loading...

امام امین احسن اصلاحی

Article Image

اسلام کے دور جدید کا دوسرا عالم دنیا سے رخصت ہو گیا۔
۱۹۳۰ء میں امام حمید الدین فراہی نے اِس عالم فانی سے رخت سفر باندھا تو صاحب ’’معارف‘‘ سید سلیمان ندوی نے اِس دور کے پہلے عالم کا ماتم کیا تھا۔ اِس کے کم و بیش ۶۷ برس بعد آج ہم فراہی کے جانشین امین احسن اصلاحی کا ماتم کر رہے ہیں۔ سقراط و فلاطوں، ابوحنیفہ اور ابو یوسف، ابن تیمیہ اور ابن قیم ۔۔۔ یہ جس طرح ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، فراہی و اصلاحی بھی دنیا میں اب ہمیشہ ایک ہی وجود کے دو نام رہیں گے:

چوں تمام افتد سراپا ناز می گرددنیاز
قیس را لیلیٰ ہمی نامند درصحرای من

علم کا جلال و جمال، فقر کا وقار، عجز کی تمکنت، مجسم استغنا، سراپا محبت، خدا کے آخری الہام کا عہد آفریں شارح، دین و شریعت میں ایک نئی دنیا کا نقیب، صاحب طرز انشا پرداز، صاحب طرز خطیب، حسن تکلم کا وہ انداز کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی:

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

http://www.javedahmadghamidi.com/index.php/videos/view/surah-fatihah-part-1

میں نے امین احسن کو سب سے پہلے ۱۹۷۳ء میں دیکھا او رپھر کسی اور طرف نہیں دیکھا۔ میرے لیے اُس وقت اُن کا دروازہ ’در نکشودہ‘ ہی تھا، لیکن میں نے ہمت کی اور اِسی بند دروازے پر بیٹھ گیا:

 

بردرنکشودہ ساکن شد در دیگر نہ زد

پھر وہ دروازہ کھلا اور اِس طرح کھلا کہ گویا اپنے ہی گھر کا دروازہ بن گیا۔ اُس دن سے آج تک علم و عمل کی جو دولت بھی ملی ہے، خدا کی عنایت سے اور اِسی دروازے سے ملی ہے:

 

ملکت عاشقی و گنج طرب
ہرچہ دارم زیمن ہمت اوست

۱۹۸۷ء میں جب میں نے ’’دبستان شبلی‘‘ کی داستان لکھی تو امام فراہی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: امین احسن اصلاحی اِسی نابغۂ عصر کے جانشین ہیں۔ وہ اپنے استاد سے آگے نہیں بڑھے تو پیچھے بھی نہیں رہے۔ حمید الدین جس مقام پر پہنچے تھے، اُن کی ساری عمر اِسی کے اسرارورموز کی وضاحت میں گزری ہے۔ اُن کی ’’تدبر قرآن‘‘ تفسیر کی کتابوں میں ایک بے مثال شہ پارۂ علم و تحقیق ہے۔ اُن کے قلم سے پچاس برس کے معرکوں کی روداد سنیے تو بقول عرفی:

 

رمح او گوید اگر جنگ وگر صلح کہ من
بہ کشاد گرہ جبہۂ خاقاں رفتم

میں نے لکھا تھا: ’’دبستان شبلی‘‘ کی آخری نشانی اب امین احسن ہی ہیں۔ اُن کے تلامذہ و احباب میں کتنے ہیں جو اِس حقیقت سے آگاہ ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے دس برس سے اِسی احساس کی آگ ہے جو میرے سینے میں سلگ رہی ہے۔ اِس کی چنگاریاں اپنی ہی راکھ میں دب جاتی ہیں، مگر بجھنے نہیں پاتیں:

 

کہ آتشے کہ نہ میرد ہمیشہ در دل ماست

اب یہ آخری نشانی بھی دنیا میں نہیں رہی۔ ۱۵ ؍دسمبر ۱۹۹۷ء کو صبح ۳ بجے، ٹھیک اُسی وقت جب وہ اپنے پروردگار کے حضور میں حاضری کے لیے اٹھا کرتے تھے، ہمیشہ کے لیے اُس کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ اُن کی ساری زندگی قرآن کے اسلوب و مدعا کی مشکلیں حل کرتے ہوئے گزری۔ اب کیا ہے، جہاں مشکل پیش آئے گی، خود صاحب قرآن سے پوچھ لیں گے۔ اُن کی دنیا تو اب وہ ہے کہ جہاں:

 

بے پردہ جلوہ ہا بہ نگاہی تواں خرید

امین احسن کیا تھے؟ اب سے کئی برس پہلے جب اِس شہر کے کچھ مذہب فروشوں نے اُن کا مقام معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا تو میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا تھا: مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرمایۂ فخر اگر کچھ ہے تو بس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے، لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اُس کی تگ و دو کا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پر یہ لوگ جیتے اورمرتے ہیں۔ اِن زخارف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اُس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے وہ طریقے جو اِن حضرات کے لیے ’ھَنِیْءًا مَّرِیْءًا‘ہیں، اُن کا ذکر بھی کوئی شخص اگر اُس کی مجلس میں کبھی کر دے تو اُس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اُس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا ، وہ یہ تھی کہ آدمی کا سایہ بھی اگر اُس کا ساتھ نہ دے تو اُسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔ اُس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکرو عمل کی سب غلاظتوں کو جمع کر کے اُنھیں دلائل فراہم نہیں کیے، دل و دماغ کو اِن غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا، اُنھیں اُن بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پر وہ اپنے شعور کے پہلے دن ہی سے فائز رہا ہے۔ اُس کی دنیا علم و دیانت کی دنیا ہے، مذہبی بہروپیوں اور سیاسی بازی گروں کے لیے اِس دنیا میں کوئی جگہ پیدا ہی نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنے ذرۂ ہستی میں ایک صحرا اور اپنے وجود میں ایک سمندر ہے۔ اُس کی اپنی اقلیم ہی میں اُس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اِس طرح کی چیزوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ اُس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے، وہ پیری مریدی کا نہیں، علم و تحقیق کا میدان ہے۔ اُس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ اُس شہ پارۂ علم و تحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ بندۂ امروز نہیں، مردفردا ہے اور اُس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا۔
’’تدبر قرآن‘‘ کی تسوید کا کام اِس مرد فردا نے ۱۹۵۷ء میں کسی وقت شروع کیا۔ اِس کی تیاری وہ اُس زمانے سے کر رہے تھے جب ۱۹۲۵ء میں امام فراہی نے اپنے گھر کے کسی گوشے میں کھڑے ہوئے اُن سے کہا تھا: امین احسن اخبار نویسی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھو گے؟ وہ بتاتے تھے کہ میں اُس زمانے میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور اچھے مشاہرے پر کام کر رہا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی توقف کے عرض کیا: میں آپ سے قرآن پڑھوں گا۔ امام فراہی نے اپنی اقامت گاہ ہی کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ یہاں ٹھیریں گے ، اور میں ادارت سے استعفا دے کر ایک مرتبہ پھر طالب علمانہ زندگی گزارنے کے لیے اُس کمرے میں آ کر ٹھیر گیا۔ بعد میں مولانا سید سلیمان ندوی نے کسی کالج میں پروفیسری کے لیے اُن کا نام تجویز کیا اور کالج کے ذمہ داروں سے ہامی بھر لی کہ وہ اُنھیں راضی کر لیں گے۔ امین احسن کو بتایا گیا تو وہ چلچلاتی دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے دارالمصنفین پہنچے اور سید صاحب سے عرض کیا: آپ نے اِس فقیر کا نام تجویز کیا، آپ کا شکریہ، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں یہ پیش کش قبول نہ کر سکوں گا۔ امام فراہی کو میں اُن کی زندگی میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ بتاتے تھے کہ سید صاحب بالکل حیران رہ گئے۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک غریب طالب علم اتنی بڑی پیش کش اِس طرح ٹھکرا دے گا۔ بعد میں اُنھوں نے ندوہ میں تقریر کرتے ہوئے بڑے تاثر کے ساتھ اِس واقعے کا ذکر کیا اور طلبہ سے کہا کہ دیکھو، طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال میں یہ بات کہہ کر چلا آیا، لیکن مجھے اندیشہ رہا کہ استاذ امام اِن دنوں اگر ’’دارالمصنفین‘‘ آئے تو ہو سکتا ہے کہ سید صاحب اُن سے بات کریں اور وہ مجھے بھیج دینے کا وعدہ کر لیں۔ اُن کا چہرہ ایک عجیب احساس فخر سے تمتما اٹھتا تھا، جب وہ یہ بتاتے تھے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ استاذ امام وہاں گئے بھی اور سید صاحب نے اُن سے بات بھی کی، لیکن اُنھوں نے صاف کہہ دیا: آپ امین احسن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ میں یہ ساری محنت آخر کس کے لیے کر رہا ہوں؟
فراہی کی یہ محنت رنگ لائی۔ ۱۹۳۰ء میں جب اُن کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اُنھوں نے امین احسن کو بلا بھیجا۔ وہ اُس وقت متھرا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ امین احسن کمرے میں داخل ہوئے تو فراہی نے اُنھیں دیکھ کر کہا: امین آ گئے۔ امین احسن کہتے تھے: اُنھوں نے میرا نام اپنی زبان سے اِس طرح ادا کیا کہ گویا نام نہیں لے رہے، اِس کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے علم و فکر کی امانت میرے سپرد کر رہے ہیں۔
امین احسن نے اپنی پوری زندگی اِسی امانت کا حق ادا کرنے میں صرف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے: ڈرتا ہوں، خدا کے حضور میں فراہی سے ملوں تو وہ میرے کام سے مطمئن نہ ہوں۔
’’تدبر قرآن‘‘ کیا ہے؟ وہ اِس کے تعارف میں لکھتے ہیں:

’’میں بلا کسی شائبہ فخر کے، محض بیان واقعہ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ یہ کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اِس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے، اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا دور اِسی کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں۔ اِس طویل مدت میں، میں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور بہت سے تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتارے ہیں، لیکن اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ کسی دور اور کسی حال میں بھی میرا ذہنی و قلبی تعلق اِس کتاب سے منقطع نہیں ہوا۔ میں نے اِس ساری مدت میں جو کچھ پڑھا ہے ، اِسی کو محور بنا کر پڑھا ہے۔ جو کچھ سوچا ہے ، اِسی کو سامنے رکھ کر سوچا ہے اور جو کچھ لکھا ہے ، بالواسطہ یا بلاواسطہ اِسی سے متعلق لکھا ہے۔ میں نے قرآن حکیم کی ایک ایک سورہ پر ڈیرے ڈالے ہیں، ایک ایک آیت پر فکری مراقبہ کیا ہے اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک ادبی یا نحوی اشکال کے حل کے لیے ہر اُس پتھر کو الٹنے کی کوشش کی ہے جس کے نیچے سے مجھے کسی سراغ کے ملنے کی توقع ہوئی ہے اور یہ راز بھی میں برملا ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اِس کام میں کوئی تکان یا افسردگی محسوس نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نہایت گہری لذت اور نہایت عمیق راحت کا احساس کیا ہے:

ہر زماں از غیب جانے دیگر است

میری چالیس سال کی محنتوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ، اِس میں میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی ۳۰،۳۵ سال کی کوششوں کے ثمرات بھی ہیں۔ مجھے بڑا فخر ہوتا اگر میں یہ دعویٰ کر سکتا کہ اِس کتاب میں جو کچھ بھی ہے، سب استاذ مرحوم ہی کا افادہ ہے، اِس لیے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ کرنے میں صرف اِس لیے احتیاط کرتا ہوں کہ مبادا میری کوئی غلطی اُن کی طرف منسوب ہو جائے۔ مولانا سے میرے استفادے کی شکل یہ نہیں رہی ہے کہ ہر آیت سے متعلق یقین کے ساتھ اُن کی رائے میرے علم میں آ گئی ہو، بلکہ میں نے اُن سے قرآن حکیم پر غور کرنے کے اصول سیکھے ہیں اور خود اُن کی رہنمائی میں پورے پانچ سال اِن اصولوں کا تجربہ کرنے میں بسر کیے ہیں۔ پھر اِنھی اصولوں کو سامنے رکھ کر آج تک کام کرتا رہا ہوں۔ اِس اعتبار سے اگرچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ سب کچھ استاذ ہی کا فیض ہے، لیکن اِس میں چونکہ بلاواسطہ افادے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ افادے کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، اِس وجہ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اِس کا جو حصہ مستحکم اور مدلل نظر آئے، اُس کو استاذ مرحوم کا صدقہ سمجھیے اور جو بات کمزور یا غلط نظر آئے، اُس کو میری کم علمی پر محمول فرمائیے۔‘‘(۱/۴۱)

اُنھوں نے لکھا ہے:

’’میں اپنے رب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اِس کتاب میں کسی ایک آیت کی بھی ایسی تفسیر نہیں کی جس میں مجھے کوئی تردد ہو۔ جہاں ذرا بھی تردد ہوا ہے، میں نے بے تکلف اُس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اِسی طرح یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ کسی ایک مقام میں بھی میں نے یہ کوشش نہیں کی ہے کہ کسی آیت کو اُس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا کر اپنے کسی نظریے یا کسی خیال کی تائید کے لیے استعمال کروں۔ قرآن سے باہر کی کسی چیز سے بھی کبھی میری کوئی خاص قلبی و ذہنی وابستگی نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے تو قرآن ہی کے لیے اور قرآن ہی کے تحت ہوئی ہے۔ اِس کتاب کے پڑھنے والے محسوس کریں گے کہ جہاں کہیں مجھے اپنے استاذ سے بھی اختلاف ہوا ہے، میں نے بے جھجک اُس کا بھی اظہار کر دیا ہے۔‘‘(۱/۴۲)

یہ تفسیر لاہور میں بھی لکھی گئی اور برسوں لاہور سے باہر خانقاہ ڈوگراں کے پاس ایک دور افتادہ گاؤں رحمن آباد میں سرسے اور شیشم کے درختوں کے نیچے بھی زیر تسوید رہی، جہاں نہ بجلی تھی، نہ پنکھا اور نہ تصنیف و تالیف کے لیے کوئی دوسری سہولت۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ مسودہ پسینے سے بھیگ رہا ہے، لیکن مصنف کا قلم اُسی طرح رواں دواں ہے۔ وہ اِس بات سے آگاہ تھے کہ ۔۔۔ بہریک گل زحمت صد خارمی بایدکشید ۔۔۔ قرآن کی مشکلوں کو حل کرنے اور اُس سے متعلق اپنے نتائج فکر کو سپرد قلم کرنے میں وہ دنیا کی ہر مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے:

طالباں را خستگی در راہ نیست
عشق خود راہ ست وہم خود منزل ست

امین احسن نے یہ تفسیر قرآن پر ایمان کی جس کیفیت میں لکھی ہے، اُسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یاد ہے، وہ سورۂ رحمن کی تفسیر لکھ رہے تھے۔ ’یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ‘ کے تحت جب یہ مسئلہ سامنے آیا کہ عام خیال کے مطابق موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، لیکن قرآن بالکل صریح ہے کہ یہ دونوں ہی پانیوں سے نکلتے ہیں تو اُنھوں نے مجھے تحقیق کے لیے کہا۔ میں نے دیکھا، اُن کے چہرے پر تردد کی کوئی پرچھائیں نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اطمینان تھا اور ایمان کی ایک عجیب روشنی تھی۔ اِس موقع پر اُنھوں نے جو کچھ کہا، میں اُسے بعینہٖ تو شاید دہرا نہ سکوں، لیکن مدعا یہی تھا کہ خدا کی قسم ، اگر موتی خود آ کر بھی مجھے کہیں کہ وہ صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں تو میں اُن سے کہہ دوں گا: تمھیں اپنی تخلیق میں شبہ ہوا ہے، قرآن کا بیان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
اُن کی پیدایش ۱۹۰۴ء میں یوپی کے ایک گاؤں بمہور میں ہوئی۔ اُن کے رشتے کے ایک چچا شبلی متکلم ندوی اُس زمانے میں ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے مہتمم تھے۔ اُنھی کے ایما پر امین احسن کے والد نے جنوری ۱۹۱۵ء میں اُنھیں اِس مدرسہ میں داخل کرا دیا۔ اُن کی ساری تعلیم سراے میر اعظم گڑھ کی اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ یہ ایک دینی مدرسہ تھا، لیکن انگریزی زبان میں اُن کی استعداد اتنی اچھی تھی کہ علوم عالیہ کی کتابیں اِس زبان میں نہ صرف یہ کہ بغیر کسی دقت کے پڑھتے، بلکہ اُن کے ادق مطالب دوسروں کو سمجھا دے سکتے تھے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم عربی بولنے پر قدرت نہیں رکھتے، لیکن وہ جب امام فراہی سے استفادے کے لیے اُن کے پاس مقیم تھے تو بے تکلف عربی بولتے تھے۔ مشہور عالم موسیٰ جار اللہ ہندوستان آئے تو امام فراہی سے ملنے مدرستہ الاصلاح بھی گئے۔ امین احسن ہی اُن کے میزبان تھے۔ عربی زبان میں گفتگو اور تقریر پر اُن کی قدرت دیکھ کر ایک دن اُنھوں نے پوچھا: عرب میں کتنے سال گزار کر آئے ہو؟ امین احسن نے جواب دیا: ’ما مست قدمی ھاتین قط بلاد العرب‘(میرے اِن دونوں پاؤں کو کبھی سرزمین عرب نے نہیں چھوا)۔ موسیٰ جار اللہ بڑی دیر تک اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔
اِسی زمانے میں ایک مرتبہ محمد علی جوہر اور سید سلیمان ندوی جیسے لوگوں کی موجودگی میں نوجوان امین احسن نے تقریر کی۔ اُن کی خطابت کا جو رنگ بعد میں نمایاں ہوا اور جس کی داد اپنے وقت کے بے مثل خطیب سید عطا اللہ شاہ بخاری نے اِس طرح دی کہ خطیب تو میں بھی ہوں، لیکن تم عالم بھی ہو اور خطیب بھی، اُس کی کچھ جھلک اِس تقریر میں بھی تھی۔ لوگوں نے بہت داد دی، لیکن وہ منتظر تھے کہ استاذ امام کیا کہتے ہیں۔ شام کو درس کے لیے حاضر ہوئے تو کسی نے امام فراہی سے ذکر کیا۔ وہ کچھ دیر دوسروں کی باتیں سنتے رہے، پھر اپنے خاص انداز میں فرمایا: ہاں بھئی، یہ بڑے ابوالکلام آزاد ہیں۔ امین احسن بتاتے تھے کہ اُنھوں نے لفظ ’آزاد‘ اِس طرح ادا کیا کہ اُن کی یہ تعریف میرے لیے تعریف کم اور تنبیہ زیادہ ہو گئی۔ میرے استاد کی تربیت کا یہی انداز تھا۔
اِس سے پہلے امام فراہی نے مدرسہ کے زمانے میں بھی اُن کی ایک تقریر کی تحسین اِن الفاظ میں کی تھی: ’’اِس طالب علم نے بہت اچھی تقریر کی ہے۔‘‘ اِس پر اُن کے استاد مولانا عبد الرحمن نگرامی نے عرض کیا: آپ کی اِس تحسین کی کوئی یادگار بھی اِس کے پاس ہونی چاہیے۔ فراہی نے اپنا ’’مجموعۂ تفاسیر‘‘ اُنھیں دیا اور اُس پر لکھا: ’’بہ صلۂ حسن تقریر‘‘ اور اپنے دستخط ثبت کر دیے۔
۱۹۲۵ء میں اُن کے حکم پر وہ مدرسہ کے کسی کام سے ملایا گئے تو اپنے رفیق درس اختر احسن کو خط لکھا۔ اُس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ: ’’سمندر کی سرجوشی کے ایام بہار ہیں۔‘‘ امام فراہی نے پڑھا تو کہا: امین میاں تو ادیب ہیں۔ وہ خود بتاتے تھے کہ زمانۂ طالب علمی میں اگر کوئی شخص اُن سے پوچھتا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ کہتے: ادیب الہند۔
اِس دور میں شاعری کا شوق بھی رہا۔ طبیعت میں شروع سے شوخی تھی۔ مدرسہ میں اپنے ایک استاد کی ہجو لکھ دی۔ مولانا نگرامی نے بلایا، تنبیہ کی، کچھ جرمانہ بھی کیا، لیکن ساتھ ہی فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ تمھاری نظم بہت اچھی ہے۔ تاہم یہ شوق اُسی زمانے میں ختم ہو گیا۔ بتاتے تھے کہ میں نے شبلی سے موازنہ کیا تو مجھے خیال ہوا کہ میں اُن جیسے شعر نہیں کہ سکتا۔ اِس کے بعد پھر میں نے اِس کوچے میں قدم نہیں رکھا ۔
مدرسہ کے زمانے میں ’’سبع معلقات‘‘ کا امتحان ہوا۔ سید سلیمان ندوی ممتحن تھے۔ امین احسن کے پرچے پر اُنھوں نے لکھا: یہ ایک طالب علم کا پرچہ ہے۔ مجھے ندوہ کے لیے اِس طرح کے استاد بھی کہاں سے ملیں گے۔
مدرسہ میں جن لوگوں کی اُن سے چشمک رہتی تھی، اُنھوں نے فراہی سے کہا: امین احسن کو نحو سے کچھ زیادہ مناسبت نہیں ہے۔ بتاتے تھے: میں درس میں حاضر ہوا تو آتے ہی استاذ امام نے پوچھا: امین ’ل‘کیا صیغہ ہے؟ میں نے جواب دیا، معنی عرض کیے تو بڑے خشمگیں انداز میں لوگوں کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: کون کہتا ہے کہ امین کو نحو نہیں آتی۔
اِسی طرح کے ایک موقع پر امام فراہی نے اپنے درس کے حاضرین سے پوچھا: اِس درس میں سب سے کم سن کون ہے؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اُنھوں نے پوچھا: سب سے بعد میں کون شریک ہوا؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اِس پر فرمایا: سیدنا مسیح کا ارشاد ہے کہ کتنے ہیں جو پیچھے آنے والے ہیں، مگر دوسروں سے آگے نکل جائیں گے۔
اپنے اوپر استاد کے اعتماد کا ذکر وہ اِسی اسلوب میں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بتایا کہ لوگوں نے امام فراہی سے کہا: امین تو کہتے ہیں کہ عربی شاعری بھی کوئی شاعری ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ اونٹنی کی تعریف کر رہے ہیں یا محبوبہ کی۔ امام فراہی نے کہا: اُنھیں کسی نے شعر سمجھایا نہیں ہو گا۔ میں آیا تو اُنھوں نے پوچھا: میں نے وہی بات دہرا دی۔ استاذ امام نے کہا: کوئی شعر پڑھو۔ میں نے معلقۂ امرؤالقیس کا پہلا شعر پڑھ دیا: ’قفا نبک من ذکری حبیب و منزل‘۔امام نے کہا: ترجمہ کرو۔ میں نے اُسی طرح ترجمہ کر دیا جس طرح بالعموم مدرسوں میں کیا جاتا ہے۔ امام نے کہا: نہیں، یوں نہیں۔ اِس طرح ترجمہ کرو کہ: ٹھیرو، ٹھیرو، دوستو، جاناں اور منزل جاناں پہ دو آنسو بہانے دو۔ میں پکار اٹھا: لاریب، شعر ہو گیا، اب یہ شعر ہو گیا ہے۔ وہ کہتے تھے، اِس کے بعد عربی شاعری ہی میری سب سے زیادہ پسندیدہ شاعری ہو گئی۔
فراہی کا ذکر جب اُن کی زبان پر آتا تو آنکھوں میں ایک عجیب چمک پیدا ہو جاتی تھی۔ اِس کلیم ذروۂ سیناے علم کی باتیں وہ گھنٹوں کرتے، مگر سیر نہ ہوتے تھے۔ بعض واقعات ایسے دل نواز اسلوب میں سناتے کہ معلوم ہوتا، کسی دیوتا کا ذکر کر رہے ہیں۔
بتاتے تھے: ’’سبع معلقات‘‘ پڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ ’لا‘سمجھ میں نہیں آیا۔ سب شارحین کو دیکھا، ادیب الہند مولوی فیض الحسن سہارن پوری کی شرح بھی دیکھی، لیکن کسی راے پر اطمینان نہیں ہوا۔ کتاب لے کر امام فراہی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اپنے دارالمطالعہ کے باہر کھڑے تھے۔ میں نے مشکل بیان کی، لمحے بھر کو رکے، جیب سے پنسل نکالی اور میری کتاب پر لکھا: ’لا ھی نادرۃ‘۔ میاں، جس طرح تم لوگ نہیں کہتے کہ جس گھڑی میری موت نہ آ جائے، یہ اِسی طرح کا ’لا‘ ہے۔ زبان کے غوامض تک پہنچنے کا یہ انداز صرف استاد ہی کا حصہ تھا۔
فراہی کے آخری زمانے میں ہندوستان کے ایک بڑے عالم نے اُن کی کسی تحریر پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ اِس سے پورے علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مدرستہ الاصلاح کے طلبہ اور اساتذہ، سب پریشان تھے۔ میرے لیے بھی یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ اِسی اضطراب اور پریشانی کے عالم میں فراہی کو ڈھونڈتا ہوا اُن کے دارالمطالعہ کی طرف بھاگا۔ میں نے دیکھا، استاذ امام سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔ دوڑ کر وہیں اُنھیں بتایا۔ میں خود جس پریشانی میں تھا، اُن سے بھی اِسی کے لحاظ سے کسی رد عمل کی توقع کر رہا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے زینے پر رکے، پھر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے: اچھا، یہ جن کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ تو مجھے نہیں جانتے۔ میں ہکا بکا اُنھیں دیکھتا کھڑا رہ گیا۔ اِس فتوے پر اِس سے زیادہ بلیغ کوئی تبصرہ شاید کبھی نہ ہو سکے۔ وہ بڑے والہانہ انداز میں کہتے: فراہی یہ تھے، اِس شان کا کوئی شخص اب تم کہاں سے پیدا کرو گے؟
فراہی سے اُنھوں نے قرآن پڑھا، اُس کی زبان کا وہ ذوق پایا جو شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔ نظم قرآن فراہی کی دریافت ہے، لیکن امین احسن نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں اُسے وہاں پہنچا دیا ہے کہ اُس کے منکر بھی اب انکار کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے۔ امین احسن کا پایۂ علم وہی تھا جو اِس امت میں مختلف علوم و فنون کے ائمۂ مجتہدین کا رہا ہے۔ زبان، ادب، فلسفہ و حکمت اور قرآن کے معارف، اِن سب میں وہ جس مقام پر فائز تھے، اُس سے آگے کوئی مقام آسانی سے تصور میں نہیں آتا۔ اِن علوم میں لاریب، وہ اپنے وقت کے امام تھے۔ اُن کی بعض نئی تحقیقات سے متعلق جب کوئی شخص اُن سے متقدمین کے کسی حوالے کا تقاضا کرتا تو وہ بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے:مطمئن رہیے، کچھ عرصے کے بعد ہم بھی متقدمین ہی ہو جائیں گے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں نے اُن کی مجلس میں صدیوں کے عقدے لمحوں میں کھلتے دیکھے اور بارہا اعتراف کیا ہے کہ:

طے می شود ایں رہ بدرخشیدن برقے
مابے خبراں منتظر شمع و چراغیم

اُن کا مقام یہی تھا، لیکن اِس کے باوجود اپنی کسی عزیز سے عزیز راے اور تحقیق کے خلاف بھی کوئی حق اگر سامنے آ گیا ہے تو اُن کے دل و دماغ کو میں نے اِس طرح اُس کے سامنے جھکتے دیکھا ہے کہ حیرت ہو جاتی تھی۔ اُن کے مدرسۂ علمی کا میں پچھلی صفوں میں بیٹھنے والا ایک طالب علم ہوں۔ سورۂ توبہ میں ’اشہر حرم‘کا مفہوم اُنھوں نے جس طرح متعین کیا ہے، اُس پر مجھے اطمینان نہیں ہو سکا۔ میرا خیال تھا کہ بات بہت سادہ ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے جس طرح دیکھا ہے، اِس کے نتیجے میں یہ بہت کچھ الجھ گئی ہے۔ اُنھی کے فیض تربیت سے جو کچھ پایا ہے، اُس کی روشنی میں ایک مرتبہ بہت ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا نقطۂ نظر اُن کے سامنے رکھ دیا۔ وہ میری بات سنتے رہے، سوالات بھی کیے، اِس کے بعد چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: میں نے اِس آیت پر برسوں غور کیا اور اِس کے بعد ایک راے قائم کی تھی، لیکن تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر بڑے تاثر کے عالم میں یہ شعر پڑھا:

گماں مبرکہ بہ پایاں رسید کار مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است

امام فراہی کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اُنھیں خیال ہوا کہ جس طرح قرآن اُنھوں نے حمید الدین فراہی جیسے جلیل القدر عالم اور محقق سے پڑھا ہے، اِسی طرح حدیث بھی اِس فن کے کسی جید عالم سے پڑھنی چاہیے۔ ترمذی کے شہرۂ آفاق شارح عبد الرحمن محدث مبارک پوری کا گاؤں اُن سے زیادہ دور نہیں تھا۔ امین احسن کے والد اُنھیں مولانا کے پاس لے گئے، اُنھوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو محدث مبارک پوری نے فرمایا:آپ تو سب کچھ پڑھے ہوئے ہیں۔ آپ کہیے تو میں اپنی سند آپ کو دے دوں۔ امین احسن نے جواب دیا: مولانا یہ شاہوں کا تاج ہے، اِسے یہ فقیر اِس طرح اپنے سر پر نہیں رکھنا چاہتا۔ میں سند لینے نہیں آیا، آپ سے حدیث سمجھنے آیا ہوں۔ مولانا نے پوچھا: کیا پڑھو گے؟ عرض کیا: آپ ترمذی کے شارح ہیں، وہی پڑھا دیجیے۔ چنانچہ درس شروع ہو گیا ۔ پھر سردی ہو یا گرمی، میلوں پیدل چل کر امین احسن پوری باقاعدگی کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے:

شوق تو راہ می برد، درد تو زاد می دہد

اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ وہ بڑے لطف میں سنایا کرتے تھے۔ بتاتے تھے کہ ترمذی کی عبارت پڑھتے ہوئے میں نے ایک جگہ بہت اعتماد کے ساتھ ’عرف‘کو ’ر‘کی زیر کے ساتھ پڑھا۔ مولانا نے ٹوکا : ’انا لا اعرف عرِف‘ (میں اِسے ’ر‘کی زیر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ میں نے اِسی اعتماد کے ساتھ جواب دیا:’ اما انا فلا اعرف عرَف‘(اور میں اِسے ’ر‘کی زبر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ مولانا نے فرمایا: ’راجع اللغۃ‘(لغت دیکھیے)۔ لغت کی کتاب، غالباً جوہری کی صحاح کھولی تو استاد ہی کی بات لکھی ہوئی تھی۔ میں کچھ خفیف ہوا تو مسکرائے، پھر فرمایا: ’استأنف، وللجواد زلۃ‘(آگے چلو، اصیل گھوڑا بھی پھسل جاتا ہے)۔
امام فراہی کی وفات کے بعد اُن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اُنھوں نے ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اُس کے تحت ’’الاصلاح‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا۔ اِس دوران میں امام کی کتابوں کے ترجمے کیے اور اِس قدر عمدہ ترجمے کیے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے صاحب طرز انشا پرداز نے اُن کے بارے میں لکھا کہ کسی شخص کو اگر عربی زبان کی اعلیٰ علمی عبارتوں کے اردو میں منتقل کرنے کا سلیقہ سیکھنا ہو تو اُسے یہ ترجمے دیکھنے چاہییں۔
۱۹۴۱ء میں مولانا مودودی حکومت الہٰیہ کے قیام کی دعوت لے کر اٹھے تو مدرستہ الاصلاح، دائرۂ حمیدیہ، استاد کے مسودات اور علمی کاموں کے لیے اُس زمانے میں اپنے نام پر جمع پچاس ہزار روپے کی خطیر رقم چھوڑ کر وہ اُن کے ساتھ ’’دارالاسلام‘‘ منتقل ہو گئے۔ مولانا مودودی سے اُنھیں اتفاق بھی رہا اور اختلاف بھی۔ اتفاق کے زمانے میں جب بعض علما نے اُن کے علم کا استخفاف کرنا چاہا تو امین احسن کی شہادت ایک برہان قاطع بن کر سامنے آئی۔ بعد میں ازراہ تفنن فرمایا کرتے تھے کہ بھائی، وہ میں نے مولویوں کے مقابلے میں اُن کے علم کی شہادت دی تھی، اپنے مقابلے میں نہیں۔ کم و بیش ۱۶سال وہ مولانا کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی رہے۔ اُن کے ساتھ ’’جماعت‘‘ کی علمی و فکری رہنمائی کا کام بھی کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی بڑی استقامت کے ساتھ برداشت کیں۔ بتاتے تھے کہ قرآن میں تجزیۂ مطالب اور پیروں کی تقسیم کا کام میں نے ملتان جیل میں مکمل کیا تھا۔۱۹۵۳ء میں مولانا کو موت کی سزا ہوئی تو اُن کے جذبات بے پناہ تھے۔ اختلاف کے زمانے میں بھی، جب وہ اُنھیں اپنے مخصوص اسلوب میں ’’امیرالمومنین‘‘ کہتے اور اُن پر تند و تیز لب و لہجے میں تنقید کر رہے ہوتے تھے، میں نے بارہا اُن کے الفاظ کی تلاطم خیزیوں کے نیچے محبت کا ایک گہرا سمندر موجزن دیکھا ہے۔ اُنھیں افسوس تھا کہ اپنے جس دوست کے بارے میں وہ اتنی اونچی راے رکھتے تھے، وہ کس دلدل میں اتر گیا ہے۔ ۱۹۷۵ء میں، میں مولانا مودودی کے گھر کے بالکل سامنے مقیم تھا۔ وہ میرے ہاں تشریف لائے۔ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لیے صحن میں نکلے تو مجھ سے پوچھا: مولانا مودودی کا گھر یہی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ میں نے دیکھا کہ وہ بار بار دہرا رہے تھے:

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

۱۸؍ جنوری ۱۹۵۸ ء کو یہ آشنائی امین احسن کے اِن الفاظ پر ختم ہوئی:

’’میں جانتا ہوں کہ آپ کی رفاقت سے محروم ہو کر میں کیا کچھ کھو رہا ہوں، لیکن آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آپ نے مجھ جیسے خیر خواہ مخلص کے مشوروں کی قدر نہیں کی تو آپ کو ’’برے مشیروں‘‘ کے مشورے ماننے پڑیں گے۔ میں دل سے متمنی تھا کہ مجھے آپ کی رفاقت حاصل رہے، لیکن آپ نے اپنے دونوں خطوں میں اُس کی جو قیمت مانگی ہے، میں وہ ادا کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘

مولانا دنیا سے رخصت ہوئے تو بڑے تاسف کے ساتھ فرمایا: آج وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس سے اتفاق میں بھی لذت تھی اور اختلاف میں بھی۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا وہ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، مولانا کی بذلہ سنجی کا ذکر ہوا تو پٹھان کوٹ کے زمانۂ قیام کے بعض دل چسپ واقعات سنائے۔ اُنھی میں ایک یہ لطیفہ بھی تھا۔ کہنے لگے: میری شادی ہوئی، چودھری عبد الرحمن صاحب، میرے خسر مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں کسی وجہ سے اُس روز عصر کی نماز میں حاضر نہیں ہو سکا۔ مولانا سے کسی نے پوچھا: امین احسن نظر نہیں آئے؟ اُنھوں نے برجستہ جواب دیا: بھائی آج صبح سے وہ ’ان الانسان لفی خسر‘میں مبتلا ہیں۔
بذلہ سنجی اور شوخی کلام میں امین احسن کا معاملہ بھی یہی تھا۔
قید کے زمانے میں مولانا مودودی کی بتیسی غالباً ٹوٹ گئی۔ امین احسن نہیں جانتے تھے کہ مولانا کے دانت مصنوعی ہیں۔ کسی نے بتایا تو دانتوں کی ’’تعزیت‘‘ کے لیے مولانا کے پاس گئے۔ بظاہر بہت افسردگی کی کیفیت میں تھوڑی دیر کے لیے کوٹھڑی کے دروازے میں کھڑے ہوئے، پھر کہا: مولانا، افسوس ہے، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔
ایک صاحب نے، جن سے دین کی خدمت کے معاملے میں وہ ایک زمانے میں اچھی توقعات رکھتے تھے، بڑے اہتمام کے ساتھ کانفرنسیں منعقد کرنا شروع کیں۔ اُن میں وہ تمام مکاتب فکر کے علما کو بلاتے اور اُن سے تقریریں کراتے تھے۔ دین کی خدمت کا جو تصور امین احسن رکھتے تھے، اُس میں ظاہر ہے اِس طرح کی چیزوں کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ وہ صاحب اُنھیں بھی دعوت دینے آئے۔ امین احسن نے پوچھا: اِن کانفرنسوں سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ سب نقطہ ہاے نظر کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ اُنھوں نے جواب دیا تو امین احسن نے بے ساختہ کہا: بھانت بھانت کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی یہ خدمت تو ریلوے پچھلے سو سال سے انجام دے رہی ہے۔ میرا خیال ہے، اِس کے لیے آپ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
اِس معاملے میں بھی وہ صاحب طرز تھے۔ ایک بڑے عالم اور مصنف سے ناراض ہوئے تو اُن پر پڑھے کم، لکھے زیادہ کا فقرہ چست کیا۔ مستشرقین کے اسلوب تحقیق پر تنقید کی تو اِس کے لیے مکھی کو گھس گھس کر بھینس بنانے اور ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھانے کے محاورے ایجاد کیے۔ فاطمہ جناح کی حمایت میں متحدہ محاذ بنا تو اُسے مینڈکوں کی پنسیری باندھنے سے تعبیر کیا۔ اِسی زمانے میں مولانا مودودی کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا کہ ایک طرف ایک مرد ہے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں اور دوسری طرف ایک عورت ہے جس میں عورت ہونے کے سوا کوئی خرابی نہیں۔ امین احسن نے اِس پر تبصرہ کیا: تعجب ہے، اِن لوگوں میں کوئی ایک مرد بھی ایسا نہیں نکلا جو ایک ایسے مرد کا مقابلہ کر سکے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں ہے۔ ماچھی گوٹھ کے بعد کوٹ شیر سنگھ کی شوریٰ میں مولانا مودودی امیر جماعت کے لیے غیر معمولی اختیارات کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ امین احسن کو اِس سے شدید اختلاف تھا۔ وہ ہمیشہ سے یہ راے رکھتے تھے کہ ’’جماعت‘‘ کے امیر کو شوریٰ کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُنھوں نے جماعت سے استعفا دے دیا۔ اِس پر مولانا مودودی نے اُن کے نام ایک خط میں لکھا:

’’میری اِس رائے کو آپ چاہیں تو غلط کہہ سکتے ہیں۔ اِس کے خلاف دلائل دینے کی آپ کو پوری آزادی ہے، حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی اختیار ہے کہ اِس کو جو بدتر سے بدتر معنی چاہیں پہنائیں، مگر آپ یہ الزام مجھ پر نہیں لگا سکتے کہ ایک بدنیتی کی بلی مدتوں سے مجرم ضمیر کے تھیلے میں چھپائے پھرتا رہا تھا اور پہلی مرتبہ اِسے موقع تاک کر کوٹ شیر سنگھ میں باہر نکال لایا۔ میں اِس رائے کو حق سمجھتا ہوں۔ ہمیشہ اِس کو ظاہر کیا ہے اور تشکیل ’’جماعت‘‘ کے بعد سے آج تک اِس پر عملاً کام کرتا رہا ہوں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ اِسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ جماعت میں رہتے ہوئے آپ مجلس شوریٰ کے ذہن کو اِس سے مختلف جس رائے کے حق میں بھی ہموار کرنا چاہیں،پوری آزادی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔‘‘

امین احسن نے اِس کا جواب دیا، اور دیکھیے کہ کیا جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’آپ نے اپنی ’’بلی‘‘ کی تاریخ پیدایش ناحق بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ میں اِس بات سے ناواقف نہیں ہوں کہ یہ بلی آپ کے تھیلے میں روز اول سے موجود ہے، لیکن آپ کویاد ہوگا کہ تقسیم سے پہلے الٰہ آباد کی شوریٰ کے اجلاس میں، میں نے اِس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ یاد نہ ہو تو مذکورہ شوریٰ کی روداد پڑھ لیجیے۔ اُس وقت تو یہ مر نہ سکی، لیکن میں اور جماعت کے دوسرے اہل نظر اِس کی فکر میں رہے اور شوریٰ میں اِس کی موت و حیات کا مسئلہ بار بار چھڑتا رہا، یہاں تک کہ تقسیم کے بعد ہم نے جو دستور بنایا، اُس میں اِس کی موت کا آخری فیصلہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ جب اِس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا تو اُس وقت شرع شریف، مصلحت زمانہ اور اسلامی جمہوریت، سب کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہوا تھا۔ اِس کی تائید میں علما کے فیصلے بھی حاصل کیے گئے تھے اور اہل نظر کی رائیں بھی جمع کی گئی تھیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ آپ اپنے عمل سے وقتاً فوقتاً اِس کو زندہ بھی کرتے رہے، لیکن ہمارے دستور نے اِس کی زندگی تسلیم نہیں کی۔ اِس سلسلہ میں جب کبھی آپ نے دستور کی مخالفت کی تو عموماً اپنے اقدامات میں بے بصیرتی کا ثبوت دیا جس سے جماعت کے اہل الرائے اِس بارے میں یک سو ہو گئے کہ یہ ’’بلی‘‘ مردہ ہی رہے تو اچھا ہے۔ لیکن آپ پر اِس کی موت بڑی شاق تھی۔آپ اِس کو حیات تازہ بخشنے کے لیے برابر بے چین رہے۔ اِسی کے عشق میں آپ نے استعفا دیا۔ ماچھی گوٹھ میں آپ نے اِس کے لیے رازداروں کو خلوت میں بلا کر سازش کی۔ پھر کوٹ شیر سنگھ میں اِس پر مسیحائی کا آخری افسوں پڑھا اور یہ واقعی زندہ ہو گئی۔ اب آپ مجھے دعوت دیتے ہیں کہ میں پھر شوریٰ میں آؤں اور اُس کے اندر رہ کر اِس کو مارنے کی کوشش کروں تو میں اِس سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک ’’بلی‘‘ برسوں کی محنت سے میں نے ماری، آپ نے وہ پھر زندہ کر دی اور اب آپ کی مجلس عاملہ نے اِس کی رضاعت و پرورش کی ذمہ داری بھی اٹھا لی ہے ۔ اب میں پھر اِس کو مارنے میں لگوں تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ساری زندگی اِس ’’گربہ کشی‘‘ ہی کی نذر کر دوں۔ آخر یہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے۔‘‘

تجزیے اور محاکمے کے موقع پر اُن کا اسلوب یہی تھا۔ ’’جائزہ کمیٹی‘‘ پر الزامات کے جواب میں مولانا مودودی کو جو خط اُنھوں نے لکھا ہے، وہ اِس کا بہترین نمونہ ہے۔ شام کے سفیر کبیر نے اُسے پڑھا تو اُس پر اپنے قلم سے لکھ دیا: مولانا، آپ نے خط نہیں لکھا، قاضی کا فیصلہ لکھا ہے۔ ’’جماعت اسلامی‘‘ پر مولانا منظور احمد صاحب نعمانی کی فرد قرارداد جرم کے جواب میں بھی یہی اسلوب ہے۔ مولانا مودودی کے نظریۂ حکمت عملی کا تجزیہ بھی اِسی انداز سے ہوا ہے۔ عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرے میں بھی یہی لب و لہجہ ہے۔ اُن کی یہ تحریریں اُن کے طرز انشا کا ایسا نمونہ ہیں کہ آدمی پڑھتا ہے تو اُن کی شوخی طبیعت اور اُن کے سحر طراز قلم کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں نے اُن کا بڑھاپا دیکھا ہے۔ وہ لوگ جو ’’جماعت اسلامی‘‘ سے تعلق کے زمانے میں اُنھیں سنتے رہے ہیں، آج بھی اُن کی خطابت کو یاد کرتے ہیں۔ بعض سننے والوں نے بتایا ہے کہ وہ خطابت کیا تھی، معلوم ہوتا تھا کہ دریا میں ہلکا ہلکا تلاطم آ گیا ہے، پہاڑوں میں کوئی چشمہ ابل رہا ہے، کوئی ندی ہے جو فرازکوہ سے وادیوں میں اتر کر اب میدانوں کی طرف رواں دواں ہے۔ اُن کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا، سیدھا دل میں اتر جاتا تھا۔ وہ پیغمبرانہ اذعان کے ساتھ بولتے اور عہد عتیق کے خطیبوں کی یاد تازہ کر دیتے تھے۔ اُن کی زبان پر استدلال بولتا اور ایمان نازل ہوتا تھا۔ ۱۹۴۵ء میں اُن کی ایک تقریر کا جملہ اِسی کیفیت کا آئینہ دار ہے کہ تم چاہو تو میری گردن پر تلوار رکھ دو ، لیکن مجھ سے یہ بات کبھی نہ منوا سکو گے کہ تزکیۂ نفس جیسا پاکیزہ کام اُن جاہلوں کے سپرد کر دوں جو خانقاہوں میں بیٹھے دین فروشی کرتے ہیں۔ ایک نامور صحافی نے بتایا کہ ککری گراؤنڈ کراچی میں وہ تقریر کر رہے تھے اور میں اُن کی یہ تقریر لکھ رہا تھا۔ تقریر کے دوران میں اُن کے منہ سے نکلا: ’’اسلام فرماتا ہے۔‘‘ وہ لمحے بھر کو رکے اور پھر یہ کہہ کر کہ اِسے غلط نہ سمجھیے، فرمانے کا حق اگر ہے تو صرف اسلام ہی کو ہے، لفظ و معنی کا وہ بحر مواج پیدا کر دیا کہ میں دیکھتا رہا، سنتا رہا اور یہ بھول گیا کہ مجھے یہ سب کچھ لکھنا بھی ہے۔
دین کی دعوت وہ ہمیشہ اِسی اذعان اور ایمان کی اِسی حرارت کے ساتھ دیتے تھے۔
اِس باب میں ایک لطیفہ بھی ہوا۔۱۹۵۱ء کے انتخابات میں ’’جماعت اسلامی‘‘ نے اُنھیں الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ وہ بتاتے تھے کہ میں نے بہت کہا کہ اِس کام کے لیے مجھ سے زیادہ ناموزوں آدمی کسی ماں نے نہیں جنا، لیکن ’’امیرالمومنین‘‘ نہیں مانے۔ طوعاً و کرہاً میں راضی ہوا تو ایک دن مجھ سے کہا گیا: حلقہ میں تقریر بھی کرنا ہوگی۔ میں گیا تو اپنی تقریر کی ابتدا میں نے یہاں سے کی کہ خواتین و حضرات ، مجھ پر خدا کی اور اُس کے فرشتوں اور اہل ایمان، سب کی لعنت ہو اگر میں آپ سے ووٹ مانگنے کے لیے آیا ہوں۔ میں تو آپ کو یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ ووٹر کی حیثیت سے آپ کے فرائض کیا ہیں۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ وہ مجھے اِس الیکشن میں کسی تقریر کے لیے بلانے کی حماقت نہیں کر سکتے تھے۔
اُن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اِسی جماعت میں گزرا۔ وہ برسوں اِس کی دعوت کے نقیب رہے۔ اِس پس منظر میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ جماعت جس فکر پر قائم ہے، زندگی کے اِس آخری دور میں اُس کے متعلق اُن کا نقطۂ نظر کیا تھا؟ میں نے جو کچھ اُن سے سنا اور جو کچھ سمجھا ہے، اُس کی بنیاد پر میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اب نہ وہ اقامت دین کے اُس مفہوم کے قائل تھے جو جماعت اِس سے مراد لیتی ہے، نہ اظہار دین کے وہ معنی اُن کے نزدیک درست تھے جو مولانا مودودی نے بیان کیے ہیں، نہ ’’جماعت اسلامی‘‘ قسم کی جماعتیں بنانے کو وہ صحیح سمجھتے تھے، نہ حکومت کے بغیر جہاد اور امارت اور بیعت سمع و طاعت جیسی لغویات کے لیے اُن کے فکر میں کوئی گنجایش تھی، نہ اقتدار کی سیاست کو وہ علما کے لیے موزوں خیال کرتے تھے۔ اُن کی پختہ راے اب یہی تھی کہ علما کی ہر جدوجہد کا ہدف صرف ذہنی اور فکری انقلاب ہونا چاہیے۔ عالم جب تک عالم ہے اور عالم رہنا چاہتا ہے، اِس سے آگے اُسے ہر گز کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سب باتیں اِس آخری زمانے میں اُن کی تقریروں، تحریروں اور گفتگووں میں بڑی صراحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک چیز کے بارے میں خود اُن کے الفاظ کی شہادت پیش کی جا سکتی ہے۔
امین احسن کی اقلیم فکر کیا ہے؟ جن لوگوں نے بھی اِس کی سیر کے لیے کچھ فرصت پائی ہے، وہ جانتے ہیں کہ مذہبیات کی دنیا میں یہ ایک بالکل نئی اقلیم ہے۔ اِس میں ساری حکومت، سارا اقتدار قرآن کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا ہے، قانون بن جاتا ہے۔ ہر جگہ اُس نے ایک میزان نصب کر رکھی ہے۔ بو حنیفہ و شافعی، بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب اپنی اپنی چیزیں لاتے اور اِس میزان میں تولتے ہیں۔ پھر جس کی کوئی چیز ذرا بھی وزن میں کم ہو، اِس اقلیم میں وہ اُسے کہیں بیچ نہیں سکتا۔ علم و دانش، فلسفہ و حکمت، سب قرآن کے حضور میں دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ اُس کا ہر لفظ ایک شہرعجائب ہے اور یہ عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ پہلے محکم بولتا اور پھر اُس کی تفصیل کر دیتا ہے۔ اُس کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آ جائے تو خود اُسی کی دوسری باتیں وضاحت کر دیتی ہیں۔ اُس کا ایک ایوان خاص ہے جس کے بام و در پر ہر جگہ جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو ہماری باتوں میں نظم و ترتیب کو نہیں مانتا، وہ ہمارے اِس ایوان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ امین احسن کی ساری زندگی اِسی اقلیم میں بسر ہوئی ہے:

اُس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
اُس کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق

تاہم ’’پیران طریق‘‘ میں بھی کبھی کوئی محرم مل ہی جاتا تھا۔ مولانا منظور احمد صاحب نعمانی لاہور آئے تو امین احسن نے اُنھیں بتایا: میری اہلیہ کہتی ہیں کہ تمھاری کتابیں تو میری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن مولانا نعمانی کی کتابیں میں خوب سمجھ لیتی ہوں۔ مولانا نعمانی نے فوراً کہا: مولانا ہم اُن کے لیے لکھتے ہیں اور آپ ہمارے لیے لکھتے ہیں۔ ’’تدبر قرآن‘‘ مکمل ہوئی تو مولانا نعمانی نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ وہ امین احسن کے ہاں آئے ہیں، وہاں مزعفر کی ایک دیگ پکی ہوئی ہے جس سے خوش بو کی لپٹیں آ رہی ہیں۔ مولانا نعمانی نے لکھا کہ وہ اِسے ’’تدبر قرآن‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
امین احسن کو اللہ تعالیٰ نے خوب صورت سراپا دیا تھا، خوش ذوق اور خوش لباس بھی تھے، لیکن اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے میں ہمیشہ بہت سادہ رہے۔ اُن کے ایک پرانے ساتھی نے بتایا کہ ’’جماعت‘‘ کی طرف سے اُنھیں میانوالی بھیجا گیا۔ میں اُن کا رفیق سفر تھا۔ ہم بس کے ذریعے سے جا رہے تھے۔ سرگودھا کے اڈے پر بس رکی تو اُنھوں نے مجھ سے کہا: گھی سمجھ کر تیل کھانے سے بہتر ہے کہ تیل سمجھ کر تیل ہی کھایا جائے، جاؤ ایک نان اور کچھ پکوڑے لے آؤ۔
وہ فرشتہ نہیں، انسان ہی تھے اور اُن میں کچھ کمزوریاں بھی تھیں، لیکن معیار زندگی بڑھانے کا کوئی فتنہ کبھی اُن کے قریب سے نہیں گزرا۔ اللہ تعالیٰ سے تفویض و توکل کا ایسا تعلق تھا کہ اُس پر رشک آتا تھا۔ زبان اکثر ذکر الٰہی سے تر رہتی۔ مولانا عبد الرحیم اشرف سفر حج میں اُن کے ساتھ تھے، اُنھوں نے ایک مرتبہ بتایا کہ وہاں پہنچ کر اُن کی ساری دل چسپی صرف بیت اللہ کے ساتھ تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ہر چیز سے بالکل بے تعلق ہو گئے ہیں۔ زندگی کے سردو گرم میں ہمیشہ اپنے پروردگار کی رضا پر مطمئن رہے۔ حادثۂ قاہرہ میں ابو صالح جیسے فرزند کی وفات پر ’’میثاق‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے، اُس سے اُن کے جذبات کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اِس موقع پر جزع فزع کا کوئی کلمہ اُن کی زبان سے نہیں نکلا۔ آخری دو سال اُنھوں نے جس معذوری اور بے بسی کی حالت میں بستر پر گزارے ہیں، اُس کی تکلیف جھیلنا آسان نہ تھا، لیکن اِس میں بھی اگر کچھ کہا تو یہی کہا کہ آخرت کی تکلیف نہ ہو تو دنیا کی کوئی تکلیف بھی تکلیف نہیں ہے۔
طبیعت میں بڑی غیرت، بڑا وقار، بڑی تمکنت اور بڑی بے نیازی تھی۔ ایوب خان صاحب نے پوچھا: مولانا، کوئی خدمت بتائیے۔ اُن کا جواب تھا: آپ سے جو کچھ کہنا ہوتا ہے، ’’میثاق‘‘ کے اداریوں میں کہہ دیتا ہوں، اُس پر عمل کیجیے، یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔ بھٹو صاحب نے پیغام بھیجا کہ حکومت آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ جواب دیا: میں حکومت کے وظیفہ خواروں کو ہمیشہ ملت فروش کہتا رہا ہوں۔ کیا اب خود بھی یہی کام کروں گا؟ ضیاء الحق صاحب کی طرف سے سلسلہ جنبانی ہوئی، لیکن اگر کچھ کہا تو صرف یہی کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے، اُسے اپنی لائبریریوں تک پہنچائیے، یہی کافی ہے۔ اُن کی ہر ادا میں یہ صدا تھی:

مگذر از نغمۂ شوقم کہ بیابی دروے
رمز درویشی و سرمایۂ شاہنشاہی

دوستوں کے لیے ، البتہ طبیعت میں بڑی تواضع اور بڑی شفقت تھی۔ جن دنوں رحمن آباد میں تھے، میں ایک مرتبہ ملنے کے لیے گیا تو رات وہیں ٹھیرا۔ فجر سے کچھ پہلے میں نے محسوس کیا کہ ذرا دور کوئی ہاتھ کے نل سے پانی کی بالٹی بھرتا اور پھر اُسے انڈیل دیتا ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امین احسن ہوں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری چارپائی کے پاس آئے اور فرمایا: میں نے تازہ پانی نکال دیا ہے، اٹھیے اور وضو کر لیجیے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہوں اور کیا کروں۔
وہ اتنے سچے، اتنے بے لاگ اور اتنے دو ٹوک تھے کہ مصلحت اندیشی کے پیمانے سے اُسے خطرناک سمجھا جائے گا۔ جو کچھ کہنا چاہتے، بغیر کسی تردد کے کہہ دیتے۔ اپنے رفقا میں فکر و عمل کا کوئی تضاد کسی حال میں برداشت نہ کرتے۔ اُن کی محبت بے پناہ تھی، مگر اخلاص کی گہرائی سے جس طرح یہ محبت چشمہ بن کر پھوٹتی تھی، اِسی طرح رنج بھی ابل پڑتا تھا۔ تاہم دیکھنے والے دیکھتے کہ اِس میں کسی بغض، کسی کینے اور کسی دشمنی کا کوئی شائبہ نہ ہوتا۔ گویا وہی معاملہ تھا کہ:

قہر بھی اُس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق

اُن کی باتیں کہاں تک لکھوں؟ آج اُن کا مرقع کھینچ رہا ہوں تو اپنے عجز بیان کو دیکھ کر بار بار خیال ہوتا ہے کہ امین احسن سے کم و بیش پچیس سال تک ملاقات اور تلمذ کا جو شرف مجھے حاصل رہا ہے، اے کاش، کسی ایسے شخص کو بھی حاصل ہوتا جسے زبان و بیان پر امین احسن ہی کی طرح قدرت ہوتی۔ یہ زمانے کی بدقسمتی ہے کہ اِس نابغۂ روزگار کو جاننے کے لیے اُسے مجھ جیسا شکستہ قلم ہی میسر ہو سکا جس کا حال یہ ہے کہ:

در زباں حرف نماندہ ست و سخنہا ماندہ ست

وہ صرف دین ہی کے عالم نہ تھے، دستور وقانون اور سیاست دوراں کے مسائل پر بھی اُن کی نظر اتنی گہری تھی کہ اِن کے ماہرین اُن کی صحبت میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔ اِن چیزوں کو دیکھنے کا اُن کا اپنا ایک انداز تھا جو اہل زمانہ سے بہت کچھ مختلف تھا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا ہوئی تو مذہبی حلقوں میں بالعموم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اِس سے اگلے روز میں رحمن آباد حاضر ہوا تو امین اح

Imam Amin Ahsan Islahi (ra)

Article Image

N.B. These translations are unedited, first drafts that have been uploaded for reader benefit and feedback. The detailed, revised and edited versions shall be uploaded as they come along. In view of the immediate needs of our readers, these translations have been presented here to give a very brief introduction to Amīn Ahsan’s life.

Jāvēd Ahmad Ghāmidī (1951- )

The second scholar belonging to the contemporary times of Islām has now passed away.

In 1930, when, Imām Hamīd al-Dīn Farāhī embarked on the final journey from the mortal world, Sahib-e Marūf,  Syed Sulemān Nadvi lamented about the passing of the first scholar of our times. More or less 67 years after this we are mourning Farāhī’s legatee, Imām Amīn Ahsan Islāhī. Like Socrates, Aristotle, abū Hanīfa and abū Yūsuf, ibn-e Taymiyya and ibn-e Qayyim cannot be separated from each other; in this world, Farāhī and Islāhī are also two names of the same existence:

 

At the height of love become one the lover and beloved
In our reckoning Qais bears the same name as Leila

The splendor and beauty of knowledge, the pride in humbleness, the appeal of simplicity, the embodiment of generosity, unbridled love, the devoted translator of Allah’s last message, the pioneer of a new world with respect to dīn (religion) and sharī‘ah (Divine law), connoisseur par excellence of writing and composition, gifted orator and conversationalist, who would hold his audience in awe of him:

http://www.javedahmadghamidi.com/index.php/videos/view/surah-fatihah-part-1

 

Brilliant in thought as the morning sun
Words simple and free, conveying deep meaning

I first saw Amīn Ahsan in 1973 and then never looked elsewhere. For me his door at that time was like a closed one, but I built up the courage to simply sit outside this closed door:

 

Tarried he on the closed door and knocked at none other

Then this door opened and opened such that it became like the very door of my own dwelling. After this day all the treasures of knowledge and practical application that I have received have been Allah Almighty’s blessing and from this door:

 

The powers of love and the treasure of pleasure
Everything that I have is by dint of his prowess

In 1987 when I wrote the saga of ‘Dabistān-e Shibli’, while narrating about Imam Farāhī I wrote: Amīn Ahsan is the legatee of this great man of his times. If he did not overtake his teacher he also did not lag behind either. He spent his entire life explaining the technicalities of the work of his teacher. Amongst the books on Qur’ānic exegeses his book Tadabbur- e Qur’ān, is a work par excellence based on knowledge and research. From his pen flows the narrative of a good fifty years, in the words of Urfi:

 

His lance asserts that war or peace
I will go on solving the problems of the King

I had written that the last remnant of ‘Dabistān-e Shibli’ is no other than Amīn Ahsan himself. How many of his friends and acquaintances are aware of this reality? For the last ten years it is the flame of this realization that is burning in my heart. The sparks from this fire keep getting buried in their own ashes but never die out completely:

 

In our hearts is always fire ever burning

Now this last remnant has also departed from this world. On December 15, 1997 around 3 AM, the same time that he presented himself before his creator, became present eternally before Him once and for all. He spent his entire life trying to solve the difficulties in understanding the layout and meaning of the Qur’ān. Now when he faces a certain difficulty, he will simply ask the author of the Qur’ān himself. His world now is:

 

A single glance can unfold the veil

What was Amīn Ahsan? A few years ago when his critics tried to determine his stature by the number of his supporters, I had commented for their benefit:  I do not have to say anything for myself but I know for a fact that it has been my good fortune to have had the honor of being his student but as far as he is concerned, his struggle and efforts were never directed towards the possessions people live and die for. To cast a fleeting glace towards these hypocritical aspirations were below his dignity and pride. If the coveted ways that people usually adopt to gain cheap popularity were in as much even discussed in his gatherings, people would lose the rights of admission to these meetings. The value he made the cornerstone of his life was the fact that a man should state and stand by the truth even if his shadow threatens to abandon him. He did not sanctify and support the contamination of thought and practice rampant in society but tried his best to cleanse the hearts and minds of people from these impurities. He does not lower himself to the depths of ignominy but beckons to lift his subjects to high moral stations which he himself has conformed to from the very beginning. His world is a world of learning and sincerity, and there is no room for religious imposters and political brokers in it.  He is in his own microcosm a vast desert and within himself a boundless ocean. In his own area of specialty he has so many interests that for such things there is simply no space. The field in which he has labored hard all these years has no room for blind following but of learning and research. If someone needs to fully appreciate his achievements they should study his work par excellence that the world knows as Tadabbur- e Qur’ān. He is not a man of today but a man of the future and his time is not far now.             

The draft work on Tadabbur- e Qur’ān was begun by this man of posterity sometime in 1957. He had begun the preparation for this from the time when in 1925 Hamīd al-Dīn Farāhī had standing in the recesses of his home said to him: “Amīn Ahsan, will you continue writing for the newspapers or will you study the Qur’ān from me?” He had mentioned that in those days he was the editor of a newspaper working for a good remuneration but without a second thought said: “I will study the Qur’ān from you.  Imām Farāhī indicating a room in his house said: “you will be residing here”. And so I resigned from the editorship, re-began my student life and moved into this room. After this Mawlānā Syed Sulemān Nadvi had proposed his name for the post of professor in a college and had promised the college patrons that he will convince Amīn Ahsan for this. When Amīn Ahsan was informed about this he walked in the scorching sun to Darul Musanifīn and informed Syed Sahib that since you have proposed the name of this humble servant, thank you for this but I am sorry I will not be able to accept this position. I cannot leave Imām Farāhī during his life and go anywhere. He later related that Syed Sahib was at a loss for words for he couldn’t understand how a humble student could turn down such a good offer. After this incident, during a lecture at the Nadva, he with a great deal of animation related this story to his student audience that this is how some devoted students are. Anyhow I spoke my mind and came away but I was worried that during this time if Ustād Imām Farāhī were to visit Darul Musanifeen it might so happen that Syed Sahib may say something to him and then he might promise to send me. He would light up with a strange expression of pride whenever he related this and much later he learnt that Ustād Imām Farāhī had visited Syed Sahib and Syed Sahib had spoken to him about this matter to which he had clearly responded that why are you after Amīn Ahsan and besides, who am I doing all this effort for?

Farāhī’s efforts bore fruit. When in 1930, close to his demise, he sent for Amīn Ahsan. At this time he was under treatment at a hospital in Mithra. When Amīn Ahsan entered the room Farāhī looked at him and said: “Amīn you are here!” Amīn Ahsan says that he had taken my name in such a manner that he was not simply just taking my name but stressing on its meaning and in this way giving me for safe keeping his legacy of knowledge and school of thought.

Amīn Ahsan spent his entire life doing justice towards fulfilling this responsibility. He would always say that I am scared that if I happen to meet Farāhī  in the presence of Allah Almighty he might not be satisfied with my work.

What is Tadabbur- e Qur’ān? He writes in the introduction:

I without a modicum of pride just in the way of relating a statement of fact would suggest that this book is the result of my forty year long struggle. I have spent the best years of my youth in its preparation and now my feeble old age I am spending in its writing and drafting. During this long stretch of time I have witnessed many ups and downs in life and swallowed many a sweet and bitter morsel but I am grateful to my creator that at any given time or in any condition my mind and heart have never disengaged with this book. During this time whatever I have read, whatever I have thought, I have kept this book in focus, and whatever I have written directly or indirectly has been related to it. I have deliberated in earnest over each and every verse of the Qur’ān, have deliberated on each and every āyah and pondered upon each and every word and tried to solve each and every literary and grammatical problem thus turning in the process each and every stone under which I hoped to discover a hidden clue. This secret I would like to openly announce to the world that I have never felt any lethargy or despondency while doing this work but on the other hand have always felt a deep sense of pleasure and comfort

Yet again providence grants fresh energy

The result of these forty years of hard work in which is also included the fruits of my teacher Hamīd al-Dīn Farāhī‘s 25/30 years of hard work and struggle. I feel a deep sense of pride that whatever is in this book is all in all my teacher’s giving and although this is a reality but I am somewhat cautious in making this claim because inadvertently I may attribute some of my own oversights to him. My interaction with Mawlānā Farāhī has not been of the level that I have been able to understand and learn about his views in totality about each and every āyah. But on the other hand I learnt from him the principles of deliberating on the Qur’ān and in his guidance for five whole years have spent experimenting with these. Since that time I have kept these very rules in front of me for my work to this very day. Based on this aspect it is not incorrect to say that all this is the gift of my teacher some direct some indirect so it will not be incorrect to state that parts of this work that appear solid and above debate should be attributed to my teacher and whatever argument appears to be weak or flawed should be committed to my lack of knowledge.

I made my creator witness to the fact that I have not written an explanation of even a single āyah in which I have been unsure or unclear. If ever I have found myself in two minds I have clearly indicated the same. Similarly I wish to proclaim that at any point I have not tried to explain or use any āyah in a way that is based on my own personal understanding of it and not on the real explanation of the āyah itself. I have not felt any leaning or association, whether of mind and heart, towards anything outside of the Qur’ān. If such a thing has taken place it has always been for the Qur’ān and in the light of the Qur’ān. The readers of this book will feel that when at any point I have had a disagreement with my teacher I have openly declared the same without any hesitation.

This exegesis has been written in Lahore and for many years just around the outskirts of Lahore near Khanqua Dogran in a difficult to reach village of Rahmān Ābād under Sarsay and Shisham trees. Here there was no electricity, no fan or any facility for writing and compilation. I witnessed the manuscript time and again being drenched in the writers sweat but his pen continued with a flourish. He was forever ready to solve the difficulties of the Qur’ān and also commit to paper his consequential thoughts and was fully ready to tackle any difficulty that he may encounter for this:

The seeker never tires of traveling
Love the route as well as destination


The state of belief in which Amīn Ahsan wrote this explanation of the Qur’ān is hard to describe in words. I remember he was writing the explanation of Sūrah al-Rahmān for when he encountered the problem relating to pearls that they are always found in salt water but the Qur’ān is adamant on the fact that they are found both in sweet and salty water. He made me conduct research on the same. I saw that on his face were not even a trace of anguish but a certain peace and a glow of faith. I don’t think I can repeat the utterances he made at that occasion word for word but the gist was: by God, if pearls were to come to me themselves and say that we are only formed in salty waters I will tell them you are in doubt about your formation, the verdict of the Qur’ān cannot be wrong.

Amīn Ahsan Islāhī was born in 1904 in a village by the name of Bhambore belonging to the United Provinces. His paternal uncle Shibli Mutakalim Nadvi was the in-charge of Madrasah tul Islāh. At his behest Amīn Ahsan’s father, in January 1915 admitted him to this madresah. His entire education took place at this seminary in Sara-e Mīr, Azam Garh. Although this was a religious seminary but his grasp on English language was exceptionally good that not only could he easily read in a remarkably short span of time books on all important subjects but he could also easily comprehend them very well and explain the complicated meanings to people with ease. Students reading in religious seminaries usually to do not master spoken Arabic but while he was residing with Imām Farāhī for his studies he would speak fluent Arabic. When the famous scholar Mosa Jarullah came to Hindustān he went to meet Imām Farāhī at Madrasah tul Islāh. Amīn Ahsan was his host there. When he saw him converse and engage with confidence in Arabic he commented: how many years have you spent in Arabia? Amīn Ahsan replied to this: “These two feet of mine have never even touched the soil of Arabia”. For a long while Mosa Jarullah kept expressing his astonishment at this.

During this time once in the presence of Mohammad Ali Johar and Syed Sulemān Nadvi young Amīn Ahsan delivered a speech. His remarkable oration got further polished as time went by and he was greatly lauded by well know orators of his time such as Syed Atā ullah Shah Bukharī in these words: “I too am an orator but you are a scholar and orator and this was reflected in your speech”. People applauded these comments but he was awaiting Amīn Ahsan’s response. In the evening when all and sundry were collected for Imām Farāhī’s lecture someone mentioned this to Imām Farāhī. He kept listening to the conversation going around and then in his own unique style said: yes my brothers this is a great Abul Kalam Azad. Amīn Ahsan later related that the manner in which he said the word Azad sounded more like a reprimand then a compliment. This was my teacher’s method of training his students. Before this at the time when he was still at the seminary Imām Farāhī had complimented him on a certain speech in the words: this student has delivered a remarkable speech. On this Amīn Ahsan’s teacher, Mawlānā ‘Abd al-Rahmān Madanī said: he should have some memento to remember your compliment. Farāhī gave him his exegetical collection awarded for beautiful oration affixed with his signature.

In 1925 on Farāhī’s instruction he went to Malaya for some seminary related work and while there wrote to his colleague Amīn Ahsan in which there was one particular sentence: the tumultuous ocean are days of spring. When Imām Farāhī read this he said: Amīn mian is a writer. He related himself that in his student days if he was ever asked what he wanted to become, he would say Adīb al-Hind .

During this time he was fond of poetry. He always had a vivacious personality. Once he wrote a satire on a seminary teacher. Maulana Nigrāmi called him reprimanded him, also fined him, but at the same time also remarked, there is no doubt about the fact that your art of composing is very good but this interest ended in those days. He used to say that when I compare myself to Shibli I realize that I cannot compose poetry like him and so have left this arena.

During his time at the seminary an exam was conducted on Sab‘ Muallaqāt. Syed Sulemān Nadvi was the examiner. He wrote on Amīn Ahsan’s paper: this is a student’s paper, but from where will I be able to procure teachers like him for the Nadvā 

At the seminary there were some people who had strained relations with him; they said to Farāhī that Amīn Ahsan is not familiar with grammar. He related that when I entered class Imām Farāhī asked (Amin lam kia segha hai?)When I answered he looked inquiringly at the people who had complained and said: “who said that Amīn is not familiar with grammar”.

In another similar situation Imām Farāhī asked the students in class: who is the youngest member of this group?  Amīn Ahsan was their response. Then he asked: who joined much later? Amīn Ahsan was the reply yet again. Then he commented: Prophet Jesus said: Many will come later but will take the lead from everyone else.

References in this article

Comments/Notes

Source:

    No results found.

Imam Amin Ahsan Islahi (ra)

Javed Ahmad Ghamidi

N.B. These translations are unedited, first drafts that have been uploaded for reader benefit and feedback. The detailed, revised and edited versions shall be uploaded as they come along. In view of the immediate needs of our readers, these translations have been presented here to give a very brief introduction to Amīn Ahsan’s life.

Jāvēd Ahmad Ghāmidī (1951- )

The second scholar belonging to the contemporary times of Islām has now passed away.

In 1930, when, Imām Hamīd al-Dīn Farāhī embarked on the final journey from the mortal world, Sahib-e Marūf,  Syed Sulemān Nadvi lamented about the passing of the first scholar of our times. More or less 67 years after this we are mourning Farāhī’s legatee, Imām Amīn Ahsan Islāhī. Like Socrates, Aristotle, abū Hanīfa and abū Yūsuf, ibn-e Taymiyya and ibn-e Qayyim cannot be separated from each other; in this world, Farāhī and Islāhī are also two names of the same existence:

 

At the height of love become one the lover and beloved
In our reckoning Qais bears the same name as Leila

The splendor and beauty of knowledge, the pride in humbleness, the appeal of simplicity, the embodiment of generosity, unbridled love, the devoted translator of Allah’s last message, the pioneer of a new world with respect to dīn (religion) and sharī‘ah (Divine law), connoisseur par excellence of writing and composition, gifted orator and conversationalist, who would hold his audience in awe of him:

http://www.javedahmadghamidi.com/index.php/videos/view/surah-fatihah-part-1

 

Brilliant in thought as the morning sun
Words simple and free, conveying deep meaning

I first saw Amīn Ahsan in 1973 and then never looked elsewhere. For me his door at that time was like a closed one, but I built up the courage to simply sit outside this closed door:

 

Tarried he on the closed door and knocked at none other

Then this door opened and opened such that it became like the very door of my own dwelling. After this day all the treasures of knowledge and practical application that I have received have been Allah Almighty’s blessing and from this door:

 

The powers of love and the treasure of pleasure
Everything that I have is by dint of his prowess

In 1987 when I wrote the saga of ‘Dabistān-e Shibli’, while narrating about Imam Farāhī I wrote: Amīn Ahsan is the legatee of this great man of his times. If he did not overtake his teacher he also did not lag behind either. He spent his entire life explaining the technicalities of the work of his teacher. Amongst the books on Qur’ānic exegeses his book Tadabbur- e Qur’ān, is a work par excellence based on knowledge and research. From his pen flows the narrative of a good fifty years, in the words of Urfi:

 

His lance asserts that war or peace
I will go on solving the problems of the King

I had written that the last remnant of ‘Dabistān-e Shibli’ is no other than Amīn Ahsan himself. How many of his friends and acquaintances are aware of this reality? For the last ten years it is the flame of this realization that is burning in my heart. The sparks from this fire keep getting buried in their own ashes but never die out completely:

 

In our hearts is always fire ever burning

Now this last remnant has also departed from this world. On December 15, 1997 around 3 AM, the same time that he presented himself before his creator, became present eternally before Him once and for all. He spent his entire life trying to solve the difficulties in understanding the layout and meaning of the Qur’ān. Now when he faces a certain difficulty, he will simply ask the author of the Qur’ān himself. His world now is:

 

A single glance can unfold the veil

What was Amīn Ahsan? A few years ago when his critics tried to determine his stature by the number of his supporters, I had commented for their benefit:  I do not have to say anything for myself but I know for a fact that it has been my good fortune to have had the honor of being his student but as far as he is concerned, his struggle and efforts were never directed towards the possessions people live and die for. To cast a fleeting glace towards these hypocritical aspirations were below his dignity and pride. If the coveted ways that people usually adopt to gain cheap popularity were in as much even discussed in his gatherings, people would lose the rights of admission to these meetings. The value he made the cornerstone of his life was the fact that a man should state and stand by the truth even if his shadow threatens to abandon him. He did not sanctify and support the contamination of thought and practice rampant in society but tried his best to cleanse the hearts and minds of people from these impurities. He does not lower himself to the depths of ignominy but beckons to lift his subjects to high moral stations which he himself has conformed to from the very beginning. His world is a world of learning and sincerity, and there is no room for religious imposters and political brokers in it.  He is in his own microcosm a vast desert and within himself a boundless ocean. In his own area of specialty he has so many interests that for such things there is simply no space. The field in which he has labored hard all these years has no room for blind following but of learning and research. If someone needs to fully appreciate his achievements they should study his work par excellence that the world knows as Tadabbur- e Qur’ān. He is not a man of today but a man of the future and his time is not far now.             

The draft work on Tadabbur- e Qur’ān was begun by this man of posterity sometime in 1957. He had begun the preparation for this from the time when in 1925 Hamīd al-Dīn Farāhī had standing in the recesses of his home said to him: “Amīn Ahsan, will you continue writing for the newspapers or will you study the Qur’ān from me?” He had mentioned that in those days he was the editor of a newspaper working for a good remuneration but without a second thought said: “I will study the Qur’ān from you.  Imām Farāhī indicating a room in his house said: “you will be residing here”. And so I resigned from the editorship, re-began my student life and moved into this room. After this Mawlānā Syed Sulemān Nadvi had proposed his name for the post of professor in a college and had promised the college patrons that he will convince Amīn Ahsan for this. When Amīn Ahsan was informed about this he walked in the scorching sun to Darul Musanifīn and informed Syed Sahib that since you have proposed the name of this humble servant, thank you for this but I am sorry I will not be able to accept this position. I cannot leave Imām Farāhī during his life and go anywhere. He later related that Syed Sahib was at a loss for words for he couldn’t understand how a humble student could turn down such a good offer. After this incident, during a lecture at the Nadva, he with a great deal of animation related this story to his student audience that this is how some devoted students are. Anyhow I spoke my mind and came away but I was worried that during this time if Ustād Imām Farāhī were to visit Darul Musanifeen it might so happen that Syed Sahib may say something to him and then he might promise to send me. He would light up with a strange expression of pride whenever he related this and much later he learnt that Ustād Imām Farāhī had visited Syed Sahib and Syed Sahib had spoken to him about this matter to which he had clearly responded that why are you after Amīn Ahsan and besides, who am I doing all this effort for?

Farāhī’s efforts bore fruit. When in 1930, close to his demise, he sent for Amīn Ahsan. At this time he was under treatment at a hospital in Mithra. When Amīn Ahsan entered the room Farāhī looked at him and said: “Amīn you are here!” Amīn Ahsan says that he had taken my name in such a manner that he was not simply just taking my name but stressing on its meaning and in this way giving me for safe keeping his legacy of knowledge and school of thought.

Amīn Ahsan spent his entire life doing justice towards fulfilling this responsibility. He would always say that I am scared that if I happen to meet Farāhī  in the presence of Allah Almighty he might not be satisfied with my work.

What is Tadabbur- e Qur’ān? He writes in the introduction:

I without a modicum of pride just in the way of relating a statement of fact would suggest that this book is the result of my forty year long struggle. I have spent the best years of my youth in its preparation and now my feeble old age I am spending in its writing and drafting. During this long stretch of time I have witnessed many ups and downs in life and swallowed many a sweet and bitter morsel but I am grateful to my creator that at any given time or in any condition my mind and heart have never disengaged with this book. During this time whatever I have read, whatever I have thought, I have kept this book in focus, and whatever I have written directly or indirectly has been related to it. I have deliberated in earnest over each and every verse of the Qur’ān, have deliberated on each and every āyah and pondered upon each and every word and tried to solve each and every literary and grammatical problem thus turning in the process each and every stone under which I hoped to discover a hidden clue. This secret I would like to openly announce to the world that I have never felt any lethargy or despondency while doing this work but on the other hand have always felt a deep sense of pleasure and comfort

Yet again providence grants fresh energy

The result of these forty years of hard work in which is also included the fruits of my teacher Hamīd al-Dīn Farāhī‘s 25/30 years of hard work and struggle. I feel a deep sense of pride that whatever is in this book is all in all my teacher’s giving and although this is a reality but I am somewhat cautious in making this claim because inadvertently I may attribute some of my own oversights to him. My interaction with Mawlānā Farāhī has not been of the level that I have been able to understand and learn about his views in totality about each and every āyah. But on the other hand I learnt from him the principles of deliberating on the Qur’ān and in his guidance for five whole years have spent experimenting with these. Since that time I have kept these very rules in front of me for my work to this very day. Based on this aspect it is not incorrect to say that all this is the gift of my teacher some direct some indirect so it will not be incorrect to state that parts of this work that appear solid and above debate should be attributed to my teacher and whatever argument appears to be weak or flawed should be committed to my lack of knowledge.

I made my creator witness to the fact that I have not written an explanation of even a single āyah in which I have been unsure or unclear. If ever I have found myself in two minds I have clearly indicated the same. Similarly I wish to proclaim that at any point I have not tried to explain or use any āyah in a way that is based on my own personal understanding of it and not on the real explanation of the āyah itself. I have not felt any leaning or association, whether of mind and heart, towards anything outside of the Qur’ān. If such a thing has taken place it has always been for the Qur’ān and in the light of the Qur’ān. The readers of this book will feel that when at any point I have had a disagreement with my teacher I have openly declared the same without any hesitation.

This exegesis has been written in Lahore and for many years just around the outskirts of Lahore near Khanqua Dogran in a difficult to reach village of Rahmān Ābād under Sarsay and Shisham trees. Here there was no electricity, no fan or any facility for writing and compilation. I witnessed the manuscript time and again being drenched in the writers sweat but his pen continued with a flourish. He was forever ready to solve the difficulties of the Qur’ān and also commit to paper his consequential thoughts and was fully ready to tackle any difficulty that he may encounter for this:

The seeker never tires of traveling
Love the route as well as destination


The state of belief in which Amīn Ahsan wrote this explanation of the Qur’ān is hard to describe in words. I remember he was writing the explanation of Sūrah al-Rahmān for when he encountered the problem relating to pearls that they are always found in salt water but the Qur’ān is adamant on the fact that they are found both in sweet and salty water. He made me conduct research on the same. I saw that on his face were not even a trace of anguish but a certain peace and a glow of faith. I don’t think I can repeat the utterances he made at that occasion word for word but the gist was: by God, if pearls were to come to me themselves and say that we are only formed in salty waters I will tell them you are in doubt about your formation, the verdict of the Qur’ān cannot be wrong.

Amīn Ahsan Islāhī was born in 1904 in a village by the name of Bhambore belonging to the United Provinces. His paternal uncle Shibli Mutakalim Nadvi was the in-charge of Madrasah tul Islāh. At his behest Amīn Ahsan’s father, in January 1915 admitted him to this madresah. His entire education took place at this seminary in Sara-e Mīr, Azam Garh. Although this was a religious seminary but his grasp on English language was exceptionally good that not only could he easily read in a remarkably short span of time books on all important subjects but he could also easily comprehend them very well and explain the complicated meanings to people with ease. Students reading in religious seminaries usually to do not master spoken Arabic but while he was residing with Imām Farāhī for his studies he would speak fluent Arabic. When the famous scholar Mosa Jarullah came to Hindustān he went to meet Imām Farāhī at Madrasah tul Islāh. Amīn Ahsan was his host there. When he saw him converse and engage with confidence in Arabic he commented: how many years have you spent in Arabia? Amīn Ahsan replied to this: “These two feet of mine have never even touched the soil of Arabia”. For a long while Mosa Jarullah kept expressing his astonishment at this.

During this time once in the presence of Mohammad Ali Johar and Syed Sulemān Nadvi young Amīn Ahsan delivered a speech. His remarkable oration got further polished as time went by and he was greatly lauded by well know orators of his time such as Syed Atā ullah Shah Bukharī in these words: “I too am an orator but you are a scholar and orator and this was reflected in your speech”. People applauded these comments but he was awaiting Amīn Ahsan’s response. In the evening when all and sundry were collected for Imām Farāhī’s lecture someone mentioned this to Imām Farāhī. He kept listening to the conversation going around and then in his own unique style said: yes my brothers this is a great Abul Kalam Azad. Amīn Ahsan later related that the manner in which he said the word Azad sounded more like a reprimand then a compliment. This was my teacher’s method of training his students. Before this at the time when he was still at the seminary Imām Farāhī had complimented him on a certain speech in the words: this student has delivered a remarkable speech. On this Amīn Ahsan’s teacher, Mawlānā ‘Abd al-Rahmān Madanī said: he should have some memento to remember your compliment. Farāhī gave him his exegetical collection awarded for beautiful oration affixed with his signature.

In 1925 on Farāhī’s instruction he went to Malaya for some seminary related work and while there wrote to his colleague Amīn Ahsan in which there was one particular sentence: the tumultuous ocean are days of spring. When Imām Farāhī read this he said: Amīn mian is a writer. He related himself that in his student days if he was ever asked what he wanted to become, he would say Adīb al-Hind .

During this time he was fond of poetry. He always had a vivacious personality. Once he wrote a satire on a seminary teacher. Maulana Nigrāmi called him reprimanded him, also fined him, but at the same time also remarked, there is no doubt about the fact that your art of composing is very good but this interest ended in those days. He used to say that when I compare myself to Shibli I realize that I cannot compose poetry like him and so have left this arena.

During his time at the seminary an exam was conducted on Sab‘ Muallaqāt. Syed Sulemān Nadvi was the examiner. He wrote on Amīn Ahsan’s paper: this is a student’s paper, but from where will I be able to procure teachers like him for the Nadvā 

At the seminary there were some people who had strained relations with him; they said to Farāhī that Amīn Ahsan is not familiar with grammar. He related that when I entered class Imām Farāhī asked (Amin lam kia segha hai?)When I answered he looked inquiringly at the people who had complained and said: “who said that Amīn is not familiar with grammar”.

In another similar situation Imām Farāhī asked the students in class: who is the youngest member of this group?  Amīn Ahsan was their response. Then he asked: who joined much later? Amīn Ahsan was the reply yet again. Then he commented: Prophet Jesus said: Many will come later but will take the lead from everyone else.

امام امین احسن اصلاحی

Javed Ahmad Ghamidi

اسلام کے دور جدید کا دوسرا عالم دنیا سے رخصت ہو گیا۔
۱۹۳۰ء میں امام حمید الدین فراہی نے اِس عالم فانی سے رخت سفر باندھا تو صاحب ’’معارف‘‘ سید سلیمان ندوی نے اِس دور کے پہلے عالم کا ماتم کیا تھا۔ اِس کے کم و بیش ۶۷ برس بعد آج ہم فراہی کے جانشین امین احسن اصلاحی کا ماتم کر رہے ہیں۔ سقراط و فلاطوں، ابوحنیفہ اور ابو یوسف، ابن تیمیہ اور ابن قیم ۔۔۔ یہ جس طرح ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، فراہی و اصلاحی بھی دنیا میں اب ہمیشہ ایک ہی وجود کے دو نام رہیں گے:

چوں تمام افتد سراپا ناز می گرددنیاز
قیس را لیلیٰ ہمی نامند درصحرای من

علم کا جلال و جمال، فقر کا وقار، عجز کی تمکنت، مجسم استغنا، سراپا محبت، خدا کے آخری الہام کا عہد آفریں شارح، دین و شریعت میں ایک نئی دنیا کا نقیب، صاحب طرز انشا پرداز، صاحب طرز خطیب، حسن تکلم کا وہ انداز کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی:

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

http://www.javedahmadghamidi.com/index.php/videos/view/surah-fatihah-part-1

میں نے امین احسن کو سب سے پہلے ۱۹۷۳ء میں دیکھا او رپھر کسی اور طرف نہیں دیکھا۔ میرے لیے اُس وقت اُن کا دروازہ ’در نکشودہ‘ ہی تھا، لیکن میں نے ہمت کی اور اِسی بند دروازے پر بیٹھ گیا:

بردرنکشودہ ساکن شد در دیگر نہ زد

پھر وہ دروازہ کھلا اور اِس طرح کھلا کہ گویا اپنے ہی گھر کا دروازہ بن گیا۔ اُس دن سے آج تک علم و عمل کی جو دولت بھی ملی ہے، خدا کی عنایت سے اور اِسی دروازے سے ملی ہے:

ملکت عاشقی و گنج طرب
ہرچہ دارم زیمن ہمت اوست

۱۹۸۷ء میں جب میں نے ’’دبستان شبلی‘‘ کی داستان لکھی تو امام فراہی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: امین احسن اصلاحی اِسی نابغۂ عصر کے جانشین ہیں۔ وہ اپنے استاد سے آگے نہیں بڑھے تو پیچھے بھی نہیں رہے۔ حمید الدین جس مقام پر پہنچے تھے، اُن کی ساری عمر اِسی کے اسرارورموز کی وضاحت میں گزری ہے۔ اُن کی ’’تدبر قرآن‘‘ تفسیر کی کتابوں میں ایک بے مثال شہ پارۂ علم و تحقیق ہے۔ اُن کے قلم سے پچاس برس کے معرکوں کی روداد سنیے تو بقول عرفی:

رمح او گوید اگر جنگ وگر صلح کہ من
بہ کشاد گرہ جبہۂ خاقاں رفتم

میں نے لکھا تھا: ’’دبستان شبلی‘‘ کی آخری نشانی اب امین احسن ہی ہیں۔ اُن کے تلامذہ و احباب میں کتنے ہیں جو اِس حقیقت سے آگاہ ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے دس برس سے اِسی احساس کی آگ ہے جو میرے سینے میں سلگ رہی ہے۔ اِس کی چنگاریاں اپنی ہی راکھ میں دب جاتی ہیں، مگر بجھنے نہیں پاتیں:

کہ آتشے کہ نہ میرد ہمیشہ در دل ماست

اب یہ آخری نشانی بھی دنیا میں نہیں رہی۔ ۱۵ ؍دسمبر ۱۹۹۷ء کو صبح ۳ بجے، ٹھیک اُسی وقت جب وہ اپنے پروردگار کے حضور میں حاضری کے لیے اٹھا کرتے تھے، ہمیشہ کے لیے اُس کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ اُن کی ساری زندگی قرآن کے اسلوب و مدعا کی مشکلیں حل کرتے ہوئے گزری۔ اب کیا ہے، جہاں مشکل پیش آئے گی، خود صاحب قرآن سے پوچھ لیں گے۔ اُن کی دنیا تو اب وہ ہے کہ جہاں:

بے پردہ جلوہ ہا بہ نگاہی تواں خرید

امین احسن کیا تھے؟ اب سے کئی برس پہلے جب اِس شہر کے کچھ مذہب فروشوں نے اُن کا مقام معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا تو میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا تھا: مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرمایۂ فخر اگر کچھ ہے تو بس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے، لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اُس کی تگ و دو کا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پر یہ لوگ جیتے اورمرتے ہیں۔ اِن زخارف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اُس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے وہ طریقے جو اِن حضرات کے لیے ’ھَنِیْءًا مَّرِیْءًا‘ہیں، اُن کا ذکر بھی کوئی شخص اگر اُس کی مجلس میں کبھی کر دے تو اُس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اُس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا ، وہ یہ تھی کہ آدمی کا سایہ بھی اگر اُس کا ساتھ نہ دے تو اُسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔ اُس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکرو عمل کی سب غلاظتوں کو جمع کر کے اُنھیں دلائل فراہم نہیں کیے، دل و دماغ کو اِن غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا، اُنھیں اُن بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پر وہ اپنے شعور کے پہلے دن ہی سے فائز رہا ہے۔ اُس کی دنیا علم و دیانت کی دنیا ہے، مذہبی بہروپیوں اور سیاسی بازی گروں کے لیے اِس دنیا میں کوئی جگہ پیدا ہی نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنے ذرۂ ہستی میں ایک صحرا اور اپنے وجود میں ایک سمندر ہے۔ اُس کی اپنی اقلیم ہی میں اُس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اِس طرح کی چیزوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ اُس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے، وہ پیری مریدی کا نہیں، علم و تحقیق کا میدان ہے۔ اُس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ اُس شہ پارۂ علم و تحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ بندۂ امروز نہیں، مردفردا ہے اور اُس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا۔
’’تدبر قرآن‘‘ کی تسوید کا کام اِس مرد فردا نے ۱۹۵۷ء میں کسی وقت شروع کیا۔ اِس کی تیاری وہ اُس زمانے سے کر رہے تھے جب ۱۹۲۵ء میں امام فراہی نے اپنے گھر کے کسی گوشے میں کھڑے ہوئے اُن سے کہا تھا: امین احسن اخبار نویسی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھو گے؟ وہ بتاتے تھے کہ میں اُس زمانے میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور اچھے مشاہرے پر کام کر رہا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی توقف کے عرض کیا: میں آپ سے قرآن پڑھوں گا۔ امام فراہی نے اپنی اقامت گاہ ہی کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ یہاں ٹھیریں گے ، اور میں ادارت سے استعفا دے کر ایک مرتبہ پھر طالب علمانہ زندگی گزارنے کے لیے اُس کمرے میں آ کر ٹھیر گیا۔ بعد میں مولانا سید سلیمان ندوی نے کسی کالج میں پروفیسری کے لیے اُن کا نام تجویز کیا اور کالج کے ذمہ داروں سے ہامی بھر لی کہ وہ اُنھیں راضی کر لیں گے۔ امین احسن کو بتایا گیا تو وہ چلچلاتی دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے دارالمصنفین پہنچے اور سید صاحب سے عرض کیا: آپ نے اِس فقیر کا نام تجویز کیا، آپ کا شکریہ، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں یہ پیش کش قبول نہ کر سکوں گا۔ امام فراہی کو میں اُن کی زندگی میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ بتاتے تھے کہ سید صاحب بالکل حیران رہ گئے۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک غریب طالب علم اتنی بڑی پیش کش اِس طرح ٹھکرا دے گا۔ بعد میں اُنھوں نے ندوہ میں تقریر کرتے ہوئے بڑے تاثر کے ساتھ اِس واقعے کا ذکر کیا اور طلبہ سے کہا کہ دیکھو، طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال میں یہ بات کہہ کر چلا آیا، لیکن مجھے اندیشہ رہا کہ استاذ امام اِن دنوں اگر ’’دارالمصنفین‘‘ آئے تو ہو سکتا ہے کہ سید صاحب اُن سے بات کریں اور وہ مجھے بھیج دینے کا وعدہ کر لیں۔ اُن کا چہرہ ایک عجیب احساس فخر سے تمتما اٹھتا تھا، جب وہ یہ بتاتے تھے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ استاذ امام وہاں گئے بھی اور سید صاحب نے اُن سے بات بھی کی، لیکن اُنھوں نے صاف کہہ دیا: آپ امین احسن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ میں یہ ساری محنت آخر کس کے لیے کر رہا ہوں؟
فراہی کی یہ محنت رنگ لائی۔ ۱۹۳۰ء میں جب اُن کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اُنھوں نے امین احسن کو بلا بھیجا۔ وہ اُس وقت متھرا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ امین احسن کمرے میں داخل ہوئے تو فراہی نے اُنھیں دیکھ کر کہا: امین آ گئے۔ امین احسن کہتے تھے: اُنھوں نے میرا نام اپنی زبان سے اِس طرح ادا کیا کہ گویا نام نہیں لے رہے، اِس کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے علم و فکر کی امانت میرے سپرد کر رہے ہیں۔
امین احسن نے اپنی پوری زندگی اِسی امانت کا حق ادا کرنے میں صرف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے: ڈرتا ہوں، خدا کے حضور میں فراہی سے ملوں تو وہ میرے کام سے مطمئن نہ ہوں۔
’’تدبر قرآن‘‘ کیا ہے؟ وہ اِس کے تعارف میں لکھتے ہیں:

’’میں بلا کسی شائبہ فخر کے، محض بیان واقعہ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ یہ کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اِس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے، اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا دور اِسی کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں۔ اِس طویل مدت میں، میں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور بہت سے تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتارے ہیں، لیکن اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ کسی دور اور کسی حال میں بھی میرا ذہنی و قلبی تعلق اِس کتاب سے منقطع نہیں ہوا۔ میں نے اِس ساری مدت میں جو کچھ پڑھا ہے ، اِسی کو محور بنا کر پڑھا ہے۔ جو کچھ سوچا ہے ، اِسی کو سامنے رکھ کر سوچا ہے اور جو کچھ لکھا ہے ، بالواسطہ یا بلاواسطہ اِسی سے متعلق لکھا ہے۔ میں نے قرآن حکیم کی ایک ایک سورہ پر ڈیرے ڈالے ہیں، ایک ایک آیت پر فکری مراقبہ کیا ہے اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک ادبی یا نحوی اشکال کے حل کے لیے ہر اُس پتھر کو الٹنے کی کوشش کی ہے جس کے نیچے سے مجھے کسی سراغ کے ملنے کی توقع ہوئی ہے اور یہ راز بھی میں برملا ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اِس کام میں کوئی تکان یا افسردگی محسوس نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نہایت گہری لذت اور نہایت عمیق راحت کا احساس کیا ہے:

ہر زماں از غیب جانے دیگر است

میری چالیس سال کی محنتوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ، اِس میں میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی ۳۰،۳۵ سال کی کوششوں کے ثمرات بھی ہیں۔ مجھے بڑا فخر ہوتا اگر میں یہ دعویٰ کر سکتا کہ اِس کتاب میں جو کچھ بھی ہے، سب استاذ مرحوم ہی کا افادہ ہے، اِس لیے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ کرنے میں صرف اِس لیے احتیاط کرتا ہوں کہ مبادا میری کوئی غلطی اُن کی طرف منسوب ہو جائے۔ مولانا سے میرے استفادے کی شکل یہ نہیں رہی ہے کہ ہر آیت سے متعلق یقین کے ساتھ اُن کی رائے میرے علم میں آ گئی ہو، بلکہ میں نے اُن سے قرآن حکیم پر غور کرنے کے اصول سیکھے ہیں اور خود اُن کی رہنمائی میں پورے پانچ سال اِن اصولوں کا تجربہ کرنے میں بسر کیے ہیں۔ پھر اِنھی اصولوں کو سامنے رکھ کر آج تک کام کرتا رہا ہوں۔ اِس اعتبار سے اگرچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ سب کچھ استاذ ہی کا فیض ہے، لیکن اِس میں چونکہ بلاواسطہ افادے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ افادے کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، اِس وجہ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اِس کا جو حصہ مستحکم اور مدلل نظر آئے، اُس کو استاذ مرحوم کا صدقہ سمجھیے اور جو بات کمزور یا غلط نظر آئے، اُس کو میری کم علمی پر محمول فرمائیے۔‘‘(۱/۴۱)

اُنھوں نے لکھا ہے:

’’میں اپنے رب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اِس کتاب میں کسی ایک آیت کی بھی ایسی تفسیر نہیں کی جس میں مجھے کوئی تردد ہو۔ جہاں ذرا بھی تردد ہوا ہے، میں نے بے تکلف اُس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اِسی طرح یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ کسی ایک مقام میں بھی میں نے یہ کوشش نہیں کی ہے کہ کسی آیت کو اُس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا کر اپنے کسی نظریے یا کسی خیال کی تائید کے لیے استعمال کروں۔ قرآن سے باہر کی کسی چیز سے بھی کبھی میری کوئی خاص قلبی و ذہنی وابستگی نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے تو قرآن ہی کے لیے اور قرآن ہی کے تحت ہوئی ہے۔ اِس کتاب کے پڑھنے والے محسوس کریں گے کہ جہاں کہیں مجھے اپنے استاذ سے بھی اختلاف ہوا ہے، میں نے بے جھجک اُس کا بھی اظہار کر دیا ہے۔‘‘(۱/۴۲)

یہ تفسیر لاہور میں بھی لکھی گئی اور برسوں لاہور سے باہر خانقاہ ڈوگراں کے پاس ایک دور افتادہ گاؤں رحمن آباد میں سرسے اور شیشم کے درختوں کے نیچے بھی زیر تسوید رہی، جہاں نہ بجلی تھی، نہ پنکھا اور نہ تصنیف و تالیف کے لیے کوئی دوسری سہولت۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ مسودہ پسینے سے بھیگ رہا ہے، لیکن مصنف کا قلم اُسی طرح رواں دواں ہے۔ وہ اِس بات سے آگاہ تھے کہ ۔۔۔ بہریک گل زحمت صد خارمی بایدکشید ۔۔۔ قرآن کی مشکلوں کو حل کرنے اور اُس سے متعلق اپنے نتائج فکر کو سپرد قلم کرنے میں وہ دنیا کی ہر مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے:

طالباں را خستگی در راہ نیست
عشق خود راہ ست وہم خود منزل ست

امین احسن نے یہ تفسیر قرآن پر ایمان کی جس کیفیت میں لکھی ہے، اُسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یاد ہے، وہ سورۂ رحمن کی تفسیر لکھ رہے تھے۔ ’یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ‘ کے تحت جب یہ مسئلہ سامنے آیا کہ عام خیال کے مطابق موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، لیکن قرآن بالکل صریح ہے کہ یہ دونوں ہی پانیوں سے نکلتے ہیں تو اُنھوں نے مجھے تحقیق کے لیے کہا۔ میں نے دیکھا، اُن کے چہرے پر تردد کی کوئی پرچھائیں نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اطمینان تھا اور ایمان کی ایک عجیب روشنی تھی۔ اِس موقع پر اُنھوں نے جو کچھ کہا، میں اُسے بعینہٖ تو شاید دہرا نہ سکوں، لیکن مدعا یہی تھا کہ خدا کی قسم ، اگر موتی خود آ کر بھی مجھے کہیں کہ وہ صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں تو میں اُن سے کہہ دوں گا: تمھیں اپنی تخلیق میں شبہ ہوا ہے، قرآن کا بیان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
اُن کی پیدایش ۱۹۰۴ء میں یوپی کے ایک گاؤں بمہور میں ہوئی۔ اُن کے رشتے کے ایک چچا شبلی متکلم ندوی اُس زمانے میں ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے مہتمم تھے۔ اُنھی کے ایما پر امین احسن کے والد نے جنوری ۱۹۱۵ء میں اُنھیں اِس مدرسہ میں داخل کرا دیا۔ اُن کی ساری تعلیم سراے میر اعظم گڑھ کی اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ یہ ایک دینی مدرسہ تھا، لیکن انگریزی زبان میں اُن کی استعداد اتنی اچھی تھی کہ علوم عالیہ کی کتابیں اِس زبان میں نہ صرف یہ کہ بغیر کسی دقت کے پڑھتے، بلکہ اُن کے ادق مطالب دوسروں کو سمجھا دے سکتے تھے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم عربی بولنے پر قدرت نہیں رکھتے، لیکن وہ جب امام فراہی سے استفادے کے لیے اُن کے پاس مقیم تھے تو بے تکلف عربی بولتے تھے۔ مشہور عالم موسیٰ جار اللہ ہندوستان آئے تو امام فراہی سے ملنے مدرستہ الاصلاح بھی گئے۔ امین احسن ہی اُن کے میزبان تھے۔ عربی زبان میں گفتگو اور تقریر پر اُن کی قدرت دیکھ کر ایک دن اُنھوں نے پوچھا: عرب میں کتنے سال گزار کر آئے ہو؟ امین احسن نے جواب دیا: ’ما مست قدمی ھاتین قط بلاد العرب‘(میرے اِن دونوں پاؤں کو کبھی سرزمین عرب نے نہیں چھوا)۔ موسیٰ جار اللہ بڑی دیر تک اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔
اِسی زمانے میں ایک مرتبہ محمد علی جوہر اور سید سلیمان ندوی جیسے لوگوں کی موجودگی میں نوجوان امین احسن نے تقریر کی۔ اُن کی خطابت کا جو رنگ بعد میں نمایاں ہوا اور جس کی داد اپنے وقت کے بے مثل خطیب سید عطا اللہ شاہ بخاری نے اِس طرح دی کہ خطیب تو میں بھی ہوں، لیکن تم عالم بھی ہو اور خطیب بھی، اُس کی کچھ جھلک اِس تقریر میں بھی تھی۔ لوگوں نے بہت داد دی، لیکن وہ منتظر تھے کہ استاذ امام کیا کہتے ہیں۔ شام کو درس کے لیے حاضر ہوئے تو کسی نے امام فراہی سے ذکر کیا۔ وہ کچھ دیر دوسروں کی باتیں سنتے رہے، پھر اپنے خاص انداز میں فرمایا: ہاں بھئی، یہ بڑے ابوالکلام آزاد ہیں۔ امین احسن بتاتے تھے کہ اُنھوں نے لفظ ’آزاد‘ اِس طرح ادا کیا کہ اُن کی یہ تعریف میرے لیے تعریف کم اور تنبیہ زیادہ ہو گئی۔ میرے استاد کی تربیت کا یہی انداز تھا۔
اِس سے پہلے امام فراہی نے مدرسہ کے زمانے میں بھی اُن کی ایک تقریر کی تحسین اِن الفاظ میں کی تھی: ’’اِس طالب علم نے بہت اچھی تقریر کی ہے۔‘‘ اِس پر اُن کے استاد مولانا عبد الرحمن نگرامی نے عرض کیا: آپ کی اِس تحسین کی کوئی یادگار بھی اِس کے پاس ہونی چاہیے۔ فراہی نے اپنا ’’مجموعۂ تفاسیر‘‘ اُنھیں دیا اور اُس پر لکھا: ’’بہ صلۂ حسن تقریر‘‘ اور اپنے دستخط ثبت کر دیے۔
۱۹۲۵ء میں اُن کے حکم پر وہ مدرسہ کے کسی کام سے ملایا گئے تو اپنے رفیق درس اختر احسن کو خط لکھا۔ اُس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ: ’’سمندر کی سرجوشی کے ایام بہار ہیں۔‘‘ امام فراہی نے پڑھا تو کہا: امین میاں تو ادیب ہیں۔ وہ خود بتاتے تھے کہ زمانۂ طالب علمی میں اگر کوئی شخص اُن سے پوچھتا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ کہتے: ادیب الہند۔
اِس دور میں شاعری کا شوق بھی رہا۔ طبیعت میں شروع سے شوخی تھی۔ مدرسہ میں اپنے ایک استاد کی ہجو لکھ دی۔ مولانا نگرامی نے بلایا، تنبیہ کی، کچھ جرمانہ بھی کیا، لیکن ساتھ ہی فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ تمھاری نظم بہت اچھی ہے۔ تاہم یہ شوق اُسی زمانے میں ختم ہو گیا۔ بتاتے تھے کہ میں نے شبلی سے موازنہ کیا تو مجھے خیال ہوا کہ میں اُن جیسے شعر نہیں کہ سکتا۔ اِس کے بعد پھر میں نے اِس کوچے میں قدم نہیں رکھا ۔
مدرسہ کے زمانے میں ’’سبع معلقات‘‘ کا امتحان ہوا۔ سید سلیمان ندوی ممتحن تھے۔ امین احسن کے پرچے پر اُنھوں نے لکھا: یہ ایک طالب علم کا پرچہ ہے۔ مجھے ندوہ کے لیے اِس طرح کے استاد بھی کہاں سے ملیں گے۔
مدرسہ میں جن لوگوں کی اُن سے چشمک رہتی تھی، اُنھوں نے فراہی سے کہا: امین احسن کو نحو سے کچھ زیادہ مناسبت نہیں ہے۔ بتاتے تھے: میں درس میں حاضر ہوا تو آتے ہی استاذ امام نے پوچھا: امین ’ل‘کیا صیغہ ہے؟ میں نے جواب دیا، معنی عرض کیے تو بڑے خشمگیں انداز میں لوگوں کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: کون کہتا ہے کہ امین کو نحو نہیں آتی۔
اِسی طرح کے ایک موقع پر امام فراہی نے اپنے درس کے حاضرین سے پوچھا: اِس درس میں سب سے کم سن کون ہے؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اُنھوں نے پوچھا: سب سے بعد میں کون شریک ہوا؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اِس پر فرمایا: سیدنا مسیح کا ارشاد ہے کہ کتنے ہیں جو پیچھے آنے والے ہیں، مگر دوسروں سے آگے نکل جائیں گے۔
اپنے اوپر استاد کے اعتماد کا ذکر وہ اِسی اسلوب میں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بتایا کہ لوگوں نے امام فراہی سے کہا: امین تو کہتے ہیں کہ عربی شاعری بھی کوئی شاعری ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ اونٹنی کی تعریف کر رہے ہیں یا محبوبہ کی۔ امام فراہی نے کہا: اُنھیں کسی نے شعر سمجھایا نہیں ہو گا۔ میں آیا تو اُنھوں نے پوچھا: میں نے وہی بات دہرا دی۔ استاذ امام نے کہا: کوئی شعر پڑھو۔ میں نے معلقۂ امرؤالقیس کا پہلا شعر پڑھ دیا: ’قفا نبک من ذکری حبیب و منزل‘۔امام نے کہا: ترجمہ کرو۔ میں نے اُسی طرح ترجمہ کر دیا جس طرح بالعموم مدرسوں میں کیا جاتا ہے۔ امام نے کہا: نہیں، یوں نہیں۔ اِس طرح ترجمہ کرو کہ: ٹھیرو، ٹھیرو، دوستو، جاناں اور منزل جاناں پہ دو آنسو بہانے دو۔ میں پکار اٹھا: لاریب، شعر ہو گیا، اب یہ شعر ہو گیا ہے۔ وہ کہتے تھے، اِس کے بعد عربی شاعری ہی میری سب سے زیادہ پسندیدہ شاعری ہو گئی۔
فراہی کا ذکر جب اُن کی زبان پر آتا تو آنکھوں میں ایک عجیب چمک پیدا ہو جاتی تھی۔ اِس کلیم ذروۂ سیناے علم کی باتیں وہ گھنٹوں کرتے، مگر سیر نہ ہوتے تھے۔ بعض واقعات ایسے دل نواز اسلوب میں سناتے کہ معلوم ہوتا، کسی دیوتا کا ذکر کر رہے ہیں۔
بتاتے تھے: ’’سبع معلقات‘‘ پڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ ’لا‘سمجھ میں نہیں آیا۔ سب شارحین کو دیکھا، ادیب الہند مولوی فیض الحسن سہارن پوری کی شرح بھی دیکھی، لیکن کسی راے پر اطمینان نہیں ہوا۔ کتاب لے کر امام فراہی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اپنے دارالمطالعہ کے باہر کھڑے تھے۔ میں نے مشکل بیان کی، لمحے بھر کو رکے، جیب سے پنسل نکالی اور میری کتاب پر لکھا: ’لا ھی نادرۃ‘۔ میاں، جس طرح تم لوگ نہیں کہتے کہ جس گھڑی میری موت نہ آ جائے، یہ اِسی طرح کا ’لا‘ ہے۔ زبان کے غوامض تک پہنچنے کا یہ انداز صرف استاد ہی کا حصہ تھا۔
فراہی کے آخری زمانے میں ہندوستان کے ایک بڑے عالم نے اُن کی کسی تحریر پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ اِس سے پورے علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مدرستہ الاصلاح کے طلبہ اور اساتذہ، سب پریشان تھے۔ میرے لیے بھی یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ اِسی اضطراب اور پریشانی کے عالم میں فراہی کو ڈھونڈتا ہوا اُن کے دارالمطالعہ کی طرف بھاگا۔ میں نے دیکھا، استاذ امام سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔ دوڑ کر وہیں اُنھیں بتایا۔ میں خود جس پریشانی میں تھا، اُن سے بھی اِسی کے لحاظ سے کسی رد عمل کی توقع کر رہا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے زینے پر رکے، پھر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے: اچھا، یہ جن کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ تو مجھے نہیں جانتے۔ میں ہکا بکا اُنھیں دیکھتا کھڑا رہ گیا۔ اِس فتوے پر اِس سے زیادہ بلیغ کوئی تبصرہ شاید کبھی نہ ہو سکے۔ وہ بڑے والہانہ انداز میں کہتے: فراہی یہ تھے، اِس شان کا کوئی شخص اب تم کہاں سے پیدا کرو گے؟
فراہی سے اُنھوں نے قرآن پڑھا، اُس کی زبان کا وہ ذوق پایا جو شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔ نظم قرآن فراہی کی دریافت ہے، لیکن امین احسن نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں اُسے وہاں پہنچا دیا ہے کہ اُس کے منکر بھی اب انکار کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے۔ امین احسن کا پایۂ علم وہی تھا جو اِس امت میں مختلف علوم و فنون کے ائمۂ مجتہدین کا رہا ہے۔ زبان، ادب، فلسفہ و حکمت اور قرآن کے معارف، اِن سب میں وہ جس مقام پر فائز تھے، اُس سے آگے کوئی مقام آسانی سے تصور میں نہیں آتا۔ اِن علوم میں لاریب، وہ اپنے وقت کے امام تھے۔ اُن کی بعض نئی تحقیقات سے متعلق جب کوئی شخص اُن سے متقدمین کے کسی حوالے کا تقاضا کرتا تو وہ بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے:مطمئن رہیے، کچھ عرصے کے بعد ہم بھی متقدمین ہی ہو جائیں گے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں نے اُن کی مجلس میں صدیوں کے عقدے لمحوں میں کھلتے دیکھے اور بارہا اعتراف کیا ہے کہ:

طے می شود ایں رہ بدرخشیدن برقے
مابے خبراں منتظر شمع و چراغیم

اُن کا مقام یہی تھا، لیکن اِس کے باوجود اپنی کسی عزیز سے عزیز راے اور تحقیق کے خلاف بھی کوئی حق اگر سامنے آ گیا ہے تو اُن کے دل و دماغ کو میں نے اِس طرح اُس کے سامنے جھکتے دیکھا ہے کہ حیرت ہو جاتی تھی۔ اُن کے مدرسۂ علمی کا میں پچھلی صفوں میں بیٹھنے والا ایک طالب علم ہوں۔ سورۂ توبہ میں ’اشہر حرم‘کا مفہوم اُنھوں نے جس طرح متعین کیا ہے، اُس پر مجھے اطمینان نہیں ہو سکا۔ میرا خیال تھا کہ بات بہت سادہ ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے جس طرح دیکھا ہے، اِس کے نتیجے میں یہ بہت کچھ الجھ گئی ہے۔ اُنھی کے فیض تربیت سے جو کچھ پایا ہے، اُس کی روشنی میں ایک مرتبہ بہت ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا نقطۂ نظر اُن کے سامنے رکھ دیا۔ وہ میری بات سنتے رہے، سوالات بھی کیے، اِس کے بعد چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: میں نے اِس آیت پر برسوں غور کیا اور اِس کے بعد ایک راے قائم کی تھی، لیکن تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر بڑے تاثر کے عالم میں یہ شعر پڑھا:

گماں مبرکہ بہ پایاں رسید کار مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است

امام فراہی کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اُنھیں خیال ہوا کہ جس طرح قرآن اُنھوں نے حمید الدین فراہی جیسے جلیل القدر عالم اور محقق سے پڑھا ہے، اِسی طرح حدیث بھی اِس فن کے کسی جید عالم سے پڑھنی چاہیے۔ ترمذی کے شہرۂ آفاق شارح عبد الرحمن محدث مبارک پوری کا گاؤں اُن سے زیادہ دور نہیں تھا۔ امین احسن کے والد اُنھیں مولانا کے پاس لے گئے، اُنھوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو محدث مبارک پوری نے فرمایا:آپ تو سب کچھ پڑھے ہوئے ہیں۔ آپ کہیے تو میں اپنی سند آپ کو دے دوں۔ امین احسن نے جواب دیا: مولانا یہ شاہوں کا تاج ہے، اِسے یہ فقیر اِس طرح اپنے سر پر نہیں رکھنا چاہتا۔ میں سند لینے نہیں آیا، آپ سے حدیث سمجھنے آیا ہوں۔ مولانا نے پوچھا: کیا پڑھو گے؟ عرض کیا: آپ ترمذی کے شارح ہیں، وہی پڑھا دیجیے۔ چنانچہ درس شروع ہو گیا ۔ پھر سردی ہو یا گرمی، میلوں پیدل چل کر امین احسن پوری باقاعدگی کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے:

شوق تو راہ می برد، درد تو زاد می دہد

اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ وہ بڑے لطف میں سنایا کرتے تھے۔ بتاتے تھے کہ ترمذی کی عبارت پڑھتے ہوئے میں نے ایک جگہ بہت اعتماد کے ساتھ ’عرف‘کو ’ر‘کی زیر کے ساتھ پڑھا۔ مولانا نے ٹوکا : ’انا لا اعرف عرِف‘ (میں اِسے ’ر‘کی زیر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ میں نے اِسی اعتماد کے ساتھ جواب دیا:’ اما انا فلا اعرف عرَف‘(اور میں اِسے ’ر‘کی زبر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ مولانا نے فرمایا: ’راجع اللغۃ‘(لغت دیکھیے)۔ لغت کی کتاب، غالباً جوہری کی صحاح کھولی تو استاد ہی کی بات لکھی ہوئی تھی۔ میں کچھ خفیف ہوا تو مسکرائے، پھر فرمایا: ’استأنف، وللجواد زلۃ‘(آگے چلو، اصیل گھوڑا بھی پھسل جاتا ہے)۔
امام فراہی کی وفات کے بعد اُن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اُنھوں نے ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اُس کے تحت ’’الاصلاح‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا۔ اِس دوران میں امام کی کتابوں کے ترجمے کیے اور اِس قدر عمدہ ترجمے کیے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے صاحب طرز انشا پرداز نے اُن کے بارے میں لکھا کہ کسی شخص کو اگر عربی زبان کی اعلیٰ علمی عبارتوں کے اردو میں منتقل کرنے کا سلیقہ سیکھنا ہو تو اُسے یہ ترجمے دیکھنے چاہییں۔
۱۹۴۱ء میں مولانا مودودی حکومت الہٰیہ کے قیام کی دعوت لے کر اٹھے تو مدرستہ الاصلاح، دائرۂ حمیدیہ، استاد کے مسودات اور علمی کاموں کے لیے اُس زمانے میں اپنے نام پر جمع پچاس ہزار روپے کی خطیر رقم چھوڑ کر وہ اُن کے ساتھ ’’دارالاسلام‘‘ منتقل ہو گئے۔ مولانا مودودی سے اُنھیں اتفاق بھی رہا اور اختلاف بھی۔ اتفاق کے زمانے میں جب بعض علما نے اُن کے علم کا استخفاف کرنا چاہا تو امین احسن کی شہادت ایک برہان قاطع بن کر سامنے آئی۔ بعد میں ازراہ تفنن فرمایا کرتے تھے کہ بھائی، وہ میں نے مولویوں کے مقابلے میں اُن کے علم کی شہادت دی تھی، اپنے مقابلے میں نہیں۔ کم و بیش ۱۶سال وہ مولانا کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی رہے۔ اُن کے ساتھ ’’جماعت‘‘ کی علمی و فکری رہنمائی کا کام بھی کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی بڑی استقامت کے ساتھ برداشت کیں۔ بتاتے تھے کہ قرآن میں تجزیۂ مطالب اور پیروں کی تقسیم کا کام میں نے ملتان جیل میں مکمل کیا تھا۔۱۹۵۳ء میں مولانا کو موت کی سزا ہوئی تو اُن کے جذبات بے پناہ تھے۔ اختلاف کے زمانے میں بھی، جب وہ اُنھیں اپنے مخصوص اسلوب میں ’’امیرالمومنین‘‘ کہتے اور اُن پر تند و تیز لب و لہجے میں تنقید کر رہے ہوتے تھے، میں نے بارہا اُن کے الفاظ کی تلاطم خیزیوں کے نیچے محبت کا ایک گہرا سمندر موجزن دیکھا ہے۔ اُنھیں افسوس تھا کہ اپنے جس دوست کے بارے میں وہ اتنی اونچی راے رکھتے تھے، وہ کس دلدل میں اتر گیا ہے۔ ۱۹۷۵ء میں، میں مولانا مودودی کے گھر کے بالکل سامنے مقیم تھا۔ وہ میرے ہاں تشریف لائے۔ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لیے صحن میں نکلے تو مجھ سے پوچھا: مولانا مودودی کا گھر یہی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ میں نے دیکھا کہ وہ بار بار دہرا رہے تھے:

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

۱۸؍ جنوری ۱۹۵۸ ء کو یہ آشنائی امین احسن کے اِن الفاظ پر ختم ہوئی:

’’میں جانتا ہوں کہ آپ کی رفاقت سے محروم ہو کر میں کیا کچھ کھو رہا ہوں، لیکن آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آپ نے مجھ جیسے خیر خواہ مخلص کے مشوروں کی قدر نہیں کی تو آپ کو ’’برے مشیروں‘‘ کے مشورے ماننے پڑیں گے۔ میں دل سے متمنی تھا کہ مجھے آپ کی رفاقت حاصل رہے، لیکن آپ نے اپنے دونوں خطوں میں اُس کی جو قیمت مانگی ہے، میں وہ ادا کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘

مولانا دنیا سے رخصت ہوئے تو بڑے تاسف کے ساتھ فرمایا: آج وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس سے اتفاق میں بھی لذت تھی اور اختلاف میں بھی۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا وہ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، مولانا کی بذلہ سنجی کا ذکر ہوا تو پٹھان کوٹ کے زمانۂ قیام کے بعض دل چسپ واقعات سنائے۔ اُنھی میں ایک یہ لطیفہ بھی تھا۔ کہنے لگے: میری شادی ہوئی، چودھری عبد الرحمن صاحب، میرے خسر مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں کسی وجہ سے اُس روز عصر کی نماز میں حاضر نہیں ہو سکا۔ مولانا سے کسی نے پوچھا: امین احسن نظر نہیں آئے؟ اُنھوں نے برجستہ جواب دیا: بھائی آج صبح سے وہ ’ان الانسان لفی خسر‘میں مبتلا ہیں۔
بذلہ سنجی اور شوخی کلام میں امین احسن کا معاملہ بھی یہی تھا۔
قید کے زمانے میں مولانا مودودی کی بتیسی غالباً ٹوٹ گئی۔ امین احسن نہیں جانتے تھے کہ مولانا کے دانت مصنوعی ہیں۔ کسی نے بتایا تو دانتوں کی ’’تعزیت‘‘ کے لیے مولانا کے پاس گئے۔ بظاہر بہت افسردگی کی کیفیت میں تھوڑی دیر کے لیے کوٹھڑی کے دروازے میں کھڑے ہوئے، پھر کہا: مولانا، افسوس ہے، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔
ایک صاحب نے، جن سے دین کی خدمت کے معاملے میں وہ ایک زمانے میں اچھی توقعات رکھتے تھے، بڑے اہتمام کے ساتھ کانفرنسیں منعقد کرنا شروع کیں۔ اُن میں وہ تمام مکاتب فکر کے علما کو بلاتے اور اُن سے تقریریں کراتے تھے۔ دین کی خدمت کا جو تصور امین احسن رکھتے تھے، اُس میں ظاہر ہے اِس طرح کی چیزوں کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ وہ صاحب اُنھیں بھی دعوت دینے آئے۔ امین احسن نے پوچھا: اِن کانفرنسوں سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ سب نقطہ ہاے نظر کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ اُنھوں نے جواب دیا تو امین احسن نے بے ساختہ کہا: بھانت بھانت کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی یہ خدمت تو ریلوے پچھلے سو سال سے انجام دے رہی ہے۔ میرا خیال ہے، اِس کے لیے آپ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
اِس معاملے میں بھی وہ صاحب طرز تھے۔ ایک بڑے عالم اور مصنف سے ناراض ہوئے تو اُن پر پڑھے کم، لکھے زیادہ کا فقرہ چست کیا۔ مستشرقین کے اسلوب تحقیق پر تنقید کی تو اِس کے لیے مکھی کو گھس گھس کر بھینس بنانے اور ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھانے کے محاورے ایجاد کیے۔ فاطمہ جناح کی حمایت میں متحدہ محاذ بنا تو اُسے مینڈکوں کی پنسیری باندھنے سے تعبیر کیا۔ اِسی زمانے میں مولانا مودودی کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا کہ ایک طرف ایک مرد ہے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں اور دوسری طرف ایک عورت ہے جس میں عورت ہونے کے سوا کوئی خرابی نہیں۔ امین احسن نے اِس پر تبصرہ کیا: تعجب ہے، اِن لوگوں میں کوئی ایک مرد بھی ایسا نہیں نکلا جو ایک ایسے مرد کا مقابلہ کر سکے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں ہے۔ ماچھی گوٹھ کے بعد کوٹ شیر سنگھ کی شوریٰ میں مولانا مودودی امیر جماعت کے لیے غیر معمولی اختیارات کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ امین احسن کو اِس سے شدید اختلاف تھا۔ وہ ہمیشہ سے یہ راے رکھتے تھے کہ ’’جماعت‘‘ کے امیر کو شوریٰ کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُنھوں نے جماعت سے استعفا دے دیا۔ اِس پر مولانا مودودی نے اُن کے نام ایک خط میں لکھا:

’’میری اِس رائے کو آپ چاہیں تو غلط کہہ سکتے ہیں۔ اِس کے خلاف دلائل دینے کی آپ کو پوری آزادی ہے، حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی اختیار ہے کہ اِس کو جو بدتر سے بدتر معنی چاہیں پہنائیں، مگر آپ یہ الزام مجھ پر نہیں لگا سکتے کہ ایک بدنیتی کی بلی مدتوں سے مجرم ضمیر کے تھیلے میں چھپائے پھرتا رہا تھا اور پہلی مرتبہ اِسے موقع تاک کر کوٹ شیر سنگھ میں باہر نکال لایا۔ میں اِس رائے کو حق سمجھتا ہوں۔ ہمیشہ اِس کو ظاہر کیا ہے اور تشکیل ’’جماعت‘‘ کے بعد سے آج تک اِس پر عملاً کام کرتا رہا ہوں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ اِسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ جماعت میں رہتے ہوئے آپ مجلس شوریٰ کے ذہن کو اِس سے مختلف جس رائے کے حق میں بھی ہموار کرنا چاہیں،پوری آزادی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔‘‘

امین احسن نے اِس کا جواب دیا، اور دیکھیے کہ کیا جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’آپ نے اپنی ’’بلی‘‘ کی تاریخ پیدایش ناحق بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ میں اِس بات سے ناواقف نہیں ہوں کہ یہ بلی آپ کے تھیلے میں روز اول سے موجود ہے، لیکن آپ کویاد ہوگا کہ تقسیم سے پہلے الٰہ آباد کی شوریٰ کے اجلاس میں، میں نے اِس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ یاد نہ ہو تو مذکورہ شوریٰ کی روداد پڑھ لیجیے۔ اُس وقت تو یہ مر نہ سکی، لیکن میں اور جماعت کے دوسرے اہل نظر اِس کی فکر میں رہے اور شوریٰ میں اِس کی موت و حیات کا مسئلہ بار بار چھڑتا رہا، یہاں تک کہ تقسیم کے بعد ہم نے جو دستور بنایا، اُس میں اِس کی موت کا آخری فیصلہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ جب اِس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا تو اُس وقت شرع شریف، مصلحت زمانہ اور اسلامی جمہوریت، سب کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہوا تھا۔ اِس کی تائید میں علما کے فیصلے بھی حاصل کیے گئے تھے اور اہل نظر کی رائیں بھی جمع کی گئی تھیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ آپ اپنے عمل سے وقتاً فوقتاً اِس کو زندہ بھی کرتے رہے، لیکن ہمارے دستور نے اِس کی زندگی تسلیم نہیں کی۔ اِس سلسلہ میں جب کبھی آپ نے دستور کی مخالفت کی تو عموماً اپنے اقدامات میں بے بصیرتی کا ثبوت دیا جس سے جماعت کے اہل الرائے اِس بارے میں یک سو ہو گئے کہ یہ ’’بلی‘‘ مردہ ہی رہے تو اچھا ہے۔ لیکن آپ پر اِس کی موت بڑی شاق تھی۔آپ اِس کو حیات تازہ بخشنے کے لیے برابر بے چین رہے۔ اِسی کے عشق میں آپ نے استعفا دیا۔ ماچھی گوٹھ میں آپ نے اِس کے لیے رازداروں کو خلوت میں بلا کر سازش کی۔ پھر کوٹ شیر سنگھ میں اِس پر مسیحائی کا آخری افسوں پڑھا اور یہ واقعی زندہ ہو گئی۔ اب آپ مجھے دعوت دیتے ہیں کہ میں پھر شوریٰ میں آؤں اور اُس کے اندر رہ کر اِس کو مارنے کی کوشش کروں تو میں اِس سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک ’’بلی‘‘ برسوں کی محنت سے میں نے ماری، آپ نے وہ پھر زندہ کر دی اور اب آپ کی مجلس عاملہ نے اِس کی رضاعت و پرورش کی ذمہ داری بھی اٹھا لی ہے ۔ اب میں پھر اِس کو مارنے میں لگوں تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ساری زندگی اِس ’’گربہ کشی‘‘ ہی کی نذر کر دوں۔ آخر یہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے۔‘‘

تجزیے اور محاکمے کے موقع پر اُن کا اسلوب یہی تھا۔ ’’جائزہ کمیٹی‘‘ پر الزامات کے جواب میں مولانا مودودی کو جو خط اُنھوں نے لکھا ہے، وہ اِس کا بہترین نمونہ ہے۔ شام کے سفیر کبیر نے اُسے پڑھا تو اُس پر اپنے قلم سے لکھ دیا: مولانا، آپ نے خط نہیں لکھا، قاضی کا فیصلہ لکھا ہے۔ ’’جماعت اسلامی‘‘ پر مولانا منظور احمد صاحب نعمانی کی فرد قرارداد جرم کے جواب میں بھی یہی اسلوب ہے۔ مولانا مودودی کے نظریۂ حکمت عملی کا تجزیہ بھی اِسی انداز سے ہوا ہے۔ عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرے میں بھی یہی لب و لہجہ ہے۔ اُن کی یہ تحریریں اُن کے طرز انشا کا ایسا نمونہ ہیں کہ آدمی پڑھتا ہے تو اُن کی شوخی طبیعت اور اُن کے سحر طراز قلم کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں نے اُن کا بڑھاپا دیکھا ہے۔ وہ لوگ جو ’’جماعت اسلامی‘‘ سے تعلق کے زمانے میں اُنھیں سنتے رہے ہیں، آج بھی اُن کی خطابت کو یاد کرتے ہیں۔ بعض سننے والوں نے بتایا ہے کہ وہ خطابت کیا تھی، معلوم ہوتا تھا کہ دریا میں ہلکا ہلکا تلاطم آ گیا ہے، پہاڑوں میں کوئی چشمہ ابل رہا ہے، کوئی ندی ہے جو فرازکوہ سے وادیوں میں اتر کر اب میدانوں کی طرف رواں دواں ہے۔ اُن کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا، سیدھا دل میں اتر جاتا تھا۔ وہ پیغمبرانہ اذعان کے ساتھ بولتے اور عہد عتیق کے خطیبوں کی یاد تازہ کر دیتے تھے۔ اُن کی زبان پر استدلال بولتا اور ایمان نازل ہوتا تھا۔ ۱۹۴۵ء میں اُن کی ایک تقریر کا جملہ اِسی کیفیت کا آئینہ دار ہے کہ تم چاہو تو میری گردن پر تلوار رکھ دو ، لیکن مجھ سے یہ بات کبھی نہ منوا سکو گے کہ تزکیۂ نفس جیسا پاکیزہ کام اُن جاہلوں کے سپرد کر دوں جو خانقاہوں میں بیٹھے دین فروشی کرتے ہیں۔ ایک نامور صحافی نے بتایا کہ ککری گراؤنڈ کراچی میں وہ تقریر کر رہے تھے اور میں اُن کی یہ تقریر لکھ رہا تھا۔ تقریر کے دوران میں اُن کے منہ سے نکلا: ’’اسلام فرماتا ہے۔‘‘ وہ لمحے بھر کو رکے اور پھر یہ کہہ کر کہ اِسے غلط نہ سمجھیے، فرمانے کا حق اگر ہے تو صرف اسلام ہی کو ہے، لفظ و معنی کا وہ بحر مواج پیدا کر دیا کہ میں دیکھتا رہا، سنتا رہا اور یہ بھول گیا کہ مجھے یہ سب کچھ لکھنا بھی ہے۔
دین کی دعوت وہ ہمیشہ اِسی اذعان اور ایمان کی اِسی حرارت کے ساتھ دیتے تھے۔
اِس باب میں ایک لطیفہ بھی ہوا۔۱۹۵۱ء کے انتخابات میں ’’جماعت اسلامی‘‘ نے اُنھیں الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ وہ بتاتے تھے کہ میں نے بہت کہا کہ اِس کام کے لیے مجھ سے زیادہ ناموزوں آدمی کسی ماں نے نہیں جنا، لیکن ’’امیرالمومنین‘‘ نہیں مانے۔ طوعاً و کرہاً میں راضی ہوا تو ایک دن مجھ سے کہا گیا: حلقہ میں تقریر بھی کرنا ہوگی۔ میں گیا تو اپنی تقریر کی ابتدا میں نے یہاں سے کی کہ خواتین و حضرات ، مجھ پر خدا کی اور اُس کے فرشتوں اور اہل ایمان، سب کی لعنت ہو اگر میں آپ سے ووٹ مانگنے کے لیے آیا ہوں۔ میں تو آپ کو یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ ووٹر کی حیثیت سے آپ کے فرائض کیا ہیں۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ وہ مجھے اِس الیکشن میں کسی تقریر کے لیے بلانے کی حماقت نہیں کر سکتے تھے۔
اُن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اِسی جماعت میں گزرا۔ وہ برسوں اِس کی دعوت کے نقیب رہے۔ اِس پس منظر میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ جماعت جس فکر پر قائم ہے، زندگی کے اِس آخری دور میں اُس کے متعلق اُن کا نقطۂ نظر کیا تھا؟ میں نے جو کچھ اُن سے سنا اور جو کچھ سمجھا ہے، اُس کی بنیاد پر میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اب نہ وہ اقامت دین کے اُس مفہوم کے قائل تھے جو جماعت اِس سے مراد لیتی ہے، نہ اظہار دین کے وہ معنی اُن کے نزدیک درست تھے جو مولانا مودودی نے بیان کیے ہیں، نہ ’’جماعت اسلامی‘‘ قسم کی جماعتیں بنانے کو وہ صحیح سمجھتے تھے، نہ حکومت کے بغیر جہاد اور امارت اور بیعت سمع و طاعت جیسی لغویات کے لیے اُن کے فکر میں کوئی گنجایش تھی، نہ اقتدار کی سیاست کو وہ علما کے لیے موزوں خیال کرتے تھے۔ اُن کی پختہ راے اب یہی تھی کہ علما کی ہر جدوجہد کا ہدف صرف ذہنی اور فکری انقلاب ہونا چاہیے۔ عالم جب تک عالم ہے اور عالم رہنا چاہتا ہے، اِس سے آگے اُسے ہر گز کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سب باتیں اِس آخری زمانے میں اُن کی تقریروں، تحریروں اور گفتگووں میں بڑی صراحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک چیز کے بارے میں خود اُن کے الفاظ کی شہادت پیش کی جا سکتی ہے۔
امین احسن کی اقلیم فکر کیا ہے؟ جن لوگوں نے بھی اِس کی سیر کے لیے کچھ فرصت پائی ہے، وہ جانتے ہیں کہ مذہبیات کی دنیا میں یہ ایک بالکل نئی اقلیم ہے۔ اِس میں ساری حکومت، سارا اقتدار قرآن کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا ہے، قانون بن جاتا ہے۔ ہر جگہ اُس نے ایک میزان نصب کر رکھی ہے۔ بو حنیفہ و شافعی، بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب اپنی اپنی چیزیں لاتے اور اِس میزان میں تولتے ہیں۔ پھر جس کی کوئی چیز ذرا بھی وزن میں کم ہو، اِس اقلیم میں وہ اُسے کہیں بیچ نہیں سکتا۔ علم و دانش، فلسفہ و حکمت، سب قرآن کے حضور میں دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ اُس کا ہر لفظ ایک شہرعجائب ہے اور یہ عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ پہلے محکم بولتا اور پھر اُس کی تفصیل کر دیتا ہے۔ اُس کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آ جائے تو خود اُسی کی دوسری باتیں وضاحت کر دیتی ہیں۔ اُس کا ایک ایوان خاص ہے جس کے بام و در پر ہر جگہ جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو ہماری باتوں میں نظم و ترتیب کو نہیں مانتا، وہ ہمارے اِس ایوان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ امین احسن کی ساری زندگی اِسی اقلیم میں بسر ہوئی ہے:

اُس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
اُس کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق

تاہم ’’پیران طریق‘‘ میں بھی کبھی کوئی محرم مل ہی جاتا تھا۔ مولانا منظور احمد صاحب نعمانی لاہور آئے تو امین احسن نے اُنھیں بتایا: میری اہلیہ کہتی ہیں کہ تمھاری کتابیں تو میری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن مولانا نعمانی کی کتابیں میں خوب سمجھ لیتی ہوں۔ مولانا نعمانی نے فوراً کہا: مولانا ہم اُن کے لیے لکھتے ہیں اور آپ ہمارے لیے لکھتے ہیں۔ ’’تدبر قرآن‘‘ مکمل ہوئی تو مولانا نعمانی نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ وہ امین احسن کے ہاں آئے ہیں، وہاں مزعفر کی ایک دیگ پکی ہوئی ہے جس سے خوش بو کی لپٹیں آ رہی ہیں۔ مولانا نعمانی نے لکھا کہ وہ اِسے ’’تدبر قرآن‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
امین احسن کو اللہ تعالیٰ نے خوب صورت سراپا دیا تھا، خوش ذوق اور خوش لباس بھی تھے، لیکن اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے میں ہمیشہ بہت سادہ رہے۔ اُن کے ایک پرانے ساتھی نے بتایا کہ ’’جماعت‘‘ کی طرف سے اُنھیں میانوالی بھیجا گیا۔ میں اُن کا رفیق سفر تھا۔ ہم بس کے ذریعے سے جا رہے تھے۔ سرگودھا کے اڈے پر بس رکی تو اُنھوں نے مجھ سے کہا: گھی سمجھ کر تیل کھانے سے بہتر ہے کہ تیل سمجھ کر تیل ہی کھایا جائے، جاؤ ایک نان اور کچھ پکوڑے لے آؤ۔
وہ فرشتہ نہیں، انسان ہی تھے اور اُن میں کچھ کمزوریاں بھی تھیں، لیکن معیار زندگی بڑھانے کا کوئی فتنہ کبھی اُن کے قریب سے نہیں گزرا۔ اللہ تعالیٰ سے تفویض و توکل کا ایسا تعلق تھا کہ اُس پر رشک آتا تھا۔ زبان اکثر ذکر الٰہی سے تر رہتی۔ مولانا عبد الرحیم اشرف سفر حج میں اُن کے ساتھ تھے، اُنھوں نے ایک مرتبہ بتایا کہ وہاں پہنچ کر اُن کی ساری دل چسپی صرف بیت اللہ کے ساتھ تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ہر چیز سے بالکل بے تعلق ہو گئے ہیں۔ زندگی کے سردو گرم میں ہمیشہ اپنے پروردگار کی رضا پر مطمئن رہے۔ حادثۂ قاہرہ میں ابو صالح جیسے فرزند کی وفات پر ’’میثاق‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے، اُس سے اُن کے جذبات کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اِس موقع پر جزع فزع کا کوئی کلمہ اُن کی زبان سے نہیں نکلا۔ آخری دو سال اُنھوں نے جس معذوری اور بے بسی کی حالت میں بستر پر گزارے ہیں، اُس کی تکلیف جھیلنا آسان نہ تھا، لیکن اِس میں بھی اگر کچھ کہا تو یہی کہا کہ آخرت کی تکلیف نہ ہو تو دنیا کی کوئی تکلیف بھی تکلیف نہیں ہے۔
طبیعت میں بڑی غیرت، بڑا وقار، بڑی تمکنت اور بڑی بے نیازی تھی۔ ایوب خان صاحب نے پوچھا: مولانا، کوئی خدمت بتائیے۔ اُن کا جواب تھا: آپ سے جو کچھ کہنا ہوتا ہے، ’’میثاق‘‘ کے اداریوں میں کہہ دیتا ہوں، اُس پر عمل کیجیے، یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔ بھٹو صاحب نے پیغام بھیجا کہ حکومت آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ جواب دیا: میں حکومت کے وظیفہ خواروں کو ہمیشہ ملت فروش کہتا رہا ہوں۔ کیا اب خود بھی یہی کام کروں گا؟ ضیاء الحق صاحب کی طرف سے سلسلہ جنبانی ہوئی، لیکن اگر کچھ کہا تو صرف یہی کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے، اُسے اپنی لائبریریوں تک پہنچائیے، یہی کافی ہے۔ اُن کی ہر ادا میں یہ صدا تھی:

مگذر از نغمۂ شوقم کہ بیابی دروے
رمز درویشی و سرمایۂ شاہنشاہی

دوستوں کے لیے ، البتہ طبیعت میں بڑی تواضع اور بڑی شفقت تھی۔ جن دنوں رحمن آباد میں تھے، میں ایک مرتبہ ملنے کے لیے گیا تو رات وہیں ٹھیرا۔ فجر سے کچھ پہلے میں نے محسوس کیا کہ ذرا دور کوئی ہاتھ کے نل سے پانی کی بالٹی بھرتا اور پھر اُسے انڈیل دیتا ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امین احسن ہوں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری چارپائی کے پاس آئے اور فرمایا: میں نے تازہ پانی نکال دیا ہے، اٹھیے اور وضو کر لیجیے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہوں اور کیا کروں۔
وہ اتنے سچے، اتنے بے لاگ اور اتنے دو ٹوک تھے کہ مصلحت اندیشی کے پیمانے سے اُسے خطرناک سمجھا جائے گا۔ جو کچھ کہنا چاہتے، بغیر کسی تردد کے کہہ دیتے۔ اپنے رفقا میں فکر و عمل کا کوئی تضاد کسی حال میں برداشت نہ کرتے۔ اُن کی محبت بے پناہ تھی، مگر اخلاص کی گہرائی سے جس طرح یہ محبت چشمہ بن کر پھوٹتی تھی، اِسی طرح رنج بھی ابل پڑتا تھا۔ تاہم دیکھنے والے دیکھتے کہ اِس میں کسی بغض، کسی کینے اور کسی دشمنی کا کوئی شائبہ نہ ہوتا۔ گویا وہی معاملہ تھا کہ:

قہر بھی اُس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق

اُن کی باتیں کہاں تک لکھوں؟ آج اُن کا مرقع کھینچ رہا ہوں تو اپنے عجز بیان کو دیکھ کر بار بار خیال ہوتا ہے کہ امین احسن سے کم و بیش پچیس سال تک ملاقات اور تلمذ کا جو شرف مجھے حاصل رہا ہے، اے کاش، کسی ایسے شخص کو بھی حاصل ہوتا جسے زبان و بیان پر امین احسن ہی کی طرح قدرت ہوتی۔ یہ زمانے کی بدقسمتی ہے کہ اِس نابغۂ روزگار کو جاننے کے لیے اُسے مجھ جیسا شکستہ قلم ہی میسر ہو سکا جس کا حال یہ ہے کہ:

در زباں حرف نماندہ ست و سخنہا ماندہ ست

وہ صرف دین ہی کے عالم نہ تھے، دستور وقانون اور سیاست دوراں کے مسائل پر بھی اُن کی نظر اتنی گہری تھی کہ اِن کے ماہرین اُن کی صحبت میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔ اِن چیزوں کو دیکھنے کا اُن کا اپنا ایک انداز تھا جو اہل زمانہ سے بہت کچھ مختلف تھا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا ہوئی تو مذہبی حلقوں میں بالعموم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اِس سے اگلے روز میں رحمن آباد حاضر ہوا تو امین اح

Content Categories

Recent Questions & DiscussionsUpdated every 24 hours

The Wisdom, The Divine Law
The Wisdom, The Divine Law

Comments & DiscussionsYou need to be registered and logged in to comment.

Comments on this Article


tarannumamir says:

hum sari zindagi kisi aik wali ALLAH ko dhoondtay rahtay hain laikin afsos k unka pata hamain un kay guzar janay k baad chalta hay

Fri, January 20, 2012 - 12:53:22
sohailyousuf says:

jo Bada Kash Thae Purne Wo Uthte Jate Hain… Kahin se Abe Baqae Dawam La Saqi

Thu, July 05, 2012 - 3:10:20

You are not logged in.

To comment on this article you must be a registered member and logged in to the system. If you have an account, please , or you can Register for a free account.



Auto-login on future visits

Show my name in the online users list

Forgot your password?