اگر ایمان لا کر پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹتے تو لازم تھا کہ موت کی یہ سزا اُن پر بھی بغیر کسی تردد کے نافذ کر دی جائے ۔ چنانچہ یہی وہ ارتداد ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’من بدل دینہ فاقتلوہ ‘ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں ’من‘ اُسی طرح زمانۂ رسالت کے مشرکین کے لیے خاص ہے ، جس طرح اوپر ’امرت ان اقاتل الناس‘ میں ’ الناس‘ اُن کے لیے خاص ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اصل جب قرآن مجید میں اِس خصوص کے ساتھ موجود ہے تو اِس کی اِس فرع میں بھی یہ خصوص لازماً برقرار رہنا چاہیے۔ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے ’الناس‘کی طرح اِسے قرآن میں اِس کی اصل سے متعلق کرنے اور قرآن و سنت کے باہمی ربط سے اِس حدیث کا مدعا سمجھنے کے بجائے، اِسے عام ٹھیرا کر ہر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اِس طرح اسلام کے حدودوتعزیرات میں ایک ایسی سز اکا اضافہ کر دیا جس کا وجود ہی اسلامی شریعت میں ثابت نہیں ہے۔
موت کی سزا
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ موت کی سزا قرآن مجید کی رو سے قتل نفس اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جا سکتی ۔فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کو شریعت دی گئی تو یہ بات اُسی وقت اُن پر لکھ دی گئی تھی:
اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا.(المائدہ۵: ۳۲) ’’جس نے کسی کو قتل کیا ، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا سب انسانوں کو قتل کیا۔‘‘
یہ قرآن کا صریح ارشادہے، لہٰذا اِن دو جرائم کے سوا، فرد ہو یا حکومت ، یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کی جان کے درپے ہو اور اُسے قتل کر ڈالے ۔
قید کی سزا
چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ قید کی سزا محض سزا نہیں، بلکہ ایک بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب خود انسان نے اپنے خلاف کیا ہے ۔ اِس لیے مسلمانوں کی کسی حکومت سے ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے ضابطۂ حدود و تعزیرات میں اِس سزا کو کبھی شامل کرے گی ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ کال کوٹھڑیاں ، قلعہ کے برج اور تیرہ و تار تہ خانے اِس دنیا میں انسان کی معلوم تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ مسیح ناصری سے انیس صدی پہلے کے ایک پیغمبر یوسف علیہ السلام کی داستان زنداں بائیبل اور قرآن ، دونوں میں بیان ہوئی ہے ۔ آٹھویں صدی کے عظیم فقیہ ابوحنیفہ اور پھر تیرھویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق ابن تیمیہ جس طرح قید ہی میں دنیا سے رخصت ہوئے، اُس کی روداد بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے ، تاہم اٹھارہویں صدی سے پہلے یہ بندی خانے بالعموم حوالات کے طورپر استعمال ہوتے تھے ۔ مجرم اِن میں زیادہ تر مقدمے کی تحقیقات یا مو ت، تازیانہ اور اِس طرح کی دوسری سزاؤں کے نفاذ کے انتظار میں رکھے جاتے تھے ۔ یہ تصور کہ جرم کی پاداش میں کسی شخص کو دو سال ، چار سال یا دس پندرہ سال کے لیے قید کر دیا جائے ، اِن پچھلی تین صدیوں ہی میں اِس قدر عام ہوا ہے کہ اب زیادہ تر جرائم کی سزا اِسی صورت میں دی جاتی ہے ۔ یورپ میں اگرچہ زندان سے ملتے جلتے بعض ادارے ، جیسے فلورنس کا دلی ستن چودھویں صدی کی ابتدا میں موجود تھے ۔ اِسی طرح ۱۵۵۷ء میں لندن ، ۱۵۹۶ء میں ایمستردم ، ۱۷۰۴ء میں روم اور ۱۷۷۳ء میں بلجیم کے قدیم شہر غنت میں جو اصلاح خانے قائم ہوئے ، اُن میں بھی کم و بیش یہی تصور کارفرما تھا ، لیکن عام خیال یہی ہے کہ پہلا جدید قید خانہ وال نٹ اسٹریٹ جیل کے نام سے ۱۷۹۰ء میں فلاڈلفیا میں قائم ہوا اور پھر مغربی تہذیب کے غلبہ کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ وہ زنداں وجود میں آ گئے جن میں آدم کے بیٹے اب برسوں اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ترستے اور جرم و سزا کے تصور سے ناآشنا بچے اپنے باپ کو آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے شباب کی عمر کو پہنچتے ہیں ۔ تازیانہ چند لمحوں کے لیے پیٹھ پر برستا ہے، ہاتھ بس ایک دفعہ کاٹ دیا جاتا ہے، صلیب پورے جسم کو اذیت دے کر اُس کا رشتہ روح سے منقطع کرتی ہے اور قتل کی مختلف صورتیں اِس دنیا کا ہر معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہیں ، لیکن یہ وہ سزا ہے جس کے ذریعے سے انسان کے اندر چھپی ہوئی اُس کی اصل شخصیت کو برسوں عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ اُس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا ، سونا جاگنا، یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے جانا بھی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ وہ پانی کے ایک گلاس، روٹی کے ایک لقمے، پان کی ایک بیڑی اور سگریٹ کے ایک کش کے لیے دوسروں کا منہ دیکھتا اور بارہا اِن چیزوں کے لیے اپنی عزت نفس کھو دیتا ہے ۔ وہ جیتے جی ماں کی محبت، باپ کی شفقت، بچوں کے پیار اور بیوی کی الفت کے لیے ترستا ہے اور اپنے وجود کے اُن تقاضوں کو بھی دبانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن پر عالم کے پروردگار نے رمضان کے ماہ تربیت میں بھی اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی ۔ اُس کی زندگی فی الواقع ’لا یموت فیھا ولا یحییٰ ‘ کی تصویر بن جاتی ہے ۔ پھر یہ سزا صرف مجرم کو نہیں ، اُس کے سب اہل تعلق کو بھی ملتی ہے ۔ سب سے زیادہ درد انگیز صورت حال اِس میں بیوی کے لیے پیدا ہو جاتی ہے ۔ اُس کا شوہر اگر نو دس سال کے لیے قید میں ڈال دیا گیا ہے تو اِس عرصے میں اُسے جن نفسیاتی ، معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی مسائل کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے اور محض ایک مجرم کی بیوی ہونے کے جرم میں گزرنا پڑتا ہے ، اُس کا اندازہ صرف وہ باوفا خواتین ہی کر سکتی ہیں جو کبھی اِس مصیبت سے دوچار ہوئی ہوں ۔ یہی معاملہ ننھے بچوں کا بھی ہے ۔ اپنے باپ کو مسلسل کئی سال تک آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے رہنے سے اُن کی جو نفسیات وجود میں آتی ہے ، اُس کا اندازہ ہر صاحب عقل بہت آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے ۔ تازیانے کی سزا، قطع ید ، صلیب اور پھانسی ایک واقعہ ہے جو ایک ہی مجرم کے لیے ہر روز نہیں ہوتا ، لیکن اِس سزا کے نتیجے میں سنگین دیواروں کے پیچھے مقید باپ کے ساتھ ہر ملاقات کے موقع پر جو غیر معمولی جذبات اِن بچوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، اُن کے ساتھ اِن کی شخصیت میں توازن کی توقع آخر کس طرح کی جا سکتی ہے ؟ وہ اگر معاشرے سے یہ پوچھیں تو یقیناًحق بجانب ہوں گے کہ باپ کے ہوتے ہوئے باپ سے محرومی کی جو سزا اُنھیں ملی ، اُس کے لیے آخر کیا جواز ہے جو اخلاقیات قانون کی کتابوں سے اُن کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ؟ پھر یہ بھی دیکھیے کہ تادیب و تنبیہ کے بعد ہر معاشرہ یہی چاہتا ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے ۔ اِس کے لیے سب سے زیادہ موثر چیز اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ اچھی صحبت ہے ، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ اِس سزا کے ذریعے سے مجرم کو معاشرے ، خاندان اور خود اُس کے اہل خانہ میں اصلاح کی ہر دعوت اور خیر کی ہر تحریک سے الگ کر کے برسوں مجرموں کی صحبت میں رکھنے کا اِس طرح اہتمام کیا جاتا ہے کہ اُس میں اگر سدھرنے کی کوئی خواہش ہو بھی تو وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔ اِس سارے عرصے میں وہ جرم کی دنیا میں جیتا ، جرم کی باتیں سنتا ، جرم ہی کے نقطۂ نظر سے ہر چیز کو دیکھتا اور جرم ہی کے محرکات کو شب و روز عمل اور اقدام کے لیے ایک زندہ محرک کی حیثیت سے اپنے سامنے پاتا ہے ۔ اِس کے بعد ، ہمیں نہیں معلوم کہ اُسے رہا کر دینے کے بعد معاشرہ اُس سے کیا توقع کر سکتا ہے ؟ پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ تازیانہ ، قطع ید اور اِس طرح کے دوسرے طریقوں سے تادیب و تنبیہ کے بعد ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی مجرم کب اپنے لیے خیر کا راستہ منتخب کر لے ۔ یہ واقعہ اُس کی زندگی میں کسی وقت بھی ہو سکتا ہے ۔ عقل کا تقاضا لامحالہ یہی ہے کہ یہ توفیق اگر اُسے حاصل ہو جائے تو اُس کے لیے فوراً اپنے آپ کو تبدیل کر لینے اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر وقت کھلے رہیں، لیکن ساری سزاؤں میں یہی وہ سزا ہے جس میں اِس کا وقت قانون مقرر کرتا ہے ، دراں حالیکہ اِس کی تعیین کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس موجود نہیں ہے ۔ اِس سزا کے یہی مفاسد ہیں جن کی وجہ سے خدا کی شریعت میں مجرم کو اُس کے گھر ہی میں نظر بند کر دینے یا علاقہ بدر کر دینے کی سزا تو روا رکھی گئی ہے ، جہاں وہ اپنے اہل وعیال کو بھی اگر چاہے تو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے ، لیکن اُس کو برسوں کے لیے زنداں میں ڈال دینے کا کوئی تصور اِس شریعت کے ضابطۂ حدودوتعزیرات میں موجود نہیں ہے ۔ [۳ ۱۹۹ء]

حوالہ جات

  • Chapter 009 Verse 005
  • فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ


    9.5

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’اشہر حرم‘ سے مراد: ’اَشْھُرُْ حُرُم ‘ سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجۃ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ ’اَشْھُرُْ حُرُم ‘ ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانہ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے محترم چلے آرہے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کے مہینے بھی تھے اور اہل عرب کی بیشتر تجارتی کاروباری نقل و حرکت انہی مہینوں میں ہوتی تھی۔ ان میں لڑنا بھڑنا شرعاً ممنوع تھا اور اہل عرب اپنی جنگ جویانہ طبیعت کے باوجود ان کا احترام برابر ملحوظ رکھتے تھے۔ اوپر آیت ۲ میں جو چار ماہ کی مہلت مذکور ہوئی ہے ان میں تین مہینے حرمت والے تھے۔ تین مہینے اس وجہ سے کہ حرمت کے چاروں مہینے یک جا نہیں ہیں۔ تین ایک سلسلہ میں ہیں، رجب الگ ہے۔ اگرچہ نسی کے قاعدے کے تحت یہ اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے تھے تاہم اگران تین حرمت والے مہینوں سے پہلے وقت کے مہینوں میں سے شوال کو ملا دیا جائے تو یہ چار مہینے بن جاتے ہیں۔ فرمایا کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تو ان ناقض عہد مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ ’جہاں پاؤ‘ سے مراد، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت گزر چکی ہے، یہ ہے کہ حدود حرم میں بھی ان سے جنگ و قتال مباح ہے۔
    مشرکین عرب کی داروگیر: ’وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ‘ یعنی ان کے خلاف ہرقسم کی جنگی کارروائی کی جائے اور ہر پہلو سے ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ اس شدت کے ساتھ ان کی داروگیر کے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض ایک دشمن کے خلاف اقدام کی نہیں تھی بلکہ یہ مشرکین عرب کے لیے اس سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لیے ہمیشہ ظاہر ہوئی ہے اور جس کی تفصیلات سورۂ اعراف میں بیان ہوئی ہیں۔
    مشرکین عرب کے لیے دو راہیں: اسلام یا تلوار: ’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ داروگیر اس وقت تک بند نہ کی جائے جب تک یہ اپنے کفرو شرک سے تائب ہو کر نماز نہ قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگ جائیں۔ نماز اور زکوٰۃ ایک جامع تعبیر ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کے بغیر نہ ان کے لیے ذمی یا معاہد بن کراسلامی نظام میں باقی رہنے کی گنجائش رہی نہ لونڈی غلام بن کر۔ ان کے لیے صرف دو راہیں باقی ہیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔
    مشرکین عرب کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ: مشرکین عرب کے ساتھ یہ خاص معاملہ کرنے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا، انہی کی زبان میں ان پر اپنی کتاب اتاری، اسی ملت کی ان کو دعوت دی گئی جس کے وہ مدعی تھے۔ رسول نے مسلسل ۲۳ سال تک ان کو جھنجھوڑا اور جگایا، ان کی ہر مجلس اور ہر بزم میں وہ پہنچا ، ان کے ایک ایک دروازے پر اس نے دستک دی۔ ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ان کی تمام الزام تراشیوں، تہمتوں اور عداوتوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطالبہ پر معجزے بھی دکھائے اور ان کی منتخب کی ہوئی کسوٹیوں پر بھی اپنے کو کھرا اور سچا ثابت کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ اس کے ساتھی بھی بن گئے تو اس سارے اہتمام کے بعد بھی جو لوگ قبول حق پر آمادہ نہیں ہوئے آخر وہ کس لیے باقی رکھے جاتے۔ رسول اتمام حجت کا کامل اور آخری ذریعہ ہوتا ہے، جو لوگ اس کے جگانے سے بھی نہیں جاگتے وہ مردہ ہیں اور مردوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ دفن کر دیے جائیں۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    اِس سے وہ چار مہینے مراد نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، بلکہ وہی مہینے مراد ہیں جنھیں اصطلاح میں اشہر حرم کہا جاتا ہے۔ یہ تعبیر اِن مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتی ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے کوئی اور مہینے مراد نہیں لیے جا سکتے۔ حج اکبر کے موقع پر جس اعلان کے لیے کہا گیا ہے، اُس کے بعد ۲۰ دن ذوالحجہ اور ۳۰ محرم کے باقی ہوں گے۔ یہ اُنھی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اِن دنوں میں چونکہ جنگ و جدال ممنوع ہے، اِس لیے یہ جب گزر جائیں تو اِس اعلان کے نتیجے میں جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو، اُن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، اِس سے پہلے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ ذوالحجہ اور محرم کے پچاس دنوں کے لیے یہ تعبیر بالکل اُسی طرح اختیار کی گئی ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں بعض اوقات نومبر یا دسمبر کے مہینے میں کہتے ہیں کہ یہ سال گزر جائے تو فلاں کام کیا جائے گا۔
    یہ قتل عام کا حکم ہے جو مشرکین عرب کے لیے اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔
    یعنی خدا کے اِس عذاب سے بچنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کرکے اسلام قبول کر لیں، اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر وہ نماز کا اہتمام کریں اور ریاست کا نظم چلانے کے لیے اُس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں۔ اِس کے بعد فرمایا ہے کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘، یعنی اُن کی راہ چھوڑ دو۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست اور قانون کی سطح پر ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اِس سے زائدکوئی مطالبہ کسی مسلمان سے نہیں کیا جا سکتا، اِس لیے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو خود اپنی حکومت میں اِس کی اجازت نہیں دی تو دوسروں کو کس طرح دی جا سکتی ہے۔

  • Muslim 129
  • عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فإذا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إلا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔


    Revelation

    حدیث کا ترجمہ

    ’’عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ جب وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں اور اُن کے مال محفوظ ہو جائیں گے ، الاّ یہ کہ وہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا اُن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘

  • Chapter 009 Verse 029
  • قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ


    9.29

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے، نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کی پیروی کرتے، جنگ کرو تا آنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    اہل کتاب کے جرائم اور ان کے بارے میں حکم: اہل کتاب کے مذہبی جرائم کی تفصیل بقرہ، آل عمران، مائدہ اور انفال سب میں بیان ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ لوگ نہ صرف ایمان کے مدعی تھے بلکہ اپنے آپ کو دین و شریعت کا تنہا اجارہ دار سمجھے بیٹھے تھے لیکن مذکورہ سورتوں میں پوری وضاحت سے ثابت ہو چکا ہے کہ اللہ، آخرت اور شریعت کسی چیز پر بھی یہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ایمان کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ کے شرائط کے تحت ہو لیکن ان کا ایمان اپنی خواہشوں اور بدعات کے تحت تھا۔ مشرکانہ عقائد ایجاد کر کے انھوں نے خدا کی نفی کر دی، اپنے آپ کو چہیتی اور مغفور امت قرار دے کر آخرت کا ابطال کر دیا اور اللہ اور رسول کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو جائز بنا کر شریعت کو کالعدم کر دیا۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کیا کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے سے، اپنے وعدے کے مطابق، جو دین حق بھیجا تو اس کو نہ صرف ی کہ قبول نہیں کیا بلکہ اس کی مخالفت میں اپنا پورا زور صرف کر دیا اور اس کے خلاف برابر سازشوں میں سرگرم رہے۔ فرمایا کہ اب یہ مفسدین کسی مزیدمہلت کے حقدار باقی نہیں رہ گئے ہیں ۔ ان سے بھی جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دیں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔
    ’عَنْ یَّدٍ‘ کا مفہوم:’حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ‘۔ ’ید‘ کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ غلبہ تسلط اور اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یعنی ان کی طرف سے یہ ادائیگئ جزیہ تمھارے اقتدار و غلبہ کے نتیجہ میں ہو۔ ان سے جنگ کر کے ان کے کس بل اس طرح نکال دو کہ یہ تمھارے آگے گھٹنے ٹیک دیں اور ہاتھ باندھ کر جزیہ دینے پر راضی ہوں۔ ’وَھُمْ صٰغِرُوْنَ‘یعنی تمھاری ماتحتی و محکومی قبول کریں اور اس کو غنیمت جانیں۔
    جزیہ کی حیثیت: یہ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو تمام بالغ اور کماؤ افراد پر اس امان کے معاوضہ کے طور پر لگایا گیا جو ان کے جان و مال اور زن و فرزند کو اسلامی حکومت کے اندر حاصل ہوئی۔ اس کی مقدار افراد کی حیثیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی تھی جس میں چھوٹ اور رعایت کی بھی بڑی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تفصیلات اس کی ہماری کتاب اسلامی ریاست میں، غیر مسلموں کے حقوق کے باب میں ملے گی۔
    اہل کتاب اور مشرکین میں فرق کی وجہ: یہاں ایک بات نمایاں طورپر محسوس ہو گی کہ اہل کتاب کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وہ اس سے مختلف ہے جس کی ہدایت اوپر مشرکین کے باب میں کی گئی ہے۔ مشرکین کے باب میں تو یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ کفرسے توبہ کر کے اسلام نہ اختیار کر لیں اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو لیکن ان اہل کتاب کو جزیہ کی ادائیگی پر امان دے دینے کی ہدایت ہوئی۔ اس فرق کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کر چکے ہیں کہ مشرکین عرب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت براہ راست تھی، آپؐ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے، انہی کی زبان میں آپؐ پر اللہ کا کلام اترا اور انہی کو آپؐ نے اپنی دعوت کا مخاطب اول بنایا اور ہر پہلو سے انہی کے معروف و منکر اور انہی کے مطالبات کے مطابق آپ نے ان پر اتمام حجت کیا۔ اس اہتمام کے بعد ان کے لیے کسی مزید مہلت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مشرکین بنی اسمٰعیل ذمی نہیں بنائے جا سکتے تھے لیکن دوسرے غیر مسلموں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔
    دوسرے غیر مسلموں کا حکم: اصلاً تو یہاں جو حکم بیان ہوا ہے وہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے متعلق ہے لیکن صحابہؓ کے زمانہ ہی میں یہ مسئلہ بھی طے پا چکا تھا کہ یہی حکم دوسرے غیر مسلموں کا بھی ہے۔ چنانچہ مجوس کے ساتھ، ان کو مشابہ اہل کتاب قرار دے کر، یہی معاملہ کیا گیا جس کی ہدایت یہاں اہل کتاب کے باب میں ہوئی ہے ۔ اس باب میں فقہا میں کوئی اختلاف رائے ہے تو وہ فروعی نوعیت کا ہے جس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
    مفتوح اور معاہد اہلِ ذمہ کا حکم: یہ بات یہاں خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ آیت میں جو حکم بیان ہوا ہے وہ مفتوح اہل ذمہ کا ہے یعنی جنھوں نے اسلامی حکومت سے جنگ کی ہو اور شکست کھا کر اس کی اطاعت پر مجبور ہوئے ہوں۔ وہ اہل ذمہ اس سے الگ جن کو فقہا نے معاہد یا اہل صلح سے تعبیر کیا ہے۔ معاہد اہل ذمہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے بغیر کسی جنگ و قتال کے بطور خود اپنی مرضی سے اسلامی حکومت کی رعیت بن کر رہنا اختیار کیا ہو۔ ان لوگوں کے ساتھ حکومت اسلامی اس عہد نامے کے مطابق معاملہ کرے گی جو ان کے اور حکومت کے مابین طے پا چکا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس بات پر مصر ہوں کہ ان پر بھی اسی طرح کے مالی واجبات عائد کیے جائیں جو مسلمانوں پر عائد ہیں تو حکومت ان سے اپنی صواب دید کے مطابق اس شرط پر بھی معاہد کر سکتی ہے، دوسرے لفظوں میں اس فرق کو یوں سمجھیے کہ اگر جزیہ کی ادائیگی میں وہ عار اور ذلت محسوس کریں تو ان کو اس سے مستثنیٰ کر کے ان کے لیے کوئی اور مناسب شکل اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں سے جو معاہدہ بھی طے پاجائے بلا کسی سبب معقعول کے اس کو توڑنے کی اسلام میں سخت ممانعت آئی ہے۔ ہم نے اہل ذمہ کی ان دونوں قسموں پر اپنی کتاب اسلامی ریاست میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ جو لوگ مسئلہ کو دلائل کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہوں وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (اِن مشرکوں کے علاوہ) اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    یہ لوگ اگرچہ ایمان کے مدعی تھے، لیکن درحقیقت اِن میں سے کسی چیز کو بھی نہیں مانتے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’...ایمان کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ کے شرائط کے تحت ہو، لیکن اُن کا ایمان اپنی خواہشوں اور بدعات کے تحت تھا۔ مشرکانہ عقائد ایجاد کر کے اُنھوں نے خدا کی نفی کر دی، اپنے آپ کو چہیتی اور مغفور امت قرار دے کر آخرت کا ابطال کر دیا اور اللہ اور رسول کی حرام ٹھیرائی ہوئی چیزوں کو جائز بنا کر شریعت کو کالعدم کر دیا۔ پھر ستم بالاے ستم یہ کیا کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے سے اپنے وعدے کے مطابق جو دین حق بھیجا تو اُس کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا، بلکہ اُس کی مخالفت میں اپنا پورا زور صرف کر دیا اور اُس کے خلاف برابر سازشوں میں سرگرم رہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۵۵۹)

    یعنی مغلوب ہو کر اور اپنی اِس مغلوبیت اور محکومی کو تسلیم کرکے اُس کی علامت کے طور پر جزیہ ادا کریں۔ اوپر مشرکین کی سزا بیان ہوئی ہے کہ ایمان نہ لائیں تو قتل کر دیے جائیں۔ یہ اُن اہل کتاب کی سزا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ یہ رعایت اِس لیے کی گئی ہے کہ اہل کتاب اصلاً توحید ہی سے وابستہ تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ بھی شرک کے مرتکب تھے، مگر بنی اسمٰعیل کی طرح اُنھوں نے شرک کو دین اور عقیدے کی حیثیت سے اختیار نہیں کیا تھا۔ قرآن نے دوسری جگہ واضح کر دیا ہے کہ لوگ مشرک نہ ہوں تو قیامت میں بھی اِسی طرح رعایت کے مستحق ہوں گے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن کا یہ حکم بھی اُس کے قانون اتمام حجت کی ایک فرع اور اُنھی اقوام کے ساتھ خاص تھا جن پر خدا کے آخری پیغمبر کی طرف سے حجت پوری ہو گئی۔ اُن کے لیے یہ اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔ اُن کے بعد اب دنیا کے کسی غیر مسلم سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

     

  • Chapter 005 Verse 032
  • مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الأرْضِ لَمُسْرِفُونَ


    5.32

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا کہ جس کسی نے کسی کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سب کو قتل کیا اور جس نے اس کو بچایا تو گویا سب کو بچایا اور ہمارے رسول ان کے پاس واضح احکام لے کر آئے لیکن اس کے باوجود ان میں بہت سے ہیں جو زیادتیاں کرتے ہیں۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا مفہوم: ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعینہٖ یہ واقعہ حکم قصاص کی فرضیت کا باعث ہوا ۔ یہ واقعہ تو جیسا کہ واضح ہوا، بنی اسرائیل کی تاریخ سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ جان کے بدلے جان کا قانون، کچھ بنی اسرائیل کے خاص نہیں ہے۔ یہ قانون ہر مہلت میں ابتداء سے موجود رہا ہے۔ حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی ملت میں بھی یہ قانون موجود تھا۔ حضرت نوح اور ان کی ذریت کو اس باب میں جو ہدایت ہوئی تھی وہ تورات میں یوں مذکور ہے۔
    آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اس کے بھائی بندسے لوں گا۔ جو آدمی کا خون کرے گا اس کا خون آدمی سے ہو گا۔ کیونکہ خدا نے انسان کو انی صورت پر بنایا ہے۔ (پیدائش باب۹: ۵۔۶)
    اس وجہ سے یہ خیال صحیح ہے کہ بعینہٖ یہ واقعہ بنی اسرائیل پر حکم قصاص کے وجوب کا باعث ہوا۔ یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ یہاں مقصود حکم قصاص کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کے میثاق کے معاملے میں اتنے جری اور بیباک ہیں کہ یہ جاننے کے باوجود کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کی حفاظت سب کی حفاظت ہے، برابر خدا کی زمین میں فساد برپا کیے چلے جا رہے ہیں۔ یہی روش ان کی پہلے بھی رہی اور یہی روش ان کی آج بھی ہے۔
    اس روشنی میں ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا اشارہ نفس واقعہ کی طرف نہیں بلکہ شرو فساد کی اس ذہنیت کی طرف ہو گا جس کا قابیل نے اظہارکیا اور جس کا اظہار ان لوگوں کی طرف سے برابر ہوتارہتا ہے جو اس کی سنت بد کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی کمینہ جذبات اور شیطانی محرکات کے تحت اللہ کے بندوں کا خون بہاتے ہیں اور پھر اعتراف و اقراراور توبہ و ندامت کے بجائے اپنی ساری ذہانت اس جرم کو چھپانے میں صرف کرتے ہیں۔ ان کو اپنے جرم پر افسوس بھی ہوتا ہے تو اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھوں خدا کے بندوں کا سب سے بڑا حق تلف ہوا بلکہ جرم پوشی کی تدبیر میں اگر ان سے کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے تو اس پر انھیں افسوس ہوتا ہے۔
    قانونِ قصاص کی حکمت و عظمت: ’اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا‘۔ یہ اس اصل حکم کا بیان نہیں ہے جو قصاص کے باب میںیہود کو دیا گیا ہے بلکہ اس کی دلیل اور اس کی حکمت و عظمت بیان ہوئی ہے۔ ’’جان کے بدلے جان‘‘ کا قانون تورات میں بھی ہے اور اس کا حوالہ اس روہ میں بھی آگے آرہا ہے۔ یہاں چونکہ مقصود یہود کی شرارت و شقاوت کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے قانون قصاص کیا اصل فلسفہ بیان فرمایا کہ یہود پر قتل نفس کی سنگینی واضح کرنے کے لیے ان کو یہ حکم تصریح کے ساتھ دیا گیا تھا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ٹھہرے گا لیکن پھر بھی وہ قتل اور فساد فی الارض کے معاملے میں بالکل بے باک ہو گئے۔
    قانونِ قصاص کی ذمہ داریاں ہر فردِ ملت پر: جو ملت قانون قصاص کی حامل اس فلسفہ کے ساتھ بنائی گئی ہو جس کا ذکر اوپر ہوا، اس پر چند ذمہ داریاں لازماً عاید ہوتی ہیں جس کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے۔
    ایک یہ کہ ہر حادثۂ قتل پوری قوم میں ایک ہلچل پیدا کر دے۔ جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جائے۔ ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اس تحفظ سے محروم ہو گیا ہے جو اس کو اب تک حاصل تھا۔ قانون ہی سب کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر قانون ہدم ہو گیا تو صرف مقتول ہی قتل نہیں ہوا بلکہ ہر شخص قتل کی زد میں ہے۔
    دوسری یہ کہ قاتل کا کھوج لگانا صرف مقتول کے وارثوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پوری جماعت کی ذمہ داری ہے، اس لیے کہ قاتل نے صرف مقتول ہی کو قتل نہیں کیا بلکہ سب کو قتل کیا ہے۔
    تیسری یہ کہ کوئی شخص اگر کسی کو خطرے میں دیکھے تو اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظت و حمایت تابہ حد مقدور اس کے لیے ضروری ہے ۔ اگر چہ اس کے لیے اسے خود جوکھم برداشت کرنی پڑے۔ اس لیے کہ جو شخص کسی مظلوم کی حمایت و مدافعت میں سینہ سپر ہوتا ہے وہ صرف مظلوم ہی کی حمایت میں سینہ سپر نہیں ہوتا بلکہ تمام خلق کی حمایت میں سینہ سپر ہوتا ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہے۔
    چوتھی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی قتل کو چھپاتاہے یا قاتل کے حق میں جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کا ضامن بنتا ہے، یا قاتل کو پناہ دیتا ہے، یا قاتل کی دانستہ وکالت کرتا ہے یا دانستہ اس کو جرم سے بری کرتا ہے وہ گویا خود اپنے اور اپنے باپ، بھائی، بیٹے کے قاتل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔
    پانچویں یہ کہ کسی مقتول کے قصاص کے معاملے میں مقتول کے وارثوں یا حکام کی مدد کرنا بھی درحقیقت مقتول کو زندگی بخشنا ہے اس لیے کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔
    ہم نے یہ اس اصول سے برآمد ہونے والی چند موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔مزید غور کیجیے تو اس کی مزید حکمتیں واضح ہوں گی۔ پھر کس قدر قابل ماتم ہے اس قوم کا حال جو اس اصول سے باخبر ہوتے ہوئے قتل و خوں ریزی اور فساد فی الارض میں بالکل بے باک ہو گئی۔
    قانون کے ساتھ قانون کی یاد دہانی کا اہتمام: ’وَلَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ‘۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو یہ فرض بتا دینے ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اتمامِ حجت کے لیے برابر ان کے اندر خدا کے رسول بھی آتے رہے جو نہایت واضح احکام و ہدایات اور نہایت بلیغ اور پرزور تعلیمات و تنبیہات کے ذریعے سے ان کو جگاتے اور جھنجھوڑتے رہے کہ اللہ کے عہد و میثاق کی ذمہ داریوں سے یہ غافل نہ ہو جائیں لیکن اس سارے اہتمام کے باوجودیہ برابر خدا کی زمین میں مختلف قسم کی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے رہے۔
    ’افساد‘ اور ’اسراف‘ کا مفہوم: ’افساد فی الارض ‘ اور ’اسراف فی الارض‘ دونوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ زمین کا امن اور نظم اس قانون عدل و قسط پر منحصر ہے جو خدا نے اس کے لیے اتارا ہے۔ جس طرح کائنات کے نظامِ تکوینی میں کوئی خلل پیدا ہوجائے تو سارا نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے، اسی طرح اگر اس نظامِ تشریعی میں، جو اس کے خالق نے اس کے لیے پسند فرمایا ہے، کوئی خلل پیدا کر دیاجائے تو اس کا اجتماعی و معاشرتی اور سیاسی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، پھر نہ نظامِ تکوینی کے ساتھ اس کے نظامِ سیاسی کی ہم آہنگی ہی باقی رہ جاتی ہے اور نہ اس کے نظام اجتماعی و سیاسی میں ہی کوئی ربط قائم رہ جاتا ہے۔ اسی صورت حال میں یہاں افساد اور اسراف سے تعبیر فرمایا ہے۔
    اس اصولی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس تاریخی حقیقت کو یاد رکھنا بھی یہاں ضروری ہے جس کا تجربہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں، مسلسل مسلمانوں کو یہود کی طرف سے ہو رہا تھا۔ یہود کے متعد د قبائل مثلاً بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع مدینہ کے حوالی میں آباد تھے۔ انھوں نے یوں تو مسلمانوں کے ساتھ امن و صلح اور باہمی حمایت و مدافعت کے معاہدے کر رکھے تھے لیکن ایک دن بھی انھوں نے ان معاہدوں کا کوئی احترام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور مدینہ سے ان کے قدم اکھاڑ دینے کی کسازشیں کرتے رہے۔ قریش نے مسلمانوں پر جتنے بھی حملے کیے سب میں درپردہ یہود شریک رہے۔ انصار او رمہاجرین کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی بھی انھوں نے بارہا کوشش کی۔صحابہؓ بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی بھی انھوں نے بارہا تدبیریں کیں۔ اگرچہ ان کی یہ چالیں بیشتر ناکام رہیں لیکن متعدد نہایت اندوہناک واقعات بھی پیش آئے۔ عورتوں اور بچوں کے اغوا اور قتل میں بھی یہ نہایت شاطر اور سنگ دل تھے۔مسلمانوں کو ہر وقت یہود کی طرف سے اپنی جان اور عزت کے معاملے میں کھٹکا لگارہتا تھا۔ حد یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو وہ کسی قضیے کے طے کرانے اور کسی معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے بلاتے تھے ان کے بھی ہلاک کرنے کی سازش پہلے سے تیار کر رکھتے۔ ’ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ‘ میں اس ساری صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پر فرض کردیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ (پھر یہی نہیں، اِس کے ساتھ) یہ بھی حقیقت ہے کہ (اِن پر اتمام حجت کے لیے) ہمارے پیغمبر اِن کے پاس نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے، لیکن اِس کے باوجود اِن میں سے بہت سے ہیں جو حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    انبیا علیہم السلام کی شریعت میں یہ قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ یہود کا حوالہ محض اُن کی شقاوت و شرارت کو نمایاں کرنے کے لیے آیا ہے۔ اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ بنی اسرائیل کے لیے خاص کوئی قانون ہے۔ چنانچہ نوح علیہ السلام اور اُن کی ذریت کو جو ہدایت اِس معاملے میں کی گئی تھی، وہ بائیبل کی کتاب پیدایش میں اِس طرح مذکور ہے:

    ’’...آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اُس کے بھائی بند سے لوں گا۔ جو آدمی کا خون کرے، اُس کا خون آدمی سے ہوگا، کیونکہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔‘‘ (۹: ۵۔۶)

    اِس قانون کی وضاحت آگے سلسلۂ بیان کے آخر میں ہوگی۔ قتل نفس کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے قصاص کا اصل فلسفہ یہاں بیان کردیا ہے۔ اِس فلسفے کی رو سے جو فرائض اِس قانون کے ماننے والوں پر عائد ہوتے اور جن ذمہ داریوں کے وہ مکلف ٹھیرتے ہیں، وہ استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ ہیں:

    ’’ایک یہ کہ ہر حادثۂ قتل پوری قوم میں ایک ہلچل پیدا کردے۔ جب تک اُس کا قصاص نہ لے لیا جائے، ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اُس تحفظ سے محروم ہوگیا ہے جو اُس کو اب تک حاصل تھا۔ قانون ہی سب کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر قانون ہدم ہوگیا تو صرف مقتول ہی قتل نہیں ہوا، بلکہ ہر شخص قتل کی زد میں ہے۔ دوسری یہ کہ قاتل کا کھوج لگانا صرف مقتول کے وارثوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ پوری جماعت کی ذمہ داری ہے، اِس لیے کہ قاتل نے صرف مقتول ہی کو قتل نہیں کیا، بلکہ سب کو قتل کیا ہے۔ تیسری یہ کہ کوئی شخص اگر کسی کو خطرے میں دیکھے تو اُس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرنا اُس کے لیے جائز نہیں ہے، بلکہ اُس کی حفاظت و حمایت تابہ حد مقد ور اُس کے لیے ضروری ہے، اگرچہ اِس کے لیے اُسے خود جوکھم برداشت کرنی پڑے۔ اِس لیے کہ جو شخص کسی مظلوم کی حمایت و مدافعت میں سینہ سپر ہوتا ہے، وہ صرف مظلوم ہی کی حمایت میں سینہ سپر نہیں ہوتا، بلکہ تمام خلق کی حمایت میں سینہ سپر ہوتا ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہے۔ چوتھی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی قتل کو چھپاتا ہے یا قاتل کے حق میں جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کا ضامن بنتا ہے یا قاتل کو پناہ دیتا ہے یاقاتل کی دانستہ وکالت کرتا ہے یا دانستہ اُس کو جرم سے بری کرتا ہے، وہ گویا خود اپنے اور اپنے باپ، بھائی، بیٹے کے قاتل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے، کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔ پانچویں یہ کہ کسی مقتول کے قصاص کے معاملے میں مقتول کے وارثوں یا حکام کی مدد کرنا بھی، درحقیقت مقتول کو زندگی بخشنا ہے، اِس لیے کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن۲/۵۰۳)

    یعنی پہلے بھی حدود سے تجاوز کرتے رہے ہیں، اب بھی کر رہے ہیں اور خدا کے پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود سرکشی اور فساد کی وہ روش چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو اِنھوں نے ہمیشہ سے اختیار کر رکھی ہے۔

حواشی

۱؂  یعنی زنا، قذف، قتل و جراحت ، محاربہ اور چوری ۔

ماخذ

  • "Burhan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi

Hadood-o-Taziraat: Chand Aham Mubaahis

We need your support!


This article has not yet been rendered into English. If you believe you have the ability to translate this page into English and wish to help us by offering yourself as Volunteer. Please use our Contact Form to drop us few words about yourself and how you can help us. We will be keen to answer you without delay. Your contribution can help our visitor better understand the content presented on our www.javedahmadghamidi.com. Jazak Allah!

Content submitted by you is subject to approval and moderation. NO AGREEMENT HEREBY IS BEING MADE.

References in this article

  • Chapter 009 Verse 005
  • فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ


    9.5

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’اشہر حرم‘ سے مراد: ’اَشْھُرُْ حُرُم ‘ سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجۃ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ ’اَشْھُرُْ حُرُم ‘ ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانہ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے محترم چلے آرہے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کے مہینے بھی تھے اور اہل عرب کی بیشتر تجارتی کاروباری نقل و حرکت انہی مہینوں میں ہوتی تھی۔ ان میں لڑنا بھڑنا شرعاً ممنوع تھا اور اہل عرب اپنی جنگ جویانہ طبیعت کے باوجود ان کا احترام برابر ملحوظ رکھتے تھے۔ اوپر آیت ۲ میں جو چار ماہ کی مہلت مذکور ہوئی ہے ان میں تین مہینے حرمت والے تھے۔ تین مہینے اس وجہ سے کہ حرمت کے چاروں مہینے یک جا نہیں ہیں۔ تین ایک سلسلہ میں ہیں، رجب الگ ہے۔ اگرچہ نسی کے قاعدے کے تحت یہ اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے تھے تاہم اگران تین حرمت والے مہینوں سے پہلے وقت کے مہینوں میں سے شوال کو ملا دیا جائے تو یہ چار مہینے بن جاتے ہیں۔ فرمایا کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تو ان ناقض عہد مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ ’جہاں پاؤ‘ سے مراد، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت گزر چکی ہے، یہ ہے کہ حدود حرم میں بھی ان سے جنگ و قتال مباح ہے۔
    مشرکین عرب کی داروگیر: ’وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ‘ یعنی ان کے خلاف ہرقسم کی جنگی کارروائی کی جائے اور ہر پہلو سے ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ اس شدت کے ساتھ ان کی داروگیر کے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض ایک دشمن کے خلاف اقدام کی نہیں تھی بلکہ یہ مشرکین عرب کے لیے اس سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لیے ہمیشہ ظاہر ہوئی ہے اور جس کی تفصیلات سورۂ اعراف میں بیان ہوئی ہیں۔
    مشرکین عرب کے لیے دو راہیں: اسلام یا تلوار: ’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ داروگیر اس وقت تک بند نہ کی جائے جب تک یہ اپنے کفرو شرک سے تائب ہو کر نماز نہ قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگ جائیں۔ نماز اور زکوٰۃ ایک جامع تعبیر ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کے بغیر نہ ان کے لیے ذمی یا معاہد بن کراسلامی نظام میں باقی رہنے کی گنجائش رہی نہ لونڈی غلام بن کر۔ ان کے لیے صرف دو راہیں باقی ہیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔
    مشرکین عرب کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ: مشرکین عرب کے ساتھ یہ خاص معاملہ کرنے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا، انہی کی زبان میں ان پر اپنی کتاب اتاری، اسی ملت کی ان کو دعوت دی گئی جس کے وہ مدعی تھے۔ رسول نے مسلسل ۲۳ سال تک ان کو جھنجھوڑا اور جگایا، ان کی ہر مجلس اور ہر بزم میں وہ پہنچا ، ان کے ایک ایک دروازے پر اس نے دستک دی۔ ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ان کی تمام الزام تراشیوں، تہمتوں اور عداوتوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطالبہ پر معجزے بھی دکھائے اور ان کی منتخب کی ہوئی کسوٹیوں پر بھی اپنے کو کھرا اور سچا ثابت کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ اس کے ساتھی بھی بن گئے تو اس سارے اہتمام کے بعد بھی جو لوگ قبول حق پر آمادہ نہیں ہوئے آخر وہ کس لیے باقی رکھے جاتے۔ رسول اتمام حجت کا کامل اور آخری ذریعہ ہوتا ہے، جو لوگ اس کے جگانے سے بھی نہیں جاگتے وہ مردہ ہیں اور مردوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ دفن کر دیے جائیں۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    اِس سے وہ چار مہینے مراد نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، بلکہ وہی مہینے مراد ہیں جنھیں اصطلاح میں اشہر حرم کہا جاتا ہے۔ یہ تعبیر اِن مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتی ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے کوئی اور مہینے مراد نہیں لیے جا سکتے۔ حج اکبر کے موقع پر جس اعلان کے لیے کہا گیا ہے، اُس کے بعد ۲۰ دن ذوالحجہ اور ۳۰ محرم کے باقی ہوں گے۔ یہ اُنھی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اِن دنوں میں چونکہ جنگ و جدال ممنوع ہے، اِس لیے یہ جب گزر جائیں تو اِس اعلان کے نتیجے میں جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو، اُن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، اِس سے پہلے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ ذوالحجہ اور محرم کے پچاس دنوں کے لیے یہ تعبیر بالکل اُسی طرح اختیار کی گئی ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں بعض اوقات نومبر یا دسمبر کے مہینے میں کہتے ہیں کہ یہ سال گزر جائے تو فلاں کام کیا جائے گا۔
    یہ قتل عام کا حکم ہے جو مشرکین عرب کے لیے اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔
    یعنی خدا کے اِس عذاب سے بچنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کرکے اسلام قبول کر لیں، اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر وہ نماز کا اہتمام کریں اور ریاست کا نظم چلانے کے لیے اُس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں۔ اِس کے بعد فرمایا ہے کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘، یعنی اُن کی راہ چھوڑ دو۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست اور قانون کی سطح پر ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اِس سے زائدکوئی مطالبہ کسی مسلمان سے نہیں کیا جا سکتا، اِس لیے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو خود اپنی حکومت میں اِس کی اجازت نہیں دی تو دوسروں کو کس طرح دی جا سکتی ہے۔

  • Muslim 129
  • عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فإذا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إلا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔


    Revelation

    حدیث کا ترجمہ

    ’’عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ جب وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں اور اُن کے مال محفوظ ہو جائیں گے ، الاّ یہ کہ وہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا اُن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘

  • Chapter 009 Verse 029
  • قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ


    9.29

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے، نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کی پیروی کرتے، جنگ کرو تا آنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    اہل کتاب کے جرائم اور ان کے بارے میں حکم: اہل کتاب کے مذہبی جرائم کی تفصیل بقرہ، آل عمران، مائدہ اور انفال سب میں بیان ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ لوگ نہ صرف ایمان کے مدعی تھے بلکہ اپنے آپ کو دین و شریعت کا تنہا اجارہ دار سمجھے بیٹھے تھے لیکن مذکورہ سورتوں میں پوری وضاحت سے ثابت ہو چکا ہے کہ اللہ، آخرت اور شریعت کسی چیز پر بھی یہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ایمان کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ کے شرائط کے تحت ہو لیکن ان کا ایمان اپنی خواہشوں اور بدعات کے تحت تھا۔ مشرکانہ عقائد ایجاد کر کے انھوں نے خدا کی نفی کر دی، اپنے آپ کو چہیتی اور مغفور امت قرار دے کر آخرت کا ابطال کر دیا اور اللہ اور رسول کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو جائز بنا کر شریعت کو کالعدم کر دیا۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کیا کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے سے، اپنے وعدے کے مطابق، جو دین حق بھیجا تو اس کو نہ صرف ی کہ قبول نہیں کیا بلکہ اس کی مخالفت میں اپنا پورا زور صرف کر دیا اور اس کے خلاف برابر سازشوں میں سرگرم رہے۔ فرمایا کہ اب یہ مفسدین کسی مزیدمہلت کے حقدار باقی نہیں رہ گئے ہیں ۔ ان سے بھی جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دیں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔
    ’عَنْ یَّدٍ‘ کا مفہوم:’حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ‘۔ ’ید‘ کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں لیکن یہ غلبہ تسلط اور اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یعنی ان کی طرف سے یہ ادائیگئ جزیہ تمھارے اقتدار و غلبہ کے نتیجہ میں ہو۔ ان سے جنگ کر کے ان کے کس بل اس طرح نکال دو کہ یہ تمھارے آگے گھٹنے ٹیک دیں اور ہاتھ باندھ کر جزیہ دینے پر راضی ہوں۔ ’وَھُمْ صٰغِرُوْنَ‘یعنی تمھاری ماتحتی و محکومی قبول کریں اور اس کو غنیمت جانیں۔
    جزیہ کی حیثیت: یہ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو تمام بالغ اور کماؤ افراد پر اس امان کے معاوضہ کے طور پر لگایا گیا جو ان کے جان و مال اور زن و فرزند کو اسلامی حکومت کے اندر حاصل ہوئی۔ اس کی مقدار افراد کی حیثیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی تھی جس میں چھوٹ اور رعایت کی بھی بڑی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تفصیلات اس کی ہماری کتاب اسلامی ریاست میں، غیر مسلموں کے حقوق کے باب میں ملے گی۔
    اہل کتاب اور مشرکین میں فرق کی وجہ: یہاں ایک بات نمایاں طورپر محسوس ہو گی کہ اہل کتاب کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وہ اس سے مختلف ہے جس کی ہدایت اوپر مشرکین کے باب میں کی گئی ہے۔ مشرکین کے باب میں تو یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ کفرسے توبہ کر کے اسلام نہ اختیار کر لیں اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو لیکن ان اہل کتاب کو جزیہ کی ادائیگی پر امان دے دینے کی ہدایت ہوئی۔ اس فرق کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کر چکے ہیں کہ مشرکین عرب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت براہ راست تھی، آپؐ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے، انہی کی زبان میں آپؐ پر اللہ کا کلام اترا اور انہی کو آپؐ نے اپنی دعوت کا مخاطب اول بنایا اور ہر پہلو سے انہی کے معروف و منکر اور انہی کے مطالبات کے مطابق آپ نے ان پر اتمام حجت کیا۔ اس اہتمام کے بعد ان کے لیے کسی مزید مہلت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مشرکین بنی اسمٰعیل ذمی نہیں بنائے جا سکتے تھے لیکن دوسرے غیر مسلموں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔
    دوسرے غیر مسلموں کا حکم: اصلاً تو یہاں جو حکم بیان ہوا ہے وہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے متعلق ہے لیکن صحابہؓ کے زمانہ ہی میں یہ مسئلہ بھی طے پا چکا تھا کہ یہی حکم دوسرے غیر مسلموں کا بھی ہے۔ چنانچہ مجوس کے ساتھ، ان کو مشابہ اہل کتاب قرار دے کر، یہی معاملہ کیا گیا جس کی ہدایت یہاں اہل کتاب کے باب میں ہوئی ہے ۔ اس باب میں فقہا میں کوئی اختلاف رائے ہے تو وہ فروعی نوعیت کا ہے جس کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
    مفتوح اور معاہد اہلِ ذمہ کا حکم: یہ بات یہاں خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ آیت میں جو حکم بیان ہوا ہے وہ مفتوح اہل ذمہ کا ہے یعنی جنھوں نے اسلامی حکومت سے جنگ کی ہو اور شکست کھا کر اس کی اطاعت پر مجبور ہوئے ہوں۔ وہ اہل ذمہ اس سے الگ جن کو فقہا نے معاہد یا اہل صلح سے تعبیر کیا ہے۔ معاہد اہل ذمہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے بغیر کسی جنگ و قتال کے بطور خود اپنی مرضی سے اسلامی حکومت کی رعیت بن کر رہنا اختیار کیا ہو۔ ان لوگوں کے ساتھ حکومت اسلامی اس عہد نامے کے مطابق معاملہ کرے گی جو ان کے اور حکومت کے مابین طے پا چکا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ اس بات پر مصر ہوں کہ ان پر بھی اسی طرح کے مالی واجبات عائد کیے جائیں جو مسلمانوں پر عائد ہیں تو حکومت ان سے اپنی صواب دید کے مطابق اس شرط پر بھی معاہد کر سکتی ہے، دوسرے لفظوں میں اس فرق کو یوں سمجھیے کہ اگر جزیہ کی ادائیگی میں وہ عار اور ذلت محسوس کریں تو ان کو اس سے مستثنیٰ کر کے ان کے لیے کوئی اور مناسب شکل اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں سے جو معاہدہ بھی طے پاجائے بلا کسی سبب معقعول کے اس کو توڑنے کی اسلام میں سخت ممانعت آئی ہے۔ ہم نے اہل ذمہ کی ان دونوں قسموں پر اپنی کتاب اسلامی ریاست میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ جو لوگ مسئلہ کو دلائل کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہوں وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (اِن مشرکوں کے علاوہ) اُن اہل کتاب سے بھی لڑو جو نہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اُس کے رسول کے حرام ٹھیرائے ہوئے کو حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں، (اُن سے لڑو)، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    یہ لوگ اگرچہ ایمان کے مدعی تھے، لیکن درحقیقت اِن میں سے کسی چیز کو بھی نہیں مانتے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’...ایمان کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ کے شرائط کے تحت ہو، لیکن اُن کا ایمان اپنی خواہشوں اور بدعات کے تحت تھا۔ مشرکانہ عقائد ایجاد کر کے اُنھوں نے خدا کی نفی کر دی، اپنے آپ کو چہیتی اور مغفور امت قرار دے کر آخرت کا ابطال کر دیا اور اللہ اور رسول کی حرام ٹھیرائی ہوئی چیزوں کو جائز بنا کر شریعت کو کالعدم کر دیا۔ پھر ستم بالاے ستم یہ کیا کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعے سے اپنے وعدے کے مطابق جو دین حق بھیجا تو اُس کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا، بلکہ اُس کی مخالفت میں اپنا پورا زور صرف کر دیا اور اُس کے خلاف برابر سازشوں میں سرگرم رہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۵۵۹)

    یعنی مغلوب ہو کر اور اپنی اِس مغلوبیت اور محکومی کو تسلیم کرکے اُس کی علامت کے طور پر جزیہ ادا کریں۔ اوپر مشرکین کی سزا بیان ہوئی ہے کہ ایمان نہ لائیں تو قتل کر دیے جائیں۔ یہ اُن اہل کتاب کی سزا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ یہ رعایت اِس لیے کی گئی ہے کہ اہل کتاب اصلاً توحید ہی سے وابستہ تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ بھی شرک کے مرتکب تھے، مگر بنی اسمٰعیل کی طرح اُنھوں نے شرک کو دین اور عقیدے کی حیثیت سے اختیار نہیں کیا تھا۔ قرآن نے دوسری جگہ واضح کر دیا ہے کہ لوگ مشرک نہ ہوں تو قیامت میں بھی اِسی طرح رعایت کے مستحق ہوں گے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن کا یہ حکم بھی اُس کے قانون اتمام حجت کی ایک فرع اور اُنھی اقوام کے ساتھ خاص تھا جن پر خدا کے آخری پیغمبر کی طرف سے حجت پوری ہو گئی۔ اُن کے لیے یہ اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔ اُن کے بعد اب دنیا کے کسی غیر مسلم سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

     

  • Chapter 005 Verse 032
  • مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الأرْضِ لَمُسْرِفُونَ


    5.32

    ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی ( علیہ رحمہ اللہ)

    اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا کہ جس کسی نے کسی کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سب کو قتل کیا اور جس نے اس کو بچایا تو گویا سب کو بچایا اور ہمارے رسول ان کے پاس واضح احکام لے کر آئے لیکن اس کے باوجود ان میں بہت سے ہیں جو زیادتیاں کرتے ہیں۔

    تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی (رحمہ اللہ علیہ)

    ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا مفہوم: ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعینہٖ یہ واقعہ حکم قصاص کی فرضیت کا باعث ہوا ۔ یہ واقعہ تو جیسا کہ واضح ہوا، بنی اسرائیل کی تاریخ سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ جان کے بدلے جان کا قانون، کچھ بنی اسرائیل کے خاص نہیں ہے۔ یہ قانون ہر مہلت میں ابتداء سے موجود رہا ہے۔ حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی ملت میں بھی یہ قانون موجود تھا۔ حضرت نوح اور ان کی ذریت کو اس باب میں جو ہدایت ہوئی تھی وہ تورات میں یوں مذکور ہے۔
    آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اس کے بھائی بندسے لوں گا۔ جو آدمی کا خون کرے گا اس کا خون آدمی سے ہو گا۔ کیونکہ خدا نے انسان کو انی صورت پر بنایا ہے۔ (پیدائش باب۹: ۵۔۶)
    اس وجہ سے یہ خیال صحیح ہے کہ بعینہٖ یہ واقعہ بنی اسرائیل پر حکم قصاص کے وجوب کا باعث ہوا۔ یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ یہاں مقصود حکم قصاص کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کے میثاق کے معاملے میں اتنے جری اور بیباک ہیں کہ یہ جاننے کے باوجود کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کی حفاظت سب کی حفاظت ہے، برابر خدا کی زمین میں فساد برپا کیے چلے جا رہے ہیں۔ یہی روش ان کی پہلے بھی رہی اور یہی روش ان کی آج بھی ہے۔
    اس روشنی میں ’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ‘ کا اشارہ نفس واقعہ کی طرف نہیں بلکہ شرو فساد کی اس ذہنیت کی طرف ہو گا جس کا قابیل نے اظہارکیا اور جس کا اظہار ان لوگوں کی طرف سے برابر ہوتارہتا ہے جو اس کی سنت بد کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی کمینہ جذبات اور شیطانی محرکات کے تحت اللہ کے بندوں کا خون بہاتے ہیں اور پھر اعتراف و اقراراور توبہ و ندامت کے بجائے اپنی ساری ذہانت اس جرم کو چھپانے میں صرف کرتے ہیں۔ ان کو اپنے جرم پر افسوس بھی ہوتا ہے تو اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھوں خدا کے بندوں کا سب سے بڑا حق تلف ہوا بلکہ جرم پوشی کی تدبیر میں اگر ان سے کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے تو اس پر انھیں افسوس ہوتا ہے۔
    قانونِ قصاص کی حکمت و عظمت: ’اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا‘۔ یہ اس اصل حکم کا بیان نہیں ہے جو قصاص کے باب میںیہود کو دیا گیا ہے بلکہ اس کی دلیل اور اس کی حکمت و عظمت بیان ہوئی ہے۔ ’’جان کے بدلے جان‘‘ کا قانون تورات میں بھی ہے اور اس کا حوالہ اس روہ میں بھی آگے آرہا ہے۔ یہاں چونکہ مقصود یہود کی شرارت و شقاوت کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے قانون قصاص کیا اصل فلسفہ بیان فرمایا کہ یہود پر قتل نفس کی سنگینی واضح کرنے کے لیے ان کو یہ حکم تصریح کے ساتھ دیا گیا تھا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ٹھہرے گا لیکن پھر بھی وہ قتل اور فساد فی الارض کے معاملے میں بالکل بے باک ہو گئے۔
    قانونِ قصاص کی ذمہ داریاں ہر فردِ ملت پر: جو ملت قانون قصاص کی حامل اس فلسفہ کے ساتھ بنائی گئی ہو جس کا ذکر اوپر ہوا، اس پر چند ذمہ داریاں لازماً عاید ہوتی ہیں جس کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے۔
    ایک یہ کہ ہر حادثۂ قتل پوری قوم میں ایک ہلچل پیدا کر دے۔ جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جائے۔ ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اس تحفظ سے محروم ہو گیا ہے جو اس کو اب تک حاصل تھا۔ قانون ہی سب کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر قانون ہدم ہو گیا تو صرف مقتول ہی قتل نہیں ہوا بلکہ ہر شخص قتل کی زد میں ہے۔
    دوسری یہ کہ قاتل کا کھوج لگانا صرف مقتول کے وارثوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پوری جماعت کی ذمہ داری ہے، اس لیے کہ قاتل نے صرف مقتول ہی کو قتل نہیں کیا بلکہ سب کو قتل کیا ہے۔
    تیسری یہ کہ کوئی شخص اگر کسی کو خطرے میں دیکھے تو اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظت و حمایت تابہ حد مقدور اس کے لیے ضروری ہے ۔ اگر چہ اس کے لیے اسے خود جوکھم برداشت کرنی پڑے۔ اس لیے کہ جو شخص کسی مظلوم کی حمایت و مدافعت میں سینہ سپر ہوتا ہے وہ صرف مظلوم ہی کی حمایت میں سینہ سپر نہیں ہوتا بلکہ تمام خلق کی حمایت میں سینہ سپر ہوتا ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہے۔
    چوتھی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی قتل کو چھپاتاہے یا قاتل کے حق میں جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کا ضامن بنتا ہے، یا قاتل کو پناہ دیتا ہے، یا قاتل کی دانستہ وکالت کرتا ہے یا دانستہ اس کو جرم سے بری کرتا ہے وہ گویا خود اپنے اور اپنے باپ، بھائی، بیٹے کے قاتل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔
    پانچویں یہ کہ کسی مقتول کے قصاص کے معاملے میں مقتول کے وارثوں یا حکام کی مدد کرنا بھی درحقیقت مقتول کو زندگی بخشنا ہے اس لیے کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔
    ہم نے یہ اس اصول سے برآمد ہونے والی چند موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔مزید غور کیجیے تو اس کی مزید حکمتیں واضح ہوں گی۔ پھر کس قدر قابل ماتم ہے اس قوم کا حال جو اس اصول سے باخبر ہوتے ہوئے قتل و خوں ریزی اور فساد فی الارض میں بالکل بے باک ہو گئی۔
    قانون کے ساتھ قانون کی یاد دہانی کا اہتمام: ’وَلَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ‘۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو یہ فرض بتا دینے ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اتمامِ حجت کے لیے برابر ان کے اندر خدا کے رسول بھی آتے رہے جو نہایت واضح احکام و ہدایات اور نہایت بلیغ اور پرزور تعلیمات و تنبیہات کے ذریعے سے ان کو جگاتے اور جھنجھوڑتے رہے کہ اللہ کے عہد و میثاق کی ذمہ داریوں سے یہ غافل نہ ہو جائیں لیکن اس سارے اہتمام کے باوجودیہ برابر خدا کی زمین میں مختلف قسم کی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے رہے۔
    ’افساد‘ اور ’اسراف‘ کا مفہوم: ’افساد فی الارض ‘ اور ’اسراف فی الارض‘ دونوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ زمین کا امن اور نظم اس قانون عدل و قسط پر منحصر ہے جو خدا نے اس کے لیے اتارا ہے۔ جس طرح کائنات کے نظامِ تکوینی میں کوئی خلل پیدا ہوجائے تو سارا نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے، اسی طرح اگر اس نظامِ تشریعی میں، جو اس کے خالق نے اس کے لیے پسند فرمایا ہے، کوئی خلل پیدا کر دیاجائے تو اس کا اجتماعی و معاشرتی اور سیاسی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، پھر نہ نظامِ تکوینی کے ساتھ اس کے نظامِ سیاسی کی ہم آہنگی ہی باقی رہ جاتی ہے اور نہ اس کے نظام اجتماعی و سیاسی میں ہی کوئی ربط قائم رہ جاتا ہے۔ اسی صورت حال میں یہاں افساد اور اسراف سے تعبیر فرمایا ہے۔
    اس اصولی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس تاریخی حقیقت کو یاد رکھنا بھی یہاں ضروری ہے جس کا تجربہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں، مسلسل مسلمانوں کو یہود کی طرف سے ہو رہا تھا۔ یہود کے متعد د قبائل مثلاً بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع مدینہ کے حوالی میں آباد تھے۔ انھوں نے یوں تو مسلمانوں کے ساتھ امن و صلح اور باہمی حمایت و مدافعت کے معاہدے کر رکھے تھے لیکن ایک دن بھی انھوں نے ان معاہدوں کا کوئی احترام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور مدینہ سے ان کے قدم اکھاڑ دینے کی کسازشیں کرتے رہے۔ قریش نے مسلمانوں پر جتنے بھی حملے کیے سب میں درپردہ یہود شریک رہے۔ انصار او رمہاجرین کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی بھی انھوں نے بارہا کوشش کی۔صحابہؓ بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی بھی انھوں نے بارہا تدبیریں کیں۔ اگرچہ ان کی یہ چالیں بیشتر ناکام رہیں لیکن متعدد نہایت اندوہناک واقعات بھی پیش آئے۔ عورتوں اور بچوں کے اغوا اور قتل میں بھی یہ نہایت شاطر اور سنگ دل تھے۔مسلمانوں کو ہر وقت یہود کی طرف سے اپنی جان اور عزت کے معاملے میں کھٹکا لگارہتا تھا۔ حد یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو وہ کسی قضیے کے طے کرانے اور کسی معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے بلاتے تھے ان کے بھی ہلاک کرنے کی سازش پہلے سے تیار کر رکھتے۔ ’ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ‘ میں اس ساری صورتِ حال کی طرف اشارہ ہے۔

    ترجمہ جاوید احمد غامدی

    (انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اُس میں) بنی اسرائیل پر فرض کردیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ (پھر یہی نہیں، اِس کے ساتھ) یہ بھی حقیقت ہے کہ (اِن پر اتمام حجت کے لیے) ہمارے پیغمبر اِن کے پاس نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے، لیکن اِس کے باوجود اِن میں سے بہت سے ہیں جو حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

    تفسیر جاوید احمد غامدی

    انبیا علیہم السلام کی شریعت میں یہ قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ یہود کا حوالہ محض اُن کی شقاوت و شرارت کو نمایاں کرنے کے لیے آیا ہے۔ اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ بنی اسرائیل کے لیے خاص کوئی قانون ہے۔ چنانچہ نوح علیہ السلام اور اُن کی ذریت کو جو ہدایت اِس معاملے میں کی گئی تھی، وہ بائیبل کی کتاب پیدایش میں اِس طرح مذکور ہے:

    ’’...آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اُس کے بھائی بند سے لوں گا۔ جو آدمی کا خون کرے، اُس کا خون آدمی سے ہوگا، کیونکہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔‘‘ (۹: ۵۔۶)

    اِس قانون کی وضاحت آگے سلسلۂ بیان کے آخر میں ہوگی۔ قتل نفس کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے قصاص کا اصل فلسفہ یہاں بیان کردیا ہے۔ اِس فلسفے کی رو سے جو فرائض اِس قانون کے ماننے والوں پر عائد ہوتے اور جن ذمہ داریوں کے وہ مکلف ٹھیرتے ہیں، وہ استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ ہیں:

    ’’ایک یہ کہ ہر حادثۂ قتل پوری قوم میں ایک ہلچل پیدا کردے۔ جب تک اُس کا قصاص نہ لے لیا جائے، ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اُس تحفظ سے محروم ہوگیا ہے جو اُس کو اب تک حاصل تھا۔ قانون ہی سب کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر قانون ہدم ہوگیا تو صرف مقتول ہی قتل نہیں ہوا، بلکہ ہر شخص قتل کی زد میں ہے۔ دوسری یہ کہ قاتل کا کھوج لگانا صرف مقتول کے وارثوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ پوری جماعت کی ذمہ داری ہے، اِس لیے کہ قاتل نے صرف مقتول ہی کو قتل نہیں کیا، بلکہ سب کو قتل کیا ہے۔ تیسری یہ کہ کوئی شخص اگر کسی کو خطرے میں دیکھے تو اُس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرنا اُس کے لیے جائز نہیں ہے، بلکہ اُس کی حفاظت و حمایت تابہ حد مقد ور اُس کے لیے ضروری ہے، اگرچہ اِس کے لیے اُسے خود جوکھم برداشت کرنی پڑے۔ اِس لیے کہ جو شخص کسی مظلوم کی حمایت و مدافعت میں سینہ سپر ہوتا ہے، وہ صرف مظلوم ہی کی حمایت میں سینہ سپر نہیں ہوتا، بلکہ تمام خلق کی حمایت میں سینہ سپر ہوتا ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہے۔ چوتھی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی قتل کو چھپاتا ہے یا قاتل کے حق میں جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کا ضامن بنتا ہے یا قاتل کو پناہ دیتا ہے یاقاتل کی دانستہ وکالت کرتا ہے یا دانستہ اُس کو جرم سے بری کرتا ہے، وہ گویا خود اپنے اور اپنے باپ، بھائی، بیٹے کے قاتل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے، کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔ پانچویں یہ کہ کسی مقتول کے قصاص کے معاملے میں مقتول کے وارثوں یا حکام کی مدد کرنا بھی، درحقیقت مقتول کو زندگی بخشنا ہے، اِس لیے کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن۲/۵۰۳)

    یعنی پہلے بھی حدود سے تجاوز کرتے رہے ہیں، اب بھی کر رہے ہیں اور خدا کے پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود سرکشی اور فساد کی وہ روش چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو اِنھوں نے ہمیشہ سے اختیار کر رکھی ہے۔

Comments/Notes

c

Source:

  • "Burhan" (Urdu - Published 2009, Lahore; ISBN 48593948) Author: Javed Ahmad Ghamidi

    No results found.

Hadood-o-Taziraat: Chand Aham Mubaahis

Javed Ahmad Ghamidi

b

حدودو تعزیرات ۔۔۔ چند اہم مباحث

Javed Ahmad Ghamidi

اسلامی شریعت میں جرائم کی سزاؤں سے متعلق اپنا جو نقطۂ نظر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے ، اُس سے واضح ہے کہ یہ صرف پانچ ۱ ؂ جرائم ہیں جن کی سزا شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کے علاوہ باقی سب جرائم کا معاملہ اسلامی ریاست کے ارباب حل و عقد سے متعلق ہے ۔ حدودو تعزیرات کے باب میں شریعت اتنی ہی ہے جتنی ہم نے وہاں بیان کر دی ہے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز شریعت نہیں ہے ، لیکن اِس معاملے میں رائج تصورات کی رو سے یہ چار سوالات پیدا ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے کیا شریعت کی رو سے مقرر نہیں ہے ؟ دوسرا یہ کہ کیا ارتداد کی سزا بھی شریعت میں قتل بیان نہیں ہوئی؟ تیسرا یہ کہ شریعت کے علاوہ باقی جرائم میں ارباب حل و عقد کیا موت کی سزا بھی کسی مجرم کو دے سکتے ہیں ؟ چوتھا یہ کہ کیا قید کی سزا بھی اِن باقی جرائم میں کسی شخص کو دی جا سکتی ہے ؟ ذیل میں ہم اِنھی سوالوں کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے :
شراب نوشی
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ شراب نوشی کی یہ سزا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے اُن کے ارباب حل و عقد کے ساتھ مشورے سے مقرر کی ہے ۔ اِس کی تاریخ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو شخص اِس جرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا ، اُسے بالعموم جوتے، لات، مکے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اِس کے لیے باقاعدہ چالیس کوڑے کی سزا مقرر کی اور سیدنا عمر نے اپنے دور خلافت میں جب یہ دیکھا کہ لوگ اِس جرم سے باز نہیں آتے تو اُسے اسی کوڑے میں بدل دیا ۔ ابن رشد لکھتے ہیں :
فعمدۃ الجمھور تشاور عمر والصحابۃ لماکثر فی زمانہ شرب الخمر، واشارۃ علی علیہ بان یجعل الحد ثمانین قیاسًا علی حد الفریۃ، فانہ کما قیل عنہ رضی اللّٰہ عنہ، اذا شرب سکر واذا سکر ھذی واذا ھذی افتری. (بدایۃ المجتہد ۲/۳۳۲) ’’جمہور کا مذہب اِس معاملے میں صحابۂ کرام کے ساتھ سیدنا فاروق کی مشاورت پر مبنی ہے جو اُس وقت ہوئی، جب اُن کے زمانے میں لوگ کچھ زیادہ شراب پینے لگے اور سیدنا علی نے مشورہ دیا کہ حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے اِس کی سزا بھی اسی کوڑے مقرر کر دی جائے ۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ اِس کے استدلال میں اُنھوں نے فرمایا: یہ جب پیے گا تو مدہوش ہو گا اور مدہوش ہو گا توبکواس کرے گا اور بکواس کرے گا تو دوسروں پر جھوٹی تہمتیں بھی لگائے گا۔‘‘
اِس سے واضح ہے کہ یہ شریعت ہرگز نہیں ہو سکتی ۔ اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں ، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے ۔ یہ اگر شریعت ہوتی تو نہ سیدنا صدیق اِسے چالیس کوڑوں میں تبدیل کرتے اور نہ سیدنا فاروق اِن چالیس کو اسی میں بدلتے ۔ اِس صورت میں یہ حق اِن میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں تھا ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر شراب نوشی کے مجرموں کو پٹوایا تو شارع کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے پٹوایا اور آپ کے بعد آپ کے خلفا نے بھی اُن کے لیے چالیس کوڑے اور اسی کوڑے کی یہ سزائیں اِسی حیثیت سے مقرر کی ہیں ۔ چنانچہ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی حد نہیں ، بلکہ محض تعزیر ہے جسے مسلمانوں کا نظم اجتماعی ، اگر چاہے تو برقرار رکھ سکتا اور چاہے تو اپنے حالات کے لحاظ سے اِس میں تغیر و تبدل کر سکتا ہے ۔
ارتداد
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ارتداد کی سزا کا یہ مسئلہ محض ایک حدیث کا مدعا نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بخاری میں اِس طرح نقل ہوئی ہے :
من بدل دینہ فاقتلوہ.(رقم ۳۰۱۷) ’’جو شخص اپنا دین تبدیل کرے ، اُسے قتل کردو۔‘‘
ہمارے فقہا اِسے بالعموم ایک حکم عام قرار دیتے ہیں جس کا اطلاق اُن کے نزدیک اُن سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانۂ رسالت سے لے کر قیامت تک اِس زمین پر کہیں بھی اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں گے۔ اُن کی رائے کے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنی آزادانہ مرضی سے کفر اختیار کرے گا، اُسے اِس حدیث کی رو سے لازماً قتل کر دیا جائے گا ۔ اِس معاملے میں اُن کے درمیان اگر کوئی اختلاف ہے تو بس یہ کہ قتل سے پہلے اُسے توبہ کی مہلت دی جائے گی یا نہیں اور اگر دی جائے گی تو اُس کی مدت کیا ہونی چاہیے ۔ فقہاے احناف البتہ ، عورت کو اِس حکم سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ اُن کے علاوہ باقی تمام فقہا اِس بات پر متفق ہیں کہ ہر مرتد کی سزا ، خواہ وہ عور ت ہو یا مرد ، اسلامی شریعت میں قتل ہے ۔ لیکن فقہا کی یہ رائے محل نظرہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم تو بے شک ثابت ہے ، مگر ہمارے نزدیک یہ کوئی حکم عام نہ تھا، بلکہ صرف اُنھی لوگوں کے ساتھ خاص تھا جن پر آپ نے براہ راست اتمام حجت کیا اور جن کے لیے قرآن مجید میں ’مشرکین‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ۔ ذیل میں ہم اپنے اِس نقطۂ نظر کی تفصیل کیے دیتے ہیں : اِس زمین پر ہر شخص اِس حقیقت سے واقف ہے کہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع حاصل ہوا ہے ، وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ، بلکہ محض آزمایش کے لیے ہے ۔ عالم کا پروردگار جب تک چاہتا ہے ، کسی کو یہ موقع دیتا ہے اور جب اُس کے علم کے مطابق آزمایش کی یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو موت کا فرشتہ آسمان سے اترتا ہے اور اُسے یہاں سے لے جا کر اُس کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ عام انسانوں کے لیے یہ مدت اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے مطابق جتنی چاہیں مقرر کرتے ہیں ، لیکن وہ لوگ جن میں رسول کی بعثت ہوتی ہے اور جنھیں اُس کے ذریعے سے براہ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے، اُن پر چونکہ آخری حد تک اتمام حجت ہو جاتا ہے ،اِس وجہ سے اِس اتمام حجت کے بعد بھی وہ اگر ایمان نہ لائیں تواُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن مجید میں پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ وہ پھر اُس کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔ زمین پر وہ آزمایش ہی کے لیے رکھے گئے تھے اور رسول کے اتمام حجت کے بعد یہ آزمایش چونکہ آخری حد تک پوری ہو جاتی ہے ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قانون بالعموم یہی ہے کہ اِس کے بعد زندہ رہنے کا یہ حق اُن سے چھین لیا جائے اور اُن پر موت کی سزا نافذ کر دی جائے ۔ اس قانون کے مطابق رسول کے براہ راست مخاطبین پر موت کی یہ سزا اِس طرح نافذ کی جاتی ہے کہ رسول اور اُس کے ساتھیوں کو اتمام حجت کے بعد اگر کسی دارالہجرت میں سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ابرو باد کی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور رسول کی قوم کو موت کی نیند سلا دیتا ہے ۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ عادو ثمود ، قوم نوح ، قوم لوط اور دوسری بہت سی قومیں اِسی طرح زمین سے مٹا دی گئیں ، لیکن اِس کے برعکس اگر رسول کو کسی سرزمین میں سیاسی اقتدار حاصل ہو جائے تو قوم کے مغلوب ہو جانے کے بعد اُس کے ہر فرد کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی جاتی ہے جو رسول اور اُس کے ساتھی اُس پر نافذ کرتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چونکہ یہی دوسری صورت پیش آئی ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مشرکین میں سے جو لوگ ۹ ہجری، حج اکبر کے دن تک بھی ایمان نہ لائیں ، اُن کے لیے اِسی تاریخ کو میدان عرفات میں اعلان کر دیا جائے کہ ۹ ذوالحجہ سے محرم کے آخری دن تک اُن کے لیے مہلت ہے ۔ اِس کے بعد بھی وہ اگر اپنے کفر پر قائم رہے تو موت کی سزا کا یہ قانون اُن پر نافذ کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ فرمایا ہے :
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ. فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکوٰۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹:۵) ’’پھر جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکین کو جہاں پاؤ، قتل کر دو اور اِس کے لیے اُن کو پکڑو، گھیرو اور ہر گھات میں اُن کے لیے تاک لگاؤ ، لیکن وہ اگر کفر و شرک سے توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو اُنھیں چھوڑ دو۔ بے شک، اللہ مغفرت کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
یہی قانون ہے جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طرح فرمائی :
امرت ان اقاتل الناسحتی یشھدوا ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلٰوۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا وحسابھم علی اللّٰہ.(مسلم ، رقم ۱۲۹) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اُن لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں محفوظ ہو جائیں گی، الاّ یہ کہ وہ اسلام کے کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں ۔ رہا باطن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘
یہ قانون ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، صر ف اُن مشرکین کے ساتھ خاص تھا۔ جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا۔ اُن کے علاوہ اب قیامت تک کسی دوسری قوم یا فرد کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، یہاں تک کہ وہ اہل کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے ، قرآن مجید نے اُنھیں بھی اِس سے بالصراحت مستثنیٰ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں جہاں مشرکین کے لیے قتل کی یہ سزا بیان ہوئی ہے، وہیں اہل کتاب کے بارے میں صاف فرمایا ہے کہ وہ اگر محکومی قبول کرکے اور جزیہ دے کر مسلمانوں کی ریاست میں ایک شہری کی حیثیت سے رہنا چاہیں تو اُن سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ۔ ارشاد خداوندی ہے :
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ. (۹ : ۲۹) ’’ اُن اہل کتاب سے لڑوجو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے ہیں ، نہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے ، اُسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی کرتے ہیں۔ اُن سے لڑو ، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور زیر دست بن کر رہیں ۔ ‘‘
ہماری اِس بحث سے اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اگر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو اِس کا یہ لازمی تقاضا بھی صاف واضح ہے کہ اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا تو اُسے بھی لامحالہ اِسی سزا کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ وہ لوگ جن کے لیے کفر کی سزا موت مقرر کی گئی ، وہ اگر ایمان لا کر پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹتے تو لازم تھا کہ موت کی یہ سزا اُن پر بھی بغیر کسی تردد کے نافذ کر دی جائے ۔ چنانچہ یہی وہ ارتداد ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’من بدل دینہ فاقتلوہ ‘ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم میں ’من‘ اُسی طرح زمانۂ رسالت کے مشرکین کے لیے خاص ہے ، جس طرح اوپر ’امرت ان اقاتل الناس‘ میں ’ الناس‘ اُن کے لیے خاص ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اصل جب قرآن مجید میں اِس خصوص کے ساتھ موجود ہے تو اِس کی اِس فرع میں بھی یہ خصوص لازماً برقرار رہنا چاہیے۔ ہمارے فقہا کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے ’الناس‘کی طرح اِسے قرآن میں اِس کی اصل سے متعلق کرنے اور قرآن و سنت کے باہمی ربط سے اِس حدیث کا مدعا سمجھنے کے بجائے، اِسے عام ٹھیرا کر ہر مرتد کی سزا موت قرار دی اور اِس طرح اسلام کے حدودوتعزیرات میں ایک ایسی سز اکا اضافہ کر دیا جس کا وجود ہی اسلامی شریعت میں ثابت نہیں ہے۔
موت کی سزا
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ موت کی سزا قرآن مجید کی رو سے قتل نفس اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جا سکتی ۔فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کو شریعت دی گئی تو یہ بات اُسی وقت اُن پر لکھ دی گئی تھی:
اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا.(المائدہ۵: ۳۲) ’’جس نے کسی کو قتل کیا ، اِس کے بغیر کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو تو اُس نے گویا سب انسانوں کو قتل کیا۔‘‘
یہ قرآن کا صریح ارشادہے، لہٰذا اِن دو جرائم کے سوا، فرد ہو یا حکومت ، یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کی جان کے درپے ہو اور اُسے قتل کر ڈالے ۔
قید کی سزا
چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ قید کی سزا محض سزا نہیں، بلکہ ایک بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب خود انسان نے اپنے خلاف کیا ہے ۔ اِس لیے مسلمانوں کی کسی حکومت سے ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے ضابطۂ حدود و تعزیرات میں اِس سزا کو کبھی شامل کرے گی ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ کال کوٹھڑیاں ، قلعہ کے برج اور تیرہ و تار تہ خانے اِس دنیا میں انسان کی معلوم تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ مسیح ناصری سے انیس صدی پہلے کے ایک پیغمبر یوسف علیہ السلام کی داستان زنداں بائیبل اور قرآن ، دونوں میں بیان ہوئی ہے ۔ آٹھویں صدی کے عظیم فقیہ ابوحنیفہ اور پھر تیرھویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق ابن تیمیہ جس طرح قید ہی میں دنیا سے رخصت ہوئے، اُس کی روداد بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے ، تاہم اٹھارہویں صدی سے پہلے یہ بندی خانے بالعموم حوالات کے طورپر استعمال ہوتے تھے ۔ مجرم اِن میں زیادہ تر مقدمے کی تحقیقات یا مو ت، تازیانہ اور اِس طرح کی دوسری سزاؤں کے نفاذ کے انتظار میں رکھے جاتے تھے ۔ یہ تصور کہ جرم کی پاداش میں کسی شخص کو دو سال ، چار سال یا دس پندرہ سال کے لیے قید کر دیا جائے ، اِن پچھلی تین صدیوں ہی میں اِس قدر عام ہوا ہے کہ اب زیادہ تر جرائم کی سزا اِسی صورت میں دی جاتی ہے ۔ یورپ میں اگرچہ زندان سے ملتے جلتے بعض ادارے ، جیسے فلورنس کا دلی ستن چودھویں صدی کی ابتدا میں موجود تھے ۔ اِسی طرح ۱۵۵۷ء میں لندن ، ۱۵۹۶ء میں ایمستردم ، ۱۷۰۴ء میں روم اور ۱۷۷۳ء میں بلجیم کے قدیم شہر غنت میں جو اصلاح خانے قائم ہوئے ، اُن میں بھی کم و بیش یہی تصور کارفرما تھا ، لیکن عام خیال یہی ہے کہ پہلا جدید قید خانہ وال نٹ اسٹریٹ جیل کے نام سے ۱۷۹۰ء میں فلاڈلفیا میں قائم ہوا اور پھر مغربی تہذیب کے غلبہ کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ وہ زنداں وجود میں آ گئے جن میں آدم کے بیٹے اب برسوں اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ترستے اور جرم و سزا کے تصور سے ناآشنا بچے اپنے باپ کو آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے شباب کی عمر کو پہنچتے ہیں ۔ تازیانہ چند لمحوں کے لیے پیٹھ پر برستا ہے، ہاتھ بس ایک دفعہ کاٹ دیا جاتا ہے، صلیب پورے جسم کو اذیت دے کر اُس کا رشتہ روح سے منقطع کرتی ہے اور قتل کی مختلف صورتیں اِس دنیا کا ہر معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہیں ، لیکن یہ وہ سزا ہے جس کے ذریعے سے انسان کے اندر چھپی ہوئی اُس کی اصل شخصیت کو برسوں عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ اُس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا ، سونا جاگنا، یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے جانا بھی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ وہ پانی کے ایک گلاس، روٹی کے ایک لقمے، پان کی ایک بیڑی اور سگریٹ کے ایک کش کے لیے دوسروں کا منہ دیکھتا اور بارہا اِن چیزوں کے لیے اپنی عزت نفس کھو دیتا ہے ۔ وہ جیتے جی ماں کی محبت، باپ کی شفقت، بچوں کے پیار اور بیوی کی الفت کے لیے ترستا ہے اور اپنے وجود کے اُن تقاضوں کو بھی دبانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن پر عالم کے پروردگار نے رمضان کے ماہ تربیت میں بھی اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی ۔ اُس کی زندگی فی الواقع ’لا یموت فیھا ولا یحییٰ ‘ کی تصویر بن جاتی ہے ۔ پھر یہ سزا صرف مجرم کو نہیں ، اُس کے سب اہل تعلق کو بھی ملتی ہے ۔ سب سے زیادہ درد انگیز صورت حال اِس میں بیوی کے لیے پیدا ہو جاتی ہے ۔ اُس کا شوہر اگر نو دس سال کے لیے قید میں ڈال دیا گیا ہے تو اِس عرصے میں اُسے جن نفسیاتی ، معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی مسائل کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے اور محض ایک مجرم کی بیوی ہونے کے جرم میں گزرنا پڑتا ہے ، اُس کا اندازہ صرف وہ باوفا خواتین ہی کر سکتی ہیں جو کبھی اِس مصیبت سے دوچار ہوئی ہوں ۔ یہی معاملہ ننھے بچوں کا بھی ہے ۔ اپنے باپ کو مسلسل کئی سال تک آہنی سلاخوں کے پیچھے دیکھتے رہنے سے اُن کی جو نفسیات وجود میں آتی ہے ، اُس کا اندازہ ہر صاحب عقل بہت آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے ۔ تازیانے کی سزا، قطع ید ، صلیب اور پھانسی ایک واقعہ ہے جو ایک ہی مجرم کے لیے ہر روز نہیں ہوتا ، لیکن اِس سزا کے نتیجے میں سنگین دیواروں کے پیچھے مقید باپ کے ساتھ ہر ملاقات کے موقع پر جو غیر معمولی جذبات اِن بچوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، اُن کے ساتھ اِن کی شخصیت میں توازن کی توقع آخر کس طرح کی جا سکتی ہے ؟ وہ اگر معاشرے سے یہ پوچھیں تو یقیناًحق بجانب ہوں گے کہ باپ کے ہوتے ہوئے باپ سے محرومی کی جو سزا اُنھیں ملی ، اُس کے لیے آخر کیا جواز ہے جو اخلاقیات قانون کی کتابوں سے اُن کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ؟ پھر یہ بھی دیکھیے کہ تادیب و تنبیہ کے بعد ہر معاشرہ یہی چاہتا ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے ۔ اِس کے لیے سب سے زیادہ موثر چیز اگر کوئی ہو سکتی ہے تو وہ اچھی صحبت ہے ، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ اِس سزا کے ذریعے سے مجرم کو معاشرے ، خاندان اور خود اُس کے اہل خانہ میں اصلاح کی ہر دعوت اور خیر کی ہر تحریک سے الگ کر کے برسوں مجرموں کی صحبت میں رکھنے کا اِس طرح اہتمام کیا جاتا ہے کہ اُس میں اگر سدھرنے کی کوئی خواہش ہو بھی تو وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے ۔ اِس سارے عرصے میں وہ جرم کی دنیا میں جیتا ، جرم کی باتیں سنتا ، جرم ہی کے نقطۂ نظر سے ہر چیز کو دیکھتا اور جرم ہی کے محرکات کو شب و روز عمل اور اقدام کے لیے ایک زندہ محرک کی حیثیت سے اپنے سامنے پاتا ہے ۔ اِس کے بعد ، ہمیں نہیں معلوم کہ اُسے رہا کر دینے کے بعد معاشرہ اُس سے کیا توقع کر سکتا ہے ؟ پھر اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ تازیانہ ، قطع ید اور اِس طرح کے دوسرے طریقوں سے تادیب و تنبیہ کے بعد ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی مجرم کب اپنے لیے خیر کا راستہ منتخب کر لے ۔ یہ واقعہ اُس کی زندگی میں کسی وقت بھی ہو سکتا ہے ۔ عقل کا تقاضا لامحالہ یہی ہے کہ یہ توفیق اگر اُسے حاصل ہو جائے تو اُس کے لیے فوراً اپنے آپ کو تبدیل کر لینے اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر وقت کھلے رہیں، لیکن ساری سزاؤں میں یہی وہ سزا ہے جس میں اِس کا وقت قانون مقرر کرتا ہے ، دراں حالیکہ اِس کی تعیین کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس موجود نہیں ہے ۔ اِس سزا کے یہی مفاسد ہیں جن کی وجہ سے خدا کی شریعت میں مجرم کو اُس کے گھر ہی میں نظر بند کر دینے یا علاقہ بدر کر دینے کی سزا تو روا رکھی گئی ہے ، جہاں وہ اپنے اہل وعیال کو بھی اگر چاہے تو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے ، لیکن اُس کو برسوں کے لیے زنداں میں ڈال دینے کا کوئی تصور اِس شریعت کے ضابطۂ حدودوتعزیرات میں موجود نہیں ہے ۔ [۳ ۱۹۹ء]

Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours

Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.

Comments on this Article


You are not logged in.

To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please , or you can Register for a free account.



Auto-login on future visits

Show my name in the online users list

Forgot your password?