loading...

حمید الدین فراہی (تصنیفات)

Article Image

مولانا ان معنوں میں مصنف نہیں تھے جن معنوں میں لوگ عموماً مصنف ہوا کرتے ہیں۔ وہ محض لکھنے کی خاطر لکھنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ لکھنے کے لیے صرف اس وقت قلم اٹھاتے تھے جب ان کے سامنے کوئی نئی تحقیق آتی تھی۔ان کو ایک مصنف کے بجائے ایک مفکر اور ایک فلسفی کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ وہ لکھنے سے زیادہ غور کرتے تھے اور یہ غور وفکر بیک وقت مختلف مباحث و مسائل پر جاری رہتا تھا۔ مولانا ان سارے مسائل کو الگ الگ عنوان بحث و تحقیق قرار دے لیتے اور ان کے متعلق اپنے نتائج افکار جمع کرتے جاتے۔ جب کوئی بات ذہن میں آتی اس کو فوراً کسی رقعے پرزے پر ٹانک لیتے۔ لکھتے ہمیشہ پنسل سے تھے لیکن نہایت خوش خط اور خوش سواد تھے اس وجہ سے ان کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنے میں کوئی زحمت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح کی جو یادداشت لکھتے اس پر اسی وقت یہ بھی نوٹ کر دیتے کہ یہ کس کتاب سے متعلق ہے۔ یہ یادداشتیں گویا اس کتاب کی فصلیں ہوتیں۔ اس طرح جب کسی کتاب کی تمام فصلیں ان کے ذہنی خاکہ کے مطابق پوری ہو جاتیں تو ان یادداشتوں کو کچھ کم و بیش کر کے مرتب کر دیتے اور کتاب تیار ہو جاتی۔ مولانا کے اس مخصوص طریقہ تصنیف کے سبب سے بیک وقت ان کے زیرقلم یا صحیح تر الفاظ میں ان کے زیر فکر متعدد تصنیفات رہتی تھیں۔ جن میں سے بعض تکمیل کو پہنچ جاتی تھیں، بعض چلتی رہتی تھیں اور بعض آخر تک ایک آدھ فصلوں سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
ہم یہاں مولاناکی صرف ان تصنیفات کا ذکر کریں گے جو یا تو مکمل ہو کر شائع ہو چکی ہیں یا شائع تو نہیں ہوئی ہیں لین ان کا معتدبہ حصہ یا تو مولانا لکھ چکے تھے یا ان سے متعلق ان کی یادداشتوں کا کافی ذخیرہ موجود ہے جن کو ایک مناسب ترتیب کے ساتھ اگر شائع کر دیا جائے تو اہل علم کے لیے وہ نہایت قیمتی ذخیرہ تحقیق فراہم کر سکتی ہیں۔

مولانا کی مطبوعہ کتابیں یہ ہیں۔

’’تفسیر نظام القرآن و تاویل الفرقان بالفرقان‘‘ مولانا کی تفسیر نظام القرآن کے چند اجزا اصل عربی میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اردو ترجمہ یہ ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطالعہ سے ناظرین اس تفسیر کی نوعیت کا اندازہ کر سکیں گے۔ ان اجزا کے علاوہ تفسیر سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کا کچھ حصہ مسودہ کی صورت میں موجود ہے۔ باقی سورتوں کی خاص خاص مشکلات اور ان کے نظام پر مولانا کی یادداشتیں موجود ہیں۔
’’فاتحۃ نظام القرآن‘‘ اس مجموعہ میں تفسیر نظام القرآن کا مقدمہ ہے جس میں مولانا نے اپنے اصول تفسیر سے بحث کی ہے۔ نیز آیۃ بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی مجموعہ تفاسیر فراہیؒ میں شامل ہے۔
’’مفردات القرآن‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے قرآن مجید کے بعض مشکل الفاظ کی، جن کے بارہ میں وہ دوسرے مفسرین اور عامل اہل لغت سے اختلاف رکھتے ہیں، تحقیق بیان کی ہے، اور کلام عرب سے اپنے قول کی تائید میں دلائل پیش کیے ہیں۔
’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے پہلے قَسم کی حقیقت اور اس کی مختلف قسموں پر اصولی بحث کی ہے۔ اس کے بعد ان قَسموں کی حقیقت واضح کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہیں۔ اس رسالہ کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
’’الرائی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ اس رسالہ میں پہلے قربانی کی حقیقت اور اسلام میں اس کی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد توریت اور قرآن مجید کے دلائل سے نہایت تفصیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے جس بیٹے کی قربانی کی وہ حضرت اسمٰعیلؑ ہیں نہ کہ حضرت اسحق، جیسا کہ یہود کا دعویٰ ہے۔ مولانا شبلی نعمانی مرحوم نے سیرت النبیؐ میں حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ پر جو معرکہ آرا بحث لکھی ہے وہ تمام تر اسی رسالہ سے ماخوذ ہے۔ میرے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
’’جمھرۃ البلاغہ‘‘ اس کتاب میں مولانا نے مروجہ علم بلاغت کو، جو سکّاکی اور جرجانی کی کتابوں میں ہے، یونانیوں سے ماخوذ ثابت کیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ عربی ادب خصوصاً قرآن حکیم کی خوبیوں کو جانچنے کے لیے یہ فن بلاغت کسی طرح کسوٹی کا کام نہیں دے سکتا۔ ساتھ ہی فصحائے عرب کے کلام سے بلاغت کے وہ اصول متعین کیے ہیں جو قرآن کی بلاغت کو پرکھنے کے لیے معیار کا کام دے سکتے ہیں۔
’’اسباق النحو (حصہ اول و دوم)‘‘ ان دونوں کتابوں میں مولانا نے ابتدائی نحو و صرف کو نہایت سائنٹفک اور آسان طرز پر مرتب کر دیا ہے اور تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ نحو و صرف کی ابتدائی تعلیم کے لیے یہ دونوں رسالے نہایت مفید ہیں۔
’’دیوان حمید‘‘ مولانا کے فارسی کلام کا مجموعہ۔
’’خرد نامہ‘‘ امثال سلیمانؑ کا خالص فارسی (دری زبان) میں منظوم ترجمہ۔
10۔ ’’شفاعت اور کفارہ کی تردید میں ایک رسالہ (بزبان انگریزی)‘‘ نصاریٰ کے عقیدۂ شفاعت اور کفارہ کی تردید میں مولانا نے یہ رسالہ انگریزی میں لکھا۔
مولانا کی تصنیفات کا جو ذخیرہ ابھی مسودات کی صور ت میں پڑا ہوا ہے اس کی فہرست بھی اچھی خاصی لمبی ہے۔ ہم اس میں سے یہاں چند ایسی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں جو اگرچہ بناتمام ہیں لیکن اس ناتمام حالت میں بھی اگر ان کی اشاعت ہو سکے تو اہل علم کے لیے وہ گرانمایہ دولت ہیں۔
11۔ ’’تفسیر نظام القرآن و تاویل الفرقان بالفرقان‘‘ سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی تفسیروں کا تھوڑا تھوڑا حصہ موجود ہے۔ ان کے علاوہ قرآن مجید کی اکثر سورتوں کی اہم مشکلات اور ان کے عمود اور نظام سے متعلق مولانا کی یادداشتوں کا ذخیرہ ہے۔
12۔ ’’دلائل النظام‘‘ اس کتاب میں مولانا نے اپنے اس دعویٰ کو کہ قرآن میں نظم ہے نہایت مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے اور مشکلات نظم کے حل کے لیے اصول بیان کر کے قرآن کی مثالوں سے ان کو اچھی طرح واضح کیا ہے۔
13۔ ’’اسالیب القرآن‘‘ قرآن میں زبان کے بہت سے ایسے اسلوب استعمال ہوئے ہیں جو صرف عربی زبان اور قرآن مجید کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مولانا نے کلام عرب اور قرآن کی مثالوں سے ان اسالیب کو اچھی طرح واضح کر دیا ہے تاکہ ان کے نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے تاویل کی جو مشکلیں پیدا ہو تی ہیں وہ دور ہو جائیں۔
14۔ ’’اصول التاویل‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے وہ اصول بیان کیے ہیں جو قرآن کی تاویل میں پیش نظر رکھنے چاہییں، اور جن کو خود انھوں نے اپنی تفسیر نظام القرآن میں پیش نظر رکھا ہے۔
15۔ ’’القائد الی عیون العقائد‘‘ اس میں مولانا نے دین کے اصولی مباحث توحید، رسالت اور معاد وغیرہ پر قرآنی دلائل کی وضاحت کی ہے اور ہمارے جدید علم کلام کو جن اصولوں پر مرتب ہونا چاہیے ان کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔
16۔ ’’حجج القرآن‘‘ اس میں مولانا نے پہلے منطق، فلسفہ قدیم اور فلسفہ جدید کی خامیوں سے بحث کی ہے، اس کے بعد قرآنی فلسفہ کے اصول بیان کرکے ان کی عقلی قدر و قیمت واضح کی ہے۔
17۔ ’’کتاب الحکمۃ‘‘ اس میں مولانا نے حکمت قرآن اور اس کے استنباط کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔
18۔ ’’ملکوت اللّٰہ‘‘ اس میں مولانا نے پہلے ان قوانین کی وضاحت کی ہے جو قوموں کے عروج و زوال اور حق کی فتح اور باطل کی شکست سے متعلق قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور پھر ان کی روشنی میں اسلامی نظام ریاست کی وضاحت کی ہے۔
19۔ ’’کتاب الرسوخ فی معرفۃ الناسخ والمنسوخ‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے قرآن کے ناسخ و منسوخ سے متعلق اپنے نظریات کی وضاحت کی ہے۔
20۔ ’’دیوان ابی احمد الانصاری‘‘ یہ مولانا کا عربی دیوان ہے۔ اس میں مولانا کا وہ مشہور قصیدہ بھی ہے جو مولانا نے طرابلس کے خونیں حوادث پر لکھا تھا اور جس کا ایک ایک شعر خون جگر سے لکھا گیا ہے۔ مولانا کا یہ قصیدہ جب شیخ سنوسی نے سنا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اسی طرح کی چیزوں کے سبب سے ایک زمانہ میں انگریزی حکومت کی سی آئی ڈی مولانا پر مستقلاً مسلط رہتی تھی۔
ذیل میں مولانا کی بعض ان کتابوں کی فہرست دی جاتی ہے جن کی چند فصلوں اور کچھ یادداشتوں سے زیادہ وہ نہ لکھ سکے لیکن یہ منتشر فصلیں اور غیر مرتب یادداشتیں اس قدر قیمتی ہیں کہ ان کی مدد سے ان مباحث پر بہت کچھ کام کیا جا سکتا ہے۔
21۔ ’’الرائع فی اصول الشرائع‘‘۔
22۔ ’’احکام الاصول باحکام الرسول‘‘ اس میں مولانا اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیمات اور ہدایات دی ہیں وہ تمام تر قرآن سے مستنبط ہیں۔
23۔ ’’کتاب العقل و مافوق العقل‘‘۔
24۔ ’’الاکلیل فی شرح الانجیل‘‘ اس میں مولانا نے انجیل کے ان الفاظ اور عبارتوں کی شرح کی ہے جن کی نصاریٰ نے خاص طور پر تحریف کی ہے۔
25۔ ’’اسباب النزول‘‘ اس میں آیات قرآن کے شان نزول سے متعلق مولانا نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے۔
26۔ ’’تاریخ القرآن‘‘ معلوم ہوتا ہے مولانا قرآن کے جمع و ترتیب سے متعلق اپنا نظریہ اس میں خود قرآنی دلائل سے ثابت کرنا چاہتے تھے۔
27۔ ’’اوصاف القرآن‘‘۔
28۔ ’’فقہ القرآن‘‘ اس میں مولانا فقہی مسائل سے متعلق اپنے لطیف استنباطات جمع کرنا چاہتے تھے۔
29۔ ’’رسالۃ فی اصلاح الناس‘‘ اس میں مولانا نے مسلمانوں کی اصلاح سے متعلق اپنا نقطۂ نظر بیان فرمایا ہے۔ اس کا ترجمہ میرے قلم سے رسالہ الاصلاح میں شائع ہو چکا ہے۔
30۔ ’’الازمان والادیان‘‘ اس رسالہ میں اس امر سے بحث کی ہے کہ دین میں خاص خاص مہینوں اور دنوں اور تاریخوں اور اوقات کا جو اہتمام ہوتا ہے اس میں کیا رمز ہے۔
31۔ ’’فلسفہ البلاغۃ‘‘ اس کے مباحث مولانا کی کتاب جمہرۃ البلاغہ میں، جو چھپ کر شائع ہو چکی ہے، آچکے ہیں۔
32۔ ’’سلیقۃ العروض‘‘ مولانا نحور اور صرف کی طرح فن عروض کو بھی سائنٹفک طریقہ پر مرتب کر دینا چاہتے تھے تاکہ طلبہ کو اس کے سیکھنے میں کوئی زحمت باقی نہ رہے۔
33۔ ’’النحو الجدید‘‘ نحو و صرف کی ترتیب کے سلسلہ میں اسباق النحو کے دو حصوں کے بعد مولانا کا یہ دوسرا قدم تھا اگر یہ کتاب تکمیل کو پہنچ گئی ہوتی تو جہاں تک نحو کا تعلق ہے یہ کتاب طلبہ کو دوسری تمام کتابوں سے بالکل مستغنی کر دیتی۔

اس فہرست پر ایک نظر ڈال کر ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ مولانا قرآن حکیم کو مرکز بنا کر تمام اسلامی علوم کو ازسرنو مرتب کرنا چاہتے تھے تاکہ آدمی پر جو دروازہ بھی کھلے وہ قرآن کی راہ سے کھلے اور وہ جس راہ میں بھی چلے قرآن کی روشنی اس کی رہنمائی کرے۔ یہ ساری جدوجہد مولانا مسلمانوں، خصوصاً علما کے اندر، ایک صحیح قسم کا فکری انقلاب پیدا کرنے کے لیے کر رہے تھے تاکہ یہ فکری انقلاب ایک صحیح قسم کے عملی اور سیاسی انقلاب کے لیے محرک کا کام دے۔

 

Imam Hamid Uddin Farahi (Publications)

Article Image

References in this article

Comments/Notes

Source:

    No results found.

Imam Hamid Uddin Farahi (Publications)

Imam Amin Ahsan Islahi

حمید الدین فراہی (تصنیفات)

Imam Amin Ahsan Islahi

مولانا ان معنوں میں مصنف نہیں تھے جن معنوں میں لوگ عموماً مصنف ہوا کرتے ہیں۔ وہ محض لکھنے کی خاطر لکھنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ لکھنے کے لیے صرف اس وقت قلم اٹھاتے تھے جب ان کے سامنے کوئی نئی تحقیق آتی تھی۔ان کو ایک مصنف کے بجائے ایک مفکر اور ایک فلسفی کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ وہ لکھنے سے زیادہ غور کرتے تھے اور یہ غور وفکر بیک وقت مختلف مباحث و مسائل پر جاری رہتا تھا۔ مولانا ان سارے مسائل کو الگ الگ عنوان بحث و تحقیق قرار دے لیتے اور ان کے متعلق اپنے نتائج افکار جمع کرتے جاتے۔ جب کوئی بات ذہن میں آتی اس کو فوراً کسی رقعے پرزے پر ٹانک لیتے۔ لکھتے ہمیشہ پنسل سے تھے لیکن نہایت خوش خط اور خوش سواد تھے اس وجہ سے ان کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنے میں کوئی زحمت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح کی جو یادداشت لکھتے اس پر اسی وقت یہ بھی نوٹ کر دیتے کہ یہ کس کتاب سے متعلق ہے۔ یہ یادداشتیں گویا اس کتاب کی فصلیں ہوتیں۔ اس طرح جب کسی کتاب کی تمام فصلیں ان کے ذہنی خاکہ کے مطابق پوری ہو جاتیں تو ان یادداشتوں کو کچھ کم و بیش کر کے مرتب کر دیتے اور کتاب تیار ہو جاتی۔ مولانا کے اس مخصوص طریقہ تصنیف کے سبب سے بیک وقت ان کے زیرقلم یا صحیح تر الفاظ میں ان کے زیر فکر متعدد تصنیفات رہتی تھیں۔ جن میں سے بعض تکمیل کو پہنچ جاتی تھیں، بعض چلتی رہتی تھیں اور بعض آخر تک ایک آدھ فصلوں سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
ہم یہاں مولاناکی صرف ان تصنیفات کا ذکر کریں گے جو یا تو مکمل ہو کر شائع ہو چکی ہیں یا شائع تو نہیں ہوئی ہیں لین ان کا معتدبہ حصہ یا تو مولانا لکھ چکے تھے یا ان سے متعلق ان کی یادداشتوں کا کافی ذخیرہ موجود ہے جن کو ایک مناسب ترتیب کے ساتھ اگر شائع کر دیا جائے تو اہل علم کے لیے وہ نہایت قیمتی ذخیرہ تحقیق فراہم کر سکتی ہیں۔

مولانا کی مطبوعہ کتابیں یہ ہیں۔

’’تفسیر نظام القرآن و تاویل الفرقان بالفرقان‘‘ مولانا کی تفسیر نظام القرآن کے چند اجزا اصل عربی میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اردو ترجمہ یہ ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطالعہ سے ناظرین اس تفسیر کی نوعیت کا اندازہ کر سکیں گے۔ ان اجزا کے علاوہ تفسیر سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کا کچھ حصہ مسودہ کی صورت میں موجود ہے۔ باقی سورتوں کی خاص خاص مشکلات اور ان کے نظام پر مولانا کی یادداشتیں موجود ہیں۔
’’فاتحۃ نظام القرآن‘‘ اس مجموعہ میں تفسیر نظام القرآن کا مقدمہ ہے جس میں مولانا نے اپنے اصول تفسیر سے بحث کی ہے۔ نیز آیۃ بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی مجموعہ تفاسیر فراہیؒ میں شامل ہے۔
’’مفردات القرآن‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے قرآن مجید کے بعض مشکل الفاظ کی، جن کے بارہ میں وہ دوسرے مفسرین اور عامل اہل لغت سے اختلاف رکھتے ہیں، تحقیق بیان کی ہے، اور کلام عرب سے اپنے قول کی تائید میں دلائل پیش کیے ہیں۔
’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے پہلے قَسم کی حقیقت اور اس کی مختلف قسموں پر اصولی بحث کی ہے۔ اس کے بعد ان قَسموں کی حقیقت واضح کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہیں۔ اس رسالہ کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
’’الرائی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ اس رسالہ میں پہلے قربانی کی حقیقت اور اسلام میں اس کی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد توریت اور قرآن مجید کے دلائل سے نہایت تفصیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے جس بیٹے کی قربانی کی وہ حضرت اسمٰعیلؑ ہیں نہ کہ حضرت اسحق، جیسا کہ یہود کا دعویٰ ہے۔ مولانا شبلی نعمانی مرحوم نے سیرت النبیؐ میں حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ پر جو معرکہ آرا بحث لکھی ہے وہ تمام تر اسی رسالہ سے ماخوذ ہے۔ میرے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
’’جمھرۃ البلاغہ‘‘ اس کتاب میں مولانا نے مروجہ علم بلاغت کو، جو سکّاکی اور جرجانی کی کتابوں میں ہے، یونانیوں سے ماخوذ ثابت کیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ عربی ادب خصوصاً قرآن حکیم کی خوبیوں کو جانچنے کے لیے یہ فن بلاغت کسی طرح کسوٹی کا کام نہیں دے سکتا۔ ساتھ ہی فصحائے عرب کے کلام سے بلاغت کے وہ اصول متعین کیے ہیں جو قرآن کی بلاغت کو پرکھنے کے لیے معیار کا کام دے سکتے ہیں۔
’’اسباق النحو (حصہ اول و دوم)‘‘ ان دونوں کتابوں میں مولانا نے ابتدائی نحو و صرف کو نہایت سائنٹفک اور آسان طرز پر مرتب کر دیا ہے اور تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ نحو و صرف کی ابتدائی تعلیم کے لیے یہ دونوں رسالے نہایت مفید ہیں۔
’’دیوان حمید‘‘ مولانا کے فارسی کلام کا مجموعہ۔
’’خرد نامہ‘‘ امثال سلیمانؑ کا خالص فارسی (دری زبان) میں منظوم ترجمہ۔
10۔ ’’شفاعت اور کفارہ کی تردید میں ایک رسالہ (بزبان انگریزی)‘‘ نصاریٰ کے عقیدۂ شفاعت اور کفارہ کی تردید میں مولانا نے یہ رسالہ انگریزی میں لکھا۔
مولانا کی تصنیفات کا جو ذخیرہ ابھی مسودات کی صور ت میں پڑا ہوا ہے اس کی فہرست بھی اچھی خاصی لمبی ہے۔ ہم اس میں سے یہاں چند ایسی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں جو اگرچہ بناتمام ہیں لیکن اس ناتمام حالت میں بھی اگر ان کی اشاعت ہو سکے تو اہل علم کے لیے وہ گرانمایہ دولت ہیں۔
11۔ ’’تفسیر نظام القرآن و تاویل الفرقان بالفرقان‘‘ سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی تفسیروں کا تھوڑا تھوڑا حصہ موجود ہے۔ ان کے علاوہ قرآن مجید کی اکثر سورتوں کی اہم مشکلات اور ان کے عمود اور نظام سے متعلق مولانا کی یادداشتوں کا ذخیرہ ہے۔
12۔ ’’دلائل النظام‘‘ اس کتاب میں مولانا نے اپنے اس دعویٰ کو کہ قرآن میں نظم ہے نہایت مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے اور مشکلات نظم کے حل کے لیے اصول بیان کر کے قرآن کی مثالوں سے ان کو اچھی طرح واضح کیا ہے۔
13۔ ’’اسالیب القرآن‘‘ قرآن میں زبان کے بہت سے ایسے اسلوب استعمال ہوئے ہیں جو صرف عربی زبان اور قرآن مجید کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مولانا نے کلام عرب اور قرآن کی مثالوں سے ان اسالیب کو اچھی طرح واضح کر دیا ہے تاکہ ان کے نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے تاویل کی جو مشکلیں پیدا ہو تی ہیں وہ دور ہو جائیں۔
14۔ ’’اصول التاویل‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے وہ اصول بیان کیے ہیں جو قرآن کی تاویل میں پیش نظر رکھنے چاہییں، اور جن کو خود انھوں نے اپنی تفسیر نظام القرآن میں پیش نظر رکھا ہے۔
15۔ ’’القائد الی عیون العقائد‘‘ اس میں مولانا نے دین کے اصولی مباحث توحید، رسالت اور معاد وغیرہ پر قرآنی دلائل کی وضاحت کی ہے اور ہمارے جدید علم کلام کو جن اصولوں پر مرتب ہونا چاہیے ان کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔
16۔ ’’حجج القرآن‘‘ اس میں مولانا نے پہلے منطق، فلسفہ قدیم اور فلسفہ جدید کی خامیوں سے بحث کی ہے، اس کے بعد قرآنی فلسفہ کے اصول بیان کرکے ان کی عقلی قدر و قیمت واضح کی ہے۔
17۔ ’’کتاب الحکمۃ‘‘ اس میں مولانا نے حکمت قرآن اور اس کے استنباط کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔
18۔ ’’ملکوت اللّٰہ‘‘ اس میں مولانا نے پہلے ان قوانین کی وضاحت کی ہے جو قوموں کے عروج و زوال اور حق کی فتح اور باطل کی شکست سے متعلق قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور پھر ان کی روشنی میں اسلامی نظام ریاست کی وضاحت کی ہے۔
19۔ ’’کتاب الرسوخ فی معرفۃ الناسخ والمنسوخ‘‘ اس رسالہ میں مولانا نے قرآن کے ناسخ و منسوخ سے متعلق اپنے نظریات کی وضاحت کی ہے۔
20۔ ’’دیوان ابی احمد الانصاری‘‘ یہ مولانا کا عربی دیوان ہے۔ اس میں مولانا کا وہ مشہور قصیدہ بھی ہے جو مولانا نے طرابلس کے خونیں حوادث پر لکھا تھا اور جس کا ایک ایک شعر خون جگر سے لکھا گیا ہے۔ مولانا کا یہ قصیدہ جب شیخ سنوسی نے سنا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ اسی طرح کی چیزوں کے سبب سے ایک زمانہ میں انگریزی حکومت کی سی آئی ڈی مولانا پر مستقلاً مسلط رہتی تھی۔
ذیل میں مولانا کی بعض ان کتابوں کی فہرست دی جاتی ہے جن کی چند فصلوں اور کچھ یادداشتوں سے زیادہ وہ نہ لکھ سکے لیکن یہ منتشر فصلیں اور غیر مرتب یادداشتیں اس قدر قیمتی ہیں کہ ان کی مدد سے ان مباحث پر بہت کچھ کام کیا جا سکتا ہے۔
21۔ ’’الرائع فی اصول الشرائع‘‘۔
22۔ ’’احکام الاصول باحکام الرسول‘‘ اس میں مولانا اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیمات اور ہدایات دی ہیں وہ تمام تر قرآن سے مستنبط ہیں۔
23۔ ’’کتاب العقل و مافوق العقل‘‘۔
24۔ ’’الاکلیل فی شرح الانجیل‘‘ اس میں مولانا نے انجیل کے ان الفاظ اور عبارتوں کی شرح کی ہے جن کی نصاریٰ نے خاص طور پر تحریف کی ہے۔
25۔ ’’اسباب النزول‘‘ اس میں آیات قرآن کے شان نزول سے متعلق مولانا نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے۔
26۔ ’’تاریخ القرآن‘‘ معلوم ہوتا ہے مولانا قرآن کے جمع و ترتیب سے متعلق اپنا نظریہ اس میں خود قرآنی دلائل سے ثابت کرنا چاہتے تھے۔
27۔ ’’اوصاف القرآن‘‘۔
28۔ ’’فقہ القرآن‘‘ اس میں مولانا فقہی مسائل سے متعلق اپنے لطیف استنباطات جمع کرنا چاہتے تھے۔
29۔ ’’رسالۃ فی اصلاح الناس‘‘ اس میں مولانا نے مسلمانوں کی اصلاح سے متعلق اپنا نقطۂ نظر بیان فرمایا ہے۔ اس کا ترجمہ میرے قلم سے رسالہ الاصلاح میں شائع ہو چکا ہے۔
30۔ ’’الازمان والادیان‘‘ اس رسالہ میں اس امر سے بحث کی ہے کہ دین میں خاص خاص مہینوں اور دنوں اور تاریخوں اور اوقات کا جو اہتمام ہوتا ہے اس میں کیا رمز ہے۔
31۔ ’’فلسفہ البلاغۃ‘‘ اس کے مباحث مولانا کی کتاب جمہرۃ البلاغہ میں، جو چھپ کر شائع ہو چکی ہے، آچکے ہیں۔
32۔ ’’سلیقۃ العروض‘‘ مولانا نحور اور صرف کی طرح فن عروض کو بھی سائنٹفک طریقہ پر مرتب کر دینا چاہتے تھے تاکہ طلبہ کو اس کے سیکھنے میں کوئی زحمت باقی نہ رہے۔
33۔ ’’النحو الجدید‘‘ نحو و صرف کی ترتیب کے سلسلہ میں اسباق النحو کے دو حصوں کے بعد مولانا کا یہ دوسرا قدم تھا اگر یہ کتاب تکمیل کو پہنچ گئی ہوتی تو جہاں تک نحو کا تعلق ہے یہ کتاب طلبہ کو دوسری تمام کتابوں سے بالکل مستغنی کر دیتی۔

اس فہرست پر ایک نظر ڈال کر ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ مولانا قرآن حکیم کو مرکز بنا کر تمام اسلامی علوم کو ازسرنو مرتب کرنا چاہتے تھے تاکہ آدمی پر جو دروازہ بھی کھلے وہ قرآن کی راہ سے کھلے اور وہ جس راہ میں بھی چلے قرآن کی روشنی اس کی رہنمائی کرے۔ یہ ساری جدوجہد مولانا مسلمانوں، خصوصاً علما کے اندر، ایک صحیح قسم کا فکری انقلاب پیدا کرنے کے لیے کر رہے تھے تاکہ یہ فکری انقلاب ایک صحیح قسم کے عملی اور سیاسی انقلاب کے لیے محرک کا کام دے۔

 

Content Categories

Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours

The Wisdom, The Divine Law
The Wisdom, The Divine Law

Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.

Comments on this Article


You are not logged in.

To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please , or you can Register for a free account.



Auto-login on future visits

Show my name in the online users list

Forgot your password?