ریاست مدینہ سے متعلق یہ قرآن مجید، سیرت نبوی اور فقہ اسلامی کے حقائق ہیں ۔ اِنھیں سامنے رکھیے اور اِس کے بعد آئیے اب اُن دلیلوں کا جائزہ لیں جو اِن سب سے قطع نظر کر کے تاریخ کی اِس مسلمہ حقیقت کو جھٹلا دینے کے لیے ہمارے ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں پیش فرمائی ہیں ۔ اُن کی پہلی دلیل یہ ہے کہ شوال ۳ ہجری میں غزوۂ احد کے موقع پر عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر عین میدان جنگ سے واپس ہو گیا۔ اِسی طرح ۶ ہجری میں مدینہ اور اُس کے اطراف کے کچھ لوگ اِس اندیشے سے آپ کے ساتھ عمرہ کے لیے نہیں نکلے کہ اُن کے نزدیک اِس سفر میں آپ اور آپ کے ساتھی گویا موت کے منہ میں جا رہے تھے ، لیکن آپ نے اُن کو کوئی سزا نہیں دی ، دراں حالیکہ اُس وقت اگر کوئی باقاعدہ حکومت مدینہ میں قائم ہوتی تو عبد اللہ بن ابی اور اُس کے ساتھیوں کا کورٹ مارشل ہوتا اور اُن دوسرے لوگوں کو بھی لازماً کوئی سزا دی جاتی جو عمرہ کے اِس سفر میں پیچھے رہ گئے تھے ۔ چنانچہ یہ محض مغالطہ ہے جو بعض لوگوں کو معلوم نہیں ، کس طرح لاحق ہو گیا ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں کوئی حکومت قائم ہوئی تھی اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اِس حکومت کے امام و فرماں روا تھے ۔ اس دلیل کو دیکھیے، اِس پر اب اُن کی خدمت میں کیا عرض کیا جائے ۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ نفیر عام کے موقع پر جہادوقتال میں شرکت سے گریز اخروی نتائج کے لحاظ سے تو بلاشبہ ایک سنگین جرم ہے اور کسی مسلمان سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ کسی حال میں بھی اِس کا ارتکاب کرے گا ، لیکن اسلام میں اِس پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ریاست مدینہ کے حکمران کی حیثیت سے اُس کا نفاذ ضروری تھا اور یہ جب نافذ نہیں ہوئی تو اِس ریاست کا وجود ہی ثابت نہیں رہا ۔ اُن کے لیے تو یہ غالباً انکشاف ہو گا ، لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ اِس پر کسی حد کا ہونا تو ایک طرف ، اسلامی شریعت میں یہ سرے سے کوئی جرم مستلزم سزا یا قانون کی زبان میں قابل دست اندازی حکومت جرم (cognizable) ہی نہیں ہے کہ اِس پر کسی شخص کو کوئی سزا دی جا سکے ، لہٰذا کسی غزوہ کے موقع پر اگر کچھ لوگ جنگ میں شامل نہیں ہوئے یا عمرہ کے لیے آپ کے ساتھ نہیں نکلے تو دنیا کی حکومتیں جو چاہیں کریں، اسلام کے ضابطۂ حدود و تعزیرات میں اِس کے لیے کوئی گنجایش نہ تھی کہ آپ اُنھیں کوئی سزا دے سکتے ۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی غلط فہمی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہلال بن امیہ ، مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک کے تساہل پر اُن کے مقاطعہ کو وہ کوئی قانونی سزا سمجھتے ہیں جو اِس جرم کی پاداش میں سربراہ حکومت کی طرف سے اُن پر نافذ کی گئی ۔ وہ سورۂ توبہ کی آیات ۱۰۶ اور ۱۱۸ پڑھیں ، قرآن مجید اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اِن تینوں حضرات کا مقدمہ آسمان کی عدالت میں پیش ہوا، اِس کا فیصلہ بھی وہیں سے صادر ہوا، یہ سزا اُنھیں پروردگار عالم نے دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے اسلامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں، بلکہ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے اُن پر نافذ کیا، اِس سے اُن کی رہائی کا فیصلہ بھی آں سوئے افلاک کی اِسی عدالت سے سنایا گیا اور اُنھیں بشارت دی گئی کہ اُن کی توبہ قبول ہوئی، اور اب آخرت میں اُن کے اِس جرم پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اِس کے لیے اُسی طرح مامور تھے ، جس طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش مکہ کے شرائط مان لینے کے لیے مامور تھے ۔ چنانچہ کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یہ معافی آپ کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے تو آپ نے فرمایا : خدا کی طرف سے۔۴؂ سورۂ توبہ کی یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کے اِسی فیصلے کا بیان ہیں:

وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰیٓ اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوْبُوْا، اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ.(۹:۱۱۸) ’’اور اُن تینوں کو بھی اللہ نے معاف کیا جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعتوں کے باوجود اُن پر تنگ ہو گئی اور اُن کی جانیں اُن پر بار ہونے لگیں اور اُنھوں نے جان لیا کہ خدا سے خدا کے سوا کہیں کوئی مفر نہیں ہے تو اللہ نے اُن پر نظر عنایت کی تاکہ وہ توبہ کریں۔بے شک، اللہ ہی ہے جو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ ‘‘

تاہم اِس میں شبہ نہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر عبد اللہ بن ابی اور اُس کے ساتھی چونکہ عین میدان جنگ سے واپس ہوئے تھے ، اِس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو اِس پر کچھ مواخذہ کر سکتے تھے ، لیکن قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ نظم اجتماعی کے مصالح کی رعایت اور اِن منافقوں پر اتمام حجت کی غرض سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ اِس معاملے میں بھی عفو و درگزر ہی کا رویہ اختیار کیا جائے، اِن کے لیے استغفار کی جائے اور ریاست و حکومت کے معاملات میں حسب سابق اِنھیں شریک مشورہ رکھا جائے ۔ سورۂ آل عمران میں ہے کہ اِن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ، وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ.(۳:۱۵۹) ’’یہ اللہ کی عنایت ہے کہ تم اِن کے لیے نرم خو ہو۔ تم اگر درشت خو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمھارے پاس سے منتشر ہو جاتے۔ اِس لیے اب بھی اِن سے درگزر کرو، اِن کے لیے مغفرت چاہو اور نظم اجتماعی کے معاملے میں اِن سے مشورہ لیتے رہو ۔ ‘‘

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’عام افراد کی طرح ارباب اقتدار و سیاست کے لیے بھی پسندیدہ روش نرمی و چشم پوشی ہی کی روش ہے۔ اِس سے افراد میں حسن ظن اور اعتماد پیدا ہوتا ہے جس سے اجتماعی نظام میں وحدت، قوت اور استحکام کی برکتیں ظہور میں آتی ہیں۔ سختی اور سخت گیری اِس کی فطرت میں نہیں، بلکہ اِس کے عوارض میں سے ہے ۔ جس طرح صحت کے لیے اصل شے غذا ہے، لیکن کبھی کبھی کسی مرض کے علاج کے لیے دوا کی بھی ضرورت پیش آ جاتی ہے ، اِسی طرح اجتماعی نظام میں اصل چیز نرمی ہے ، سختی کبھی کبھی ضرورت کے تحت اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ ‘‘(تدبر قرآن ۲/۲۱۰)

اِس سے واضح ہے کہ یہ اِس نوعیت کی کوئی بے بسی نہ تھی کہ آپ کا اقتدار چونکہ ابھی اِن پر قائم نہ ہوا تھا، اِس وجہ سے آپ کے لیے اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، بلکہ چشم پوشی اور مسامحت تھی اور اِس لیے تھی کہ دین و شریعت اور ریاست و حکومت کی مصلحت کا تقاضا اُس وقت یہی تھا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اِن کے معاملے میں یہی رویہ اختیار کریں ۔ اُن کی دوسری دلیل یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی کی ساری شرارتوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود، جبکہ سیدہ عائشہ پر تہمت کے معاملے میں اُس کی فتنہ پردازی کے نتیجے میں حضور یہاں تک کہہ اٹھے کہ : لوگو، کون ہے جو اِس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزامات لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کر دی ہے ، آپ کے لیے ممکن نہ ہوا کہ اُس کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں ۔ پھر کیا یہ حکومت ہے ؟ اور کیا کوئی حکمران ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے ایک بدترین مخالف کے مقابلے میں اِس طرح بے بس ہو جائے ؟ ہمارا خیال ہے کہ یہ غالباً افتاد طبع ہی کا مسئلہ ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب حکومت اور مسامحت کو ایک جگہ جمع نہیں دیکھ سکتے۔ اِن دونوں کا اجتماع اُن کے نزدیک ہر حال میں اجتماع نقیضین ہے۔ چنانچہ اپنی اِن دلیلوں میں جہاں دیکھیے،وہ اِسی بات پر مصر نظر آتے ہیں کہ اگر حکومت ہے تو مسامحت اور عفو و درگزر کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی اور اگر مسامحت اور درگزر ہے تو حکومت کسی حال میں نہیں مانی جا سکتی ۔ عبداللہ بن ابی کی ایذا رسانیوں اور شرارتوں کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا رویہ کیوں اختیار کیا اور اُسے کوئی سزا کیوں نہیں دی ؟ یہ حقیقت ہے کہ اُس کے حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد سیاسی معاملات کی نزاکتوں سے واقف ہر شخص اِسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مسلمانوں کی جمعیت اور ریاست مدینہ کے نظم اجتماعی کو تفرقہ و انتشار سے بچانے کے لیے حکومت و اقتدار کے باوجود قرین مصلحت رویہ یہی تھا کہ اُس کے خلاف کسی کارروائی سے اجتناب کیا جائے ۔ اِس کا اندازہ اِس سے کیجیے کہ ام المومنین ، سیدہ عائشہ پر تہمت کے معاملے میں ایک مجلس کی جو روداد خود سیدہ ہی کی روایت سے بیان ہوئی ہے ، اُس میں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ کہا کہ : لوگو، کون ہے جو اِس شخص کے حملوں سے میری عزت بچائے جس نے میرے گھر والوں پر الزامات لگا کر مجھے اذیت پہنچانے کی حد کر دی ہے ، تو سعد بن معاذ نے اٹھ کر عرض کیا: ’’یا رسول اللہ ، اگر وہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے تو ہم اُس کی گردن مار دیں اور اگر ہمارے بھائی خزرجیوں میں سے ہے تو آپ حکم دیں ، ہم اُس کی تعمیل کریں گے ۔‘‘ یہ سنتے ہی سعد بن عبادہ، رئیس خزرج اٹھ کھڑے ہوئے اور اُنھوں نے کہا: ’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ تم اُسے ہرگز نہیں مار سکتے۔ تم اُس کو مارنے کا نام صرف اِس لیے لے رہے ہو کہ وہ خزرجی ہے ۔ وہ اگر تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی یہ نہ کہتے ۔‘‘ اِس کے جواب میں اسید بن حضیر نے کہا : ’’تم منافق ہو، اِس لیے منافقوں کی حمایت کر رہے ہو۔‘‘ اُن کی اِس بات پر مسجد میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج آپس میں لڑ پڑتے ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ٹھنڈا کیا اور منبر سے اتر آئے ۔ ۵؂ یہ عبد اللہ بن ابی کی سیاسی حیثیت اور اُس کے خلاف کسی اقدام کے نتائج و عواقب تھے ۔ ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس موقع پر خاموش ہو گئے تو یہ اختیار و اقتدار کے نہ ہونے کی مجبوری نہ تھی، بلکہ ایک قبائلی معاشرے میں قائم حکومت کے سربراہ کا تحمل، تدبر، مصلحت اندیشی اور حکمت تھی کہ آپ نے جذبات سے مغلوب ہو کر اُس کے خلاف کسی اقدام کا فیصلہ کرنے کے بجائے چشم پوشی اور مسامحت کا رویہ اختیار کیا۔ چنانچہ غزوۂ بنی مصطلق سے واپسی پر جب یہ اپنے بیٹے کے ہاتھوں ذلیل ہوا تو اِس کے بارے میں اپنے طرز عمل کی آپ نے خود یہی مصلحت بیان کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

’’عمر، کیا خیال ہے ، جس وقت تم اِس کے قتل کی اجازت مانگ رہے تھے ، اُس وقت اگر تم اِسے قتل کر دیتے تو اِس پر بہت سی ناکیں پھڑکنے لگتیں، لیکن آج اگر میں اِس کے قتل کا حکم دوں تو اِسے قتل تک کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ۶؂

ہمارے ڈاکٹر صاحب اِس سے ریاست مدینہ کا عدم وجود ثابت کر رہے ہیں ، لیکن دین کا ایک جید عالم ، اِس طرز عمل سے دیکھیے، اسلامی ریاست کے لیے کیا اصول اخذ کرتا ہے ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی اپنی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’ اِس سے دو اہم شرعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ ایک یہ کہ جو طرز عمل ا بن ابی نے اختیار کیا تھا، اگر کوئی شخص مسلم ملت میں رہتے ہوئے اِس طرح کا رویہ اختیار کرے تو وہ قتل کا مستحق ہے ۔ دوسرے یہ کہ محض قانوناً کسی شخص کے مستحق قتل ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرور اُسے قتل ہی کر دیا جائے ۔ ایسے کسی فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اُس کا قتل کسی عظیم تر فتنے کا موجب تو نہ بن جائے گا ۔ حالات سے آنکھیں بند کر کے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض اوقات اُس مقصد کے خلاف بالکل الٹا نتیجہ پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگر ایک منافق اور مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہو تو اُسے سزا دے کر مزید فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اُس اصل سیاسی طاقت کا استیصال کر دیا جائے جس کے بل پر وہ شرارت کر رہا ہو ۔ یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر حضور نے عبد اللہ بن ابی کو اُس وقت بھی سزا نہ دی ، جب آپ اُسے سزا دینے پر قادر تھے ، بلکہ اُس کے ساتھ برابر نرمی کا سلوک کرتے رہے ، یہاں تک کہ دو تین سال کے اندر مدینہ میں منافقین کا زور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔‘‘ (۵/۵۱۴۔۵۱۵)

اُن کی تیسری دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر سے پہلے مختلف سرایا و غزوات میں انصار سے کوئی خدمت نہیں لی اور غزوۂ بدر کے موقع پر بھی خود انصار ہی کی طرف سے تعاون کی پیش کش کے منتظر رہے ، جبکہ مہاجرین اِن سب مہمات میں شامل ہوئے اور آپ نے اُن کو شامل رکھا۔ لہٰذا یہ اگر کوئی حکومت ہوتی تو مہاجرین و انصار کے مابین اِس طرح کا کوئی فرق ہرگز روا نہ رکھا جاتا اور جس سے جو خدمت بھی لی جاتی بالکل یکساں اور برابر کی سطح پر لی جاتی ۔ ڈاکٹر صاحب اجازت دیں تو ہم اُن سے یہ پوچھنے کی جسارت کریں کہ یہ قاعدۂ کلیہ علم سیاست کی کس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ فوجی خدمات کے معاملے میں کوئی حکومت اپنے شہریوں کے مابین کسی قسم کا کوئی فرق روا نہیں رکھتی ،اور اگر کسی جگہ یہ فرق موجود ہو تو حکومت کا وجود ہی ثابت قرار نہیں پاتا؟ حقیقت یہ ہے کہ اُن کا یہ مقدمہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ دوسری حکومتوں کے معاملات تو ہم ابھی آگے زیر بحث لائیں گے ، لیکن جہاں تک اسلامی حکومت کاتعلق ہے ، اُس کے بارے میں تو ہر صاحب علم جانتا ہے کہ جس شریعت پر وہ قائم ہوتی ہے ، اُس میں جہادوقتال چونکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہی نہیں ، ایک مذہبی فریضہ بھی ہے ، اِس وجہ سے اِس حکومت کے غیر مسلم شہری اُس کی رو سے فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہیں ۔ دفاع مملکت کے لیے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی وقت اپنی خدمات پیش کریں اور وہ قبول کر لی جائیں ، لیکن جہاد اگردفاع سے آگے غلبۂ حق کے لیے ہو تو اُس میں ظاہر ہے کہ کسی غیر مسلم کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی جا سکتی ۔ پھر معاملہ صرف غیر مسلموں ہی کا نہیں ، غزوۂ تبوک کے موقع پر تو ڈاکٹر صاحب بھی مانتے ہیں کہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی ، لیکن ہر صاحب علم جانتا ہے کہ وہ منافقین جو اُس میں شریک نہیں ہوئے، قانون کے لحاظ سے وہ اگرچہ اِس ریاست کے مسلمان شہری تھے ، مگر قرآن نے حکم دیا کہ وہ اب آیندہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں ہو سکتے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

فَاسْتَاْذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ، فَقُلْ: لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا، اِنَّکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ.(التوبہ ۹: ۸۳) ’’پھر وہ تم سے جہاد میں نکلنے کی اجازت مانگیں تو صاف کہہ دینا کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو ۔ تم نے پہلے بیٹھ رہنا پسند کیا تو اب بھی بیٹھ رہنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو۔ ‘‘

چنانچہ انصار مدینہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اگر اُن کے نو مسلمان ہونے کی وجہ سے ایمان و اسلام میں ضروری تربیت سے پہلے قتال کی اجازت نہیں دی تو یہ دین و شریعت کے فہم کا کوئی اچھا نمونہ نہیں ہے کہ اِس سے ریاست مدینہ کے وجود ہی کی نفی کر دی جائے ۔ ڈاکٹر صاحب اگر صحیح پہلو سے غور کرتے تو اُن پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ اِس سے اُن کا موقف نہیں، بلکہ حکمت تشریع کا یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ قیام حکومت کے بعد بھی سوسائٹی کے مختلف طبقات پر دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اُن کے حالات کے لحاظ سے ڈالنا چاہیے ۔ جہاد و قتال کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت اِسی حکمت کے ساتھ نازل کی، لہٰذا ریاست مدینہ کے تمام مسلمان شہریوں کو قتال کا حکم ہجرت کے کم و بیش ڈیڑھ سال بعد رجب یا شعبان۲ ہجری میں دیا گیا ۔ قرآن مجید میں یہ حکم سورۂ بقرہ کی آیت ۱۹۰ میں آیا ہے ۔ اِس سے پہلے اذن قتال کا جو حکم سورۂ حج کی آیات ۳۹، ۴۰ میں نازل ہوا، اُس میں دیکھ لیجیے ،صاف فرمایا ہے کہ یہ صرف اُن مہاجرین کے ساتھ خاص ہے جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے ہیں ۔ اِس صورت حال میں ، ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس بات کی اجازت ہی نہیں تھی کہ آپ انصار مدینہ کو اُس زمانے میں کسی سریے پر بھیجتے یا کسی غزوے میں ساتھ لے جاتے ۔ ارشاد ہوا ہے :

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُنِ، الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ. (الحج ۲۲: ۳۹۔۴۰) ’’جن لوگوں سے لڑا جائے ، اُنھیں جنگ کی اجازت دی گئی، اِس لیے کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناًاُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے ، وہی جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے ، صرف اِس قصور پر کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ ‘‘

اُن کی چوتھی دلیل یہ ہے کہ مدینہ میں خود قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی اپنی عدالتیں قائم تھیں اور لوگوں کو اِس بات کا اختیار تھا کہ چاہیں تو اپنے مقدمات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کریں اور چاہیں تو یہودیوں کی عدالتوں میں لے جائیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اِن کے مقدمات لینے یا نہ لینے کی اجازت اللہ نے دے رکھی تھی ۔ پھر کیا اس صورت حال میں یہ مانا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ حکومت تھی؟ اور کیا کوئی حکومت ایسی بھی ہو سکتی ہے جس میں شہریوں کو اِس طرح کے اختیارات حاصل ہوں اور جس میں خود سربراہ مملکت کے لیے یہ بات روا رکھی جائے کہ وہ اگر چاہے تو اُن کے مقدمات سننے سے انکار کر دے ؟ ڈاکٹر صاحب ہمارے بزرگ ہیں ۔ سوء ادب نہ ہو تو ہم اُن کی خدمت میں عرض کریں کہ اُن کی اِس دلیل سے اُن کا موقف تو کیا ثابت ہوتا، یہ بات البتہ ، ثابت ہو گئی ہے کہ اسلامی شریعت اور اُس کے علوم و معارف سے اُن کی اجنبیت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے ، اُس میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ وہ شاید اِس بات سے واقف نہیں ہیں کہ شریعت کی رو سے یہ حق اسلامی حکومت کے غیر مسلم شہریوں کو ہر جگہ اور ہر زمانے میں دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دینی اور شخصی معاملات سے متعلق مقدمات کے لیے اپنی عدالتیں اپنے اہتمام میں قائم کر سکتے ہیں ، اور یہ قانون بنایا جا سکتا ہے کہ اِن عدالتوں کی موجودگی میں، اگر اپنا کوئی مقدمہ وہ مسلمان امرا و حکام کے سامنے پیش کریں تو اِس مقدمے کو لینے یا نہ لینے کا فیصلہ یہ امرا و حکام اپنی صواب دید کے مطابق کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ سید سابق ’’فقہ السنہ‘‘ میں لکھتے ہیں :

اما ما یتصل بالشعائر الدینیۃ من عقائد وعبادات، وما یتصل بالاسری من زواج وطلاق، فلھم فیھا الحریۃ المطلقۃ تبعا للقاعدۃ الفقھیۃ المقررۃ: ’’اترکوھم وما یدینون‘‘. وان تحاکموا الینا فلنا ان نحکم لھم بمقتضی الاسلام او نرفض ذلک.(۳/۶۵) ’’رہے وہ معاملات جو عقائد و عبادات کی نوعیت کے دینی شعائر یا نکاح و طلاق کی قسم کے عائلی مسائل سے متعلق ہیں تو اُن میں اُنھیں پوری آزادی حاصل رہے گی۔ اِس کی بنیاد فقہ اسلامی کا یہ قاعدہ ہے کہ اُن کے دینی معاملات میں کسی نوعیت کی کوئی مداخلت نہ کی جائے ۔ تاہم، وہ اگر کوئی مقدمہ ہمارے پاس لے کر آئیں گے تو ہمیں حق ہے کہ چاہیں تو اپنی شریعت کے مطابق اُس کا فیصلہ کر دیں اور چاہیں تو یہ مقدمہ لینے سے انکار کر دیں ۔‘‘

چنانچہ یہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے کہ صرف عہد رسالت ہی میں نہیں ، اُس کے بعد بھی مسلمانوں نے اپنی حکومتوں میں غیر مسلم رعایا کے لیے بالعموم یہی طریقہ اختیار کیا۔ اِس کی تفصیلات تاریخ کی امہات کتب میں دیکھ لی جا سکتی ہیں ۔ پھر یہ معاملہ صرف اہل کتاب ہی کے ساتھ خاص نہیں رہا۔ محمد بن قاسم کے بارے میں تمام مورخین متفق ہیں کہ اُس نے سندھ اور ملتان کی فتح کے بعد ہندووں کی عدالتیں بہ دستور قائم رہنے دیں ۔ ترکوں کے متعلق بھی معلوم ہے کہ اُنھوں نے روسیوں اور یونانیوں کو اپنی سلطنت میں یہی مراعات دیں ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ اپنی کتاب ’’عہد نبوی میں نظام حکمرانی‘‘کے مضمون ’’قرآنی تصور مملکت‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’آنحضرت کا یہ طرز عمل بعد میں مستقل قانون بن گیا کہ غیر مسلم رعایا اور مستامنوں سے اُن کا شخصی قانون ہی متعلق ہو اور اِس غرض کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں ۔ چنانچہ خلافت راشدہ میں اِس چیز نے خاصی ترقی کر لی تھی اور اِن ملی عدالتوں کے حکام بھی ہم ملت ہی مقرر ہوتے تھے۔‘‘(۱۵۶

اِسی ضمن میں اُنھوں نے ’’فرانسیسی قاموس تاریخ و جغرافیۂ کلیسا‘‘ سے کارالف سسکی کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں وہ کہتاہے :

’’مسلمانوں کی سب سے اہم جدت جس کا یعقوبی عیسائیوں نے دلی خوشی سے استقبال کیا ، یہ تھی کہ ہر مذہب کے پیرووں کو ایک خود مختار وحدت قرار دیا جائے اور اُسی مذہب کے روحانی سرداروں کو ایک بڑی تعداد میں دنیاوی اور عدالتی اقتدارات عطا کیے جائیں ۔ ‘‘ (۱۵۷)

اب رہی یہ بات کہ ریاست مدینہ میں مسلمان بھی اپنے مقدمات یہود کی عدالتوں میں لے جانے کا اختیار رکھتے تھے تو یہ ڈاکٹر صاحب کی غلط فہمی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ ابتدا میں کچھ منافقین اِس جرم کے مرتکب ہوئے ، لیکن قرآن مجید نے اُنھیں صاف بتا دیا کہ یہ منافقت ہے اور اِس وقت اگرچہ اس معاملے میں پیغمبر کو اعراض کی ہدایت ہے ، مگر اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اِس ’’تحاکم الی الطاغوت‘‘ کے ساتھ وہ مسلمان قرار نہیں پا سکتے ۔ قرآن مجید کے اِس صریح ارشاد کے بعد ظاہر ہے کہ اِس ریاست کا کوئی مسلمان شہری یہ حرکت نہیں کر سکتا تھا۔ سورۂ نساء کی آیات ۵۹ سے ۶۵، اِسی معاملے کی تفصیل میں نازل ہوئی ہیں۔ اِنھیں دیکھیے، اِن کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآءُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا. فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا. (۴:۶۴۔۶۵) ’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ، اِسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔ اور وہ جب اپنی جانوں پر یہ ظلم کر بیٹھے تھے ، اُس وقت اگر تمھارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی اُن کے لیے معافی چاہتا تو یقیناًاللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان پاتے۔ پس نہیں، اے پیغمبر، تیرے پروردگار کی قسم ، یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اختلافات میں تمھی کو حکم نہ مانیں اور جو کچھ تم فیصلہ کر دو ، اُس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر اُسے سر تا سر تسلیم نہ کر لیں ۔ ‘‘

اِس دلیل کی حقیقت یہ ہے ، لیکن کیا بعید ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب اب یہ فرمائیں کہ خلافت راشدہ، امویہ ، عباسیہ اور عثمانیہ میں بھی غیر مسلموں کی عدالتیں اگر اِس طرح قائم تھیں تو یہ بھی درحقیقت ، کوئی حکومت نہیں،بلکہ اپنے دور کی انقلابی جماعتیں تھیں جنھیں یہ اہل دنیا معلوم نہیں کس طرح حکومتیں، ریاستیں اور سلطنتیں سمجھتے ہیں اور اِس طرح ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں ’’تاریخی حقائق ‘‘کا منہ چڑاتے ہیں ۔ یہ ڈاکٹر صاحب کے دلائل کی کل کائنات ہے جو اُنھوں نے ایک ایسی حقیقت کو جھٹلانے کے لیے پیش فرمائے ہیں جس کی شہادت ، جیسا کہ ہم اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں ، قرآن مجید، سیرت نبوی اورائمۂ فقہ و اجتہاد پوری صراحت کے ساتھ دیتے ہیں اورجس کے بارے میں پورے اطمینان کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اِس امت کی تاریخ میں کوئی ایک صاحب علم بھی ایسا نہیں ہے جس نے کبھی اِس کا انکار کیا ہو ، بلکہ اِس کے بالکل برعکس تفسیر ، حدیث ، فقہ ، تاریخ اورسیرت سے متعلق سارے اسلامی لٹریچر میں اِس کا ذکر جہاں کہیں ہوتا ہے، ایک ایسی حقیقت کے طور پر ہوتا ہے جو کبھی متنازع فیہ نہیں رہی ۔ بہرحال یہی دلائل ہیں ۔ دین وشریعت کے نقطۂ نظر سے اِن کا جائزہ ہم نے پور ی تفصیل کے ساتھ پیش کردیا ہے ۔ اب ذرا ریاست وحکومت سے متعلق اپنے گرد و پیش کے حقائق کی روشنی میں بھی دیکھیے کہ ڈاکٹر صاحب کے یہ دلائل کیا وزن رکھتے ہیں ۔ اپنے ہم سایے ہی میں دیکھیے: یہ افغانستان کی حکومت جو ’’معاہدۂ پشاور ‘‘کے نتیجے میں قائم ہوئی اور پروفیسر صبغت اللہ مجددی کے بعد جس کے صد ر اب پروفیسر برہان الدین ربانی ہیں ، اِس کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ یہ بالفعل اپنے دارالحکومت میں بھی اپنا حکم ابھی پور ی طرح منوالینے پر قادر نہیں ہوسکی ۔ اِسے کابل سے باہر نکلنے کے لیے بھی مہینوں ’’حزب اسلامی‘‘ کے رہنما گلبدین حکمت یار کے پروانۂ راہ داری کا محتا ج رہنا پڑا ہے ۔اِس کے دائر ۂ اختیار میں شامل بہت سے علاقوں پر ابھی تک اِس کا حکم مقامی کمانڈروں کی صواب دید کا پابند ہے۔یہ ابھی تک اپنی فوج ، پولیس ،عدلیہ، مقننہ اور اِس طرح کے دوسرے ادارے بھی پورے ملک کی سطح پر منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اِس کی اساس ایک معاہدے پر قائم ہے اوریہ ابھی تک اپنے لیے کسی مستقل نظام کا فیصلہ بھی نہیں کر سکی۔ لیکن اِس کے باوجود دیکھ لیجیے، پوری دنیا اِسے ایک باقاعدہ حکومت کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے ۔ اِس کے سربراہ ہمارے ہاں آتے ہیں توہم اپنے ضابطۂ تشریفات کے مطابق اُنھیں صدرریاست کا پروٹوکول دیتے ہیں ۔بین الاقوامی اجتماعات اور اداروں میں اِس کے نمائندے ایک باقاعدہ حکومت کے نمائندوں کی حیثیت سے شامل ہوتے ہیں اور اِس کے سفیر دوسرے ملکوں میں ایک باقاعدہ حکومت کے سفیروں کی حیثیت سے قبول کیے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر جگہ اورہر لحاظ سے یہ ایک حکومت تسلیم کی جاتی ہے اور پوری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اِس وقت اِس حیثیت سے اِس کے وجود کا انکار نہیں کرتا ۔ اِس کے بعد دیکھیے، دوسر ی جنگ عظیم میں جاپان کو شکست ہوئی تو اُس پر فاتحین کی طرف سے یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی کوئی فوج نہیں رکھ سکتا۔ ۱۸۵۶ء تک برصغیر میں کمپنی کی حکومت اپنے کسی ہندوستانی سپاہی کو سمندر پار بھیجنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔ برطانوی ہند میں بھوپال، حیدرآباد اوربہاول پور کی ریاستوں سے ہم سب واقف ہیں۔ اِس طر ح کی دسیوں ریاستیں اُس وقت برصغیر میں موجود تھیں، مگر بین الاقوامی تعلقات اورصلح و جنگ کے معاملات میں آزادی تو خیر بڑی بات ہے ، اپنے اندرونی معاملات میں بھی فی الواقع کہاں تک آزاد تھیں ، اِسے ہر شخص جانتاہے ۔ خود ہمارے ملک میں آزاد کشمیر کی حکومت اِس وقت اِسی حیثیت سے قائم ہے۔ لیکن کیا کسی شخص نے کبھی یہ کہا ہے کہ اِس صورت حال میں اُنھیں حکومت ہی نہیں مانا جاسکتا ؟ اِسی طرح دیکھیے، یہ ریاست پاکستان جو۱۴اگست ۱۹۴۷ سے ایک باقاعدہ حکومت کی حیثیت سے قائم ہے ، اِس کے بارے میں ہم اِس بات سے واقف ہیں کہ اِس کے حدود مملکت میں سیکڑوں مربع میل پرپھیلے ہوئے قبائلی علاقے میں اِس کی انتظامیہ وہاں کے مقامی سرداروں کے ذریعے سے اپنے اختیارات استعمال کرتی ہے۔ اِس کی سپریم کورٹ تک کا حکم وہاں کے باشندوں پر لاگو نہیں ہوتا ۔ اِس کا کوئی مجرم کسی شخص کو قتل کرکے ، کسی کے گھر میں ڈاکا ڈال کر، کسی عورت یا مرد کو اغوا کرکے وہاں چلا جائے تو اُسے عام طریقے پرگرفتار نہیں کیا جاسکتا ۔ اِس علاقے کی یہ حیثیت ہمارے دستور میں پوری صراحت کے ساتھ مانی گئی ہے ،لیکن اِس کے باوجود حکومت پاکستان بہرحال حکومت ہی ہے اوراُس کی اِس حیثیت کے بارے میں کسی شخص کو کبھی کو ئی تردد لاحق نہیں ہوتا ۔ پھر دیکھیے،جی ایم سیداِسی حکومت کے ایک شہر ی ہیں۔وہ برملا ریاست پاکستان کو توڑدینے کے منصوبے بناتے اوراپنے اِن منصوبوں کااعلان کرتے ہیں ۔اُن کے عزائم کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اُن کی باتیں صرف باتیں ہی نہیں، اُن کی تحریروں کی صورت میں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ہرشخص مانے گا کہ اُن کایہ جرم انتہائی سنگین ہے اوراِس کی پاداش میں ریاست اُنھیں سخت سے سخت سزا دے سکتی ہے ۔مگر دیکھ لیجیے ، اِس ملک کی حکومتیں اُن کے معاملے میں کس طرح چشم پوشی اورمسامحت کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں،اورکوئی نہیں کہتا کہ اِس کے نتیجے میں ریاست پاکستان اب کوئی باقاعدہ حکومت نہیں رہی ۔ یہ سب اِس دور کے حقائق ہیں ۔ذرا تصور کیجیے کہ ریاست مدینہ کی نفی کے لیے جو منطق ڈاکٹر صاحب نے ایجاد فرمائی ہے ، اُسے مستعار لے کراگر کوئی شخص یہ حقائق لوگوں کے سامنے رکھے اوراِس کے بعد اُن سے یہ کہے کہ تم اِنھیں حکومت سمجھتے ہو ، کیا کوئی حکومت ایسی اورایسی بھی ہوتی ہے ؟ اِس لیے سنو،اورگوش حق نیوش سے سنو کہ جو شخص اِنھیں حکومت قرار دیتا ہے ،وہ ’’خیال خام‘‘ میں مبتلا اور’’تاریخی حقائق‘‘کا منہ چڑاتا ہے تو اندازہ کرلیجیے کہ لوگ اُس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے ، مگر ڈاکٹرصاحب کو داد دیجیے کہ یہی کا م کرکے اُنھوں نے اعلان فرمایا ہے کہ اپنے موقف سے اختلاف کرنے والوں کے ہر ’’بارود‘‘ کواُنھوں نے ’’برادہ ‘‘بنا دیا ہے ۔ بات لمبی ہوگئی ۔ ہمارا یہ مضمون اِس کا متحمل نہ ہوگا ،ورنہ دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں نے اپنے قیام سے استحکام تک جومراحل طے کیے ، جونشیب وفراز دیکھے او راستحکام کے بعد بھی اپنی مصلحتوں کے پیش نظر جن مستثنیات کووہ اپنے نظام میں قائم رکھنے پر مجبور رہی ہیں ، اُن کی پور ی تاریخ ہم یہاں سنا دیتے ، لیکن ہمارا خیال ہے کہ اثبات مدعا کے لیے یہی چند مثالیں کافی ہیں۔ اِنھی کی روشنی میں دیکھ لیجیے کہ ڈاکٹر صاحب کس اہرا م کوڈھانے کے لیے کیا سنگ ریزے نکال کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ دین وشریعت کو اُن کے غوامض میں اتر کر پڑھنا اورسمجھنا تو خیر ایک مشکل کام ہے ہی ، اِن دلیلوں سے تو معلوم ہوا کہ اپنے گردوپیش کی حقیقتوں کودیکھنا اور تھوڑی دیر کے لیے اُن پر غور کرلینا بھی غالباًشب وروز کی ’’انقلابی مصروفیات ‘‘میں اب اُن کے لیے ممکن نہیں رہا۔ بہرحال،اِس کے بعدوہ آگے بڑھے ۔ غلۂہ دین کے لیے جہادوقتال سے متعلق ایک پیرا ہمارے مضمون سے لیا۔ اُس سے وہ جملے جو ہمارے مدعا کی وضاحت کرسکتے تھے ، کمال دیانت کے ساتھ الگ کیے۔ اُسے اپنے مضمون میں نقل کیا اورپھر فرمایا ہے کہ دیکھو ، اِس میں جوکچھ تم نے کہا ہے ، اُس سے ’’جس کی لاٹھی ، اُس کی بھینس‘‘کی تعریض خود تمھی پر لوٹتی اورتمھارا موقف باطل قرارپاتا ہے کہ اسلامی انقلاب کا لائحۂ عمل دعوت اورصرف دعوت ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا المیہ یہ ہے کہ اُن پرکوئی شخص اگر تنقید کردے تواِس کے نتیجے میں ردعمل کی جس کیفیت میں وہ مبتلا ہوجاتے ہیں، اُس میں تنقید کرنے والے کے موقف کو پڑھنا ، سمجھنا ، اوراپنے اور اُس کے درمیان اختلاف واتفاق کو ٹھیک ٹھیک متعین کرلینے کے بعد کچھ کہنا اُن کے لیے ممکن نہیں رہتا ۔ چنانچہ اُن کی یہی معذوری ہے جس کے پیش نظر ہم جہاد بالسیف کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پوری وضاحت کے ساتھ اورایک مرتبہ پھربیان کیے دیتے ہیں تاکہ ہمارے مضمون کے اُس پیرے سے جومضمون اُنھوں نے پیدا کیا ہے ، اُس کی حقیقت ہرشخص پرواضح ہوجائے ۔ جہاد بالسیف ، ہماری تحقیق کے مطابق ، قرآن مجیدکی روسے دو ہی صورتوں میں ہوسکتا ہے : ۱۔ظلم وعدوان کے خلاف ۔ ۲۔اتمام حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف ۔ اِن میں سے پہلی صورت اِس وقت موضوع بحث نہیں ہے، رہی دوسری صورت توجہادکے عام شرائط کے علاوہ، خاص اِس جہاد کے لیے جو دو لازمی شرائط قرآن مجید سے ثابت ہیں، اب وہ بھی سن لیجیے : پہلی شرط یہ ہے کہ یہ صرف کافروں کے خلاف ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کی کسی جماعت، کسی حکومت، کسی مملکت اور کسی ریاست کے خلاف اِس جہاد کی ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے جس ’’گاؤں‘‘میں انقلاب کے بعد اِس جہاد کا ذکر کررہے ہیں ، وہ توایک طرف ، اسلامی شریعت کی رو سے پوری ریاست پاکستان بھی یہ حق ہرگز نہیں رکھتی کہ وہ اپنے کسی انقلاب کواِس جہاد کے ذریعے سے، مثال کے طور پر، ترکی، ایران، افغانستان یا عراق وشام پرمسلط کرنے کی کوشش کرے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ کافروں کے خلاف بھی اِس جہاد کاحق مسلمانوں کواُس وقت حاصل ہوتا ہے ، جب وہ ’’خلافت علی منہاج النبوہ‘‘کانظام اِس امت میں پوری امت کی سطح پرقائم کردیں اوراِس طرح قرآن مجید کی اصطلاح میں یہ امت، ’’امت مسلمہ ‘‘،’’خیرامت ‘‘اور’’امت وسط‘‘بن کر دنیا کی تمام دوسری قوموں کے لیے خدا کی زمین پردین حق کی ’’شہادت ‘‘بن جائے۔۷؂ یہ اِس جہاد کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ہے ۔اِس کے بعد اب ہماری وہ تحریر جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں نقل فرمایا ہے ، اُس کے پورے سیاق وسباق کے ساتھ اور اِس روشنی میں پڑھیے اورپھر فیصلہ کیجیے کہ ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ‘‘کی تعریض ، کیا امت مسلمہ میں انقلاب سے متعلق ہمارے اِس نقطۂ نظر پرلوٹتی ہے اور امت کے اندر انقلاب بذریعہ دعوت کے بارے میں ہمارا موقف باطل قرار پاتا ہے اورڈاکٹر صاحب کی تعبیرکے مطابق کسی سر پھرے کے لیے فی الواقع یہ گنجایش پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پاکستان کے کسی گاؤں میں دعوت اورصرف دعوت کے ذریعے سے انقلاب برپا کرکے پہلے پورے پاکستان اورپھرپوری دنیا میں اِس کی توسیع کے لیے جہاد وقتال کا اعلان کردے ؟ہم نے لکھا ہے :

’’چنانچہ ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے اند ر اِس کی اہلیت پاتا ہوتووہ آج بھی اِسے برپا کرنے کی جدوجہد کرسکتا ہے ، لیکن اِس کا طریقہ یہ نہیں کہ کو ئی داعی انقلاب اپنا جتھا منظم کرکے زور و قوت کے ساتھ اِسے امت پرمسلط کردے ۔اِس کے لیے پیغمبر کی سیرت سے کوئی رہنمائی اگر حاصل ہوتی ہے تووہ یہی ہے کہ دعوت اورصر ف دعوت کے ذریعے سے مسلمانوں کواپنا ہم نوا بنا کر اُن کی آزادا نہ مرضی اوراُن کی رائے اور مشورے سے پہلے اِسے امت میں برپا کیا جائے، اور پھر اگر ضرورت ہوتو جہاد وقتال کے ذریعے سے یہ امت اپنے فرماں رواؤں کی قیادت میں بالکل اُسی طرح پوری دنیا میں اِس کی توسیع کے لیے نکل کھڑی ہو، جس طرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام،خلفاے راشدین کی قیادت میں روم و ایران کی بادشاہتوں میں اِس کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے اوراُنھوں نے اُن کی سرحدوں پر کھڑے ہوکرکہا تھا: اسلام لاؤ، جزیہ دویا لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔‘‘