قرآن مجید کی دو آیات ہیں جنھیں اِس زمانے میں بعض اہل علم نے غلبۂ دین کے لیے اپنی جدوجہد کا ماخذ قرار دیا اور پھر اِسی بنیاد پر فرائض دینی میں ایک ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ ۱ ؂ اِن آیات کی یہ تاویل ، ہمارے نزدیک عربیت کی رو سے محل نظر اور قرآن مجید کے مدعا کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ اِن کے بارے میں اپنی تحقیق ہم بہ دلائل یہاں بیان کر رہے ہیں ۔ پہلی آیت یہ ہے :

ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ، وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ. (الصف ۶۱:۹) ’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ وہ اُسے تمام ادیان پر غالب کردے ، اگرچہ اِن مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے ۔‘‘

اِس آیت پر غور فرمائیے ، اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وہی سنت بیان فرمائی ہے جس کا ذکر رسولوں کے باب میں ایک قطعی قانون کی حیثیت سے قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے ۔ وہ سنت یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے عالم کے پروردگار کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں اُس قوم پر غلبہ عطا فرماتے ہیں ۔ نبی ، ہو سکتا ہے کہ اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو جائے ،۲؂ لیکن رسول ہرحال میں اپنی قوم پر غالب آتا ہے ، عام اِس سے کہ یہ غلبہ اُس کی زندگی میں حاصل ہو جائے یا اُس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اُس کے اعوان و انصار کو حاصل ہو ۔ سورۂ مجادلہ میں فرمایا ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ، اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّینَ.کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ، اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ. (۵۸: ۲۰۔۲۱) ’’بے شک ، جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، وہ ذلیل ہو کر رہیں گے۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہر حال میں غالب ہوں گے۔ بے شک، اللہ قوی و عزیز ہے ۔ ‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کے رسول تھے ۔ چنانچہ یہ سنت آپ کے بارے میں بھی قرآن میں بیان ہوئی ہے ۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ آپ کے صحابہ کو بالصراحت بتا دیا گیاتھا کہ آپ اپنی قوم ، یعنی مشرکین عرب پر لازماً غالب ہوں گے ۔ سورۂ فتح میں ہے :

وَلَوْ قَاتَلَکُمُ الَّذِینَ کَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا. سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا.(۴۸: ۲۲۔۲۳) ’’اور اگر یہ منکرین (یعنی کفار قریش) تم سے جنگ کرتے تو لازماً مغلوب ہو کر پیٹھ پھیرتے، پھر نہ کوئی کارساز پاتے نہ مددگار۔ یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی سنت ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ۔ ‘‘

یہ سنت کس طرح پوری ہوئی ؟ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کو اُن سے جنگ کا حکم دیا گیا اور اِس جنگ کی یہ غایت اُن پر واضح کر دی گئی کہ مشرکین عرب اسلام قبول کریں گے یا زمین سے مٹا دیے جائیں گے ۔ سورۂ فتح ہی میں ہے :

تُقَاتِلُوْنَھُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ.(۴۸:۱۶) ’’تم کو اُن سے جنگ کرنی ہو گی یا وہ اسلام قبول کر لیں گے ۔‘‘

اُن سے کہا گیا کہ مشرکین سے لڑ اجائے ، یہاں تک کہ سرزمین عرب میں دین حق کی بالادستی قائم ہو جائے اور اُنھیں بتا دیا جائے کہ وہ اگر اپنی روش سے باز نہ آئے تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے اُن قوموں کا ہوا جن کی طرف رسول مبعوث کیے گئے اور اُنھوں نے اُن کا انکار کر دیا۔ سورۂ انفال میں فرمایا ہے :

قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ: اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ وَاِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ. وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ. فَاِنِ انْتَھَوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. (۸: ۳۸۔۳۹) ’’اِن کافروں کو بتا دو کہ اگر وہ اب بھی اسلام کی مخالفت سے باز آ گئے تو جو کچھ پہلے ہو چکا ، اُسے معاف کر دیا جائے گا، اور اگر اُنھوں نے پچھلی روش کا اعادہ کیا تو ہمارے اُس طریقے کو یاد رکھیں جو ہم نے گزشتہ قوموں کے معاملے میں اختیار کیا اور اِن سے لڑو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اِس سرزمین میں پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ گئے تو اللہ اُن کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔‘‘

اُن سے وعدہ کیا گیا کہ اِس جنگ کے نتیجے میں سرزمین عرب میں اُنھیں لازماً غلبہ و اقتدار حاصل ہو جائے گا۔ سورۂ نور میں ارشاد خداوندی ہے :

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ.(۲۴: ۵۵) ’’(رسول کے ساتھیو)، اللہ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو فی الواقع ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے کہ اللہ اُنھیں اِس سرزمین میں اُسی طرح اقتدار بخشے گا جس طرح اُس نے اِس سے پہلے رسولوں کی امتوں کو اقتدار بخشا اور اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مستحکم کرے گا جسے اُس نے اُن کے حق میں پسند کیا۔ ‘‘

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پورا کر دیا اور دین حق سر زمین عرب کے تمام ادیان پر غالب آ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ : ’ لا یجتمع دینان فی جزیرۃ العرب‘ ۳ ؂ (جزیرہ نماے عرب میں دین حق کے ساتھ کوئی اور دین جمع نہیں ہو سکتا ) ۔ چنانچہ رسولوں کے باب میں اللہ کی وہ سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی پوری ہو گئی جو قرآن مجید کی رو سے ہمیشہ اٹل رہی ہے ۔ سورۂ صف کی زیر بحث آیت درحقیقت اِسی سنت سے متعلق ہے ۔ آیت کا تجزیہ کیجیے : اِس میں ’ لیظھرہ‘ کی ضمیر مرفوع کا مرجع قواعد زبان کے مطابق ’ اللّٰہ‘ اور ضمیر منصوب کا مرجع ’ الھدی‘ یعنی ’ دین الحق‘ ہے ۔ ’ الدین کلہ‘ چونکہ ’ ولوکرہ المشرکون‘ کا معطوف علیہ ہے اور ’ المشرکون‘ کی تعبیر قرآن مجید میں ہمیشہ مشرکین عرب کے لیے اختیار کی جاتی ہے ، اِسلیے ’ الدین‘ کا الف لام عربیت کی رو سے لازماً عہد کے لیے ہے ۔ چنانچہ تمام ادیان سے یہاں سرزمین عرب کے تمام ادیان مراد ہیں ۔ اِس تجزیے کے لحاظ سے آیت کے معنی ہم اس طرح بیان کریں گے :

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت، یعنی دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اِس دین کو (سرزمین عرب کے) تمام ادیان پر غالب کر دے ، اگرچہ یہ بات اِن مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو ۔ ‘‘

قواعد عربیت اور نظائر قرآن کی روشنی میں آیت کا ترجمہ یہی ہو سکتا ہے اور اِس ترجمے سے واضح ہے کہ غلبۂ دین کے لیے اب کسی شخص کی جدوجہد کا اِس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ سورۂ صف کے مخاطب صحابۂ رسول ہیں اور اِس کا موضوع رسول کی نصرت کے لیے جہاد کی ترغیب ہے ۔ یہ نصرت، قرآن کے مطابق رسول کے ماننے والوں پر اُس کا خاص حق ہے ۔ چنانچہ اِس سورہ میں پہلے دو جلیل القدر رسولوں کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اِن رسولوں کی قوم ۔۔۔ بنی اسرائیل ۔۔۔ کی طرح اِس حق کو ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں ۔ اِس کے بعد اُنھیں بشارت دی گئی ہے کہ اللہ اپنے رسول کو غلبہ عطا فرمائے گا ، پھر اُنھیں اِس مقصد کے لیے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے اور اُن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حق نصرت ادا کریں ۔ آخر میں بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اُن کے رسول نے جب اُن سے اِس حق کے ادا کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ بغیر کسی تردد کے اِسے ادا کرنے کے لیے آگے بڑھے ۔ چنانچہ اللہ نے اُنھیں اُن کے دشمنوں پر غالب کر دیا ۔ قرآن مجید کے دوسرے دو مقامات پر بھی یہ آیت اِسی طرح کے سیاق میں آئی ہے ۔ اِس کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اِس آیت کے حکم اور اِس کے مقتضیات و لوازم کا کوئی تعلق اپنی ذات یا اپنی جدوجہد کے ساتھ قائم کرے ۔ دوسری آیت یہ ہے :

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ. (الشوریٰ ۴۲: ۱۳) ’’اُس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم اُس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی اب ہم نے تمھاری طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو فرمائی، اِس تاکید کے ساتھ کہ اِس دین کو قائم رکھو اور اِس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔‘‘

اِس آیت میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا دین لے کر نہیں آئے نہ اِس سے پہلے کوئی نبی اپنے کسی الگ مذہب کا بانی تھا ،بلکہ ایک ہی دین حق ہے جو تمام نبیوں کو دیا گیا ۔ نوح و ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام نے اِسی کی دعوت دی اور اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی اِسی کے ساتھ ہوئی ہے ۔ اِس کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ اِن سب نبیوں اور اِن کی امتوں کو یہ دین اِس ہدایت کے ساتھ دیا گیا کہ : ’اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ‘ ۔ اِس ہدایت کا مدعا کیا ہے ؟ اِس کو سمجھنے کے لیے آیت کے الفاظ پر غور فرمائیے ۔ اِن میں اہم ترین لفظ ’اقیموا‘ ہے ۔ یہ لفظ باب افعال سے فعل امر ہے ۔ عربی زبان میں یہ اگر براہ راست کسی مفعول سے متعلق ہو تو حسب ذیل دو صورتوں میں استعمال ہوتا ہے : ایک ، مادی چیزوں کے لیے باعتبار حقیقت یا باعتبار مجاز ۔ دوسرے ، معنوی حقائق کے لیے ۔ پہلی صورت میں اِس کے جو معنی قرآن مجید اور کلام عرب کے تتبع سے ثابت ہوتے ہیں ،وہ یہ ہیں: ۱۔ سیدھا کرنا یا سیدھا رکھنا۔ مثال کے طور پر کہتے ہیں : ’ اقام الدرء‘ اُس نے نیزے کی ٹیڑھ نکال دی ؛ ’ اقام الصف‘ اُس نے صف سیدھی کی ۔ ثعلبہ بن عمرو نے کہا ہے :

اکب علیھا کاتب بدواتہ یقیم یدیہ تارۃ ویخالف
’’کوئی لکھنے والا اُن پر اپنی دوات کے ساتھ نقوش بناتا رہا ، کبھی اپنے ہاتھوں کو سیدھا رکھے ہوئے اور کبھی اِس کے برخلاف۔‘‘

اِس سے مجاز کا اسلوب ہے : ’ اقیموا صدورکم‘ ، اپنے دلوں کی ٹیڑھ دور کرو۔ یزید بن خذاق کہتا ہے :

اقیموا بنی النعمان عنا صدورکم والا تقیموا کارھین الرؤسا
’’نعمان کے بیٹو، ہماری طرف سے اپنے دلوں کی ٹیڑھ دور کرو، ورنہ یاد رکھو، تم اپنے سروں کی ٹیڑھ دور کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔‘‘

سورۂ رحمن میں ہے :

وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ.(۵۵:۹) ’’اور سیدھی ترازو تولو، انصاف کے ساتھ۔‘‘

اعراف میں ہے :

وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ. (۷: ۲۹) ’’اور اپنا رخ ہر نماز کے وقت (اللہ ہی کی طرف) سیدھا رکھو۔‘‘

روم میں ہے :

فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ. (۳۰:۴۳) ’’پس سیدھا رکھو اپنا رخ سیدھی راہ پر۔‘‘

۲۔ کسی ہلتی چیز کو ٹھیرانا ۔ بشامہ بن غدیر اپنے اونٹ کی تعریف میں کہتا ہے :

فاقام ھوذلۃ الرشاء، وان تخطی یداہ یمد بالضبع
’’پس اُس نے کنوئیں کی ہلتی ہوئی رسی کو ٹھیرایا، اور اگر اُس کے ہاتھ ناکام رہے تو وہ اپنے بازو پھیلا دے گا۔‘‘

۳۔ بیٹھے کو اٹھانا ، کھڑا کرنا ۔ جیسے : ’ اقام الرجل‘ ، اُس نے آدمی کو اٹھایا؛ ’ اقام الجدار‘ ، اُس نے دیوار کھڑی کی ۔ سورۂ کہف میں ہے :

فَوَجَدَا فِیْھَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَہٗ.(۱۸: ۷۷) ’’اِس بستی میں اُنھوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اُس نے اُس کو کھڑا کر دیا۔‘‘

اِس سے مجاز کا اسلوب ہے : ’ اقام السوق‘ ، اُس نے بازار لگایا، بازار گرم کیا ۔ ابن خزیم کا شعر ہے :

اقا مت غزالۃ سوق الضراب لاھل العراقین حولاً قمیطا
’’غزالہ نے اہل بصرہ اور اہل کوفہ کے لیے پورا سال جنگ کا بازار گرم کیے رکھا۔‘‘

سورۂ نساء میں ہے :

وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلوٰۃَ. (۴: ۱۰۲) ’’اور جب تم اُن کے درمیان ہو، پھر اُن کے لیے نماز کھڑی کرو۔‘‘

سورۂ کہف میں ہے :

فَلَا نُقِیْمُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا. (۱۸: ۱۰۵) ’’پس قیامت کے دن ہم اُن کے لیے کوئی تول کھڑی نہ کریں گے ۔‘‘

یہ پہلی صورت ہوئی ۔ دوسری صورت میں یہی تینوں مفاہیم جب معنوی حقائق کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں تو اِس سے جو معنی پیدا ہوتے ، وہ یہ ہیں : ۱۔’بیٹھے کو اٹھانا، کھڑا کرنا‘ سے ظاہر کرنا ، رائج اور نافذ کرنا۔ مثلاً: ’ اقم الحق‘ ، حق ظاہر کرو، ’اقم الحد علیہ‘ ، اُس پر حد نافذ کرو۔ ۲۔’ سیدھا کرنا‘ یا ’سیدھا رکھنا ‘، سے درست کرنا یا درست رکھنا ۔ سورۂ طلاق میں ہے :

وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ.(۶۵:۲) ’’اور(گواہی دینے والو)، درست رکھو اِس گواہی کو اللہ کے لیے۔‘‘

۳۔ ’کسی چیز کو ٹھیرانا‘، سے ثابت ، مستقل اور محفوظ ٹھیرانا، برقرار رکھنا ۔ نماز کے بارے میں کہتے ہیں : ’اقامھا اللّٰہ‘ ، اللہ اِسے برقرار رکھے ۔ سورۂ بقرہ میں ہے :

فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ. (۲: ۲۲۹) ’’پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی کو برقرار نہ رکھ سکیں گے۔‘‘

یعنی اُن پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ سورۂ مائدہ میں فرمایا ہے :

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ.(۵:۶۸) ’’اِن سے کہو، اے اہل کتاب، تمھاری کوئی بنیاد نہیں ، جب تک تم تورات و انجیل اور اِس کتاب کو جو تمھارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، (اپنی زندگی میں) ثابت نہ ٹھیراؤ۔‘‘

یعنی اِن پر قائم نہ ہو جاؤ ۔ یہی آخری معنی ہیں جنھیں قرآن مجید کے اکثر مترجمین نے ’قائم کرنے‘ اور ’قائم رکھنے‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی کسی چیز کو اپنی زندگی میں ثابت ، مستقل اور محفوظ ٹھیرانا ، اُسے برقرار رکھنا۔ دوسرے لفظوں میں اُسے اپنی زندگی کا دستور بنا لینا ۔ چنانچہ دیکھیے ، صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی، ’ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ‘ ۴؂ کا ترجمہ ، ’’جب تک تم تورات اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو‘‘،کرتے اور پھر اِس کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’تورات اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ اُن کی پیروی کرنا اور اُنھیں اپنا دستور زندگی بنانا ہے ۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱/۴۸۷)

اِس تفصیل کے بعد اب آیۂ زیر بحث پر غور کیجیے ۔ اِس میں فعل ’ اقیموا‘ کا مفعول ، یعنی ’الدین‘ چونکہ ایک معنوی چیز ہے ، اِس وجہ سے پہلی صورت تو اِس سے کسی طرح متعلق نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ صرف دوسری صورت باقی رہ جاتی ہے ۔ اُس میں پہلے معنی ’ظاہر کرنے‘ اور’نافذ کرنے‘ کے ہیں۔ اِن میں سے جہاں تک ’نافذ کرنے‘ کا تعلق ہے تو یہ بے شک ، مراد ہو سکتے تھے ، لیکن دو امور اِس میں مانع ہیں : ایک یہ کہ اِس معنی کے لیے قواعد زبان کی رو سے ضروری ہے کہ مثال کے طور پر ’علٰی فلان‘ کی صورت میں اِس کا ایک لازمی متعلق جملے میں موجود یا مقدر ہو ، جیسے : ’ اقیموا الحدود علی الناس‘ میں ’ علی الناس‘ ،لیکن آیت میں یہ نہ موجود ہے نہ اِسے مقدر ماننے کے لیے کوئی قرینہ اُس میں پایا جاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ معنی ’ اقیموا الدین‘ کے معطوف ’ لا تتفرقوا فیہ‘ کے ساتھ وہ مناسبت نہیں رکھتے جو معطوف اور معطوف علیہ کے تعلق کے لیے اعلیٰ کلام میں ضروری ہے ۔ یہی معاملہ ’ظاہر کرنے‘کا ہے۔ صاف واضح ہے کہ ’لاتتفرقوا ‘ کے ساتھ اِس کی مناسبت کے لیے بھی کوئی صورت پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ چنانچہ اِن موانع کی وجہ سے یہ معنی تو اِس آیت میں کسی طرح مراد نہیں ہو سکتے ۔ اِس کے بعد آخری دو معنی باقی رہ جاتے ہیں ، یعنی یہ کہ اِسے بالکل درست اور اپنی زندگی میں پوری طرح ثابت، مستقل ، محفوظ اور برقرار رکھنے کے معنی میں لیا جائے۔ اِس کی بہترین مثال قرآن مجید میں اقامت صلوٰۃ کا حکم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ یہ حکم اِسی فعل ’ اقام‘ کے ساتھ دیا اور پھر سورۂ معارج میں خود ہی اِس کے معنی اِس طرح واضح کر دیے ہیں :

اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰیصَلَاتِھِمْ دَآءِمُوْنَ. (۷۰: ۲۳) ’’جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔‘‘
وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰیصَلَاتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ. (۷۰:۳۴) ’’اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘

یعنی اپنی نمازوں پر قائم رہتے ، اُنھیں بالکل درست ، ثابت ، مستقل ، محفوظ اور برقرار رکھتے ہیں۔ اِس کے بعد اب آیت کو دیکھیے ، بادنیٰ تامل واضح ہو جائے گا کہ اِس میں فعل ’ اقیموا‘ اِنھی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ آیت میں اِس حقیقت کی وضاحت کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ساری امتوں کو ایک ہی دین عطا فرمایا، موقع کلام کا تقاضا یہی تھا کہ اِس دین کا جو حق لوگوں پر قائم ہوتا ہے ، اُسے جامع ترین الفاظ میں بیان کیا جائے ۔ چنانچہ ارشاد ہوا : ’ اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ‘ ، (اِس دین کو بالکل درست اور اپنی زندگی میں پوری طرح برقرار رکھو اور اِس میں متفرق نہ ہو جاؤ)۔ دین میں متفرق ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اُسے پوری طرح درست رکھنے اور اُس پر قائم رہنے کے بجائے ادھر ادھر لپٹے ، اُس کی کسی بات کو مانے ، کسی کو چھوڑے اور اُس میں بدعتیں نکالے ۔ یہ چیز ، ظاہر ہے کہ اُس بات کی نقیض ہے جو ’ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ‘ میں کہی گئی ہے ۔ اِسی طرح اِس معنی کی رو سے معطوف اور معطوف علیہ میں پوری مناسبت پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ اُسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح دوسری جگہ فرمایا ہے : ’ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۵؂ ‘ ، (سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو)۔ اِس ہدایت کا مدعا یہ ہے کہ یہ دین لے کر رکھ چھوڑنے کے لیے نہیں دیا گیا ، بلکہ تمام نبیوں اور اُن کی امتوں کو اِس ہدایت کے ساتھ دیا گیا ہے کہ وہ اِسے دیانت داری کے ساتھ مانیں ، راست بازی کے ساتھ اِس پر عمل پیرا ہوں اور اِس میں بدعتیں نکال کر اِس کا چہرہ نہ بگاڑیں ۔ ابن عربی اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ای اجعلوہ قائمًا، یرید دائمًا مستمرًا محفوظًا مستقرًا من غیر خلاف فیہ ولا اضطراب علیہ. (احکام القرآن ۴/۱۶۶۷) ’’یعنی اِسے ہمیشہ قائم رکھو، اور قائم سے مراد ہے : دائم ، ہمیشہ ، محفوظ اور برقرار، اِس طرح کہ نہ اِس میں کوئی اختلاف ہو اور نہ اِس کے بارے میں کوئی تردد۔‘‘

امام اللغہ زمخشری کی رائے بھی یہی ہے ۔ وہ ’’الکشاف‘‘ میں لکھتے ہیں :

والمراد : اقامۃ دین الاسلام الذی ھوتوحید اللّٰہ وطاعتہ والایمان برسلہ وکتبہ وبیوم الجزاء وسائر ما یکون الرجل باقامتہ مسلمًا.(۴/۲۱۵) ’’اور اِس سے مراد ہے اُس دین اسلام کو اپنی زندگی میں ثابت ٹھیرانا جو اللہ کی توحید، اُس کی اطاعت ، اُس کے رسولوں ، کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان اور اِن کے علاوہ اُن سب چیزوں سے عبارت ہے جن کو ثابت ٹھیرانے ہی سے کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے۔‘‘

آلوسی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے :

والمراد باقامتہ تعدیل ارکانہ وحفظہ من ان یقع فیہ زیغ والمواظبۃ علیہ.(روح المعانی ۲۵/۲۱) ’’اور دین کی اقامت سے مراد ہے اُس کے ارکان کو درست طریقے پر ادا کرنا ، ہر خرابی سے اُس کی برابر حفاظت کرنا اور اُس پر مداومت رکھنا۔‘‘ ۶؂

استاذ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

’’قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اِس کی جو باتیں ماننے کی ہیں ، وہ سچائی کے ساتھ مانی جائیں ، جو کرنے کی ہیں ، وہ دیانت داری اور راست بازی کے ساتھ کی جائیں ۔ نیز لوگوں کی برابر نگرانی رکھی جائے کہ وہ اِس سے غافل یا منحرف نہ ہونے پائیں اور اِس بات کا بھی پورا اہتمام کیا جائے کہ اہل بدعت اِس میں کوئی رخنہ نہ پیدا کر سکیں ۷ ؂ ۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/۱۵۳)

اِس معنی کی رو سے صاف واضح ہے کہ یہ دین کے فرائض میں سے ایک فرض اور اُس کے احکام میں سے ایک حکم نہیں ہے کہ اِسے ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ قرار دے کر فرائض دینی میں ایک فرض کا اضافہ کیا جائے ، بلکہ پورے دین کے متعلق ایک اصولی ہدایت ہے ۔ ہر وہ چیز جو قرآن و سنت کی رو سے ’ الدین‘ میں شامل ہے ، آیۂ زیر بحث میں ہمیں اُس کو بالکل درست اور اپنی زندگی میں برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اِس ہدایت کا تقاضا ہے کہ عقائد و اصول، نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ، حسن معاشرت ، اصلاح و دعوت ، قانون و شریعت ، جہاد و قتال اور دوسرے تمام احکام میں سے جو چیز ماننے کی ہے ، اُسے مانا جائے او رجو کرنے کی ہے ، اُسے کیا جائے ، لیکن اِس لیے نہیں کہ یہ تمام یا اِن میں سے کوئی حکم لفظ ’ اقیموا‘ کے مفہوم میں داخل ہے ، بلکہ اِس وجہ سے کہ یہ سب قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ’الدین‘ میں شامل ہیں اور آیۂ زیر بحث میں ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم پورے دین کو ہر لحاظ سے درست اور اپنی زندگی میں برقرار رکھیں اور اُس میں متفرق نہ ہو جائیں۔ ھٰذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ۔ [۱۹۹۰ء]