ثبوت جرم کے لیے قرآن مجید نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھیرائی ، اِس لیے یہ بالکل قطعی ہے کہ اسلامی قانون میں جرم اُن سب طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اخلاقیات قانون میں مسلمہ طور پر ثبوت جرم کے طریقوں کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے اور جن کے بارے میں عقل تقاضا کرتی ہے کہ اُن سے اِسے ثابت ہونا چاہیے ۔ چنانچہ حالات، قرائن، طبی معاینہ، پوسٹ مارٹم، انگلیوں کے نشانات، گواہوں کی شہادت ، مجرم کے اقرار، قسم ، قسامہ اور اِس طرح کے دوسرے تمام شواہد سے جس طرح جرم دنیا میں ثابت ہوتے ہیں ، اسلامی شریعت کے جرائم بھی اُن سے بالکل اِسی طرح ثابت قرار پاتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حقیقت اپنے ارشاد : ’ البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعیٰ علیہ‘۱؂ میں لفظ ’البینۃ‘ سے واضح فرمائی ہے ۔ ابن قیم لکھتے ہیں :

البینۃ فی کلام اللّٰہ ورسولہ وکلام الصحابۃ اسم لکل ما یبین الحق فھی اعم من البینۃ فی اصطلاح الفقھاء حیث خصوھا بالشاھدین اوالشاھد والیمین. (اعلام الموقعین ۱/۱۳۱) ’’’ البینۃ‘ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے کلام میں ہر اُس چیز کا نام ہے جس سے حق واضح ہو جائے ۔ چنانچہ فقہا کی اصطلاح کے مقابلے میں اِس کا مفہوم وسیع تر ہے ، کیونکہ اِن حضرات نے اِسے دو گواہوں یا ایک گواہ اور قسم کے ساتھ خاص کر دیا ہے ۔ ‘‘

اِس سے مستثنیٰ صرف دو صورتیں ہیں : اول یہ کہ کوئی شخص کسی ایسے شریف اور پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگائے جس کی حیثیت عرفی بالکل مسلم ہو ۔ اِس صورت میں قرآن کا اصرار ہے کہ اُسے ہرحال میں چار عینی گواہ پیش کرنا ہوں گے ، اِس سے کم کسی صورت میں بھی اُس کا مقدمہ قائم نہ ہو سکے گا ۔ حالات، قرائن، طبی معاینہ ،یہ سب اِس معاملے میں اُس کے نزدیک بے معنی ہیں ۔ آدمی بدچلن ہو تو ثبوت جرم کے لیے یہ سب طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں ، لیکن اُس کی شہرت اگر ایک شریف اور پاک دامن شخص کی ہے تو اسلام یہی چاہتا ہے کہ اُس سے اگر کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو اُس پر پردہ ڈال دیا جائے اور اُسے معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے ۔ چنانچہ اِس صورت میں وہ چار عینی شہادتوں کا تقاضا کرتا اور الزام لگانے والا اگر ایسا نہ کر سکے تو اُسے لازماً قذف کا مجرم ٹھیراتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا، وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (النور ۲۴ : ۴۔۵) ’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو اُن کو اسّی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں ، لیکن جو اِس کے بعد توبہ و اصلاح کر لیں تو اللہ( اُن کے لیے) غفورو رحیم ہے۔ ‘‘

دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگر قحبہ عورتیں ہوں تو اُن سے نمٹنے کے لیے قرآن مجید کی رو سے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں جو اِس بات پر گواہی دیں کہ فلاں فی الواقع زنا کی عادی ایک قحبہ عورت ہے ۔ وہ اگر عدالت میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم اِسے قحبہ کی حیثیت سے جانتے ہیں اور عدالت نقدو جرح کے بعد اُن کی گواہی پر مطمئن ہو جاتی ہے تو وہ اُس عورت کو سزا دے سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ، فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا. (النساء ۴ : ۱۵) ’’اور تمھاری عورتوں میں سے ۲؂ جو بدکاری کرتی ہیں، اُن پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو ۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو اُن کو گھروں میں بند کر دو ، یہاں تک کہ موت اُنھیں لے جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راہ نکال دے ۔ ‘‘

اِن دو مستثنیات کے سوا اسلامی شریعت ثبوت جرم کے لیے عدالت کو ہر گز کسی خاص طریقے کا پابند نہیں کرتی ، لہٰذا حدود کے جرائم ہوں یا اِن کے علاوہ کسی جرم کی شہادت ،ہمارے نزدیک یہ قاضی کی صواب دید پر ہے کہ وہ کس کی گواہی قبول کرتا ہے اور کس کی گواہی قبول نہیں کرتا۔ اِس میں عورت او رمرد کی تخصیص نہیں ہے ۔ عورت اگر اپنے بیان میں الجھے بغیر واضح طریقے پر گواہی دیتی ہے تو اُسے محض اس وجہ سے رد نہیں کر دیا جائے گا کہ اُس کے ساتھ کوئی دوسری عورت یا مرد موجود نہیں ہے ، اور مرد کی گواہی میں اگر اضطراب و ابہام ہے تو اُسے محض اِس وجہ سے قبول نہیں کیا جائے گا کہ وہ مرد ہے ۔ عدالت اگر گواہوں کے بیانات اور دوسرے قرائن وحالات کی بنا پر مطمئن ہو جاتی ہے کہ مقدمہ ثابت ہے تو وہ لامحالہ اُسے ثابت قرار دے گی اور وہ اگر مطمئن نہیں ہوتی تو اُسے یہ حق بے شک ، حاصل ہے کہ دس مردوں کی گواہی کو بھی قبول کرنے سے انکار کردے ۔ یہی معاملہ غیر مسلموں کی گواہی کا بھی ہے ۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ہمارے فقہا کی رائے اِس معاملے میں مختلف ہے ۔ ابن رشد اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں لکھتے ہیں :

واتفقوا علی انہ تثبت الاموال بشاھد عدل ذکر وامرأتین لقولہ تعالٰی: ’’فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشھداء‘‘ واختلفوا فی قبولھما فی الحدود. فالذی علیہ الجمھور انہ لا تقبل شھادۃ النساء فی الحدود، لا مع رجل ولا مفردات، وقال اھل الظاھر: تقبل اذا کان معھن رجل وکان النساء اکثر من واحدۃ فی کل شیء علیظاھر الآیۃ. وقال ابوحنیفۃ: تقبل فی الاموال وفیما عدا الحدود من احکام الابدان مثل الطلاق والرجعۃ والنکاح والعتق ولا تقبل عند مالک فی حکم من احکام البدن. واختلف اصحاب مالک فی قبولھن فی حقوقالابدان المتعلقۃ بالمال، مثل الوکالات والوصیۃ التی لا تتعلق الا بالمال فقط. فقال مالک وابن القاسم وابن وھب: یقبل فیہ شاھد وامرأتان وقال اشھب وابن الماجشون: لایقبل فیہ الاّ رجلان. واما شھادۃ النساء مفردات، اعنی النساء دون الرجال، فھی مقبولۃ عندالجمھور فی حقوق الابدان التی لا یطلع علیھا الرجال غالباً مثل الولادۃ والاستھلال وعیوب النساء . (۲ /۳۴۸) ’’تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ مالی معاملات میں مقدمہ ایک عادل مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے ۔ اِس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ’’اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں سہی، تمھارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ ‘‘ حدود کا معاملہ البتہ، مختلف فیہ ہے۔ اُس میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ عورتوں کی شہادت کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جا سکتی ، خواہ وہ کسی مرد کے ساتھ مل کر گواہی دیں یا تنہا ۔ اہل ظاہر اِس کے برخلاف یہ کہتے ہیں کہ وہ اگر ایک سے زیادہ ہوں اور اُن کے ساتھ اگر کوئی مرد بھی شریک ہو تو آیت کے ظاہری مفہوم کی بنا پر اُن کی شہادت تمام معاملات میں قبول کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اِس صورت میں بھی اُن کی گواہی صرف مالی معاملات میں اور حدود کے سوا دوسرے بدنی احکام، مثلاً : رجوع، نکاح اور غلاموں کی آزادی ہی میں قابل قبول ہو گی ۔ امام مالک اِسے بدنی احکام میں نہیں مانتے ۔ مال سے متعلق بدنی حقوق ، مثال کے طو رپر وکالت اور اُس وصیت کے بارے میں جو صرف مال ہی سے متعلق نہیں ہوتی البتہ ، مالک اور اُن کے اصحاب میں اختلاف ہے۔ چنانچہ اشہب اور ابن ماجشون اِن معاملات میں صرف دو مردوں اور مالک، ابن قاسم اور ابن وہب ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کرتے ہیں۔ رہا تنہا عورتوں کی شہاد ت کا معاملہ تو یہ جمہور کے نزدیک صرف اُن بدنی حقوق میں قبول کی جائے گی جن پر مرد عام حالات میں کسی طرح مطلع نہیں ہو سکتے، مثلاً: عورتوں کے عیوب، ولادت اور پیدایش کے وقت بچے کا رونا ۔ ‘‘

فقہا نے اپنے اِس نقطۂ نظر کی بنیاد سورۂ بقرہ کی جس آیت پر رکھی ہے ، وہ یہ ہے :

وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ، فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ، مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰھُمَا الْاُخْرٰی.(۲ : ۲۸۲) ’’اور تم (قرض کی دستاویز پر) اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی گواہی کرالو ۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں سہی، تمھارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ دوعورتیں اِس لیے کہ اگر ایک الجھے تو دوسری یاد دلا دے۔‘‘

اِس آیت سے فقہا کا استدلال ، ہمارے نزدیک دو وجوہ سے محل نظر ہے : ایک یہ کہ واقعاتی شہادت کے ساتھ اِس آیت کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ دستاویزی شہادت سے متعلق ہے ۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ دستاویزی شہادت کے لیے گواہ کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور واقعاتی شہادت میں گواہ کا موقع پر موجود ہونا ایک اتفاقی معاملہ ہوتا ہے۔ ہم نے اگر کوئی دستاویز لکھی ہے یا کسی معاملے میں کوئی اقرار کیا ہے تو ہمیں اختیار ہے کہ اُس پر جسے چاہیں گواہ بنائیں ، لیکن زنا ، چوری ، قتل ، ڈاکا اور اِس طرح کے دوسرے جرائم میں جو شخص بھی موقع پر موجود ہو گا ، وہی گواہ قرار پائے گا۔ چنانچہ شہادت کی ان دونوں صورتوں کا فرق اِس قدر واضح ہے کہ اِن میں سے ایک کو دوسری کے لیے قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری یہ کہ آیت کے موقع و محل اور اسلوب بیان میں اِس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دیا جائے ۔ اِس میں عدالت کو مخاطب کر کے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اِس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اِس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اِس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اِس میں اُنھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اِس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اُ س کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے اُن گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل ، ثقہ ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات و مشاغل کے لحاظ سے اِس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کر سکتے ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اِس میں اصلاً مردوں ہی کو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں کسی گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اُس کے لیے سہارا بن جائے۔ اِس کے یہ معنی ، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اُسی وقت ثابت ہو گا ، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اُس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں ۔ یہ ایک معاشرتی ہدایت ۳ ؂ ہے جس کی پابندی اگر لوگ کریں گے تو اُن کے لیے یہ نزاعات سے حفاظت کا باعث بنے گی ۔ لوگوں کو اپنی صلاح و فلاح کے لیے اِس کا اہتمام کرنا چاہیے ، لیکن مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ کوئی نصاب شہادت نہیں ہے جس کی پابندی عدالت کے لیے ضروری ہے ۔ چنانچہ اِس سلسلہ کی تمام ہدایات کے بارے میں خود قرآن کا ارشاد ہے :

ذٰلِکُمْ اَقْسَط عِنْدَ اللّٰہِ وَاَقْوَمُ لِلشَّھَادَۃِ وَاَدْنآی اَلَّا تَرْتَابُوْٓا. (البقرہ ۲ : ۲۸۲) ’’یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی برانصاف، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی اور زیادہ قرین قیاس ہیں کہ تم شبہات میں مبتلا نہ ہو۔‘‘

ابن قیم اِس کے بارے میں اپنی کتاب ’’اعلام الموقعین‘‘ میں لکھتے ہیں :

فھٰذا فی التحمل والوثیقۃ التی یحفظ بھا صاحب المال حقہ، لا فی طریق الحکم وما یحکم بہ الحاکم، فان ھٰذا شیء وھٰذا شیء.(۱/۱۳۲) ’’یہ گواہی کا بار اٹھانے اور اُس میں مضبوطی سے متعلق ہے جس کے ذریعے سے کوئی صاحب مال اپنے حق کی حفاظت کرتا ہے ، عدالت کے فیصلے سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ یہ اور چیز ہے ، اور وہ اور ۔ ‘‘

اِس زمانے میں بعض لوگوں نے فقہا کے اِسی موقف کے حق میں سورۂ نور کی آیت ۴ اور سورۂ نساء کی آیت ۱۵ میں بالترتیب ’اربعۃ شھداء‘ا ور ’اربعۃ منکم‘ سے بھی استدلال کیا ہے ، اور اِس کی تقریر اِس طرح کی ہے کہ ’اربعۃ‘ چونکہ مونث ہے اور عربی قاعدے کے مطابق اِس کا معدود مذکر ہونا چاہیے ، اِس وجہ سے ’اربعۃ شھداء‘ سے مراد لازماً چار مرد ہیں ، اِن میں عورتیں شامل نہیں ہو سکتیں۔ یہ بظاہر عربیت کے قواعد پر مبنی ایک دلیل ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علم و استدلال کی دنیا میں عربیت سے اِس قدر اجنبی کوئی چیز شاید ہی کسی شخص نے کبھی دیکھی ہو ۔ اِس زبان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کا قاعدہ صرف یہ نہیں ہے کہ تین سے دس تک اگر معدود مذکر ہو تو اُس کاعدد مونث ہو گا ، بلکہ یہ بھی ہے کہ معدود اگر کوئی ایسا اسم ہو جو مذکر اور مونث ، دونوں کے لیے بولا جاتا ہو تو اُس کا عدد بھی لازماً مونث ہو گا ۔ چنانچہ دیکھیے ، سورۂ انعام میں ’ازواج‘کا عدد اِسی اصول پر ’ثمٰنیۃ‘آیا ہے :

ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ، مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ، قُلْ: ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ.(۶: ۱۴۳) ’’تم آٹھ جوڑے لو: بھیڑوں میں سے دو، نر اور مادہ اور بکریوں میں سے دو، نر اور مادہ ، پھر اِن سے پوچھو کہ اللہ نے اِن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ؟‘‘

اِسی طرح سورۂ مجادلہ میں ہے :

مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلاَّ ھُوَ رَابِعُھُمْ وَلَاخَمْسَۃٍ اِلَّا ھُوَ سَادِسُھُمْ. (۵۸:۷) ’’کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین سرگوشی کریں اور اُن میں چوتھاوہ نہ ہو ۔ پانچ سرگوشی کریں اور اُن میں چھٹا وہ نہ ہو ۔ ‘‘

’اربعۃ منکم ‘ کی طرح یہاں ’ثلٰثۃ‘اور ’خمسۃ‘کا معدود بر بناے قرینہ محذوف ہے ، یعنی ’ثلٰثۃ نفر‘۔لیکن یہ ’نفر‘ بھی چونکہ ایک ایسا اسم ہے جو مذکر اور مونث ، دونوں کے لیے یکساں مستعمل ہے ، اِس لیے عدد اس آیت میں بھی مونث استعمال ہوا ہے ۔ اِس اسلوب کی مثالیں درج ذیل احادیث میں بھی ہیں : وطعام الاثنین یکفی الاربعۃ۔ ۴؂ اذا کان ثلاثۃ فلا یتناجی اثنان ۔ ۵؂ ما من مسلم یشھد لہ ثلاثۃ الاوجبت لہ الجنۃ۔ ۶ ؂ رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتی یستیقظ۔ ۷ ؂ اِن احادیث میں بھی دیکھ لیجیے ، ’ اربعۃ‘ ، ’ثلاثۃ‘، یہ دونوں عدد مونث ہیں ، لیکن زبان و بیان کے اسالیب سے واقف کوئی شخص کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ اِن سے مراد صرف مرد ہیں یا عورتیں اِن میں کسی طرح شامل قرار نہیں دی جا سکتیں ؟ اِسی طرح ایک دوسری دلیل اِن لوگوں نے یہ پیش کی ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲ ۸؂ میں گواہی کے وقت چونکہ عورتوں کے گھبرا جانے کا ذکر ہوا ہے اور اِس سے اُن کی شہادت میں شبہ کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے، اِس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد کی رو سے کہ : ’ادرء وا الحدود بالشبھات‘ ۹؂ (شبہ ہو تو حد جاری نہ کرو) ، اُن کی شہادت پر تعزیر کے طور پر کوئی سزا تو دی جا سکتی ہے، لیکن حد کی سزا کسی حال میں بھی نہیں دی جا سکتی ۔ یہ دلیل بھی ، اگر غور کیجیے تو بالکل بے معنی ہے : اولاً ، اِس لیے کہ عورت گواہی کے وقت اگر گھبرا جائے گی اور عدالت محسوس کرے گی کہ اُس کی گواہی اِس سے متاثر ہوئی ہے تو وہ کسی خاص مقدمے میں ، جہاں یہ معاملہ پیش آ جائے اِس گواہی کو رد کر سکتی ہے ، لیکن اِ س سے یہ نتیجہ آخر کس طرح نکلا کہ قانون کی کتاب میں یہ دفعہ ہمیشہ کے لیے ثبت کر دی جائے کہ اب عورتوں کی شہادت ہی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ وہ گھبرا سکتی ہے ، اِس احتمال کو ہم تسلیم کرتے ہیں ، لیکن اِس کے مقابلے میں اتنا ہی قوی احتمال کیا یہ بھی نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی گھبراہٹ کے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی گواہی عدالت میں پیش کر دے ؟ قرآن نے اگر کہا ہے تو یہ کہا ہے کہ مبادا وہ گھبرا جائے ۔ یہ تو نہیں کہا کہ وہ بہرحال گھبراتی ہے یا وہ لازماً گھبرائے گی ۔ احتمال ہر حال میں احتمال ہے ، اِسے یقین اور قطعیت میں بدل کر ایک قاعدۂ کلیہ کی بنیاد آخر کس منطق کی رو سے بنایا جائے گا؟ ثانیاً ، اِس لیے کہ’ادرء وا الحدود بالشبھات‘ کے معنی یہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ شبہ ہوتو صرف حد روک دی جائے ، بلکہ یہی ہیں اور یہی ہو سکتے ہیں کہ شبہ ہو تو سزا روک دی جائے۔ حد کا لفظ یہاں باصطلاح فقہا نہیں ، بلکہ محض سزا کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اخلاقیات قانون کے اِس مسلمہ اصول پر مبنی ہے کہ شبہ ہو تو جرم چونکہ ثابت ہی نہیں ہوتا ، اِس وجہ سے مجرم کو کوئی سزا بھی نہیں دی جا سکتی ۔ لہٰذا یہ حضرات اگر یہ کہتے ہیں کہ عورت کی شہادت سے تعزیر نافذ ہو سکتی ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ اِس سے جرم ثابت ہو جاتا ہے۔ لیکن جرم اگر ثابت ہو جاتا ہے تو پھر حد کیوں نہیں ؟ اور اِن کی رائے اگر یہ ہے کہ عورت کی شہادت میں شبہ لازماً باقی رہتا ہے تو جرم ثابت ہی نہیں ہوا ، پھر تعزیر کس گناہ پر نافذ کی جائے گی ؟ جرم کے معاملے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ وہ کبھی دس یا بیس یا نوے اورننانوے فی صد ثابت نہیں ہوتا ، وہ ہمیشہ سو فی صد ثابت ہوتا ہے یا بالکل ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ ایک بے معنی بات ہے کہ جرم کے ثبوت اور عدم ثبوت کے درمیان کوئی حالت مانی جائے اور پھر یہ کہا جائے کہ جرم اگر اتنا ثابت ہو تو حد اور اتنا ثابت ہو تو اُس پر تعزیر جاری کی جائے گی ۔ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کی رعایت سے سزا میں فرق تو بے شک ، کیا جا سکتا ہے ، لیکن ثبوت کی نوعیت بھی اِس فرق کی بنیاد بن سکتی ہے ؟ عقل سلیم پوری شدت کے ساتھ اِسے رد کرتی اور فطرت انسانی پوری قوت کے ساتھ اِسے ماننے سے انکار کرتی ہے ۔ [۱۹۸۷ء]