Welcome guest, please Login or Register

   

Is it right that Quran has variant readings?

Rank
Rank
Rank
Rank

Total Posts: 114

Joined 2011-04-13

PM

 

Is it right that Quran has variant readings?

Rank
Rank
Rank
Rank

Total Posts: 114

Joined 2011-04-13

PM

 

Thank you for your response. Plz would you like to quote some of these ahadith?

Rank
Rank
Rank
Rank

Total Posts: 114

Joined 2011-04-13

PM

 

Thank you for response! I would like to have your comments about observations/reservations of ghamidi sb expressed about this hadith?
اِس روایت کے بارے میں ذیل کے چند حقائق اگر پیش نظر رہیں تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک بالکل ہی بے معنی روایت ہے جسے اِس بحث میں ہرگز قابل اعتنانہیں سمجھنا چاہیے :

اول یہ کہ یہ روایت اگرچہ حدیث کی امہات کتب میں بیان ہوئی ہے ،لیکن اِس کا مفہوم ایک ایسا معما ہے جسے کوئی شخص اِس امت کی پوری تاریخ میں کبھی حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ امام سیوطی نے اِس کی تعیین میں متعدد اقوال اپنی کتاب “الاتقان” میں نقل کیے ہیں،پھر اِن میں سے ہر ایک کی کمزوری کا احساِس کر کے موطا کی شرح “تنویر الحوالک” میں بالآخر اعتراف کر لیا ہے کہ اِسے من جملہ متشابہات ماننا چاہیے جن کی حقیقت اللہ تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ لکھتے ہیں:

وارجحها عندی قول من قال : ان هذا من المتشابه الذی لا يدری تاويله.(١/ ١٥٩)
میرے نزدیک سب سے بہتر راے اِس معاملے میں اُنھی لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ یہ روایت اُن امور متشابہات میں سے ہے جن کی حقیقت کسی طرح سمجھی نہیں جا سکتی ۔

دوم یہ کہ اِس کی واحد معقول توجیہ اگر کوئی ہو سکتی تھی تو یہی ہو سکتی تھی کہ “سبعۃ احرف” کو اِس میں عربوں کے مختلف لغات اور لہجوں پر محمول کیا جائے ،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ روایت کا متن ہی اِس کی تردید کر دیتا ہے ۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہشام اور عمر فاروق ،جن دو بزرگوں کے مابین اختلاف کا ذکر اِس روایت میں ہوا ہے، دونوں قریشی ہیں جن میں ظاہر ہے کہ اِس طرح کے کسی اختلاف کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔

سوم یہ کہ اختلاف اگر الگ الگ قبیلوں کے افرادمیں بھی ہوتا تو “انزل” (نازل کیاگیا) کا لفظ اِس روایت میں ناقابل توجیہ ہی تھا ،اِس لیے کہ قرآن نے اپنے متعلق یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ وہ قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اِس کے بعد یہ بات تو بے شک، مانی جا سکتی ہے کہ مختلف قبیلوں کو اِسے اپنی اپنی زبان اور لہجے میں پڑھنے کی اجازت دی گئی،لیکن یہ بات کس طرح مانی جائے گی کہ اللہ تعالٰی ہی نے اِسے مختلف قبیلوں کی زبان میں اتارا تھا؟

چہارم یہ کہ ہشام کے بارے میں معلوم ہے کہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے ۔ لہٰذا اِس روایت کو مانیے تو یہ بات بھی ماننا پڑتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ ، یہاں تک کہ سیدنا عمر جیسے شب و روز کے ساتھی بھی اِس بات کا علم نہیں رکھتے تھے کہ قرآن مجید کو آپ چپکے چپکے اِس سے مختلف طریقے پر لوگوں کو پڑھا دیتے ہیں جس طریقے سے وہ کم و بیش بیس سال تک آپ کی زبان سے علانیہ اِسے سنتے اور آپ کی ہدایت کے مطابق اِسے سینوں اور سفینوں میں محفوظ کرتے رہے ہیں ۔ ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ کیسی سنگین بات ہے اور اِس کی زد کہاں کہاں پڑسکتی ہے ؟
(http://www.al-mawrid.org/pages/articles_urdu_detail.php?rid=107&cid=439)