یہ کس قسم کا مجرم تھا ؟ اِس سوال کا نہایت واضح جواب اُس تقریر میں موجود ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے رجم کی سزا دینے کے بعد اُسی دن عصر کے وقت کی ۔ امام مسلم کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

او کلما انطلقنا غزاۃ فی سبیل اللّٰہ تخلف رجل فی عیالنا لہ نبیب کنبیب التیس. علیّ ان لا اوتٰی برجل فعل ذلک الا نکلت بہ. ( رقم ۴۴۲۸) ’’کیا یہی نہیں ہوا کہ جب کبھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے تو ہمارے اہل و عیال میں سے ایک شخص پیچھے رہ گیا جو شہوت کے جوش میں بکرے کی طرح بلبلاتا تھا؟ سنو، مجھ پر لازم ہے کہ اِس طرح کا کوئی مجرم اگر میرے پاس لایا جائے تو میں اُسے عبرت ناک سزا دوں۔ ‘‘

اِس زمانے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اِس تقریر میں ماعز کا نام کہاں ہے کہ اِس کا مصداق اُسے قرار دیا جائے ؟ لیکن اِس تقریر کو پڑھنے اور یہ جاننے کے بعد کہ آپ نے ماعز کو رجم کرانے کے بعد اُسی دن یہ خطبہ دیا ، ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ کس قدر بے معنی بات ہے ۔ ہمارے صدر ریاست نے صبح کسی پارٹی پر پابندی عائد کی اور شام کو ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب فرمایا کہ یہاں ایک ایسی پارٹی موجود تھی جو اِس ملک کو توڑنے کے منصوبے بناتی رہی ۔ اب ہر شخص کو جان لینا چاہیے کہ اِس طرح کی کوئی دوسری جماعت اگر قائم ہوئی تو اُس کا وجود بھی اِس ملک میں برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اِس خطاب کو سننے کے بعد کیا کسی عاقل سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اِس کے بارے میں یہ کہے گا کہ اِس میں کسی کا نام کہاں ہے کہ اِس کا مصداق اُس پارٹی کو قرار دیا جائے جس پر صبح پابندی عائد کی گئی ۔ اِسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ماعز وہ شخص ہے جس نے اپنے جرم کا خود اعتراف کیا اور اِس پر ندامت ظاہر کی ۔ ۱۸ ؂ سیدنا صدیق اور سیدنا عمر فاروق کے پاس یہ حاضر ہوا تو اُنھوں نے اُسے جرم چھپانے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی ۔ ۱۹ ؂ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُس کا یہ اعتراف جرم فوراً قبول کر لینے کے بجاے اُسے بار بار لوٹایا ۲۰؂ اور سزا کا فیصلہ کرنے سے پہلے اِس طرح کے سوالات کیے کہ : کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے ؟ اور تم نے کہیں شراب تو نہیں پی؟ اور اُس کی قوم سے پوچھا کہ اِس کے دماغ میں کچھ خلل تو نہیں ہے ؟ ۲۱ ؂ لوگوں نے آپ کو بتایا کہ پتھر پڑنے پر وہ چیخ رہا تھا کہ لوگو، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے چلو، میرے قبیلے والوں نے مجھے مروا دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ ۲۲ ؂ شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اُس کی توبہ قبو ل کر لیتا ۲۳ ؂ اور اُس کے سرپرست سے کہا کہ تم نے اچھا نہیں کیا، بہتر یہی تھا کہ تم اِس کے جرم پر پردہ ڈالتے۔ ۲۴ ؂ لوگوں نے جب یہ کہا کہ اِس شخص کی شامت نے اِس کا پیچھا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگ سار کر دیا گیا تو حضور نے اُنھیں تنبیہ کی ۔ ۲۵؂ تدفین کے وقت اگرچہ آپ نے اُس کے جنازے کی نماز پڑھنے سے انکار کیا، لیکن دوسرے دن یہ نماز پڑھی اور لوگوں کو اُس کے حق میں دعا کی نصیحت کی ، ۲۶ ؂ اور اُنھیں بتایا کہ اُس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک امت میں تقسیم کی جائے تو اُس کے لیے کافی ہو ، ۲۷ ؂ اور بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کی مغفرت فرمائی اور اُسے جنت میں داخل کر دیا ہے ۔ ۲۸ ؂ وہ کہتے ہیں کہ اِس کے بارے میں یہ سب باتیں بھی چونکہ حدیث کی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں ، اِس وجہ سے یہ کسی طرح باور نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس تقریر کا مصداق فی الواقع یہی تھا اور اِس نے اگر زنا بالجبر کا ارتکاب بھی کیا تو یہی سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی بھولا بھالا شخص تھا جو جذبات سے مغلوب ہو کر یہ حرکت کر بیٹھا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ ماعز کے بارے میں یہ سب باتیں حدیث کی کتابوں میں بیان ہوئی ہیں ، لیکن حق یہ ہے کہ اِن میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جس کی بنیاد پر اُس کے اُس کردار کی نفی کی جا سکے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر سے نمایاں ہوتا ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ یہ کوئی مرد صالح تھا جس سے یہ جرم اتفاقاً سرزد ہو گیا ۔ دنیا میں جرائم کی جو تاریخ اب تک رقم ہوئی ہے ، اُس سے دسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کہ بدترین اوباش اور انتہائی بدخصلت گنڈے جو کسی طرح گرفت میں نہیں آ سکتے تھے ، ارتکاب جرم کے فوراً بعد کسی وقت اِس طرح قانون کے سامنے خود پیش ہوئے کہ اُن کی ندامت پر لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے ہم دردی کے جذبات امنڈ آئے ۔ نفسیات جرم کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے محرکات کئی ہو سکتے ہیں : مجرم اِس اندیشے میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اب یہ جرم چھپا نہ رہے گا، اِس لیے وہ خود آگے بڑھ کر اِس خیال سے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کر دیتا ہے کہ اِس طرح شاید اُسے سخت سزا نہ دی جائے ۔ جرم اِس طریقے سے سرزد ہوتا ہے کہ اُس کے افشا کو روکنا فی الواقع ممکن نہیں رہتا۔ چنانچہ وہ سبقت کر کے اپنے آپ کو لوگوں کے ردعمل کی شدت سے بچانے کی کو شش کرتا ہے ۔ جنسی ہیجان کے غلبہ میں مہینوں عورتوں کا پیچھا کرنے والے جب پہلی مرتبہ زنا بالجبر کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں تو بعض ا وقات اِس جرم کے نتیجے میں ہیجان کا ختم ہو جانا ہی اُنھیں اعتراف جرم پر آمادہ کر دیتا ہے ۔ مجرم کے ماحول میں کسی غیرمعمولی دینی شخصیت کا وجود بھی اِس کا باعث بن جاتا ہے ۔ جرم کے حالات ، مثلاً مجرم کی درندگی کا شکار ہونے والی عورت یا بچے کی بے بسی بھی یہ نتیجہ پیدا کر دیتی ہے ۔ ضمیر کی خلش اور انسان کے اندر سے نفس لوامہ کی سرزنش بھی صرف بھولے بھالے مجرموں ہی میں احساس ندامت پیدا کرنے کا باعث نہیں بنتی، بڑے بڑے بدمعاش بھی بعض اوقات کسی خاص صورت حال میں اُس سے متنبہ ہو جاتے ہیں اور پھر پورے خلوص کے ساتھ ، نہ صرف یہ کہ اپنے جرم کا اعتراف کر لیتے ہیں ، بلکہ اصرار کرتے ہیں کہ اُنھیں جلد سے جلد کیفر کردار کو پہنچا دیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دو جلیل القدر ساتھیوں نے اُسے اگر بار بار لوٹایا اور تلقین کی کہ سزا پانے کے بجاے اُسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اُس کے سرپرست سے بھی یہی بات کہی اورعام لوگوں کو بھی اِسی کی نصیحت کی تو اُس کی فردقرار داد جرم پر اِس سے کیا اثر پڑا ؟ ہر صالح نظام میں معاشرے کے اکابر کا رویہ یہی ہونا چاہیے کہ جب تک معاملہ نالش یا مقدمے کی صورت اختیار نہیں کر لیتا، اُس وقت تک ہر شخص کو اِسی طرح نصیحت کی جائے ۔ چنانچہ قرآن مجید نے سورۂ مائدہ میں جہاں بغاوت اور فساد فی الارض کے مجرموں کے لیے عبرت ناک سزائیں بیان کی ہیں ، وہاں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ یہ سزائیں اُن لوگوں پر نافذ نہ کی جائیں جو قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر لیں ۔ اِس طرح کے مجرموں کے بارے میں اگر بعد میں بھی یہ معلوم ہو کہ وہ احساس ندامت کے ساتھ آمادۂ اصلاح ہیں تو قرآن مجید کی اِنھی آیات کی رو سے عدالت اُنھیں کم تر سزا بھی دے سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ فرمایا کہ تم نے اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تو ظاہر ہے کہ اِسی مقصد کے پیش نظر فرمایا ۔ توبہ و اصلاح کی توفیق اگر اللہ چاہے تو کسی بڑے سے بڑے مجرم کو بھی کسی وقت حاصل ہو سکتی ہے اور اِس کے نتیجے میں اُس کا پروردگار اُسے جنت میں بھی داخل کر سکتا ہے ۔ اللہ کا رسول اگر دنیا میں موجود ہو اور اُسے وحی کے ذریعے سے یہ بتایا جائے کہ مجرم کی مغفرت ہو گئی اور یہ معلوم ہو جانے کے بعد اُس کی نماز جنازہ پڑھے اور لوگوں کو بھی اُس کے حق میں دعا کی نصیحت کرے تو اِس سے اُس کردار کی نفی کس طرح ہو جائے گی جو توبہ واصلاح سے پہلے اُس مجرم کا رہا ؟ اِس سے کیا یہ سمجھا جائے کہ کسی اوباش کو کبھی توبہ کی توفیق نہیں ملتی اور جو شخص توبہ کر لے ، اُس کے بارے میں یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کبھی اوباش بھی رہا تھا؟ اِسی طرح یہ بات تو بے شک ، صحیح ہے کہ کسی بدترین شخص کا ذکر بھی اُس کے مر جانے کے بعد کبھی برے لفظوں میں نہیں کرنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر اُن لوگوں کو تنبیہ کی جو ماعز کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ اِس کی شامت نے اِس کا پیچھا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگ سار کر دیا گیا، لیکن اِس کے معنی کیا یہ ہیں کہ جس شخص کے بارے میں بغیر کسی ضرورت کے اِس طرح کا تبصرہ کرنے سے لوگوں کو روکا جائے ، وہ لازماً کوئی ہستی معصوم ہی ہوتا ہے اور قانون و شریعت کی تحقیق کے لیے بھی اُس کا کردار کبھی زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ؟ رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے ، مثلاً اِس طرح کے سوالات کیے کہ کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے ؟ تو یہ وہ سوالات ہیں جو اعتراف جرم کی صورت میں ہر عدالت کو لازماً کرنے چاہییں ۔ اِس صور ت میں چونکہ اِس بات کا ہر وقت امکان ہوتا ہے کہ بعد میں کوئی شخص مجرم کے کسی مبہم بیان کی بنا پر عدالت کے فیصلے پر معترض ہو اور مدینہ کے ماحول میں جہاں منافقین صبح و شام اِسی طرح کے فتنوں کے لیے سرگرم رہتے تھے ، اِس بات کا اندیشہ چونکہ اور بھی زیادہ تھا، اِس وجہ سے آپ نے اپنے سوالات کے ذریعے سے معاملے کا کوئی پہلو غیر واضح نہیں رہنے دیا۔ اِس سے کوئی شخص اگر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بے چارہ تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ زنا کیا ہے تو اُس کے بارے میں پھر کیا عرض کیا جا سکتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے لوگ اگر زنا بالجبر کے متعلق بھی یہ کہتے ہیں کہ شرفا بھی کبھی کبھی اُس کے مرتکب ہو جایا کرتے ہیں تو اِس پر کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے۔ عقل و دانش کی جو مقدار اب ہمارے مدرسوں میں باقی رہ گئی ہے، اُس کے بل بوتے پر اِس سے زیادہ کیا چیز ہے جس کی توقع اِن لوگوں سے کی جا سکتی ہے ؟ بہرحال یہ ہے اِن سب باتوں کی حقیقت ، لیکن اِس کے باوجود اگر کوئی شخص اصرار کرتا ہے کہ اِن روایات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی ہستی معصوم تھا جو بس یونہی راہ چلتے کسی عورت سے بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھا تو اُسے پھر مان لینا چاہیے کہ اِس صورت میں نہایت شدید قسم کا جو تناقض اُس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر اور اِن روایات کے مضمون میں پیدا ہو جائے گا، اُس کی بناپر کوئی حتمی بات اِس مقدمے کے بارے میں بھی کسی شخص کے لیے کہنا ممکن نہ ہو گا ۔ اِن کے علاوہ دو اور مقدموں کی روداد بھی حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے ۔ پہلا مقدمہ اُس شخص کا ہے جو نماز کے لیے جاتی ہوئی ایک خاتون سے سرراہ زنا بالجبر کا مرتکب ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فوراً رجم کرا دیا۔ دوسرا مقدمہ ایک معروف صحابی عمرو بن حمزہ اسلمی کا ہے جنھوں نے فی الواقع محض زنا ہی کا ارتکاب کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اعتراف جرم کے بعد اُنھیں بس سو کوڑے لگوائے اور چھوڑ دیا ۔ پہلے مقدمے کی روایت یہ ہے :

عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ، ان امرأۃ خرجت علی عھد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ترید الصلٰوۃ فتلقاھا رجل فتجللھا فقضیٰ حاجتہ منھا فصاحت وانطلق ومر علیھا رجل فقالت: ان ذاک فعل بی کذا وکذا ومرت عصابۃ من المھاجرین فقالت: ان ذٰلک الرجل فعل بی کذا وکذا فانطلقوا فاخذوا الرجل الذی ظنت انہ وقع علیھا فاتوھا بہ فقالت: نعم، ھو ھذا ، فاتوا بہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلما امر بہ قام صاحبھا الذی وقع علیھا ، فقال : یا رسول اللّٰہ، انا صاحبھا، فقال لھا: اذہبی فقد غفر اللّٰہ لک، وقال للرجل قولاً حسناً وقال للرجل الذی وقع علیھا: ارجموہ. (ابوداؤد، رقم ۴۳۷۹) ’’علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اُسے دیکھا ۔ پس اُس نے اُس پر غلبہ پا لیا اور اپنے نفس کی پیاس بجھائی۔ اِس پر وہ چیخی چلائی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ اِسی اثنامیں ایک آدمی کا گزر اُس طرف سے ہواتو اُس عورت نے اُسے بتایا کہ ایک شخص نے اِس طرح اُسے رسوا کیا ہے۔ یہ بات ہو رہی تھی کہ مہاجرین کی ایک جماعت بھی اُس طرف آ نکلی۔ اُس نے اُنھیں بھی اپنی روداد سنائی تو وہ بھاگے اور اُس شخص کو پکڑ لیا جس کے بارے میں عورت کا خیال تھا کہ اُس نے اُس کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ وہ اُسے اُس کے پاس لے آئے تو اُس نے کہا : ہاں ، یہ وہی ہے ۔ چنانچہ وہ اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ نے اُس کے لیے سزا کا حکم دیا تو اصل مجرم کھڑا ہو گیا اور اُس نے عرض کیا : یا رسول اللہ، یہ میں تھا جس نے اِس کے ساتھ زیادتی کی۔ اِس پر آپ نے عورت سے کہا : جا، اللہ نے تجھے معاف کر دیا اور اُس شخص سے بھی کلمات خیر فرمائے جو شبہ میں پکڑا گیا تھا۔ پھر اُس شخص کے بارے میں جس نے اُس عورت سے بدکاری کی تھی ، فرمایا : اِسے رجم کر دو ۔ ‘‘

دوسرے مقدمے کی روایت یہ ہے :

ان عمرو بن حمزۃ بن سنان کان قد شھد الحدیبیۃ مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قدم المدینۃ. ثم استأذن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یرجع الی بادیتہ فاذن لہ فخرج حتیاذا کانبالضبوعۃ، علی برید من المدینۃ، علی المحجۃ الی مکۃ، لقی جاریۃ من العرب وضیءۃ فنزغہ الشیطن حتی اصابھا ولم یکن احصن ثم ندم فاتی النبی صلی اللّٰہ علیہوسلم فاخبرہ فاقام علیہ الحد. (الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۳/۲۲۵) ’’عمرو بن حمزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں حاضر تھے ۔ وہ مدینہ آئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ اپنے بادیہ کی طرف لوٹ جائیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تو نکلے، یہاں تک کہ جب مدینہ سے مکہ کی طرف راستے کے درمیان ایک منزل ضبوعہ پہنچے تو عرب کی ایک خوب صورت لونڈی سے ملاقات ہوئی۔ شیطان نے اکسایا تو اُس سے زنا کر بیٹھے اور اُس وقت وہ محصن نہ تھے۔ پھر نادم ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا ۔ چنانچہ آپ نے اُن پر حد جاری کر دی ۔‘‘

اِن میں سے پہلے مقدمے میں رجم کی سزا مجرم کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے دی گئی یا زنا بالجبر کی بنا پر وہ اُس کا مستحق قرار پایا؟ اِس سوال کا کوئی جواب مقدمے کی اِس روداد سے نہیں ملتا۔ دوسرا مقدمہ اِس لحاظ سے تو بالکل واضح ہے کہ مجرم ایک معروف صحابی ہیں جو بیعت رضوان کے شرکا میں سے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں سزا بھی وہی دی جو زنا کے مجرموں کے لیے قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے ، لیکن اِس مقدمے کو بھی اگر روایات کی روشنی میں دیکھا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سو کوڑے کے ساتھ جلاوطنی کی جو سزا اِن روایات میں بیان ہوئی ہے ، وہ اِن صحابی کے معاملے میں کیوں ختم ہو گئی ؟ اِس سے کیا یہ سمجھا جائے کہ محض زنا کے یہی ایک مجرم تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے ۔ اِن کے علاوہ جتنے مجرموں کو سو کوڑے کے ساتھ جلاوطنی کی سزا بھی دی گئی ، وہ محض ز نا ہی کے مجرم نہیں تھے ، اِس کے ساتھ کسی دوسرے جرم میں بھی ملوث رہے تھے جس کی پاداش میں تازیانے کی سزا کے بعد وہ جلاوطن کر دیے گئے ۔

رجم کا ماخذ

یہ ہیں وہ روایتیں اور مقدمات جن کی بنیاد پر ہمارے فقہا قرآن مجید کے حکم میں تغیر کرتے اور زنا کے مجرموں کے لیے اُن کے محض شادی شدہ ہونے کی بنا پر رجم کی سزا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اِس سارے مواد پر جو تبصرہ ہم نے کیا ہے ، اِس کی روشنی میں پوری دیانت داری کے ساتھ اِس کا جائزہ لیجیے ۔ اِس سے زیادہ سے زیادہ کوئی بات اگر معلوم ہوتی ہے تو بس یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے زنا کے بعض مجرموں کو رجم اور جلاوطنی کی سزا بھی دی ہے ۔ لیکن کس قسم کے مجرموں کے لیے یہ سزا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفا نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سزا دی ؟ اِس سوال کے جواب میں کوئی حتمی بات اِن مقدمات کی رودادوں اور اِن روایات کی بنیاد پر نہیں کہی جا سکتی ۔ اِس سزا کا ماخذ درحقیقت کیا ہے ؟ یہی وہ عقدہ ہے جسے امام حمید الدین فراہی نے اپنے رسالہ ’’احکام الاصول باحکام الرسول‘‘ میں حل کیا ہے ۔ اپنے اصول کے مطابق اُنھوں نے اِن مبہم اور متناقض روایات سے قرآن مجید کے حکم میں کوئی تغیر کرنے کے بجائے اُنھیں اِس کتاب کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ اُن کے نزدیک رجم اور جلاوطنی کی اِس سزا کا ماخذ سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْتُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ.(۵: ۳۳) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے کے لیے تگ ودو کرتے ہیں ، اُن کی سزا بس یہ ہے کہ عبرت ناک طریقے سے قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا جلاوطن کر دیے جائیں ۔ ‘‘

امام فراہی کے اِس موقف کی وضاحت میں استاذ امام امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں : ایک تو وہ جن سے چوری یا قتل یا زنا یا قذف کا جرم صادر ہو جاتا ہے ، لیکن اُن کی نوعیت یہ نہیں ہوتی کہ وہ معاشرہ کے لیے آفت اور وبال(nuisance) بن جائیں یا حکومت کے لیے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کردیں ۔ دوسرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اور جتھا بنا کر بھی معاشرے اور حکومت کے لیے آفت اور خطرہ بن جاتے ہیں ۔ پہلی قسم کے مجرموں کے لیے قرآن میں معین حدود اور قصاص کے احکام ہیں جو اسلامی حکومت اُنھی شرائط کے مطابق نافذ کرتی ہے جو شرائط قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں ۔ دوسری قسم کے مجرمین کی سرکوبی کے لیے احکام سورۂ مائدہ کی آیات ۳۳۔۳۴ میں دیے گئے ہیں ۔ ‘‘ ( ۵/ ۳۶۷)

مائدہ کی اِن آیات کے تحت اُنھوں نے لکھا ہے :

’’اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھا جرأت و جسارت ، ڈھٹائی اور بے باکی کے ساتھ اُس نظام حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اِس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کی طرف سے ہو تو اُس کے مقابلے کے لیے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں ۔ یہاں بیرونی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے اُن اندرونی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہو رہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوتے ہوئے ، عام اِس سے کہ وہ مسلم ہیںیا غیر مسلم، اُس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں ۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہو جائے۔ اِس صورت میں اُس کے ساتھ شریعت کے عام ضابطۂ حدودو تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے ۔ اپنے شرو فساد سے علاقے کے امن و نظم کو درہم برہم کر دے۔ لوگ اُس کے ہاتھوں اپنی جان، مال ، عزت ، آبرو کی طرف سے ہر وقت خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل، ڈکیتی ، رہزنی ، آتش زنی ، اغوا ، زنا، تخریب، ترہیب اور اِس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لیے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کر دیں ۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے عام ضابطۂ حدود و تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے ۔ ‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۵۰۵)

اِس کے بعد انھوں نے رجم کا ماخذ اِن الفاظ میں واضح کیا ہے :

’’’اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘ ، یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کر دیے جائیں ۔ یہاں لفظ ’قتل‘کے بجائے ’تقتیل‘باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے ۔ باب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے۔ اِس وجہ سے ’تقتیل‘، ’شر تقتیل‘ کے معنی پر دلیل ہو گا ۔ اِس سے اشارہ نکلتا ہے کہ اُن کو عبرت انگیز اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق ملے ۔ صرف وہ طریقۂ قتل اِس سے مستثنیٰ ہو گا جو شریعت میں ممنوع ہے ، مثلاً :آگ میں جلانا۔ اِس کے ما سوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے، اُن کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون اور نظم کا احترام پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں ، حکومت اُن سب کو اختیار کر سکتی ہے ۔ رجم یعنی سنگ سار کرنا بھی ہمارے نزدیک ’تقتیل‘ کے تحت داخل ہے ۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/۵۰۵)

امام حمید الدین فراہی کی اِس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ ، اُس کی اصل سزا تو سورۂ نور میں قرآن کے صریح حکم کی بنا پر سو کوڑے ہی ہے ، لیکن مجرم اگر زنا بالجبر کا ارتکاب کرے یا بدکاری کو پیشہ بنا لے یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئے یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جائے یا مردہ عورتوں کی نعشیں قبروں سے نکال کر اُن سے بدکاری کا مرتکب ہو یا اپنی دولت اور اقتدار کے نشے میں غربا کی بہوبیٹیوں کو سربازار برہنہ کرے یا کم سن بچیاں بھی اُس کی درندگی سے محفوظ نہ رہیں تو مائدہ کی اِس آیت محاربہ کی رو سے اُسے رجم کی سزا بھی دی جا سکتی ہے ۔ اِسی طرح مجرم کے حالات اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے جو دوسری سزائیں اِس آیت میں بیان ہوئی ہیں، وہ بھی اگر عدالت مناسب سمجھے تو اِس طرح کے مجرموں کو دے سکتی ہے ۔ اِنھی سزاؤں میں سے ایک سزا جلاوطنی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مجرموں کو جو محض زنا ہی کے مجرم نہیں تھے ، بلکہ اِس کے ساتھ اپنی اوباشی کی بناپر فساد فی الارض کے مجرم بھی تھے ، یہ دونوں سزائیں دی ہیں ۔ چنانچہ اُن میں سے وہ مجرم جو اپنے حالات اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے رعایت کے مستحق تھے ، اُنھیں آپ نے زنا کے جرم میں آیۂ نور کے تحت سو کوڑے مارنے کے بعد معاشرے کو اُن کے شرو فساد سے بچانے کے لیے اُن کی اوباشی کی پاداش میں مائدہ کی اِسی آیت محاربہ کے تحت جلاوطنی کی سزا دی اور اُن میں سے وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہ تھا، اِسی آیت کے حکم :’اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا‘ کے تحت رجم کر دیے گئے ۔ امام فراہی کی یہ تحقیق قرآن مجید کے نصوص پر مبنی ہے اور روایات میں بھی ، جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے ، اِس کے شواہد موجود ہیں ۔ اِس سے کسی شخص کو اگر اختلاف ہے تو اُسے دلائل کے ساتھ اِس کا محاکمہ کرنا چاہیے ۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جسے جذباتی تحریروں اور بے معنی فتووں کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے ۔ اِس وقت لوگ جو جی چاہے کہیں ، لیکن وہ وقت اب غالباً بہت زیادہ دو رنہیں ہے ، جب علم و دانش کی مجالس میں اِس تحقیق کے لیے دادو تحسین کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ ان شاء اللہ العزیز۔

۳

زنا کی سزا کے بارے میں اپنا جو نقطۂ نظر ہم نے اوپر بیان کیا ہے ، اُس سے یہ حقیقت بالکل مبرہن ہو جاتی ہے کہ کنوارے زانیوں کی طرح شادی شدہ زانیوں کی سزا بھی قرآن مجید کی رو سے ضرب تازیانہ ہی ہے ۔ قرآن کا یہ منشا سورۂ نور کی آیۂ جلد کے علاوہ اُس کی دو اور آیات سے بھی واضح ہوتا ہے ۔ اُن میں سے ایک سورۂ نور کی آیت ۸ اور دوسری سورۂ نساء کی آیت ۲۵ ہے ۔ نور میں ارشاد ہے :

وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ، وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ.(۲۴: ۸۔۹) ’’اور اِس عورت سے سزا اِس طرح ٹلے گی کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اِس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے، اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو۔‘‘

یہ آیات اُس شادی شدہ عور ت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جس پر اُس کے شوہر نے زنا کی تہمت لگائی ہو ۔ سزا کے لیے اِن میں ’ العذاب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اِن سے اوپر آیۂ جلد میں یہی لفظ ضرب تازیانہ کی اُس سزا کے لیے بھی آیا ہے جو زنا کے مجرموں کے لیے اِس سورہ کی ابتدا میں بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ، اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ. (۲۴:۲) ’’زانیہ عورت اور زانی مرد ، اِن میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور قانون خداوندی کے نفاذ میں اِن کے ساتھ نرمی کا کوئی جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہو ، اگر تم فی الواقع اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ اِن کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود ہو۔ ‘‘

آیت ۸ میں ’ العذاب‘ کا الف لام، ظاہر ہے کہ عہد کے لیے ہے اور اِس کا معہود عربیت کی رو سے لامحالہ وہی سزا ہو گی جس کے لیے اِس آیت ۲ میں ’ عذابھما‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ زبان کے قواعد میں اِس کے علاوہ کسی دوسری رائے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ عربیت کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر قرینہ مانع نہ ہو اور الف لام کا معہود کلام ہی میں پیچھے موجود ہو تو خارج میں کسی چیز کو اُس کا معہود قرار نہیں دیا جا سکتا اور معرفہ کا اعادہ اگر معرفہ کی صورت میں کیا جائے ،جس طرح کہ یہاں ’عذابھما‘ کا اعادہ ’العذاب‘ کی صورت میں ہوا ہے تو دلالت قرینہ کے بغیر اِن دونوں کو الگ الگ معنی میں نہیں لیا جاسکتا ۔ چنانچہ سورۂ نور کی یہ آیت ۸ ، اِس سورہ کی آیت ۲ ہی کی طرح ایک مرتبہ پھر اِس حقیقت کو پوری طرح ثابت کر دیتی ہے کہ قرآن مجید کی رو سے زنا کے شادی شدہ مجرموں کی سزا بھی سو کوڑے ہی ہے ۔ اب سورۂ نساء کی آیت ۲۵ کو دیکھیے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ، بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ، فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَ ٰاتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ، فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ.(۴:۲۵) ’’اور جو تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مومنہ عورتوں سے نکاح کر سکے تو وہ اُن مومنہ لونڈیوں سے نکاح کر لے جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے ۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو،سو اِن لونڈیوں سے نکاح کر لو ، اِن کے مالکوں کی اجازت سے اور دستور کے مطابق اِن کے مہر ادا کرو، اِس حال میں کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں ، نہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ پھر جب وہ پاک دامن رکھی جائیں اور اِس کے بعد اگر بدچلنی کی مرتکب ہوں تو آزاد عورتوں کی جو سزا ہے، اُس کی نصف سزا اُن پر ہے ۔ ‘‘

اِس آیت میں پوری صراحت کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ لونڈیاں اگر بدکاری کریں گی تو اُنھیں اُس سزا کی نصف سزا دی جائے گی جو آزاد عورتوں کے لیے مقرر ہے ۔ آزاد عورتوں کے لیے اِس آیت میں ’المحصنٰت‘ کا لفظ جس طرح استعمال ہوا ہے ، اُس میں یہ بات کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ اِسے غیر شادی شدہ عورتوں کے ساتھ خاص قرار دیا جائے اور نصف کا تصور، ظاہر ہے کہ سو کوڑے کی سزا ہی کے متعلق قائم کیا جا سکتا ہے ، رجم کی سزا کا کوئی نصف یا تہائی تو کسی طرح نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ یہ آیت بھی اِس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ زانی شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ، اُس کے جرم کی انتہائی سزا قرآن مجید کی رو سے سو کوڑے ہی ہے ۔ قرآن کی اِن دونوں آیات میں سے سورۂ نور کی آیت ۸ کے بارے میں کوئی دوسری رائے ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئی ، لیکن آیت نساء کے متعلق ہمارے نقطۂ نظر کے خلاف بالعموم یہ تین دلیلیں پیش کی جاتی ہیں : ایک یہ کہ ’ محصنٰت‘کا لفظ اِس آیت کی ابتدا میں چونکہ بن بیاہی آزاد عورتوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، اِس وجہ سے ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ‘ میں بھی اِسے لامحالہ اِسی معنی میں لیا جائے گا ۔ دوسری یہ کہ ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘میں ’ المحصنٰت‘ کا الف لام تعریف عہد کے لیے ہے اور اِس کا معہود وہی بن بیاہی آزاد عورتیں ہیں جن کا ذکر اِس آیت کی ابتدا میں ہوا ہے۔ تیسری یہ کہ لونڈی جب نکاح ہی سے ’محصنہ‘ ہوتی ہے تو اُس کی سزا بھی بن بیاہی آزاد عورت سے آدھی ہونی چاہیے جو پوری ’محصنہ‘ ہوتی ہے ۔ رہیں وہ عورتیں جو آزاد بھی ہیں اور شادی شدہ بھی تو اُنھیں چونکہ پہلے آزادی اور پھر شادی کے ذریعے سے دہرا احصان حاصل ہوتا ہے ، اِس وجہ سے ’محصنہ‘ لونڈیوں کے مقابلے میں ’المحصنٰت ‘ سے وہ یہاں کسی طرح مراد نہیں ہو سکتیں۔ اِن دلیلوں کی بے مایگی اگرچہ اس قدر واضح ہے کہ اِن کی تردید میں اپنا وقت صرف کرنا غالباً وقت کا کوئی اچھا مصرف نہ ہو گا ، لیکن اِن میں سے پہلی اور آخری دلیل چونکہ مولانا مودودی جیسے بالغ نظر عالم نے بھی اپنی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں پیش فرمائی ہے ، اِس وجہ سے اِن کی تنقید میں اپنا نقطۂ نظر ہم یہاں بیان کیے دیتے ہیں ۔ پہلی دلیل کو لیجیے : لفظ ’ محصنٰت‘ عربی زبان میں بالعموم تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے : ایک شادی شدہ عورتیں، دوسرے پاک دامن عورتیں اور تیسرے آزاد عورتیں ۔ پہلے معنی کی نظیر قرآن مجید اور کلام عرب میں موجود ہے ۔ سورۂ نساء میں محرمات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ. (۴ : ۲۴) ’’اور محصنات، یعنی وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں، الاّ یہ کہ وہ تمھاری ملک یمین بن جائیں ۔ ‘‘

نابغہ ذبیانی کا شعر ہے :

شعب العلافیات بین فروجھم والمحصنات عوازب الاطہار ’’وہ علافی کجاووں پر سوار میدان جنگ میں ہیں اور اُن کی بیویوں کے طہراُن کی رفاقت سے محروم ہیں۔‘‘

دوسرے معنی بھی قرآن مجید اور کلام عرب سے ثابت ہیں ۔ سورۂ نور میں ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ. (۲۴: ۲۳) ’’جو لوگ پاک دامن، بھولی بھالی، مومنہ عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں ملعون ہیں اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے ۔‘‘

جریر فرزدق کی مدح کرتے ہوئے کہتا ہے :

تتبع فی الماخور کل مریبۃ ولست باھلالمحصنات الکرائم ’’تم گناہوں کی مجالس میں ہر بدکار عورت کا پیچھا کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم پاک دامن شریف زادیوں کے قابل ہی نہیں ہو ۔ ‘‘

تیسرے معنی میں بھی یہ لفظ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ سورۂ نساء میں ہے :

فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ. (۴:۲۵) ’’پھر وہ اگر کسی بدچلنی کا ارتکاب کریں تو آزاد عورتوں کے لیے جو سزا ہے ، اُس کی نصف سزا اُن پر ہے ۔ ‘‘

اِن سب معنوں میں یہ لفظ عربی زبان میں مستعمل ہے ، لیکن بن بیاہی آزاد عورتیں اِس لفظ کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ جن میں یہ اگر کسی آیت کی ابتدا میں استعمال ہوا ہو تو دلالت سیاق کی بنا پر اُس کی انتہا میں بھی اِس کو اُسی معنی میں لیا جائے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ آیۂ زیر بحث کی ابتدا میں یہ لفظ غیر شادی شدہ عورتوں کے لیے خاص ہو گیا ہے ، لیکن یہ صرف اِس لیے ہوا ہے کہ لفظ ’ محصنات‘ کے ساتھ اِس آیت میں وہاں فعل ’ ان ینکح‘ ا ستعمال ہوا ہے اور نکاح چونکہ غیر شادی شدہ عورت ہی سے ہوتا ہے، اِس لیے محل استعمال نے معنی میں ایک نوعیت کی تخصیص پیدا کر دی ہے ۔ تاہم اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت کے آخری فقرے ’ نصف ما علی المحصنٰت‘ میں بھی یہ تخصیص برقرار رہے ۔ اسالیب بیان کی نزاکتوں سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس طرح کے مواقع پر استعمال سے جو خصوص لفظ میں پیدا ہوتا ہے ، وہ اُس کے محل ہی میں قائم رہتا ہے ۔ محل سے الگ ہونے کے بعد ، خواہ آپ اُس لفظ کو متصل بعد کے فقرے ہی میں کیوں نہ استعمال کریں ، وہ اگر تخصیص کا کوئی قرینہ وہاں موجود نہ ہو تو لازماً اپنے عموم کی طرف لوٹ آئے گا ۔ زبان کا یہ اصول صرف عربی ہی کے ساتھ خاص نہیں ، ہماری اپنی زبان میں بھی موجود ہے۔ ہم اردو میں کہتے ہیں :

’’عورتوں کا یہ حق ہے کہ اُن کا نکاح اُن کی رضا مندی سے کیا جائے ، اور مردوں کی طرح عورتیں بھی یہ حق رکھتی ہیں کہ اُنھیں اُن کی ضروریات کے مطابق اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہم پہنچائے جائیں ۔‘‘

اب دیکھیے ، پہلے جملے میں لفظ ’عورتوں‘ چونکہ فعل نکاح کے معمول کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے، اِس لیے لازماً غیر شادی شدہ عورتوں کے ساتھ خاص ہو جائے گا ۔ لیکن اِس کے متصل بعد دوسرے فقرے میں فعل نکاح کے عمل سے آزاد ہو جانے کے باعث یہ شادی شدہ اور غیرشادی شدہ، ہر قسم کی عورتوں کے لیے لازماً عام قرار پائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی کم سواد اِن جملوں کے معنی بیان کرتے ہو ئے یہ کہے کہ چونکہ پہلے جملے میں یہ لفظ صنف اناث کے غیر شادی شدہ افراد کے لیے استعمال ہوا ہے ، اِس لیے اُس کے متصل بعد دوسرے جملے میں سیاق کلام کا تقاضا ہے کہ اِسے غیر شادی شدہ عورتوں کے معنی میں لیا جائے ، پھر ممکن ہے کہ وہ اِس عبارت سے یہ قانون بھی استنباط فرما لے کہ شادی شدہ عورتیں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم ہیں ، لیکن حق یہ ہے کہ اِن جملوں کا یہ مفہوم کوئی زبان آشنا شخص کسی طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا ۔ وہ یقیناًیہی کہے گا کہ کسی خاص محل کی بنا پر لفظ کے معنی کی تخصیص ہمیشہ اُس محل تک محدود رہتی ہے ۔ وہی لفظ اگر اُس کے متصل بعد کے جملے میں استعمال کیا جائے تو وہ اپنے مفہوم میں تخصیص کے لیے کسی نئے قرینے کا محتاج ہوتا ہے اور چونکہ ایسا کوئی قرینہ دوسرے جملے میں موجود نہیں ہے ، اِس لیے لفظ ’عورتوں‘ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، ہر قسم کی خواتین کے لیے عام ہی رہے گا ۔ چنانچہ دیکھیے اِسی سورۂ نساء میں ہے:

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ. ذٰلِکَ اَدْنآی اَلَّا تَعُوْلُوْا وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً. (۴: ۳۔۴) ’’اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمھارے لیے جائز ہیں ، اُن میں سے دو دو، تین تین ، چار چار سے نکاح کر لو ، لیکن اگر ڈر ہو کہ اُن کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر بس کرو یا کوئی لونڈی جو تمھارے قبضہ میں ہو۔ یہ طریقہ زیادہ قریب ہے کہ تم بے انصافی سے بچو اور اِن عورتوں کو اِن کے مہر دو ، مہر کی حیثیت سے۔‘‘

یہاں ایک ہی سلسلۂ بیان میں دو جگہ ’ نساء‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دیکھ لیجیے کہ دونوں جگہ یہ اگرچہ یتیموں کی ماؤں کے لیے آیا ہے ، لیکن شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کے لحاظ سے اِسے ایک معنی میں نہیں لیا جا سکتا ۔ پہلی آیت میں یہ چونکہ ’ محصنات‘ کی طرح فعل ’ انکحوا‘ کے مفعول کے طور پر آیا ہے ، اِس وجہ سے وہاں غیر شادی شدہ عورتوں کے لیے خاص ہے اور دوسری آیت کی ابتدا میں اِس کا ذکر چونکہ مہر ادا کرنے کی ہدایت کے ساتھ ہوا ہے ، اِس لیے وہاں ناگزیر ہے کہ اِسے شادی شدہ عورتوں کے لیے خاص قرار دیا جائے ۔ اِس سے واضح ہے کہ ’ وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ سے ’نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں لفظ ’ محصنٰت‘ کی تخصیص ایک بے معنی بات ہے جسے زبان کا ذوق، لغت کا فہم ، عربیت اور عربیت ہی نہیں ، ہماری اپنی زبان کے قواعد بھی قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اب دوسری دلیل کو دیکھیے : تعریف عہد کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ جس لفظ پر لام تعریف آتا ہے ، وہ ایک اسم نکرہ کی صورت میں پہلے سے کلام میں مذکور ہوتا ہے ، مثلاً : ’ فِیْھَا مِصْبَاحٌ ، اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ، اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ‘ ۲۹ ؂ ۔ یعنی لفظ ’ المصباح‘ پہلے نکرہ استعمال ہوا ہے، دوسری مرتبہ جب اِس کا ذکر کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اِسے معرف باللام کر دیا ، اور یہی معاملہ ’زجاجۃ‘ کے ساتھ ہوا۔ اب ظاہر ہے کہ ’ المحصنٰت‘ ’ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ‘ میں بھی معرف باللام استعمال ہوا ہے اور ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں بھی ، لہٰذا اِس صورت کا اطلاق یہاں ممکن نہیں ہے ۔ دوسری صورت تعریف عہد کی یہ ہوتی ہے کہ جس لفظ پر لام آتا ہے ، اُس کا مصداق متکلم اور مخاطب ، دونوں کے ذہن میں پہلے سے معین ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ. (الحجرات ۴۹: ۲) ’’ایمان والو، تم اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ۔ ‘‘

یہاں ’ النبی‘ سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور مخاطب کے لیے متکلم کا یہ مدعا یقینامعہود ذہنی ہے۔ اب دیکھیے ، ’ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ‘ میں ’ المحصنٰت‘ کا لام یہ بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ متکلم نے اگر ’ المحصنٰت‘ سے محض کنواری محصنات مراد لی ہیں تو اُس کے اِس منشا کا وجود اُس کے ذہن ہی میں ہے ، اِسے مخاطب کا معہود ذہنی کسی طرح قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ لام کی اس قسم کے لیے ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا ، یہ ضروری ہے کہ جس لفظ پر اِسے داخل کیا جائے ، اُس کا مصداق متکلم اور مخاطب ، دونوں کے ذہن میں بہ یک وقت موجود ہو ۔ زمخشری لکھتے ہیں : او تعریف عھد کقولک: ما فعل الرجل وانفقت الدرھم، لرجل ودرھم معھودین بینک وبین مخاطبک.(المفصل ۳۲۶) ’’یا لام تعریف عہد کے لیے ہوتا ہے ، جیسے اُس شخص اور اُس درہم کے بارے میں جس کا مصداق تمھارے اور تمھارے مخاطب کے ذہن میں پہلے سے معین ہوتا ہے ، تم کہتے ہو : ’ما فعل الرجل‘ اُس آدمی نے نہیں کیا، اور ’انفقت الدرھم‘ میں نے وہ درہم خرچ کر دیا۔ ‘‘ اِس میں شک نہیں کہ تعریف عہد کی اس صور ت کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ متکلم مخاطب کی رعایت ملحوظ رکھے بغیر محض اپنے معہود ذہنی کے اعتبار سے کسی لفظ پر لام تعریف داخل کرتا ہے ، لیکن عربی زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہ اُنھی مواقع پر جائز ہے ، جب اُس معہود ذہنی کا ابلاغ متکلم کے پیش نظر ہی نہ ہو ۔ مثلاً لبید بن ربیعہ کے معلقہ میں لفظ ’ الحی‘ :

شاقتک ظعن الحی حین تحملوا فتکنسوا قطنا تصرخیامھا ’’تیری آتش شوق قبیلہ کی ہودہ نشینوں نے بھڑکائی ہے ، جب وہ رخت سفر باندھ کر روانہ ہوئیں اور اپنے اُن ہودوں میں سوار ہو گئیں جن کی لکڑیاں اُن کے بوجھ سے چرچراتی ہیں۔‘‘

یا جیسے امرؤ القیس کے شعر میں ’ الکثیب‘ :

ویوماً علی ظھر الکثیب تعذرت علی، وآلت حلفۃ لم تحلل ’’اور ایک دن ریت کے ٹیلے پر اُسے رام کرنا میرے لیے مشکل ہو گیا اور اُس نے ایسی قسم کھا لی جس میں کسی استثنا کی گنجایش نہ تھی ۔ ‘‘

اِن شعروں میں لبید اور امرؤ القیس نے ذہن میں پہلے سے موجود ایک خاص قبیلے اور ایک خاص ٹیلے کا ذکر کرنے کے لیے لفظ ’ حی‘ اور لفظ ’ کثیب ‘کو معرف باللام کر دیا ہے ، لیکن دیکھ لیجیے، اِس ’ حی‘ اور اِس ’ کثیب‘ کا تعارف دونوں کے پیش نظر ہی نہیں ہے ۔