دعوت دین کی جدوجہد کے ساتھ ایک بڑا حادثہ اِس زمانے میں یہ ہوا ہے کہ اِس کے علم بردار اُن حدود کو بالعموم ملحو ظ نہیں رکھ سکے جو اِس کام میں لازماً ملحوظ رہنے چاہییں۔ ماضی میں جو کچھ ہو چکا، اُس کی اصلاح تو اب ممکن نہیں ہے، لیکن مستقبل میں جو لوگ اِس مقصد کے لیے اٹھیں گے، اور خدا نے چاہا تو یقیناًاٹھیں گے،اُن کی رہنمائی کے لیے یہ حدود ہم یہاں بیان کیے دیتے ہیں تاکہ حق کے سچے طالبوں کے لیے اِس معاملے میں کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے ۔

حق کی حتمی حجت

پہلی حد یہ ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دی ہے۔ اِس وجہ سے اب یہ حق اِس زمین پر کسی شخص کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ اپنی کسی رائے اور نقطۂ نظر کو حق کی حتمی حجت اور اپنے کسی قول و فعل کو حق و باطل کا معیار قراردے کر لوگوں سے اُس کی پیروی کا مطالبہ کرے۔ یہ صرف پیغمبر کا حق ہے کہ اُس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ: ’فَلْےَحْذَرِ الَّذِےْنَ ےُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِےْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ ےُصِےْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۱؂ ‘۔اور یہ صرف اُسی کامقام ہے کہ اُس کے متعلق خود عالم کا پروردگار یہ اعلان کرے کہ :’فَلَا وَرَبِّکَ لَا ےُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی ےُحَکِّمُوْکَ فِےْمَا شَجَرَ بَےْنَھُمْ، ثُمَّ لَا ےَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَےْتَ وَےُسَلِّمُوْا تَسْلِےْمًا ۲؂ ‘۔ اللہ کے پیغمبر کے بعد اب اِس زمین پر جو شخص بھی یہ دعوت لے کر اٹھے ، اُس کا منصب یہی ہے کہ وہ اپنی بات قرآن وسنت کے دلائل کے ساتھ لوگو ں کے سامنے پیش کر ے اور اُس کے بارے میں مخاطبین پرواضح کردے کہ یہ اُس کی تحقیق ہے اور وہ اِس کی صحت پر مطمئن ہے، لیکن اِس میں غلطی کا امکان وہ بہرحال تسلیم کرتا ہے ۔ اُس کو لوگوں سے جو کچھ کہنا ہے ، بربناے دلائل کہنا ہے اورصرف اُن دلائل کی قوت ہے جس کی بنا پراُن سے اپنی کوئی بات منوا لینی ہے ۔ اِس کے علاوہ اب کوئی الہام ، کوئی القا ، کو ئی خوا ب اور کوئی شرح صدر بھی یہ حیثیت نہیں رکھتا کہ اُس کے حامل کے متعلق یہ دعویٰ کیا جائے کہ :’ ان الحق یدور معہ حیث دار ۳؂۔‘

سمع وطاعت

دوسر ی حد یہ ہے کہ لوگوں سے اپنی ذات کے لیے سمع وطاعت کا مطالبہ بھی صرف پیغمبر ہی کرسکتا ہے ۔وہ بے شک، اپنی قوم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ :’ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِےْعُوْنِ۴؂ ‘(اللہ کے بندے بن کر رہو ، اُسی سے ڈرو اورمیری اطاعت کرو )۔ اُس کے بعدیہ حق اگر کسی کوحاصل ہے تو وہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ، یعنی اُن کے حکمران ہیں جوقرآ ن وسنت کے حدود میں اُن سے سمع وطاعت کامطالبہ کرسکتے ہیں ، لیکن اُن کے لیے بھی یہ حق قرآن مجید کی رو سے اِس شرط کے ساتھ قائم ہوتا ہے کہ وہ تمام نزاعات میں معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں اور فیصلے کے لیے’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَےْنَھُمْ ۵؂ ‘ کے اصول کی پابندی کریں:

ےٰٓاَیُّھَا الَّذِےْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ، فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّّٰہِ وَالرَّسُوْلِ.(النساء ۴:۵۹) ’’ ایمان والو ، اللہ کی اطاعت کرو ا ور رسول کی اطاعت کرو اوراُن لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف رائے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ۔‘‘

دین میںیہ حق اِن تین کے لیے بے شک، ثابت ہے، یعنی اللہ، اُس کا پیغمبر اورمسلمان حکمران۔ چنانچہ بیعت سمع وطاعت بھی اب اللہ کے پیغمبر کے بعد اِن اولی الامر ہی کے لیے ہے۔ رہے دین کے دوسرے داعی تواُ ن کے لیے یہ حق چونکہ قرآن وحدیث کے پورے ذخیر ے میں کسی جگہ ثابت نہیں ہے ، اِس لیے وہ زیادہ سے زیاد ہ جو مطالبہ لوگوں سے کرسکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ بروتقویٰ کے کاموں میں اُن سے تعاون ۶؂ اور اللہ تعالیٰ کے حکم :’ےٰٓاَیُّھَا الَّذِےْنَ اٰٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِِ ۷؂ ‘ کی پیروی میں اُن کی مدد کریں اوراِس مقصد کے لیے باہمی مشورے سے کوئی نظم اگر قائم کیا جائے تو’اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۸؂ ‘ کی عام ہدایت کے تحت اُس کے پابند رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رسول کی حیثیت سے سمع وطاعت کا حق،جیسا کہ اوپربیان ہوا یقیناًثابت ہے، لیکن داعی کی حیثیت سے آپ نے بھی جوزیادہ سے زیادہ مطالبہ اپنی قوم سے کیا ، وہ یہ تھا کہ :

فایکم یبایعنی علی ان یکون اخی وصاحبی.(احمد ،رقم ۱۳۷۱) ’’پھر تم میں سے کون مجھ سے یہ بیعت کرتاہے کہ وہ اِس کام میں میر ا بھائی اور میرا ساتھی بن کر رہے گا ۔‘‘

لہٰذا اخوت وصحبت کی بیعت وہ اگر چاہیں تو اپنے رفقا سے لے سکتے ہیں، لیکن بیعت سمع و طاعت کا مطالبہ ہرگز نہیں کر سکتے ۔یہ بیعت صرف حکمرانوں کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عقبہ کے مقام پر یثرب کے لوگوں سے یہ بیعت اُس وقت لی ،جب اُنھوں نے حکمران کی حیثیت سے آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی ۔اِس سے پہلے تیرہ سال تک ام القریٰ مکہ میں آپ نے اِس بیعت کا مطالبہ لوگوں سے کبھی نہیں کیا ۔

التزام جماعت

تیسری حد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد :’انا آمرکم بالجماعۃ۹؂ ‘میں التزام جماعت کا جوحکم بیان ہوا ہے ،اُس کا تعلق مسلمانوں کے نظم سیاسی سے ہے ۔چنانچہ ابن عباس کی جو روایات امام بخاری نے اِس سلسلے میں نقل کی ہیں ،اُن میں یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔وہ فرماتے ہیں :

عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من رأی من امیرہ شیءًا یکرہہ فلیصبر علیہ، فانہ من فارق الجماعۃ شبرًا فمات الا مات میتۃ جاھلیۃ. (بخاری ،رقم ۷۰۵۴) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : جس نے اپنے امیر کی طرف سے کوئی نا پسندیدہ بات دیکھی، اُسے چاہیے کہ صبر کرے، کیونکہ جو ایک بالشت کے برابر بھی جماعت سے الگ ہوا اور اُسی حالت میں مر گیا، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی ۔‘‘

یہی روایت ایک دوسرے طریق میں اِس طرح آئی ہے :

عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : من کرہ من امیرہ شیءًا فلیصبر، فانہ من خرج من السلطٰن شبرًا مات میتۃ جاھلیۃ.(بخاری ،رقم ۷۰۵۳) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، اُسے چاہیے کہ صبر کرے، کیونکہ جو ایک بالشت کے برابربھی اقتدار کی اطاعت سے نکلا اور اُسی حالت میں مر گیا، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔‘‘

اِن روایات میں دیکھ لیجیے ،’الجماعۃ‘ اور ’السلطٰن‘، بالکل ایک دوسرے کے مترادف کی حیثیت سے استعمال ہوئے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ’الجماعۃ‘درحقیقت ’السلطٰن‘یعنی سیاسی اقتدار ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حکم کا اطلاق مسلمانوں کی کسی ایسی جماعت ہی پر کیا جاسکتا ہے جو کسی خطۂ ارض میں سیاسی خود مختاری رکھتی ہواور جس کے اندر نظام امارت قائم ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اِسی کے التزام کی ہدایت فرمائی اور اِس سے نکلنے کو اسلام سے نکلنے کے مترادف قراردیا ہے۔ سیاسی اقتدار سے محروم کسی دینی جماعت یا تنظیم کے ساتھ اِس حکم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ۱۰؂

ہجرت وبراء ت

چوتھی حد یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہجرت کا یہ حکم تو بے شک ،باقی ہے کہ اہل ایمان پراگر کسی جگہ دین پر قائم رہنا جان جوکھم کا کام بن گیا ہو تو اِس مقام کوچھوڑکر اُنھیں کسی دوسری جگہ چلے جانا چاہیے، لیکن وہ ہجرت جوقرآن مجید میں ایک مرحلۂ دعوت کی حیثیت سے بیان ہوئی ہے اور جودرحقیقت داعی حق کی طرف سے اپنی قوم کے لیے اعلان برا ء ت ہوتی ہے ، اُس کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ رسولوں کے ساتھ خاص ہے ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس ہجرت کی ایک لازمی شرط اتمام حجت ہے اور بحیثیت فرد یہ صرف رسولوں سے متصور ہوسکتا ہے ۔ وہ ہستیاں جن کے آنے سے صدیوں پہلے اللہ کے نبی اُن کی منادی کرتے ہیں، جن کی پیش گوئی عالم کا پروردگار اپنی کتابوں میں ثبت کرتا ہے ، جن کی گواہی اقوام و ملل کے قافلوں میں سفرکرتی ہوئی اُن کے مقام بعثت تک پہنچتی ہے،۱۱ ؂ وہ جو اپنے معا شرے میں وجودکا خلاصہ اور اپنی سیرت میں ایک اسوۂ حسنہ ہوتے ہیں، ۱۲؂ جن کو اللہ تعالیٰ اپنی وحی سے نوازتا ہے ،جو ہر وقت اُس کی نگاہوں میں ہوتے ہیں ۱۳؂ اورجن کے آگے اور پیچھے وہ پہرا رکھتا ہے کہ اُس کا پیغام پہنچانے میں وہ کسی جگہ کوئی غلطی نہ کریں، ۱۴؂یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اُن کی دعوت سے کسی قوم پر اللہ کی حجت اِس طرح پوری ہوجائے کہ اُس کے دودھ کا سارا مکھن نکل آئے اور اُس میں صرف چھاچھ باقی رہ جائے ۔ چنانچہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کے عام داعی تو ایک طرف ، یہ مرحلہ اُن نبیوں کی دعوت میں بھی نہیں آیا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت ملی ،لیکن وہ رسالت کے منصب پرفائز نہیں ہوئے۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے حنانی اور میکایاہ جیل بھیج دیے گئے، ۱۵ ؂ الیاس کو جزیر ہ نما ے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینا پڑی، ۱۶؂زکریا ہیکل سلیمانی میں ’’مقدس ‘‘ اور’’ قربان گاہ‘‘ کے درمیان سنگ سار ہوئے،۱۷؂ یرمیا ہ پیٹے گئے، قید ہوئے اور رسی سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکادیے گئے، ۱۸؂عاموس جلاوطن ہوئے، ۱۹؂ اور یحیےٰ کا سرایک رقاصہ کی فرمایش پر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کراُس کی نذ ر کردیا گیا ،۲۰؂ لیکن اِن میں سے کسی کی دعوت میں بھی ہجرت وبراء ت کاوہ مرحلہ نہیں آیا جواُن نبیوں کی دعوت میں لازماًآیا جورسالت کے منصب پر فائز ہوئے اوراِس طرح خدا کی حجت بن کر زمین پر آئے ۔ پھر اِس ہجرت کے بارے میں یہ بات بھی قرآن سے معلوم ہوتی ہے کہ اِس کا فیصلہ صرف عالم کاپروردگارکرسکتا ہے ۔ کسی انسان کے لیے اپنی عقل ورائے سے یہ فیصلہ کرلینا کہ اُس کی طرف سے حجت پوری ہوگئی اور قوم کی طرف سے دعوت حق کے لیے اب کسی مثبت ردعمل کی توقع نہیں کی جاسکتی ، کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ قوم لوط کے متعلق یہ فیصلہ لے کر جب خدا کے فرشتے ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر کے پاس آئے تو اُنھوں نے اِسے قبل ازوقت سمجھا اوراِس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مجادلہ کیا ۲۱؂ اوریونس علیہ السلام نے اپنی رائے سے یہ فیصلہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اُس پر سخت مواخذہ کیا ۲۲؂ اور اُن کے رجوع کے بعد اُن کی قوم کے ایمان سے یہ بات بالکل ثابت ہوگئی کہ توفیق ہدایت کا وقت صرف اللہ کے علم میں ہے۔ قرآن مجید اُنھی کی مثا ل پیش کر کے صاف واضح کرتا ہے کہ اللہ کے پیغمبر کو اِس معاملے میں پوری استقامت کے ساتھ اللہ کے فیصلے کا منتظر رہنا چاہیے ۔ وہ اپنی رائے سے یہ خیال کرکے کہ اُس کی طرف سے فرض دعوت کافی حد تک ادا ہوچکا ، اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا ۔ اُس پر لازم ہے کہ وہ جس ذمہ دار ی پر مامور ہوا ہے ، اُس میں بر ابر لگا رہے ،یہاں تک کہ اُس کا پروردگار ہی یہ فیصلہ کردے کہ حجت پوری ہوگئی، قوم کی مہلت ختم ہوئی اور اب رسول اِس علاقے سے ہجرت کر سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری جب اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی تو اُن کو حکم دیا :

وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ. (المدثر ۷۴:۶۔۷) ’’اور اپنی سعی کو زیادہ سمجھ کر منقطع نہ کر واور اپنے رب کے فیصلے تک صبر کرو۔‘‘
فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ.(القلم ۶۸:۴۸) ’’پس تم اپنے رب کے فیصلے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس ) کی طرح نہ ہوجاؤ ۔‘‘

اِس حکم سے بالکل واضح ہے کہ یہ ہجرت صرف اللہ کے فیصلے سے ہوسکتی ہے، لہٰذا ختم نبوت کے بعداب داعیان حق کے لیے قیامت تک اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ برابر اپنے کام میں لگے رہیں اور اپنی دعوت کبھی منقطع نہ کریں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اہل باطل اگر اُن کے لیے اِس دعوت کے ساتھ جینے ہی کا کوئی موقع باقی نہ رہنے دیں تووہ اصحاب کہف اور مہاجرین حبشہ کی طرح اپنی قوم کوچھوڑ کر کسی ایسے مقام کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جہاں وہ اِس ظلم سے نجات حاصل کر سکیں، لیکن وہ ہجرت جو اپنی قوم پر اتمام حجت کے بعد اللہ کے رسولوں نے کی، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوئی۔ چنانچہ دعوت دین کے مراحل میں اب اِس کا ذکر ایک بے معنی بات ہے جس کی تائید نہ عقل سے ہوتی ہے اورنہ قرآن وسنت ہی سے کوئی چیز اِس کے حق میں پیش کی جاسکتی ہے ۔

نہی عن المنکر

پانچویں حد یہ ہے کہ تلقین و نصیحت سے آگے بڑ ھ کر معروف کو فی الواقع قائم کر دینے اور منکر کو قوت سے مٹا دینے کا حق بھی اللہ تعالیٰ نے کسی داعی کو نہیں دیا۔ قرآن مجید اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ داعی حق کی حیثیت سے خدا کے کسی پیغمبر کو بھی تذکیر اور بلاغ مبین سے آگے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ.(الغاشیہ ۸۸:۲۱۔۲۲) ’’تم نصیحت کرنے والے ہو، تم اِن پرکوئی داروغہ نہیں ہو ۔‘‘

یہاں ہو سکتا ہے بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’من رأی منکم منکراً‘ ۲۳؂ کو اِس کی تردید میں پیش کریں ۔اِس میں شبہ نہیں کہ ہماری تاریخ کے مختلف ادوار میں دین سے نا واقف بعض حوصلہ مند لوگو ں نے اِس کے یہ معنی لیے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادہر صاحب عزیمت کو اِس بات کا مکلف ٹھیراتا ہے کہ پہلے اپنے پیرووں کا ایک جتھا منظم کرے اور اِس کے بعد ازالۂ منکر کی غرض سے حکومتوں کے خلاف خروج اور جہاد کے لیے نکل کھڑا ہو۔ روایت کی یہی تاویل ہے جس کی بنا پر غلبۂ دین کے علم برداروں نے اِس زمانے میں طالب علموں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب کے بجائے بندوق تھما دی ہے اور اب اِسی قبیلہ کے بعض لوگ اِس سے دور حاضر میں اسلامی انقلاب کا لائحۂ عمل برآمد کر رہے ہیں،لیکن اِس کے بارے میں یہ بات ہر شخص پر واضح رہنی چاہیے کہ قرآن کی تصریحات ،دین کے مسلمات ، رسولوں کی سیرت اور روایت کے اپنے الفاظ کی روشنی میں اِس کی صحیح تاویل یہ ہے کہ اِس کا تعلق ہر مسلمان کے دائرۂ اختیار سے ہے ۔ شوہر، باپ، حکمران، یہ سب اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں یقیناًاِسی کے مکلف ہیں کہ منکر کو قوت سے مٹا دیں۔ اِس سے کم جو صورت بھی وہ اختیار کریں گے ،اگر دین ہی کی کوئی مصلحت مانع نہ ہو تو بے شک، ضعف ایمان کی علامت ہے ،لیکن اِس دائرے سے باہر اِس طرح کا اقدام کوئی جہاد نہیں، بلکہ بدترین فساد ہے جس کے لیے دین میں ہرگز کوئی گنجایش ثابت نہیں کی جا سکتی۔

ہمہ گیر عذاب

چھٹی حد یہ ہے کہ دعوت حق کی تکذیب کے نتیجے میں جو عذاب عادو ثمود ،قوم نوح ،قوم لوط اور اِس طرح کی دوسری اقوام پر آیا، وہ بھی زمانۂ رسالت کے ساتھ خاص ہے ۔ قرآن مجید اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ بحیثیت فرد صرف اللہ کے رسول ہیں جن کے ذریعے سے کسی قوم پر اللہ کی حجت اِس طرح قائم ہو جاتی ہے کہ اِس کے بعد بھی وہ اگر ایمان نہ لائے تو بالعموم اُسے زمین سے مٹا دیا جاتا ہے ۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی داعی حق کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اِس طرح کے کسی عذاب کی وعید اپنی قوم کو سنائے ۔اللہ کی تنبیہات تو بے شک ، اب بھی نازل ہوتی رہتی ہیں اور اُن کا باعث کسی دعوت حق کے ساتھ لوگوں کا رویہ بھی ہو سکتا ہے ،لیکن وہ ہمہ گیر عذاب جس کی وعید ہر پیغمبر نے اپنی قوم کو سنائی اور جو بجائے خود دلیل رسالت ہے ، وہ اب کسی شخص کی دعوت کے متعلق نہیں ہو سکتا۔ اہل حق کے لیے اللہ کا قانون اب یہی ہے کہ وہ اپنی دعوت کامحور تذکیر بالآخر ت کو قرار دیں اور اِس پہلو سے کسی مرحلے میں بھی اپنے حدود سے تجاوز نہ کریں۔

تکفیر

ساتویں حد یہ ہے کہ کسی فرد کی تکفیر کا حق بھی کسی داعی کو حاصل نہیں ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو ، لیکن وہ اگر اِس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اِس کا اقرار نہیں کرتا تو اِس کفرو شرک کی حقیقت تو بے شک، اُس پر واضح کی جائے گی، اِسے قرآن وسنت کے دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جا ئے گا ،اہل حق اِس کی شناعت سے اُسے آگاہ بھی کریں گے اور اِس کے دنیوی اور اخروی نتائج سے اُسے خبردار بھی کیا جائے گا ،لیکن اُس کی تکفیر کے لیے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے،اِس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔ مسلمانوں کا نظم اجتماعی بھی سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۵ اور ۱۱ کے تحت زیادہ سے زیادہ کسی شخص یا گروہ کو غیر مسلم قرار دے سکتا ہے ،اُسے کافر قرار دینے کا حق اُسے بھی حاصل نہیں ہے۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ داعی حق کے لیے کفر و شرک کے ابطال میں مداہنت کے لیے بھی کوئی گنجایش ہے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل اُس کی ذمہ داری ہے ۔اُس کا اصلی کام یہی ہے کہ ہر خطرے اور ہر مصلحت سے بے پروا ہو کر توحید و رسالت اور معاد کے متعلق تمام غلط تصورات کی نفی کرے اور لوگوں کو اُس صراط مستقیم کی طرف بلائے جو اللہ ،پروردگار عالم نے اپنی کتاب میں انسانوں کے لیے واضح کی ہے۔یہ اُس پر لازم ہے ، لیکن اِس کے کسی مرحلے میں بھی یہ حق اُس کو حاصل نہیں ہوتا کہ امت میں شامل کسی فرد یا جماعت کو کافر و مشرک قرار دے اور اُن کے جمعہ و جماعت سے الگ ہو کر اور اُن سے معاشرتی روابط منقطع کر کے اپنی ایک الگ امت اِس امت مسلمہ میں کھڑی کرنے کی کوشش کرے۔ [۱۹۹۰ء]