’ المحصنات‘ کے لام کے بارے میں ہم یہ بات بھی نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ یہ بالکل قطعی ہے کہ آیۂ زیر بحث میں اِس لفظ کے مفہوم کا ابلاغ متکلم کے پیش نظر بھی ہے اور مخاطب کی ضرورت بھی ۔ وہ بتانا چاہتا ہے کہ جرم زنا میں لونڈیوں کی سزا کیاہے اور مخاطب کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ محصنات کون ہیں ؟ اُن کی سزا کیا ہے ؟ اور اِس سزا کی نصف سزا جو لونڈیوں کو دینی ہے ، وہ کیا ہو گی ؟ تعریف عہد کی اِن دوصورتوں کے علاوہ کوئی تیسری صورت اِس معنی پر دلالت کے لیے جس کا اثبات اِن حضرات کے پیش نظر ہے ، عربی زبان میں ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ۔ اِس وجہ سے اِن کی یہ رائے کہ ’المحصنات‘ میں الف لام تعریف عہد کے لیے ہے ، بالکل بے بنیاد ہے ۔ یہاں اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ پھر یہ کس نوعیت کا الف لام ہے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ الف لام جنسیہ کی وہی قسم ہے جسے صاحب ’’مغنی اللبیب‘‘ نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے :

او لتعریف الماھیۃ ، وھی التی لا تخلفھا ’’کل‘‘ لاحقیقۃ ولا مجازًا.(مغنی اللبیب، ابن ہشام۱/ ۵۱) ’’یا پھر الف لام جنسیہ تعریف ماہیت کے لیے آتا ہے اور اُس کی پہچان یہ ہے کہ لفظ ’کل‘ حقیقت کے اعتبار سے اُس کا قائم مقام ہو سکتا ہے نہ باعتبار مجاز۔ ‘‘

اِس کی مثال میں انھوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی ہے :

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْ ءٍ حَیٍّ. (الانبیاء ۲۱ : ۳۰) ’’اور ہم نے ہر زندہ چیز پانی سے بنائی ۔‘‘

رضی استراباذی اپنی مشہور ’’شرح کافیہ‘‘ میں اِس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

والثانی ماھیۃ الجنس من غیر دلالۃ اللفظ علی القلۃ والکثرۃ، بل ذاک احتمال عقلی کما فی قولہ تعالیٰ: لئن اکلہ الذئب ولم یکن ھناک ذئب معھود ولم یرد استغراق الجنس ایضاً، و مثلہ قولک: ادخل السوق، واشتر اللحم، وکل الخبز.( ۱/۴) ’’اور الف لام کی دوسری قسم ماہیت جنس ہے۔ اِس میں قلت و کثرت پر لفظ کی دلالت کا اعتبار نہیں کیا جاتا ۔ اِس کی نوعیت ایک طرح کے احتمال عقلی کی ہوتی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’ لئن اکلہ الذئب‘۔ یہاں ’ الذئب‘ کے الف لام سے مقصود نہ کسی ذئب مخصوص کا ذکر ہے جو متکلم اور مخاطب کے ذہن میں پہلے سے متعین ہو ، نہ جنس ذئب کے تمام افراد کا احاطہ ۔ ’ادخل السوق‘ ، ’ اشتر اللحم‘ اور ’ کل الخبز‘ کی طرح کے جملوں میں ’السوق‘ ، ’اللحم ‘ اور ’الخبز‘ اِسی کی مثالیں ہیں۔ ‘‘

الف لام کی اِس قسم کی بہت سی مثالیں کلام عرب سے بھی پیش کی جا سکتی ہیں ، لیکن اندیشۂ طوالت کے پیش نظر ہم معلقۂ امرؤالقیس کے اِس شعر پر اکتفا کرتے ہیں :

مسح اذا ما السابحات علی الونی اثرن الغبار بالکدید المرکل
’’اور میں اُس گھوڑے پر سیر کے لیے نکلتا ہوں جو پیہم چلتا ہے ، جب صبا رفتار گھوڑے ضعف و ناتوانی کے باوجود پامال زمین پر غبار اڑاتے ہوئے بھاگتے ہیں ۔ ‘‘

امرؤ القیس کے اِس شعر میں ’ السابحات‘ ، ’ الونی‘ ،’ الغبار‘ ، ’ الکدید‘ ،اِن سب کا الف لام ماہیت جنس ہی کے لیے ہے ۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھیے، ’اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ ‘اور ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں لفظ ’ المحصنات‘ کا الف لام بھی اِس کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ہم پوری قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ زبان و بیان کے قواعد میں کسی دوسری رائے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ چنانچہ ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں ’المحصنات ‘ کے بارے میں اِن حضرات کا یہ ارشاد کہ اِس میں الف لام تعریف عہد کے لیے ہے اور اِس کا معہود وہ بن بیاہی آزاد عورتیں ہیں جن کا ذکر اِس آیت کی ابتدا میں ہوا ہے ، ایک بے معنی بات ہے جس کی توقع کسی صاحب علم سے نہیں کی جا سکتی ۔ اِس کے بعد اب تیسری دلیل کا جائزہ لیجیے : ’ محصنات‘ اور اِس کے الف لام پر مبنی جو استدلال ان حضرات نے پیش کیا ہے ، اُس کی تردید کے بعد یہ دلیل اگرچہ آپ سے آپ ختم ہو جاتی ہے ، اِس لیے کہ جب یہ ثابت ہے کہ عربیت کی رو سے آیت ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں ’ المحصنات‘ کا لفظ لازماً شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ، دونوں قسم کی حرائر کو شامل ہے تو اِس کے مقابلے میں آدھے اور پورے اور دگنے احصان کی یہ منطق خود قرآن کی نص صریح پر اعتراض کے مترادف قرار پائے گی ، تاہم تھوڑی دیر کے لیے اِس سے قطع نظر کر لیجیے اور اِس منطق کو دیکھیے، اِس کی پوری عمارت جس مبنیٰ پر اٹھائی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ ’ فاذا احصن‘ کے الفاظ آیۂ زیر بحث میں ، ’ جب وہ نکاح میں آ جائیں ‘ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ اِس کے بعد یہ جو فرمایا گیا ہے کہ لونڈی صرف نکاح سے ’ محصنہ‘ ہوتی ہے اور نکاح سے بھی جو ’احصان‘ اُسے حاصل ہوتا ہے ، وہ چونکہ اُس ’احصان‘ کی نسبت سے آدھا ہے جو آزاد عورت کو شادی کے بغیر ہی حاصل ہوتا ہے، اِس لیے شادی شدہ عورت کا ’ احصان‘ لازماً بن بیاہی عورت کے احصان سے دوگنا ہونا چاہیے ، یہ سب اِسی مبنیٰ پر قائم ہے ۔ لیکن یہ مبنیٰ کیا ثابت بھی ہے ؟ ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہر گز نہیں ، اِس لیے کہ عربیت کی رو سے ’ فاذا احصن‘ کے وہ معنی جو بالعموم لوگوں نے سمجھے ہیں ، نساء کی اس آیت میں کسی طرح مراد نہیں لیے جا سکتے ۔ ہمارے نزدیک ، یہ الفاظ یہاں ’ جب وہ قید نکاح میں آ جائیں‘ کے معنی میں نہیں ،بلکہ ’جب وہ پاک دامن رکھی جائیں‘ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ، اور اپنا یہ موقف ہم زبان و بیان کے دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں ۔ یہ دلائل ہم یہاں پیش کیے دیتے ہیں ۔ آیۂ زیر بحث کے جس حصے میں ’ فاذا احصن‘ کے یہ الفاظ مذکور ہیں ، وہ یہ ہے :

فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ. فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ.(النساء۴: ۲۵) ’’سو اِن لونڈیوں سے نکاح کر لو، اِن کے مالکوں کی اجازت سے اور دستور کے مطابق اِن کے مہر ادا کرو، اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں، نہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ پھر جب وہ پاک دامن رکھی جائیں اور اِس کے بعد اگر بدچلنی کی مرتکب ہوں توآزاد عورتوں کی جو سزا ہے ، اُس کی نصف سزا اُن پر ہے ۔ ‘‘

اِس آیت میں دیکھیے ، ’ فاذا احصن‘ میں ’ اذا‘ پر جو حرف ’ ف‘ داخل ہے ، اُس کا تقاضا ہے کہ فعل ’احصن‘ سے یہاں وہی مفہوم مراد لیا جائے ، جو ’ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَمُسٰفِحٰتٍ‘ میں لفظ ’محصنات‘ کا ہے ۔ عربی میں مثال کے طور پر اگر کہیں : ’ اذھب الیہ راکبًا فاذا رکبت ‘ تو اِس میں ’ راکبًا‘ ا ور ’رکبت‘ کو دو مختلف معنوں میں کسی طرح نہیں لیا جا سکتا ۔ اِس جملے میں جو معنی ’راکبًا‘ سے سمجھے جائیں گے ، لازم ہو گا کہ وہی معنی ’ رکبت‘ کے بھی سمجھے جائیں۔ لہٰذا ’ فَاِذَآ اُحْصِنَّ ‘ میں فعل ’احصن‘ کے معنی کا انحصار درحقیقت ’ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ‘ میں لفظ ’محصنات‘ کے مفہوم کے تعین پر ہے ۔ اب لفظ ’ محصنات‘ پر اُس کے موقع و محل کے لحاظ سے غور کیجیے تو دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں : ایک یہ کہ ’ فَانْکِحُوْھُنَّ‘ ، ’ اٰتُوْھُنَّ‘ میں ضمیر منصوب سے حال واقع ہوا ہے اور اِس کا عامل فعل جس طرح ’ اٰتوا‘ ہے ، اِسی طرح ’ فانکحوا‘ بھی ہے ۔ دوسری یہ کہ یہاں یہ تنہا نہیں ، بلکہ’مسافحات‘ کے مقابل لفظ کی حیثیت سے آیا ہے ۔ پہلی بات ، یعنی حال اور اُس کے عامل کا لحاظ کیجیے تو اِس کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ حال کا عامل اگر فعل امر ہو تو اِس طرح کے سیاق میں یہ شرط کے مفہوم میں ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ہم کہیں : ’اضربہ مشدودًا بالشجرۃ‘ (اُسے مارو اِس حال میں کہ وہ درخت سے بندھا ہوا ہو) تو اِس میں ’بندھا ہوا‘ مارنے کے لیے بمنزلۂ شرط ہو گا ۔ اب دیکھیے ، شرط کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ جس فعل سے متعلق ہوتی ہے ، اُس کے فاعل یا مفعول میں اُس کا وجود پہلے سے متحقق ہوتا ہے ۔ گویا ’ اضربہ مشدودًا‘ کی مثال میں مارنے کے حکم کا تقاضا اُسی صورت میں پورا ہو گا جب شخص مذکور کو اِس حالت میں مارا جائے کہ وہ پہلے سے کسی درخت کے ساتھ بندھا ہوا ہو یا مارتے وقت اُسے کسی درخت کے ساتھ باندھ دیا جائے ۔ چنانچہ یہ اِسی اصول کا اقتضا ہے کہ حال اِس طرح کے جملوں میں لازماً اپنے عامل فعل کے معنی سے مغایر مفہوم میں آتا ہے ۔ اب اِس اصول کی روشنی میں آیۂ زیر بحث پر غور فرمائیے ۔ اِس میں ’ محصنات‘ کا عامل فعل چونکہ ’فانکحوا‘ بھی ہے ، اس لیے اِسے اگر ’بیاہی ہوئی عورتوں‘ کے معنی میں لیا جائے گا تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ’ اُن سے بیاہ کرو بشرطیکہ وہ بیاہی ہوئی ہوں ‘۔ ظاہر ہے کہ یہ بالکل بے معنی بات ہے۔ اِس وجہ سے ضروری ہے کہ اِسے یہاں اِس کے عامل فعل کے معنی سے مغایر مفہوم ،یعنی ’اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں‘۳۰ ؂ کے معنی میں لیا جائے ۔ ابوبکر ابن العربی ’’احکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں :

وقالت طائفۃ: معنی قولہ: محصنات، ای بنکاح لا بزنی، وھذا ضعیف جدًا لان اللّٰہ تعالیٰ قد قال قبل ھذا: فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ، فکیف یقول بعد ذلک منکوحات، فیکون تکرارًا فی الکلام قبیحاً فی النظام.(۱ /۴۰۱) ’’اور ایک گروہ کی رائے ہے کہ یہاں ’محصنات‘ کے معنی ہیں : نکاح کے ذریعے سے نہ کہ زنا کے طریقے پر ۔ ہمارے نزدیک یہ رائے بے حد کمزور ہے ، اِس لیے کہ اِس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اِن سے نکاح کرو اِن کے مالکوں کی اجازت سے۔ اِس کے بعد ظاہر ہے کہ یہ کہنے کا کوئی موقع نہیں ہے کہ اِس حال میں کہ وہ منکوحہ ہوں۔ اِس سے تو جملوں کی تالیف میں صریح بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور کلام میں تکرار محض کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا ۔ ‘‘

دوسری بات یعنی تقابل کا اصول ملحوظ رکھیے تو یہ چونکہ ’ مسافحات‘ کے ساتھ بالکل اُسی طرح آیا ہے ، جس طرح ہم بولتے ہیں : ’ ھوعالم لیس بجاھل‘ (وہ عالم ہے ، جاہل نہیں ہے)، اِس لیے زبان کے اِس مسلمہ قاعدے کی رو سے مشترک معنی کے حامل الفاظ جب اپنے ضد کے ساتھ استعمال ہوں تو اُن کا مفہوم اُن کے اِس ضد کی رعایت سے متعین ہو جاتا ہے ، پھر وہ مشترک نہیں رہتے ، لفظ ’محصنات‘ یہاں ’ اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں‘ ہی کے معنی میں ہو سکتا ہے ، اِس سے کوئی دوسرے معنی مراد نہیں لیے جا سکتے ۔ عربی زبان میں ، مثال کے طور پر ’جھل‘ ایک مشترک لفظ ہے جو ’ نہ جاننے‘ کے معنی میں بھی آتا ہے اور ’جوش میں آنے ‘ ، ’ جذبات سے مغلوب ہو جانے‘ کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے ۔ عام حالات میں اِس کے معنی کا تعین سیاق و سباق کے قرائن سے ہوتا ہے ، لیکن ہر شخص مانے گا کہ یہ اگر اپنے ضد ’حلم ‘ کے ساتھ استعمال ہو تو یہ ’نہ جاننے‘ کے مفہوم میں نہیں ہو گا ۔ حماسی شاعر عمرو بن احمر الباہلی کا شعر ہے :

ودھم تصادیھا الولائد جلۃ اذا جھلت اجوافھا لم تحلم ’’اور ہمارے پاس بہت سی بڑی بڑی دیگیں ہیں جنھیں لونڈیاں چولھوں پر چڑھاتی اتارتی ہیں۔ جب اُن کے پیٹ ’جہالت‘ کرتے ہیں تو ’بردبار‘ نہیں ہوتے ‘ (یعنی جب اُن میں جوش آتا ہے تو جلدی ٹھنڈی نہیں ہوتیں)۔‘‘

اب دیکھیے ’حلم ‘ کے مقابل میں استعمال ہونے کی وجہ سے یہ بات بالکل متعین ہو گئی کہ ’جھل‘ یہاں ’ جوش میں آنے‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، ’ نہ جاننے‘ کے معنی میں نہیں آیا۔ غور کیجیے تو یہی صورت ’محصنات‘ کی ہے ۔ ’ مسافحات‘ کے مقابل میں آنے کی وجہ سے اِس میں بھی ’ اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں ‘ کے سوا اب کسی اور معنی کا احتمال باقی نہیں رہا۔ لفظ ’ محصنات‘ کے متعلق اِس وضاحت کے بعد ، بغیر کسی تردد کے کہا جا سکتا ہے کہ آیۂ زیر بحث میں ’ فاذا احصن‘ اپنے صیغۂ مجہول کے ساتھ ’ پھر جب وہ پاک دامن رکھی جائیں‘ کے مفہوم میں آیا ہے ۔ ہم نے ابتدا میں بیان کیا ہے کہ جملے کی تالیف، ’ محصنات‘ اور ’ احصن‘ کا لفظی اشتراک اور اس پر حرف ’ ف‘ ، اِن سب سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ’احصن‘ کو یہاں ’محصنات‘ کے معنی میں لیا جائے ۔ چنانچہ ’ محصنات‘ کے معنی اگر یہاں ’ اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں‘ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتے تو عربیت کی رو سے ’ فاذا احصن‘ بھی اِسی مفہوم میں ہو گا ، اِسے پھر ’قید نکاح میں لے آنے‘ کے معنی میں لینا کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔ اِس بحث کی روشنی میں آیت کا مدعا یہ ہے کہ خاندان کی حفاظت سے محرومی اور اپنی ناقص تربیت کی وجہ سے لونڈیاں زنا کی اُس سزا سے مستثنیٰ ہیں جو سورۂ نور میں اِس جرم کے لیے مقرر کی گئی ہے ، لیکن اُن میں سے جنھیں پہلے اُن کے مالکوں اور اِس کے بعد شوہروں نے پاک دامن رکھنے کا اہتمام کیا ہے ، وہ اگر بدچلنی کی مرتکب ہوں تو اِس سزا کی نصف سزا اُنھیں بھی دی جائے گی ۔ اِس سے واضح ہے کہ سزا کی بنیاد اُن کی شادی نہیں ، بلکہ اُنھیں پاک دامن رکھنے کا اہتمام ہے۔ جو اگر کیا گیا ہے تو یہ سزا اُن پر نافذ ہو جائے گی اور نہیں کیا گیا تو قرآن مجید کی رو سے یہ نصف سزا بھی اُنھیں نہیں دی جا سکتی ۔ اِس صورت میں عدالت البتہ ، اگر چاہے تو تعزیر کے طور پر اِس سے کم کوئی سزا اُنھیں دے سکتی ہے ۔ اِن دلائل سے یہ حقیقت بالکل مبرہن ہو جاتی ہے کہ زیر بحث دلیل کی عمارت جس مبنیٰ پرقائم کی گئی ہے ، اُس کا وجود ہی ثابت نہیں ہے ۔

۴ [ذیل میں اُن اعتراضات کے جوابات درج ہیں جو مولانا احمد سعید صاحب کاظمی اور مولانا ابوشعیب صفدر علی نے اِن مباحث میں ہماری بعض آرا پر کیے ہیں۔ اِس سلسلہ میں مولانا ابو شعیب صفدر علی کے مضامین رسالہ ’’الاعلام‘‘ شمارہ ۴۔۸ اور مولانا احمد سعید کاظمی کے رشحات قلم رسالہ ’’رضوان‘‘ شمارہ ستمبر۔ اکتوبر ۱۹۸۲ میں شائع ہوئے ہیں ۔] مولانا احمد سعید صاحب کاظمی کے اعتراضات

مولانا کا پہلا اعتراض یہ ہے :

’’آیت نساء : ’ وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ ‘ کا الف لام ماہیت جنس کے لیے نہیں ہے ۔ یہ عہد ذہنی کا الف لام ہے ۔ یہاں اگر الف لام کو جنس کے لیے مانا جائے تو محصنات سے وہ سب عورتیں مراد ہوں گی جو ماہیت احصان سے متصف ہیں۔ چنانچہ مومنات، حرائر، عفائف، منکوحات سب اِس کے دائرۂ اطلاق میں شامل ہو جائیں گی ۔ ظاہر ہے کہ یہ معنی باطل ہیں ۔ لہٰذا’ المحصنات‘ پر الف لام کسی طرح ماہیت جنس کے لیے نہیں ہو سکتا ۔ اِسے بہرحال عہد ذہنی ہی کا الف لام قرار دیا جائے گا ۔ ‘‘

یہ اعتراض صرف اِس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ مولانا غالباً ائمۂ نحو کے اُن اختلافات سے واقف نہیں ہیں جو ماہیت جنس اور عہد ذہنی کی اِن اصطلاحات کے بارے میں اُن کے مابین ہوئے ہیں۔ اِس فن کی امہات کتب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام فنون کی طرح اِس فن میں بھی بعض مفاہیم کے لیے ایک سے زیادہ اصطلاحات مستعمل ہیں ۔ پھر بعض اصطلاحات کو اہل فن کا ایک گروہ ایک معنی میں لیتا ہے اور دوسرے گروہ کے ہاں وہ اِس سے بالکل مختلف معنی میں استعمال ہوتی ہیں ۔ ہر وہ شخص جس نے زندگی کا کچھ حصہ اِن کتابوں کے پڑھنے اور اِن کے مباحث کو سمجھنے میں بسر کیا ہے ، اِن اختلافات کی مثالیں بادنیٰ تامل پیش کر سکتا ہے ۔ عربی زبان کے اِس حر ف الف لام کا معاملہ بھی کچھ اِسی نوعیت کا ہے ۔ قدما عام طور پر اپنی کتابوں میں اِس کی دو بڑی اصناف ۔۔۔تعریف عہد اور تعریف جنس ۔۔۔کا ذکر کرتے ہیں۔ عہد اور جنس کی مختلف صورتوں کا بیان بالعموم اُن کے ہاں نہیں ملتا۔ نحو کی شہرۂ آفاق کتاب ’’المفصل‘‘ زمخشری نے ۵۱۴ہجری میں مکمل کی ہے ۔ وہ اُس میں لکھتے ہیں :

فاما لام التعریف فھی اللام الساکنۃ التی تدخل علی الاسم المنکور فتعرفہ تعریف جنس کقولک : اھلک الناس الدینار والدرھم، والرجل خیرمن المرأۃ ای ھذان الحجران المعروفان من بین سائر الاحجار، وھذا الجنس من الحیوان من بین سائر اجناسہ، او تعریفعہد کقولک: ما فعل الرجل، وانفقت الدرھم، لرجل ودرھم معھودین بینک و بین مخاطبک.(۳۲۶) ’’جہاں تک لام تعریف کا تعلق ہے تو یہ وہ ساکن لام ہے جو اسم نکرہ پر داخل ہوتا ہے اور اُسے معرفہ بنا دیتا ہے ، تعریف جنس کے طریقے پر ، جیسے : ’ اھلک الناس الدینار والدرھم‘ اور ’ الرجل خیر من المرأۃ‘ ، یعنی تمام دھاتوں میں سے یہ دو مشہور دھاتیں اور حیوانات کی تمام اجناس میں سے یہ ایک جنس۔ یا تعریف عہد کے طور پر، جیسے تم اُس شخص اور اُس درہم کے بارے میں جس کا مصداق تمھارے اور تمھارے مخاطب کے ذہن میں پہلے سے معین ہوتا ہے ، کہتے ہو : ’ ما فعل الرجل‘ آدمی نے نہیں کیا اور ’انفقت الدرھم‘ میں نے درہم خرچ کر دیا ۔‘‘

’’مغنی اللبیب‘‘ اِس فن کے جلیل القدر امام ابن ہشام نے اِس کے دو صدی بعدتصنیف کی ہے۔ لام تعریف کی بحث کا آغا زاِس کتاب میں بھی اُس کی ان دو بڑی اصناف ہی کے ذکر سے ہوا ہے ، لیکن ابن ہشام نے چونکہ حروف کے مباحث میں بسط و تفصیل کا طریقہ اختیار کیا ہے ، اِس وجہ سے وہ صرف اِن دو اصناف کے ذکر پر اکتفا نہیں کرتے ، اِن اصناف کی مختلف اقسام بھی دلائل و امثلہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ تعریف عہد کا الف لام اُن کے نزدیک حسب ذیل تین صورتوں میں آتا ہے : ایک یہ کہ کسی اسم نکرہ کا بعینہٖ اعادہ مقصود ہو ، جیسے : ’ کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولاً فعصیٰ فرعون الرسول‘ ۔ ۳۱؂ دوسری یہ کہ اُس کے اسم کا مصداق متکلم کے سامنے موجود ہو ، مثال کے طو رپر : ’ جاء نی ھذا الرجل‘ ۔ تیسری یہ کہ یہ مصداق متکلم یا متکلم اور مخاطب، دونوں کا معہود ذہنی ہو ، مثلاً ’اذ ھما فی الغار‘۔ ۳۲؂ الف لام کی یہی تینوں اقسام ہیں جن کے لیے بعض دوسرے اہل نحو کے ہاں عہد خارجی کی اصطلاح مستعمل ہے ۔ شارح ’’کافیہ‘‘ جامی ، سید شریف جرجانی ، عصام اسفرائینی ، یہ سب اِن اقسام کو عہد خارجی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ’الف لام ‘ جس لفظ پر آتا ہے ، اُس کے افراد متکلم کے کلام میں اُس کے سامنے یا اُس کے ذہن میں اگر خارج میں متعین ہو ں تو اُسے اِن حضرات کی اصطلاح میں عہد خارجی کا الف لام قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ عصام اسفرائینی لکھتے ہیں :

واما ان یشاربھا الیٰ قسم من مفھوم اللفظ معہود بینک وبین مخاطبک یسبق فھمہ الیہ عند سماع اللفظ فھی لام العھد الخارجی. (حاشیہ شرح جامی ۳۵) ’’’الف لام‘ کے ذریعے سے اگر لفظ کے مفہوم میں سے اُس قسم کی طرف اشارہ کیا جائے جو تمھارے اور تمھارے مخاطب کے ذہن میں پہلے سے اِس طرح معین ہو کہ اُس کا ذہن اُسے سنتے ہی اُس کے مفہوم کی طرف منتقل ہو جائے تو اہل نحو کی اصطلاح میں یہ عہد خارجی کا ’الف لام‘ ہے ۔ ‘‘

’’مغنی اللبیب‘‘ کے مصنف نے تعریف عہد کی طرح تعریف جنس کے الف لام کی بھی تین ہی قسمیں بیان کی ہیں ۔ پہلی دو قسموں کے لیے اُنھوں نے ’ لاستغراق الافراد‘ اور’لاستغراق خصائص الافراد ‘کی تعبیر اختیار کی ہے ۔ تیسری قسم کے بارے میں وہ فرماتے ہیں :

او لتعریف الماھیۃ ، وھی التی لا تخلفھا ’’ کل‘‘ لا حقیقۃ ولا مجازاً، نحو: وجعلنا من الماء کل شیءٍ حیّ، وقولک: واللّٰہ لا اتزوج النساء او لا البس الثیاب. (۱/ ۵۱) ’’یا پھر ’ الف لام جنسیہ‘ تعریف ماہیت کے لیے آتا ہے اور اُس کی پہچان یہ ہے کہ ’کل‘ حقیقت کے اعتبار سے اُس کا قائم مقام ہو سکتا ہے نہ باعتبار مجاز ۔ قرآن مجید کی آیت : ’ وجعلنا من الماء کل شیءٍ حی‘ میں لفظ ’الماء‘ اور ’ واللّٰہ لا اتزوج النساء‘ اور ’لا البس الثیاب‘ کے جملوں میں ’النساء‘ اور ’الثیاب‘اِسی کی مثالیں ہیں ۔‘‘

رضی استرا باذی لکھتے ہیں :

والثانی ماھیۃ الجنس من غیر دلالۃ اللفظ علی القلۃ والکثرۃ، بل ذاک احتمال عقلی کما فی قولہ تعالیٰ: لئن اکلہ الذئب ، ولم یکن ھناک ذئب معھود ولم یرد استغراق الجنس ایضاً و مثلہ قولک : ادخل السوق، واشتر اللحم، وکل الخبز. (شرح الرضی علی الکافیہ۱/۱۴) ’’اور اِس کی دوسری قسم ماہیت جنس ہے ۔ اِس میں قلت و کثرت پر لفظ کی دلالت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ اِس کی نوعیت ایک طرح کے احتمال عقلی کی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’ لئن اکلہ الذئب‘۔ یہاں ’ الذئب‘ کے ’الف لام‘ سے مقصود نہ کسی ’ذئب مخصوص‘کا ذکر ہے جو متکلم یا مخاطب کے ذہن میں پہلے سے معین ہو نہ جنس ’ذئب‘ کے تمام افراد کا احاطہ ۔ ’ ادخل السوق‘ ، ’اشتر اللحم‘ اور ’ کل الخبز‘ کی طرح کے جملوں میں ’السوق‘، ’اللحم‘ ا ور ’الخبز‘ اِسی کی مثالیں ہیں۔‘‘

اب دیکھیے ، ’الف لام‘ کی یہی قسم جس کے لیے ابن ہشام اور رضی استراباذی نے ’ماہیت جنس‘ کی اصطلاح اختیار کی ہے ، اہل نحو کے ایک دوسرے گروہ کے ہاں ’عہد ذ ہنی‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔ عصام اسفرائینی نے لکھا ہے :

واما ان یقصد الیہ (ای الجنس) باعتبار فرد ما فھی لام العھد الذہنیکما فی: ادخل السوق. (حاشیہ شرح جامی۳۵) ’’’لام‘ کی دلالت اگر مفہوم جنس پر فرد غیرمعین کے لحاظ سے ہو تو اہل فن کی اصطلاح میں یہ ’عہد ذہنی ‘ کا ’ الف لام‘ ہے ، جیسے : ’ادخل السوق‘ میں لفظ ’ السوق‘ کا ’الف لام‘۔‘‘

دیکھ لیجیے ، ’ ادخل السوق‘ کی مثال میں رضی استرا باذی جسے ’ماہیت جنس‘ کا ’الف لام‘ قرار دیتے ہیں، اسفرائینی نے اُسی کے لیے ’عہد ذہنی‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ چنانچہ ’ او لتعریف الماھیۃ‘ سے ’ البس الثیاب‘ تک ابن ہشام کی عبارت کا جو حصہ ہم نے اوپر نقل کیا ہے ، اُس کے بعد اُنھوں نے اِس دوسری رائے اور اِس کی دلیل کا ذکر بھی کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

وبعضھم یقول فی ھذہ: انھا لتعریف العھد فان الاجناس امور معھودۃ فی الاذھان متمیز بعضھا عن بعض و یقسم المعھود الیٰ شخص وجنس. (مغنی اللبیب۱/۵۱) ’’اور اہل نحو میں سے بعض ماہیت جنس کے اِس ’الف لام‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تعریف عہد کے لیے ہے کیونکہ اجناس درحقیقت وہ امور ہیں جو ذہنوں میں معین اور ایک دوسرے سے متمیز ہیں ۔ چنانچہ یہ اہل فن معہود کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں : ایک معہود شخصی اور دوسرے معہود جنسی ۔‘‘

اِس بحث سے واضح ہے کہ آیت نساء : ’ وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ ۳۳ ؂ میں لفظ ’ المحصنات‘ کے ’الف لام‘کے بارے میں مولانا موصوف کی رائے ہماری رائے سے کسی طرح مختلف نہیں ہے ۔ ایک ہی مفہوم ہے جس کے لیے ہم نے ابن ہشام اور رضی کے طریقہ پر ’ماہیت جنس‘ کی تعبیر اختیار کی ہے اور مولانا اسفرائینی وغیرہ کی پیروی میں ’عہد ذہنی‘ کی اصطلاح استعمال فرماتے ہیں ۔ اِس باب میں ہمارا اور مولانا کا معاملہ کچھ اِس طرح ہے کہ ہم جس چیز کا ذکر آسمان کے نام سے کرتے ہیں ، مولانا کو اصرار ہے کہ وہ درحقیقت فلک ہے ۔ اِس پر اُن کی خدمت میں ہم یہی عرض کر سکتے ہیں کہ وہ ازراہ کرم لغت کی مراجعت کر لیں۔ اب رہی یہ بات کہ ’ماہیت جنس‘ کا ’الف لام‘لفظ کے تمام مفاہیم یعنی حرائر ، عفائف، مومنات اور منکوحات کے شمول پر دلالت کرے گا تو یہ محض غلط فہمی ہے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ ’ المحصنات‘ کا لفظ اگر کسی جگہ تنہا لکھا ہو گا تو اُس کی ماہیت لامحالہ اُس کی جنس کے تمام انواع کو شامل ہو گی ۔ اِس صورت میں بے شک، اُس کے مفاہیم میں سے کوئی ایک مفہوم بھی اُس کے دائرۂ اطلاق سے خارج نہ ہو گا ، لیکن زبان کے قطعی قواعد کے مطابق یہ لفظ جب کسی کلام کا جزو بن کر آئے گا اور محل استعمال کی دلالت اُسے کسی ایک معنی کے ساتھ خاص کر دے گی تو اُس کی وضع لغوی کا اعتبارختم ہو جائے گا۔ جملوں کی بندش اور سیاق و سباق کی رعایت سے جو معنی بھی متعین ہو جائیں گے ، جنس اُس کلام میں صرف اُس معنی کے افراد کو شامل ہو گی اور ’ الف لام‘ اُس جنس پر اہل فن کی زبان میں ’باعتبار فرد ما‘ دلالت کرے گا۔ ابن ہشام اور دوسرے ائمۂ نحوچونکہ فن کی اِن نزاکتوں سے واقف ہیں، اِس وجہ سے اُنھوں نے ’ الف لام‘ کی اِس قسم کے لیے ’عہدذہنی‘ کے بجائے ’ماہیت جنس‘ کی اصطلاح اختیار کی ہے ۔ دوسرا اعتراض یہ ہے :

’’’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ کا الف لام عہد خارجی کے لیے ہے او راِس کا معہود وہی محصنات ہیں جن کا ذکر آیت کی ابتدا میں ’ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ کے الفاظ میں ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ معرف بلام العہد کے معہود خارجی کو اگر اُس سے پہلے لام عہد کے ساتھ ذکر کیا جائے تو یہ جائز ہے ۔ علامہ سید محمود آلوسی بغدادی نے ( فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا) کے تحت ’ عسر‘ کے معنی فقر و فاقہ اور تنگ دستی بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’ وھو ظاھر فی ان ال فی العسر للعھد واما التنوین فی یسرا فللتفخیم‘ یعنی کلام سابق اِس بات میں ظاہر ہے کہ ’ العسر‘ میں الف لام عہد کے لیے ہے ۔ اِس کے بعد ’ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ کے تحت فرمایا : ’ یحتمل ان یکون تکریرًا للجملۃ السابقۃ ... و یحتمل ان یکون وعدا مستانفا، و ال والتنوین علی ماسبق‘ ، یعنی احتمال ہے کہ یہ جملہ جملۂ سابقہ کے لیے (بطور تاکید)تکرار ہوا ہے اور احتمال ہے کہ جملۂ مستانفہ ہو ، یعنی تاکید کی بجائے علیحدہ کلام ہو اور حسب سابق ’ العسر‘ کا الف لام عہد کے لیے اور ’ یسرًا‘ کی تنوین تفخیم کے لیے ہو ۔ اِس کے بعد فرمایا : ’ احتمال الاستیناف، ھو الراجح لما علم من فضل التأسیس علی التاکید‘ الخ ، یعنی استیناف کا احتمال ہی راجح ہے کیونکہ تاکید پر تاسیس کی فضیلت معلوم ہو چکی ہے ۔‘‘ ۳۴؂

مولانا کا یہ اعتراض بھی ، افسوس ہے کہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ ’ المحصنات‘ کا’الف لام‘ ’نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ‘ ۳۵ ؂ میں کسی طرح عہد خارجی کے لیے نہیں ہو سکتا۔ عربی زبان میں یہ اصول بالکل قطعی ہے کہ معرف باللام کا اعادہ اگر معرف باللام کی صورت میں کیا جائے تو پہلے اور دوسرے میں بغیر کسی دلالت قرینہ کے الف لام کو الگ الگ معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ پہلے میں اگر اُسے عہدخارجی کے لیے مانا جائے تو دوسرے میں بھی وہ لامحالہ عہد خارجی کے لیے ہو گا اور پہلے میں اگر اُسے عہد ذہنی کا ’ الف لام‘ قرار دیا جائے گا تو دوسرے میں بھی اُسے عہد ذہنی ہی کے لیے ماننا لازم قرار پائے گا، الاّ یہ کہ کوئی قرینہ اِس اشتراک میں مانع ہو۔ پھر اگر قرینہ مانع ہو گا تو دونوں میں مغایرت پیدا ہو جائے گی۔اِس صورت میں ، ظاہر ہے کہ عہد اور معہود کے کسی تعلق کا کوئی امکان نہ ہو گا ۔ چنانچہ آیۂ زیر بحث میں ’المحصنات ‘ کا ’الف لام‘ جیسا کہ ہم نے اِنھی مباحث میں اِس سے پہلے بہ دلائل واضح کیا ہے ، ’ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ میں بھی اور ’نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں بھی ، دونوں جگہ ماہیت جنس یا اسفرائینی وغیرہ کی اصطلاح میں عہد ذہنی کے لیے ہے ۔ آلوسی کی جو عبارت مولانا نے نقل فرمائی ہے ، اُس میں وہ بھی یہی بات کہتے ہیں ۔ سورۂ الم نشرح میں لفظ ’ العسر‘ آیت ’ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ ۳۶ ؂ ا ور اِس کے بعد کی آیت : ’ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ ۳۷ ؂میں معرف باللام او ر لفظ ’ یسر‘ دونوں جگہ نکرہ استعمال ہوا ہے ۔ عربیت کی رو سے پہلی آیت: ’فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ‘ میں ’ عسر‘ کا الف لام تین معنی میں ہو سکتا ہے : ایک عہد خارجی ، اِس صورت میں اِس کا معہودوہ حالات ہوں گے جن میں مسلمان اُس وقت مبتلا تھے۔ دوسرے ماہیت جنس یا عہد ذہنی ، یعنی بغیر کسی تعیین کے ’ عسر‘ ۔ تیسرے استغراق ، یعنی ہر تنگی ۔