loading...
Report a Bug


Article Image

’’غلطی ہاے مضامین‘‘

ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کے اُس مضمون کے جواب میں لکھا گیا جو اِسی عنوان کے تحت ۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ کے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع ہوا۔

Read More ...
Content Category: Penalties »
Article Image

ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘ کی خدمت میں

پروفیسر طاہر القادری صاحب کے دینی نقطۂ نظر کے بارے میں کچھ بہت حسن ظن تو مجھے اِس سے پہلے بھی نہیں تھا، لیکن۱۱، نومبر ۱۹۸۸ کی شام جب صدیق مکر م ڈاکٹرمنیر احمد صاحب کے تو جہ دلانے پر… Read More ...

Content Category: Moral Standards » Society » Preaching »
Article Image

اسلامی انقلاب

نصف صدی ہونے کو ہے۔ ہم اِس ملک میں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اِس کے لیے اٹھے، اُن کی پہلی نسل ختم ہو گئی اور اب دوسری میدان میں ہے۔ اِس کے لیے بہت… Read More ...

Content Category: Society »
Article Image

اسلام اور تصوف

ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے ، اُس کے لیے ہمارے ہاں تصوف کی اصطلاح رائج ہے ۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت… Read More ...

Content Category:
Article Image

اہل ’’بیعت‘‘ کی خدمت میں(۱)

اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و… Read More ...

Content Category: Moral Standards » Preaching »

Top Articles Updated every 24 hours

ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘ کی خدمت میں

Article Image

پروفیسر طاہر القادری صاحب کے دینی نقطۂ نظر کے بارے میں کچھ بہت حسن ظن تو مجھے اِس سے پہلے بھی نہیں تھا، لیکن۱۱، نومبر ۱۹۸۸ کی شام جب صدیق مکر م ڈاکٹرمنیر احمد صاحب کے تو جہ دلانے پر… Read More ...

Content Category: Moral Standards » Society » Preaching »

تاویل کی غلطی

Article Image

قرآن مجید کی دو آیات ہیں جنھیں اِس زمانے میں بعض اہل علم نے غلبۂ دین کے لیے اپنی جدوجہد کا ماخذ قرار دیا اور پھر اِسی بنیاد پر فرائض دینی میں ایک ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ کا اضافہ کر دیا… Read More ...

Content Category:

All articles from the Book  Burhan — برھان

View articles in:

  • دیت کی تحقیق


    دیت کا جو قانون قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ، اُس سے متعلق یہ دو سوالات اِس زمانے میں بہت کچھ موضوع بحث رہے ہیں :
    ایک یہ کہ دیت کی کوئی مقدار کیا شریعت میں مقرر کردی گئی ہے اور اِس کے مطابق کیا مرد کے مقابلے میں عورت کی دیت فی الواقع نصف ہے ؟

  • قانون شہادت


    ثبوت جرم کے لیے قرآن مجید نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھیرائی ، اِس لیے یہ بالکل قطعی ہے کہ اسلامی قانون میں جرم اُن سب طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اخلاقیات قانون میں مسلمہ طور پر ثبوت جرم کے طریقوں کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے اور جن کے بارے میں عقل تقاضا کرتی ہے کہ اُن سے اِسے ثابت ہونا چاہیے ۔ چنانچہ حالات، قرائن، طبی معاینہ، پوسٹ مارٹم، انگلیوں کے نشانات، گواہوں کی شہادت ، مجرم کے اقرار، قسم ، قسامہ اور اِس طرح کے دوسرے تمام شواہد سے جس طرح جرم دنیا میں ثابت ہوتے ہیں ، اسلامی شریعت کے جرائم بھی اُن سے بالکل اِسی طرح ثابت قرار پاتے ہیں ۔

  • رجم کی سزا (۱)


    یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے۔

  • رجم کی سزا (۲)


    یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے۔

  • رجم کی سزا (۳)


    یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے ۔

  • رجم کی سزا (۴)


    یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے ۔

  • رجم کی سزا (۵)


    یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے ۔

  • حدودو تعزیرات ۔۔۔ چند اہم مباحث


    اسلامی شریعت میں جرائم کی سزاؤں سے متعلق اپنا جو نقطۂ نظر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے ، اُس سے واضح ہے کہ یہ صرف پانچ جرائم ہیں جن کی سزا شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کے علاوہ باقی سب جرائم کا معاملہ اسلامی ریاست کے ارباب حل و عقد سے متعلق ہے ۔ حدودو تعزیرات کے باب میں شریعت اتنی ہی ہے جتنی ہم نے وہاں بیان کر دی ہے ۔ اِس کے علاوہ کوئی چیز شریعت نہیں ہے۔

  • ’’امرھم شوریٰ بینہم‘‘


    اسلامی ریاست کے لیے نظام حکومت کا بنیادی ضابطہ قرآن مجید کی رو سے’اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ‘ہے۔

  • تاویل کی غلطی


    قرآن مجید کی دو آیات ہیں جنھیں اِس زمانے میں بعض اہل علم نے غلبۂ دین کے لیے اپنی جدوجہد کا ماخذ قرار دیا اور پھر اِسی بنیاد پر فرائض دینی میں ایک ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ کا اضافہ کر دیا ہے ۔  اِن آیات کی یہ تاویل ، ہمارے نزدیک عربیت کی رو سے محل نظر اور قرآن مجید کے مدعا کے بالکل خلاف ہے۔

  • اسلام اور تصوف


    ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے ، اُس کے لیے ہمارے ہاں تصوف کی اصطلاح رائج ہے ۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے ۔

  • اہل ’’بیعت‘‘ کی خدمت میں(۱)


    اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و طاعت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ بیعت سمع و طاعت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہو سکتی ہے تو اُنھی کے لیے ہو سکتی ہے ۔

  • اہل ’’بیعت‘‘ کی خدمت میں(۲)


    اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و طاعت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ بیعت سمع و طاعت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہو سکتی ہے تو اُنھی کے لیے ہو سکتی ہے ۔

  • اہل ’’بیعت‘‘ کی خدمت میں (۳)


    اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و طاعت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ بیعت سمع و طاعت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہو سکتی ہے تو اُنھی کے لیے ہو سکتی ہے ۔

  • اہل ’’بیعت‘‘ کی خدمت میں (۴)


    اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و طاعت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ بیعت سمع و طاعت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہو سکتی ہے تو اُنھی کے لیے ہو سکتی ہے ۔

  • ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘ کی خدمت میں


    پروفیسر طاہر القادری صاحب کے دینی نقطۂ نظر کے بارے میں کچھ بہت حسن ظن تو مجھے اِس سے پہلے بھی نہیں تھا، لیکن۱۱، نومبر ۱۹۸۸ کی شام جب صدیق مکر م ڈاکٹرمنیر احمد صاحب کے تو جہ دلانے پر سورۂ الضحٰی کے بارے میں اُن کی تقریر کا کچھ حصہ میں نے ٹیلی وژن پرسنا تو حقیقت یہ ہے کہ کچھ دیر تک مجھے یقین نہیں ہوا کہ یہ فی الواقع پروفیسر طاہر القادری ہی ہیں جن کے رشحات فکراِس وقت میں سن رہا ہوں ۔

  • اسلامی انقلاب


    نصف صدی ہونے کو ہے۔ ہم اِس ملک میں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اِس کے لیے اٹھے، اُن کی پہلی نسل ختم ہو گئی اور اب دوسری میدان میں ہے۔ اِس کے لیے بہت کچھ لکھا گیا اور بہت ہنگامے برپا ہوئے ہیں۔ اِس راہ میں جوانوں نے اپنا خون بہایا اور بزرگوں نے بارہا خود اپنی تمناؤں کو لحد میں اتاراہے۔ اِس قدر سعی و جہدا ور اتنی قربانیوں کے بعد کم سے کم یہ توقع تو کی جاسکتی تھی کہ منزل تک نہ بھی پہنچتے تواُس کے نشانات اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے، لیکن ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ منزل کا دور دور تک پتا نہیں۔

  • دعوت کے حدود


    دعوت دین کی جدوجہد کے ساتھ ایک بڑا حادثہ اِس زمانے میں یہ ہوا ہے کہ اِس کے علم بردار اُن حدود کو بالعموم ملحو ظ نہیں رکھ سکے جو اِس کام میں لازماً ملحوظ رہنے چاہییں۔ ماضی میں جو کچھ ہو چکا، اُس کی اصلاح تو اب ممکن نہیں ہے، لیکن مستقبل میں جو لوگ اِس مقصد کے لیے اٹھیں گے، اور خدا نے چاہا تو یقیناًاٹھیں گے،اُن کی رہنمائی کے لیے یہ حدود ہم یہاں بیان کیے دیتے ہیں تاکہ حق کے سچے طالبوں کے لیے اِس معاملے میں کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے ۔

  • ’’غلطی ہاے مضامین‘‘


    ڈاکٹر محمود الحسن صاحب کے اُس مضمون کے جواب میں لکھا گیا جو اِسی عنوان کے تحت ۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ کے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں شائع ہوا۔

Article Image

Jihad and the muslims in the light of Woolwhich attack

A short talk by Dr. Khalid Zaheer on the subject 'Condemnation of Terrorism'. Watch this video ...

Top Videos Updated every 24 hours

Javed Ghamidi with Mufti Naeem - Fatwa on Zakat

Article Image Is it allowed to pay zakat to charity institutions such as Edhi Foundation, Shaukat Khanum etc? Watch this video ...

Ghamidi: Call to the State & Religious Scholars

Article Image The role of state and religious scholars vis-a-vis the institution of mosque Watch this video ...

Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours