اِس مجموعۂ مضامین کی تحریریں زیادہ تر معاصر مذہبی فکر کی تنقید میں ہیں ۔ اِسی رعایت سے میں نے اِن کے لیے ’’برہان‘‘ کا نام تجویز کیا ہے ۔ اِن کا اسلوب ، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے لیے گراں باری خاطر کا باعث ہو۔ یہ سب اگر ذوق خامہ فرسائی کی تسکین کے لیے ہوتا تو میں اِن کی اشاعت کے لیے کبھی آمادہ نہ ہوتا ، لیکن جس احساس ذمہ داری کی بنا پر یہ لکھی گئی تھیں، اُس کا تقاضا ہے کہ یہ قارئین تک پہنچتی رہیں۔