عملی جدوجہد کا آغاز
کالج کے زمانے میں جناب جاوید احمد غامدی نے چند دوستوں سے مل کر ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز کی حیثیت سے کام کرے۔ اِسی کے تسلسل میں ایک دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ بھی تھا۔ خیال تھا کہ اِس دارالعلوم سے جو لوگ پڑھ کر نکلیں، آیندہ کے لیے تحریک کی قیادت اُنھی میں سے منتخب کی جائے اور اس طرح وہ خامی دور کر دی جائے جو جماعت اسلامی کی تحریک میں باقی رہ گئی ہے۔ ’’دائرۃ الفکر‘‘ کو بعد ازاں ’’دارالاشراق‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے دوستوں کی یہ جدوجہد تین چار سال تک جاری رہی، مگر مالی اور افرادی وسائل کی کمیابی کی وجہ سے ادارہ بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہا۔ اس کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’میں نے جس دور میں شعور کی آنکھ کھولی، وہ اسلامی انقلاب کے لیے قائم ہونے والے اداروں اور تنظیموں کا دور تھا۔ انسان اپنے گردوپیش سے متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں نے بھی ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُن میں یار عزیز ڈاکٹر ساجد علی سب سے نمایاں تھے۔ وہ اِس وقت پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے سربراہ ہیں۔ لنک میکلوڈ روڈ پر میرے پاس کرایے کا ایک کمرا تھا۔ ماہنامہ ’’خیال‘‘ کے نام سے میں وہاں سے ایک رسالہ شائع کرنا چاہتا تھا۔ اِس ادارے کی ابتدا اِسی کمرے سے ہوئی۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک تحریک برپا کی جائے جس میں یہ ادارہ ایک علمی مرکز اور مرکز قیادت کی حیثیت سے کام کرے۔ اِس کے بعد ایک دارالعلوم قائم کرنے کا ارادہ تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ اِس دارالعلوم سے جو لوگ پڑھ کر نکلیں، آیندہ کے لیے تحریک کی قیادت اُنھی میں سے منتخب کی جائے۔ یہ ایک رومانوی تصور تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی جماعت میں جو خامی رہ گئی ہے، وہ اِسی طرح دور کی جاسکتی ہے۔ دو تین ماہ تک ہم لنک میکلوڈ روڈ کے اِس کمرے میں ملتے اور پڑھتے پڑھاتے رہے، لیکن اندازہ ہوا کہ پیش نظر مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اکٹھے گزارنا ضروری ہے۔ چنانچہ اُن دوستوں نے، جو ہاسٹل میں رہتے تھے، فیصلہ کیا کہ وہ ہاسٹل چھوڑ دیں گے اور اپنا سب جیب خرچ اور ہاسٹل کے اخراجات کے لیے ملنے والی رقم ملا کر ایک مکان کرایے پر لیں گے، جہاں اِس تحریک کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ میرا گھر اُس زمانے میں لاہور ریلوے اسٹیشن کے پاس محلہ سلطان پورہ میں تھا۔ تلاش شروع ہوئی تو ایک مکان قریب ہی مل گیا اور یہ سب دوست وہاں منتقل ہو گئے۔
ہم جو دارالعلوم قائم کرنا چاہتے تھے، اُس کا نام ہم نے ’’جامعہ الحمرا‘‘ تجویز کیا تھا۔ اِس کی رعایت سے ’’الحمرا‘‘ کے نام سے ایک مجلہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوستوں کے مشورے سے طے ہوا کہ اِس کے لیے کتابت کے بجاے ٹائپ پر چھاپنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں حروف جوڑ کر عبارت تیار کی جاتی ہے۔ جن لوگوں کو اِس طریقۂ طباعت کا تجربہ ہے، وہ جانتے ہیں کہ اِس میں پروف کی غلطیاں بہت ہوتی تھیں جنھیں دقت نظر سے درست کرنا پڑتا تھا۔ ہمارے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ پروف دیکھ کر ہم پریس والوں کے حوالے کر آئے اور مطمئن ہو گئے کہ غلطیوں کی تصحیح ہو جائے گی۔ مگر مجلہ چھپ کر آیا تو معلوم ہوا کہ جن غلطیوں کی نشان دہی کی گئی تھی، اُن میں سے کوئی غلطی بھی درست نہیں ہوئی۔ اب اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اُسے ضائع کر دیا جائے۔ یہ پہلا حادثہ تھا جس سے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث دوچار ہونا پڑا۔ ابھی اِس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور افتاد آپڑی۔ چند ہی مہینوں کے بعد ہمیں وہ مکان خالی کرنا پڑا جس میں اپنی تحریک کا ایک مرکز ہم نے قائم کر لیا تھا۔ نیا مکان کئی مہینوں کی تگ و دو سے ملا۔ یہ ماڈل ٹاؤن کے جے بلاک میں ۲۹ نمبر مکان تھا۔ ہم نے خدا کا شکر کیا کہ تعطل کا زمانہ زیادہ طویل نہیں ہوا اور کام ایک مرتبہ پھر شروع ہوگیا ہے۔
۱۹۷۱ء کے جون میں ہماری ملاقات لاہور کے ایک ایڈووکیٹ چودھری محمد انور صاحب سے ہوئی۔ اُن کے ایک بزرگ دوست سید بدر بخاری بھی اِس ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔ یہ دونوں ہمارے پروگرام سے بہت متاثر ہوئے۔ اُن کی تجویز تھی کہ اِس کام کو آگے بڑھانے کے لیے علامہ اقبال روڈ پر اُن کے محلے میں درس قرآن کا ایک حلقہ قائم کیا جائے۔ ۷؍جولائی کو یہ حلقہ قائم ہوا اور اِس کے نتیجے میں ہم طالب علموں کو چند بڑوں کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ اِن میں سید ارشد بخاری اور شیخ محمد ارشد سب سے نمایاں تھے۔ یہ دونوں دوست تھے اور واپڈا میں ملازمت کرتے تھے۔ اِس سے پہلے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے درسوں میں بڑی باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اِن دونوں کو’’ ارشدین‘‘ کہا کرتے تھے۔ ڈیڑھ دوبرس تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اب کافی لوگ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار تھے۔ لہٰذا سیدبدربخاری کی امارت میں تحریک کا باقاعدہ نظم قائم کر دیا گیا۔ اہل حدیث کے ایک ممتاز عالم مولانا عبدالرحمن صاحب مدنی ہمارے قریب ہی رہتے تھے۔ وہ بھی اُس میں شامل ہو گئے۔ درس کے بعض دوسرے شرکا نے بھی اُس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ بدربخاری صاحب عمر کے اُس حصے میں تھے کہ اِس طرح کے کسی نظم کی قیادت اُن کے لیے آسان نہ تھی۔ لہٰذا چند مہینوں کے اندر ہی باہمی مشورے سے یہ تنظیم ختم کر دی گئی۔
مارچ ۱۹۷۳ میں ہم نے ’’دائرۃ الفکر‘‘ سے ایک مجلہ ’’اشراق‘‘ کے نام سے چھاپا۔ ہمارا خیال تھا کہ ڈیکلریشن مل جائے گا تو اِسے ایک باقاعدہ رسالے کی صورت دے دیں گے اور اِس کے ذریعے سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں گے، لیکن بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ ڈیکلریشن ملنا آسان نہیں ہے۔ اِس لیے یہ اسکیم روبہ عمل نہ ہو سکی۔ اِس کے چند ماہ بعد ہمارے مالک مکان نے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ اُس وقت کے حالات میں ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ اُس کا مطالبہ پورا کرتے، اِس لیے ماڈل ٹاؤن کا یہ مکان بھی چھوڑنا پڑا۔ اِس کے بعد کئی مہینے تک ہم لوگ منتشر رہے۔ ادارہ بھی معطل رہا۔ خداخدا کر کے گارڈن ٹاؤن کے احمد بلاک میں ایک مکان ملا۔ دوست جمع ہوئے، سازو سامان درست کیا گیا اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
ہمارے بعض دوستوں کو ’’دائرۃ الفکر‘‘ کا نام پسند نہیں تھا۔ چنانچہ اِس کی جگہ ادارے کے لیے ’’دارالاشراق‘‘ کا نام اختیار کیا گیا۔ ابتدا میں جو طالب علم اِس سے متعلق ہوئے تھے، اُن میں سے میں اور ساجد علی ہی باقی تھے۔ شیخ افضال احمد، مستنصرمیر، چودھری الیاس احمد اورچودھری محمد رفیق نئے رفقا تھے۔ ہمارے دوست ذوالفقار احمد خاں بھی اِسی دور کی یادگار ہیں۔ وہ ہمارے قریب ہی رہتے تھے، اور اگرچہ ادارے سے متعلق نہیں تھے، مگر اُسی کے ایک فرد سمجھے جاتے تھے۔ یہی معاملہ اصغرنیازی اور محمد طارق میکن کا بھی تھا۔ یہ دونوں دوستانہ تعلق سے ہمارے پاس مقیم تھے۔‘‘




{comment_total} Comments