پہلی صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہو گا : بے شک ، وہ تنگی جس میں تم ہو ، اُس کے ساتھ آسانی ہے ۔ دوسری صور ت میں آیت کا ترجمہ ہم اِس طرح کریں گے : بے شک ، تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ تیسری صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے : بے شک، ہر تنگی کے ساتھ ایک آسانی ہے ۔ اِن تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی پہلی آیت : ’ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‘ میں اختیار کی جائے گی ، لازم ہو گا کہ بعینہٖ وہی صورت دوسری آیت میں بھی اختیار کی جائے ۔ یعنی پہلی آیت میں اگر ’العسر‘ کا ’الف لام‘عہد خارجی کے لیے مانا جائے گا تو دوسری آیت میں بھی اُسے لا محالہ اِسی معنی میں لیا جائے گا ۔ پہلی آیت میں اگر یہ ماہیت جنس کے لیے ہو گا تو دوسری آیت میں بھی اِسے ماہیت جنس ہی کا ’ الف لام‘ قرار دیا جائے گا ۔پہلی آیت میں اِسے آپ استغراق کے لیے مانیں گے تو دوسری آیت میں بھی اِسے کسی دوسرے معنی میں لینا ممکن نہ ہو گا ۔ اعادۂ معرف باللام کی صورت میں زبان کا یہی قاعدہ ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ چنانچہ آلوسی پہلی آیت کے بارے میں اِس وضاحت کے بعد کہ اُس میں ’ العسر‘ کا ’الف لام‘ عہد خارجی اور ’یسر ‘ کی تنوین تفخیم کے لیے ہے ، دوسری آیت میں اِسی قاعدہ کے مطابق لکھتے ہیں :

یحتمل ان یکون تکریرًا للجملۃ السابقۃ لتقریر معناہا فی النفوس، وتمکینھا فیالقلوب کما ھو شأن التکریر، ویحتمل ان یکون وعدًا مستأنفاً، وال والتنوین علی ما سبق.(روح المعانی ۳۰/۱۷۰) ’’یہ دوسری آیت بطور اعادہ بھی ہو سکتی ہے تاکہ مفہوم کو دلوں میں جمانے کا باعث بنے، جیسا کہ اعادہ میں ہوتا ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اِسے ایک نیا وعدہ قرار دیا جائے اور ’العسر‘ کا ’الف لام‘ حسب سابق عہد خارجی اور تنوین تفخیم کی غرض سے ہو ۔ ‘‘

عربی زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ آلوسی کی عبارت میں ’ ال والتنوین علی ما سبق‘ کے معنی اِس کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتے ۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ ’العسر‘ کا ’الف لام‘پہلی آیت میں اگر عہد خارجی کے لیے ہے تو دوسری آیت میں بھی اُسے عہد خارجی کے لیے مانا جائے گا اور اُس کا معہود پہلی آیت میں مذکور لفظ ’ العسر‘ نہیں ، بلکہ وہ چیز قرار دی جائے گی ، جو وہاں ’العسر‘ کے ’ الف لام‘ کا معہود ہے ۔ گویا آلوسی کی تاویل کے مطابق آیت کے معنی یہ ہوں گے :

’’بے شک، وہ تنگی جس میں تم ہو، اُس کے ساتھ ایک بڑی آسانی ہے ۔ بے شک ، وہ تنگی جس میں تم ہو، اُس کے ساتھ ایک بڑی آسانی ہے ۔ ‘‘

یہی بات زمخشری نے اِس طرح بیان کی ہے :

وانما کان العسر واحدًا لانہ لا یخلو اما ان یکون تعریفہ للعھد وھو العسر الذی کانوا فیہ فھو ھو لان حکمہ حکم زید فی قولک: ان مع زید مالاً، ان مع زید مالاً، و اما ان یکون للجنس الذی یعلمہ کل احد فھو ھو ایضاً. (الکشاف ۴/۷۷۶) ’’اور ’ عسر‘ ایک ہی ہو گا، اِس لیے کہ اُس کی تعریف یا دونوں جگہ عہد کے لیے ہو گی ، یعنی وہ ’عسر‘ جس میں وہ اُس وقت تھے تو دوسرا بعینہٖ پہلا ہو گا ، جیسے تم کہتے ہو : ’ان مع زید مالاً، ان مع زید مالاً‘ بے شک، زید کے ساتھ مال ہے ، بے شک ، زید کے ساتھ مال ہے ۔ اور یا پھر دونوں جگہ جنس کے لیے ہو گی ، یعنی وہ ’عسر‘ جسے ہر شخص جانتا ہے ، تو اِس صورت میں بھی دوسرا بعینہٖ پہلا قرار پائے گا۔ ‘‘

ابو البقاء عکبری ’’املاء مامن بہ الرحمن‘‘ میں لکھتے ہیں :

’العسر‘ فی الموضعین واحد لان الالف واللام توجب تکریر الاول.( ۲/ ۲۸۹) ’’’ عسر‘ دونوں آیتوں ، ’ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ اور ’ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ میں ایک ہی ہے، کیونکہ ’الف لام‘ اعادۂ اول کو لازم ٹھیراتا ہے۔‘‘

مولانا دیکھ سکتے ہیں کہ آلوسی کی جو عبارت اُنھوں نے اپنی تائید میں نقل فرمائی تھی ، وہ اُن کے موقف کی تردید اور ہماری تائید میں حجت قاطع ہے ۔ عربی زبان میں یہ قاعدہ بالکل مسلمہ ہے کہ معرف باللام کا اعادہ اگر معرف باللام کی صورت میں کیا جائے تو پہلا بعینہٖ دہرایاجائے گا ۔ چنانچہ مولانا اگر ’ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ ۳۸ ؂ میں ’ المحصنات‘ کا ’الف لام‘ عہد ذہنی کے لیے مانیں گے تو ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں بھی اُنھیں اِسے عہد ذہنی ہی کے لیے ماننا پڑے گا۔ عربی زبان میں اِس کے سوا کسی صورت کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ تیسرا اعتراض یہ ہے :

’’ لفظ ’محصنات‘ کو مشترک قرار دینا جہالت ہے ۔ معلوم ہے کہ لفظ مشترک اوضاع متعددہ کے ساتھ معانیئمتعددہ کے لیے موضوع ہوتا ہے ، جیسے لفظ ’ عین‘ جو آنکھ ، چشمہ وغیرہ معانی کے لیے اوضاع متعددہ کے ساتھ وضع کیا گیا ہے ۔ بخلاف لفظ ’محصنات‘کے کہ اِس کا مصدر ’الاحصان‘ ایک معنی ’المنع‘ کے لیے وضع کیا گیا ہے ، جس کے اقسام چار ہیں ۔ ‘‘

لفظ ’مشترک‘ اصول فقہ کی ایک اصطلاح بھی ہے اور عربی اور اردو میں محض ’ الذی تشترک فیہ معان کثیرۃ‘ کے معنی میں مستعمل ایک اسم بھی ۔ مولانا نے اِس کی جو تعریف نقل فرمائی ہے ، اصول کی کتابوں میں بے شک ، اِس کا استعمال اس تعریف ہی کے حدود میں ہوتا ہے ، لیکن ہماری تحریر چونکہ زبان کے مباحث سے متعلق تھی ، اِس وجہ سے اُس میں یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ اکابر اہل علم کی تحریروں میں اِس کے اِس مفہوم میں استعمال کی نظیریں موجود ہیں۔ ابوبکر جصاص ’’احکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں :

لان الاحصان اسم مشترک یتناول معانی مختلفۃ. (۲/۱۶۴) ’’اِس لیے کہ ’احصان‘ ایک اسم مشترک ہے جو مختلف معانی کو شامل ہے ۔ ‘‘

ہمارے لیے توخیر باعث سعادت ہے کہ مولانا نے ہمیں جاہل کے لقب سے نوازا ہے ، لیکن ابوبکر جصاص کے بارے میں ، ہمیں نہیں معلوم ، اب موصوف کیا ارشاد فرمائیں گے ؟ چوتھا اعتراض یہ ہے :

’’یہ بات کہ ’ تقتیل‘ کے معنی ہیں : عبرت ناک طور پر قتل کرنا اور چونکہ رجم بھی عبرت ناک قتل کی ایک صورت ہے ، لہٰذا وہ بھی ’ تقتیل‘ میں شامل ہے قطعاً غلط اور ناقابل فہم ہے ، اس لیے کہ ’ تقتیل‘ عبرت ناک قتل کو نہیں کہتے ۔ لفظ ’ تقتیل‘ ’ قتل‘ سے باب تفعیل کا مصدر ہے اور باب تفعیل کا خاصہ تکثیر ہے اور ظاہر ہے کہ فعل قتل کی تکثیر بلاواسطہ متصور نہیں ، بلکہ بالواسطہ مفعول قتل کی تکثیر متحقق ہو سکتی ہے ، یعنی کثرت مقتولین کے ضمن میں فعل قتل کی تکثیر متحقق ہو سکتی ہے ۔ ‘‘

مولانا کا یہ اعتراض اُن کے مبلغ علم کے لحاظ سے درست ہے ۔ سیبویہ نے جب سے اپنی کتاب میں یہ جملہ لکھا ہے کہ : ’فاذا اردت کثرۃ العمل قلت کسّرتہ‘ ۳۹؂ ،اہل نحو بالعموم باب تفعیل کے خواص کی بحث ’تکثیر‘ پر ختم کر دیتے ہیں ، لیکن قرآن مجید اور کلام عرب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ’تفعیل‘ ’فعل‘ کے معنی میں جس طرح تکثیر کے لیے آتا ہے ، اِسی طرح وقوع فعل میں شدت اور مبالغہ کی تعبیر کے لیے بھی یہ عربی زبان میں مستعمل ہے ۔ ۴۰ ؂ کوئی عام لغت ، مثلاً ’’الرائد‘‘ یا ’’المنجد‘‘ اٹھا کر دیکھ لیجیے ، ’ صرع‘، ’خطف‘ ،’ ضرب‘ ، ’ لطم‘ ، ’ طرح‘ اور دوسرے بہت سے افعال سے باب تفعیل کے معنی اِن لغتوں میں مثلاً ’مبالغۃ صرع‘ یا ’ بالغ فی صرعہ‘ اور ’ صرعہ شدیدًا‘ یا ’ بشدۃ‘ ہی کے الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ ابوذؤیب ہذلی کا شعر ہے :

الفیت اغلب من اسد المسدحدید یدالناب اخذتہ عفر فتطریح
’’میں نے اُسے پایا جو بیابان مسد کے تیز کچلیوں والے شیروں سے قوی تر ہے ، جس کی پکڑ بے بس کر دینے والی، پھر بری طرح پٹخ دینے والی ہے ۔ ‘‘

اِس میں دیکھیے ، شاعر نے ’ طرح‘ کے بجائے ’ تطریح‘ کا لفظ ’پھینک دینے‘ یا ’پٹخ دینے‘ کی شدت کو بیان کرنے کے لیے اختیار کیا ہے ۔ شعر کا مضمون اِس سے ابا کرتا ہے کہ اِسے یہاں ’تکثیر‘ کے معنی میں لیا جائے ۔ حجل بن نضلہ اپنی زرہ کی تعریف میں کہتا ہے :

تحتی الاغر وفوق جلدی نثرۃ زغف ترد السیف وھو مفلل
’’میرے نیچے سفید پیشانی والا گھوڑا اور میرے جسم پر کشادہ مضبوط حلقوں والی زرہ ہے جو تلوار کو اِس طرح لوٹا دیتی ہے کہ اُس کی دھار بری طرح ٹوٹ چکی ہوتی ہے ۔ ‘‘

اس شعر میں بھی دیکھیے ، ’ فل‘ کے بجائے ’ تفلیل‘ مبالغہ اور شدت پر دلالت کے لیے آیا ہے ۔ زرہ کی خوبی یہی ہے کہ تلوار اُس پر پڑنے کے بعد پھر وار کے قابل ہی نہ رہے ۔ اِس کے لیے ’کثرت سے ٹوٹ جانے‘ کی تعبیر ، ظاہرہے کہ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتی ۔ متمم بن نویرہ اپنی ناقہ کی مدح میں کہتا ہے :

بمجدۃ عنس کان سراتھا فدن تطیف بہ النبیط مرفّع
’’ایک سبک رفتار فربہ اونٹنی کے ساتھ جس کا کوہان گویا ایک بہت ہی بلند محل ہے جس کے گرد قوم نبط کے لوگ پھرتے ہیں ۔ ‘‘

یہاں بھی دیکھیے ’مرفوع‘ کے بجائے ’مرفع‘ مبالغہ ہی کے لیے ہے ۔ متلمس کا شعر ہے :

نعامۃ، لما صرع القوم رھطہ تبین فی اثوابہ کیف یلبس
’’نعامہ، جب دشمن نے اُس کی جماعت کو بالکل پچھاڑ دیا تو وہ کیسا عجیب لباس پہن کر ظاہر ہوا۔‘‘

اِس شعر میں جس جماعت کا ذکر ہے ، اُسے تلواروں سے پچھاڑ دیا گیاتھا۔ یہ مضمون ، ظاہر ہے کہ مبالغہ اور شدت کا ہے ، اِس لیے صاف واضح ہے کہ ’ تصریع‘ یہاں ’کثرت سے پچھاڑنے‘ کے معنی میں نہیں ہو سکتا ۔ ام قیس کہتی ہے :

فرّجتہ بلسان غیر ملتبس عند الحفاظ وقلب غیر مزؤد
’’تو نے حفاظت و مدافعت کے وقت اپنی فصیح زبان اور بے خطر دل کے ساتھ اُس کا ہر عقدہ پوری طرح کھول دیا۔‘‘

اِس شعر میں بھی دیکھیے ، مبالغہ ہی کا موقع ہے ، اِس وجہ سے ’ تفریج‘ کے معنی یہاں ’پوری طرح کھول دینے‘ ہی کے ہو سکتے ہیں ۔ لفظ ’ تقتیل‘ بھی اِسی طرح ’ مبالغۃ فی القتل‘ یعنی ’بری طرح مارنے‘ کے معنی میں آتا ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے :

مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا.(الاحزاب ۳۳: ۶۱) ’’اُن پر لعنت کی بوچھاڑ ہو گی ، جہاں کہیں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کیے جائیں گے ۔ ‘‘

اِس آیت کو سورۂ احزاب میں دیکھیے ، اِس کا سیاق و سباق اور اِس کے الفاظ کی سختی صاف بتا رہی ہے کہ اِس میں ’ قتل‘ کی تشدید مبالغہ اور شدت کے لیے ہے اور مصدر منصوب اِس شدت کی تاکید کے لیے آیا ہے ۔ ’ قتّلوا‘ یہاں ’بڑی کثرت سے قتل کیے جائیں گے‘ کے معنی میں کسی طرح نہیں ہو سکتا ۔ ہر صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے کہ یہ معنی اگر لیے جائیں گے تو ’ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا‘ کا سارا زور بالکل ختم ہو جائے گا ۔ معلقہ امرؤ القیس میں ہے :

وما ذرفت عیناک الا لتضربی بسھمیک فی اعشار قلب مقتل
’’تیری آنکھوں نے صرف اِس لیے آنسو بہائے کہ تو اپنے اِن دو تیروں سے دل پائمال کے ٹکڑوں کو چھلنی کر دے۔‘‘

’ قلب مقتل‘ کے معنی ہیں : ’ اھلک ھلاکًا و ذلل غایۃ التذلیل‘ ۔ یہ مبالغہ اور شدت کی تعبیر ہے ۔ ہم نے اِس کے لیے ’دل پائمال‘ کی ترکیب اختیار کی ہے ۔ ہر وہ شخص جسے زبان و ادب کے ذوق سے کچھ بہرہ ملا ہے ، بغیر کسی تردد کے مانے گا کہ اِس کے معنی اس شعر میں یہی ہو سکتے ہیں ۔ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ مائدہ کی آیت ۳۳ میں ’ ان یقتلوا‘ ’قتل‘کے بجائے اگر ’ تقتیل‘ سے آیا ہے تو یہ کوئی بے حاصل تبدیلی نہیں ہے ۔ بنا میں زیادت ، زیادت معنی کی غرض سے ہوئی ہے ، اور آیت کا مفہوم دلیل ہے کہ یہ معنی زائد مبالغہ اور شدت کے ہیں ۔ اِس وجہ سے اِس کا یہ ترجمہ کہ : ’’فساد فی الارض کے مجرم عبرت ناک طریقے پر قتل کیے جائیں ۔‘‘ عربیت کی رو سے بالکل درست ہے ۔

مولانا ابو شعیب صفدر علی کے اعتراضات

مولانا موصوف نے لغت و نحو کے مسائل سے متعلق ہماری آرا پر صرف دو اعتراضات کیے ہیں : اُن کا پہلا اعتراض آیت نساء : ’ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ‘ ۴۱ ؂ میں لفظ ’ محصنات‘ کے معنی کے بارے میں ہماری اُس تحقیق پر ہے جو اِس سے پہلے اِسی سلسلہ کے مباحث میں بیان ہوئی ہے ۔ دوسرا اعتراض اُنھیں عبادہ بن صامت کی مشہور روایت : ’ البکر بالبکر جلد ماءۃ و تغریب عام‘ ۴۲ ؂ میں حرف ’ و‘ سے متعلق استاذ امام امین احسن اصلاحی کی اُس رائے پر ہے جو اُن کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں اِس طرح بیان ہوئی ہے :

’’اس روشنی میں اگر عبادہ بن صامت کی روایت کی تاویل کیجیے تو اُس کا بھی ایک موقع و محل نکل آتا ہے۔ وہ یوں کہ اُس میں جو حرف ’ و‘ ہے ، اُس کو جمع کے بجائے تقسیم کے مفہوم میں لیجیے۔‘‘ (۵/۳۷۴)

اپنے اس اعتراض کی وضاحت میں اُنھوں نے لکھا ہے :

’’یہی حدیث (عبادہ بن صامت کی مذکورہ روایت) ہے جس کے بارے میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اُس میں موجود حرف ’ و‘ کو جمع کے بجائے تقسیم کے مفہوم میں لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ زانی خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ، اُس کی اصل سزا تو جلد یعنی تازیانہ ہی ہے ، البتہ آیت محاربہ کے تحت حکومت کو اختیار ہے کہ کنوارا اگر تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہ آ رہا ہو تو حکومت اُسے ایک سال کے لیے جلاوطن کر دے اور اگر شادی شدہ زانی تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہ آ رہا ہو تو حکومت کو اختیار ہے کہ اُسے اِسی آیت کے تحت رجم کرا دے ۔ مگر چند امور ’و‘ کو جمع کے بجائے تقسیم کے معنی میں لینے میں مانع ہیں ۔ ۱۔ عبادہ بن صامت کی ایک روایت میں تو حرف ’ و‘ موجود ہے ، جب کہ دوسری روایت میں اُن سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : الثیب جلد ماءۃ، ثم رجمًا بالحجارۃ، والبکر بالبکر جلد ماءۃ، ثم نفی سنۃ. ( احمد ، رقم ۲۲۶۳۳) ’’شادی شدہ کو سو کوڑے مارے جائیں۔ پھر پتھروں سے رجم کرتے ہوئے مار دیا جائے اور کنوارے کو سو کوڑے مارے جائیں۔ پھر ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا جائے ۔ ‘‘ یہ روایت واضح کر دیتی ہے کہ پہلی روایت میں حرف ’ و‘ جمع ہی کے مفہوم میں ہے ۔ ۲۔ اِس روایت میں اِسے تقسیم کے معنی میں لیا جائے تو حدیث کے معنی ہوں گے : کنوارے کو سو کوڑے یا ایک سال کی جلاوطنی کی سزا دی جائے اور شادی شدہ کو سو کوڑے یا رجم کی سزا دی جائے ۔ اِس صورت میں حدیث سے نہ صرف شادی شدہ بلکہ غیر شادی شدہ کے بارے میں بھی آیت نور کو منسوخ ماننا پڑے گا ۔ ‘‘ ۴۳ ؂

مولانا موصوف کا یہ اعتراض ، حقیقت یہ ہے کہ سخن ناشناسی کی بڑی افسوس ناک مثال ہے۔ استاذامام نے یہ بات کہیں نہیں کہی کہ عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت میں حرف ’ و‘ تخییر کے لیے ہے ۔ آں محترم نے اِسے ’ و‘ بمعنی تقسیم قرار دیا ہے ۔ ’تقسیم‘ اور ’تخییر‘ کے الفاظ باعتبار اصطلاح ہی نہیں، باعتبار لغت بھی ایک معنی کے لیے نہیں بولے جاتے ۔ موصوف نے حدیث کے جو معنی بیان کیے ہیں ، اُس کے لیے اہل فن تقسیم کا نہیں، تخییر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اِس معنی کے لحاظ سے تو بے شک ، یہ بات درست ہے کہ حدیث سے نہ صرف شادی شدہ ، بلکہ غیر شادی شدہ کے بارے میں بھی آیت نور کے حکم کو منسوخ ماننا پڑے گا، لیکن استاذ امام کے نزدیک ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا ، ’ البکر بالبکر جلد ماءۃ، وتغریب عام‘ کی ’ و‘ تخییر کے لیے نہیں ہے ۔ اُن کے نزدیک یہ تقسیم کی ’و ‘ ہے اور اُنھوں نے اِس کے جو معنی بیان کیے ہیں ، وہ اُن کے اپنے الفاظ میں یہ ہیں :

’’یعنی کوئی زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ، دونوں کی اصل سزا تو جلد (تازیانہ) ہی ہے ، لیکن اگر کوئی کنوارا تازیانے کی سزا سے قابو میں نہیں آ رہا ہے تو حکومت اُس کو ، اگر مصلحت دیکھے، مائدہ کی مذکورہ بالا آیت (مائدہ کی آیت ۳۳) کے تحت جلاوطنی کی سزا بھی دے سکتی ہے ۔ اِس لیے کہ اِس آیت میں ’نفی‘ (جلاوطنی) کا اختیار بھی حکومت کو دیا گیا ہے ۔ اِسی طرح شادی شدہ زانی کی اصل سزا، جیسا کہ روایت سے واضح ہے ، ہے تو تازیانہ ہی ، لیکن اگر کوئی شخص تازیانے کی سزا سے قابو میں نہیں آ رہا ہے اور معاشرے کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے تو اُس کو حکومت ’تقتیل‘ یعنی رجم کی سزا ازروے سورۂ مائدہ دینے کا اختیار رکھتی ہے ۔ ‘‘ (تدبر قرآن ۵/۳۷۴)

یہ مفہوم ہے جس کے لیے استاذ امام نے تقسیم کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ ابن ہشام نے عربی زبان کے حروف پر اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’مغنی اللبیب‘‘ میں اِس کا اطلاق اِسی طرح کے مفاہیم پر کیا ہے ۔ مولانا موصوف کی خدمت میں معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ وہ اگر تقسیم و تخییر کے فرق سے بھی واقف نہیں تھے تو اُن کے لیے اِس طرح کے فنی مباحث پر قلم اٹھانے سے گریز ہی بہتر تھی۔ ہماری اِس وضاحت کی روشنی میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اُن کا اعتراض خود اُن کے تصنیف کردہ معنی پر تو بے شک ، وارد ہوتا ہے ، لیکن استاذ امام کی رائے سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ زیر بحث حدیث کے جو معنی استاذ امام نے بیان کیے ہیں، وہ عربیت کی رو سے بالکل درست ہیں ۔ ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حرف ’و‘ عربی زبان میں اِس معنی کے لیے مستعمل ہے ۔ اِس کے نظائر قرآن مجید اور کلام عرب ، دونوں سے پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ اختصار کے پیش نظر ہم یہاں صرف قرآن کی شہادت پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے :

وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ، وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوْھُنَّ.(النساء ۴ : ۳۴) ’’اور جن عورتوں سے تمھیں سرتابی کا اندیشہ ہو، اُنھیں نصیحت کرو اور اُن کو خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو اور اُنھیں مارو۔‘‘

اس آیت میں سرکش بیویوں کی اصلاح کے لیے تین تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے : ایک یہ کہ اُنھیں نصیحت کی جائے ، دوسری یہ کہ اُنھیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دیا جائے اور تیسری یہ کہ اُنھیں سزا دی جائے ۔ یہ تینوں تدابیر حرف ’و‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں ۔ عربیت سے واقف ہر شخص بادنیٰ تامل سمجھ سکتا ہے کہ آیت کی دلالت حسب ذیل دو امور پر بالکل واضح ہے : ۱۔ یہ تینوں تدابیر بہ یک وقت اختیار نہیں کی جائیں گی ، بلکہ پہلے نصیحت و ملامت اور زجرو توبیخ کے ذریعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی ۔ اِس سے اگر اصلاح نہ ہو تو بے تکلفانہ قسم کا خلا ملا ترک کر دیا جائے گا ۔ اِس سے بھی صورت حال درست نہ ہو تو مرد بیویوں کو مار سکتا ہے ۔ ۲۔ لازم نہیں کہ یہ تینوں تدابیر اختیار کی جائیں ۔ وعظ و نصیحت تو بے شک ، ہرحال میں ضروری ہے ، لیکن ترک تعلق اُنھی عورتوں سے کیا جائے گا جووعظ و نصیحت سے کوئی اثر قبول نہ کریں اور پیٹا اُنھی کو جائے گا جو پٹے بغیر درست ہی نہ ہو سکتی ہوں ۔ تدابیر کی یہ تقسیم باعتبار نتیجہ ہے۔ یعنی ایک تدبیر اگر نتیجہ خیز نہ ہو ،تب دوسری اختیار کی جائے۔ عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت میں استاذ امام نے ٹھیک یہی معنی مراد لیے ہیں۔ عربی زبان میں اِس معنی کی تعبیر بالعموم حرف ’ ثم‘ سے کی جاتی ہے ۔ امام اللغہ زمخشری نساء کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

امر بوعظھن اولاً ثم ھجرانھن فی المضاجع ثم بالضرب، ان لم ینجع فیھن الوعظ والھجران. (الکشاف ۱/ ۵۳۹) ’’پہلے اُنھیں نصیحت کرنے کا حکم دیا گیا ۔ پھر ترک تعلق کی ہدایت کی گئی اور اِس کے بعد اگر نصیحت اور ترک تعلق، دونوں سے اصلاح نہ ہو سکے تو اُن کو مارنے کی اجازت دی گئی۔‘‘

دیکھ لیجیے ، صاحب ’’کشاف‘‘ کی عبارت سے واضح ہے کہ حرف ’ ثم‘ اِس معنی کے لیے ’و‘ سے زیادہ صریح ہے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عبادہ بن صامت کی اِس روایت کے ایک دوسرے طریق میں ’و‘ کے بجائے یہی ’ ثم‘ استعمال ہوا ہے ۔ فاضل معترض نے اِسے اپنے موقف کی تائید میں پیش فرمایا ہے ۔ موصوف کی یہ جسارت فی الواقع قابل داد ہے کہ جو چیز اُن کی تردید کے لیے حجت قطعی تھی، وہ اُسی سے اپنی تائید فرماتے ہیں ۔ اِس پر اُن کی خدمت میں اِس کے سوا کیا عرض کیا جا سکتا ہے کہ : چہ خوش چرا نہ باشد۔ یہاں تک میں نے استاذ امام کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے ۔ میری رائے اِس روایت کے بارے میں آں محترم کی رائے سے مختلف ہے ۔ میرے نزدیک ، اِس روایت کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ اِس میں جو سزائیں بیان کی گئی ہیں ، وہ اُن بدکاروں کے لیے ہیں جن کا ذکر نساء کی آیت ۱۵۔۱۶ میں ہوا ہے ۔ آیت کے الفاظ دلیل ہیں کہ اُس کا حکم دو قسم کے مجرموں کے بارے میں ہے : ایک وہ عورتیں جن کے لیے زناشب و روز کا شغل تھا۔ دوسرے وہ مردو عورت جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں استواری و پائیداری کے مختلف مراحل سے گزر کر روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ قرآن مجید نے اِس کے لیے ’ وَالّٰتِیْ یَاتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ‘ (وہ عورتیں جو بدکاری کرتی ہیں) اور ’ وَالَّذٰنِ یَاتِیٰنِھَا‘ (وہ مردو عورت جو بدکاری کرتے ہیں) کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ بدکاری کی یہی دوقسمیں ہیں جن کے لیے قرآن کی بعض دوسری آیات میں ’مسافحات‘ (کھلے عام بدکاری کرنے والیاں) اور ’ متخذات اخدان‘ (آشنائی گانٹھنے والیاں) کی تعبیر اختیار کی گئی ہے ۔ اِن الفاظ سے صاف واضح ہے کہ یہ وہ مجرم نہیں ہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبہ میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور جن کی سزا سورۂ نور کی آیت : ’ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ‘ ۴۴ ؂ میں بیان کی گئی ہے ۔ زنا کے یہ عادی مجرم بالعموم اپنے سرداروں کے قبول اسلام کی وجہ سے یا دنیوی مفادات کے پیش نظر اسلام میں داخل ہو جانے کے بعد بھی جب اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو نساء کی اِس آیت میں اُن کے بارے میں حسب ذیل ہدایات دی گئیں : ۱۔ بدکاری کی عادی عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا جائے ، یہاں تک کہ موت اُن کے وجود سے معاشرے کو پاک کر دے یا اللہ اُن کے لیے کوئی اور حکم نازل کرے۔ ۲۔ یاری آشنائی کرنے والے مرد و عورت کو پیٹا جائے ۔ پھر اگر وہ اصلاح کر لیں تو اُنھیں چھوڑ دیا جائے، ورنہ اُن کے بارے میں بھی اللہ کے حکم کا انتظار کیا جائے ۔ اِن ہدایات سے واضح ہے کہ اِن کاتعلق عبوری دور سے تھا۔ چنانچہ عبادہ بن صامت کی زیربحث روایت کا مدعا درحقیقت یہی ہے کہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی خفی کے ذریعے سے ہدایت کی گئی کہ یہ چونکہ محض زنا ہی کے مجرم نہیں ہیں ، بلکہ اِس کے ساتھ اپنی آوارہ منشی ، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے فساد فی الارض کے مجرم بھی ہیں ، اِس لیے اُن میں سے ایسے مجرموں کو جو اپنے حالات کی نوعیت کے لحاظ سے رعایت کے مستحق ہیں ، زنا کے جرم میں نور کی آیت ۲ کے تحت سو کوڑے اور معاشرے کو اُن کے شروفساد سے بچانے کے لیے اُن کی اوباشی کی پاداش میں مائدہ کی آیت ۳۳ کے تحت نفی، یعنی جلاوطنی کی سزا دی جائے اور اُن میں وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہیں ہے ، مائدہ کی اِسی آیت کے حکم ’ اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘ کے تحت رجم کر دیے جائیں ۔ رجم کے ساتھ اِس روایت میں سو کوڑے کی سزا بھی بیان ہوئی ہے ، لیکن ہمارے نزدیک یہ محض قانون کی وضاحت کے لیے ہے ۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کے ساتھ زنا کے جرم میں کسی شخص کو تازیانے کی سزا نہیں دی ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ موت کی سزا کے ساتھ کسی اور سزا کا جمع کرنا حکمت قانون کے خلاف ہے ۔ قانون کی یہ حکمت اسلامی شریعت ہی نہیں ، دنیا کے ہر مہذب قانون میں ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ حبس، تازیانہ، جرمانہ ، اِن سب سزاؤں میں دو باتیں پیش نظر ہوتی ہیں : ایک معاشرے کی عبرت ، دوسرے آیندہ کے لیے مجرم کی تادیب و تنبیہ ۔ موت کی صورت میں ، ظاہر ہے کہ تادیب اور تنبیہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اِس وجہ سے جب مختلف جرائم میں کسی شخص کو سزا دینا مقصود ہو اور اُن میں سے کسی جرم کی سزا موت بھی ہو تو باقی سب سزائیں کالعدم ہو جاتی ہیں ۔ اِس بحث کی روشنی میں دیکھیے ، روایت میں سزاؤں کی تقسیم نتیجہ کے اعتبار سے نہیں ، جرائم کے اعتبار سے ہے ۔ یعنی ایک ہی شخص زنا کے ساتھ اوباشی کا بھی مجرم ہے تو اُسے اِس روایت کی رو سے دونوں سزاؤں کا مستحق قرار دیا جائے گا ۔ چنانچہ سزائیں مجرم کے لحاظ سے جمع اور جرائم کے لحاظ سے تقسیم ہو جائیں گی ۔ ہمارے نزدیک عربیت کی رو سے حرف ’ و‘ اور حرف ’ ثم‘، دونوں اِس مفہوم کے لیے بالکل موزوں ہیں ۔ مولانا موصوف اگر چاہیں گے تو ہم اِس کے شواہد و نظائر بھی اُن کی خدمت میں پیش کر دیں گے ۔ اب رہا مولانا صاحب کا پہلا اعتراض جو لفظ ’ محصنات‘ کے معنی کے بارے میں ہماری رائے پر اُنھوں نے کیا ہے تواِس کے جواب میں ہم اپنا وہ مضمون یہاں نقل کیے دیتے ہیں جو ’’الاعلام‘‘ کے شمارہ ۴ میں اُن کے مضمون ’’زانی محصن کی سزا‘‘ کی اشاعت کے بعد اِسی رسالہ کے شمارہ ۵ میں شائع ہوا تھا۔ مضمون درج ذیل ہے : میرے محترم دوست مولانا ابو شعیب صفدر علی نے ’’زانی محصن کی سزا‘‘ کے عنوان سے جو مجموعۂ نوادر تصنیف فرمایا ہے ، اُس کی داد تو کچھ وہی لوگ دے سکتے ہیں جنھیں اسالیب عرب کے مطالعہ میں اپنے سیاہ بال سفید کرنے کے بعد زندگی میں پہلی مرتبہ اِس تحریر کے ذریعے سے فن لغت و نحو کے بارے میں کتنی ہی حیرت انگیز دریافتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع نصیب ہوا ہے۔ آپ اِس بات کا تصور ہی کر سکتے ہیں کہ فاضل محقق کی اِس تحقیق سے باخبر ہونے کے بعد کہ عربی زبان میں لام تعریف کی ایک ایسی قسم بھی پائی جاتی ہے جو اگر کسی لفظ کو شرف ملاقات بخش دے تو اُس کے عموم میں پاگل ، نابالغ اور مجبور کا شمول ممنوع قرار پاتا ہے ، اِن ماہرین فن نے اپنی محرومی قسمت پر کس کس انداز سے اظہار تاسف کیا ہو گا ۔ یہ کیا کوئی معمولی بات ہے کہ جس مسئلے کی تحقیق میں شاطبی نے اپنی کتاب ’’الموافقات‘‘کے دسیوں صفحے سیاہ کیے ہیں، ہمارے محقق نے کمال بے نیازی کے ساتھ محض ایک سطر (اور وہ بھی حاشیہ میں) لکھ کر اُسے ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے ۔ اِس زمانے کے لوگ اگر اب بھی علم و تحقیق کی دنیا میں قحط الرجال کا ماتم کرنے پر مصر ہیں تو ہمارے پاس اِس کے سوا کیا چارہ ہے کہ ہم اُن کی عقلوں کا ماتم کریں ۔ موصوف نے یہ مجموعۂ نوادر میرے ہی ایک مضمون کی تردید میں تصنیف فرمایا ہے ۔ پھر وہ میرے بہت عزیز دوست بھی ہیں ۔ اِس لیے حق شناسی کا تقاضا یہی ہے کہ میں اُنھیں اُن کے کسی ایک نادرہ کی داد سے بھی محروم نہ رکھوں ، لیکن فی الحال اُن میں سے دو ہی کے ذکر پر اکتفا کر رہا ہوں ۔ کیونکہ موصوف کا سارا زور قلم درحقیقت اِنھی کی تہذیب و تدوین میں صرف ہوا ہے ۔ باقی سب نوادر تو معلوم ہوتا ہے کہ محض اِن کے جلال و جمال کو نمایاں کرنے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔ ۱۔ مضمون کے نصف اول میں ہمارے محقق نے بقول خود ہر قسم کے فکری تعصبات اور ذہنی تحفظات سے بالاتر رہ کر اِس پر بحث فرمائی ہے کہ عربی زبان کا اسم صفت ’محصنات ‘ کیا لونڈیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے ۔ موصوف نے اِس مسئلے کی تحقیق میں عربی زبان کے سارے لغت کھنگال ڈالے ہیں ۔ کیا ’’لسان العرب‘‘ اور کیا ’’جوہری‘‘ و ’’صراح‘‘ ، ہر ایک سے کتنے ہی اقتباسات اپنے مضمون میں نقل فرمائے ہیں ۔ لفظ کے مادہ کا سراغ لگا کر اُس کے اصلی معنی ڈھونڈ نکالنے کی سعی کی ہے ۔ اُس کے فاعلی اور مفعولی استعمالات متعین کیے ہیں ۔ کلام عرب کے حوالے سے جاہلی عرب میں لونڈیوں اور آزاد عورتوں کے معاشرتی مراتب کا فرق واضح کیا ہے ۔ محفوظ عورتوں اور پاک دامن عورتوں کا ذکر کرنے کے لیے عربی زبان میں الگ الگ اسالیب و الفاظ کے استعمال پر قرآن مجید کی بہت سی آیتوں کی شہادت پیش کی ہے ۔ غرض لیلاے حقیقت کی تلاش میں بادیہ گردی کا حق ادا کر دیا ہے ۔ اِس بحث و تمحیص کے دوران میں لغت و نحو کے فن میں جو حیرت انگیز دریافتیں موصوف نے فرمائی ہیں او ر جن میں سے ایک کا ذکر اوپر ہم نے بطور نمونہ کیا بھی ہے، وہ تو حق یہ ہے کہ صدیوں تک اہل فن کو سربہ گریباں رکھیں گی ۔ ارباب ذوق کو اِس طرح کے معارف کسی اور سے کہاں میسر آئیں گے ۔ اب تو مجلس علم میں جو کوئی زبان کھولے گا ، احباب اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر میر مجلس سے یہی فریاد کریں گے کہ :

عشوۂ زاں لب شیرین شکر بازبیار

لیکن مضمون کے اِس حصے میں جو بات اِن سب دریافتوں پر بھاری ہے ، وہ اِس ساری تحقیق کا نتیجہ ہے ۔ موصوف یہ سب وادیاں قطع کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ کلام عرب اور قرآن مجید کے تتبع سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’ محصنات‘ اصلاً تو لونڈیوں کے لیے استعمال ہی نہیں ہوتا۔ البتہ، ازہری نے اُنھیں اطلاع دی ہے کہ لونڈیاں اگر آزاد کر دی جائیں یا اُن سے شادی ہو جائے یا وہ اسلام قبول کر لیں تو اُن کے لیے بھی اِس کا استعمال جائز ہے ۔ موصوف نے یہ نتیجہ نکالنے کے لیے جو صحرا نوردی کی ہے ، اُس کی تفصیل ہم نے اوپر بیان کر دی ہے، لیکن اِس نتیجۂتحقیق کو جس چیز نے کلاسیک کا درجہ عطا کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ فاضل محقق نے سورۂ نساء کی جس آیت میں لفظ ’ محصنات‘ کے معنی متعین کرنے کے لیے یہ سب نشیب و فراز طے کیے ہیں،وہ بجائے خود اِس بات پر حجت قاطع ہے کہ یہ لفظ بے شک ، لونڈیوں کے لیے مستقل صفت ۵ ۴؂ کے طورپر تو عربی زبان میں مستعمل نہیں ہے ، لیکن تمام اسماے صفت کی طرح یہ جن اوصاف پر دلالت کرتا ہے ، وہ اگر لونڈیاں بھی اپنے اندر پیدا کر لیں تو یہ اُن کے لیے بھی اُسی طرح استعمال ہو سکتا ہے جس طرح آزاد عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن مجید نے اِس آیت میں اِسے اُنھی کے لیے استعمال کیا ہے ۔ لفظ کے استعمال پر آیت کی یہ دلالت ایسی واضح ہے کہ قرآن مجید کا ایک عام قاری بھی اُسے بے تکلف سمجھ لیتا ہے، لیکن ہمارے محقق کو داد دیجیے کہ مضمون کی تسوید کے دوران میں یہ آیت اُن کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہی ۔ وہ اِسی کے معنی کی تحقیق میں یہ سب خامہ فرسائی فرما رہے تھے۔ ایک مقام پر رواروی میں اُن کے قلم نے اِس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ لفظ یہاں لونڈیوں کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے باوجود اِن بے چاریوں کے لیے اِس لفظ کے استعمال کے عدم جواز کی بحث میں اُنھوں نے ہر وادی میں گھومنا پسند کر لیا ہے ، ایک اِسی آیت کی طرف رجوع فرمانے کی زحمت نہیں کی ۔ نقد ادب کے علما، معلوم نہیں، اِس کلاسیک کے وجود میں آنے کے کیا اسباب و علل متعین فرماتے ہیں ، لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے ، ہم تو اِسے موصوف کے کمال پرہیز گاری ہی پر محمول کرتے ہیں کہ معاملہ چونکہ محصنات کا تھا، اِس لیے اُنھوں نے اس نازک موقع پر بھی غض بصر کے حدود کی پابندی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ آیت ملاحظہ ہو :

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ. وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ، بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ، فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلاَ مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ.(النساء ۴:۲۵) ’’اور جو تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مومنہ عورتوں سے نکاح کر سکے تو وہ اُن مومنہ لونڈیوں سے نکاح کر لے جو تمھارے قبضے میں ہوں ۔ اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے ۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو،سو اِن لونڈیوں سے نکاح کر لو ، اِن کے مالکوں کی اجازت سے اور دستور کے مطابق اِن کے مہر ادا کرو، اِس حال میں کہ وہ محصنات ہوں ، نہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ ‘‘

جی تو چاہتا ہے کہ موصوف کے سامنے اِس آیت کی تلاوت کر کے اُن سے پوچھا جائے کہ اِس میں لفظ ’محصنات‘ بالصراحت لونڈیوں کے لیے استعمال ہوا ہے اور قرآن مجید سے بڑھ کر نہ دین میں کوئی چیز حجت ہے نہ عربی زبان کے استعمالات میں ، تو پھر آپ نے اپنے مضمون کے اِس حصے میں اُس کی اِس آیت کو کس طرح نظر انداز کر دیا اور لفظ ’ محصنات‘ کے استعمالات متعین کرنے کے لیے اِس نص قطعی کو بناے استدلال بنانے کے بجاے اِن بھول بھلیاں میں سرگرداں رہنے کو کیوں ترجیح دی ، لیکن اِس اندیشے سے ضبط سخن پر مجبور ہیں کہ وہ اِس کے جواب میں یہی فرمائیں گے تم عامی کیا جانو، اساتذۂ فن کے انداز تحقیق کیا ہوتے ہیں ۔ کبھی آؤ اور ہمارے سامنے زانوے تلمذتہ کرو ۔ پھر تمھیں بتائیں گے کہ بگلا پکڑنے کے فنی طریقے اور اُن عامیانہ طریقوں میں کیا فرق ہے جو ہما شما اِس کام کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ ۲۔ مضمون کے نصف ثانی میں فاضل محقق نے میرے اُس نقطۂ نظر کا رد فرمایا ہے جو میں نے سورۂ نساء کی مذکورہ آیت میں لفظ ’ محصنات‘ کے بارے میں پیش کیا ہے ۔ میں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آیۂ زیر بحث میں لفظ ’ محصنات‘ ’پاک دامن عورتوں‘کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ ’بیاہی ہوئی‘ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ اپنی اِس رائے کی تائید میں جو دلائل میں نے دیے تھے، ان میں ایک دلیل یہ بھی تھی کہ ’ محصنات‘ کا لفظ یہاں تنہا نہیں آیا، ’ مسافحات‘ کے مقابل میں استعمال ہوا ہے اور بالکل اُسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح ہم بولتے ہیں : ’ ھو عالم لیس بجاھل‘ (وہ عالم ہے جاہل نہیں ہے) ،اِس لیے زبان کے اِس مسلمہ قاعدے کی رو سے کہ لفظ جب اِس طرح کے کسی جملے میں آتا ہے تو اِس کے معنی اُس کے مقابل میں آنے والے لفظ کے ضد کی حیثیت سے متعین ہو جاتے ہیں ، لفظ ’محصنات‘ بھی یہاں ’پاک دامن عورتوں‘ کے علاوہ اب کسی اور مفہوم کا متحمل نہیں رہا، کیونکہ اُس کا مقابل لفظ ’مسافحات ‘ ’بدکاری کرنے والیاں‘ کے معنی میں قطعی ہے اور بدکاری کا ضد بہرحال پاک دامنی ہی ہے ۔ میری یہ دلیل چونکہ اُن لوگوں کے لیے بھی واضح تھی جن کے لیے نازک فنی مباحث کچھ گراں باری خاطر کا باعث ہوتے ہیں ، اِس لیے موصوف نے مضمون کے اِس حصے میں باقی دلائل سے قطع نظر کر کے اُسے ہی موضوع سخن بنایا ہے ۔ فاضل محقق نے ازراہ ذرہ نوازی وہ قاعدہ تو بغیر کسی جرح و نقد کے من و عن تسلیم کر لیا ہے جس پر یہ دلیل مبنی ہے اور جس کی وضاحت ابھی ہم نے اوپر کے پیرے میں کی ہے ، لیکن اِس قاعدے سے جو نتیجہ نکلتا ہے ، وہ چونکہ اُن کے لیے قابل قبول نہیں تھا، اِس لیے خود بدلنے کے بجائے، ادھرادھر سے کچھ زادوراحلہ کا بندوبست کر کے وہ لفظ ’ مسافحات‘ کے معنی بدلنے کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ موصوف نے پختہ کار ماہرین فن کی طرح اِس مرتبہ بھی اپنے انداز تحقیق میں کوئی تبدیلی کرنا پسند نہیں کیا ۔ لونڈیوں کے لیے لفظ ’ محصنات‘ کی موزونیت و عدم موزونیت کی بحث کی طرح اُنھوں نے یہاں بھی پہلے عربی زبان کے اسما میں ’ مسافحات‘ کا مقام متعین کیا ہے ۔ اپنے قاری کو اُس کی اصل اور اُس کے باب کی اطلاع دی ہے ۔ ’زنا‘ ، ’فاحشۃ‘ اور ’سفاح ‘کے مواقع استعمال کا فرق واضح کیا ہے ۔ ’’لسان العرب‘‘ اور ’’تاج العروس‘‘ سے علماے لغت کے اقوال نقل کیے ہیں۔ احمد بن حنبل کی ’’مسند ‘‘سے ایک آدھ نہیں ، اکٹھی تین حدیثیں بطور شہادت پیش کی ہیں اور اِس کے بعد نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے اِس نتیجۛ? تحقیق کا اعلان کر دیا ہے کہ اِس ساری بحث سے چونکہ یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ’مسافحۃ ‘ کا لفظ عربی زبان میں ’بدکاری کرنے والی‘ کے معنی میں نہیں، بغیر نکاح کے ایک عرصہ تک کسی کی بیوی بن کر رہنے اور پھر کسی وقت اپنی مرضی سے الگ ہو جانے والی کے معنی میں مستعمل ہے ۔ چنانچہ یہ بات بالکل قطعی ہے کہ نساء کی آیت زیر بحث میں لفظ ’محصنات‘، ’مسافحات‘ کے مقابل میں استعمال ہونے کی وجہ سے ’نکاح میں محفوظ ہونے والیاں‘ کے معنی میں ہو گا، اُسے اب ’پاک دامن عورتوں‘ کے معنی میں لینا کسی طرح درست نہیں ہے۔ موصوف کا یہ نتیجۛ? تحقیق بھی اُن کے پہلے نتیجۛ? تحقیق کی طرح کوئی معمولی درجہ کی چیز نہیں ہے ۔ وہ اِس نتیجہ پر پہنچنے کے لیے بھی ٹھیک اُسی راستے سے گزرے ہیں جو اُنھوں نے پہلے سفر میں اختیار کیا تھا۔ اِس مرتبہ بھی حقیقت کا سراغ پانے کے شوق میں اُنھوں نے سب وادیاں قطع کی ہیں اور سب پتھر الٹے ہیں ، لیکن اُسی کلام کو نظر انداز کر دیا ہے جو اِس زمین پر لغت عرب کا سب سے بڑا اور سب سے مستند ماخذ ہے۔ اُنھوں نے امام احمد بن حنبل کی ’’مسند‘‘ کے ضخیم دفاتر میں حدیثیں تلاش کرنے کے لیے ، معلوم نہیں کیا کیا صعوبتیں اٹھائی ہوں گی ، لیکن طرفہ تماشا ہے کہ اُس آیت کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جو اِس مضمون کی تسوید کے دوران میں مسلسل اُن کے سامنے رہی اور جس میں جس طرح ’محصنات ‘ ، ’مسافحات‘ کے مقابل میں استعمال ہوا ہے ، بالکل اُسی طرح ’مسافحات‘’متخذات اخدان‘ کے مقابل میں آیا ہے ۔ موصوف اِس بات سے بے خبر نہیں تھے کہ دین کی طرح زبان کے معاملہ میں بھی قرآن مجید کی حجت کے بعد کسی اور چیز کی حجت خواہ وہ ’’لسان‘‘ و ’’صحاح‘‘ ہوں یا ’’مسانید‘‘ و’’ جوامع‘‘، کسی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ لفظ کے ضد کی رعایت سے اُس کے معنی کی تعیین کا وہ اصول بھی تسلیم کر چکے تھے جس کی مدد سے وہ ’محصنات‘کے معنی متعین کرنے کی سعی میں مصروف تھے، لیکن اُنھوں نے نہیں سوچا اور تعجب ہے کہ نہیں سوچا کہ جب ’ متخذات اخدان‘ ’چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں‘کے معنی میں قطعی ہے تو آیت نساء: ’ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ، وَّلَامُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ‘ میں لفظ ’مسافحات‘اُس کے مقابل میں آنے کی وجہ سے ، ’ہرآنے والے سے علانیہ بدکاری کرنے والیاں‘ کے معنی میں قطعی قرار پائے گا اور جب یاری آشنائی اورعلانیہ بدکاری پر دلالت کرنے والے الفاظ ’ محصنات‘ کے مقابل میں آئیں گے ، جیسا کہ اِس آیت میں آئے ہیں، تو اُسی اصول کی رو سے جسے موصوف تسلیم کر چکے ہیں، یہ اِس مقام پر ’پاک دامن عورتوں‘ کے معنی میں ایسا قطعی ہو جائے گا کہ اِس کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ گویا بالکل وہی اسلوب ہو گا جو جاہلی شاعر ابن مقبل نے اپنے اِس شعر میں اختیار کیا ہے :

من نسوۃ شمس، لا مکرہ عنف ولا فواحش فی سر ولا علن
’’پاکیزہ طینت بیبیوں سے جو نہ بدرو ہیں ، نہ درشت خو اور نہ کھلے بندوں بدکاری کا ارتکاب کرنے والی ہیں ، نہ چھپ کر۔‘‘

لیکن اِسے کیا کہیے کہ قرآن کی یہ نص قطعی ایک مرتبہ بھی ہمارے محقق کے تحقیقی ماخذوں میں کوئی جگہ نہیں پا سکی ۔ فیا عجبی! مگر اِس اظہار تعجب سے فائدہ! کار تحقیق کی فنی نزاکتوں سے ناآشنا ہم عامیوں کے اظہار تعجب کو وہ کس شمار میں لائیں گے ! ہمیں تو بس اُن کی اِس جرأت رندانہ پر داد دینی چاہیے کہ اُنھوں نے کس اعتماد کے ساتھ قرآن کی اِس برہان قاطع کے سامنے ’’لسان ‘‘ و ’’صحاح‘‘ اور ’’مسانید‘‘ و ’’جوامع‘‘ کی مدد سے اپنی قاطع برہان پیش فرمائی ہے اور اِس تصریح کے ساتھ پیش فرمائی ہے کہ اُن کے نزدیک امام اللغہ زمخشری نے بھی ’’الکشاف‘‘ کی اِس عبارت میں ’ محصنات‘ کے معنی درحقیقت ’نکاح میں محفوظ ہونے والیاں‘ ہی کے بیان کیے ہیں :

محصنات: عفائف، والاخدان: الاخلاء فی السر، کانہ قیل : غیر مجاھرات بالسفاح ولا مسرات لہ.(۱/۵۳۲) ’’’محصنات ‘: پاک دامن عورتیں، ’الاخدان‘ چوری چھپے کے آشنا۔ گویا آیت کا مفہوم ہے : نہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں نہ چھپا کر۔‘‘

خیر گزری کہ موصوف کو اُن کے اپنے قول کے مطابق کلام عرب سے کچھ زیادہ واقفیت نہیں ہے، ورنہ زمخشری ہی نہیں ، حماسہ کا وہ شاعر بھی اپنے کلام کے معنی سمجھنے کے لیے اُن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے پر مجبور ہو جاتا جس نے اہل زبان ہونے کے زعم میں کثرت بدکاری ہی کے نتائج کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اِس شعر میں ’مسافحۃ‘کا لفظ قحبہ کے لیے بطور اسم صفت استعمال کیا ہے :

تسد فرج القحبۃ المسافحۃ مفسدۃ لابن العجوز الصالحۃ

ہمیں نہیں معلوم کہ فنی تحقیق کے ماہرین ہمارے دوست کے پہلے نتیجۂ تحقیق کو بڑا کلاسیک قرار دیتے ہیں یا اِس کو ۔ ہم عامی تو اُ ن کے مضمون کے مطالعے سے اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دونوں اُن کے غیر معمولی تقویٰ کے معجزات ہیں ۔ اُنھوں نے پاک دامن عورتوں (محصنات) سے غض بصر فرمایا تو پہلا کلاسیک تخلیق ہوا اور اِن مردود آشنائی گانٹھنے والیوں (متخذات اخدان) سے پہلو بچایا تو دوسرے کلاسیک نے وجود پایا اور اِس طرح موصوف ایک ہی مضمون میں محض اپنے تقویٰ کے زور پر علمی دنیا کو دو بے مثال نوادر عطا فرمانے میں کامیاب ہو گئے :

یہ نصیب، اللہ اکبر، لوٹنے کی جائے ہے

ہمارے دوست یہ مضمون لکھنے کے درپے تھے تو ہم نے اُنھیں مشورہ دیا تھا کہ ہمارے نقطۂ نظر کی اشاعت کے بعد محض احقاق حق کے جذبہ سے مغلوب ہو کر وہ اِس مسئلہ سے متعلق فنی مباحث کا مطالعہ کیے بغیر ہی قلم اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں تو زبان و ادب میں اجتہادات فرمانے کے بجائے اپنی بحث متقدمین کے استدلال کی وضاحت تک محدود رکھیں ، لیکن ہمارے اِس مشورے کے علی الرغم اُنھوں نے اپنے یہ اجتہادات قلم بند فرمائے اور اُنھیں ’’زانی محصن کی سزا‘‘ کے زیر عنوان رسالہ ’’الاعلام‘‘ میں شائع کر دیا۔ مضمون کی اشاعت کے بعد ہم نے اِن اجتہادات کے بارے میں اپنی وہ سب معروضات اُن کے سامنے پیش کر دیں جن کا ایک حصہ اوپر بیان ہوا ہے اور اُن سے گزارش کی کہ وہ اگر اِن کے جواب میں کچھ فرمانا چاہیں تو فرمائیں، لیکن اُنھوں نے اعتراف کیا کہ اُن کے پاس جواب میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ موصوف کے اِس اعتراف کی وجہ سے ہم نے اِس مختصر تبصرے پر اکتفا کی ہے ۔ تاہم اگر وہ اپنے اِس اعتراف سے رجوع فرماتے ہیں تو یار زندہ صحبت باقی ، اُسے بھی دیکھیں گے ۔ ہمارے دوست نے یہ مضمون لکھا تھا تو اِس کے عنوان کی تلاش میں سرگرداں تھے ۔ تب ہماری ہی تجویز پر اُنھوں نے اِس کے لیے ’’زانی محصن کی سزا‘‘ کا عنوان پسند کیا تھا۔ اُن کا مضمون ابھی جاری ہے ۔ اِس کے لیے اُنھیں اگر کبھی کسی موثر اختتامیہ کی ضرورت محسو س ہوئی اور اُنھوں نے اِس کے انتخاب کی سعادت بھی ہمیں بخشی تو ہم اُن کی خدمت میں یہ شعر پیش کر دیں گے :

خاطر مسلسل است پریشاں چوں زلف یار عیبم مکن کہ در شب ہجراں نوشتہ ام

۱۹۸۲ء