ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے ، اُس کے لیے ہمارے ہاں تصوف کی اصطلاح رائج ہے ۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے ۔ اسلام اور تصوف کے بارے میں اپنا یہ نقطۂ نظر ہم ذیل میں تفصیل کے ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔

توحید

قرآن کی رو سے توحید بس یہ ہے کہ الٰہ صرف اللہ کو مانا جائے جو اُن تمام صفات کمال سے متصف اور عیوب و نقائص سے منزہ ہے جنھیں عقل مانتی اور جن کی وضاحت خود اللہ پروردگار عالم نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے کی ہے ۔ ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے۔ قرآن مجید کے نزدیک کوئی ایسی صفت یا حق بھی اگر کسی کے لیے تسلیم کیا جائے جو اِس امرو تصرف ہی کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہو تو یہ درحقیقت اُسے ’الٰہ ‘ بنانا ہے ۔ چنانچہ وہ اِس امرو تصرف اور اِن حقوق و صفات کو صرف اللہ کے لیے ثابت قرار دیتا ہے۔ بنی آدم سے اُس کا مطالبہ ہے کہ وہ بھی اپنے ایمان و عمل اور طلب و ارادہ میں اِسے اللہ ہی کے لیے ثابت قرار دیں ۔ شرک اُس کی اصطلاح میں اِسی سے انحراف کی تعبیر ہے ۔ یہی توحید ہے جس پر اللہ کا دین قائم ہوا ۔ یہی اُس دین کی ابتدا، یہی انتہا اور یہی باطن و ظاہر ہے۔ اِسی کی دعوت اللہ کے نبیوں نے دی ۔ ابراہیم و موسیٰ ، یوحنا و مسیح اور نبی عربی ۔۔۔ اِن پر اللہ کی رحمتیں ہوں ۔۔۔ سب اِسی کی منادی کرتے ہیں ۔ تمام الہامی کتابیں اِسے ہی لے کر نازل ہوئیں۔ اِس سے اوپر توحید کا کوئی درجہ نہیں ہے جسے انسان اِس دنیا میں حاصل کرنے کی سعی کرے۔ قرآن مجید نے شروع سے آخر تک اِسے ہی بیان کیا ہے ۔ سورۂ حشر میں ہے :

ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ، عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ. ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ، اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ، سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ. ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ، لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ، یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(۵۹:۲۲۔۲۴) ’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، غائب و حاضر سے باخبر۔ وہ سراسر رحمت ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، پادشاہ، وہ منزہ ہستی ، سراسر سلامتی ، امن دینے والا ، نگہبان، غالب، بڑے زور والا، بڑائی کا مالک۔ پاک ہے اللہ اُن سے جو یہ شریک بتاتے ہیں ۔ وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت دینے والا۔ سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔ اُسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں ، اور وہ زبردست ہے ، بڑی حکمت والاہے ۔ ‘‘

سورۂ اخلاص میں یہ اِس طرح بیان ہوئی ہے :

قُلْ: ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ.(۱۱۲:۱۔۴) ’’کہہ دو، اللہ یکتا ہے ۔ اللہ سب کا سہارا ہے۔ وہ نہ باپ ہے ، نہ بیٹا اور نہ اُس کا کوئی ہم سر ہے ۔‘‘

توبہ میں ہے :

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ، وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ.(۹: ۳۱) ’’اُنھوں نے اپنے علما اور راہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی ، حالاں کہ اُنھیں بس یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک ہی الٰہ کی عبادت کریں، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ پاک ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں ۔‘‘

اہل تصوف کے دین میں یہ توحید کا پہلا درجہ ہے ۔ وہ اِسے عامۃ الناس کی توحید قرار دیتے ہیں۔ توحید کے مضمون میں اِس کی اہمیت اُن کے نزدیک تمہید سے زیادہ نہیں ہے ۔ توحید کا سب سے اونچا درجہ اُن کے نزدیک یہ ہے کہ موجود صرف اللہ کو مانا جائے جس کے علاوہ کوئی دوسری ہستی درحقیقت موجود نہیں ہے ۔ تمام تعینات عالم ، خواہ وہ محسوس ہوں یا معقول ، وجود حق سے منتزع اور محض اعتبارات ہیں ، اُن کے لیے خارج میں وجود حق کے سوا اور کوئی وجود نہیں ہے ۔ ذات باری ہی کے مظاہر کا دوسرا نام عالم ہے ۔ یہ باعتبار وجود خدا ہی ہے ، اگرچہ اِسے تعینات کے اعتبار سے خدا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اِس کی ماہیت عدم ہے ۔ اِس کے لیے اگر وجود ثابت کیا جائے تو یہ شرک فی الوجود ہو گا ۔ ’لا موجود الا اللّٰہ ‘ سے اِسی کی نفی کی جاتی ہے :

جاروب ’ لا‘ بیار کہ ایں شرک فی الوجود باگرد فرش و سینہ بایواں برابرست

صاحب ’’منازل‘‘ ۱؂ لکھتے ہیں :

التوحید علی ثلاثۃ اوجہ، الوجہ الاوّل: توحید العامۃ وھو الذی یصح بالشواھد، والوجہ الثانی: توحید الخاصۃ وھو الذی یثبت بالحقائق، والوجہ الثالث: توحید قائم بالقدم وھو توحید خاصۃ الخاصۃ. فاما التوحید الاول فھو شھادۃ ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفواً احد.( ۴۷) ’’توحید کے تین درجے ہیں : پہلا درجہ عوام کی توحید کا ہے ، یہ وہ توحید ہے جس کی صحت دلائل ۲ ؂ پر مبنی ہے ۔ دوسرا درجہ خواص کی توحید کا ہے ، یہ حقائق ۳؂سے ثابت ہوتی ہے ۔ توحید کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں وہ ذات قدیم ہی کے ساتھ قائم ہے ، ۴؂ یہ اخص الخواص کی توحید ہے ۔ اب جہاں تک عوام کی توحید کا تعلق ہے تو وہ بس یہ ہے کہ اِس بات کی گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، صرف وہی الٰہ ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ، وہ یکتا ہے ، سب کا سہارا ہے، وہ نہ باپ ہے، نہ بیٹا اور نہ اُس کا کوئی ہم سر ہے۔ ‘‘

اپنی اِس توحید کی وضاحت میں ، جسے اُنھوں نے ’ قائم بالقدم‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں :

انہ اسقاط الحدث واثبات القدم.( ۴۷) ’’یہ حادث کی نفی اور قدیم کا اثبات ہے ۔ ‘‘ ۵؂

یہی بات غزالی ۶؂ نے لکھی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :

والرابعۃ: ان لا یری فی الوجود الا واحدًا وھی مشاھدۃ الصدیقین و تسمیہ الصوفیۃ الفناء فی التوحید، لانہ من حیث لا یری الا واحدًا فلا یری نفسہ ایضاً واذا لم یر نفسہ لکونہ مستغرقاً بالتوحید، کان فانیاً عن نفسہ فی توحیدہ بمعنی انہ فنی عن رؤیۃ نفسہ والخلق. (احیاء علوم الدین ۴/۲۴۵) ’’توحید کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ بندہ صرف ذات باری ہی کو موجود دیکھے ۔ یہی صد یقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیہ اِسے ہی فنا فی التوحید کہتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مرتبہ میں بندہ چونکہ وجود واحد کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ، چنانچہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا ۔ اور جب وہ توحید میں اس استغراق کے باعث اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا تو اُس کی ذات اِس توحید میں فنا ہو جاتی ہے ، یعنی اِس مرتبہ میں اُس کا نفس اور مخلوق، دونوں اُس کی نگاہوں کے لیے معدوم ہو جاتے ہیں۔‘‘

ابن عربی نے اپنی کتابوں ، بالخصوص ’’فصوص‘‘ اور ’’فتوحات‘‘ ۷؂ میں اِسی عقیدہ کی شرح و وضاحت کی ہے۔ اُن کے نزیک عارف وہی ہے جو ذات حق اور ذات عالم کو باعتبارحقیقت الگ الگ نہ سمجھے، بلکہ جس کو، جس سے ، جس میں اور جس کے ذریعے سے دیکھے ، سب کو اِس اعتبار سے ذات حق ہی قرار دے۔ ۸؂ فص ہودیہ میں ہے :

فمن رأی الحق منہ فیہ بعینہ فذلک العارف، ومن رأی الحق منہ فیہ بعین نفسہ فذلک غیر العارف، ومن لم یر الحق منہ ولا فیہ وانتظر ان یراہ بعین نفسہ فھو الجاھل المحجوب. (فصوص الحکم ۱۱۳) ’’پس جس نے حق کو ، حق سے ، حق میں ، چشم حق سے دیکھا، وہی عارف ہے ۔ اور جس نے حق کو حق سے ، حق میں دیکھا ، مگر بچشم خود دیکھا، وہ عارف نہیں ہے ۔ اور جس نے حق کو نہ حق سے دیکھا اور نہ حق میں اور اِس انتظار میں رہا کہ وہ اِسے بچشم خود ہی دیکھے گا ۹؂ تو وہ مشاہدۂ حق سے محروم محض جاہل ہے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں :

فلم یبق الا الحق لم یبق کائن فما ثم موصول و ما ثم بائن ۱۰؂

’’وجود ایک ہی حقیقت ہے ، اِس لیے ذات باری کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔ چنانچہ نہ کوئی ملاہوا ہے نہ کوئی جدا ہے ، یہاں ایک ہی ذات ہے جو عین وجود ہے ۔ ‘‘

فص ادریسیہ میں ہے :

فالامر الخالق المخلوق، والامر المخلوق الخالق، کل ذلک من عین واحدۃ، لا بل ھو العین الواحدۃ، وھو العیون الکثیرۃ.(فصوص الحکم ۷۸) ’’اگرچہ مخلوق، بظاہر خالق سے الگ ہے ، لیکن باعتبار حقیقت خالق ہی مخلوق اور مخلوق ہی خالق ہے ۔ یہ سب ایک ہی حقیقت سے ہیں ۔ نہیں، بلکہ وہی حقیقت واحدہ اور وہی اِن سب حقائق میں نمایاں ہے ۔ ‘‘ ۱۱ ؂

شیخ احمد سرہندی ۱۲ ؂نے صرف ممکنات کی ماہیت میں ابن عربی سے اختلاف کیا ہے۔ ابن عربی کے نزدیک وہ اسما و صفات ہیں جنھیں مرتبۂ علم میں امتیاز حاصل ہوا ہے اور شیخ اُنھیں عدمات قرار دیتے ہیں جنھوں نے علم خداوندی میں تعین پیدا کیا اور مرتبۂ و ہم و حس میں ثابت ہو گئے ہیں ۔ رہا اُن کے وجود کا مسئلہ تو اِس کے بارے میں اُن کی رائے بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ۔ وہ لکھتے ہیں :

ممکن را وجود ثابت کردن و خیر و کمال باو داشتن فی الحقیقت شریک کردن است او رادر ملک و ملک حق جل سلطانہ ۔ (مکتوبات ۲، مکتوب ۱) ’’ممکن کے لیے وجود ثابت کرنااور خیر و کمال کو اُس سے متعلق ٹھیرانا درحقیقت اُسے ذات باری کی مِلک اور مُلک میں شریک کرنا ہے ۔ ‘‘

تاہم اپنے اِسی اختلاف کی بنا پر اُنھوں نے توحید شہودی کا نظریہ پیش کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ عالم چونکہ مرتبۂ وہم میں بہرحال ثابت ہے ، اِس لیے نفی صرف شہود کی ہونی چاہیے ۔ اُن کے نزدیک ، اِس مقام پر سالک اللہ کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ۔ چنانچہ اِس وقت اُس کی توحید یہ ہے کہ وہ مشہود صرف اللہ کو مانے۔ ’’مکتوبات‘‘ میں ہے :

توحید شہودی یکے دیدن است ، یعنی مشہود سالک جزیکے نہ باشد۔ (مکتوبات ۱، مکتوب ۴۳) ’’توحید شہودی یہ ہے کہ تنہا ذات حق ہی دکھائی دے ، یعنی سالک کا مشہود اُس ذات کے سوا کوئی دوسرا نہ ہو۔‘‘

یہ محض تعبیر کا فرق ہے ۔ اِس باب میں قرآن مجید کی اُس صراط مستقیم سے انحراف کے بعد جس میں نہ ممکن کے لیے وجود کا اثبات کوئی شرک ہے اور نہ موجود یا مشہود صرف اللہ ہی کو قرار دینا توحید کا کوئی مرتبہ ہے ، اہل تصوف نے جو راہ اختیار کی ہے ، یہ سب اُسی کے احوال و مقامات ہیں ۔ شاہ اسمٰعیل اِس حقیقت کی وضاحت میں کہ یہ فی الواقع محض تعبیر کا فرق ہے ، اپنی کتاب ’’عبقات‘‘ ۱۳ ؂ میں لکھتے ہیں :

اتفق اھل الکشف والوجدان وارباب الشھود والعرفان مویدین بالبراھین العقلیۃ والاشارات النقلیۃ علی ان القیوم للکثرات الکونیۃ واحد شخصی.(اشارہ ۱، عبقہ ۲۰) ’’وہ سب لوگ جو کشف ووجدان اور شہود و عرفان کی نعمت سے بہرہ یاب ہوئے ، ۱۴ ؂ اِس بات پر متفق ہیں کہ تمام مخلوقات کے لیے مابہ التعین ۱۵؂ ایک ہی متعین وجود ہے ۱۶؂ اور عقل کے دلائل اور قرآن و حدیث کے اشارات سے اُن کی اس بات کی تائید ہوتی ہے ۔ ‘‘

وہ فرماتے ہیں :

ولیس بینھم وبین الشھودیۃ الظلیۃ اختلاف عند التحقیق، الا فی العبارات الناشیۃ من تغایر مقاماتھم واختلاف انحاء وصولھم الی اللاھوت.(اشارہ۱، عبقہ ۲۰) ’’اور اُن میں (وجودیہ ورائیہ میں) ۱۷؂ اور شہودیہ ظلیہ ۱۸؂ میں ، اگر تحقیق کی نظر سے دیکھا جائے تو اِس کے سوا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اُنھوں نے اپنے مقامات کے فرق اور لاہوت ۱۹ ؂ تک پہنچنے کی راہوں کے اختلاف کی وجہ سے اپنے مدعا کی وضاحت کے لیے ایک دوسرے سے ذرا مختلف اسلوب اختیار کیا ہے۔‘‘

چنانچہ خود صاحب ’’عبقات‘‘ نے اپنی اِس توحید کے مراتب اِس طرح بیان کیے ہیں :

التفطن بالوحدۃ القیومیۃ للکثرۃ الکونیۃ واستقلالھا بالتحقیق والمبدئیۃ للاٰثار واضمحلال الکثرۃ تحتھا وتبعیتھا فی الوجود یقیناً واطمئناناً علماً او عیناً او حقاً یسمی بتوحید ظاھر الوجود.(اشارہ ۱، عبقہ ۱۴) ’’یہ بات اگر فی الواقع سمجھ میں آ جائے، خواہ یہ علم الیقین کے درجے میں ہو یا عین الیقین کے درجے میں اور خواہ حق الیقین کے درجے میں کہ تمام مخلوقات کے لیے مابہ التعین ایک ہی ہے ؛ استقلال ، درحقیقت اُسے ہی حاصل ہے ؛ آثار کا مبدا وہی ہے ؛ کثرت اُس کے سامنے کچھ نہیں اور باعتبار وجود اُس کے تابع ہے ، تو اِسے ’توحید ظاہر الوجود‘ کہا جاتا ہے۔‘‘

اِسی ’’اشارہ‘‘ میں ہے :

فلا یزال العارف یسیر فی اللّٰہ حتی ینکشف الوحدۃ الجامعۃ لشتات الاسماء وھٰذا یسمی بتوحید باطن الوجود.(اشارہ۱،عبقہ ۳۶) ’’چنانچہ عارف کی یہ ’سیر فی اللہ‘ ۲۰؂ جاری رہتی ہے ، یہاں تک کہ وہ اُس وحدت کو پالیتا ہے جو تمام اسما کے لیے وحدت جامعہ ہے۔ یہ ’توحید باطن الوجود‘ ۲۱؂ ہے ۔ ‘‘

پھر یہی نہیں ، قرآن جس توحید کی دعوت بنی آدم کو دیتا ہے ، وہ اُس کے نزدیک ایک واضح حقیقت ہے جسے خود عالم کے پروردگار نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ، جس کی تعریف اُس کے نبیوں نے کی ، جسے دلوں نے سمجھا ، جس کا اقرار زبانوں نے کیا ، جس کی گواہی اُس کے فرشتوں اور سب اہل علم نے دی اور جس کا کوئی پہلو اب سننے والوں اور جاننے والوں سے پردۂ خفا میں نہیں ہے ۔ قرآن کا ارشاد ہے :

شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلآءِکَۃُ وَاُولُو الْعِلْمِ قَآءِمًا بِالْقِسْطِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(آل عمران ۳: ۱۸) ’’اللہ ، اُس کے فرشتوں اور اہل علم نے گواہی دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ عدل کا قائم رکھنے والا ہے ، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ سب پر غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔ ‘‘

اللہ کے سب نبی اِسے دنیا میں عام کرنے اور انسانوں کو اِس کی طرف بلانے کے لیے آئے۔ اُنھیں اُس ہستی نے جس کا ارشاد ہے کہ وہ کسی کو تکلیف مالایطاق نہیں دیتی، اِس کا مکلف ٹھیرایا کہ وہ اِس کی تبلیغ کریں ۔ اُنھیں بتایا گیا کہ اِس میں اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو یہ عین اُس فرض رسالت کے ادا کرنے میں کوتاہی ہو گی جس کے ادا کرنے ہی کے لیے اللہ نے اُنھیں اپنا رسول مقرر کیا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے :

یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ.(المائدہ ۵: ۶۷) ’’اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر اتارا گیا ہے ، اُسے اچھی طرح پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھا جائے گا) کہ تم نے اُس کا کچھ پیغام نہیں پہنچایا ۔ ‘‘

اہل تصوف کے دین میں جب سالک اِس توحید کے اسرار پر مطلع ہوتا ہے جو اوپر بیان ہوئی تو الفاظ اُس کی تعبیر سے قاصر اور زبان اُس کی تعریف اور اُس کی تبلیغ سے عاجز ہو جاتی ہے ۔ ۲۲؂ ’’منازل‘‘ میں ہے :

فان ذٰلک التوحید تزیدہ العبارۃ خفاء والصفۃ نفوراً والبسط صعوبۃ.( ۴۸) ’’چنانچہ اِس توحید کو ظاہر کیجیے تو اور چھپتی ہے، اِس کی وضاحت کیجیے تو اور دور ہوتی ہے اور اِس کو کھولیے تو اور الجھتی ہے ۔ ‘‘

وہ فرماتے ہیں :

والاح منہ لائحاً الی اسرار طائفۃ من صفوتہ واخرسھم عن نعتہ واعجزھم عن بثہ.( ۴۷) ’’اور یہ توحید ذات باری کی طرف سے اُس کے منتخب بندوں کی ایک جماعت ہی کے اسرار میں کچھ ظاہر ہوئی اور اِس نے اُنھیں اُس کے بیان سے قاصر اور اُس کے پھیلانے سے عاجز کر دیا۔‘‘

غزالی نے لکھا ہے :

فاعلم ان ھذہ غایۃ علوم المکاشفات واسرار ھذا العلم لا یجوز ان تسطر فی کتاب، فقد قالالعارفون: افشاء سر الربوبیۃ کفر. (احیاء علوم الدین ۴/۲۴۶) ’’پس جاننا چاہیے کہ علوم مکاشفات کی اصل غایت یہی توحید ہے اور اِس علم کے اسرار کسی کتاب میں لکھے نہیں جا سکتے ، اِس لیے کہ حدیث عارفاں ہے کہ سرربوبیت کو فاش کرنا کفر ہے ۔‘‘

توحید کے باب میں یہی نقطۂ نظر اپنشدوں کے شارح شری شنکر اچاریہ ، شری رام نوج اچاریہ ، حکیم فلوطین اور اسپنوزا کا ہے ۔ مغرب کے حکما میں سے لائبنز ، فحتے ۰ ، ہیگل ، شوپن ہاور اور بریڈلے بھی اِسی سے متاثر ہیں ۔ اِن میں سے شری شنکر، فلوطین اور اسپنوزا وجودی اور رام نوج اچاریہ شہودی ہیں۔ گیتا میں شری کرشن نے بھی یہی تعلیم دی ہے ۔ اپنشد، برہم سوتر ، گیتا اور فصوص الحکم کو اِس دین میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نبیوں کے دین میں تورات ، زبو ر، انجیل اور قرآن کو حاصل ہے ۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو اللہ کی ہدایت، یعنی اسلام کے مقابلے میں تصوف وہ عالم گیر ضلالت ہے جس نے دنیا کے ذہین ترین لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

جاری ہے

مضمون کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

________

حواشی

۱؂ ’’منازل السائرین‘‘ ، علم تصوف کا اہم ترین ماخذ۔ شیخ الاسلام ابو اسمٰعیل عبد اللہ بن محمد بن علی الانصاری الہروی کی تصنیف ہے ۔ خراساں کے شیخ اور اپنے زمانے کے اکابر حنابلہ میں سے تھے ۔ ۴۸۱ھ میں وفات پائی ۔
۲؂ یعنی وہ دلائل جو عقل و فطرت اور وحی الٰہی کی شہادت سے ثابت ہیں ۔
۳؂ یعنی مکا شفہ و مشاہدہ وغیرہ وہ حقائق جن کا ذکر اُنھوں نے اِسی عنوان کے تحت ’’منازل السائرین‘‘ میں کیا ہے ۔
۴؂ یعنی اِس مرتبہ میں بندے کے لیے وجود چونکہ ثابت نہیں رہتا ، اِس لیے وہ جس کی توحید بیان کی جاتی ہے ، وہی درحقیقت اپنی توحید بیان کرتا ہے ۔ چنانچہ توحید صرف ذات باری ہی کے ساتھ قائم قرار پاتی ہے ، ذات باری کے سوا کسی موحد کا اثبات اِس مرتبہ میں اُن کے نزدیک الحاد کے مترادف ہے ۔ صاحب ’’منازل‘‘ کہتے ہیں :
توحیدہ ایاہ توحیدہ
ونعت من ینعتہ لاحد
’’اُس کی توحید درحقیقت اُس کا آپ ہی اپنی توحید بیان کرنا ہے ، دوسرا اگر اُس کی توحید بیان کرے تو یہ الحاد ہے ۔‘‘
۵؂ یعنی اِس بات کا اقرار کہ موجود صرف اللہ ہی ہے ۔
۶؂ ابوحامد محمد بن محمد الغزالی ، حجۃ الاسلام کے لقب سے معروف ہیں ۔ طوس کے قصبہ طابران میں ۴۵۰ھ میں پیدا ہوئے ۔ ’’احیاء علوم الدین‘‘ علوم تصوف میں اُن کی شہرۂ آفاق تصنیف ہے ۔ ۵۰۵ھ میں وفات پائی ۔
۷؂ ’’فصوص الحکم‘‘ اور ’’فتوحات مکیہ‘‘ شیخ محی الدین ابن عربی کی اہم ترین تصنیفات ہیں ۔ اہل تصوف اُنھیں شیخ اکبر کہتے ہیں ۔ ۵۶۰ھ میں اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے ۔ ۶۳۸ھ میں دمشق میں وفات پائی ۔
۸؂ یعنی اِس بات کا اقرار کرے کہ : اصل شہود و شاہد ومشہود ایک ہے ۔
۹؂ یعنی اس نقطۂ نظر پر قائم رہا کہ خالق اور مخلوق میں باعتبار حقیقت مغایرت ہے ۔
۱۰؂ فصوص الحکم ، فص اسماعیلیہ ۹۳ ۔
۱۱؂ چنانچہ وہ لکھتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کے بیٹے کو ایک بڑی قربانی کے عوض میں چھڑا لیا ۔ پس مینڈھے کی صورت میں وہی تو ظاہر ہوا جو انسان یعنی ابراہیم کی صورت میں اور جو ابراہیم کے بیٹے کی صورت میں ظاہر ہواتھا۔ نہیں، بلکہ بیٹے کے حکم کے ساتھ وہی ظاہر ہوا جو والد کا عین تھا، یعنی اللہ تعالیٰ۔‘‘(فص ادریسیہ ۷۸)
۱۲؂ شیخ احمد بدر الدین ابو البرکات فاروقی سرہندی ، شیخ مجدد اور مجدد الف ثانی کے لقب سے معروف ہیں۔ ۹۷۱ھ میں پیداہوئے ۔ اُن کے افکار کے بہترین ترجمان اُن کے ’’مکتوبات‘‘ ہیں ۔ ۱۰۳۴ھ میں اِس دنیا سے رخصت ہوئے ۔
۱۳؂ ’’عبقات‘‘ ، علم تصوف کا بے مثال شہ پارہ ۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ محمد اسمٰعیل کی تصنیف ہے ۔ ۱۱۹۳ھ میں پیدا ہوئے ۔ سید احمد بریلوی کی قیادت میں دعوت و جہاد کی عظیم تحریک برپا کی ۔ ۱۲۴۶ھ میں بالا کوٹ کے مقام پر سکھوں کے خلاف ایک معرکہ میں شہید ہوئے ۔
۱۴؂ یعنی ارباب تصوف۔
۱۵؂ یعنی جس سے کوئی چیز موجود ہوتی ہے ؛ جیسے لوہے سے تلوار اور چھری وغیرہ ۔
۱۶؂ یعنی ذات باری مرتبۂ ’وجود منبسط‘ میں ۔ یہ ذات باری کا وہی مرتبہ ہے جسے ابن عربی ’ظاہر الوجود‘ کہتے ہیں ۔ اِس مرتبہ میں اُن کے نزدیک ، ذات باری کے لیے عالم کے ساتھ وہ نسبت وجود میں آتی ہے جو مثلاً لوہے کو اُس تلوار کے ساتھ ہے جو اُس سے بنائی جاتی ہے ۔ یہ مراتب اسما میں سے پانچواں مرتبہ ہے۔
۱۷؂ یعنی توحید وجودی کے ماننے والے ۔
۱۸؂ یعنی توحید شہودی کے ماننے والے ۔
۱۹؂ ’لاہوت‘ کا لفظ اہل تصوف کے ہاں ذات باری ہی کے لیے مستعمل ہے ۔ صاحب ’’عبقات‘‘ لکھتے ہیں : ’قد جرت عادتھم بان یسموا ذات الفاطر باللاھوت‘ ۔ (اشارہ ۱ ، عبقہ ۱۷)
۲۰؂ ’سیر فی اللہ‘ سالک کے لیے ذات باری کے اُس مرتبہ کا انکشاف ہے جس کے لیے اُن کے ہاں ’باطن الوجود‘ کی اصطلاح مستعمل ہے ۔
۲۱؂ اُن کی اصطلاح میں ذات باری کے مراتب اسما میں سے تیسرا مرتبہ جسے یہ واحدیت ، تنزل علمی اور عالم عقلی بھی کہتے ہیں ۔
۲۲؂ تاہم یہ اسرار اگر کبھی زبان پر آتے ہیں تو خانقاہوں کی فضا ’انا الحق‘ (میں حق ہوں)، ’سبحانی ما اعظم شانی‘! (میں پاک ہوں، میری شان کتنی بڑی ہے ) اور ’ما فی جبتی الا اللّٰہ‘ (میرے جبے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں)کی صداؤں سے معمور ہو جاتی ہے۔

____________