۲

رجم کی سزا کے بارے میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اُسے پڑھنے کے بعد یہ سوال ہر طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اِس مسئلہ میں فقہا کی رائے اگر قرآن کے خلاف ہے تو پھر رجم کی اُس سزا کے بارے میں کیا کہا جائے گا جس کے متعلق معلوم ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو دی اور خلفاے راشدین نے بھی دی ؟ یہی سوال ہے جس کے جواب میں دور حاضر کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق امام حمید الدین فراہی نے اپناوہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے جس سے صدیوں کا یہ عقدہ نہ صرف یہ کہ حل ہو جاتا، بلکہ یہ بات بھی بالکل نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ پیغمبر کا کوئی حکم کبھی قرآن کے خلاف نہیں ہوتا۔ تاہم اِس سے پہلے کہ امام فراہی کی یہ رائے یہاں پیش کی جائے ، ہم اُن روایات کی حقیقت بھی اہل علم کے سامنے واضح کیے دیتے ہیں جن سے ہمارے فقہا نے اپنے موقف کے حق میں استدلال کیا ہے ۔

روایات

اِس سلسلہ کی پہلی روایت جو حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے ، اُسے امام مسلم نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے :

قال رسولاللّٰہ صلیاللّٰہ علیہ وسلم: خذوا عنّی، خذوا عنّی، خذوا عنّی فقد جعل اللّٰہ لھن سبیلاً. البکر بالبکر جلد ماءۃ و نفی سنۃ والثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم. (مسلم ، رقم ۴۴۱۴) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے لو ، مجھ سے لو ،مجھ سے لو ، زانیہ عورتوں کے معاملے میں اللہ نے جو حکم نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ نازل فرما دیا ۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیرشادی شدہ عورت سے بدکاری کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت سے بدکاری کے لیے سو کوڑے اور رجم ۔ ‘‘

دوسری روایت جو اِس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہے ، وہ موطا امام مالک میں اِس طرح بیان ہوئی ہے :

قال: ایاکم ان تھلکوا عن اٰیۃ الرجم، ان یقول قائل: لا نجد حدّین فی کتاب اللّٰہ فقد رجم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورجمنا. والذی نفسی بیدہ، لولا ان یقول الناس زاد عمر بن الخطاب فی کتاب اللّٰہ تعالیٰ لکتبتھا: الشیخ والشیخۃ فارجموھما البتۃ، فانا قد قرأناھا.( رقم ۲۵۶۸) ’’عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم آیت رجم کا انکار کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بچو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے والے کہیں کہ ہم تو اللہ کی کتاب میں دو سزاؤں (تازیانہ اور رجم) کاذکر کہیں نہیں پاتے ۔ بے شک ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا او ر ہم نے بھی ۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، مجھے اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا تو میں یہ آیت : ’’بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کو لازماً رجم کردو‘‘، قرآن مجید میں لکھ دیتا، اِس لیے کہ ہم نے یہ آیت خود تلاوت کی ہے ۔‘‘

یہی روایت بخاری میں یوں نقل ہوئی ہے :

ان اللّٰہ بعث محمدًا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالحق وانزل علیہ الکتاب فکان ممّا انزل اللّٰہ اٰیۃ الرجم فقرأناھا وعقلناھا ووعیناھا، فلذا رجم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان أن یقول قائل: واللّٰہ ما نجد اٰیۃ الرجم فی کتاب اللّٰہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللّٰہ. والرجم فی کتاب اللّٰہ حق علیٰ من زنی اذا احصن من الرجال والنساء.( رقم ۶۸۳۰) ’’(عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ) بے شک ، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور اُن پر اپنی کتاب نازل کی۔ اُس میں آیت رجم بھی تھی ۔ چنانچہ ہم نے اُسے پڑھا اور سمجھا اور یاد کیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پررجم کیا اور اُن کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں پر کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ کہنے والے کہیں گے کہ ہم تو رجم کی آیت اللہ کی کتاب میں کہیں نہیں پاتے اور اِس طرح اللہ کے نازل کردہ ایک فرض کو چھوڑ کر گم راہ ہوں گے ۔ یاد رکھو، رجم اللہ کی کتاب میں ہر اُس مرد و عورت پر واجب ہے جو شادی کے بعد زنا کرے۔‘‘

تیسری روایت سنن نسائی میں ام المومنین سیدہ عائشہ سے اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے :

ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا یحل دم امرئ مسلم الا باحدی ثلاث خصال: زان محصن یرجم او رجل قتل رجلا متعمدًا فیقتل او رجل یخرج من الاسلام یحارب اللّٰہ عزّ وجل ورسولہ فیقتل او یصلب او ینفی من الارض. ( رقم ۴۰۵۳) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کا خون صرف تین صورتوں میں حلال ہے : ایک شادی شدہ زانی ، اُسے رجم کیا جائے گا۔ دوسرے وہ شخص جس نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو، اُسے اس شخص کے قصاص میں قتل کیا جائے گا ۔ تیسرے وہ شخص جو اسلام چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول سے آمادۂ جنگ ہو ، اُسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا ۔ ‘‘

اِس سلسلہ کی چوتھی روایت ابن المنذر اور عبد الرزاق نے الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ اپنی کتابوں میں اِس طرح نقل کی ہے:

البکران یجلدان وینفیان، والثیبان یرجمان ولایجلدان، والشیخان یجلدان ثم یرجمان. (فتح الباری ، ابن حجر ۱۲/۱۵۷) ’’کنوارے زانی کی سزا سو کوڑے اور جلا وطنی ہے۔ شادی شدہ زانی کو صرف رجم کی سزا دی جائے گی اور بوڑھے زانیوں کو پہلے کوڑے مارے جائیں گے او ر اِس کے بعد رجم کیا جائے گا ۔ ‘‘

رجم کی سزا کے بارے میں یہی روایات ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہیں ۔ اِن کا ذرا تدبر کی نگاہ سے مطالعہ کیجیے ۔ پہلی بات جو اِن روایات پر غور کرنے سے سامنے آتی ہے ، وہ اِن کا باہمی تناقض ہے جسے نہ اِن پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور نہ اب ہو سکتا ہے ۔ اِن میں سے پہلی روایت کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری کی سزا میں زانی اور زانیہ کے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کا الگ الگ اعتبار نہیں ہو گا ، بلکہ تازیانے اور جلاوطنی کی سزا صرف اُس صورت میں دی جائے گی جب زانی اور زانیہ ، دونوں کنوارے ہوں اور تازیانے اور رجم کی سزا بھی اُسی صورت میں نافذ ہو گی جب وہ دونوں شادی شدہ ہوں ۔ اِسی طرح یہ بات بھی اِس روایت سے معلوم ہوتی ہے کہ کنوارے زانیوں کو رجم کی سزا دینے سے پہلے سو کوڑے بھی لازماً مارے جائیں گے۔ اِس کے بعد دوسری روایت کو دیکھیے تواُس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی بحث ہی سرے سے ختم ہو گئی ہے ۔ اِس کے بالکل برخلاف جو بات اُس میں بیان کی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ سنگ ساری کی سزا درحقیقت بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کے لیے ہے ۔ یہ کسی اور کو دی جائے یا نہ دی جائے ، اِن بے چاروں پر تو اُسے بہرحال نافذ ہونا چاہیے ، لیکن یہی روایت جب بخاری میں بیان ہوئی تو اُس میں اِس سزا کے لیے پھر شادی کا ذکر ہوا ہے ۔ تیسری روایت میں بوڑھے تو صاف بچ گئے ہیں ، رجم سے پہلے سو کوڑے کی سزا بھی معاف کر دی گئی ہے ، پہلی روایت میں رجم کی سزا کے لیے شادی شدہ سے شادی شدہ کے زنا کی جو شرط بیان ہوئی تھی ، وہ بھی اُس میں ختم ہو گئی ہے ۔ اِن سب باتوں سے قطع نظر کر کے جو قانون اِس روایت میں بیان کیا گیا ہے ، وہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شادی شدہ مرد خواہ شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا غیر شادی شدہ سے ، ہر دو حالتوں میں اُس کو رجم کی سزا دی جائے گی ۔ چوتھی روایت اِن سب سے مختلف ہے ۔ اُس میں تازیانے اور جلاوطنی کی سزا کے لیے غیر شادی شدہ سے غیر شادی شدہ کے زنا کی شرط بھی باقی نہیں رہی۔ شادی شدہ زانیوں کے لیے بھی اُس میں صرف رجم کی سزا بیان ہوئی ہے ، لیکن بوڑھے اِس روایت کی رو سے بے طرح مرے ہیں۔ اُن کی جو سزااِس میں بیان ہوئی ہے ، وہ یہ ہے کہ اُنھیں سنگ ساری سے پہلے سو کوڑے بھی لازماً مارے جائیں گے ۔ گویا وہی معاملہ ہے کہ :

کس کا یقین کیجیے ، کس کا یقیں نہ کیجیے لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ

دوسری بات جو اِن میں سے بالخصوص موطا امام مالک کی روایت سے سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ سارا قرآن یہی نہیں ، جو اِس وقت ہمارے پاس موجود ہے ، بلکہ اُس میں سے بعض آیات نکال دی گئی ہیں۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ نہایت خطرناک ہے اور جس منافق نے بھی اِسے وضع کیا ہے ، اُس کا مقصد صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو لوگوں کی نگاہوں میں مشتبہ ٹھیرایا جائے اور اہل فتنہ کے لیے راستہ نکالا جائے کہ وہ اِس طرح کی بعض دوسری آیات وضع کر کے اپنے عقائد و نظریات بھی اللہ کی اس کتاب میں داخل کر سکیں ۔ پھر وہ جملہ جسے اِس روایت میں قرآن کی آیت قرار دیا گیا ہے ، زبان و بیان کے لحاظ سے اِس قدر پست ہے کہ قرآن کے مخمل میں اِس ٹاٹ کا پیوند لگانا اور اُس کی لاہوتی زبان کے ساتھ اِس کا جوڑ ملانا تو ایک طرف ، کسی سلیم المذاق آدمی کے لیے اِسے پیغمبر کا قول قرار دینا بھی ممکن نہیں ہے ۔ پھر یہ بات بھی نہایت مضحکہ خیز ہے کہ آیت نکال دی گئی اور اُس کا حکم ابھی باقی ہے ، جب کہ قرآن میں وہ آیتیں بھی موجود ہیں جن کا حکم قرآن ہی کی کسی دوسری آیت سے منسوخ ہو گیا ہے ۔ پھر یہ سوال بھی اِس کے بارے میں ہر عاقل کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ اگر قرآن کی ایک آیت تھی اور نکال دی گئی تو اِس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اِس کا حکم بھی ختم ہو گیا۔ اِس سے اب رجم کے حق میں استدلال آخر کس طرح کیا جائے گا؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کے بارے میں بالکل صحیح لکھا ہے :

’’یہ روایت بالکل بیہودہ روایت ہے اور ستم یہ ہے کہ اِس کو منسوب حضرت عمر کی طرف کیا گیا ہے ، حالانکہ اُن کے عہد مبارک میں اگر کوئی یہ روایت کرنے کی جرأت کرتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ اُن کے درّے سے نہ بچ سکتا ۔ ‘‘ (تدبر قرآن ۵/۳۶۷)

تیسری بات اِن روایات سے یہ سامنے آتی ہے کہ سنگ ساری جیسی شدید سزا کا قانون بیان کرنے کے لیے جو اسلوب اِن میں اختیار کیا گیا ہے ، وہ نہایت مبہم اور بے حد غیر واضح ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھیے، پہلی روایت میں شادی شدہ سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ سے غیر شادی شدہ کے زنا کی سزا بیان ہوئی ہے ، لیکن اگر کوئی غیر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے اور شادی شدہ مرد غیر شادی شدہ عورت سے بدکاری کا ارتکاب کرے تو اُس کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟ اِس کا اِس روایت میں کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اِس کی ابتدا جس جملے سے ہوئی ہے ،اُس سے یہ شبہ بھی ہوتا ہے کہ اِس میں غالباً صرف زانی عورتوں کی سزا بیان ہوئی ہے ۔ پھر ’ البکر بالبکر‘ اور ’ الثیب بالثیب‘ کے جو الفاظ اِس روایت میں آئے ہیں ، وہ عربیت کی رو سے بھی اُس مفہوم کے لیے محل نظر ہیں جو ان سے بالعموم سمجھا جاتا ہے ۔ اِسی طرح ’احصان ‘ اور ’محصن‘ کے الفاظ جو ’شادی‘ اور ’شادی شدہ‘ کے لیے دوسری اور تیسری روایت میں استعمال ہوئے ہیں، اُن کے بارے میں عربی زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ لغت عرب میں وہ جس طرح اِس معنی کے لیے بولے جاتے ہیں ، اِسی طرح ’غلامی‘ اور ’غلام‘ کے مقابلے میں ’آزادی‘ اور ’آزاد‘ اور ’عفت ‘ اور ’صاحب عفت‘ کے لیے بھی عام استعمال ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد، اہل لغت نے بصراحت بیان کیا ہے کہ یہ ’اسلام‘ اور ’مسلمان‘ کے معنی میں بھی مستعمل ہوئے ۔ عربی زبان میں وہ الفاظ موجود ہیں جو صرف ’شادی‘ اور ’شادی شدہ‘ ہی کے لیے مستعمل ہیں ، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک ایسا قانون بیان کرنے کے لیے جس کے نتیجے میں کسی انسان کو سنگ ساری جیسی شدید سزا دی جائے گی ، مختلف معانی کے محتمل یہ الفاظ بغیر کسی قرینے کے استعمال کیے گئے ۔ چنانچہ ’ زنا بعد الاحصان‘ کو اگر کوئی شخص مثال کے طور پر آزاد ہو جانے کے بعد زنا کے معنی میں لے تو روایت کے الفاظ میں وہ کون سی چیز ہے جو اِس معنی میں رکاوٹ بنے گی ؟ یہ ہے اِن روایات کی حقیقت جن سے قرآن کے حکم میں تبدیلی کی جاتی اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کا قانون اخذ کیا جاتا ہے ۔ اِن کے اس ابہام و تناقض کو دیکھیے اور پھر فیصلہ کیجیے کہ کسی انسان کے لیے سنگ ساری کی سزا تو بڑی بات ہے ، اگر کسی مچھر کو ذبح کر دینے کا قانون بھی اِس طریقے سے بیان کیا جائے تو کوئی عاقل کیا اِسے قبول کر سکتا ہے ؟

مقدمات

اِن روایات کے علاوہ اِس سزا کے بارے میں جو کچھ حدیث کی کتابوں میں بیان ہوا ہے ، وہ درحقیقت زنا کے مختلف مقدمات کی رودادیں ہیں جو اِن مقدمات کی کارروائی میں شریک یا اُسے دیکھنے والوں کی زبان سے بالکل نامکمل صورت میں، باہم متناقض اور نہایت مبہم طریقے پر اِس طرح روایت ہوئی ہیں کہ اِس سزا کے متعلق قانون و انصاف کے نقطۂ نظر سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، اُن میں سے کسی کا بھی کوئی جواب اُن رودادوں سے نہیں ملتا ۔ تاہم اِس زمانے میں بعض ملاے مکتبی چونکہ بیان قانون کی روایت اور روداد مقدمہ کے فرق کو ملحوظ رکھے بغیر اُنھیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ارشادات ہی کے ہم رتبہ ، بلکہ ناسخ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ، اِس وجہ سے ہم یہاں ایک مختصر تبصرہ اِن رودادوں پر بھی کیے دیتے ہیں تاکہ کسی طالب حق کے لیے صحیح بات کے سمجھنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے ۔ سب سے پہلا مسئلہ جو اِن مقدمات کے مطالعہ سے سامنے آتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اِن کے اندر بھی سزا کے معاملے میں وہی تناقض ہے جو ہم نے اوپر روایات کے حوالے سے واضح کیا ہے ۔ چنانچہ دیکھیے، یہودی اور یہودیہ کے رجم کا جو واقعہ سنن ابوداؤد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، اُس میں ’ احصان‘ کو اگر شادی ہی کے معنی میں لیا جائے تو عبادہ بن صامت کی روایت کی روشنی میں سزا کی وجہ شادی شدہ سے شادی شدہ کا زنا قرار پائے گی ، لیکن مزدورکے مقدمے میں اُس کے باپ کی تصریح کے باوجود کہ اُس کا بیٹا غیر شادی شدہ ہے ، عورت کو یہی سزا دی گئی :

عن ابی ھریرۃ، قال: زنیٰ رجل وامراۃ من الیھود وقد احصنا. ( رقم ۴۴۵۱) ’’ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے فرمایا : ایک یہودی مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا اور وہ دونوں محصن تھے ۔‘‘
کان ابنی اجیرًا لامراۃ ہذا وابنی لم یحصن. (فتح الباری ، ابن حجر ۱۲/ ۱۴۰) ’’(اُس کے باپ نے کہا:) میرا بیٹا (جس نے زنا کا ارتکاب کیا) اِس شخص کی بیوی کے ہاں مزدوری کرتا تھا اور وہ محصن نہیں تھا۔‘‘

اِسی طرح یہودی اور یہودیہ کو رجم سے پہلے سو کوڑے بھی نہیں مارے گئے ۔ یہی معاملہ ماعز، غامدیہ اور مزدور کے مقدمے میں ہوا ، ۵؂ لیکن حضرت علی جیسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں احمد بن حنبل کی روایت ہے کہ اُنھوں نے اپنے دور حکومت میں شراحہ نامی ایک عورت کو رجم سے پہلے سو کوڑے لگوائے اور اعلان کیا کہ میں نے اِسے قرآن مجید کے مطابق کوڑے لگوائے اور سنت کے مطابق رجم کیا ہے :

عن الشعبی ان علیاً جلد شراحۃ یوم الخمیس ورجمھا یوم الجمعۃ وقال: اجلدھا بکتاب اللّٰہ وارجمھا بسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم.(احمد، رقم ۸۳۹) ’’شعبی سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ نامی عورت کو جمعرات کے دن کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن اُسے رجم کرا دیا اور فرمایا: میں نے اِسے کتاب اللہ کے مطابق کوڑے لگائے ہیں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق سنگ سار کرتا ہوں۔‘‘

غیر شادی شدہ زانیوں کی سزا کے معاملے میں بھی یہی صورت سامنے آتی ہے ۔ مزدور کے مقدمے میں بخاری ۶ ؂ کی روایت ہے کہ اُسے سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلا وطن بھی کیا گیا۔ موطا ۷؂ کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکر نے بھی ایک شخص کو یہی سزا دی ۔ ترمذی ۸؂ نے حضرت عمر کے بارے میں یہی بات روایت کی ہے ، لیکن ابوداؤد میں جابر بن عبد اللہ کی وہ روایت جس میں ایک شخص کو سو کوڑے لگوانے کے بعد ، جب یہ معلوم ہوا کہ یہ محصن ہے ، رجم کی سزا دی گئی، اِس کے برخلاف یہ بتاتی ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو صرف سزاے تازیانہ دی جائے گی۔ یہی قانون عمرو بن حمزہ اسلمی کے اُس مقدمے سے بھی واضح ہوتا ہے جو طبقات ابن سعد میں روایت ہوا ہے :

عن جابر ان رجلاً زنیٰ بامراۃ، فامر بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فجلد الحد، ثم اخبر انہ محصن فامر بہ فرجم.(ابوداؤد، رقم ۴۴۳۸) ’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کے ساتھ بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں سزا کا حکم دیا ۔ چنانچہ اُسے کوڑے لگائے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ محصن ہے تو حکم دیا گیا اور اُسے رجم کر دیا گیا۔ ‘‘
ان عمرو بن حمزۃ بن سنان کان قد شھد الحدیبیۃ مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قدم المدینۃ ثم استأذن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یرجع الی بادیتہ فاذن لہ فخرج حتی اذا کان بالضبوعۃ، علی برید من المدینۃ، علی المحجۃ الی مکۃ، لقی جاریۃ من العرب وضیءۃ فنزغہ الشیطٰن حتی اصابھا ولم یکن احصن، ثم ندم فاتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاخبرہ فاقام علیہ الحد. (الطبقات الکبریٰ۳/۲۲۵) ’’عمرو بن حمزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں حاضر تھے ۔ وہ مدینہ آئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت چاہی کہ اپنے بادیہ کی طرف لوٹ جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تو نکلے، یہاں تک کہ جب مدینہ سے مکہ کی طرف راستے کے درمیان ایک منزل ضبوعہ پہنچے تو عرب کی ایک خوب صورت لونڈی سے ملاقات ہوئی۔ شیطان نے اکسایا تو اُس سے زنا کر بیٹھے اور اُس وقت وہ محصن نہ تھے۔ پھر نادم ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو بتایا۔ چنانچہ آپ نے اُن پر حد جاری کر دی۔ ‘‘

اِن دونوں مقدمات میں دیکھ لیجیے ، جلاوطنی کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ دوسرا مسئلہ اِن مقدمات سے یہ سامنے آتا ہے کہ مجرم کی شادی کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیق اِن میں بھی بالعموم اِسی لفظ ’ احصان‘ سے بیان ہوئی ہے ، جس کے بارے میں ہم اِس سے پہلے وضاحت کر چکے ہیں کہ عربی زبان میں یہ صرف شادی ہی کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بعض روایات میں اِس مقصد کے لیے لفظ ’ ثیب‘ ۹ ؂ بھی استعمال ہوا ہے ، لیکن یہ بات چونکہ اِس اختلاف ہی سے واضح ہے کہ اِس واقعہ کو بیان کرتے وقت روایت باللفظ کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، اِس وجہ سے اب یہ جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے کہ خود حضور نے اِس موقع پر کیا لفظ استعمال کیا تھا۔ چنانچہ رجم کے بارے میں یہ بات کہ یہ سزا محض مجرم کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے دی گئی ، اِس باب کی روایات کی طرح اِن مقدمات سے بھی حتمی طور پر ثابت نہیں کی جا سکتی ۔ تیسرا مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ شادی شدہ زانیوں کی سزا اگر سو کوڑے اور سنگ ساری یا صرف سنگ ساری ہے اور کنوارے زانیوں کی سزا سو کوڑے اور جلاوطنی ہے تو قرآن مجید میں محض سو کوڑے کی جو سزا بیان ہوئی ہے ، وہ پھر زنا کے کن مجرموں کو دی جائے گی ؟ اِس کے بعد تو قرآن کی اِس آیت کا مصرف ، جس میں یہ سزا بیان ہوئی ہے ، اگر کچھ رہ جاتا ہے تو بس یہی رہ جاتا ہے کہ اِس کو پڑھ کر رجم کی سزا پانے والوں کو ایصال ثواب کیا جائے ۔ چوتھا مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ اِن میں سے عہد رسالت کے مقدمات کے بارے میں اب کوئی شخص پورے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ سورۂ نور میں زنا کی سزا کا حکم نازل ہو جانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں آئے یا اِس سے پہلے آپ کے سامنے پیش ہوئے ۔ بخاری اور مسلم، دونوں کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ سلف میں بھی متنازع فیہ ہی رہا ۔ اُنھوں نے بیان کیاہے کہ شیبانی نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا سورۂ نور کے نازل ہونے سے پہلے دی یا بعد میں تو اُنھوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ ۱۰ ؂ بعض لوگ سورۂ نور کا زمانۂ نزول واقعۂ ا فک سے متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن خود واقعۂ افک کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب ہوا، ۱۱؂ اور کس طرح ہوا ؟ پھر محدثانہ نقطۂ نظر سے زمانۂ نزول کی روایات کا جو حال ہے ، وہ بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہے ۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ کوئی شخص اگر یہ کہے کہ زنا کے مجرموں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا اِس جرم کے متعلق قرآن مجید میں کوئی حکم نازل ہونے سے پہلے اہل کتاب کے قانون کے مطابق دی اور پھر آیۂ نور نے اُسے منسوخ کر دیا تو اِس کے جواب میں بے معنی سخن سازیوں کے سوا آخر کیا چیز ہے جو پورے یقین کے ساتھ پیش کی جا سکتی ہے ؟ پانچواں مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ زنا کے جرم میں جن مجرموں کو سزا دی گئی ، اُن کے حالات اور جرم کی نوعیت کے بارے میں جو معلومات اِن مقدمات سے حاصل ہوتی ہیں ، وہ قانون کے نقطۂ نظر سے انتہائی ناقص اور بعض صورتوں میں اِس قدر متناقض ہیں کہ اُن سے کسی قطعی نتیجے پر پہنچنا اب کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔ پھر اِن میں سے بعض مقدمات میں فیصلہ کرنے کا جو طریقہ نقل ہوا ہے ، اُس کے بارے میں کوئی شخص یہ باور نہیں کر سکتا کہ اُس کی نسبت اللہ کے پیغمبر سے بھی کسی درجے میں صحیح ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ دیکھیے، موطا امام مالک کی روایت کے مطابق جس عورت کو سیدنا عمر فاروق نے اپنے سفر شام کے موقع پر رجم کی سزا دی ، اُس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آدمی کون تھا جس نے اُس کے ساتھ بدکاری کا ارتکاب کیا ؟ یہ واقعہ اتفاق سے پیش آیا یا یاری آشنائی کاکوئی پرانا تعلق تھا جو ایک دن شوہر کے علم میں بھی آ گیا ؟ اُس کے شوہر نے جب اُسے اپنی بیوی کے ساتھ ملوث پایا تو پکڑا کیوں نہیں ؟ وہ اگر نکل بھاگا تھا تو شوہر کے اُسے بیوی کے پاس دیکھنے اور بیوی کے زنا کا اعتراف کر لینے کے بعد قانون نے اُس کا پیچھا کیوں نہیں کیا ؟ اسلام کا قانون کیا یہی ہے کہ عورت کے اعتراف جرم کے بعد مرد کے بارے میں یہ معلوم ہو جانے کے باوجود کہ وہ کون ہے ، اُس سے کوئی پوچھ گچھ کرنی جائز نہیں ہے ؟

عن ابی واقد اللیثی، ان عمر بن الخطاب اتاہ رجل، وھو بالشام، فذکر لہ أنہ وجد مع امرأتہ رجلاً فبعث عمر بن الخطاب ابا واقد اللیثی الی امراتہ یسألھا عن ذلک، فاتاھا وعندھا نسوۃ حولھا فذکر لھا الذی قال زوجھا لعمر بن الخطاب واخبرھا انھا لا توئخذ بقولہ وجعل یلقنھا اشباہ ذلک لتنزع فأبت ان تنزع وتمت علی الاعتراف فامر بھا عمر فرجمت.( رقم ۲۵۶۷) ’’ابو وا قدلیثی کی روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام میں تھے کہ ایک شخص اُن کے پاس آیا اور ذکر کیا کہ اُس نے ایک آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ ملوث پایا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقدلیثی کو اُس کی بیوی کے پاس تفتیش کے لیے بھیجا ۔ وہ پہنچے تو اُس کے گرد کچھ عورتیں بیٹھی تھیں۔ اُنھوں نے اُسے وہ بات بتائی جو اُس کے شوہر نے حضرت عمر کے سامنے اُس کے بارے میں کہی تھی اور اُسے بتایا کہ وہ شوہر کے الزام پر ماخوذنہ ہو گی، اور اِسی طرح اُسے تلقین کرتے رہے کہ وہ اقرار سے ٹل جائے ، لیکن اُس نے انکار کیا اور اپنی بات پر قائم رہی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور وہ رجم کر دی گئی ۔ ‘‘

موطا ہی کی روایت میں سیدنا ابوبکر صدیق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے زمانے میں کسی شخص نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کی اور اُسے حاملہ کر دیا۔ لوگ اُسے صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لائے تو اُنھوں نے اُسے تازیانے اور جلاوطنی کی سزا دی ، لیکن لڑکی کے متعلق کسی سزا کا کوئی ذکر اِس روایت میں نہیں ہوا۔ کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ درحقیقت زنا بالجبر کا معاملہ تھاجسے لڑکی نے اپنی بے عزتی کے ڈر سے چھپائے رکھا، لیکن جب حمل ظاہر ہو گیا تو مجرم پکڑا گیا اور اُسے زنا کے جرم میں سو کوڑے مارنے کے بعد اُس کی اوباشی کی بناپر جلاوطن کر دیا گیا؟ یہ بات اگر نہیں تھی تو پھر لڑکی کو سزا کیوں نہیں دی گئی اور اگر دی گئی تو روایت میں اُس کا ذکر کیوں نہیں ہوا؟ وہ اگر لونڈی تھی اور اُس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی تھی تو کیا تعزیر کے طور پر بھی اُس کو کوئی سزا دینا ممکن نہ تھا ؟

ان ابا بکر الصدیق اتی برجل قد وقع علی جاریۃ بکر فاحبلھا ثم اعترف علی نفسہ بالزنا ولم یکن احصن. فامر بہ ابو بکر فجلد الحد ثم نفی الی فدک.( رقم ۲۵۷۳) ’’صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو محصن نہ تھا اور اُس نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا اور اُسے حاملہ کر دیا تھا۔ اُس شخص نے جرم کا اقرار کیا تو حضرت ابوبکر نے اُس کے بارے میں سزا کا حکم دیا۔ چنانچہ اُس پر حد جاری کی گئی اور اُسے فدک کی طرف جلا وطن کر دیا گیا ۔ ‘‘

یہی سوالات اُس واقعے کے بارے میں بھی پیدا ہوتے ہیں جو ابوداؤد میں ایک عورت کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ بچہ اٹھائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے اُس کے پاس کھڑے ہوئے ایک نوجوان کے اعتراف کر لینے کے بعد کہ یہ اُسی کے جرم کا نتیجہ ہے ، اُس کو سنگ ساری کی سزا دی ، لیکن عورت سے کچھ تعرض نہیں کیا :

أن خالد بن اللجلاج حدثہ ان اللجلاج اباہ اخبرہ انہ کان قاعدًا یعتمل فی السوق فمرت امرأۃ تحمل صبیًا فثار الناس معھا وثرت فیمن ثار وانتھیت الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو یقول : من ابو ھٰذا معک؟ فسکتت، فقال شاب حذوھا: انا ابوہ یا رسول اللّٰہ، فاقبل علیھا فقال: من ابو ھٰذا معک؟ فقال الفتی: انا ابوہ،یا رسول اللّٰہ، فنظر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی بعض من حولہ یسألھم عنہ فقالوا: ما علمنا الا خیرًا ، فقال لہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: احصنت؟ قال: نعم، فامر بہ فرجم.( رقم ۴۴۳۵) ’’خالد بن لجلاج سے روایت ہے کہ اُس کے باپ نے اُسے بتایا کہ وہ بازار میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک عورت بچہ اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ بھڑک کر اٹھے اور اُس کے ساتھ چلنے لگے اور میں بھی اُنھی میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ پوچھ رہے تھے : تمھارے ساتھ اِس بچے کا باپ کون ہے ؟ عورت خاموش رہی تو ایک نوجوان نے جو اُس کے سامنے کھڑا تھا، کہا : یا رسول اللہ ، میں ہوں اِس کا باپ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر اُسی عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : تمھارے ساتھ اِس بچے کا باپ کون ہے ؟ نوجوان نے پھر کہا : میں ہوں اِس کا باپ ، یارسول اللہ ۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ساتھ کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا کہ اُس کے بارے میں پوچھیں تو اُنھوں نے کہا: ہم تو اچھا ہی جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم محصن ہو؟ اُس نے کہا : جی ہاں ۔ چنانچہ آپ نے حکم دیا اور اُسے رجم کر دیا گیا۔ ‘‘

شراحہ نامی عورت کے بارے میں احمد بن حنبل کی روایت ہم اِس سے پہلے نقل کر چکے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُسے جمعرات کے دن کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن رجم کرا دیا ۔ ۱۲ ؂ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جن کے شب و روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں گزرے ۔ جنھوں نے تین خلفا کا زمانہ دیکھا۔ جن کے بارے میں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رجم کے بعض مقدمات میں اُن سے مشورہ بھی کیا گیا ۔ اُن کے متعلق یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ وہ رجم سے پہلے سو کوڑے مارنے کے بھی قائل تھے ۔ اُن کے بارے میں یہ روایت اگر صحیح ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی روایات کہاں جائیں گی ؟ اور اُن کو اگر صحیح مانا جائے تو پھر اِس روایت کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ یہ کس طرح مان لیا جائے کہ حضرت علی رجم جیسی سزا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے واقف نہیں تھے ؟ اور و ہ اگر واقف نہیں تھے تو پھر بعد والوں کی واقفیت کا کیا اعتبار کہ اُسے اِس قدر اہم قانون کا ماخذ قرار دیا جائے؟ موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عثمان کے پا س ایک عورت لائی گئی جس نے شادی کے چھ ماہ بعد بچہ جنا تھا۔ اُنھوں نے حکم دیا کہ اُسے رجم کر دیا جائے ۔ اِس روایت کو بھی لوگ شادی شدہ کے لیے رجم کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں ، دراں حالیکہ بچہ اگر فی الواقع زنا ہی کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا تو یہ بات خود اِس روایت ہی سے ثابت ہو گئی کہ عورت نے اِس جرم کا ارتکاب شادی سے پہلے کیا تھا۔ پھر کیا اِس روایت کی بنیاد پر یہ دفعہ بھی قانون میں شامل کر لی جائے کہ کنواری زانیہ اگر زنا کے بعد شادی کر لے تو اِس صورت میں بھی اُسے رجم ہی کی سزا دی جائے گی ؟

ان عثمان بن عفان اتی بامراۃ قد ولدت فی ستۃ اشھر فامر بھا ان ترجم.(رقم۲۵۷۰) ’’عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس کے ہاں (شادی کے بعد) چھٹے مہینے میں بچہ پیدا ہوا تھا تو اُنھوں نے حکم دیا کہ اُسے رجم کر دیا جائے۔‘‘

سنن ابوداؤد میں قبیلۂ بکر بن لیث کے ایک آدمی کا مقدمہ نقل ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اُس پر حد زنا جاری کی ، پھر عورت سے پوچھا تو اُس نے انکار کر دیا۔ اِس پر آپ نے اُسے حد قذف کے کوڑے لگوائے ۔ اسی طرح ابوداؤد ہی کی روایت ہے کہ ایک شخص زنا کا مرتکب ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو صرف تازیانہ کی سزا دی ۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ تھا تو آپ نے اُسے رجم کرا دیا۔ یہ دونوں روایتیں ، حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بدترین اتہام ہیں ۔ آپ سے کوئی شخص کیا یہ توقع کر سکتا ہے کہ آپ نے مجرم کو کوڑے لگوانے کے بعد عورت سے پوچھا ہو گا ؟ عقل اور انصاف کا ناگزیر تقاضا کیا یہ نہ تھا کہ جب اُس نے عورت کا نام لے دیا تھا تو عورت سے پوچھے بغیر اِس مقدمے کا فیصلہ نہ کیا جاتا ؟ دوسری روایت اِس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی عاقل کیا یہ مان سکتا ہے کہ اگر سزا میں فرق کی بنیاد فی الواقع شادی ہی تھی تو آپ نے اِس کے بارے میں تحقیق کیے بغیر مجرم کو سو کوڑے لگوا دیے ؟ کسی شخص کا شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونا بھی کوئی ایسی بات ہے کہ جس کی تحقیق میں دقت ہوا کرتی ہے ؟ پھر یہ بھی خیریت ہوئی کہ پہلے کوڑے مارے گئے، ورنہ معاملہ اگر اِس کے برعکس ہو گیا ہوتا تو اُس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جاتی ؟ روایات یہ ہیں :

عن ابن عباس ان رجلاً من بکر بن لیث اتی النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم فاقر انہ زنی بامراۃ اربع مرات فجلدہ ماءۃ، وکان بکرًا، ثم ساأہ البینۃ علی المرأۃ فقالت: کذب واللّٰہ، یا رسول اللّٰہ، فجلدہ حد الفریۃ ثمانین.( رقم ۴۴۶۷) ’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلۂ بکر بن لیث کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے چار مرتبہ اقرار کیا کہ اُس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے ۔ وہ کنوارا تھا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سو کوڑے لگوائے ۔ پھر اُس سے عورت کے خلاف ثبوت چاہا تو اُس بی بی نے کہا : اللہ کی قسم ، اِس نے جھوٹ بولا ہے ، یا رسول اللہ ۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے قذف کے اسی کوڑے لگوائے ۔ ‘‘
عن جابر ان رجلاً زنی بامراۃ فلم یعلم باحصانہ فجلد ثم علم باحصانہ فرجم.( رقم ۴۴۳۹) ’’جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی۔ اُس کے بارے میں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ محصن ہے یا نہیں ۔ چنانچہ اُسے کوڑے مارے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ محصن ہے تو اُسے رجم کر دیا گیا۔‘‘

یہودی اور یہودیہ کے رجم کا جو واقعہ بخاری و مسلم اور حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں نقل ہوا ہے ، اُس کے بارے میں یہ بات آج تک طے نہیں ہو سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں اسلام کے ملکی قانون کے تحت سزادی تھی یا اُن کا اپنا مذہبی قانون اُن پر نافذ کیا تھا۔ روایات سے بظاہر یہ دوسری بات ہی معلوم ہوتی ہے ، لیکن اِس کے بعد ، ظاہر ہے کہ یہ واقعہ اِس سزا کے بارے میں کسی رائے کا ماخذ نہیں بن سکتا:

فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: فانی احکم بما فی التوراۃ فامر بھما فرجما.(ابوداؤد ، رقم ۴۴۵۰) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تورات ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ چنانچہ (اُس یہودی اور یہودیہ کے بارے میں) حکم دیا گیا اور وہ دونوں سنگ سار کر دیے گئے ۔ ‘‘
فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : اللّٰھم انی اوّل من احیا امرک اذ اماتوہ.(ابوداؤد ، رقم ۴۴۴۸) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خدایا، میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا، جب کہ یہ اُسے مردہ کر چکے تھے۔ ‘‘

غامدیہ کا واقعہ بھی حدیث کی متعدد کتابوں میں بیان ہوا ہے ۔ یہ عورت شادی شدہ تھی یا غیرشادی شدہ؟ اِس کا کوئی ذکر روایات میں نہیں ہوا۔ ایک روایت میں ہے کہ اُسے بچے کی پیدایش کے فوراً بعد رجم کر دیا گیا ، اور دوسری روایت میں اِس کے برخلاف پوری صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اُس پر سزا اُس وقت نافذ کی گئی جب دودھ چھٹانے کے بعد اُس کا بچہ خود کچھ کھانے کے قابل ہو گیا۔ اِس عرصے کے دوران میں یہ کہاں رہی ؟ ایک روایت کے مطابق اُسے ایک انصاری نے اپنے پاس رکھا اور دوسری روایت کے مطابق یہ ذمہ داری اُس کے ولی پر ڈالی گئی۔ یہ کوئی ڈیرے والی تھی جو پیغمبر سے بیعت میں یہ وعدہ کرنے کے بعد کہ اب وہ زنا کے قریب نہ جائے گی، پھر اِس جرم میں ملوث ہوئی اور حمل کی وجہ سے اعتراف پر مجبور ہو گئی یا کوئی شریف زادی تھی جو شوہر کے ہوتے ہوئے کہیں اتفاقاً بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھی ؟ اِس سوال کا جواب روایات سے نہیں ملتا ۔اِسی طرح یہ بات بھی واضح نہیں ہوتی کہ اُس کا شوہر (اگر کوئی تھا) اور اُس کے اہل قبیلہ اِس قضیے کے دوران میں کہاں غائب رہے ؟ اُس کی تدفین کے وقت بھی اُس کے گھر والوں میں سے کوئی سامنے نہیں آیا۔یہ اگر کوئی خاندانی عورت تھی تو اِس طرح کے مواقع پر جو اضطراب فطری طور پر اہل خاندان میں پیدا ہونا چاہیے ، اُس کے کوئی آثار روایات میں کیوں نہیں ملتے ؟ روایات یہ ہیں :

قالت : انھا حبلی من الزنیٰ فقال: آنت؟ قالت: نعم، فقال لھا: حتی تضعی ما فی بطنک. قال: فکفلھا رجل من الانصارحتی وضعت، قال: فاتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: قد وضعت الغامدیۃ، فقال: اذاً لا نرجمھا وندع ولدھا صغیرًا لیس لہ من یرضعہ فقام رجل من الانصار فقال: الیّ رضاعہ یا نبی اللّٰہ، قال: فرجمھا. (مسلم، رقم۴۴۳۱) ’’اُس عورت نے کہا : یہ بندی زنا سے حاملہ ہے ۔ حضور نے پوچھا : کیا تم فی الواقع حاملہ ہو؟ اُس نے کہا: ہاں۔ اِس پر آپ نے فرمایا: انتظار کرو تاکہ وضع حمل ہو جائے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اِس کے بعد انصار کے ایک شخص نے اُسے اپنی کفالت میں لے لیا ، یہاں تک کہ اُس نے بچہ جن دیا ۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ غامدیہ نے بچہ جن دیا ہے۔ آپ نے فرمایا : ہم اِس وقت بھی اُسے رجم نہ کریں گے کہ اُس کے بچے کو اِسی طرح چھوڑ دیں اور اُسے کوئی دودھ پلانے والا بھی نہ ہو ۔ انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی تو اُ س نے کہا : اُس کی رضاعت کا ذمہ میں لیتا ہوں، یا رسول اللہ۔ راوی کا بیان ہے کہ اِس پر آپ نے اُسے رجم کر دیا۔ ‘‘
قالت: یا رسول اللّٰہ لم تردنی؟ لعلک ان تردنی کما رددت ماعزًا، فواللّٰہ انی لحبلی قال: اما لا، فاذھبی حتی تلدی. فلما ولدت اتتہ بالصبی فی خرقۃ، قالت: ھذا قد ولدتہ ، قال: اذھبی فأرضعیہ حتی تفطمیہ فلما فطمتہ اتتہ بالصبی فی یدہ کسرۃ خبز، فقالت: ھذا، یا نبی اللّٰہ قد فطمتہ، و قد اکل الطعام، فدفع الصبی الی رجل من المسلمین ثم امر بھا فحفر لھا الی صدرھا وامر الناس فرجموھا.(مسلم ، رقم ۴۴۳۲) ’’اُس عورت نے کہا : اے اللہ کے رسول ، آپ مجھے کیوں لوٹاتے ہیں؟ غالباً اُسی طرح جس طرح آپ نے ماعز کو لوٹایا تھا۔ بخدا ، میں تو حاملہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : تو نہیں ٹلتی تو جا ، اُس کی ولادت تک انتظار کر۔ چنانچہ جب ولادت ہو گئی تو وہ بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر لائی اور اُس نے کہا : یہ ہے جسے میں نے جنم دیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اُسے دودھ پلاؤ ، یہاں تک کہ تم اُس کا دودھ چھٹا سکو ۔ چنانچہ جب اُس نے دودھ چھٹا دیا تو وہ بچے کو لے کر اِس طرح آئی کہ اُس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور اُس نے کہا : اے اللہ کے نبی ، یہ میں نے اِس کا دودھ چھٹا دیا اور یہ اب کھانے لگا ہے ۔ اِس پر آپ نے بچے کو مسلمانوں میں سے ایک شخص کے سپرد کیا۔ پھر حکم دیا کہ اِس کے سینے تک گڑھا کھودا جائے ۔ پھر لوگوں سے کہا اور اُنھوں نے اُسے رجم کر دیا۔ ‘‘
عن عمران بن حصین ان امراۃ من جھینۃ اتت نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھی حبلی من الزنا فقالت: یا نبی اللّٰہ، اصبت حدًا فاقمہ علی فدعا نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولیھا فقال: احسن الیھا فاذا وضعت فائتنی بھا ففعل فامر بھا نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فشکت علیھا ثیابھا ثم امر بھا فرجمت.(مسلم ، رقم۴۴۳۳) ’’عمران بن حصین کی روایت ہے کہ قبیلۂ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی ۔ اُس نے حضور سے کہا : اے اللہ کے پیغمبر، میں حد کی مستحق ہوں، مجھے سزا دیجیے ۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ولی کو بلایا اور اُس سے کہا : اِس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور جب یہ بچہ جن لے تو اِسے میرے پاس لے آؤ ۔ چنانچہ اُس نے یہی کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو اُس کے کپڑے اُس کے جسم پرباندھ دیے گئے ۔ پھر حکم دیا تو وہ رجم کر دی گئی۔ ‘‘

مزدور کا مقدمہ بھی حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں بیان ہوا ہے ۔ بخاری کی روایت کے مطابق، یہ جس شخص کے ہاں اجرت پر کام کرتا تھا، اُس کی بیوی سے زنا کا مرتکب ہوا ۔ اُس کے باپ نے اُس شخص کو سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر راضی کر لیا ۔ مگر اہل علم نے اُسے بتایا کہ اِس معاملہ میں راضی نامہ کی گنجایش نہیں ہے ۔ چنانچہ وہ اُس شخص کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ حضور نے فرمایا: بکریاں اور لونڈی تجھی کو واپس ۔ تیرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور اِس شخص کی بیوی اگر اعتراف کرے تو اُسے رجم کیا جائے گا :

اخبرنی عبید اللّٰہ انہ سمع اباھریرۃ وزید بن خالد قالا: کنا عند النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقام رجل فقال : انشدک اللّٰہ الا قضیت بیننا بکتاب اللّٰہ، فقام خصمہ وکان افقہ منہ، فقال: اقض بیننا بکتاب اللّٰہ وأذن لی. قال: قل، قال: ان ابنی کان عسیفًا علی ھذا فزنیٰ بامراتہ فافتدیت منہ بماءۃ شاۃ وخادم ثم سالت رجالاً من اھل العلم فاخبرونی ان علی ابنی جلد ماءۃ وتغریب عام وعلی امراتہ الرجم. فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لاقضین بینکما بکتاب اللّٰہ جل ذکرہ: الماءۃ شاۃ والخادم رد علیک وعلی ابنک جلد ماءۃ و تغریب عام، واغد یا انیس علی امرأۃ، ھذا فان اعترفت فارجمھا. ( رقم ۶۸۲۸) ’’عبید اللہ نے مجھے بتایا کہ ابوہریرہ اور زید بن خالد، دونوں نے اُن سے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اٹھا اور اُس نے کہا : میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کردیں ۔ اِس پر فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اُس کے مقابلے میں کچھ سمجھ دار معلوم ہوتا تھا۔ اُس نے کہا کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کیجیے اور مجھے اجازت دیجیے کہ میں روداد مقدمہ بیان کروں ۔ آپ نے فرمایا: کہو، اُس نے عرض کیا : میرا بیٹا اِس شخص کے ہاں مزدور تھا۔ اِس کی بیوی سے اُس نے زنا کا ارتکاب کیا۔ میں نے اِسے سوبکریاں اور ایک خادم فدیہ کے طور پر دیے۔ پھر میں نے بعض اہل علم سے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور اِس کی بیوی سنگ سار کی جائے گی۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، میں تمھارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھی کو واپس۔ تیرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور انیس، تم اِس کی بیوی کے پاس جاؤ۔ وہ اگر اعتراف کرے تو اُسے رجم کر دو۔‘‘

اِس مقدمہ کی یہ روداد بھی ، اگر غور کیجیے ، تو نہایت مبہم ہے ۔ یہ کون غیور عرب تھا جس نے بیوی کی گردن مار دینے یا کم سے کم اُسے علیحدہ کر دینے کے بجائے اُس کی عصمت کا سودا ایک لونڈی اور سو بکریوں میں چکا دیا؟ کیا یہ فی الواقع شرفا کا کوئی گھرانا تھا یا اس کی روایت یہی تھی کہ پہلے کسی شخص کو پھانسا جائے اور پھر آبرو کی قیمت لے کر معاملہ ختم کر دیا جائے ؟ جرم کا افشا کس طرح ہوا ؟ مجرم پکڑے گئے یا بیوی نے خود شوہر کو بتایا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ہے اور اب وہ لڑکے کے باپ سے لونڈی اور بکریوں کا مطالبہ کر سکتا ہے ؟ لڑکے کا کردار کیا تھا؟ مقدمے کی روداد میں بصراحت بیان ہوا ہے کہ فریقین جب حضور کے پاس آئے تو مسئلہ اِس جرم کی سزا کے بارے میں محض کسی علمی اختلاف کا نہ تھا، بلکہ اِس کی نوعیت ایک جھگڑے کی تھی ۔ یہ جھگڑا کیوں پیدا ہوا؟ اِس کی نوعیت کیا یہی نہ تھی کہ عورت کا شوہر لونڈی اور بکریاں ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہ تھا اور لڑکے کے باپ کی خواہش تھی کہ زانیہ بھی کیفرکردار کو پہنچے اور اُس کے بیٹے کو بھی قرار واقعی تنبیہ ہو جائے ؟ اِن سوالات کا کوئی واضح جواب اِس مقدمے کی روداد میں نہیں ہے ۔ اِس سلسلہ کا اہم ترین مقدمہ ماعز اسلمی کا ہے ۔ یہ ایک یتیم تھا جس کی پرورش ہزال اسلمی کے گھرمیں ہوئی۔ ۱۳؂ ایک دن یہ اُن کے پاس آیا اور اُنھیں بتایا کہ میں مہیرہ نامی ایک عورت کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ آج اُس سے اپنی خواہش میں نے پوری کر لی ، لیکن اب نادم ہوں کہ میں نے یہ کیا حرکت کر ڈالی ۔ ۱۴ ؂ ہزال نے اُسے مشورہ دیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خود حاضر ہو جاؤ۔اِس سے اُن کا مقصود یہ تھاکہ اِس جرم کی پاداش سے بچنے کی کوئی صورت اُس کے لیے نکل آئے گی۔ ۱۵ ؂ چنانچہ یہ پہلے سیدنا صدیق اور سیدنا عمر فاروق کے پاس گیا اور دونوں کی اِس نصیحت کے باوجود کہ اللہ سے رجوع کرو اور جو پردہ اُس نے تم پر ڈالا ہے ، اُس میں چھپے رہو ، ۱۶ ؂ محض اِس خیال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا کہ آپ اُسے کوئی معمولی سزا دے کر چھوڑ دیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :

انا لما خرجنا بہ فرجمناہ فوجد مس الحجارۃ صرخ بنا: یا قوم، ردّونی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فان قومی قتلونی وغرونی من نفسی واخبرونی ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم غیرقاتلی.(ابوداؤد ، رقم ۴۴۲۰) ’’ہم نے اُسے باہر لا کر سنگ سار کرنا شروع کیا۔ پتھر پڑے تو وہ چیخا : لوگو، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو ۔ میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے مروا دیا ۔ اُنھوں نے مجھے دھوکے میں رکھا۔ وہ مجھے یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قتل نہیں کرائیں گے ۔ ‘‘

بعض روایات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے اُسی نے اپنے جرم کے بارے میں بتایا ، ۱۷ ؂ لیکن ابن عباس کی ایک روایت میں بالصراحت بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے آنے سے پہلے ہی اُس کے جرم سے مطلع تھے ۔ روایت یہ ہے :

ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لماعز بن مالک: أحق ما بلغنی عنک؟ قال: وما بلغک عنی. قال : بلغنی انک وقعت بجاریۃ آل فلان، قال: نعم، قال: فشھد اربع شھادات، ثم امر بہ فرجم.(مسلم ، رقم ۴۴۲۷) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز سے پوچھا : مجھے تمھارے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے ، کیا وہ درست ہے ؟ اُس نے کہا : آپ کو میرے بارے میں کیا معلوم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے فلاں قبیلہ کی لڑکی کے ساتھ بدکاری کی ہے۔ اُس نے کہا : ہاں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اِس کے بعد اُس نے چار مرتبہ اقرار کیا، تب اُس پر سزا نافذ کرنے کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ اُسے رجم کر دیا گیا۔ ‘‘

اِس کے جرم کی نوعیت کیا تھی؟ اِس کے بارے میں کوئی واضح بات اگرچہ روایات میں بیان نہیں ہوئی، لیکن ابن سعد کی روایت کے مطابق جس عورت سے اُس نے بدکاری کی ، اُسے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، مگر اُس سے کچھ مواخذہ نہیں کیا ، اِس وجہ سے صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا :

دعا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المرأۃ التی اصابھا فقال: اذہبی ولم یسألھا عن شی ء. (الطبقات الکبریٰ ۳/۲۲۹) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس عورت کو بلایا جس سے ماعز نے زنا کیا تھا، پھر اُسے کہا : چلی جاؤ اور اُس سے کچھ تعرض نہیں کیا۔‘‘