نصف صدی ہونے کو ہے۔ ہم اِس ملک میں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اِس کے لیے اٹھے، اُن کی پہلی نسل ختم ہو گئی اور اب دوسری میدان میں ہے۔ اِس کے لیے بہت کچھ لکھا گیا اور بہت ہنگامے برپا ہوئے ہیں۔ اِس راہ میں جوانوں نے اپنا خون بہایا اور بزرگوں نے بارہا خود اپنی تمناؤں کو لحد میں اتاراہے۔ اِس قدر سعی و جہدا ور اتنی قربانیوں کے بعد کم سے کم یہ توقع تو کی جاسکتی تھی کہ منزل تک نہ بھی پہنچتے تواُس کے نشانات اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے، لیکن ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ منزل کا دور دور تک پتا نہیں، رہنما چل بسے، مسافر تھک گئے اور جن میں کچھ حوصلہ باقی تھا، اُنھوں نے اپنی ساری قوت، سارا سرمایہ، بلکہ سرماےۂ علم و اخلاق بھی اِس جدو جہد کی نذر کرکے دیکھ لیا، لیکن معاملہ وہی ہے کہ :

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

پھر یہی نہیں کہ عشق بلا خیز کے یہ قافلہ ہاے سخت جاں اِس راہ میں ہمیشہ آبلہ پا ہی رہے ہیں۔ اِس ملک کی تاریخ میں ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ اسلامی انقلاب کا غلغلہ ایوان اقتدار میں برپا ہوا۱؂۔ وہ صدا جو کبھی محراب و منبر سے اٹھتی اور قصر شاہی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی، خود قصر شاہی کے درو بام سے بلند ہوئی۔ ہمارے کانوں نے یہ مژدۂ جاں فزا اِن برسوں میں بارہا سنا کہ اب وہ معاشرہ پھر قائم ہوا چاہتا ہے جس سے قرن اول میں ہم نے اپنی تاریخ کی ابتدا کی تھی اور جس میں انسان کے سارے اخلاقی آئیڈیل تصورات کی دنیا سے عالم وجود میں آئے ا ور لوگوں نے اُنھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چھواتھا۔یہ سب کچھ ہوا اور دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے، لیکن نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکلا :

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے

یہ کیوں ہوا؟ اِس کے وجوہ واسباب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ بعض لوگ اِسے تقدیر کا فیصلہ قرار دیں گے اور منصہ عالم پر ایک المیۂ خداوندی کہہ کر مطمئن ہو جائیں گے اور بعض دوسرے اِس کے اسباب اِس وقت کی سیاسی صورت حال میں تلاش کریں گے، لیکن ہم نے جہاں تک غور کیاہے، ہم بہرحا ل اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اصل غلطی لائحۂ عمل اور حکمت عملی میں ہے۔ چنانچہ اِس موقع پر جبکہ حالیہ انتخابات ۲؂کے نتائج نے بہت سے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنا نقطۂ نظر اِس معاملے میں پوری وضاحت کے ساتھ یہاں پیش کر دیا جائے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اِس جدو جہد کا ایک دور ختم ہوا اور ایک دوسرے دور کی ابتدا ہورہی ہے۔ ہمارا یہ خیال تو نہیں ہے کہ اِس وقت جولوگ میدان میں ہیں، وہ ہماری اِن معروضات کی روشنی میں اپنا راستہ تبدیل کر لیں گے، لیکن یہ توقع تو کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں جو لوگ اِس انقلاب کے علم برداربن کر اٹھیں گے، یہ اُن کے پیش نظر رہیں گی۔

 
انقلاب کا لائحۂ عمل

انسانی تمدن میں کسی دعوت کے، خواہ وہ دعوت حق ہو یا دعوت باطل، حکم و اقتدار تک پہنچنے کی چار ہی صو رتیں زما نۂ قدیم سے لے کر اب تک دریافت ہو ئی ہیں : ایک یہ کہ مسلح اقدام کے ذریعے سے حکومت پر قبضہ کر لیا جائے، دوسری یہ کہ عوامی بغاوت کی صورت میں لوگوں کو سڑکوں پر لا کر ارباب اقتدار کو اہل دعوت کے حق میں اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے، تیسری یہ کہ انتخابی سیاست کے ذریعے سے اِس مقام تک پہنچنے کی کوشش کی جائے، چوتھی یہ کہ کسی قوم کے ارباب حل و عقداور اہل اقتدار اِس دعوت کی تاثیر سے مفتوح اور اِس کے استدلال سے متاثر ہو کر اِس کے سامنے سر نگوں ہو جائیں۔ پہلی دونوں صورتیں وہی چیز ہیں جسے اسلامی شریعت میں منازعت اور خروج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسلام کو چونکہ اس بات پر اصرار ہے کہ انسانی جان کی حرمت قتل نفس اور فساد فی ا لارض کے سوا کسی صورت میں بھی ختم نہیں ہوتی اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں، خواہ وہ کتنا ہی بگڑا ہوا کیوں نہ ہو، کوئی اختلال کسی قیمت پر بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا اور کوئی شخص،خواہ وہ صدیق و فاروق کے مرتبے ہی کا کیوں نہ ہو اور اسلامی شریعت کا علم بردار بن کر ہی کیوں نہ اٹھے، مسلمانوں کی مرضی کے بغیر اُن پر مسلط نہیں ہو سکتا، اِس وجہ سے سیاسی انقلاب کی یہ دونوں صورتیں، وہ اُسی وقت گوارا ۳؂ کرتا ہے، جب یہ تین شرطیں پوری ہو جائیں: اولاً،حکمران کھلے کفر کا ارتکاب کریں، ثانیاً،اُن کی حکومت ایک استبدادی حکومت ہو جو نہ مسلمانوں کی رائے سے قائم ہوئی ہو اور نہ اُن کی رائے سے اسے تبدیل کر دینا کسی شخص کے لیے ممکن ہو، ثالثاً، خروج کے لیے وہ شخص اٹھے جس کے بارے میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکے کہ قوم کی اکثریت اُس کی قیادت پر مجتمع ہے۔ پہلی شرط کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کے اولی الامر جب تک اُن میں سے ہوں اور اپنی ذات پر یا نظم ریاست سے متعلق کسی معاملے میں شریعت کی بالا دستی ماننے سے انکار نہ کردیں، اُن کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اہل ایمان میں سے کوئی شخص اُس سے انحراف نہیں کر سکتا۔ ارشاد خدا وندی ہے:

اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَاَطِےْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ. (النساء۴:۵۹) ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف رائے ہو تو اُسے اللہ اوراُس کے رسول کی طرف پھیر دو۔ ‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی کی وضاحت میں فرمایا :

الا ان تروا کفرًا بواحًا، عندکم من اللّٰہ فیہ برہان.(مسلم ،رقم ۴۷۷۱) ’’ تم اپنے حکمرانوں سے نزاع بس اُس وقت کرسکتے ہو، جب کوئی کھلا کفر اُن کی طرف سے دیکھو اور تمھارے پاس اُس معاملے میں اللہ کی حجت موجو د ہو۔‘‘

اِس طرح آپ کا ارشاد ہے :

علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما احب وکرہ الا ان ےؤمر بمعصیۃ، فان امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ.(مسلم،رقم ۴۷۶۳) ’’ اہل ایمان پرواجب ہے کہ خواہ اُنھیں پسند ہویا ناپسند، وہ بہرحال اپنے حکمرانوں کی بات سنیں اورمانیں، سوائے اِس کے کہ اُنھیں کسی معصیت کا حکم دیا جائے، پھر اگر معصیت کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نہ سنیں گے اور نہ مانیں گے۔ ‘‘

دوسری شرط کی دلیل یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کے انعقاد اور اُس میں تبدیلی کے لیے ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَےْنَھُمْ‘ ۴؂ کا جو قاعدہ مقر ر کیا گیا ہے، وہ اگر پوری طرح نافذ ہو اورحکومت اُس کے مطابق قائم ہوتی او ر اُس کے مطابق تبدیل کر دی جاسکتی ہو تواُس کے خلاف بغاوت کے ذریعے سے اُسے تبدیل کرنے کی کوشش اِس قاعدے کی صریح خلاف ورزی اوراِس طرح حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ مسلمانوں کے خلاف بغاوت قرار پائے گی جواسلامی شریعت کی رو سے فساد فی الارض ہے اورجس کی سزا اسلام میں قتل مقر ر کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:

من اتا کم وامرکم جمیع علی رجل واحد یرید ان یشق عصاکم او یفرق جماعتکم فاقتلوہ. (مسلم،رقم۴۷۹۸) ’’ تم کسی شخص کی امارت پرجمع ہو اورکوئی تمھاری جمعیت کو پارہ پارہ کرنے اور تمھارے نظم اجتماعی میں تفرقہ پیداکرنے کے لیے اٹھے تواُسے قتل کر دو۔۵؂‘‘

تیسری شرط کی دلیل یہ ہے کہ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَےْنَھُمْ‘کے اِس قاعدے کی رو سے مسلمانوں پرحکومت کاحق چونکہ اُن کی اکثریت کی تائید سے قائم ہوتا ہے اوراِسی بنیاد پر قائم رہتا ہے، اِس وجہ سے بغاوت کا حق بھی لازماً اُسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جاسکے کہ قوم کی اکثریت فی الجملہ اُس کے ساتھ ہے اورپہلے سے قائم کسی حکومت کے مقابلے میں اُس کی قیادت تسلیم کرلینے کے لیے بالکل تیار ہے۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا ہے :

من بایع رجلاً عن غیر مشورۃ من المسلمین فلا یبایع ھو ولا الذی بایعہ تغرۃ ان یقتلا. (بخاری،رقم ۶۸۳۰) ’’ جس شخص نے مسلمانوں کی رائے کے بغیر حکومت کے لیے کسی شخص کی بیعت کی، وہ اور جس کی بیعت کی گئی، دونوں اپنے اِس اقدام سے اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے۔‘‘

پھر خروج کی اِن صورتوں میں سے اگر مسلح اقدام کی صورت اختیار کی جائے تواِس کے لیے ایک چوتھی شرط یہ ہے کہ بغاوت کرنے والے پہلے کسی آزاد علاقے میں جاکر اپنی حکومت قائم کریں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی پیغمبر کوبھی جواتمام حجت کا آخر ی ذریعہ ہوتا ہے، تلوار اٹھانے کی اجازت اُس وقت تک نہیں دی، جب تک اُس نے ہجرت کرکے اپنی جماعت کو کسی آزاد علاقے میں منظم نہیں کرلیا اوراُس کااقتدار اُس جماعت پر بزورو قوت قائم نہیں ہو گیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہے کہ اُن کواِس کا حکم اِس شرط کے پور ا ہوجانے کے بعد ہی ملا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے بھی اِس کا راستہ اُس وقت کھلا،جب بیعت عقبہ کے بعد مدینہ میں اُن کی ایک باقاعدہ جماعت قائم ہوئی۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے بغیر جہاد محض فساد ہے۔ جو نظام امارت اپنی جماعت پر اللہ کے حدود نافذ کرنے اور ارتکاب جرم کی صورت میں مجرم کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا، اُسے قتال کی اجازت آخر کس طرح دی جا سکتی ہے؟ اِس امت کے علما ہمیشہ اِس شرط کے قائل رہے ہیں۔ ’’فقہ السنہ‘‘ میں ہے:

والنوع الثالث من الفروض الکفائیۃمایشترط فیہ الحاکم، مثل: الجھاد واقامۃ الحدود.(السید سابق ۳/ ۳۰) ’’اور کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے، مثال کے طور پر: جہاد اور اقامت حدود۔‘‘

امام فراہی لکھتے ہیں:

’’...اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اِس بات کی تائید ہوتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحب جمعیت اور صاحب اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بد امنی اور فتنہ و فساد ہے۔۶؂ ‘‘(تفاسیر فراہی ۵۶)

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی کتاب ’’دعوت دین اور اُس کا طریق کار‘‘ میں اِس شرط کے اِسی پہلو کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی باطل نظام کے اختلال و انتشار کو بھی اُس وقت تک پسند نہیں کرتا جب تک اِس بات کا امکان نہ ہو کہ جو لوگ اِس باطل نظام کو درہم برہم کر رہے ہیں، وہ اِس کی جگہ پر کوئی نظام حق بھی قائم کر سکیں گے۔ انار کی اور بے نظمی کی حالت ایک غیر فطری حالت ہے، بلکہ انسانی فطرت سے یہ اِس قدر بعید ہے کہ ایک غیر عادلانہ نظام بھی اِس کے مقابل میں قابل ترجیح ہے۔ اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی جماعت کو جنگ چھیڑنے کا اختیار نہیں دیا ہے جو بالکل مبہم اور مجہول ہو ، جس کی قوت و استطاعت غیر معلوم اور مشتبہ ہو، جس پر کسی با اختیار امیر کا اقتدار قائم نہ ہو، جس کی اطاعت و وفاداری کا امتحان نہ ہوا ہو، جس کے افراد منتشر اور پراگندہ ہوں، جو کسی نظام کو درہم برہم تو کر سکتے ہوں، لیکن اِس بات کا کوئی ثبوت اُنھوں نے بہم نہ پہنچایا ہو کہ وہ کسی انتشار کو مجتمع بھی کر سکتے ہیں۔ یہ اعتماد صرف ایک ایسی جماعت پر ہی کیا جا سکتا ہے جس نے بالفعل ایک سیاسی جماعت کی صورت اختیار کر لی ہواور جو اپنے دائرہ کے اندر ایک ایسا ضبط ونظم رکھتی ہو کہ اُس پر ’ الجماعۃ ‘ کا اطلاق ہو سکے۔ اِس حیثیت کے حاصل ہونے سے پہلے کسی جماعت کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ ’ الجماعۃ ‘ بننے کے لیے جد وجہد کرے اور اُس کی یہ جدو جہد جہادہی کے حکم میں ہو گی، لیکن اُس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عملاً جہاد بالسیف اور قتال کے لیے اقدام شروع کر دے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی جنگ کرنے والی جماعت کو انسانوں کے جان ومال پر جو اختیار حاصل ہو جایا کرتا ہے، وہ ایسا غیر معمولی اور اہم ہے کہ کوئی ایسی جماعت اُس کو سنبھال ہی نہیں سکتی جس کے لیڈر کا اقتدار اُس کے اوپر محض اخلاقی قسم کا ہو۔ اخلاقی اقتدار اِس امر کی کافی ضمانت نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے فساد فی الارض کو روک سکے۔ اِس وجہ سے مجرد اخلاقی اقتدار کے اعتماد پر کسی اسلامی لیڈر کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دے، ورنہ اِس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ جب ایک مرتبہ اُن کی تلوار چمک جائے گی تو وہ حلال وحرام کے حدود کی پابندنہیں رہے گی اور اُن کے ہاتھوں وہ سب کچھ ہو جائے گا جس کے مٹانے ہی کے لیے اُس نے تلوار اٹھائی ہے۔ عام انقلابی جماعتیں جو مجرد ایک انقلاب برپا کرنا چاہتی ہیں اور جن کا مطمح نظر اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ قائم شدہ نظام کو درہم برہم کرکے برسراقتدار پارٹی کے اقتدار کو مٹائیں اور اُس کی جگہ اپنا اقتدار جمائیں، اِس قسم کی بازیاں کھیلتی ہیں اور کھیل سکتی ہیں۔ اُن کے نزدیک نہ کسی نظم کا اختلال کوئی حادثہ ہے نہ کسی ظلم کا ارتکاب کوئی معصیت، اِس وجہ سے اُن کے لیے سب کچھ مباح ہے، لیکن ایک عادل اور حق پسند جماعت کے لیڈروں کو لازماً یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جس نظم سے وہ خدا کے بندوں کو محروم کر رہے ہیں، اُس سے بہتر نظم اُن کے واسطے مہیا کرنے کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں اور جس ظلم کے مٹانے کے وہ درپے ہیں، اِس قسم کے مظالم سے اپنے آدمیوں کو بھی روکنے پر وہ پوری طرح قادر ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اُن کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ محض اتفاقات کے اعتماد پر وہ لوگوں کے جان ومال کے ساتھ بازیاں کھیلیں اور جس فساد کو مٹانے کے لیے اٹھے ہیں، اُس سے بڑا فساد خود برپا کرا دیں۔‘‘ ( ۲۴۱)

اِس سے واضح ہے کہ ریاست پاکستان کے جمہوری نظام میں سیاسی انقلاب کی یہ دونوں صورتیں تو شریعت کی رو سے کسی طرح اختیار نہیں کی جا سکتیں، لہٰذا یہاں جو لوگ جہاد وقتال اور ’ نہی عن المنکربالید‘ کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنے فدائین بھرتی کرنے کا پروگرام پیش کر رہے ہیں، اُن کا یہ عمل اُس شریعت کے بالکل منافی ہے جس کے احیا اور نفاذ کے وہ علم بردار بن کر اٹھے ہیں۔ دور حاضر میں اسلامی انقلاب کے سب سے بڑے داعی مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی ماچھی گوٹھ کے تاریخی اجتماع میں اپنی جماعت کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ ایک آئینی وجمہوری نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی قیادت کے لیے کوئی غیر آئینی راستہ اختیار کرنا شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں ہے اور اِسی بنا پر آپ کی جماعت کے دستور نے آپ کو اِس امر کا پابند کیا ہے کہ آپ اپنے پیش نظر اصلاح وانقلاب کے لیے آئینی وجمہوری طریقوں ہی سے کام لیں۔‘‘ ( تحریک اسلامی کا آیندہ لائحۂ عمل ۲۰۵)

تیسری صورت، یعنی انتخابی سیاست کے ذریعے سے حکم واقتدار تک پہنچنے کی کوشش پر شرعاً کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ صورت، اگر غور کیجیے تو اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے تین باتوں کا تقاضا کرتی ہے: اول یہ کہ اِس کی قیادت کسی ایسے شخص کو کرنی چاہیے جو اپنی شخصیت کے لحاظ سے اصلاً ایک لیڈر اور سیاست دان ہو۔ اقبال، ابو الکلام اور ابو الاعلیٰ مودودی کی طرح جو لوگ اصلاً عالم، محقق، مفکر اور دانش ور ہیں، یہ اُن کے کرنے کا کام ہی نہیں ہے۔ اِس کے لیے تو کسی جناح اور کسی بھٹو کی قلب ماہیت کا انتظار کرنا چاہیے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس طرح کی کوئی شخصیت اگر سیاست کے میدان میں اسلامی انقلاب کی علم بردار بن کر کھڑی ہو جائے تو بہت غیر معمولی نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے، لیکن علما اور دانش وروں کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ وہ اگر اِس میدان میں اتریں گے تو معاملہ بالکل وہی ہو کر رہے گا کہ بقول غالب:

ہاں اہل طلب! کون سنے طعنۂ نایافت دیکھا کہ وہ ملتا نہیں، اپنے ہی کو کھو آئے

دوم یہ کہ اس کے لیے جب کوئی تنظیم قائم کی جائے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح اُسے ایک سیاسی جماعت ہونا چاہیے ۔۔۔ ایک ایسی جماعت جو اسلامی انقلاب کو اپنا نصب العین قرار دے کر اصلاً اُنھی لوگوں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کرے جو معاشرے میں اپنی کوئی سیاسی حیثیت رکھتے اور اِس طرح ایک فطری قائد کے طور پر سیاست کے میدان میں اِس دعوت کے علم بردار بن سکتے ہوں۔ دینی اور مذہبی جماعتیں اِس کے لیے کبھی موزوں ہوئی ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ پے در پے ہزیمت اور بتدریج اپنی شناخت سے محرومی کے سوا اُنھیں یہاں کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ سوم یہ کہ اِس میں انتخابات کے موقع پر جو حکمت عملی بھی اختیار کی جائے، اُسے موجود حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔ انتخابات محض دعوت کی توسیع اور اپنا تعارف دوسروں تک پہنچانے کے لیے نہیں، بلکہ موجود سیاسی حقائق میں اپنی حیثیت دوسروں سے منوا لینے کے لیے لڑے جاتے ہیں اور اُن کا ہدف ہمیشہ فتح ہوتی ہے۔اِس طرح کے معاملات میں فتح وشکست سے بے نیازی انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کے بارے میں یہ بالکل مسلم ہے کہ اُس کے خلاف کوئی چیز بھی اس دنیا میں زیادہ دیر تک اپنے آپ کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ یہ اِس صورت کے لازمی تقاضے ہیں۔ اِن سے صرف نظر کر کے کوئی دعوت اگر اِسے اختیار کرے گی تو اِس کے نتائج وہی نکلیں گے جو جماعت اسلامی کی پچھلے پچاس سال کی جد وجہد کے بعد اب اِس ملک میں ہمارے سامنے ہیں۔ چنانچہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اِس راستے پر کامیابی کی تلاش میں: ۱۔ دعوت بتدریج اپنی روح تذکیر، اپنی فکری شناخت اور اپنے جذبۂ احقاق حق سے اِس طرح محروم ہوئی ہے کہ اِن اعتبارات سے اب اُس میں زندگی کی کوئی رمق تلاش کر لینا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ۲۔ تنظیم میں ہر سطح پر قیادت علما اور دانش وروں کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی لحاظ سے بالکل غیرموثر اور علم ودانش کے اعتبار سے بالکل بے مایہ لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ چنانچہ اب نہ سیاست کے میدان میں کوئی روشنی نظر آتی ہے اور نہ دعوت کے میدان میں۔ ۳۔ سیرت واخلاق کا جو سرمایہ بڑی مشکل سے جمع ہوا تھا، وہ بہت کچھ لٹ چکا اور جو باقی ہے، اُسے بھی، ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اب زیادہ دیر تک بچا کر نہ رکھا جا سکے گا۔ لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ اسلامی انقلاب کے علم بردار کسی عالم، محقق اور دانش ور کے لیے تو یہ صورت اگر موزوں ہو سکتی ہے تو صرف اُسی وقت موزوں ہو سکتی ہے، جب اُس کی دعوت معاشرے میں ایسی موثر اور اُس کی قیادت پر قوم اِس طرح مجتمع ہو جائے کہ انتخابات اُس کے لیے انتقال اقتدار کی ایک آئینی ضرورت سے زیادہ کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں اور وہ جب چاہے قوم کا فیصلہ، اُن کے ذریعے سے اپنے حق میں حاصل کر سکتا ہو۔ چوتھی صورت، یعنی معاشرے کے ارباب حل وعقد کے ذہنوں کو دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے مفتوح کر لینے کی جد وجہد اگرچہ اس زمانے میں لوگوں کے لیے بہت کچھ اجنبی ہو چکی، لیکن حق یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے لیے، اِن سب صورتوں میں اگر کوئی صورت دین وشریعت کی رو سے سب سے زیادہ پسندیدہ اور نتائج کے لحاظ سے موثر ترین ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے۔ ۷؂ اللہ کے نبیوں نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ اِسے ہی اختیار کیا ہے، وہ جب بھی اٹھے اور جس دور میں بھی اپنی دعوت لے کر کھڑے ہوئے، اِس کے سوا کوئی طریقہ اُنھوں نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اُن کی دعوت رد بھی ہوئی، وہ جلا وطن بھی ہوئے اور بار ہا قتل بھی کر دیے گئے، لیکن کامیابی کے لیے کسی دوسرے راستے پر دو قدم چلنا بھی اُنھوں نے کبھی گوارا نہیں کیا۔ اُن کے پروردگار نے اُنھیں ہمیشہ یہی ہدایت کی کہ وہ اِس پر ثابت قدم رہیں، اُن کا کام یہی ہے، وہ جس منصب پر فائز ہوئے ہیں، وہ تعلیم وتذکیر کا منصب ہے،وہ اپنی قوموں پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے یہ پیغمبر اِس دنیا میں اپنا انقلاب اگر کبھی برپا کر دینے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ہمیشہ اِسی طریقے سے ہوئے ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اپنی قوم میں اِسی طرح کامیابی کی منزل تک پہنچی، سیدنا یونس علیہ السلام کی قوم اور اُس کے ارباب حل وعقد نے اِسی طرح اُس کے آگے سرتسلیم خم کیا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یثرب میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ٹھیک اِسی طریقے سے قائم ہوئی۔ یہ تاریخ کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ام القریٰ مکہ کے ارباب حل وعقد نے کم و بیش گیارہ سال کی جاں گسل جدوجہد کے باوجود، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول نہیں کی تو آپ نے اللہ کے حکم سے اُسے دوسرے قبائل کے سامنے پیش کیا۔ یثرب کے چند لوگ اِس کے نتیجے میں ایمان لائے، اورپھر اُن کی کوششوں سے دوسال کے قلیل عرصے ہی میں اُس پوری بستی کی قیادت دین حق کے سامنے دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے سرنگوں ہوگئی، یہاں تک کہ آخر ی بیعت عقبہ نے فیصلہ کردیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب جب چاہیں، ایک امام و فرماں روا کی حیثیت سے یثرب منتقل ہو سکتے اوراُس کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد جب آپ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ابو قیس صرمہ رضی اللہ عنہ نے اِس موقع پر اپنے اشعار میں فرمایا :

ثوی فی قریش بضع عشرۃ حجۃ یذکر، لو یلقی صدیقاً مواتیاً
’’آپ دس سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک قریش میں اِس امید پرلوگوں کو نصیحت کرتے رہے کہ کوئی ساتھی، کوئی رفیق (اُن کے اعیان واکابر میں)مل جائے۔ ‘‘
ویعرض فی اھل المواسم نفسہ فلم یرمن ےؤوی ولم یر داعیاً
’’ اور حج کے موقعوں پراپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے، لیکن نہ کوئی پناہ دینے والا ملا اورنہ کوئی ایسا شخص جوآپ کے ساتھ حق کاداعی بن کر کھڑ ا ہو جاتا۔ ‘‘
فلما اتانا اظہر اللّٰہ دینہ فاصبح مسرورًا بطیبۃ راضےًا
’’ لیکن اِس کے بعد جب ہمارے پاس آئے تو اللہ نے یہاں اپنے دین کوغلبہ عطا فرمادیا۔ چنانچہ طیبہ کی اِس بستی سے، آپ ہر لحاظ سے خوش اورہر لحاظ سے راضی ہوگئے۔ ‘‘

اِس ملک کے ارباب سیاست میں سے کوئی شخص اگر یہ کہتا ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کی جدوجہد کرنا چاہتا ہے تو اُسے بے شک، یہی مشور ہ دیا جائے گا کہ وہ اِس کے لیے انتخابی سیاست کا طریقہ اختیار کرے، لیکن دین کے علماکے لیے واحد راستہ یہی ہے۔ وہ پیغمبروں کے وارث ہیں، لہٰذا وہ یہ راستہ جب چھوڑیں گے، اپنی وراثت کوچھوڑیں گے اوراِس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ سیاست کی حریفانہ کشاکش میں بتدریج اپنی شناخت سے محروم ہوجائیں گے، علما کے لیے یہ اُن کے اختیار کا مسئلہ نہیں، قرآن مجیدمیں اُن کا منصب یہی بیان ہوا ہے کہ وہ دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے اپنی قوم اور اُس کے ارباب حل وعقد کواُن تغیرات پر آمادہ کرتے رہیں جو اسلام اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً، فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَاءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ. (التوبہ ۹: ۱۲۲) ’’ اور سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اِس کام کے لیے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو انذار کرتے، جب(علم حاصل کر لینے کے بعد) اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ بچتے۔‘‘

اِس کا لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے ؟ قرآن مجید میں اِس کی اساسات اگرچہ بالکل متعین ہیں۔۸؂ لیکن تفصیلات، ظاہر ہے کہ ہر قوم کے حالات اورہر دور کی ضرورتوں کے لحاظ سے بہت کچھ مختلف ہوسکتی ہیں۔ ریاست پاکستان میں، ہمارے نزدیک، اِس کا صحیح لائحۂ عمل یہ ہے : دین میں تحقیق و اجتہاد اوراُس کی تعلیم وتدریس کے لیے ایسے ادارے قائم کیے جائیں جن میں قرآن مجید ہی کو ہر چیز پر حکم قراردے کر، اُس کے ذریعے سے علوم اسلامی کی بنیادیں ایک مرتبہ پھر اُن کے اصل ماخذ وں، یعنی قرآن وسنت پر استوار کردی جائیں۔ ملک میں تطہیر فکر وعمل کی ایک ایسی تحریک برپا کی جائے جو قوم کے ذہین عناصر، بالخصوص اُس کے ارباب حل وعقدکوشب وروز اِس دعوت سے متعلق کردینے کی جدوجہد کرتی رہے۔ تذکیر بالقرآن کو اِس تحریک میں دعوت کی اساس قرار دیا جائے اور لوگوں کواِس میں کسی خاص مذہبی فرقے کے تعصبات یا کسی خاص شخصیت سے تعلق کے بجائے ایک ایسے منشور کی طرف بلایا جائے جس میں بالکل متعین طریقے پریہ بتایا جائے کہ اسلام کی بنیاد پر ہم فی الواقع اِس ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم و تعلم اور حدود و تعزیرات کے نظام میں کیا تغیرا ت چاہتے ہیں۔ ایف اے، ایف ایس سی تک عام تعلیم کے مدارس کا ایک سلسلہ نہایت اعلیٰ معیار پر پورے ملک میں پھیلا دیاجائے، جہا ں قرآن کی دعوت خود قرآن ہی کے ذریعے سے طالب علموں کے ذہن میں اِس طرح راسخ کردی جائے کہ بعد کے زمانوں میں وہ پورے شرح صدر کے ساتھ اپنے دین پرقائم رہ سکیں۔ اہل دعوت یہ بات ہمیشہ کے لیے طے کرلیں کہ اِس ملک کی اکثریت جب تک اُن کی ہم نوا نہ ہوجائے، اپنے پیش نظر انقلاب کے لیے وہ دعوت وانذار سے آگے ہر گزکوئی اقدام نہ کریں گے۔ یہ دعوت اگر اِس طریقے سے اوراِس لائحۂ عمل کے مطابق ہمارے اِس ملک میں برپا ہوجائے تو اِس سے جونتائج متوقع ہوسکتے ہیں، وہ یہ ہیں : اس کا ایک نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ اِسی دعوت کے کا م میں اہل دعوت کا وقت آپہنچے، اور وہ بنی اسرائیل کے اکثر انبیا کی طرح اِسے اپنے بعد آنے والوں کے لیے چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوتے رہیں۔ دوسرا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ اہل د عو ت کی منادی قوم کے ارباب حل وعقد کے دلوں میں اتر جائے اوروہ توبہ و انابت کے ساتھ اپنا سر پروردگار کے سامنے جھکادیں۔ تیسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ قوم اِن اہل دعوت کی قیادت پراِس طرح مجتمع ہو جائے کہ وہ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں حکم واقتدار کے لیے اُس کا فیصلہ اپنے حق میں حاصل کرلیں۔ چوتھا نتیجہ یہ ہوسکتاہے کہ قوم کے ارباب سیاست میں سے کوئی شخص اِس دعوت کواس طرح قبول کرلے کہ ریاست پاکستان کے جمہوری نظام میں یہ اُس کی شخصیت کے بل بوتے پرانتخابی سیاست ہی کے ذریعے سے حکم واقتدار کی منزل تک پہنچ جائے۔ [۱۹۹۴ء]