[یہ مضامین اُن تنقیدوں کے جواب میں لکھے گئے ہیں جو رجم کی سزا کے بارے میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے اُس موقف پر ہوئی ہیں ، جو اُنھوں نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘ میں بیان کیا ہے ۔] ۱

زنا کی سزا کے بارے میں جو قطعی حکم قرآن مجید کی سورۂ نور میں بیان ہوا ہے ، اُس میں بالصراحت فرمایا گیا ہے کہ زانی مرد ہو یا عورت، اُن میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارے جائیں گے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ قرآن مجید کا یہ حکم اپنے اسلوب کے اعتبار سے بہت کچھ شرح و وضاحت کا متقاضی ہے ، لیکن ہمارے فقہا نے اِس کے ساتھ جو طرفہ معاملہ کیا ہے ، اُس کی رو سے احناف کے نزدیک یہ سزا صرف کنوارے زانیوں کے لیے ہے ، شادی شدہ زانیوں کی سزا سنت نے مقرر کی ہے اور وہ رجم یعنی سنگ ساری ہے ۔ شادی شدہ زانیوں کی سزا کے بارے میں یہی رائے شوافع اور مالکیہ کی ہے ۔ رہے غیر شادی شدہ زانی تو امام شافعی، امام احمد ، امام داؤد، اسحق بن راہویہ، سفیان ثوری، حسن بن صالح اور ابن ابی لیلیٰ اُن کی سزا بھی سنت ہی سے اخذ کرتے ہیں اور وہ اُن کی رائے کے مطابق مردو عورت ، ہر دو کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے ۔ امام مالک اور امام اوزاعی بھی کنوارے مردوں کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کے قائل ہیں۔ امام احمد، اسحق بن راہویہ اور داؤد ظاہری شادی شدہ زانیوں کے معاملے میں بھی اِن حضرات سے متفق نہیں ہیں ۔ اُن کی تحقیق کے مطابق شادی شدہ زانیوں کو قرآن مجید کی رو سے سو کوڑے مارنے کے بعد سنت کی پیروی میں سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔ زنا کی سزا کے بارے میں ہمارے فقہا کے اِن مسالک پر غورکرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اِن حضرات نے قرآن مجید کی بیان کردہ سزا میں سنت کے ذریعے سے اضافہ کر دیا ہے یا اُسے کنوارے اور کنواری کے ساتھ خاص قرار دیا ہے ۔ فقہا کے ایک گروہ کے نزدیک یہ تخصیص ہے اور دوسرا اِسے نسخ سے تعبیر کرتا ہے ۔ اِس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلا گروہ لفظ تخصیص سے جو مفہوم مراد لیتا ہے ، دوسرے کے نزدیک وہ نسخ ہے ، اور دوسرا گروہ جسے نسخ کہتا ہے ، پہلے گروہ کے ہاں اُس کی بہت سی صورتوں کے لیے تخصیص کی اصطلاح رائج ہے ۔ بہرحال اِسے نسخ کہیے یا تخصیص ، اِس کی دلیل چونکہ سنت سے دی جاتی ہے ، اِس وجہ سے یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ سنت کیا قرآن مجید کے کسی حکم میں اِس نوعیت کا تغیر و تبدل کر سکتی ہے ؟ اصطلاحات کے فرق سے قطع نظر کر لیا جائے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے فقہا نے اس سوال کا جواب مطلق اثبات میں دیا ہے ۔ ہمیں اِس امر واقعی سے انکار نہیں ہے کہ ہمارے یہ اکابر علم دین میں مسلمہ حیثیت کے حامل تھے ، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اِن میں سے کسی نے اِسے اِس دلیل کی بنیاد پر منوانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ چونکہ اُس کی اور اُس کی طرح بعض بڑے بڑے لوگوں کی رائے ہے ، اِس لیے اِسے لازماً تسلیم کر لیا جائے ۔ اِس کے برعکس اُن میں سے ہر ایک نے اپنی کتابوں میں جہاں اپنا یہ موقف پیش کیا ہے ، وہاں اِس کے عقلی و نقلی دلائل بھی بیان کیے ہیں ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ بات اگر دلیل سے کی جائے تو اُس کے ردو قبول کا فیصلہ بھی دلیل کی بنیاد پر ہو گا۔ دلیل قوی ہے تو ہر اُس شخص کو جو دیانت داری کے ساتھ حق کا طالب ہے ، اُسے قبول کرنا چاہیے اور دلیل کمزور ہے تو اُسے پیش کرنے والے سلف و خلف کے اکابر ہی کیوں نہ ہوں ، طالب حق کو پوری قوت کے ساتھ اُسے رد کر دینا چاہیے ۔ آپ کسی بات کو دلیل سے منواناچاہتے ہیں تو دوسروں کا یہ حق بھی تسلیم کیجیے کہ وہ اُسے دلیل ہی کی بنیاد پر ماننے سے انکار کر دیں ۔ علم و استدلال نہ کسی گروہ کی میراث ہے ، نہ کسی دور کا خاصہ ۔ اگلوں کو اگر ایک اصول بنانے کا حق تھا تو ہمیں دلائل کے ساتھ اُس کے ابطال کا بھی حق ہے۔ تنقید سے بالاتر اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف کتاب و سنت ہیں اور اُن کی تعبیر و تشریح کا حق ہر اُس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اِس کی اہلیت پیدا کر لے ۔ جو لوگ ہم سے پہلے آئے، وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں اور انسانوں میں سے صرف پیغمبر ہی یہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی بات بے چون و چرا تسلیم کی جائے ۔ دین کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہم یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اِن حضرات کی جلالت علمی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اِن کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور اِس موضوع سے متعلق وہ ساری چیزیں پڑھی ہیں جو اِس فن میں امہات کا درجہ رکھتی ہیں، لیکن ہمارے نزدیک چونکہ یہ سب حضرات پیغمبر نہیں تھے، اِس لیے اِن کے دلائل کی صحت و عدم صحت کا جائزہ لینے کی جسارت بھی ہم نے کی ہے ۔ برسوں کے مطالعہ اور فکر و تدبر کے بعد ہم اُس عقیدت و احترام کے باوجود جو اِن حضرات کی علمی خدمات کے لیے ہمارے دل میں ہے ، یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اپنے اِس موقف کی تائید میں جتنے دلائل اُنھوں نے پیش فرمائے ہیں، وہ سب منطقی مغالطوں پر مبنی اور بے حد کمزور ہیں ۔ اِس وجہ سے ہمارے نزدیک یہ اصول کہ سنت قرآن مجید کے احکام میں کسی نوعیت کا تغیر و تبدل کر سکتی ہے ، عقل و نقل، دونوں کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ رجم کی سزا کے بارے میں ہمارے فقہا نے اپنے استدلال کی عمارت چونکہ اِس اصول کی بنیاد پر استوار کی ہے ، اِس وجہ سے ہماری رائے میں بہتر یہی ہے کہ اُن کے بعض دوسرے ارشادات پر تنقید سے پہلے اِس اصول کی غلطی واضح کر دی جائے ، کیونکہ اصل کی تردید کے بعد فروع خود بخود بے معنی ہو جائیں گی ۔

سنت اور قرآن کا باہمی تعلق

سنت قرآن مجید کے بعد دین کا دوسرا قطعی ماخذ ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ اصول ایک ناقابل انکار علمی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات قیامت تک کے لیے اُسی طرح واجب الاطاعت ہیں ، جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اِس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ کا کام ختم ہو گیا ۔ رسول کی حیثیت سے آپ کا ہر قول و فعل بجائے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو یہ مرتبہ کسی امام و فقیہ نے نہیں دیا ہے ، خود قرآن نے آپ کا یہی مقام بیان کیا ہے ۔ کوئی شخص جب تک صاف صاف قرآن کا انکار نہ کر دے ، اُس کے لیے سنت کی اِس قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ہے ۔ قرآن نے غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر امرو نہی کی بے چون و چرا تعمیل کی جانی چاہیے :

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ.(النساء ۴ : ۶۴) ’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اِسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اُس کی اطاعت کی جائے ۔ ‘‘

سنت کے یہ اوامر و نواہی دو قسم کے معاملات سے متعلق ہوسکتے ہیں : ایک وہ جن میں قرآن مجید بالکل خاموش ہے اور اُس نے صراحۃً یا کنایۃً کوئی بات نہیں فرمائی ہے اور دوسرے وہ جن میں قرآن مجید نے نفیاً یا اثباتاً کوئی حکم دیا ہے یا کوئی اصول بیان فرما دیا ہے ۔ پہلی قسم کے معاملات میں اگر سنت کے ذریعے سے کوئی حکم یا قاعدہ ہمیں پہنچے تو اُ س کے بارے میں باعتبار اصول کسی بحث و نزاع کا سوال نہیں ہے۔ اِس طرح کے معاملات میں سنت بجائے خود مرجع و ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اِن معاملات میں ہمارا دائرۂ عمل بس یہ ہے کہ ہم اُن کا مفہوم و منشا متعین کریں اور اِس کے بعد بغیر کسی تردد کے اُن پر عمل پیرا ہوں ۔ رہے دوسری قسم کے معاملات، یعنی وہ جن میں قرآن مجید نے کوئی حکم یا قاعدہ بیان فرمایا ہے تو اُن کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ سنت نہ قرآن مجید کے کسی حکم اور کسی قاعدے کو منسوخ کر سکتی ہے اور نہ اُس میں کسی نوعیت کا کوئی تغیر و تبدل کر سکتی ہے ۔ سنت کو یہ اختیار قرآن مجید نے نہیں دیا ہے اور اب کسی امام و فقیہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بطور خود سنت کے لیے یہ اختیار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ قرآن مجید کے کسی حکم میں تغیر و تبدل کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے کہ آپ عقلی قیاسات کی بنا پر اُس کے بارے میں حکم لگائیں ۔ سنت کو اِس طرح کا کوئی اختیار اگر حاصل ہے تو اِس کے لیے قرآن مجید کے واضح اور قطعی نصوص پیش کیے جانے چاہییں۔ اِس سے کم تر درجے کی کسی چیز کے ذریعے سے یہ اختیار سنت کے لیے ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم اگر یہ کہتے ہیں کہ سنت کو قرآن مجید کے کسی حکم کے نسخ یا اُس میں کسی نوعیت کے تغیر و تبدل کا اختیار حاصل نہیں ہے تو اِس کے لیے صرف یہ دلیل کافی ہے کہ قرآن کے بین الدفتین کسی آیت میں بھی یہ اختیار سنت کے لیے ثابت نہیں ہے ۔ ہر وہ شخص جو سنت کے لیے اِس اختیار کا مدعی ہے ، یہ بتانا اُس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ اختیار بطور خود سنت کو دے رہا ہے یا قرآن نے سنت کو یہ اختیار دیا ہے ۔ پہلی صورت میں اُس کا قول دین میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ دوسری صورت میں اُسے قرآن سے اپنا یہ دعویٰ ثابت کرنا ہو گا۔ اگلوں نے اِس دعویٰ کا اثبات جن عقلی و نقلی دلائل سے کیا ہے ، اُن کی بے مایگی ، خدا نے چاہاتو ہم آگے چل کر واضح کر دیں گے ۔ یہاں صرف اتنی بات کہنا پیش نظر ہے کہ معاملات تکوینی ہوں یا تشریعی، خدا کی بادشاہی میں جس کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل ہے ، اُس کے لیے فرمان تفویض بہرحال قرآن مجید سے پیش کیا جائے گا ۔ فلاں ا ور فلاں کے اقوال سے نہ کوئی ایسا اختیار آپ کسی کے لیے ثابت کر سکتے ہیں جو اُسے قرآن نے نہیں دیا ہے اور نہ کسی ایسے اختیار کی نفی کر سکتے ہیں جو قرآن مجید سے اُس کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہم یہ بات بغیر کسی تردد کے کہہ سکتے ہیں کہ سنت کے لیے اِس طرح کا کوئی اختیار قرآن مجید میں کسی جگہ بیان نہیں ہوا ہے ۔ اِس کے برعکس قرآن مجید واضح طور پر کہتا ہے کہ رسول قرآن کے لفظ ومعنی میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں کر سکتا ۔ وہ اِس بات کا پابند ہے کہ جو کلام اُس کی طرف نازل کیا گیا ہے ، اُسے دوسروں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ہر حالت میں اُ س کے احکام کی پیروی کرے ۔ قرآن کا ارشاد ہے :

قُلْ: مَا یَکُوْنُ لِیْ ٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیئ نَفْسِیْ، اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ.(یونس ۱۰ : ۱۵) ’’کہہ دو : میں یہ حق نہیں رکھتا کہ اپنی طرف سے اِس قرآن میں کوئی ترمیم کر دوں۔ میں تو بس اُس چیز کا پیرو ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ ‘‘

اِس آیت کے بارے میں جو معارضات بعض علما نے پیش فرمائے ہیں، اُن کا جواب تو ہم، ان شاء اللہ، آگے کے مباحث میں دے دیں گے ۔ یہاں اتنی بات البتہ، واضح رہنی چاہیے کہ سنت کے لیے قرآن کے احکام میں نسخ یا تغیر و تبدل کا اختیار ، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ، کسی مثبت دلیل ہی سے ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ یہ اور اِس مفہوم کی دوسری آیات کی مسئلۂ زیر بحث پر دلالت سے انکار سنت کے لیے اِس طرح کا کوئی اختیار ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ قرآن پادشاہ ارض و سما کا کلام ہے ۔ اُس نے اپنا یہ مقام جگہ جگہ واضح کیا ہے کہ اُس کی حیثیت فرقان یعنی کسوٹی کی ہے ۔ کوئی چیز اُس پر قاضی نہیں ہے ۔ وہ ہر اُس چیز کے لیے قاضی ہے جو اِس زمین پر خدا یا خدا کے کسی رسول کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔ رسول اُس کے احکام کا پیرو ہے ۔ وہ اِن احکام میں کسی ترمیم و تغیر کا مجاز نہیں ہے ۔ نسخ و ترمیم کے اِس اختیار کی تردید کے بعد زیادہ سے زیادہ جو بات اِس سلسلے میں کہی جا سکتی ہے ، وہ یہ ہے کہ سنت قرآن کی تبیین کر سکتی ہے ۔ قرآن مجید کی جو آیت اِس کے حق میں بالعموم پیش کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے :

وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ.(النحل ۱۶ : ۴۴) ’’اور ہم نے تم پر بھی یہ ذکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اُس چیز کو واضح کر دو جو اُن کی طرف نازل کی گئی ہے ۔ ‘‘

آیت کا مدعا یہ ہے کہ خالق کائنات نے اپنا یہ فرمان محض اِس لیے پیغمبر کی وساطت سے نازل کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے اُس کی تبیین کرے ۔ گویا ’تبیین‘ یا ’بیان‘ پیغمبر کی منصبی ذمہ داری بھی ہے اور اُس کے لازمی نتیجے کے طور پر اُس کا حق بھی جو اُسے خود پروردگار عالم نے دیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر مامور من اللہ ’مبین کتاب‘ ہے ۔ پیغمبر اور قرآن کا یہی وہ تعلق ہے جسے فن اصول کی شہرۂ آفاق کتاب ’’الموافقات‘‘ کے مصنف امام شاطبی نے اِس طرح بیان کیا ہے :

ان السنۃ اما بیان للکتاب او زیادۃ علٰی ذلک. فان کان بیانًا فھو ثان علی المبین فی الاعتبار... وان لم یکن بیانًا فلا یعتبر الا بعد ان لا یوجد فی الکتاب.(۴/۶) ’’سنت یا قرآن کا بیان ہو گی یا اُس پر اضافہ۔ پس اگر وہ بیان ہے تو اُس کا مرتبہ اُس چیز کے مقابلے میں ثانوی ہے جس کا وہ بیان ہے ، اور اگر بیان نہیں ہے تو اُس کا اعتبار صرف اُس صورت میں ہو گا، جبکہ وہ چیز جو اُس میں مذکور ہے ، قرآن مجید میں نہ پائی جائے ۔ ‘‘

شاطبی کے اِس بیان سے واضح ہے کہ سنت ہر اُس معاملے میں ، جس میں قرآن مجید خاموش ہے، بجائے خود ماخذ قانون کی حیثیت رکھتی ہے ، لیکن اگر کوئی چیز قرآن مجید میں مذکور ہے تو سنت صرف اُس کی ’تبیین‘ کر سکتی ہے ۔ اِس طرح کے معاملات میں اِس سے زیادہ کوئی اختیار سنت کو حاصل نہیں ہے ۔ قرآن مجید سے متعلق سنت کے اِس اختیار کی وضاحت کے بعد اب غور طلب مسئلہ صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اِس ’تبیین‘ کے معنی کیا ہیں ؟ اِس کی جامع و مانع منطقی تعریف کیا ہے ؟ اور اِس تعریف کی رو سے کیا چیز ’تبیین‘ قرار پاتی ہے اور کس چیز کو ’تبیین‘ قرار دینا ممکن نہیں ہے ؟

’تبیین‘ کا مفہوم

’تبیین‘ عربی زبان کا ایک معروف لفظ ہے ۔یہ اپنے مفعول کے ساتھ آئے تو اِس کے معنی محض بیان کر دینے، کے بھی ہوتے ہیں اور واضح کرنے کے بھی۔ آیۂ زیر بحث میںیہ ’مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ‘ کی طرف متعدی ہو کر استعمال ہوا ہے۔ اِس لیے دوسرے معنی مراد لیے جائیں، جوبالعموم لوگوں نے لیے ہیں تو یہاں اِس کا مفہوم ٹھیک وہی ہو گا جس کے لیے ہم لفظ ’شرح‘ بولتے ہیں ۔ قرآن مجید اور کلام عرب ، دونوں میں یہ لفظ اِس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ سورۂ بقرہ میں جہاں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اُس مقام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود چونکہ اللہ کے اِس حکم پر عمل کرنے سے گریزاں تھے ، اِس لیے اُنھوں نے ’اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً‘ کے حکم کو، جس میں لفظ ’بقرۃ‘ کے نکرہ کی صورت میں آنے کے باعث یہ بات بالکل واضح تھی کہ اُنھیں کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، جب اپنے خبث باطن کی وجہ سے غیر واضح قرار دے دیا اور اللہ تعالیٰ سے اُس کی شرح و وضاحت کے طالب ہوئے تو اُنھوں نے بار بار یہی لفظ استعمال کیا ۔ قرآن مجید میں یہ مکالمہ اِس طرح نقل ہوا ہے :

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ : اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً، قَالُوْٓا: اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا؟ قَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ. قَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ؟ قَالَ: اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلاَ بِکْرٌ، عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِکَ، فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ، قَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَا؟ قَالَ: اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآءُ، فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ، قَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ؟ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا وَاِنَّآ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ. قَالَ: اِنَّہٗ یَقُوْلُ: اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ، مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیْھَا. قَالُوا: الْءٰنَ جِءْتَ بِالْحَقِّ. فَذَبَحُوْھَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ. (البقرہ ۲ : ۶۷۔ ۷۱) ’’اور وہ واقعہ یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔ کہنے لگے : تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو ۔ موسیٰ نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی بات کروں ۔ بولے : اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ واضح کرے کہ گائے کیسی ہو ؟ موسیٰ نے کہا : اُس کا ارشاد ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، میانہ عمر کی ہو ، تو عمل کرو اُس حکم پر جو تمھیں دیا جا رہا ہے ۔ کہنے لگے: اپنے رب سے پوچھو کہ وہ واضح کرے کہ اُس کا رنگ کیسا ہو ؟ موسیٰ نے کہا : وہ فرماتا ہے کہ وہ سنہری ہو ، ایسی شوخ رنگ کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے ۔ پھر کہنے لگے : اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ اچھی طرح واضح کر دے کہ کیسی گائے مطلوب ہے ؟ ہمیں گایوں کے امتیاز میں اشتباہ ہو رہا ہے، اور اللہ نے چاہا تو اب ہم پتا پا لیں گے۔ موسیٰ نے جواب دیا : وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی ، زمین جوتنے والی اور کھیتوں کے لیے پانی کھینچنے والی نہ ہو۔ پورے بدن کی، یک رنگ اور بے داغ ہو۔ بولے : اب تم نے واضح بات کہی ۔ پھر اُنھوں نے اُسے ذبح کیا ، اور وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔ ‘‘

اعشیٰ میمون بن قیس منافرت کے ایک معاملے میں علقمہ بن علاثہ کی ہجو اور عامر بن طفیل کی مدح کرتے ہوے کہتا ہے :

انّ الّذی فیہ تداریتما بین للسّامع والاٰثر
’’بے شک، وہ بات جس میں تم اختلاف کر رہے تھے ، ہر سننے والے اور آگے بیان کرنے والے کے لیے واضح کر دی گئی ہے ۔ ‘‘

اعشیٰ ہی کا ایک اور شعر ہے :

فلعمر من جعل الشھور علامۃ قدرًا فبین نصفھا و ھلالھا
’’پس قسم ہے اُس ذات کی جس نے مہینوں کو اندازے کی علامت ٹھیرایا ، پھر اُن کا نصف بھی واضح کر دیا اور اُن کی ابتدا بھی ۔ ‘‘

قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے اُسے منصۂ شہود پر لانے کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ یہود نے جب کلام کے واضح مفہوم سے گریز کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ تو بس متکلم کا منشا معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اِس کے لیے بار بار یہی لفظ ’تبیین‘ استعمال کیا ۔ اعشیٰ کا ممدوح چند اوصاف کا حامل تھا ، لیکن جب مخالفوں نے اُنھیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اعشیٰ نے اُن میں سے ایک ایک کو دلائل کے ساتھ نمایاں کر دیا اور وہ پردۂ خفا سے نکل کر عالم ظہور میں آ گئے تو اُس نے اِسے ’تبیین‘ قرار دیا ۔ دنیا کے خالق نے سال کو مہینوں اور مہینوں کو دنوں میں تقسیم کیا تو اُن کی ایک ابتدا بھی وجود میں آئی اور ایک نصف بھی ، لیکن دنوں کے الٹ پھیر کی وجہ سے جب اِس ابتدا اور نصف کے غیاب میں چلے جانے کا اندیشہ ہوا تو چاند کے منازل سے اُس کی ’تبیین‘ کر دی گئی ۔ گویا ’تبیین‘ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی ، جسے باہر سے لا کر کسی بات ، کسی معاملے یا کسی کلام کے سر پر لا د دیا جائے ۔ وہ کسی بات کی وہ کنہ ہے جو ابتدا ہی سے اُس میں موجود ہوتی ہے ، آپ اُسے کھول دیتے ہیں ۔ وہ کسی کلام کا وہ مدعا ہے جو اُس کلام کی پیدایش کے وقت ہی سے اُس کے ساتھ ہوتا ہے ، آپ اُسے واضح کر دیتے ہیں ۔ وہ کسی چیز کا وہ لازم ہے جو شروع ہی سے اُس کے وجود کی حقیقت میں پوشیدہ ہوتا ہے ، آپ اُس کو منصۂ شہود پر لے آتے ہیں ۔ ’تبیین‘ کی حقیقت اِس سے بال برابر زیادہ ہے نہ کم ۔ آیۂ نحل میں یہ لفظ کلام خداوندی کے لیے استعمال ہوا ہے ، اِس وجہ سے وہاں اِس کا مفہوم اِس کے سوا کچھ نہیں کہ متکلم کا وہ ارادہ جو ابتدا ہی سے اُس کے کلام میں موجود ہے ، اُسے واضح کر دیا جائے ۔

’تبیین‘ کی تعریف

’تبیین‘ کے اِس لغوی مفہوم کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے اگر اُس کی تعریف متعین کرنا پیش نظر ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں :

’’تبیین کسی کلام کے متکلم کے اُس مدعا کا اظہار ہے جسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے وہ اِس کلام کو ابتداءً وجود میں لایا تھا۔‘‘

یہی مفہوم ہے جس کے لیے ہم اپنی زبان میں لفظ ’شرح‘ بولتے ہیں ۔ شرح بس شرح ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اِس لفظ کا اطلاق کسی ایسی ہی بات پر کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں آپ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ فی الواقع اُس کلام کے متکلم کا منشا ہے جس کی طرف آپ وہ بات منسوب کر رہے ہیں ۔ آپ کسی کلام سے متعلق کچھ فرماتے ہیں او رپھر دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ کا یہ ارشاد اُس کلام کی شرح ہے تو اِسے محض آپ کے اِس ارشاد کی بنا پر تسلیم نہیں کر لیا جائے گا ۔ ہر عاقل آپ سے مطالبہ کرے گا کہ اپنے اِس قول کی دلیل بیان فرمائیے ۔ وہ آپ سے پوچھے گا کہ جو کچھ آپ متکلم کی طرف منسوب کر رہے ہیں ، کیا اُس کے الفاظ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے اِس پر دلالت کرتے ہیں ؟ کیا اُس کے جملوں کی ترکیب کا نحوی تقاضا یہی ہے جو آپ بیان فرما رہے ہیں ؟ کیا جملوں کے سیاق و سباق کی دلالت سے آپ نے یہ معنی اخذ کیے ہیں ؟ کیا یہ متکلم کی عادت مستمرہ ہے کہ وہ اِس طرح کے الفاظ جہاں استعمال کرتا ہے ، اِس سے وہی کچھ مراد لیتا ہے جو آپ نے فرمایا ہے ؟ کیا عقل عام کا ناگزیر اقتضا ہے کہ آپ کے اِس ارشاد ہی کو متکلم کا منشا قرار دیا جائے ؟ آپ کسی کلام سے متعلق کسی بات کو ’شرح‘ یا ’تبیین‘ قرار دینا چاہتے ہیں تو اپنے قول کو ثابت کرنے کے لیے ان دلائل میں سے کوئی دلیل آپ کو لازماً پیش کرنی ہو گی ۔ اِس طرح کی کسی دلیل کے بغیر کوئی بات نہ ’شرح‘ قرار پا سکتی ہے نہ ’تبیین‘ ۔ شرح و تبیین کے الفاظ اپنے معنی ہی کے اعتبار سے اِس طرح کی کسی دلیل کے متقاضی ہیں ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعض اہل تحقیق نے ’تبیین‘ یا ’بیان‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :

ھو الدلیل الموصل بصحیح النظر فیہ الٰی اکتساب العلم بما ھو دلیل علیہ. (کشف الاسرار، علاء الدین عبدا لعزیز ۳/۱۰۵) ’’بیان وہ دلیل ہے جو صحیح استدلال کے ذریعے سے اُس چیز کے علم کے حصول تک پہنچاتی ہے جس پر وہ دلالت کرتی ہے ۔ ‘‘

اِس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’تبیین‘ تو بس متکلم کے اُس فحویٰ کا اظہار ہے جو ابتدا ہی سے اُس کے کلام میں موجود ہوتا ہے ۔ کسی کلام کے وجود میں آنے کے بعد جو تغیر بھی اُس کلام کی طرف منسوب کیا جائے گا، آپ اُسے ’نسخ‘ کہیے یا ’تغیر و تبدل‘ ، اُسے ’تبیین‘ یا ’بیان‘ یا ’شرح‘ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ علماے اصول میں سے جن لوگوں کی نگاہ لفظ کی اِس حقیقت پر رہی ہے ، اُنھوں نے ’تبیین‘ کی تعریف میں یہ بات پوری طرح واضح کر دی ہے ۔ امام بزدوی علم اصول پر اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :

حد البیان ما یظھر بہٖ ابتداء وجودہ فاما التغییر بعد الوجود فنسخ ولیس ببیان. (کنزالوصول ، البزدوی ۲۱۲) ’’بیان کا اطلاق اُس شے پر کیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے اُس شے کا ابتدا ہی سے کلام میں موجود ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ۔ رہا وہ تغیر جو کلام کے وجود میں آنے کے بعد کیا جائے تو وہ نسخ ہے ۔ اُسے بیان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ‘‘
خلاصۂ بحث

لفظ ’تبیین‘ کے معنی ، اُس کی تعریف اور اُس کے حدود کی تعیین کے بعد اب یہ بات کسی پہلو سے مبہم نہیں رہی کہ سنت کو جو منصب قرآن مجید نے خود اپنے متعلق عطا فرمایا ہے ، وہ شارح کا منصب ہے۔ شارح کی حیثیت سے سنت قرآن مجید کے مضمرات کو کھولتی ، اُس کے عموم و خصوص کو بیان کرتی اور اُس کے مقتضیات کوواضح کرتی ہے ۔ سنت کا یہ کام کوئی معمولی نہیں ہے ۔ یہی وہ کام ہے جس کے نتیجے میں دین کی تشکیل ہوتی اور زندگی کے گوناگوں احوال کے ساتھ اُس کا تعلق استوار ہوتا ہے ۔ اِس حیثیت سے سنت کے جو احکام و قواعد ہمیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوتے ہیں ، اُن کی پیروی، جیسا کہ ہم نے اِس بحث کے آغاز میں بیان کیا ہے ، ہمارے لیے لازم ہے اور وہ بھی اُسی طرح قیامت تک کے لیے واجب الاطاعت ہیں، جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے۔ علماے اصول میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین کی نعمت سے نوازا ہے ، اُنھوں نے سنت کے معاملے میں یہی بات فرمائی ہے ۔ حدیث و سنت کے صاحب البیت امام احمد بن حنبل سے متعلق روایت ہے :

قال الفضل بن زیاد : سمعت ابا عبد اللّٰہ یعنی احمد بن حنبل، وسئل عن الحدیث الذی روی ان السنۃ قاضیۃ علی الکتاب، فقال: ما اجسر علی ھٰذا ان اقولہ ان السنۃ قاضیۃ علی الکتاب، ان السنۃ تفسر الکتاب و تبینہ. قال الفضل: وسمعت احمد بن حنبل یقول لا تنسخ السنّۃ شیءًا من القراٰن. قال: لا ینسخ القراٰن الا القراٰن. (جامع بیان العلم، ابن عبد البر۲ /۲۳۴) ’’فضل بن زیاد کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل سے حدیث : ’ان السنۃ قاضیۃ‘ کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنھوں نے فرمایا: میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ سنت کتاب اللہ پر قاضی ہے ۔ سنت تو کتاب اللہ کی شرح و تفسیرکرتی ہے ۔ فضل کہتے ہیں کہ میں نے اُن کا یہ ارشاد بھی سنا کہ : سنت قرآن مجید کی کسی بات کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ قرآن کو صرف قرآن منسوخ کر سکتا ہے ۔ ‘‘

یہی بات ایک دوسرے اسلوب میں امام شاطبی نے ’’الموافقات ‘‘ میں واضح کی ہے :

ان قضاء السنۃ علی الکتاب لیس بمعنی تقدیمھا علیہ واطراح الکتاب، بل ان ذٰلک المعبر فی السّنۃ ھو المراد فی الکتاب، فکان السنۃ بمنزلۃ التفسیر والشرح لمعانی احکام الکتاب، ودلّ علی ذٰلک قولہ: لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ.(۴/۷) ’’سنت کے کتاب پر قاضی ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اُسے کتاب پر مقدم ٹھیرایا جائے اور کتاب کو اُس کے مقابلے میں چھوڑ دیا جائے، بلکہ جو کچھ سنت میں بیان کیا جاتا ہے، وہ کتاب کی مراد ہوتا ہے ۔ گویا سنت احکام کتاب کے معانی کے لیے شرح و تفسیر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہی بات قرآن مجید کی آیت : ’لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِمَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ‘ میں واضح کی گئی ہے ۔‘‘

اِس کے بعد امام موصوف نے قطع ید کی سزا کے بارے میں بعض تشریحات مثلاً لفظ ’ید‘ کے معنی، مال مسروق کی مقدار اور ’حرز‘ وغیرہ کے شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے مزید وضاحت کی ہے:

فذٰلک ھوالمعنی المراد من الاٰیۃ، لا ان نقول : ان السنۃ اثبتت ھٰذہ الاحکام دون الکتاب. کما اذا بین لنا مالک أو غیرہ من المفسرین معنی اٰیۃ اوحدیث فعملنا بمقتضاہ، فلا یصح لنا ان نقول: انا عملنا بقول المفسر الفلانی دون ان نقول: عملنا بقول اللّٰہ او قول رسولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام. وھٰکذا سائر ما بینتہ السنۃ من کتاب اللّٰہ تعالٰی فمعنی کون السنۃ قاضیۃ علی الکتاب انھا مبینۃ لہ.(۴/۸) ’’سنت کی یہ تشریح درحقیقت آیت کا مفہوم و مدعا ہے ۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سنت نے یہ احکام قرآن کے علاوہ دیے ہیں ۔ جس طرح کہ امام مالک یا کوئی دوسرا مفسر کسی آیت یا حدیث کے معنی بیان کرتا ہے اور ہم اُس معنی کے مطابق عمل کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے فلاں مفسر کے قول کے مطابق عمل کیا ہے ۔ اِس کے بجائے ہم یہی کہیں گے کہ ہمارا عمل اللہ تعالیٰ یا اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ہے ۔ یہی معاملہ قرآن کی اُن تمام آیات کا ہے جن کی ’تبیین‘ سنت نے کی ہے ۔ لہٰذا سنت کے کتاب اللہ پر قاضی ہونے کے معنی اِس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کتاب اللہ کی شارح ہے ۔ ‘‘
بعض دلائل کا جائزہ

سنت اور قرآن کے باہمی تعلق کے بارے میں یہ بحث اگرچہ اہل نظر کے لیے کفایت کرتی ہے، تاہم اتمام حجت کے لیے ہم یہاں ایک مختصر جائزہ اُن دلائل کا بھی پیش کیے دیتے ہیں جو سنت سے قرآن کے مدعا میں تغیر کو جائز قرار دینے والوں نے اپنے موقف کے حق میں بیان فرمائے ہیں ۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سنت کے جو احکام قرآن مجید کے ناسخ ہیں یا اُن سے قرآن مجید کی کسی آیت کے فحویٰ میں کسی نوعیت کا کوئی تغیر و تبدل واقع ہوتا ہے ، وہ سب درحقیقت وحی خفی پر مبنی ہیں ، اِس وجہ سے وحی سے وحی کے نسخ یا اُس کے مدعا میں کسی تبدیلی کو عقلاً ممتنع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ آیت : ’قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیئ نَفْسِیْ‘ ۱؂ سے جو لوگ امتناع نسخ کی دلیل لاتے ہیں ، اُن کے جواب میں وہ یہی کہتے ہیں کہ اِس میں تو کوئی شک نہیں کہ پیغمبر قرآن مجید کے مدعا میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا ، لیکن یہ تبدیلی اگر وہ وحی خفی کی بنیاد پر کرے تو یہ نہ اِس آیت کے خلاف ہے ، نہ اِس پر کوئی عقلی اعتراض وارد کرنا ممکن ہے ۔ اپنی اِس رائے کی تقریر وہ اس طرح کرتے ہیں کہ وحی متلو اور وحی غیر متلو میں اگرچہ یہ فرق ہے کہ ایک میں صرف مفہوم القا کیا جاتا تھا اور دوسری اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں نازل ہوتی تھی ، لیکن یہ فرق کچھ ایسا قابل لحاظ نہیں ہے ۔ اِس وجہ سے وحی خفی اور قرآن باعتبار حقیقت ایک ہی چیز ہیں۔ چنانچہ قرآن سے اگر قرآن کا نسخ ہو سکتا ہے تو وحی خفی سے بھی اُس کے کسی مدعا میں تغیر اور اُس کے کسی حکم کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ بادی النظر میں یہ بات کچھ منطقی معلوم ہوتی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی ذرا گہری نگاہ سے دیکھتا ہے تو اُس کے لیے یہ باور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ’نسخ القرآن بالسنۃ‘ جیسے مسئلہ میں اِس قدر کمزور استدلال فی الواقع ہمارے اِن بزرگوں ہی نے پیش فرمایا ہے ۔ غور فرمائیے ، وحی متلو اور وحی غیر متلو کا وہ فرق جسے یہ حضرات خود تسلیم کرتے ہیں کہ ایک میں صرف مفہوم القا کیا جاتا تھا اور دوسری اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں نازل ہوتی تھی ، کیا کوئی معمولی فرق ہے ؟ ۲ ؂ لیکن لمحہ بھر کے لیے اِس سے قطع نظر کر لیجیے اور دیکھیے کہ قرآن اور وحی خفی میں کیا صرف یہی ایک چیز مابہ الامتیاز تھی کہ اِن حضرات نے اِسے ناقابل لحاظ قرار دے کر وحی سے وحی کے نسخ کی دلیل قائم کی اور پھر ’نسخ القرآن بالسنۃ‘ جیسی بات کے جواز پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ قرآن مجید سے واقف ہر صاحب نظر اِس بات کا اعتراف کرے گا کہ وہ منتشر اقوال کی صورت میں روایت بالمعنیٰ کے طریقے پر امت کو منتقل نہیں ہوا ہے۔ خدا کا یہ فرمان ایک مربوط کلام ہے جو ابواب و سور میں تقسیم اور کتاب کی شکل میں مرتب ہے ۔ اِس کی ہر آیت اپنے سابق ولاحق سے متعلق ، اپنے سیاق و سباق میں محدود اور ایک مجموعی نظام میں بندھی ہوئی ہے۔ اِس کی ترتیب خود اِس کے نازل کرنے والے نے قائم کی ہے اور اِس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اُس نے اپنے اوپر لی ہے ۔ یہ قول متواتر کے ذریعے سے امت کو ملا ہے ۔ اِس میں روایت باللفظ کا التزام کیا گیا ہے۔ اِس کی حجت حجت بالغہ اور اِس کے لفظ و معنی کی دلالت قطعی ہے ۔ لفظ قرآن کا اطلاق صرف اِسی پر کیا جاتا ہے ۔ کلام الٰہی صرف یہی ہے ۔ اِس کے سوا کوئی اور چیز ، خواہ وہ وحی خفی ہو یا وحی جلی ، نہ کلام الٰہی ہے اور نہ اُسے قرآن قرار دیا جا سکتا ہے ۔ وحی خفی کے ذریعے سے اگر کوئی چیز پیغمبر کو ملتی ہے تو وہ قرآن کا حصہ نہیں بن جاتی ، پیغمبر کی حدیث اور پیغمبر کی سنت ہی کہلاتی ہے ۔ یہ سب وہ ناقابل تردید حقائق ہیں جو نہ حال کے لیے نئے ہیں ، نہ ماضی میں لوگ اِن سے ناواقف تھے اور نہ ’نسخ القرآن بالسنۃ‘ کے قائل ہمارے اِن بزرگوں کی نگاہوں سے یہ اوجھل رہے ہوں گے۔ لیکن اِسے کیا کہیے کہ اُنھوں نے اِن سب کو نظر انداز کر دیا ۔ متلو اور غیر متلو کا فرق اگر اُن کے نزدیک قابل لحاظ نہ تھا تو یہ سارے امتیازات بھی ایسے معمولی اور ناقابل التفات تھے کہ اِن سے صرف نظر کر کے اُنھوں نے یہ رائے قائم کی کہ قرآن مجید اور وحی خفی درحقیقت ایک ہی چیز ہیں ؟ یہ حضرات اِسے عقلاً جائز ٹھیراتے ہیں ، دراں حالیکہ کوئی عاقل اِس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وحی خفی سے وحی جلی کو ، روایت بالمعنیٰ سے روایت باللفظ کو ، خبر مظنون سے حدیث قطعی کو اور رسول کے قول و فعل سے کلام الٰہی کو منسوخ کیا جا سکتا ہے یا اُس کے مدعا میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے ۔ مقام افسوس ہے کہ ہمارے اِن بزرگوں نے قرآن کی حقیقت بس اتنی ہی سمجھی کہ وہ وحی کے ذریعے سے نازل ہوا ہے ۔ وہ اگر موجود ہوتے تو ہم اُن کی خدمت میں عرض کرتے کہ وہ قرآن کا مقام خود قرآن ہی سے معلوم کریں ۔ وہ اُنھیں بتائے گا کہ اُس کی حقیقت محض یہی نہیں کہ وہ وحی متلو ہے ۔ وہ تو سلسلۂ وحی کا مہیمن، دین کی برہان قاطع، حق و باطل کا معیار ، خدا اور خدا کے رسولوں کی طرف منسوب ہر چیز کے لیے فرقان اور زمین پر خدا کی میزان ہے ۔’ اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ‘ ۳؂ (اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری ، یعنی میزان نازل کی)۔ ہر چیز اب اِسی میزان پر تولی جائے گی ۔ اُس کے لیے کوئی چیز میزان نہیں ہے ۔ ہر وہ شخص جو قرآن کے اِس مقام سے واقف ہے ، بغیر کسی تردد کے مانے گا کہ وحی خفی تو ایک طرف ، اگر کوئی وحی جلی بھی ہوتی تو وہ خدا کی اِس میزان میں کوئی کمی بیشی کرنے کی مجاز نہ تھی ۔ وہ بہرحال تسلیم کرے گا کہ قرآن کو صرف قرآن منسوخ کر سکتا ہے ۔ قرآن پر قرآن سے باہر کی کوئی چیز ، جب تک وہ خود اِس کی اجازت نہ دے ، کسی طرح اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔ یہ اِن حضرات کی ایک دلیل کا جواب ہے ۔ دوسری دلیل اُنھوں نے یہ پیش فرمائی ہے کہ ’تبیین‘ کا اختیار چونکہ پیغمبر کو حاصل ہے اور ’تبیین‘ کے معنی ’وضاحت کرنے‘ ہی کے ہیں ، اِس لیے وہ اگر قرآن کی کسی آیت کو منسوخ ٹھیراتا یا اُس کے مدعا میں کوئی تبدیلی کرتا ہے تو یہ گویا اُس کی طرف سے اُس آیت کے بارے میں اِس بات کی وضاحت ہے کہ اُس کا حکم اب باقی نہیں رہا یا اُس کے فحویٰ میں تغیر واقع ہو گیا ہے ۔ اِس دلیل کا بے معنی ہونا کئی پہلووں سے واضح کیا جا سکتا ہے ، لیکن ہمارے پاس چونکہ اِس کے جواب میں قرآن کی قطعی حجت موجود ہے ، اِس وجہ سے ہم دوسری سب باتوں سے قطع نظر کر کے صرف اُسے ہی پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ ’تبیین‘ کا یہ اختیار جس آیت میں پیغمبر کے لیے بیان کیا گیا ہے ، اُس کے الفاظ یہ ہیں :

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ.( النحل ۱۶ : ۴۴) ’’او رہم نے تم پر بھی یہ ذکر اتارا ہے تاکہ تم لوگوں پر اُس چیز کو واضح کر دو جو اُن کی طرف نازل کی گئی ہے ۔ ‘‘

تدبر کی نگاہ سے دیکھیے ، اِس میں فعل’ تبین‘ اپنے مفعول ’ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ‘ کی طرف متعدی ہو کر آیا ہے ۔ عربی زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس صورت میں اِس کے معنی نہ مجرد وضاحت کے ہیں ، نہ اِسے یہاں اِس کے مفعول ’ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ‘ یعنی قرآن کے بارے میں وضاحت کے معنی میں لیا جا سکتا ہے ۔ عربیت کی رو سے اب اِس کے معنی صرف یہی ہوں گے کہ تم لوگوں کے لیے ’ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ‘ یعنی قرآن کی وضاحت کرو، ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ’قرآن کے بارے میں وضاحت‘ اور ’قرآن کی وضاحت‘ ،اِن دو باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اختیار اگر قرآن کے بارے میں وضاحت کا ہے تو بے شک ، وہ وضاحت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اُس کی کوئی آیت منسوخ یا اُس کا کوئی مدعا جو اُس کے الفاظ سے ثابت ہے ، متغیر کر دیا گیا ہے ، لیکن قرآن کی وضاحت کے معنی بس قرآن کی شرح ہی کے ہو سکتے ہیں ، اور شرح کے بارے میں ہم لکھ چکے ہیں کہ شرح بس شرح ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کا اطلاق کسی ایسی ہی بات پر کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں آپ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ فی الواقع اُس کلام کے متکلم کا منشا ہے جس کی طرف آپ وہ بات منسوب کر رہے ہیں ۔

خاتمۂ بحث

سنت اور قرآن کے باہمی تعلق کی اِس وضاحت کے بعد اب سورۂ نور کی اُس آیت کو دیکھیے جس میں جرم زنا کی سزا بیان ہوئی ہے ۔ قرآن کا ارشاد ہے :

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ، اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ. (النور ۲۴: ۲) ’’زانیہ عورت اور زانی مرد ، اِن میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور قانون خداوندی کے نفاذ میں اِن کے ساتھ نرمی کا کوئی جذبہ تمھیں دامن گیر نہ ہو ، اگر تم فی الواقع اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ اِن کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ ‘‘

اوپر اِس تحریر کی ابتدا میں ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ زنا کی جو سزا اللہ تعالیٰ نے اِس آیت میں بیان فرمائی ہے ، ہمارے فقہا اِسے کنوارے اور کنواری کے ساتھ خاص کر دیتے ہیں ۔ شادی شدہ زانی اور زانیہ کی سزا اُن کے نزدیک رجم یعنی سنگ ساری ہے اور وہ اپنی اس رائے کی دلیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے وہ اقوال و افعال پیش کرتے ہیں ، جن سے اُن کی تحقیق کے مطابق یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض زانیوں کو قرآن مجید کے اِس حکم کی تعمیل میں سو کوڑے مارنے کے بجائے محض اُن کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے رجم کی سزا دی ہے ۔ فقہا کی یہ رائے اگر درست تسلیم کر لی جائے تو سورۂ نور کی اِس آیت کی تاویل میں صرف دو باتیں کہی جا سکتی ہیں : ایک یہ کہ ’ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ‘ سے قرآن مجید کی مراد صرف کنواری زانیہ اور کنوارا زانی ہیں۔ قرآن مجید کے یہ الفاظ شادی شدہ زانیہ اور زانی کو شامل ہی نہیں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بس اِس آیت کی ’تبیین‘ فرمائی ہے اور اِس کا وہ مدعا جس پر خود اس آیت کے الفاظ دلالت کرتے ہیں ، اپنے اقوال و افعال سے واضح کر دیا ہے ۔ دوسری یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ مرد و عورت کے جرم زنا کو اِس آیت کے دائرۂ اطلاق سے خارج قرار دیا ہے اور اِس طرح قرآن مجید کا وہ مفہوم جو اُس کے اپنے الفاظ سے ثابت ہے ، اُسے متغیر کر دیا ہے ۔ جہاں تک اِس دوسری بات کا تعلق ہے ، ہم نے اِس بحث کے آغاز میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سنت قرآن مجید کے مفہوم میں کسی نوعیت کا کوئی تغیر نہیں کر سکتی ۔ ہم نے لکھا ہے :

’’سنت قرآن مجید کے کسی حکم اور قاعدے کو منسوخ کر سکتی ہے اور نہ اُس میں کسی نوعیت کا کوئی تغیر و تبدل کر سکتی ہے ۔ سنت کو یہ اختیار قرآن مجید نے نہیں دیا ہے ، اور اب کسی امام و فقیہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بطور خود سنت کے لیے یہ اختیار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ قرآن مجید کے کسی حکم میں تغیر و تبدل کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے کہ آپ عقلی قیاسات کی بنا پر اُس کے بارے میں حکم لگائیں۔ سنت کو اِس طرح کا کوئی اختیار اگر حاصل ہے تو اُس کے لیے قرآن مجید کے واضح اور قطعی نصوص پیش کیے جانے چاہییں ۔ اِس سے کم تر درجے کی کسی چیز کے ذریعے سے یہ اختیار سنت کے لیے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ہم اگر یہ کہتے ہیں کہ سنت کو قرآن مجید کے کسی حکم کے نسخ یا اُس میں کسی نوعیت کے تغیر و تبدل کا اختیار حاصل نہیں ہے تو اِس کے لیے صرف یہ دلیل کافی ہے کہ قرآن کے بین الدفتین کسی آیت میں بھی یہ اختیار سنت کے لیے ثابت نہیں ہے ۔ ‘‘

رہی پہلی بات یعنی یہ کہ اِسے قرآن کے الفاظ کی مراد اور اُن کی شرح قرار دیا جائے تو ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عربی زبان کے اسالیب بیان میں اِس کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ لغت قرآن سے واقف کوئی شخص اِس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ’ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ ‘ کے الفاظ سے محض کنوارا زانی اور کنواری زانیہ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں ۔ آیت کے الفاظ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے اِس کی نفی کرتے ہیں ۔ جملے کی ترکیب و تالیف اِس سے ابا کرتی ہے ۔ کلام کے سیاق و سباق کو اِسے قبول کرنے سے انکار ہے ۔ عرف و عادت کی دلالت کی بناپر اِسے متکلم کا منشا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ قاضی عقل بالصراحت اِس کے عدم جواز کا فتویٰ دیتا ہے ۔ غرض کسی لحاظ سے اِسے قرآن مجید کے مدعا کی شرح و تبیین قرار دینا ممکن نہیں ہے ۔ یہ اگر شرح ہے تو پھر بیل سے گھوڑا مراد لیا جا سکتا ہے ۔ زمین کا لفظ آسمان کے معنی میں بولا جا سکتا ہے ۔ ثریا سے ثریٰ کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے ۔ آفتاب ماہ کا ہم معنی ہو سکتا ہے اور نور کو ظلمت کے محل میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ ہر وہ شخص جو اِسے شرح کہنے کی جسارت کرتا ہے ، بغیر کسی خوف تردید کے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن کی بلاغت پر حرف لاتا ، اُس کی فصاحت سے انکار کرتا اور اُس کی ابانت کو مجروح ٹھیراتا ہے ۔ قرآن مجید خداوند لم یزل کا کلام ہے ۔ اِسے افصح العرب والعجم کی زبان پر جاری کیا گیا ہے ۔ یہ زمین پر آسمان کی حجت اور انسان کے لیے خدا کی عدالت ہے ۔ کوئی شخص جسے عربی زبان اور اُس کے اسالیب سے کچھ بھی واقفیت ہے ، یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ سو کوڑے کی سزا اگر صرف کنواری زانیہ اور کنوارے زانی ہی کے لیے خاص تھی تو اِس مدعا کے اظہار کے لیے بغیر کسی دلالت سیاق، بغیر کسی حجت عرف او ربغیر کسی دلیل عقلی کے ، قرآن مجید جیسی کتاب میں ، جسے یہ دعویٰ ہے کہ جن و انسان اُس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں اور وہ ’ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ‘ نازل ہوئی ہے ، ’ اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ ‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں ۔ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں کہ نہ اِس پہلی بات کے لیے کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے ، نہ اُس دوسری بات کے لیے کسی کے پاس کوئی حجت ہے اور نہ کسی تیسری بات کا کوئی امکان ہے ، اِس وجہ سے ہمارے لیے فقہا کی اِس رائے سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ہم بغیر کسی تردد کے اِسے ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ہمیں اِس انکار پر اُس وقت تک اصرار رہے گا ،جب تک کوئی قطعی بات ہمارے اس استدلال کی تردید میں کسی طرف سے پیش نہیں کی جاتی ۔ کوئی شخص اگر اِس طرح کی کوئی چیز پیش کر دیتا ہے تو ہم جس زور سے اِس کا انکار کر رہے ہیں ، خدا نے چاہا تو اِسی قوت کے ساتھ اِس انکار سے رجوع کے لیے تیار ہوں گے ۔ وما توفیقنا الا باللّٰہ۔ ہمارے اختلاف کی بنیاد ہمارا یہ موقف ہے ۔ فقہا نے اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی جو تعبیر کی ہے اور اُن سے جس مناط حکم کا استخراج کیا ہے ، وہ ہمارے نزدیک ، جس طرح کہ ہم نے اوپر بدلائل وضاحت کی ہے ، قرآن مجید کے خلاف ہے اور قرآن مجید کے خلاف کوئی بات، خواہ وہ پیغمبر ہی کی طرف منسوب کر کے کیوں نہ کہی جائے، کسی حال میں قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ۴؂ جو لوگ ہمارے اِس موقف کی تردید کرنا چاہتے ہیں ، اُن کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ فقہا کی اِس تعبیر کو قرآن کی شرح ثابت کر دیں یا قرآن مجید سے سنت کے لیے یہ اختیار ثابت کر دیں کہ وہ اُس کے احکام میں تغیر و تبدل کر سکتی ہے ۔ اِس کے بعد اُنھیں اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے روایات و آثار کے انبار جمع کرنے کی ضرورت نہ ہو گی ۔ وہ ایک روایت بھی اگر پیش کریں گے تو ہم اُس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار ہوں گے ، لیکن اِس اصل بناے اختلاف کے بارے میں اظہار رائے سے گریز کر کے ، وہ جو کچھ بھی فرمائیں گے ، ہمارے نزدیک اُس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ قحط علم کے اِس زمانے میں ، ہو سکتا ہے کہ لوگ اُن کی بے معنی سخن سازیوں کو تحقیق کا شاہ کار قرار دیں ، لیکن اُنھیں سوچنا چاہیے کہ علم و استدلال کی عدالت میں وہ اپنی اِس کاوش کو دیانت دارانہ ثابت کرنے میں بھی کیا کامیاب ہو سکیں گے ؟ اللّٰھم ارنا الحق حقًا وارزقنا اتباعہ۔