اِس کے بعد اُنھوں نے ہمارے اوراپنے فکر کی چند مماثلتیں بیان فرمائی ہیں ۔اِس سے قطع نظر کہ اِس تماثل میں بھی تخالف کی دس صورتیں چھپی ہوئی ہیں، ہم کہتے ہیں کہ بجا ارشاد فرمایا ، مگر گزارش یہ ہے کہ نفس مسئلہ زیربحث میں بھی ازراہ عنایت توفیق کی کوئی صورت دریافت فرمائیے۔ اِس لیے کہ وہاں تو صورت حال یہ ہے کہ آپ اِس بات پرمصرہیں کہ اسلامی انقلاب جب بھی آئے گا ، بیعت سمع وطاعت اور’’سنو اورتعمیل کرو‘‘کے اصول پرمنظم ’’فدائین ‘‘کے حکومت کے ساتھ تصادم سے آئے گا ، اورہمیں پورا اطمینان ہے کہ آپ کی طرح کے علما اوردانش ور وں کے لیے اُس کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسلام کے حق میں ایک فکری انقلاب اپنی قوم کے ذہنوں میں پیدا کرنے کی جدوجہدکریں اوراِس کے ساتھ دعوت اورصرف دعوت کے ذریعے سے اُس کے ارباب حل و عقد کواُن تغیرات پرآمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں جو اسلا م کے نقطۂ نظر سے اِس ملک کی سیاست ، معیشت ، معاشرت ، تعلیم و تعلم اورحدود و تعزیرات کے نظام میں اُن کی رائے کے مطابق ہونے چاہییں۔ یہ اِس معاملے میں ہمارا نقطۂ نظر ہے ۔لیکن اب یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ڈاکٹر صاحب جن ’’فدائین‘‘ کے ذریعے سے اِسے برپا کرنا چاہتے ہیں ، وہ کیا ہیں ؟اپنے بعض تازہ مضامین میں اُنھوں نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں ایک ’’جماعت المسلمین ‘‘اورایک ’’حزب اللہ ‘‘ہوتی ہے ۔جماعت المسلمین سے وہ عام مسلمانوں کو مراد لیتے ہیں اور حزب اللہ اُن کے نزدیک اسلامی انقلاب کی جدوجہد کرنے والے ’’فدائین‘‘ کی وہ جماعت ہے جوکسی داعی انقلاب کے حکم پراپنا تن من دھن، سب قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اُس کے بارے میں اُن کا ارشاد ہے کہ اُس میں چار اہم خصوصیات لازماًہونی چاہییں۔ اُنھوں نے لکھا ہے :

’’پہلی یہ کہ وہ جماعت بالکل نئی ہونی چاہیے جس کا کوئی تعلق معاشرے میں پہلے سے قائم سماجی، سیاسی یا معاشی تنظیموں یااداروں سے نہ ہو ۔ دوسری یہ کہ اُس کے کاڈر بھی بالکل نئے ہونے چاہییں اوراُن کے مابین درجہ بندی میں معاشرے میں پہلے سے موجود مراتب ودرجات کے فرق وتفاوت کا کوئی عکس ہرگز نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ اُس کی صفوں میں اونچ نیچ یا آگے پیچھے کا سارا دارومدارکارکنوں کے اپنے مقصد کے ساتھ والہانہ عشق اورایثار وقربانی کے جذبے کی کمی یا زیادتی پرہونا چاہیے ۔تیسری یہ کہ اُس کے کارکنوں اوروابستگان میںیہ کیفیت پوری شدت کے ساتھ پید ا ہونی چاہیے کہ اُن کی دلی محبت رفتہ رفتہ صرف ہم مقصد ساتھیوں کے حلقہ میں محدودہوتی چلی جائے، خواہ وہ بالکل اجنبی ہوں اورانقلاب کے دشمن اُنھیں اپنے ذاتی دشمن محسوس ہونے لگیں ، خواہ وہ اُن کے قریبی رشتہ دار ، حتیٰ کہ باپ، بیٹے یا بھائی ہی کیوں نہ ہوں۔چوتھی اورآخری بات ، لیکن کم ترین نہیں ، بلکہ اہم ترین یہ کہ انقلابی جماعت کا نظم اور ڈسپلن فوج کے روایتی انداز، یعنی ’’سنواورتعمیل کرو ‘‘کاسا ہونا چاہیے، ورنہ ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلے پرنظم کی خلاف ورزی سارے کیے دھر ے پرپانی پھیر دے ۔‘‘(ندائے خلافت ، جلد۱، شمارہ ۳۷)

ڈاکٹر صاحب کے دوسرے اساطیر کی طرح اُن کے یہ تازہ ارشادات بھی حقیقت یہ ہے کہ بالکل بے بنیادہیں۔چنانچہ اِن کے بارے میں بھی یہ چند باتیں واضح رہنی چاہییں: اول یہ کہ ’’حزب اللہ ‘‘کی تعبیر قرآن مجید نے زمانۂ رسالت کے منافقین کے مقابلے میں سچے اہل ایما ن کے لیے اختیار کی ہے ۔قرآن میں یہ تعبیر دوجگہ آئی ہے :ایک سورۂ مائدہ کی آیت ۵۶،اور دوسرے سورۂ مجادلہ کی آیت ۲۲میں۔مائدہ اورمجادلہ ، دونوں مدنی سورتیں ہیں اور انقلاب کی جدوجہدکے زمانے میں نہیں، اُس کے برپا ہوجانے کے بہت بعداُس کی توسیع کے دور میں نازل ہوئی ہیں۔چنانچہ صاف واضح ہے کہ اُن میں حزب اللہ سے مراد کسی انقلابی جماعت کے ’’فدائین‘‘ہرگز نہیں ہوسکتے ۔ دوم یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اللہ اوراُس کے ساتھ سچی وفاداری ہی کی بنا پراہل ایمان کے لیے حزب اللہ کی تعبیر موزوں ہوئی اورآپ کے بعد بھی یقیناًاِسی بنا پر یہ اُن کے لیے موزوں قرار پائے گی۔ اللہ اوررسول کے ساتھ وفاداری کے سوا اب اہل ایمان کے مراتب قیامت تک کسی دوسرے معیار پرہرگز طے نہیں ہوسکتے ۔ چنانچہ ہر مسلمان کو مطمئن رہنا چاہیے کہ وہ اگر اللہ اوررسول کے ساتھ وفاداری کے عہد پرقائم ، اُن کی جماعت،یعنی امت مسلمہ میں شامل ، اُن کے دین اوراُس کی ضرورتوں کے لیے جذبۂ ایثار وقربانی سے سرشار ، اُن کے دشمنوں کا دشمن ، اوراُن کے ہر حکم کے معاملے میں، ’’سنو اورتعمیل کرو‘‘کی ہدایت کا پابنداوراُن کے ارشادکے مطابق مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہے تو یقینا، وہ حزب اللہ میں شامل ہے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اُسے ہر گز اِس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ لازماًنبوت کا دعویٰ کیے بغیر نبوت کے حقوق اپنے لیے خاص کرلینے والے کسی ’’داعی الی الحق ‘‘کا ’’فدائی ‘‘بنے اوراُس کی جماعت میں شامل ہو ، اوراپنا جذبۂ ایثار وقربانی اُس کی نذر کرے ، اوراُس کی جدوجہد سے اختلاف کے ’’مجرم ‘‘،اپنے مسلمان ماں باپ ، بیٹے ، بھائی اوربہن کو اپنا ذاتی دشمن سمجھے، اور اپنی رائے ، خودداری ، عزت نفس ، سب ’’سنو اور تعمیل کرو‘‘کے اصول پر قائم کسی مذہبی مافیا کے ’’امیر المومنین‘‘ کے قدموں پرنثار کردے ۔ سوم یہ کہ ڈاکٹر صاحب اپنی کارگہ اوہام کی تخلیق اِس ’’حزب اللہ ‘‘کے لیے یہ ’’فدائین ‘‘کی اصطلاح جو بار بار استعمال کررہے ہیں ، یہ قرآن وحدیث ، بلکہ اِس امت میں دعوت و عزیمت کی پوری تاریخ کے لیے ایک بالکل اجنبی چیز ہے ۔اہل علم جانتے ہیں کہ ہماری تاریخ میں اِس سے پہلے یہ اصطلاح اگر مستعمل رہی ہے تو قلعۂ الموت کے فرماں روا اورفرقۂ باطنیہ کے ’’شیخ الجبال‘‘ حسن بن صباح کے پیر و اُن جاں فروشوں کے لیے مستعمل رہی ہے جن کا پراسرار خنجر وقت کے ہر بادشاہ ، ہر وزیر اورہر عالم کے پاس اِس ہدایت کے ساتھ پہنچ جاتا تھا کہ اگر شیخ الجبال کی بات نہ مانی گئی توبلا تامل قتل کر دیے جاؤ گے ۔اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ’’سنو اورتعمیل کرو ‘‘ اور ’’اپنے باپ اور بیٹے اوربھائی اوربہن کو اپنا دشمن سمجھو ‘‘کے اصول پر قائم یہ ’’حزب اللہ ‘‘جسے ڈاکٹر صاحب قرآن مجید اورسیرت نبوی سے برآمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اِس کا ماخذ فی الواقع کہاں ہے ، اوریہ اگر خدانخواستہ کبھی اقدام کے مرحلے میں داخل ہوگئی تو اِس کے نہاں خانۂ’’الموت‘‘ سے کیا کچھ برآمد ہوسکتا ہے ۔چنانچہ دیکھ لیجیے، اِس کے ’’فدائین‘‘ کے لیے جوفرمان جدید ڈاکٹر صاحب کی بارگاہ انقلاب سے صادر ہوا ہے ،وہ یہ ہے :

’’جماعت المسلمین میں شامل جملہ مسلمانوں کے شریعت کے مطابق حقوق ادا کرتے ہوئے اپنی اصل محبت قلبی اورتعلق خاطر کوصرف اُن لوگوں کے دائرے میں محدود کردیں جواسلامی انقلاب کے لیے عملاًکوشاں ہوں اوراِس کے لیے جانی ومالی ایثار کررہے ہوں ۔بصورت دیگر نہ وہ ’’حزب اللہ ‘‘کے لیے کوالیفائی کرسکیں گے، نہ اسلامی انقلاب کی کٹھن منزل ہی کے سر ہونے کا کوئی امکان پیدا ہو گا۔‘‘(ندائے خلافت ،جلد۱، شمارہ ۳۷)

اپنے مضمون کے آخر میں، اُنھوں نے بیعت سمع وطاعت کے بارے میں ہمیں اپنے موقف پرغور کرنے کی دعوت دی ہے ۔اب سے پانچ سال پہلے ، غالباً۱۹۸۷ء میں اُن کی اِس بیعت کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ یہ محض افسانہ ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انقلاب کی جدوجہدکے لیے اِس طرح کی کوئی بیعت اپنے رفقا سے کبھی نہیں لی ۔اسلامی تاریخ میں یہ بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں پہلی مرتبہ اِس بیعت کا مطالبہ اہل یثرب سے کیا ، اوراُس وقت کیا جب اُنھوں نے آپ کو ام القریٰ سے ہجرت کرکے اپنی بستی کا اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی ۔ اِس کے جواب میں اُنھوں نے اِسی طرح کے کچھ دلائل پیش کیے تھے ، جیسے ریاست مدینہ کے بارے میں ابھی زیر بحث آچکے ہیں ۔تب ہم نے اپنے ایک مضمون میں اُن کا جواب دیا تو اُنھوں نے لکھا کہ وہ اِس موضوع پراب مزید کوئی بحث نہیں کرنا چاہتے، لہٰذا بات ختم ہوگئی، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اِس کہ بعد وہ فارغ نہیں بیٹھے، بلکہ برابر کسی دلیل کی تلاش میں رہے ۔چنانچہ اِس سعی وجہد کے نتیجے میں اب ایک ’’برہان قاطع‘‘ اُنھیں میسر آگئی ہے ۔ذرا ملاحظہ کیجیے ، وہ فرماتے ہیں کہ تمھیں ہماری اِس بیعت سے خواہ مخواہ متوحش نہیں ہونا چاہیے ،اِس لیے کہ :

’’کم از کم ایک فرد نوع بشرنے تو یہ بیعت خود آپ کے ہاتھ پربھی کی ہوئی ہے ۔ہماری مراد آپ کی اہلیہ صاحبہ محترمہ سے ہے جو’فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ‘ کی قرآنی نص کے مطابق آپ کی ’’اطاعت فی المعروف‘‘کی پابندہیں۔یہ دوسر ی بات ہے کہ وہ آپ کودلیل یا اپیل سے اپنی رائے کا قائل کر لیں۔‘‘ (ندائے خلافت، جلد ۱ ، شمار ہ ۴۰)

ڈاکٹر صاحب کو داد دیجیے ۔اُنھوں نے اِس مسئلہ میں ہمار ا اوراپنا اختلاف کس بلاغت کے ساتھ واضح کردیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پچھلے دس سال سے ہم اُن کی خدمت میں یہی عرض کررہے ہیں کہ اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے لیے اگر کو ئی تنظیم قائم کی جائے تو اُس کے قائد اور رفقا کا باہمی تعلق بھائیوں کا ہونا چاہیے ، اوروہ اِس بات پرمصر ہیں کہ وہ اُنھیں بیوی بنا کر رکھیں گے ۔ ڈاکٹر صاحب غور فرمائیں ، یہ اُنھو ں نے کیا فرمایا ہے ۔میر ی اہلیہ اگر میر ے معاملے میں شرعاً سمع وطاعت کا رویہ اختیار کیے رکھنے کی پابند ہیں تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ میں اُن کاشوہر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اُنھیں حکم دیا ہے کہ اپنے شوہر کی اطاعت کرو ۔’فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ ‘قرآن کی نص ہے۔ ڈاکٹرصاحب دین کے ماخذ سے اِس طرح کی کوئی نص انقلاب کی جدوجہدکرنے والی جماعت کے سربراہ کے لیے پیش کردیں تو سرافگندیم ، ہم اِس کے بعد ایک لفظ بھی نہ کہیں گے ، لیکن نص اگر شوہر کے لیے ہے ، باپ کے لیے ہے ، اللہ، اُس کے رسول اور اولی الامر کے لیے ہے تو اِس سے اُن کے لیے سمع وطاعت کا حق کس طر ح ثابت ہوجائے گا ، جبکہ حقیقت اِس کے بالکل برخلاف یہ ہے کہ خدا کے پیغمبر نے بھی اِس کا م کے لیے جب بیعت کا مطالبہ کیا تو جیساکہ ہم اپنے پہلے مضمون میں لکھ چکے ہیں ، بیعت سمع وطاعت کانہیں، بیعت اخوت کامطالبہ کیا اوراپنی قوم سے اِس معاملہ میں اگر کچھ کہا تویہ کہا کہ :

فایکم یبایعنی علی ان یکون اخی وصاحبی.( احمد،رقم ۱۳۷۱) ’’پھر تم میں سے کون مجھ سے یہ بیعت کرتا ہے کہ وہ اِس کا م میں میرا بھائی اور میرا ساتھی بن کر رہے گا ۔‘‘

بہرحال ، اُن کی یہ ’’برہان ‘‘فی الواقع ’’برہان قاطع ‘‘ہے ۔اِس میں کیاشبہ ہے کہ یہ طرزاستدلال، یہ صغریٰ کبریٰ، یہ حداوسط، ہم فقیروں کے نصیب میں کہاں !حق پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ اب قلم اِس اعتراف کے ساتھ رکھ دیا جائے کہ :

اُنھی کا کا م ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

۱۹۹۳ء