Welcome guest, please Login or Register

   

میں اسی معاشرے کا ایک نوجوان ہوں 

Rank

Total Posts: 2

Joined 2017-12-22

PM

 

سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گُزری, جس میں ایک دوست شادی کے موقعہ پر اپنے کسی دوست کو تحفے میں خالی پنجرہ دے رہا تھا. یہ خُوشگوار مذاق ضرور ہو سکتا ہے مگر دراصل یہ محض ایک نہیں بلکہ پُوری لطیفہ سیریز ہے. یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ ایک مہم ہے جس میں شادی کے رشتے کو قید خانہ، زندان، آفت اور بیوی کو جلاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے. اب ایک ٹرینڈ بن چُکا ہے کہ شادی خانہ آبادی کو بربادی اور پھندہ قرار دیا جائے. جو شادی کرے یا شادی کرنے کے حوالے سے گفتگو کرے تو اس کا تمسخر بنا دیا جائے. معاشرتی تضاد اتنا ہے کہ گرل فرینڈ اور فلرٹ کو فیشن سمجھا جبکہ شادی کو ایک معیوب چیز سمجھا جا رہا ہے.

میں اس معاشرے کا ایک نوجوان ہوں. قدرت نے میری جبلت میں مخالف جنس کے لیے ایک غیرمعمولی کشش ودیعت کر رکھی ہے۔. ماحول میں ایسے میڈیم با کثرت موجود ہیں یا پیدا کر دیئے گئے ہیں، جو میرے ان جذبات و احساسات کو اکساتے ہیں. میرا جنس مخالف کی طرف مائل ہو جانا بھی فطری ہے، جبکہ دوسری طرف شادی کو کوئی اچھوت چیز بنایا جا رہا ہے اور زنا تو اسلام میں ہے ہی سخت ممنوع فعل۔

اب میرے ذہن کی حالت ایک ایسے پریشر کُکر کی سی بنتی ہے، جس کے نیچے مسلسل چولہا جلا کر اوپر وزن رکھ کر ہوا بند کر دیا گیا ہو. الغرض کوئی پُرسان حال نہیں ہے. کیا عمل کے نتیجے میں ردعمل کے قانون کو سمجھنا بھی محال ہو گیا ہے؟ یہاں زناء کی توجیہہ پیش کرنا نہیں بلکہ نکاح کو فروغ دینا مقصود ہے.

ایک انتہائی سادہ اصول سمجھیے. جس معاشرے میں نکاح کو مشکل بنا دیا جائے گا وہاں غلط کام آسان ہو گا بعینہ جس معاشرے میں غلط کام کو مشکل بنا دیا جائے گا وہاں نکاح آسان ہو گا. میں نہیں جانتا کہ ریاست میں اس مسئلے کا حل کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا اس کے لیے کسی قسم کی قانون سازی درکار ہے؟ کیا یہ موضوع اسلامی نظریاتی کونسل یا پارلیمان میں زیربحث آنا چاہیے؟ کیا ساری صورتحال کے ذمہ دار صرف والدین ہیں؟ کیا اس کا سبب ہمارا اپنی ثقافتی، سماجی اور مذہبی اقدار سے روگردانی کرنا ہے؟

خواہ آپ دوسرے معاشروں سے مخلوط نظام تعلیم بھی قبول فرما لیں. گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کلچر بھی عام کریں، شادی کو کھُل کر بربادی کا بھی نام دے لیں یا ماحول کو روشن خیالی کے لبادے میں لپیٹ کر مزید آلودہ بھی ہونے دیجیئے۔ مغرب زدہ لبرل سوچ اپنانے میں کوئی دقت نہیں. لیکن خدارا…! اس سب سے پہلے, اپنے مذہب اسلام میں زنا کو حلال قرار دلوائیے۔ اُس کے بعد کُل معاشرے کو اتنا لبرل کیجیئے کہ وہ زنا کو معمولی بات یا ذاتی فعل کے طور پر قبول کرے۔ غیرت کے نام پر قتل یا سوشل بائیکاٹ کی روایت ختم کیجیئے.

اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کم از کم معاملات کو مزید الجھانے سے اجتناب کرنا ہوگا. آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اگر نکاح مشکل ہے تو پھر اس کے متبادل کیا لانا ہے؟ شاید ہم نے اپنی اگلی نسل کو جدید دور کے تقاضوں پر اتنی تربیت کر دی ہے کہ وہ پاکدامن رہ کر اس سارے پریشر کا سامنا کر لیں گے یا ہم میں اتنی ایمان کی طاقت موجود ہے کہ ہم ایسا متضاد معاشرہ تشکیل دیکر صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے؟ خدارا نکاح کو عام کیجیئے، مذاق نہ بنائیے، ورنہ پریشر ککر پھٹ جائے گا اور تمام معاشرہ اس کا شکار ہوگا.