۱

پروفیسر طاہر القادری صاحب کے دینی نقطۂ نظر کے بارے میں کچھ بہت حسن ظن تو مجھے اِس سے پہلے بھی نہیں تھا، لیکن۱۱، نومبر ۱۹۸۸ کی شام جب صدیق مکر م ڈاکٹرمنیر احمد صاحب کے تو جہ دلانے پر سورۂ الضحٰی کے بارے میں اُن کی تقریر کا کچھ حصہ میں نے ٹیلی وژن پرسنا تو حقیقت یہ ہے کہ کچھ دیر تک مجھے یقین نہیں ہوا کہ یہ فی الواقع پروفیسر طاہر القادری ہی ہیں جن کے رشحات فکراِس وقت میں سن رہا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم، اِس سے پہلے کیا کیا نوادرتحقیق وہ اِس سورہ کے معانی ومطالب سے متعلق اپنے سامعین کی خدمت میں پیش کرچکے تھے ۔میں نے جب ٹیلی وژن کھولا تو اِس سورہ کی آیت ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَھَدٰی‘ زیر بحث تھی ۔انھوں نے اِس کا ترجمہ اِس طرح کیا :’’اے محبوب اُس نے تجھے پا لیا توتیر ے ذریعے سے گمراہوں کو ہدایت بخشی۔‘‘میں پور ے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی شخص جو عربی زبان سے شد بد واقفیت بھی رکھتا ہو، اِس آیت کا یہ ترجمہ نہیں کرسکتا ۔اِس زبان کی کوئی نئی قسم اگر ’’منہاج القرآن‘‘میں ایجاد کرلی گئی ہے یا پروفیسر صاحب پرآسمان سے براہ راست الہام ہوئی ہے تو یہ دوسری بات ہے، لیکن وہ عربی زبان جس سے ہم واقف ہیں، جس میں قرآن نازل ہوا ہے ، جس میں افصح العرب والعجم نے اپنا پیغام بنی آدم تک پہنچایا ہے ، جس میں زہیر ، امرؤالقیس اورلبید واعشٰی نے شاعری کی ہے ،جس کے قواعد سیبویہ ،فرا ،زمخشری اور ابن ہشام جیسے علماے عربیت نے ترتیب دیے ہیں، اُس کے بارے میں یہ بات پوری ذمہ دار ی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اُس میں اِس ترجمے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔انھوں نے ’ضالاً‘ کا تعلق ’وجد‘ سے منقطع کیا ہے۔ اُسے ’ہدٰی‘ کا مفعول مقدم قرار دیا ہے۔ ’ضالاً‘ کی تنکیر اور وحدت، دونوں کو نظر اندازکیا ہے ۔یہ سب کچھ، حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان اوراُس کے اسالیب سے واقف کوئی شخص ہرگزنہیں کرسکتا ۔ سورۂ الضحٰی کی یہ آیت اپنے مدعا میں بالکل واضح ہے ۔اِس کا صاف ترجمہ یہ ہے کہ :’’اے پیغمبر، کیا تیرے پروردگار نے تجھے جویا ے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی ؟‘‘یہ جملہ چونکہ’اَلَمْ ےَجِدْکَ ےَتِےْمًا فَاٰوٰی‘ پر معطوف ہے ، اِس وجہ سے استفہام اورنفی کا جو اسلوب اُس میں اختیار کیا گیا ہے، وہ یہاں بھی اثر انداز ہوگا۔ ’وجد‘ا س آیت میں افعال قلوب کے طریقے پر دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوا ہے ۔چنانچہ لفظ’ضالاً‘ کو اِس آیت میں زبان کے کسی قاعدے کے مطابق بھی فعل ’ھدٰی ‘ کا مفعول قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ پروفیسر طاہرالقادری صاحب اگر یہ ماننا نہیں چاہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی جویاے راہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی راہ دکھائی تو وہ اپنے اِس نقطۂ نظر پرقائم رہیں ،لیکن اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کا یہ نقطۂ نظر قرآن کے صریح نصوص کے بالکل خلاف ہے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ پیغمبر کبھی کسی ضلالت میں مبتلا نہیں ہوئے ۔وہ یقیناًاُسی فطرت پرتھے جس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کو پیدا کیا، لیکن یہ فطرت جن عقائد کو ثابت کرتی ہے ،اُن کے تمام لوازم اور تقاضوں کو جاننے کے لیے آپ بھی لامحالہ وحی الٰہی کے محتاج تھے۔ چنانچہ یہی وہ احتیاج ہے جس کے بارے میں اِس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے کہ :’’اورکیا تیر ے پروردگار نے تجھے محتا ج پایاتو غنی نہ کیا؟‘‘ اِس سورہ کی آخری آیت میںیہ اِسی غنا کا حق بیا ن ہوا ہے کہ: ’وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘۔ (اور اپنے پروردگار کی نعمت کی تحدیث کرو)۔یعنی جس طرح تمھارے رب نے تمھیں ہدایت کی یہ نعمت مفت عطا فرمائی ہے ،تم بھی اِسی طرح فیاضانہ اِس کا چرچا کرو اور ہر مجلس میں اِس کا ذکر عام کردو۔نبوت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت نہ ضلالت کی تھی اور نہ اِسے ہدایت قرار دے سکتے ہیں۔ اِس کے لیے صحیح تعبیر ’جویاے راہ ‘ ہی کی ہو سکتی ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’ضال‘اِس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔چنانچہ موقع کلام کی رعایت سے اِس کا صحیح ترجمہ یہی ہو گا۔ قرآن مجید کے ترجمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ،’اے محبوب ‘کا طرز تخاطب بھی معلوم نہیں، کس طرح گوار ا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اِس کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں بھی مخاطب کیا ہے، آپ کے منصب نبوت ورسالت کے حوالے سے مخاطب کیا ہے۔ جیسے: ’ےٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ‘ اور ’ےٰٓاَ یُّھَا الرَّسُوْلُ ‘ یا خطاب کے وقت آپ کی صورت حال کے لحاظ سے تخاطب کا نہایت دل نواز ادبی اسلوب اختیار کیا ہے ، جیسے : ’ےٰٓاَ یُّھَا الْمُزَّمِّلُ‘ا ور ’ےٰٓاَ یُّھَا الْمُدَّثِّرُ‘۔ ہر صاحب ذوق اندازہ کرسکتا ہے کہ قرآن مجید کے اِن اسالیب تخاطب کے مقابلے میں ’اے محبوب ‘ کا اسلوب کس قدر فروتر اور غیر ثقہ ہے ۔اِسے ناموزوں قرار دینے کے لیے تنہا یہی بات کافی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انتہائی التفات کے مواقع پربھی اپنی کتاب میں یہ اسلوب اختیار نہیں کیا ۔ ہمیں بعد میں بعض احباب نے بتایا کہ پروفیسر صاحب نے سورۛ?الضحٰی کی اِس آیت کے اِسی طرح کے دوتین اور ترجمے بھی پیش کیے اوراُنھیں بھی اپنے اس ترجمے ہی کی طرح درست قرار دیا۔ یہ اگر فی الواقع صحیح ہے تو ہم بہت معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ قرآن مجید کوئی چیستان نہیں ہے کہ اِس کی ہر آیت دویا تین متضاد مفاہیم کی حامل قرار دی جائے ۔یہ زمین پرخدا کی میزان اور حق وباطل کے لیے ایک قطعی معیار کی حیثیت سے نازل ہوا ہے ۔اِس کی ہر آیت اپنے سیاق و سباق میں بندھی ہوئی اوراپنے مفہوم پرایک واضح حجت ہے ۔اِس میں شبہ نہیں کہ لغت میں ایک لفظ کے دس معنی ہوسکتے ہیں اورنحو میں ایک تالیف کودس طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے ،لیکن لفظ جب جملہ بنتا اور جملہ کسی کلام کا حصہ قرار پاتا ہے اور اُس کے لیے ایک سیاق وسباق وجو د میںآجاتا ہے تواُس میں ایک سے زیادہ معنی کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہ جاتی۔ پھر یہ لفظ اور یہ تالیف اگر کسی ایسے کلام کا حصہ بنے جس کا متکلم اِس عالم کا پروردگار ہے،جو اُس کے اپنے ارشادات کے مطابق عربی مبین میں نازل ہواہے،جسے خود اُس نے حق وباطل کے لیے فرقان قرار دیا ہے ،جس کی صداقت کی دلیل اُس نے یہ بیان کی ہے کہ اِس میں تم ہرگزکوئی تضاد یا تناقض تلاش نہیں کرسکتے،تو اُس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی جگہ ایک سے زیادہ مفاہیم کا کوئی احتمال باقی رہ جائے گا ۔آدمی کی عربی خام ہو اوراُس کا ادبی ذوق پست ہویا وہ سیاق وسباق کی رعایت ملحوظ رکھے بغیر قرآن کی ہرآیت کو الگ الگ کرکے اُس کا مدعا سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ البتہ ممکن ہے ،لیکن عربیت کے کسی جید عالم اورقرآن کے کسی صاحب ذوق شارح سے یہ چیز کبھی صادر نہیں ہو سکتی۔ یہ کوئی علم نہیں کہ آپ کسی آیت کے دویا تین یااِس سے زیادہ معنی بیان کر دیں، بلکہ علم درحقیقت یہ ہے کہ آپ تمام احتمالات کی نفی کرکے زبان وبیان کے قابل اعتماد دلائل کے ساتھ یہ ثابت کردیں کہ آیت جس سیاق وسباق میں آئی ہے ،اُس میں اُس کا یہی ایک مفہوم ممکن ہے تاکہ اللہ کی یہ کتاب فی الواقع ایک میزان کی حیثیت سے اِس امت کے سامنے آئے اور اِس طرح تشتت وافتراق کے بجائے یہ امت کے لیے فصل نزاعات اور وحدت فکر وعمل کا ذریعہ بنے ۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری یہ تنقید پروفیسرصاحب اور اُن کے معتقدین کے لیے گراں باری خاطر کا باعث ہو، لیکن حق بہرحال حق ہے اور اُس کی حمیت کا تقاضا یہی ہے کہ اُسے ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا کیے بغیر برملا ظاہر کردیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کو ایک دن اُس عدالت میں پیش ہونا ہے ،جہاں ہمارے وجود کا باطن ہمارے ظاہر سے زیادہ برہنہ ہوگا اورخودہمارا وجود بھی صاف انکار کردے گا کہ وہ اُسے چھپائے ۔ہماری زبان اُس روزبھی معنی و مفہوم کولفظوں کا جامہ پہناسکے گی،لیکن اُس د ن یہ جامہ کسی معنی کوچھپانے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے گا۔ ہمارے ہاتھ اور پاؤں اُس روزبھی ہمارے وجود کا حصہ ہوں گے ،لیکن ہمارے ہرحکم کی تعمیل سے قاصر ہوجائیں گے۔حقیقت اپنی آخری حد تک بے نقاب ہوجائے گی اورہم میں سے کوئی شخص اُس روز اُسے کسی تاویل اورتوجیہ کے پردوں میں چھپا نہ سکے گا ۔اِس سے پہلے کہ انتہائی عجز اور انتہائی بے بسی کا یہ عالم ہمارے لیے پیدا ہو جائے،بہتریہی ہے کہ ہم حق اورصرف حق کو اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں۔وما توفیقنا الا باللّٰہ۔

۲

سورۂ الضحٰی کی آیت :’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَھَدٰی‘ ۱؂ کے بارے میں پروفیسر طاہرالقادر ی صاحب کے نقطۂ نظر پرجو تنقید ہم نے ’’اشراق‘‘کے شمارۂ جنوری میں کی تھی ،اُس کے جواب میں ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘نے ایک مفصل مضمون اپنے رسالہ میں شائع کیا ہے ۔یہ مضمون اگرچہ کسی تبصرے کامستحق تو نہیں تھا، لیکن قحط علم کے اِس زمانے میں اِس طرح کی بے معنی سخن سازی بھی چونکہ بعض اوقات صحیح بات کے جاننے میں حجاب بن جاتی ہے ، اِس وجہ سے اِس مضمون کا ایک مختصر جائزہ ہم یہاں پیش کیے دیتے ہیں تاکہ حق کے کسی سچے طالب کے لیے کم سے کم اِس معاملے میں کوئی عذر باقی نہ رہے ۔ پروفیسر صاحب نے ٹیلی وژن پر اپنے ایک درس قرآن میں مذکورہ آیت کا ترجمہ اِس طرح کیا تھا کہ:’’اے محبوب تیرے پروردگار نے تجھے پالیا توتیرے ذریعے سے گمراہوں کو ہدایت بخشی۔‘‘ہم نے اِس ترجمے پر اعتراض کیا کہ یہ عربیت کی رو سے بالکل غلط، بلکہ قرآن مجید کے مدعا میں تحریف کے مترادف ہے ۔چنانچہ ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘نے اب اِس کے دفاع میں اپنانقطۂ نظر پیش کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ تم جس ترجمے پراعتراض کررہے ہو ،یہ صرف پروفیسر صاحب ہی کا ترجمہ نہیں ہے، اِس امت کے اکابر مفسرین، مثلاً: امام قرطبی ،اما م ابو حیان اندلسی، امام اسماعیل حقی اورامام المحدثین قاضی عیاض نے بھی اِس آیت کا یہی ترجمہ کیا ہے ،بلکہ امام رازی کی تفسیر کا تو خلاصہ یہی ہے ،اور تمھار ی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ فرا جیسے امام نحو کی تائید بھی اِس ترجمے کوحاصل ہے ۔چنانچہ یہ بات اب تمھیں مان لینی چاہیے کہ مطالعہ اورعلم وفن میں جو دسترس ہمارے ممدوح پروفیسرطاہرالقادری صاحب کوحاصل ہے ،تم اُس کی گرد راہ کوبھی نہیں پہنچ سکتے ۔ ًًمجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ ’’مطالعہ ‘‘ اور’’علم وفن ‘‘میں جس دسترس کا مظاہر ہ ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘نے اپنی اِس تحریر میں کیا ہے ،میرے لیے تو اِس کی گرد راہ تک پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے ، لیکن میرا خیال ہے کہ اِس گرد راہ سے ادھر بھی کچھ مقامات ہیں، جہاں وہ اگر اجازت دیں تو تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر کر ہم جیسے طالب علم بھی اُن کے اِس ’’مطالعہ ‘‘اور’’علم وفن‘‘کی کم سے کم کچھ داد تو دے ہی سکتے ہیں ۔ سب سے پہلے امام رازی کو لیجیے ۔اُن کی تفسیر سے جو جملہ ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘ نے اپنے مضمون میں پیش کیاہے ،اُس کے بارے میں دل چسپ بات یہ ہے کہ مسئلۂ زیر بحث کے ساتھ اُس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ پروفیسر صاحب کے ترجمے کو ہم نے جس وجہ سے غلط قرار دیا تھا، وہ یہ تھی کہ انھوں نے سورۂ الضحٰی کی اِس آیت میں ’وجد‘کو جو بالبداہت یہاں ’علم‘کے معنی میں ہے، ’صادف‘کے معنی میں لے کر پہلے اُسے دوسرے مفعول سے محروم کیااور پھر اِس دوسرے مفعول کوجسے عربیت کا ذوق آشنا کوئی شخص ’وجد‘ کے دوسرے مفعول کے سوا کچھ اور قرار دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، بغیر کسی تردد کے ’ھدٰی‘کا مفعول مقدم قرار دے دیا ۔ امام رازی کی تفسیر کے اِس جملے میں اِن میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی ۔اُس میں’وجد‘کو ’علم‘ کے معنی میں لیا گیا ہے اور اُسے دو مفعولوں ہی کی طرف متعدی قرار دیا گیا ہے۔ ’ضالاً‘ اُس میں ’وجد‘ ہی کا دوسرا مفعول ہے اور ’ھدٰی‘ کا مفعول عربی قاعدے کے مطابق مخدوف مانا گیا ہے ۔ اِس تفسیر میں یہ جملہ عربی زبان کے جس قاعدے پرمبنی ہے ،وہ یہ ہے کہ اعلیٰ کلام میں بعض اوقات کسی قوم کے سردار کو مخاطب کیا جاتا ہے ، لیکن اُس سے مراد درحقیقت وہ قوم ہی ہوتی ہے ۔یہ اِسی طرح کا اسلوب ہے ، جیسے ہم کہتے ہیں کہ اِس مسئلہ کے بارے میں اسلام آباد یا دہلی کا ردعمل ابھی معلو م نہیں ہوا اور اِس سے ہماری مراد ریاست پاکستان یا بھارت کی حکومت اور اُن کی وساطت سے بارہا یہاں اوروہاں کی پوری قوم ہوتی ہے یا مثلاً ہم کہتے ہیں کہ :’’احرار ‘‘ کا نمائندہ تو ہماری پارلیمان میں کمزور ہی سمجھا جائے گا اوراِس سے ہم اُس نمائندے کی نہیں، بلکہ عامۃ الناس میں تائید وحمایت کے اعتبارسے اُس کی جماعت کی کمزوری مراد لیتے ہیں ۔ یہی بات علم نحو کی زبان میں اِس طرح بھی ادا کی جاتی ہے کہ یہاں ایک مضاف دلالت قرینہ کی بنا پر حذف ہوگیا ہے،یعنی: ’وجد قومک ضلالاً‘یا ’رھطک ضلالاً‘چنانچہ امام رازی لکھتے ہیں :

انہ قد یخاطب السید ویکون المراد قومہ فقولہ: ’ووجدک ضالاً‘ ای وجد قومک ضلالاً. (التفسیر الکبیر ۳۱/۲۱۶) ’’آیت کی تفسیر اِس اسلوب پربھی ہوئی ہے کہ کبھی قوم کے سردار کو مخاطب کیا جاتا ہے اور اُس سے مراد پوری قوم ہوتی ہے۔ چنانچہ ’اس نے تجھے گم راہ پایا ‘سے مراد دراصل یہ ہے کہ اُس نے تیری قوم کوگم راہ پایا۔‘‘

آیت کی یہ تفسیر اگر اختیار کی جائے توتالیف کلام کے لحاظ سے یہاں پہلے’ضالاً‘کو شخص واحد سے متعلق کیا جائے گا، پھر اُس سے پور ی قوم مراد لی جائے گی ،جبکہ پروفیسر صاحب کے ترجمے میں اُسے براہ راست جمع کے معنی میں لیاگیا ہے اوراِس طرح اُس کی تنکیر اور وحدت، دونوں سے صرف نظر کرلیا گیا ہے۔ آےۂ زیر بحث کی یہی تفسیرامام قرطبی، اما م اسماعیل حقی اورابو حیان اندلسی کے اُن جملوں میں بھی بیان ہوئی ہے جو ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘نے پیش کیے ہیں۔ اما م نحو فرا نے بھی جس چیز کی تائید کی ہے ، وہ پروفیسر صاحب کا ترجمہ نہیں،بلکہ یہی تفسیر ہے جسے صرف رازی، حقی، قرطبی اور ابو حیان ہی نے نہیں،اِن کے علاوہ بعض دوسرے مفسرین نے بھی اپنی تفسیروں میں نقل کیا ہے۔ ہم اِس وقت اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ ’وَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی‘کی یہ تفسیر صحیح ہے یا غلط اورزبان کے جس اسلوب پر اِس کی بنا قائم ہوئی ہے ،اُس کا اطلاق یہاں ممکن بھی ہے یا نہیں اورسورہ کا نظم اِسے قبول بھی کرتا ہے یا نہیں اورجس قباحت سے بچنے کے لیے یہ تفسیر کی گئی ہے ،وہ قباحت اِس سے فی الواقع دور بھی ہوتی ہے یا نہیں ۔ہم جو بات یہا ں واضح کرنا چاہتے ہیں ،وہ یہ ہے کہ پروفیسر صاحب کے ترجمے کے ساتھ اِس تفسیر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُن کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’تیرے پروردگا ر نے تجھے پالیا‘‘ اوراِس تفسیر کے معنی یہ ہیں کہ :’’تیر ے پروردگار نے تیر ی قوم کو گم راہ پایا ‘‘یا ’’تجھے گمراہوں کے درمیان پایا۔‘‘چنانچہ ارباب ’’منہاج القرآن‘‘اگر اِن دونوں کو ایک قرا ردے کر اِس تفسیر کواُس ترجمے کی تائید میں پیش کرتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ علم وفن کو اِس سخن فہمی پراُنھیں داد دینی چاہیے یادیانت کو اِن حضرات کی جسارت پرماتم کرنا چاہیے ۔ رازی وقرطبی اور فراو ابوحیان جیسے ائمۂ نحو و تفسیر کے منہ میں اپنی بات ڈال کر اِن حضرات نے ’’علم وفن‘‘میں اپنی جس مہارت کا مظاہر ہ کیا ہے ،اُس کا ایک نہایت دل چسپ نمونہ اما م رازی کے بارے میں اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ اُ ن کی تفسیر کا تو خلاصہ یہی ہے ۔یہ دعویٰ غالباً اِس خیال سے کیا گیا ہے کہ اِس گئے گزرے زمانے میں اب وہ لوگ ہی کتنے ہیں جوامام رازی کی مراجعت کر سکتے اوراِس طرح اس دعوے کی حقیقت سے آگاہ ہوجانے کے بعد اُن کی مشیخت کو چیلنج کرسکتے ہیں ۔ امام موصوف نے آےۂ زیر بحث کی تفسیر میں اپنے طریقے کے مطابق پہلے ائمۂ تفسیر میں سے سدی، کلبی اور مجاہد کی رائے نقل کی ہے ۔پھر اُس کے دلائل بیان کرکے یہ بتایا ہے کہ جمہور علما نے اِس رائے کو قبول نہیں کیا ۔اِس کے بعد اُنھوں نے اِس آیت کے بارے میں جمہور کی آرا ایک ترتیب کے ساتھ جمع کردی ہیں ۔یہ کل بیس اقوال ہیں جن میں سے ایک وہ قول بھی ہے جسے ارباب ’’منہا ج القرآن‘‘ نے اپنے مضمون میں نقل کیا ہے ۔رازی نے اِس قول کو ترجیح نہیں دی؛ اِسے بیان میں تمام اقوال پر مقدم نہیں کیا؛سورہ کی دوسری آیا ت میں کسی پہلو سے بھی اِس کا حوالہ نہیں دیا، بلکہ ’اَلَمْ ےَجِدْکَ ےَتِےْمًا‘کے بارے میں اپنی بحث کے آخر میں جہا ں سورہ کا نظم واضح کیا ہے،وہا ں اِس کے بجائے ایک دوسرا قول اختیار کیا ہے ۔ یہ اقوال میں سے ایک قول اورآرا میں سے ایک رائے ہے جسے امام موصو ف نے بغیر کسی تبصرے کے اپنی تفسیر میں نقل کردیا ہے۔ اِس کے بعد ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘کے اس دعوے کے بارے میں کہ امام رازی کی تفسیر کا خلاصہ یہی ہے ،اِس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ:

ایں کاراز تو آید و مرداں چنیں کنند

بہرحال اِس بحث سے واضح ہے کہ رازی، قرطبی، ابوحیان، اسماعیل حقی اورفرامیں سے کسی نے بھی آےۂ زیر بحث کے وہ معنی بیان نہیں کیے جن پرہم نے اعتراض کیا تھا ۔اِن ائمہ کے جو حوالے ارباب’’منہاج القرآن ‘‘ نے پیش کیے ہیں، وہ سب مسئلۂ زیر بحث سے بالکل غیر متعلق ہیں اور اُنھیں غالباً صرف اِس لیے پیش کر دیا گیا ہے کہ دینی علوم سے ناواقف اپنے سادہ لوح معتقدین کو یہ باور کرا دیا جائے کہ پروفیسر صاحب کے جس ترجمے پر فلاں شخص نے اعتراض کیا ہے، تم اُسے قابل التفات نہ سمجھو ، اِس ترجمے کو تو ابو حیان اور فرا جیسے ائمۂ نحو اور قرطبی اور اسماعیل حقی جیسے اکابر مفسرین کی تائید حاصل ہے اور امام رازی کی تفسیر کا توخلاصہ یہی ہے ،لہٰذااِسے آخر غلط کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ وائے،افسوس کہ یہ وہ لوگ ہیں جوبزعم خوداِس زمانے میں ہم مسلمانوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں:

اب کسے رہنما کرے کوئی

یہ تو ائمۂ نحو و تفسیر کامعاملہ ہوا جن کا حوالہ اِن حضرات نے دیا تھا۔اس کے بعد اب لے دے کر ایک قاضی عیاض کی’’الشفا‘‘ رہ جاتی ہے جسے یہ حضرات اپنی تائید میں پیش کر سکتے ہیں ،لیکن کیا ’’الشفا‘‘کی یہ عبارت جس کا حوالہ اُنھوں نے دیا ہے ، فی الواقع یہ حیثیت رکھتی ہے کہ اِس کی بنیاد پر قرآن مجید میں یہ تحریف گواراکر لی جائے؟ہم بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ پروفیسر طاہر القادری صاحب کے ترجمے کا ماخذاگر یہی ہے تو پھر یہ عیب کی طرح چھپانے کی چیز ہے ۔اِسے یوں سر محفل بیان کرنا پروفیسر صاحب کے لیے کچھ باعث عزت نہ ہو گا۔ پروفیسر صاحب کے بارے میں ہم یہ خیال تو نہیں کر تے تھے کہ وہ اعلیٰ عربیت کے اصول پراور خود قرآن کے اپنے نظائر اوراُس کے نظم کی روشنی میں قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر کی اہلیت رکھتے ہیں ، لیکن اتنا حسن ظن بہرحال اُن کے متعلق ہمیں تھاکہ وہ جو کچھ کہیں گے ،قدما کی کسی محکم رائے کی بنیاد پرکہیں گے۔ مگر اب جو ارباب’’منہاج القرآن‘‘ نے اِس امت کے ذخیرۂ علمی میں سے اُن کے ترجمے کا یہ تنہا ماخذ ’’الشفا‘‘کی اِس عبارت کی صورت میں پیش کیا ہے توحقیقت یہ ہے کہ بڑی مایوسی ہوئی ۔قرآن کے کسی شارح کے لیے یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے کہ وہ کسی حاطب اللیل کی طرح پرانے علمی ذخائر میں جب بھی داخل ہو، رات کے اندھیروں ہی میں داخل ہو اورپھر لکڑیاں اورسانپ جو بھی میسر آئیں ، اُنھیں باندھ کر لے آئے ۔یہ ’’الشفا‘‘جس کا اُنھو ں نے حوالہ دیا ہے ،یہ کوئی تفسیر کی کتاب نہیں ہے۔ اِس کا موضوع نحو و اعراب کے مباحث بھی نہیں ہیں۔ یہ اہل ایمان پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کے بار ے میں ایک کتاب ہے جس کے مصنف کا کمال یہی ہے کہ سیرت طیبہ سے متعلق جس ردی استنباط اورجس واہی روایت کی تلاش ہو ، اُس کے بارے میں بغیر کسی تردد کے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اِس کتاب میں مل جائے گی ۔اپنے ترجمے کی تائید کے لیے انھوں نے اِس کتاب کا انتخاب کیا ہے اور اِس میں سے جس قول کا حوالہ دیا ہے ، اُس کا حال بھی یہ ہے کہ خودمصنف نے اُسے ’قیل‘کے ساتھ ذکر کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کسی مجہول شخص کی رائے ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کون تھا اورکہا ں اُس نے یہ معنی بیان کیے تھے ۔خود ’’الشفا‘‘کے شارحین اپنے آپ کو اِس قول کے دفاع سے عاجز پاتے ہیں۔ چنانچہ خفا جی جن کی شرح سے ایک جملہ نقل کرکے اِن حضرات نے اپنے قارئین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اِس قول سے بس کچھ اختلاف رکھتے تھے ،اُن کی پور ی عبارت اِس کے بارے میں یہ ہے:

ھذا القول لا یساعدہ اعراب ولا یصحبہ صواب فالاولی ترکہ لما فیہ من تقدیم المنصوب علی عاملہ والفاء العاطفۃ لا الزائدۃ کما فی قولہ تعالیٰ: ’وربک فکبر‘ مع وجود عامل مقدم ملاصق وھو ما لا تجوزہ النحاۃ.(نسیم الریاض ۱/۲۱۱) ’’یہ وہ قول ہے جس کی تائید نہ آیت کے اعراب سے ہوتی ہے اور نہ اِسے صحیح قرار دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بہتر یہی تھاکہ اِسے ترک کر دیا جاتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں منصوب کو اُس کے عامل اور ’وربک فکبر‘ کی طرح ایک زائد ’ف‘ پر نہیں، بلکہ ’عطف‘ کی ’ف‘ پرمقدم ٹھہرایا گیا ہے اور اِس کے باوجود مقدم ٹھہرایا گیا ہے کہ ’وجد‘کی صورت میں اِس کے ساتھ بالکل ملحق ایک عامل اِس جملے میں پہلے موجود ہے اوریہ وہ چیز ہے جسے اہل نحو کسی طرح جائز نہیں سمجھتے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ اپنے استدلال کی ساری عمارت ’’الشفا‘‘کے اِس قول پرقائم کرکے ارباب ’’منہاج القرآن ‘‘نے اپنے ممدوح کی کوئی خدمت انجام نہیں دی، بلکہ اُن کے بارے میںیہ ثابت کردیا ہے کہ اُن کے’’ مطالعہ ‘‘اور’’علم وفن‘‘کا سارا کمال یہی ہے کہ جہاں تہاں سے کوئی واہی عبارت لے کر اُسے کچھ آب و رنگ کے ساتھ اُن سادہ لوح معتقدین کے سامنے پیش کردیا جائے جوبے چارے نہیں جانتے کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے اورکہاں سے کہہ رہا ہے اورصرف یہی جانتے ہیں کہ یہ وہ مامورمن اللہ ہستی ہیں جنھیں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس زمانے کے لوگوں کی ہدایت کے لیے خود منتخب فرمایا ہے ۔ اپنی بات کی پچ میں یہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد اِن ارباب ’’علم وفن ‘‘نے امام حسن کی قرا ء ت بھی پیش کی ہے جس کے بارے میں ، حقیقت یہ ہے کہ اُن کے مضمون کو کئی بار پڑھنے کے بعد بھی ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ اِن حضرات نے اُسے آخر کس مقصد کے لیے پیش کیا ہے۔پروفیسر صاحب کے جس ترجمے پرہم نے اعتراض کیا تھا ،اُس کا تعلق قرآن مجید کی آیت : ’وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی‘سے ہے۔ یہ ’وجدک ضال فھدٰی‘کیا چیزہے ؟ ہم اِس سے خداکی پناہ چاہتے ہیں کہ اِسے قرآن مجید کی کوئی آیت قرار دیں ۔اُنھو ں نے خود لکھا ہے کہ یہ ایک شاذ قراء ت ہے جس سے قرآن ثابت نہیں ہوتا۔ چلیے،خیر گزر ی ،لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہ ’وَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی‘کی تفسیر ہے ۔ اِس کے معنی یہ ہوئے کہ ہمارے اعتراض کے جواب میں اُنھوں نے گویا ہمیں بتایا ہے کہ تم قرآن کی آیت میں تحریف معنوی کا ماتم کررہے ہو۔ لو،ہم امام حسن کے حوالے سے ثابت کیے دیتے ہیں کہ عشق رسول کا تقاضا ہوتو یہ ترجمہ کیا چیز ہے جس پرتم اعتراض کررہے ہو ،اِس مقصد کے لیے تو قرآن کے الفاظ میں بھی تغیر وتبدل کیاجاسکتا ہے اوراُس کے ’ضالاً‘ کو ’ضالٌ‘ بھی بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ تفسیر قرآن کے بارے میں اِن حضرات کا مسلک ہے جسے اُنھوں نے بقلم خود واضح کردیا ہے ۔ہم اِس ملک کے اہل دانش کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ وہ ’’علم وفن‘‘ہے جس کی دعوت یہ مامورمن اللہ ہستیاں لے کر اٹھی ہیں۔ اب ہر شخص کواِن سے پوچھنا چاہیے کہ قرآن کے الفاظ میں تغیروتبدل کرکے اُس کی تفسیر اگر جائز ہے تو پھر یہ بحث وتمحیص کس لیے ؟لوگوں سے صاف صاف کہیے کہ وہ قرآن کی جس آیت کو اپنے منشا کے خلاف پائیں،اُس میں بے تکلف مفعول کو فاعل اور فاعل کومفعول قراردے کر کوئی معنی پیدا کر لیں۔بلکہ یہی کیوں؟وہ جس نفی کو چاہیں اثبات میں اورجس اثبات کو چاہیں نفی میں بدل لیں،نہی کو امر اور امر کو نہی کی صورت دے دیں۔’ضالاً‘ کو اگر’ضالٌ‘ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے تو ’حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ‘کو’لم تحرم امھاتکم‘ میں بدل لینے میںآخرکیا مانع ہے ؟اور ’اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمآؤُا‘ میں توکچھ بہت تردد کی بھی ضرورت نہیں ہے۔وہ جب چاہیں اُس کے مرفوع کو منصوب اور منصوب کو مرفوع بنا دے سکتے اور اُس کا یہ ترجمہ کر سکتے ہیں کہ:’’اللہ میاں تو بس اپنے مولوی بندوں ہی سے ڈرتے ہیں‘‘۔یہ حق اگر امام حسن کوحاصل تھاتو اِس امت کو کیوں حاصل نہیں ہے۔وہ اگر’ضالاً‘ کو’ضالٌ‘ میں تبدیل کر سکتے تھے تو قرآن مجید کے دوسرے مقامات پرہم یہ کیوں نہیں کر سکتے؟اور پھر اہل تشیع نے کیا قصور کیا ہے کہ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی فلاں اور فلاںآیت کو اہل بیت نے جس طرح پڑھا ہے ،اُس میں حضرت علی کی خلافت اورصدیق وفاروق کی مذمت با لصراحت بیان ہوئی ہے تو ہم اُن پر تحریف قرآن کا جرم ثابت کرتے ہیں۔ہم اگر قرطبی کی روایت پر ’ضالاً‘ کو ’ضالٌ‘ بنا سکتے ہیں تو وہ بھی اپنی اِن روایتوں کے بارے میں بہت اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ:

ایں گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند

بہرحال ہم اپنا یہ موقف یہاں بالکل واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ امام حسن کی طرف اِس طرح کی کسی قراء ت کو منسوب قرار دینا ایک بدترین معصیت ہے جس سے ہر شخص کوخدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ فی الواقع اِس امت کی بڑی بد قسمتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اِس طرح کی سب قراء توں کو باطل قرار دینے کے باوجود اہل تشیع اور باطنیہ کی یہ روایات ہماری تفسیر کی کتابوں میں داخل ہو گئی ہیں اور اِس سے زیادہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اِس زمانے کے یہ ارباب ’’علم وفن‘‘ اپنے بزرگوں کی اِس لغزش پر پردہ ڈالنے کے بجاے اِن لغویات کو اپنے مضامین کی زینت بنا کر اِس بیسویں صدی میں اللہ کی کتاب پر لوگوں کے رہے سہے ایمان کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے مضمون میں اس قراء ت سے کچھ ’’حقائق‘‘ ثابت کیے ہیں،ہم اُن کی خدمت میں یہ عرض کریں گے کہ اِس سے جہاں وہ’’حقائق‘‘ثابت ہوتے ہیں ، وہاں یہ حقائق بھی جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں،پوری طرح ثابت ہوجاتے ہیں۔چنانچہ وہ اب اپنی فہرست میں اِنھیں بھی درج فرما لیں تاکہ ہماری طرح اگر پھر کوئی طالب علم اُن پر اعتراض کرے تو وہ ’’حقائق‘‘کی اِس سے زیادہ مفصل فہرست پیش کرکے اُس پر اپنی حجت تمام کرسکیں۔ اپنے مضمون کی ابتدا میں اُنھوں نے ہمیں متنبہ کیا تھا کہ پروفیسر صاحب کے ترجمے کو غلط قرار دینے سے پہلے تم اگر تفسیراوراصول تفسیر پر اُن کے لیکچر سن لیتے جو اُنھوں نے ہمیں دیے تھے تو تمھیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ہستی جس پر تم نے اعتراض کی جسارت کی ہے ،اُس کا علمی پایہ کس قدر بلند ہے۔ہمارا خیال ہے کہ اِن لیکچروں کا اتنا حصہ تو اب ہم نے سن ہی لیا ہے کہ قرآن کی تفسیر، اگر ضرورت پیش آجائے تو اُس کے مفعول کو فاعل بنا کر بھی کی جا سکتی ہے۔ اُن کی رفعت’’علم وفن‘‘ کے اعتراف کے لیے یہی بہت ہے۔ اِس کے بعد بھی اگر ہم منکر رہتے ہیں تو یہ ہماری کم فہمی ہے۔ اُنھوں نے تو اپنا مرتبہ بہرحال ثابت کر دیا ہے۔ اپنے اِس مضمون میں پروفیسر صاحب کے اِن لیکچروں سے استفادے کی دعوت کے ساتھ اُنھوں نے ہم طالب علموں کو کچھ علم نحو پڑھانے کی بھی کوشش کی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے ہمارے سامنے زانوے تلمذتہ کرو ۔ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ مفعول عربی زبان میں ہمیشہ اپنے فاعل کے بعد ہی نہیں آتا، یہ بارہا اُس پر مقدم بھی ہو جاتا ہے ۔اور ’وجد‘صرف’علم‘ہی کے معنی میں نہیں ہوتا،یہ’صادف‘کے معنی میں بھی آتا ہے اور جب یہ اِس معنی میں آتا ہے تو پھر اِسے ایک ہی مفعول کی ضروت ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ تمھاری جہا لت ہے کہ تم ’ضالاً‘کو یہاں’وجد‘ کا دوسرا مفعول بنانے پر مصر ہو اور اُسے ’ھدٰی‘کا مفعول مقدم قرار دینے سے بھی انکار کر رہے ہو۔ ہم بصمیم قلب اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اُنھوں نے علم نحو کے یہ بھولے ہوئے اسباق ہمیں یاد دلائے ہیں۔ چنانچہ وہ اگر برانہ مانیں تو ہم بھی کچھ بھولے ہوئے سبق اُنھیں یاد دلادیں۔ اُنھیں اگر زحمت نہ ہو تو ہمارا مضمون ایک مرتبہ پھر پڑھ لیں اور دیکھیں کہ اُس میں یہ مسئلہ ہی کہاں زیر بحث تھا کہ عربی زبان میں مفعول اپنے فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا اور ’وجد‘کبھی ایک ہی مفعول کی طرف متعدی ہو کرصادف‘ کے معنی میں نہیں آسکتا ۔ ہمارا اعتراض یہ تھا کہ سورۂ الضحی کی آیت: ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَھَدٰی‘میں ’ضالاً ‘کو ’ھدٰی ‘ کا مفعول قرار دینا اور ’ وجد‘کو ’ضالاً ‘ سے غیر متعلق کرنا عربیت کی رو سے کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔اُن کاخیال غالباً یہ ہے کہ ہر وہ معنی جو کسی لفظ میں ثابت کیے جا سکتے ہیں ، وہ ہر جگہ مراد بھی ہو سکتے ہیں۔ یہی علمی پایہ اُن صاحب کابھی تھا،جنھوں نے غالب کا یہ مصرع پڑھا کہ :غالب کوبرا کیوں کہو ،اچھا مرے آگے اور پھر اُس کی یہ شرح فرمائی کہ تم غالب کو میرے سامنے اچھا کہتے ہو تو دوسروں کے سامنے برا کیوں قرار دیتے ہو ؟اہل مجلس میں سے کسی نے عرض کیا کہ حضور ، ’اچھا‘ یہاں اِس معنی میں نہیں ہے جس معنی میںآپ نے لیا ہے تو فوراً چمک اٹھے کہ اردو زبان کی جو لغت چاہے، اٹھا کر دیکھ لو۔ اُن سب میں ’اچھا ‘ کے ایک معنی وہ بھی لکھے ہوئے ہیں جو ہم نے یہاں مراد لیے ہیں۔ اِس پایہ کے اہل علم سے اب کیا گفتگو کی جائے اور اُنھیں کس طرح بتایا جائے کہ اعتراض اِس پر نہیں ہے کہ ’اچھا‘ اِس معنی میں آتا ہے یا نہیں۔اعتراض اِس پر ہے کہ ’اچھا ‘ غالب کے مصرعے میں اِس معنی میں آیا ہے یا نہیں۔ ’کان‘ عربی زبان میں تامہ بھی ہوتا ہے اور نا قصہ بھی ۔لیکن ’مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا‘۲؂ میں بھی،مثال کے طور پر، کیا اِن دونوں صورتوں کا اطلاق بہ یک وقت کیا جا سکتا ہے اور دونوں کو یکساں درست کہا جا سکتا ہے ؟ سورۂ الضحی کی آیت ، ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَھَدٰی‘ کے بارے میں ہم ایک مرتبہ پھر پورے اطمینان کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ اُس میں عربیت کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں کہ ’ضالاً‘ کو ’وجد‘ سے غیر متعلق کر کے اُسے ’ھدٰی‘ کا مفعول مقدم بنا دیا جائے اور اُس میں ’وجد‘ لازماً ’علم‘ کے معنی میں ہے ،اُسے یہاں ’صادف‘کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا ۔یہ تقدیم مفعول کا مسئلہ ہی نہیں ہے کہ نحو کی فلاں اور فلاں کتاب سے وہ موانع تلاش کیے جائیں جو کسی جگہ تقدیم مفعول میں حائل ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’ضالاً‘ کی طرح کوئی مفعول جب اِس طرح ’وجد‘ سے ملحق ہو تو کیا اُسے اِس فعل سے الگ کر کے کسی دوسرے فعل کا مفعول قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ہم یہ عرض کریں گے کہ عربی زبان میں اِس کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اِس زبان کے پورے ذخیرے میں سے اِس کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ائمۂ تفسیر آیات کی تفسیر میں کمزور سے کمزور نحوی احتمالات بھی بالعموم بیان کر دیتے ہیں ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اُنھوں نے اپنی تفسیروں میں اِس آیت کے متعلق پوری صراحت کے ساتھ صرف اِسی ایک صورت کا ذکر کیا ہے کہ ’وجد‘ یہاں ’ علم‘ کے معنی میں ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوا ہے ۔زمخشری نے لکھا ہے :

و’الم یجدک‘ من الوجود الذی بمعنی العلم والمنصوبان مفعولا ’وجد‘.(الکشاف۴/۷۶۷) ’’اور ’الم یجدک‘میں’ وجود‘یہاں ’علم ‘ کے معنی میں ہے اور اِس کے بعد ضمیر خطاب اور ’ضالاً‘دونوں منصوب اُس کے مفعول ہیں ۔‘‘

رازی لکھتے ہیں:

’الم یجدک ‘ من الوجود الذی بمعنی العلم والمنصوبان مفعولا ’وجد‘.(التفسیر الکبیر ۳۱ /۲۱۴) ’’’الم یجدک‘یہاں ’وجود‘بمعنی ’علم‘ہے اور اِس کے بعد دونوں منصوب ’وجد‘کے دو مفعول ہیں۔‘‘ ۳؂

اِس کے بعد اُنھوں نے خفاجی شارح ’’الشفا‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’وجد‘کا ایک مفعول یہاں مخدوف مان لیا جائے۔ اِس سے قطع نظر کہ خفا جی کی یہ رائے بھی عربیت کی رو سے بالکل غلط ہے اور ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ عربی زبا ن میں اِس کے لیے بھی کوئی گنجایش نہیں ہے اورخود خفا جی نے بھی ’’نسیم الریاض‘‘میں اعتراف کیا ہے کہ اکثر اہل نحواِسے قبول نہیں کرتے،اِن سب باتو ں سے قطع نظر، ہم اِن ارباب ’’علم وفن ‘‘سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ مسئلۂ زیر بحث سے اِس حوالے کا آخر کیا تعلق ہے ؟ہم نے پروفیسر صاحب کے جس ترجمہ پراعتراض کیا تھا ، اِس میں اُنھوں نے ’وجد‘ کا دوسرا مفعول محذوف مان کر تو اِس آیت کا ترجمہ نہیں کیا تھا کہ خفا جی کی یہ رائے اِس ترجمے کی تائید میں پیش کی جائے۔ اُنھوں نے اِسے ’صادف‘کے معنی میں لے کر اوراُسے ایک مفعول کی طرف متعد ی قرار دے کر اِس آیت کا ترجمہ کیا تھا اور ہم نے اِسی بنا پر اُسے بالکل غلط قرار دیا تھا۔ اب یہ حضرات ہی بتائیں کہ اِس طرح کی چیزوں کو اصل مسئلہ سے توجہ ہٹا کر اپنے قارئین کوادھر ادھر کی باتوں میں الجھانے کی کوشش کے سوا آخر کیا نام دیا جاسکتاہے ؟ علم نحو کی اِس درس وتدریس سے فراغت کے بعد اُنھوں نے قرآن مجید کے ترجمہ میں’اے محبوب ‘کے طرزتخاطب کے بارے میں ہمارے اعتراض پربھی ہمیں تنبیہ کی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اس معاملے میں ہم سے بڑا سہو ہوا۔ وہ لوگ جو غزل کے محبوب اور خدا کے پیغمبر سے خطاب کے طریقوں میں بھی فرق کرنے سے قاصر ہوں، اُنھیں یہ بتانے کی کوشش حماقت ہی ہے کہ قرآن کے ترجمے میں ’اے محبوب‘ کا اسلوب ذوق لطیف پرگراں گزرتا ہے۔ ہم اِس پر فی الواقع اُن سے معذرت خواہ ہیں اورہمیں امید ہے کہ اِس بے محل مشورے پروہ ہماری یہ معذرت قبول فرمائیں گے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے لکھاہے کہ یہ شخص قرآن مجید کی ایک ہی آیت کے دویاتین مفاہیم بیان کرنے پربھی معترض ہوا ہے،دراں حالیکہ ہمارے بزرگوں میں سے ،مثلاًغوث الاعظم تو ایک ہی آیت کی چالیس تفسیریں بیان کیا کرتے تھے ،اوریہ اگر غلطی ہے تواِس کا ارتکاب رازی اورقرطبی اوردوسرے اکابر مفسرین نے بھی جگہ جگہ کیا ہے، اوریہ کوئی متضاد تفسیریں نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں جنھیں یہ حضرات بیان کردیتے ہیں۔چنانچہ اُنھوں نے اِس کے لیے رازی کی تفسیرمیں سے اِسی آیت ، ’وَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی‘کو مثال کے طور پر پیش کر کے یہ بتایا ہے کہ اُنھوں نے اِس کی بیس مختلف تفسیر یں اپنی کتاب میں نقل فرمائی ہیں۔ اِ س میں شبہ نہیں کہ ہمارے مفسرین نے یہی کیا ہے ، لیکن اب ذرا رازی کی اِن بیس تفسیروں میں سے چند ملاحظہ فرمائیے : آےۂ زیر بحث کی ایک تفسیر اُنھوں نے یہ نقل کی ہے کہ اے پیغمبر، تم اپنے دادا سے کھو گئے تھے تو تمھارے پروردگار نے تمھیں اُن کی طرف لوٹا دیا ۔ دوسر ی تفسیر یہ نقل کی ہے کہ تم میسرہ کے ساتھ سفر میں راستہ بھول گئے تھے اللہ نے تمھیں قافلے تک پہنچادیا ۔ تیسری تفسیر یہ نقل کی ہے کہ تم کفار میں گھر ے ہوئے تھے تو اللہ نے تمھیں قوت بخشی ۔ چوتھی یہ نقل کی ہے کہ تم قبلے کے بارے میں متردد تھے تو اُس نے تمھارا رخ اُس قبلے کی طرف کردیا جوتمھیں پسند تھا ۔ پانچویں یہ نقل کی ہے کہ تم شروع میں جبریل کو پہچاننے سے قاصر رہے تو اللہ نے اُن سے تمھیں متعارف کرادیا ۔ چھٹی یہ نقل کی ہے کہ تم تجارت اوراُس کے طریقوں سے ناواقف تھے تو اللہ نے تمھاری رہنمائی فرمائی اورتمھیں تجارت کرنا سکھا دی ۔ ساتویں یہ نقل کی ہے کہ تم ہجرت سے قاصر تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے اُس کی راہ کھولی۔ یہ وہ تفسیر یں ہیں جن کے بارے میں اُنھوں نے فرمایا ہے کہ یہ دراصل ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں ، اِنھیں آپس میں متضاد آخر کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ اگر تضاد نہیں ہے تو پھر تضا د کس چیزکا نام ہے ؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ حضرات تجارت نہ جاننے اورقبلے کے بارے میں متردد ہونے اورہجرت کی راہ نہ پانے اور جبریل کوپہچاننے سے قاصر رہ جانے اورکفار میں گھرے ہونے اورسفر میں راستہ بھول جانے اور اپنے داد ا سے کھوجانے میں جوقدر مشترک تلاش کرلینے میں کامیاب ہوئے ہیں، اُسے بیان کردیتے تاکہ ہم طالب علمو ں پربھی واضح ہوجاتا کہ اختلاف تعبیر اورتضاد میں درحقیقت کیا فرق ہوا کرتا ہے ؟ ہمارے نزدیک، یہی وہ طریق تفسیر ہے جس نے امت کو تشتت وافتراق میں مبتلا کیا اوراِس کے ذہین عناصر کو قرآن مجید سے بالکل غیر متعلق کردیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اِن تفسیر وں کے مطالعہ سے آدمی سوچنے پرمجبور ہوجاتا ہے کہ کیایہی وہ کلام ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ جن وانس اِس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر رہے اورجو اِس زمین پرحسن بیان اورفصاحت و بلاغت کا ایک لافانی معجزہ قرار پایا؟ ہمارا خیال ہے کہ اِن تفسیروں کو دیکھنے کے بعد تو یہ ماننا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ فی الواقع کوئی بامعنی کلام بھی ہے جس کی طرف انسان ہدایت کے لیے رجوع کرسکتا ہے ۔ رہی یہ دلیل کہ ہمارے سب مفسرین یہی کچھ کرتے رہے ہیں تو یہ درحقیقت کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگلوں نے اگر غلطی کی ہے تو ہم پریہ کہاں سے واجب ہوگیا کہ ہم آنکھیں بند کر کے نسلاً بعد نسلٍ اِس غلطی کو دہراتے چلے جائیں ؟قرآن مجید کے بارے میں یہ رویہ خود اُس کے صریح نصوص اورعقل عام کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ اللہ کی اِس کتاب پرہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواکیے بغیر پور ی شدت کے ساتھ اِسے رد کردیں ۔ اب چند حرف لفظ’ضالاً ‘کے اُس ترجمے کے بارے میں بھی جس کی تائید ہم نے اپنی تحریر میں کی تھی۔ اُنھوں نے فرمایا ہے کہ ائمۂ تفسیر کے اقوال اور لغت کی کتابوں میں انھیں اِس کا کوئی ماخذ نہیں مل سکا۔ ہم اُن کی خدمت میںیہ عرض کریں گے کہ زبان کی تحقیق میں ائمۂ تفسیر کے اقوال اور لغت کی کتابوں کادرجہ بالکل ثانوی ہے۔ اِس معاملے میں اصل اہمیت ہمیشہ اہل زبان کے کلام کو حاصل ہوتی ہے۔ لغت کی کتابیں خود اُسی سے مرتب کی جاتی ہیں اورائمۂ تفسیر اپنی آرا وہیں سے اخذ کرتے ہیں۔ عربی زبان کی کوئی اچھی لغت ،مثلاً: ’’لسان العرب ‘‘،اورنحو کی کوئی اعلیٰ کتاب،مثلاً :زمخشری کی ’’المفصل‘‘یا ابن ہشام کی ’’مغنی اللبیب‘‘اٹھا کر دیکھ لیجیے ، یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی کہ زبان کی تحقیق میں اِس فن کے ماہرین کا اصل مرجع کیا ہے اوروہ اپنا موقف کس طرح اُن نظائرو شواہد سے ثابت کرتے ہیں جواُنھیں اہل زبان کے کلام سے میسر آتے ہیں۔اردوزبان کی تحقیق میں جس طرح ’’فرہنگ آصفیہ‘‘ اور ’’نوراللغات‘‘ کی حیثیت بس ایک ثانوی ماخذ کی ہے اور یہ کتابیں خود محتاج ہیں کہ اپنے مندرجات کی سند میرو غالب کے کلام سے پیش کریں،اِسی طرح ’’لسان‘‘ اور’’صراح‘‘اور’’صحاح‘‘اور’’قاموس‘‘کے مصنفین کے لیے بھی اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی کتابوں میں جوکچھ درج کررہے ، اُس کی سند کے لیے کلام عرب کے شواہد سامنے لائیں۔ چنانچہ اِس معاملے میں اِس امت کے اہل تحقیق میں کوئی اختلاف نہیں کہ لغت عرب کی تحقیق کے لیے سب سے پہلا ماخذ خودقرآن مجیدہے اوراِس کے بعد یہ حیثیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کے اُن اقوال کو جو روایت باللفظ کے طریقے پرمنتقل ہوئے ہیں ،اورپھر ادب جاہلی کو حاصل ہے ۔چنانچہ لفظ ’ضالاً‘کے جومعنی ہم نے بیان کیے تھے ، اُن کے بارے میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ارباب ’’منہاج القرآن‘‘ پہلے اپنے دفاع سے فارغ ہوجائیں۔ اِس کے بعد وہ اگر چاہیں گے تو ہم عربی زبان کے اِنھی مآخذ سے اِس لفظ کے یہ معنی ان شاء اللہ ثابت کردیں گے۔ تاہم اُس وقت تک وہ اگر فرزدق کے اِس شعر ہی پر غور فرمائیں تو ہمیں امید ہے کہ لفظ ’ضلالۃ‘ کے معنی کے بارے میں کچھ حقائق ، اگر اللہ نے چاہا ، تو اُن پرواضح ہو جائیں گے ۔اُس نے کہا ہے :

ولقد ضللت اباک تطلب دارمًا کضلال ملتمس طریق وبار

اپنے مضمون کے آخر میں اُنھوں نے فرمایا ہے کہ تمھیں اِس بات پرغور کرنا چاہیے کہ تمھار ی اور تمھارے استاد کی عمر بھرکی محنت کا نتیجہ ہی کیا ہے ؟یہی چندسو آدمی اورادھر ہمارے پروفیسر صاحب ہیں کہ صرف پانچ چھ برسوں ہی میں ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں انسان اُن سے اِس طرح وابستہ ہوئے ہیں کہ ہمہ وقت سر بکف پھرتے اور دعا کرتے ہیں کہ کب اُن کا اشارۂ ابرو ہو اورہم تن من دھن کی بازی لگادیں۔ ہمار ا خیال ہے کہ تنہایہی ایک دلیل وہ اگر اپنے موقف کے حق میں پیش کردیتے تو ’’مطالعہ ‘‘ اور’’علم و فن ‘‘کی اُن وادیوں میں سرگرداں ہونے کی کچھ ضرورت نہ تھی جن کا حاصل سفر اِن پچھلے صفحات میں بیان ہوا ہے۔اُنھیں شاید اِس بات کا احساس نہیں ہوا کہ اُن کی یہ دلیل صرف اُس اعتراض کا مسکت جواب ہی نہیں ہے جو ہم نے اُن کے ممدوح پرکیاتھا ،بلکہ حق و باطل کے معاملے میں ہم طالب علموں کی بہت سی مشکلات کا ایک واضح اور قطعی حل بھی ہے۔ دین اورعلم کے سارے مسائل میں کسی آخری نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ جو ہم مختلف علوم وفنون کا مطالعہ کرتے اور شب وروز نحو واعراب ، بلاغت ومعانی اورحدیث و فقہ کی گتھیاں سلجھاتے اورمعلوم نہیں،کیا کیا وادیاں قطع کرتے اور کن کن راہوں سے گزرتے رہے ہیں تو یہ سب سعی بے حاصل ہی تھی۔ اِس دلیل کے بعد یہ صعوبتیں ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئیں۔ اب جس چیز کے بارے میں بھی فیصلہ کرنا ہو کہ اُس میں کس کا موقف صحیح اورکس کاغلط ہے ،اُس کے لیے یہی کافی ہے کہ حامل موقف کے معتقدین کے سرگن لیے جائیں اوریہ بھی معلوم کرلیا جائے کہ وہ اُس کے اشارۂ ابرو پرکیا کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ اِس کے بعد جس کے معتقدین کی تعداد زیادہ اور جن میں تن من دھن کی بازی لگا دینے کا حوصلہ دوسروں سے بڑھا ہوا ہو ،اُس کو لازماًحق اوراُس کے مقابل ہر نقطۂ نظرکو بغیر کسی تردد کے باطل مان لیاجائے ۔ اُن کی اِس دلیل پراب اِس سے زیادہ کیا تبصرہ کیا جائے۔یہ حقیقت ہے کہ یہی ذہنیت ہے جو یہ حضرات اپنے معتقدین میں پیدا کرتے ہیں اورپھر ہمیشہ کے لیے اُنھیں حق وباطل میں امتیاز کی صلاحیت سے محروم کردیتے ہیں۔مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرماےۂ فخر اگر کچھ ہے توبس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے ،لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کرناچاہتا ہوں کہ اُس کی تگ ودوکا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پرلوگ جیتے اور مرتے ہیں۔ اِن زخارف کی طرف نگا ہ اٹھا کر دیکھنا بھی اُس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کر نے کے وہ طریقے جواِن حضرات کے لیے ’ھنےءًا مرےءًا‘ہیں، اُن کا ذکربھی کوئی شخص اگر اُس کی مجلس میں کبھی کردے توپھر اُس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اُس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا، وہ یہ تھی کہ آدمی کا سایہ بھی اُس کا ساتھ نہ دے تو اُسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔ اُس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکروعمل کی سب غلاظتوں کوجمع کرکے اُنھیں دلائل فراہم نہیں کیے، دل ودماغ کواُن غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا، اُنھیں اُن بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پروہ اپنے شعور کے پہلے دن سے فائزر ہاہے۔ اُس کی دنیا علم ودیانت کی دنیا ہے ، مذہبی بہروپیوں اورسیاسی بازی گروں کے لیے اُس دنیا میں کوئی جگہ پیدا نہیں کی جاسکتی۔ وہ اپنے ذرۂ ہستی میں ایک صحرا اوراپنے وجود میں ایک سمند رہے۔ اُس کی اپنی اقلیم ہی میں اُس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اِس طرح کی چیزوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا۔ اُس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے ، وہ پیر ی مریدی کا نہیں، علم وتحقیق کا میدان ہے۔ اُس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہوتو وہ اُس شہ پارۂ علم وتحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے جانتی ہے ۔وہ بندۂ امروز نہیں ،مرد فردا ہے اوراُس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا۔ میرا خیال ہے کہ بات ختم ہوگئی اورقلم کا مسافر اپنی منزل پرپہنچ گیا ۔خاتمۂ کلام میں اب اِن حضرات کی خدمت میں اِس کے سوا کیا عرض کروں کہ :