استاذامام امین احسن اصلاحی کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کی نو ضخیم مجلدات میں سے جو دو غلطی ہاے مضامین ڈاکٹر محمود الحسن صاحب نے ڈھونڈ نکالی ہیں، اُن میں سے رجم کی سزا کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم اِس سے پہلے اپنے مضامین میں واضح کر چکے ہیں، سورۂ فیل کی تفسیر کے متعلق چند معروضات البتہ، یہاں پیش کیے دیتے ہیں۔ اِس سورہ کی عام تفسیر یہ ہے کہ ۵۷۰ء یا ۵۷۱ء میں یمن کا فرماں روا ابرہہ ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی (بعض روایات کے مطابق نو ہاتھی) لے کر کعبہ کو ڈھانے کے لیے مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اہل مکہ اِس خیال سے کہ وہ اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتے، اپنے سردار عبدالمطلب کی قیادت میں پہاڑوں پر چلے گئے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ کے جنود قاہرہ پرندوں کی صورت میں اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگ ریزے لیے ہوئے نمودار ہوئے اور اُنھوں نے ابرہہ کے لشکر پر اِن سنگ ریزوں کی بارش کر دی۔ چنانچہ یہ سارا لشکر منیٰ کے قریب وادی محسر میں بالکل کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو کر رہ گیا۔ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کو اِس تفسیر سے اختلاف ہے۔ اِس کے جو وجوہ اُنھوں نے اپنی کتاب میں بیان کیے ہیں، اُن میں سب سے بڑی وجہ اُن کے نزدیک یہ ہے کہ سورہ کی یہ تفسیر اُس قانون کے خلاف ہے جو نصرت الٰہی کے بارے میں خود قرآن نے جگہ جگہ بیان کیا ہے اور قرآن کی کوئی ایسی تفسیر جو اُس کے مدعا میں تناقض پیدا کر دے، کسی طرح قبول نہیں کی جا سکتی۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جن لوگوں نے قریش پر اِس بے حمیتی کا الزام لگایا ہے، اُن کے نزدیک اِس سورہ کا درس گویا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس گھر کا خود محافظ ہے۔ اِس کے پاسبان دشمن سے ڈر کر اگر اِس کو چھوڑ کے بھاگ جائیں جب بھی خدا اِس کی حفاظت کرے گا۔ چنانچہ جب قریش ابرہہ کی فوجوں سے ڈر کر پہاڑوں میں جا چھپے تو اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کے ذریعہ سے اُن پر پتھراؤ کرکے اُن کو بھس کی طرح پامال کر دیا۔ اگر فی الواقع اِس سورہ کا درس یہی ہے تو یہ درس اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ بندے اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے بنی اسرائیل کی طرح یہ کہیں کہ ’فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ، اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ‘۱؂ ( تم اور تمھارا خداوند جاؤ لڑو، ہم یہاں بیٹھتے ہیں)،اور خدااُن کے لیے میدان جیت کر تخت بچھا دے اور یہ اُس پر براجمان ہو جائیں۔اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والا ہوتا تو بنی اسرائیل کے ساتھ اُس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ اُن کو تو اُس نے اِس کی سزا یہ دی کہ چالیس سال کے لیے اُن کو صحرا ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جو قرآن سے واضح ہوتی ہے، وہ تو یہ ہے کہ وہ اُن لوگوں کی مدد فرماتا ہے جو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اگرچہ اُن کی تعداد کتنی ہی کم اور اُن کے وسائل کتنے ہی محدود ہوں۔ چنانچہ قرآن نے بیت اللہ سے متعلق سورۂ بقرہ، سورۂ توبہ ، سورۂ حج وغیرہ میں ہماری جو ذمہ داریاں بتائی ہیں، وہ یہی ہیں کہ ہم اُس کی آزادی و حفاظت کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں ہے، وہ کریں، اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ تم کچھ کرو یا نہ کرو، ہماری ابابیلیں اُس کی حفاظت کرلیں گی۔ بہرحال قریش نے جو کچھ اُن کے امکان میں تھا، وہ کیا۔ اگرچہ اُن کی مدافعت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ، کمزور تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حاصب (تند و تیز ہوا) کے ذریعہ سے اُن کی اِس کمزور مدافعت کے اندر اتنی قوت پیدا کر دی کہ دشمن کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے موقع پر صرف مٹھی بھر خاک قریش کے لشکر کی طرف پھینکی تھی، لیکن وہی مٹھی بھر خاک اُن کے لیے طوفان بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے اِس کی اہمیت یوں واضح فرمائی کہ: ’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۲؂ ‘ (اور وہ کنکریاں دشمنوں پر تم نے نہیں پھینکی تھیں، بلکہ اللہ نے پھینکیں )۔‘‘ (تدبر قرآن۹/ ۵۶۲)

اِس سورہ کی جو تفسیر صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ نے کی ہے، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل مکہ اِس موقع پر بے شک، پہاڑوں میں چلے گئے تھے، لیکن اُنھوں نے یہ اقدام مدافعت سے دست برداری کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ابرہہ کی عظیم فوج کے مقابل میں دفاع کی یہی ایک شکل تھی جو وہ اختیار کر سکتے تھے۔ چنانچہ حملہ آور فوج جب منیٰ کے قریب پہنچی تو اُنھوں نے پہاڑوں کی اوٹ سے سنگ باری کرکے اُس کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی اِس جدوجہد کے صلہ میں تند و تیز ہوا کے طوفان سے ابرہہ کی فوج کو اِس طرح پامال کر دیا کہ وادی محسر میں گوشت خور پرندے اُن کی نعشیں نوچتے اور کھاتے رہے۔ اپنے اِس نقطۂ نظر کے مطابق سورہ کا ترجمہ اُنھوں نے اِس طرح کیا ہے:

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ، اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ، وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ، تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ، فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ.(۱۰۵) ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمھارے خداوند نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا! کیا اُن کی چال بالکل برباد نہ کر دی اور اُن پر جھنڈ کے جھنڈ چڑیاں نہ بھیجیں! تم اُن کو مارتے تھے سنگ گل کے قسم کے پتھروں سے، بالآخر اُن کو اللہ نے کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔‘‘۳؂

ڈاکٹر محمودالحسن صاحب کے لیے یہی بہت تھا کہ وہ اِس تفسیر کو کچھ سمجھ لینے میں کامیاب ہو جاتے، لیکن اُنھوں نے اِس پر تنقید لکھنے کی کوشش کی ہے اور دیکھیے کہ کس مبلغ علم کے ساتھ کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’ترمیھم‘ کے معنی اگر یہ ہیں کہ : ’تم اُن کو پتھر مارتے تھے‘، اور اِس کے مخاطب اگر قریش مکہ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چونکہ قریش ہی میں سے تھے، اِس وجہ سے آپ بھی سنگ باری کرنے والوں میں شامل قرار پائیں گے، دراں حالیکہ واقعۂ فیل کے وقت ابھی آپ کی پیدایش بھی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے اِرشاد کی روشنی میں ذرا سورۂ بقرہ کی یہ آیات تلاوت کیجیے:

وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ، یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ، وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ. وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ، وَِ اذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ. (۲:۴۹۔۵۱) ’’اور یاد کرو (اے بنی اسرائیل) جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے چھڑایا۔ اُنھوں نے تمھیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمھارے لڑکوں کو ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اِس میں تمھارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمایش تھی۔ اور یاد کرو، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمھارے لیے راہ نکالی، پھر تمھیں نجات دی اور وہیں تمھاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرق کر دیا۔ اور یاد کرو، جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھیرایا تو اُس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے اور اِس طرح تم نے بڑی زیادتی کی۔‘‘

اِن آیات کے سب سے پہلے مخاطب یہود مدینہ ہیں اور ڈاکٹر صاحب اِس معاملے میں یقیناًہم سے اختلاف نہ کریں گے کہ جب فرعونی بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتے اور اُن کی عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور جب وہ اِن ظالموں کی غلامی سے چھڑائے گئے اور جب اُن کے لیے سمندر پھاڑ کر راہ نکالی گئی اور جب وہ پار ہوئے اور فرعونیوں کو اُن کے پروردگار نے اُن کی آنکھوں کے سامنے غرقاب کیا اور جب اُن کے پیغمبر سے چالیس راتوں کی قرار داد ہوئی اور جب اُنھوں نے اِس کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا، اُس وقت یہود مدینہ میں سے کوئی بھی ابھی پیدا نہ ہوا تھا۔ پھر کیاان آیات میں بھی وہ ہر ’تم‘ اور ’تمھیں‘ کو ’وہ‘ اور ’اُنھیں‘ میں تبدیل فرمائیں گے؟ زبان کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم یا جماعت کو بحیثیت قوم یا جماعت خطاب کیا جائے تو اُس کے سب افراد کی تاریخ پیدایش کی تحقیق نہیں کی جاتی۔ ہم اگر یہ کہیں کہ : ’مسلمانو، تم جب عرب کے صحراؤں سے ایمان کی دولت لے کر نکلے‘، اور ہمارے سامعین میں سے کوئی شخص اِس کے جواب میں یہ کہے کہ یہ آپ کن لوگوں سے مخاطب ہیں، ہمارے تو باپ دادا بھی اُس زمانے میں پیدا نہیں ہوئے تھے، تو ڈاکٹر صاحب ہی فرمائیں کہ اُس کی عقل و دانش کے بارے میں وہ کیا رائے قائم کریں گے؟ اُنھوں نے لکھا ہے کہ جمع حاضر کے لیے واحد حاضر کا استعمال بھی اُن کی نظر سے کہیں نہیں گزرا۔اُن کی اِس محرومی کا کوئی علاج تو ہم طالب علموں کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے، لیکن جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے، اُس میں یہ اسلوب اِس قدر عام ہے کہ قرآن مجید اور کلام عرب سے اِس کی مثالیں اگر یہاں پیش کی جائیں تو قلم و قرطاس کے لیے اُنھیں سمیٹنا مشکل ہوجائے۔ عربیت کے اداشناس جانتے ہیں کہ یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب ایک ایک کرکے پوری جماعت کو مخاطب کرنا پیش نظر ہوتا ہے۔ سورۂ لقمان کی آیت ۳۱، ابراہیم کی آیت ۱۹، اور شعراء کی آیت ۲۲۵ میں ’اَلَمْ تَرَ‘؛ بقرہ کی آیت ۱۰۶ میں’اَلَمْ تَعْلَمْ‘؛ مائدہ کی آیت ۸۲ میں ’لَتَجِدَنَّ‘؛ آیت ۸۳ میں ’تَرٰٓی‘؛ فتح کی آیت ۲۹ میں ’تَرٰھُمْ‘ اور بنی اسرائیل کی آیت ۲۱ سے ۴۰ میں ’لَا تَجْعَلْ‘، ’لَا تَقْفُ‘ وغیرہ یہ سب اِسی کی مثالیں ہیں۔ علم بلاغت کی اصطلاح میں اِسے ’خطاب لغیر معین‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ طرفہ کا شعر ہے:

فان تبغنی فی حلقۃ القوم تلقنی وان تلتمسنی فی الحوانیت تصطد

’’پھراگر تم لوگ مجھے قوم کی مجلس میں ڈھونڈو گے تو وہیں پاؤ گے اور اگر شراب کی دکانوں میں تلاش کرو گے تو وہیں دیکھو گے۔‘‘ ہماری اردو میں بھی خطاب کا یہ اسلوب عام استعمال ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا ہے :

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ڈاکٹر محمود الحسن صاحب اِس شعر کے بارے میں بھی کیا یہی کہیں گے کہ اِس میں ’تو‘ چونکہ واحد حاضر کا صیغہ ہے، اور اِس سے پہلے کسی قوم یا جماعت کا ذکر بھی اِس قطعے میں نہیں ہوا، اِس وجہ سے اِس کے مخاطب اقبال کے کوئی ہم نشین مثلاً سید نذیر نیازی یا میاں محمد شفیع ہی ہو سکتے ہیں، اردو قواعد کی رو سے مسلمان قوم کو اِس کا مخاطب قرار دینا کسی طرح ممکن نہیں ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ’ارسل علی‘ کے الفاظ قرآن مجید میں ہر جگہ عذاب الٰہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہاں بھی غالباً وہی قصور نظر کا معاملہ ہے، ورنہ قرآن کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ اُس میں یہ الفاظ جس طرح عذاب کے لیے آئے ہیں، اِسی طرح کسی کو کسی پر مسلط کر دینے کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں۔ سورۂ مریم میں ہے:

اَلَمْ تَرَ اَنَّا اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّھُمْ اَزًّا.(۱۹:۸۳) ’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن کافروں پر شیطان چھوڑ رکھے ہیں جو اُنھیں خوب اکسا رہے ہیں۔‘‘

سورۂ فیل کی زیر بحث آیت میں اِس کے معنی کیا ہیں؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’یہ ابرہہ کی فوجوں کی بربادی ، پامالی اور بے کسی و بے بسی سے کنایہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اُن کو اِس طرح پامال کیا کہ کوئی اُن کی لاشوں کو اٹھانے والا نہ رہا۔وہ میدان میں پڑی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر گوشت خوار چڑیاں بھیجیں جنھوں نے اُن کا گوشت نوچا، کھایا اور وادی مکہ کو اُن کے تعفن سے پاک کیا ۔‘‘ (تدبر قرآن۹/ ۵۶۰)

ڈاکٹر صاحب کے بارے میں توہم کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن عربی زبان سے واقف ہر صاحب ذوق اندازہ کر سکتا ہے کہ اِس معنی کے لیے یہ الفاظ کس قدر موزوں ہیں۔ عرب شعرا دشمن کی بے بسی اور پامالی کے لیے بالعموم اُس کی نعشوں پر پرندوں کے منڈلانے کی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔ مرار کا شعر ہے:

انا ابن التارک البکری بشرا علیہ الطیر ترقبہ وقوعا
’’میں اُس شخص کا بیٹا ہوں جس نے قبیلۂ بکر کے بشر کو اس طرح پچھاڑا کہ پرندے اُس کا گوشت کھانے کے لیے اُس کے اوپر منڈلا رہے تھے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں کہ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کے بقول جب اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کی فوج کو تند و تیز ہوا (حاصب) کے طوفان سے پامال کیا تو پھر اہل مکہ کی سنگ باری کا اِس سے کیا تعلق ؟ ہمارا خیال تھا کہ تنقید لکھنے سے پہلے امام فراہی کی تفسیر تو اُنھوں نے یقیناًپڑھی ہو گی، لیکن اُن کے اِس اعتراض سے معلوم ہوا کہ دوسری بہت سی چیزوں کی طرح یہ تفسیر بھی شاید اُن کی نظر سے نہیں گزری، ورنہ اِس تعلق کے بارے میں وہ اتنے بے خبر نہ ہوتے۔ امام فراہی نے لکھا ہے:

’’قریش سنگ باری کرکے ابرہہ کی فوج کو خانہ کعبہ سے دفع کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے اِسی پردہ میں اُن پر آسمان سے سنگ باری کر دی۔ چنانچہ جس طرح غزوۂ بدر کی سنگ باری کو اُس نے اپنی طرف منسوب کیا ہے (وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی) اِسی طرح یہاں کفار کو کھانے کے بھس کی طرح بنا دینا بھی اپنی قوت قاہرہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے، کیونکہ قریش کے لیے ابرہہ کے لشکر گراں کو پارہ پارہ کر دینا تو درکنار، اُس کو پیچھے ہٹا دینا بھی آسان نہ تھا۔‘‘ (مجموعۂ تفاسیر۳۸۸)

وہ فرماتے ہیں کہ اُنھوں نے گوشت خوار پرندے اور جانور تو سنے تھے، لیکن ’گوشت خوار چڑیاں‘ اُنھوں نے کبھی نہیں سنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ اعتراض اپنے حدود علم کا اندازہ کیے بغیر قلم اٹھا لینے کی بڑی افسوس ناک مثال ہے۔ اب تک ہمارا خیال تھا کہ وہ صرف عربی زبان کے اسالیب سے بے خبر ہیں، لیکن اُن کے اِس اعتراض سے یہ حقیقت بھی کھلی کہ اُن کی اردو کا معاملہ بھی بس اِسی طرح ہے۔ وہ اگریہ جملہ لکھنے سے پہلے کسی لغت کی مراجعت کر لیتے تو اُن پر واضح ہو جاتا کہ لفظ ’چڑیاں‘ اِس زبان میں جس طرح اُن پرندوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو صبح و شام ہمارے گھروں میں چہچہاتے ہیں، اِسی طرح چیل، عقاب، گدھ اور دوسرے تمام پرندوں کے لیے بھی اردو زبان کے فصحا اِسے بے تکلف استعمال کرتے ہیں۔ اُنھوں نے پوچھا ہے کہ سورۂ فیل کی جو تفسیر مولانا امین احسن اصلاحی نے کی ہے، اُس کا ماخذ کیا ہے؟ اُن کے اِس سوال کے جواب میں ہم بڑے ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ مولانا کی اِس تفسیر کا ماخذ خود قرآن مجید ہے اور اُن کا اصول یہی ہے کہ وہ قرآن مجید کے الفاظ، نظائر اور نظم کلام کی روشنی میں جب کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر کسی دوسری رائے کو محض اِس بنیاد پر کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ وہ پرانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رمی جمرات کی سنت اگر امام فراہی کے نزدیک قریش مکہ کی سنگ باری کی یاد میں قائم ہوئی تو یہ منیٰ کے بجائے وادی محسر میں کیوں ادا نہیں کی جاتی؟ اور اِس میں سنگ ریزوں کے بجائے بڑے بڑے پتھر کیوں نہیں پھینکے جاتے؟ جہاں تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے تو اِس کے بارے میں عرض ہے کہ سنگ باری کے متعلق یہ ثابت ہے کہ محصب میں ہوئی اور محصب منیٰ میں شامل ہے۔ رہا دوسرا اعتراض تو اِس پر اب کیا تبصرہ کیا جائے۔ علامت و حقیقت میں جس مطابقت پر وہ مصر ہوئے ہیں، اِس کے بعد تو ہم طالب علم اُن سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ وہ یہ سنت جس واقعہ کی یاد میں ادا کرتے ہیں، اُس کے بارے میں کیا وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے بھی ابلیس کو اِسی طرح پہلے صرف جمرۂ کبریٰ کے پاس کنکر مارے تھے اور ہر کنکر کے ساتھ تکبیر پڑھی تھی اور قربانی کے بعد بھی یہ کام مسلسل تین دن اِسی ترتیب سے اور اِنھی آداب کے ساتھ کیا تھا؟ اِسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘نے تاریخ میں قیاس سے کام لیا ہے اور قریش مکہ کی ایک رسم کے لیے لفظ ’سنت‘ استعمال کیا ہے اور واقعۂ فیل کے متعلق ابن اسحاق وغیرہ کی روایات اور جاہلی شعرا کے سیکڑوں اشعار بالکل نظر انداز کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے یہ اعتراضات بھی اُن کے پہلے اعتراضات کی طرح بس رواروی میں کچھ لکھ دینے کا نتیجہ ہیں۔ اُنھوں نے اِس بات پر غور نہیں فرمایا کہ استاذ امام جب ’ترمیھم‘ میں ضمیر کا مرجع قریش کو قرار دیتے ہیں تو اُن کا سارا مقدمہ خود قرآن کی نص سے ثابت ہو جاتا ہے، پھر اِس میں قیاس کا کیا محل؟ اور سنت صرف اُس طریقے کو نہیں کہتے جس کی ابتدا کوئی نبی کرے، بلکہ نبی کی تصویب و تقریر کے نتیجے میں بھی سنت قائم ہوتی ہے اور اسلام نے اِس طرح کے دوسرے طریقوں کو بھی اِسی حیثیت سے باقی رکھا ہے۔ رہا واقعۂ فیل کے بارے میں روایات و اشعار کا معاملہ تو ڈاکٹر صاحب نے یہ جملہ غالباً تفاسیر فراہی کا مطالعہ کیے بغیر لکھ دیا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ امام فراہی نے نہ صرف یہ کہ یہ سب چیزیں اپنی تفسیر میں نقل کی ہیں، بلکہ اِن میں سے جو کچھ لیا اور جو کچھ چھوڑا ہے، اُس کے وجوہ و دلائل بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیے ہیں۔ یہ ہیں وہ ’’غلطی ہاے مضامین‘‘ جو ڈاکٹر محمود الحسن صاحب نے امام فراہی کی آرا اور استاذ امام امین احسن اصلاحی کی ’’تدبرقرآن‘‘ میں ڈھونڈ نکالی ہیں۔ اُن کی اِس تحقیق انیق پر اب اُن کی خدمت میں اِس کے سوا کیا عرض کیا جائے کہ :

نگاہ تیری فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

۱۹۸۷ء