دیت کا جو قانون قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ، اُس سے متعلق یہ دو سوالات اِس زمانے میں بہت کچھ موضوع بحث رہے ہیں : ایک یہ کہ دیت کی کوئی مقدار کیا شریعت میں مقرر کردی گئی ہے اور اِس کے مطابق کیا مرد کے مقابلے میں عورت کی دیت فی الواقع نصف ہے ؟ دوسرا یہ کہ دیت کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کیا اُس معاشی نقصان کا بدل ہے جو مجرم کی طرف سے مقتول کے وارثوں یا خود مجروح کو پہنچتا ہے یا جان یا عضو کی قیمت ہے یا اِس کے سوا کوئی تیسری چیز ہے ؟ پہلے سوال کے جواب میں اُن آیات کو دیکھیے جو اِس قانون سے متعلق قرآن مجید میں آئی ہیں۔ نساء میں فرمایا ہے :

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلاَّ خَطَأً، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلآی اَھْلِہٖٓ اِلَؘّ? اَنْ یَّصَّدَّقُوْا. فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ ، وَھُوَ مُؤْمِنٌ، فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّئْمِنَۃٍ، وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلآی اَھْلِہٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ. فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ، تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ، وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا. (۴: ۹۲) ’’اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ دوسرے مسلمان کو قتل کرے ، مگر یہ کہ اُس کی کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو جائے ۔ اور جو شخص اِس طرح غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اُس پر لازم ہے کہ ایک مسلمان کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہا دے، الاّ یہ کہ وہ اُسے معاف کردیں۔ پھر اگر مقتول تمھاری کسی دشمن قوم کا فرد ہو ، لیکن مسلمان ہو تو ایک مسلمان کو غلامی سے آزاد کر دینا ہی کافی ہے۔ اور اگر وہ کسی معاہد قوم کا فرد ہو تو اُس کے وارثوں کو دیت بھی دی جائے گی اور تم ایک مسلمان غلام بھی آزاد کرو گے ۔ پھر جس کے پاس غلام نہ ہو، اُسے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا ہوں گے ۔ یہ اللہ کی طرف سے اِس گناہ پر توبہ کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ ‘‘

سورۂ نساء کی اِس آیت میں ’دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلآی اَھْلِہٖٓ ‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ راجح یہی ہے کہ اِنھیں خبر محذوف کا مبتدا قرار دیا جائے ، یعنی ’فعلیہ تحریر رقبۃ مؤمنۃ ودیۃ مسلمۃ‘۔ لفظ ’دیۃ‘ اِس آیت میں نکرہ استعمال ہوا ہے ۔ اسم نکرہ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اپنے معنی کی تعیین کے لیے یہ لغت و عرف اور سیاق کلام کی دلالت کے سوا کسی چیز کا محتاج نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں ، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً‘ ۱ ؂ (بے شک ، اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو )۔ لفظ ’بقرۃ‘اِس آیت میں نکرہ ہے ۔ اِس وجہ سے یہ بالکل قطعی ہے کہ یہود کو بس وہ جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے لیے اہل عرب کے لغت و عرف میں لفظ ’بقرۃ‘استعمال کیا جاتا ہے ۔ وہ اگر کوئی سی گائے ذبح کر دیتے تو حکم کا منشا، یقیناپورا ہو جاتا۔ گویا عربیت کی رو سے متکلم اگر اُس چیز کا ذکر جسے واجب ٹھیرایا گیا ہے ، اسم نکرہ کی صورت میں کرے گا تو اس کے معنی ہی یہ ہوں گے کہ اُس نے ہمیں اِس معاملے میں ’عرف‘ کی پیروی کا حکم دیا ہے ۔پھر اسم نکرہ کی دلالت چونکہ تعمیم پر ہوتی ہے ، اِس وجہ سے سیاق کلام میں کوئی چیز اگر مانع نہ ہو گی تو اِس اسم کے سارے مسمٰی بغیر کسی تعیین و تخصیص کے اُس کے دائرۂ اطلاق میں شامل سمجھے جائیں گے ۔ چنانچہ آیۂ زیر بحث میں ’دیۃ‘کے معنی ہیں: وہ شے جو ’دیت‘ کے نام سے معروف ہے ، اور ’دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلآی اَھْلِہٖٓ ‘کے الفاظ حکم کے جس منشا پر دلالت کرتے ہیں ، وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ مخاطب کے عرف میں جس چیز کا نام ’دیت‘ ہے ، وہ مقتول کے ورثہ کے سپرد کر دی جائے۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں قرآن مجید نے جہاں قتل عمد کی دیت کا حکم بیان کیا ہے ، وہاں یہی بات لفظ ’معروف‘ کی صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے :

فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْ ءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ.(۲ : ۱۷۸) ’’پھر جس کے لیے اُس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی گئی تو معروف کے مطابق اُس کی پیروی کی جائے اور جو کچھ بھی خوں بہا ہو، وہ خوبی کے ساتھ ادا کر دیا جائے۔ ‘‘

نساء اور بقرہ کی اِن آیات سے واضح ہے کہ قتل خطا اور قتل عمد، دونوں میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ دیت معاشرے کے دستور اور رواج کے مطابق ادا کی جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اِسے ہی نافذ کیا ۔ روایات میں اِس کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے ، وہ عرب کے دستور کی وضاحت ہے ، اُس میں کوئی چیز بھی خود پیغمبر کا فرمان واجب الاذعان نہیں ہے ۔ دیت سے متعلق عرب کایہ دستور کیا تھا؟ شعراے جاہلیت کے کلام اور ایام العرب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں ہر اُس شخص کی دیت جس کا نسبی تعلق کسی قبیلہ کے ساتھ صریح ہو، دس اونٹ مقرر تھی ۔ قبیلہ کے حلیف اور باندی کے بیٹے کی دیت ’صریح‘ ۲؂ کی دیت کا نصف اور عورت کی دیت مرد کی دیت کے مقابلے میں آدھی تھی ۔ صاحب ’’اغانی‘‘ اوس و خزرج کے مابین ایک جنگ کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وکانت دیۃ المولی فیھم ، وھو الحلیف، خمسًا من الابل ودیۃ الصریح عشرًا.(۳/۴۱) ’’اور اُن کے ہاں مولیٰ، یعنی حلیف کی دیت پانچ اونٹ اور صریح کی دیت دس اونٹ مقرر تھی۔ ‘‘

’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ کے مصنف جواد علی نے لکھا ہے :

واما اذا کان القتیل ھجینًا فتکون دیتہ نصف دیۃ الصریح. وتکون دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل. (۵/۵۹۲) ’’اور مقتول اگر باندی کا بیٹا ہو تو اُس کی دیت ’صریح‘ کی دیت کے مقابلے میں آدھی اور عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ادا کی جاتی تھی ۔ ‘‘

بعض قبائل اپنے شرف کی بنا پر دہری دیت لیتے اور بعض فضل و عنایت کے طور پر دوسروں کو دہری دیت ادا کرتے تھے ۔ ’’المفصل‘‘ ہی میں ہے :

روی ان الغطاریف ، وھم قوم الحارث بن عبد اللّٰہ بن بکر بن یشکر،کانوا یأخذون للمقتول منھم دیتین ویعطون غیرھم دیۃ واحدۃ اذا وجبت علیھم. وکان لبنی عامر بن بکر بن یشکر ، وھم من الغطاریف ایضًا وقد عرف عامر المذکور بالغطریف دیتان ولسائر قومہ دیۃ. وورد ان بنی الاسود بن رزن کانوا یؤدون فی الجاھلیۃ دیتین دیتین. (۵/۵۹۳) ’’بیان کیا جاتا ہے کہ غطاریف یعنی حارث بن عبد اللہ بن بکر بن یشکر کی قوم کے لوگ اپنے مقتول کے لیے دو دیتیں لیتے تھے اور دوسروں کو ، اگر خود اُن پر دیت ادا کرنا واجب ہو جائے تو ایک دیت دیتے تھے ۔ بنی عامر بن بکر بن یشکر کے لیے ، جن کے بزرگ عامر ہی کو غطریف کہا جاتا تھا، دو دیتیں اور باقی ساری قوم کے لیے ایک دیت مقرر تھی۔ اِسی طرح روایات میں آتا ہے کہ بنی اسود بن رزن جاہلیت کے زمانے میں دوسروں کو دہری دیت ادا کرتے تھے۔‘‘

جواد علی لکھتے ہیں :

ولم یکن ھذا التحدید عن ضعف وانما ھو رغبۃ منھم فی الإفضال علی ذوی القتیل. (المفصل ۵/ ۵۹۳) ’’اور دہری دیت ادا کرنے کی یہ پابندی کسی ضعف کی بنا پر نہیں، بلکہ اُن کی طرف سے مقتول کے ورثہ پر فضل و عنایت کے طور پر تھی۔‘‘

بادشاہوں کی دیت ایک ہزار اونٹ مقرر تھی ، اور اُسے ’ دیۃ الملوک‘ کہا جاتا تھا۔ قرادبن حنش الصاردی بنی فزارہ کی مدح کرتے ہوئے کہتا ہے :

ونحن رھنا القوس ثمت فودیت بالف علی ظھر الفزاری اقرعا
’’اور ہم نے کمان رہن رکھی ، پھر فزاری کے مال میں سے پورے ایک ہزار اونٹ اُس کے لیے بطور فدیہ دیے گئے ۔ ‘‘
بعشر مئین للملوک سعی بھا لیوفی سیار بن عمرو فاسرعا
’’یعنی دس سو اونٹ جو بادشاہوں کی دیت ہے ، اُس کے ایفا کے لیے سیار بن عمرو نے کوشش کی اور یہ ذمہ داری بغیر کسی تاخیر کے پوری کر دی ۔ ‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند سال پہلے اِس دستور میں ایک غیر معمولی تبدیلی واقع ہوئی ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضور کے دادا عبد المطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ اُنھیں دس بیٹے عطا کریں گے تو وہ اُن میں سے ایک قربانی کے طور پر ذبح کر دیں گے ۔ چنانچہ جب اللہ نے اُن کی آرزو پوری کر دی تو اُنھوں نے بھی اپنی نذر پوری کرنی چاہی۔ بیٹے کے انتخاب کے لیے قرعہ ڈالا گیا تو وہ عبد اللہ کے نام پر نکلا۔ عبد المطلب اُنھیں قربان گاہ کی طرف لے جا رہے تھے کہ لوگوں نے اُنھیں روکا اور بیٹے کے فدیے میں اونٹ ذبح کرنے کا مشورہ دیا ۔ اُس زمانے میں ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، دیت کی مقدار دس اونٹ مقرر تھی ۔ چنانچہ دس دس اونٹوں اور عبد اللہ کے نام پر قرعہ ڈالا گیا۔ ہر مرتبہ قرعہ عبد اللہ ہی کے نام پر نکلا، یہاں تک کہ اونٹوں کی تعداد سو ہو گئی ۔ اِس مرتبہ قرعہ ڈالا گیا تو اونٹوں پر نکلا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اِس واقعہ کے بعد عربوں، بالخصوص قریش میں دیت کی مقدار سو اونٹ قرار پائی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کانت الدیۃ یومئذ عشرًا من الإبل ، وعبد المطلب اول من سن دیۃ النفس ماءۃ من الإبل، فجرت فی قریش والعرب ماءۃ من الابل.(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد۱/۵۸) ’’دیت اُس زمانے میں دس اونٹ تھی ۔ یہ عبد المطلب ہیں جنھوں نے سب سے پہلے سو اونٹ دیت مقرر کی۔ چنانچہ قریش اور عرب میں دیت کی یہی مقدار رائج ہو گئی۔ ‘‘

زہیر بن ابی سلمیٰ نے اپنے معلقہ میں دیت کی یہی مقدار بیان کی ہے ۔ عبس اور فزارہ کی لڑائی میں تین ہزار اونٹ بطور دیت ادا کرنے کی وجہ سے وہ عرب کے دو سرداروں ہرم بن سنان اور حارث بن عوف کی مدح کرتے ہوئے کہتا ہے :

تعفی الکلوم بالمئین فاصبحت ینجمھا من لیس فیھا بمجرم
’’کئی سو اونٹوں کے ذریعے سے زخم مٹائے جائیں گے ۔ چنانچہ جو محض بے گناہ تھے ، تھوڑے تھوڑے کر کے یہ اونٹ دیت کے طور پر دینے لگے ۔ ‘‘

زہیر کے اِس شعر سے یہ بات واضح ہے کہ عبس اور فزارہ کے مقتولین کی یہ دیت بالاقساط ادا کی گئی ۔ ’’اغانی‘‘ میں ہے :

فکانت ثلاثۃ آلاف بعیر فی ثلاث سنین.(۱۰/۲۹۷) ’’چنانچہ یہ تین ہزار اونٹ تھے جو تین سال میں ادا کیے گئے ۔ ‘‘

اِسی معلقہ میں زہیر نے بیان کیا ہے کہ دیت کے طور پربالعموم ’افال‘ یعنی چھوٹی عمر کے اونٹ دیے جاتے تھے۔ وہ کہتا ہے :

فاصبح یجدی فیھم من تلادکم مغانم شتی من افال مزنم
’’تمھارے موروثی مال میں سے متفرق غنائم جو ’افال‘ یعنی اچھی نسل کے پورے بوتے ہیں ، مقتولین کے وارثوں کی طرف روانہ کیے جاتے ہیں ۔ ‘‘

’افال‘ کی تخصیص کے بارے میں شارح ’’معلقات‘‘ زوزنی لکھتے ہیں :

خص الصغار لان الدیات تعطیمن بنات اللبون والحقاق والاجذاع. (شرح المعلقات ، الزوزنی ۸۰) ’’شاعر نے بالخصوص چھوٹی عمر کے اونٹوں کا ذکر اِس لیے کیا ہے کہ دیت کے طور پر دو سالہ، سہ سالہ ، چہار سالہ اونٹ ہی دیے جاتے تھے۔‘‘

جراحات کی دیت بھی عرب میں رائج تھی ۔ چنانچہ لغت عرب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی کی زبان میں ’ارش‘ اور ’نذر‘کے الفاظ دوسرے معانی کے علاوہ اِس کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔ ’’لسان العرب‘‘ میں ہے :

اصل الارش الخدش ثم قیل لما یؤخذ دیۃ لھا: ارش واھل الحجاز یسمونہ النذر.(۶/۲۶۳) ’’’ارش‘کی اصل ’خدش‘( خراش یا زخم) ہے۔ پھر یہ اُس مال کے لیے بھی مستعمل ہوا جو جراحات کی دیت کے طور پر لیا جاتا تھا۔ اہل حجاز کے ہاں اِس کے لیے لفظ ’نذر‘ استعمال ہوتا تھا۔ ‘‘

عرب کا یہی دستور ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ، اپنے زمانے میں نافذ کیا ۔ چنانچہ اِس باب کی بعض روایات میں یہ بات بالصراحت بیان ہوئی ہے کہ حضور نے دیت کے معاملات اُسی طرح برقرار رکھے ، جس طرح آپ کی بعثت سے پہلے جزیرہ نماے عرب میں رائج تھے ۔ ابن عباس کی جو روایت دیت کی مقدار میں تبدیلی کے بارے میں ہم نے اوپر نقل کی ہے ، اُس میں وہ فرماتے ہیں :

فجرت فی قریش والعرب ماءۃ من الإبل ، واقرھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی ما کانت علیہ. (الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۱/۸۹) ’’قریش اور عرب کے دوسرے لوگوں میں دیت کی مقدار یہی سو اونٹ رائج ہو گئی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حسب سابق اِسے ہی برقرار رکھا ۔ ‘‘

ایک دوسری حدیث میں ، جسے ائمۂ لغت بالعموم لفظ ’معقلۃ‘کی نظیر کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جو الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ مسند احمد بن حنبل میں بھی نقل ہوئی ہے ، یہی بات اِس طرح بیان کی گئی ہے :

کتب بین قریش والانصار کتابًا فیہ: المھاجرون من قریش علی رباعتھم یتعاقلون بینھم معاقلہم الاولی.(لسان العرب ۱۱/۴۶۲) ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین معاہدے کے طور پر ایک تحریر لکھی،جس میں یہ بات بھی تھی کہ مہاجرین قریش اپنی پہلی حالت ہی پر برقرار رہیں گے اور اُن کے مابین دیت کے معاملات اُسی طرح ہوں گے، جس طرح پہلے سے رائج تھے ۔ ‘‘

یمن (جنوبی عرب) کے علاقے میں البتہ ، دستور یہی تھا کہ قتل اور جراحت کی مختلف صورتوں میں دیت کی مقدار حکمران مقرر کرے گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ علاقہ جب اسلامی ریاست میں شامل ہوا تو آپ نے اُس کے سرداروں کے نام اپنے ایک مکتوب میں دیت کی وہی مقداریں اُن کے لیے بھی مقرر کر دیں جو آپ کے اپنے علاقے میں رائج تھیں ۔ ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں ہے :

وقد عرفت الدیۃ عند العرب الجنوبیین کذٰلک ولم تحدد فی القوانین وانما ترک امر مقدارھا الی الملک.(۵/۵۹۴) ’’دیت جنوبی عرب کے لوگوں میں بھی اِسی طرح معروف تھی، لیکن اُس کے لیے کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں کی گئی تھی،بلکہ اُس کی مقدار کا معاملہ حکمران کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ‘‘

اہل یمن کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ۳؂ درج ذیل ہے :

ان من اعتبط مؤمنًا قتلاً عن بینۃ فانہ قود الا ان یرضی اولیاء المقتول: وان فی النفس الدیۃ۔۔۔ ماءۃ من الإبل۔۔۔ وفی الانف اذا اوعب جدعہ الدیۃ، وفی اللسان الدیۃ، وفی الشفتین الدیۃ، وفی البیضتین الدیۃ، وفی الذکر الدیۃ، وفی الصلب الدیۃ، وفی العینین الدیۃ، وفی الرجل الواحدۃ نصف الدیۃ، ]وفی الید الواحدۃ نصف الدیۃ[ ۴؂ وفی المامومۃ ثلث الدیۃ، وفی الجائفۃ ثلث الدیۃ، وفی المنقلۃ خمس عشرۃ من الإبل، وفی کل اصبع من اصابع الید والرجل عشر من الابل، وفی السن خمس من الابل، وفی الموضحۃ خمس من الابل: وان الرجل یقتل بالمرأۃ وعلی اھل الذہب الف دینار.(نسائی، رقم ۴۸۵۷) ’’جس نے کسی مسلمان کو ناحق مار ڈالا اور اُس کا جرم ثابت ہو گیا تو اُس سے بدلہ لیا جائے گا، الاّ یہ کہ مقتول کے اولیا دیت پر راضی ہو جائیں۔ اِس صورت میں جان کی دیت سو اونٹ ہو گی اور ناک کی بھی ، جب وہ پوری کاٹ دی جائے ۔ زبان اور ہونٹوں اور فوطوں اور مرد کی شرم گاہ اور پیٹھ اور دونوں آنکھو ں کی دیت بھی یہی ہو گی ۔ ایک پاؤں اور ایک ہاتھ میں البتہ ، آدھی دیت ہو گی ۔ جو زخم دماغ تک پہنچے، اُس میں ایک تہائی اور جو پیٹ تک پہنچے ، اُس میں بھی ایک تہائی ہو گی۔ اِسی طرح جس زخم سے ہڈی سرک جائے، اُس میں پندرہ اونٹ ہیں۔ ہاتھ اورپاؤں کی ہر انگلی میں دس، دانت میں پانچ اور جس زخم میں ہڈی کھل جائے ، اُس میں بھی پانچ اونٹ ہوں گے۔ عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کیا جائے گا اور جو لوگ سونا ہی دے سکتے ہیں، اُن کے لیے یہ دیت ایک ہزار دینار قرار پائے گی۔‘‘

اِس بحث سے یہ حقیقت پوری طرح مبرہن ہو جاتی ہے کہ اسلام نے دیت کی کسی خاص مقدار کا ہمیشہ کے لیے تعین کیا ہے ، نہ عورت اور مرد ، غلام اور آزاد اور کافر اور مومن کی دیتوں میں کسی فرق کی پابندی ہمارے لیے لازم ٹھیرائی ہے ۔ دیت کا قانون اسلام سے پہلے عرب میں رائج تھا۔ قرآن مجید نے قتل خطا اور قتل عمد ، دونوں میں اُسی کے مطابق دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ قرآن کے اِس حکم کی رو سے اب دیت ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے اسلام کا واجب الاطاعت قانون ہے ، لیکن اِس کی مقدار ، نوعیت اور دوسرے تمام امور میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ ’معروف‘ یعنی معاشرے کے دستور اور رواج کی پیروی کی جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے دیت کے فیصلے اپنے زمانے میں عرب کے دستور کے مطابق کیے ۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں دیت کی جو مقداریں بیان ہوئی ہیں، وہ اِسی دستور کے مطابق ہیں ۔ عرب کا یہ دستور اہل عرب کے تمدنی حالات اور تہذیبی روایات پر مبنی تھا۔ زمانے کی گردشوں نے کتاب تاریخ میں چودہ صدیوں کے ورق الٹ دیے ہیں ۔ تمدنی حالات اور تہذیبی روایات ، اِن سب میں زمین و آسمان کا تغیر واقع ہو گیا ہے ۔ اب ہم دیت میں اونٹ دے سکتے ہیں ، نہ اونٹوں کے لحاظ سے اِس دور میں دیت کا تعین کوئی دانش مندی ہے ۔ ’عاقلہ‘ کی نوعیت بالکل بدل گئی ہے اور قتل خطا کی وہ صورتیں وجود میں آ گئی ہیں جن کا تصور بھی اُس زمانے میں ممکن نہیں تھا۔ قرآن مجید کی ہدایت ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے ہے ، اِس لیے اُس نے اِس معاملے میں ’معروف‘ کی پیروی کا حکم دیا ہے ۔ قرآن کے اِس حکم کے مطابق ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کا پابند ہے ۔ ہمارے معاشرے میں دیت کا کوئی قانون چونکہ پہلے سے موجود نہیں ہے ، اِس وجہ سے ہمارے ارباب حل و عقد کو اختیار ہے کہ چاہیں تو عرب کے اِس دستور کو برقرار رکھیں اور چاہیں تو اِس کی کوئی دوسری صورت تجویز کریں ۔ وہ جو صورت بھی اختیار کریں گے ، معاشرہ اُسے قبول کر لیتا ہے تو ہمارے لیے وہی ’معروف‘ قرار پائے گی ، پھر معروف پر مبنی قوانین کے بارے میں یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ حالات اور زمانے کی تبدیلی سے اُن میں تغیر کیا جا سکتا ہے اور کسی معاشرے کے اولی الامر ، اگر چاہیں تو اپنے اجتماعی مصالح کے لحاظ سے اُنھیں نئے سرے سے مرتب کر سکتے ہیں۔ فقہ حنفی کے ایک جلیل القدر عالم ابن عابدین اپنے رسالہ ’’نشر العرف‘‘ میں لکھتے ہیں :

اعلم ان المسائل الفقھیۃ ، اما ان تکون ثابتۃ بصریح النص، وھی الفصل الاوّل ، واما ان تکون ثابتۃ بضرب اجتہاد ورأی، وکثیر منھا ما یبنیہ المجتھد علی ما کان فی عرف زمانہ بحیث لوکان فی زمان العرف الحادث لقال بخلاف ما قالہ اوّلا. ولھذا قالوا فی شروط الاجتھاد: انہ لا بد فیہ من معرفۃ عادات الناس فکثیر من الاحکام تختلف باختلاف الزمان لتغیر عرف اھلہ ولحدوث ضرورۃ او فساد اھل الزمان بحیث لوبقی الحکم علی ما کان علیہ اوّلا للزم منہ المشقۃ والضرر بالناس ولخالف قواعد الشریعۃ المبنیۃ علی التخفیف والتیسیر ودفع الضرر والفساد. (رسائل ابن عابدین ۱۲۵) ’’جاننا چاہیے کہ فقہی مسائل یا تو نص صریح سے ثابت ہوتے ہیں اور یہی پہلی قسم ہے اور یا اجتہاد و رائے سے ثابت ہوتے ہیں۔ اجتہاد و رائے پر مبنی مسائل میں سے بہت سے وہ ہیں جن کی بنا اہل اجتہاد اِس حیثیت سے اپنے زمانے کے عرف پر رکھتے ہیں کہ وہ اگر عرف حادث کے زمانے میں ہوتے تو اپنی پہلی رائے کے خلاف رائے دیتے۔ چنانچہ اجتہاد کے شرائط میں وہ یہ شرط بھی بیان کرتے ہیں کہ اُس میں لوگوں کی عادات کی معرفت ضروری ہے، کیونکہ زمانے میں تبدیلی کے ساتھ بہت سے احکام تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اِس کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں، مثلاً: عرف میں تغیر، ضرورت کا اقتضا، یا لوگوں کے احوال میں اِس بنا پر کسی خرابی کا اندیشہ کہ حکم اگر پہلی صورت پر باقی رہا تو اُن کے لیے ضرر اورمشقت کا باعث اور ہماری اُس شریعت کے قواعد کے خلاف ہو گا جو آسانی ، سہولت اور دفع ضرر و فساد پر مبنی ہے ۔ ‘‘

رہا دوسرا سوال ، یعنی یہ کہ دیت کی حقیقت کیا ہے تو اِس معاملے میں دو ہی نقطہ ہاے نظر بالعموم رائج ہیں : ایک یہ کہ یہ جان کی قیمت ہے ، اور دوسرا یہ کہ یہ اُس معاشی نقصان کا بدل ہے جو مجرم کی طرف سے مقتول کے وارثوں یا خود مجروح کو پہنچتا ہے ۔ ہمارے نزدیک ، یہ دونوں نقطہ ہاے نظر محل نظر ہیں ۔ جو لوگ اِسے جان کی قیمت قرار دیتے ہیں، اُن کی رائے محض مغالطہ پر مبنی ہے۔ عرب جاہلی میں قتل کے معاملات بالترتیب ’ثأر‘ (انتقام)، ’قصاص‘ اور ’دیت‘ کی صورت میں طے کیے جاتے تھے ۔ ثأر، جیسا کہ اِس ترتیب سے واضح ہے ، عربوں کے نزدیک اصل غایت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ مقتول کی روح پرندہ بن کر اڑ جاتی ہے اور جب تک اُس کا انتقام نہ لیا جائے ، دشت و جبل میں ’اسقونی‘، ’اسقونی‘ (مجھے پلاؤ، مجھے پلاؤ) کہہ کر چیختی پھرتی ہے ۔ اُن میں سے بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قبر میں وہی مقتول زندہ رہتا ہے جس کا انتقام لے لیا جائے اور اگر کسی کا انتقام نہ لیا جائے تو وہ بے جان ہو جاتا ہے اور اُس کی قبر میں تاریکی چھا جاتی ہے ۔ اپنے اِن عقائد کی بنا پر وہ ثأر کو ترجیح دیتے اور دیت تو ایک طرف ، قصاص کے لیے بھی کسی مجبوری ہی کی بنا پر راضی ہوتے تھے ۔ ام شملہ کہتی ہیں :

فیا شمل، شمر واطلب القوم بالذی اصبت ولا تقبل قصاصًا ولا عقلاً
’’سو اے شملہ ، اٹھو ، تیار ہو جاؤ اور اپنے دشمنوں سے اُس مصیبت کا بدلہ لو جو ۰۲تمھیں پہنچائی گئی ہے اور دیکھو، قصاص اور دیت کسی حال میں قبول نہ کرنا ۔‘‘

عباس بن مرداس السلمی قبیلۂ خزاعہ کے ایک شخص عامر کو جوش انتقام دلاتے ہوئے کہتا ہے :

ولا تطمعن ما یعلفونک انھم اتوک علی قرباھم بالمثمل
’’اور وہ تمھیں جس دیت کا لالچ دیتے ہیں ، اُس کا خیال بھی نہ کرو، اِس لیے کہ باوجود قرابت کے وہ تمھارے پاس زہر قاتل لے کر آئے ہیں ۔ ‘‘

اِس معاملے میں قبول اسلام کے بعد بھی اُن کے جذبات کس قدر شدید تھے ، اِس کا اندازہ مسور بن زیادہ کے اُن اشعار سے کیا جا سکتا ہے جو اُس نے اپنے باپ کے قتل کے بعد عامل مدینہ سعید بن العاص کی طرف سے سات دیتوں کی پیش کش کے جواب میں کہے ۔ وہ کہتا ہے :

أبعد الذی بالنعف نعف کویکب رھینۃ رمس ذی تراب وجندل
’’کیا اُس شخص کے بعد جو کوہ کویکب کے دامن میں مٹی اور پتھر کی قبر میں دفن کیا گیا ہے ۔ ‘‘
اذکر بالبقیا علی من اصابنی وبقیای انی جاھد غیر مؤتل
’’مجھے نصیحت کی جاتی ہے کہ میں اُس ظالم پر ترس کھاؤں جس نے مجھے یہ صدمہ پہنچایا ہے ۔ میرا ترس اِس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ میں بدلہ لینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں ۔ ‘‘
فان لم انل ثأری من الیوم او غد بنی عمنا فالدھر ذو متطول
’’میرے عم زاد بھائیو، اگر میں آج یا کل اپنا انتقام نہ لے سکا تو کیا ہوا، زمانے کی عمر بڑی طویل ہے ۔‘‘
فلا یدعنی قومی لیوم کریھۃ لئن لم اعجّل ضربۃ او اعجّل
’’اگر میں بغیر کسی توقف کے دشمن پر ضرب نہ لگاؤں یا اُس کی ضرب کا نشانہ نہ بنوں تو میری قوم مجھے کبھی کسی معرکے کے لیے طلب نہ کرے ۔ ‘‘
انختم علینا کلکل الحرب مرۃ فنحن منیخوھا علیکم بکلکل
’’تم نے ایک دفعہ جنگ کا سینہ ہم پر رکھ دیا ہے تو سنو، ہم نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم بھی اُس کا سینہ تم پر رکھے بغیر چین نہ لیں گے ۔ ‘‘
یقول رجال ما اصیب لھم اب ولا من اخ : اقبل علی المال تعقل
’’مجھے وہ لوگ دیت کی پیش کش کرتے اور مال قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جن کے باپ اور بھائی کبھی کسی قاتل کی تیغ ستم کا شکار نہیں ہوئے ۔ ‘‘

چنانچہ یہ اِنھی جذبات کا نتیجہ تھا کہ وہ دیت قبول کرنے کو عار سمجھتے اور اِسے مقتول کا خون بیچ دینے کے ہم معنی خیال کرتے تھے ۔ بنی نصر بن قعین کے ایک شاعر ربیع بن عبید کا شعر ہے :

أذواب، انی لم اھبک ولم اقم للبیع عند تحضر الاجلاب
’’اے ذواب، میں نے تیرا قتل معاف کیا ہے ، نہ بازار عکاظ میں بیع و شرا کے وقت تیرا خون بیچنے (تیری دیت لینے) کے لیے کھڑا ہوا ہوں ۔ ‘‘

لیکن صاف واضح ہے کہ اِس کا دیت کی حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اِس کی حیثیت محض ایک جذباتی تعبیر کی تھی اور قتل و خون کے معاملات میں اِس طرح کی جذباتی تعبیرات کی مثالیں شب و روز ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں ۔ اِن کی بناپر حقیقت دیت کی تعیین سخن فہمی کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے اِسے اختیار کیا ہے ، اُن کی نگاہ غالباً اِس طرف نہیں گئی کہ انسان کی جان اور اُس کے اعضا ہر قیمت سے بالاتر ہیں ۔ کوئی ماں ، کوئی باپ ، کوئی بھائی، کوئی بیٹا اِس تصور کے تحت کبھی دیت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے مقتول بیٹے، بھائی یا باپ کے خون کی قیمت وصول کر رہا ہے ۔ چنانچہ یہ رائے اگر اختیار کی جائے گی تو اِس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ دیت کا قانون جس مصلحت پر مبنی ہے ، معاشرہ اُس کے فوائد سے محروم ہو جائے گا۔ رہے وہ لوگ جو اِسے معاشی نقصان کا بدل قرار دیتے ہیں تو اُنھوں نے غالباً یہ رائے قائم کرتے وقت اِس بات پر غور نہیں کیا کہ کسی شے کی حقیقت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اُس کے چھوٹے بڑے تمام اجزا میں موجود ہو ۔ ہر وہ شخص جس نے قانون دیت کا مطالعہ سرسری نگاہ سے بھی کیا ہے ، بہرحال مانے گا کہ دیت صرف قتل نفس ہی میں نہیں ، جسم کے تمام اعضا مثلاً : ناک، کان، آنکھ، ڈاڑھ ، دانت کے اتلاف میں بھی مقرر کی گئی ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ اِن میں بہت سے اعضا کا اتلاف کسی معاشی نقصان کا باعث نہیں بنتا۔ ڈاڑھ اور دانت، ہاتھ کی ایک انگلی ، پاؤں کا انگوٹھا، بالفرض اگر تلف ہو جائے تو اِس سے معاشی طور پر آخر کیا نقصان پہنچتا ہے ؟ دیت کے پورے قانون کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوسرے بہت سے وجوہ سے قطع نظر ، محض اِس داخلی تضاد ہی کی بنا پر یہ رائے درست قرار نہیں دی جاسکتی۔ حقیقت دیت کے بارے میں یہ دونوں نقطہ ہاے نظر اگر صحیح نہیں ہیں تو پھر دیت کی حقیقت فی الواقع ہے کیا ؟ اِس سوال کے جواب میں ناگزیر ہے کہ روایات عرب کی مراجعت کی جائے۔ دیت کا مضمون جاہلی عرب کی شاعری میں کئی جگہ بیان ہوا ہے ۔ قتل و خوں ریزی کے واقعات اُن کی زندگی میں اس قدر عام تھے کہ ’ثأر‘ ، ’قصاص‘ اور ’دیت‘ کے مضامین اُن کے شاعروں کی طبع آزمائی کے لیے گویا ہر وقت حاضر رہتے تھے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے اِن اشعار میں عام طور پر دیت قبول کرنے والوں کو عار دلاتے اور اُنھیں انتقام پر ابھارتے ہیں ، لیکن اِس طرح کے کسی جذباتی پس منظر کے بغیر وہ اگر کبھی دیت کے موضوع پر کچھ کہتے ہیں تو دیت کی حقیقت بھی بالعموم اُن کے بیان سے واضح ہو جاتی ہے ۔ دیت کے لیے وہ اِس طرح کے مواقع پر لفظ ’غرامۃ‘یا اِس کا ہم معنی لفظ ’مغرم‘استعمال کرتے ہیں۔ عربی زبان میں یہ لفظ بالکل اُسی مفہوم میں بولا جاتا ہے جس مفہوم میں ہم اردو میں لفظ تاوان یا جرمانہ بولتے ہیں ۔ ہماری زبان میں جس طرح ہر اُس مال کے لیے جو کسی جرم کی سزا کے طور پر مجرم سے لیا جائے ، لفظ تاوان یا جرمانہ مستعمل ہے ، اِسی طرح عرب جاہلی کی زبان میں اِس کے لیے لفظ ’غرامۃ‘ مستعمل تھا۔ حقیقت دیت کی تعبیر کے لیے عرب شعرا نے ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ زہیر بن ابی سلمیٰ کہتا ہے :

ینجمھا قوم لقوم غرامۃ ولم یھریقوا بینھم مل ء محجم
’’وہ اونٹ ، تاوان کے طور پر تھوڑے تھوڑے کر کے ایک قوم دوسری قوم کو دینے لگی، دراں حالیکہ دینے والوں نے لینے والوں میں چلو بھر خون بھی نہیں بہایا۔ ‘‘

دیت کے بارے میں یہی تصور بعد میں بھی قائم رہا ۔ اموی دور کے ایک شاعر عجیر السلولی کا شعر ہے :

یسرک مظلومًا ویرضیک ظالمًا ویکفیک ماحملتہ عند مغرم
’’تم مظلوم ہو تو وہ تمھارا انتقام لے کر تمھیں خوش کر دیتا ہے ، اورتم ظالم ہو تو تمھارا ساتھ دے کر تمھیں راضی کر دیتا ہے ، اور اِس ظلم کے نتیجے میں تاوان (یعنی دیت) ادا کرتے وقت تم جو بوجھ بھی اُس پر ڈالتے ہو ، وہ تنہا اُس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘

اِس سے واضح ہے کہ دیت معاشی نقصان کا بدل ہے ، نہ مقتول کے خون کی قیمت ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محض ’غرامۃ‘یعنی تاوان یا جرمانہ ہے جو قتل عمد میں قصاص سے درگزر کے بعد اور قتل خطا کی صورت میں لازماً مجرم پر عائد کیا جاتا ہے ۔ [۱۹۸۷ء]