ہم اِس فلسفہ کو دین و شریعت کی رو سے بالکل غلط اور ملک و قوم کے لیے سخت نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک امت مسلمہ کے حق میں یہ بات اُس کے پروردگار کی طرف سے ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی ہے کہ اُس کی مرضی کے بغیر کوئی شخص اُس پر مسلط نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ اِس طرح کا کوئی انقلاب خواہ مارشل لا کی کوکھ سے برآمد کیا جائے یا مذہبی جماعتوں کے بطن سے تولد ہو ، ہرحال میں ایک ناجائز ولادت ہے ۔ اسلامی شریعت میں اِس کے جواز کے لیے کوئی گنجایش قیامت تک ثابت نہیں کی جا سکتی ۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :

من بایع رجلاً عن غیر مشورۃ من المسلمین فلا یبایع ھو ولا الذی بایعہ تغرۃ ان یقتلا.(بخاری ،رقم ۶۸۳۰) ’’جس شخص نے مسلمانوں کی رائے کے بغیر اُن کے حکمران کی حیثیت سے کسی شخص کی بیعت کی، وہ اور جس کی بیعت کی گئی ، دونوں اپنے اِس اقدام سے اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے ۔‘‘

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ عوام کی اکثریت کبھی بدلا نہیں کرتی ۔ ہم اُن کی خدمت میں یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ دعوت نبوت کی مستند تاریخ اُن کے اس دعویٰ کی پوری شدت کے ساتھ نفی کرتی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم اوپر وضاحت سے بیان کر چکے ہیں کہ اوس و خزرج کی اکثریت کے آپ کو مان لینے کے نتیجے ہی میں یثرب کا ’’دارالاسلام‘‘ وجود میں آیا ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن مجید نے جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ اُن کی پوری قوم نہ صرف یہ کہ اُن پر ایمان لے آئی ، بلکہ اُن کی قیادت میں اُس نے اِس طرح مصر سے ہجرت کی کہ ایک بچہ بھی پیچھے نہ رہا ۔ سیدنا یونس علیہ السلام کے بارے میں بھی قرآن مجید میں تصریح ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ، جب وہ پوری دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ حق کی منادی کرنے کھڑے ہوئے تو پوری قوم نے اُن کی دعوت قبول کر لی ۔ تورات کے صحیفۂ یوناہ میں ہے کہ سب لوگ ٹاٹ کے کپڑے پہن کر توبہ کے لیے شہر سے باہر نکل آئے :

’’تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی ، اور ادنیٰ و اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا ، اور یہ خبر نینوا کے بادشاہ کو پہنچی او روہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا ، اور بادشاہ اور اُس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوا میں یہ اعلان کیا گیا اور اِس بات کی منادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان گلہ یا رمہ کچھ نہ چکھے اور نہ کھائے پیے ، لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے ملبس ہوں اور خدا کے حضور گریہ و زاری کریں ، بلکہ ہر شخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے ۔ ‘‘ (۳: ۵۔۸)

یہ مسئلہ تو واضح ہوا، لیکن ہو سکتا ہے کہ سیرت کے غوامض میں اپنے فلسفۂ انقلاب کے لیے کوئی جگہ نہ پا کر ڈاکٹر صاحب خروج کی بحث چھیڑ دیں ۔ چنانچہ یہ چند معروضات اُس کے بارے میں بھی حفظ ماتقدم کے طور پر ہم اُن کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں ۔ پہلی عرض یہ ہے کہ وہ اگر اِس طرف آئیں گے تو یہ پھر سیرت کی نہیں ، شریعت کی بحث ہو گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں تو یہ چیز محتاج وضاحت نہیں کہ اُس میں سے خروج نام کی کوئی چیز کسی طرح دریافت نہیں کی جا سکتی ۔ چنانچہ اِس صورت میں اُن کو اگر کوئی اسوہ میسر ہو سکے گا تو پیغمبر کی سیرت سے نہیں ، سیدنا حسین ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر، زید بن علی اور اس طرح کے بعض دوسرے بزرگوں کے اُن اقدامات ہی سے میسر ہو سکے گا جو اُنھوں نے اِس امت کے دور اول میں بنو امیہ کے خلاف کیے ہیں۔ ہمیں اِس پر اعتراض نہیں ہے ۔ وہ شوق سے اِس طرف آئیں ، لیکن آنے سے پہلے اتنی بات ضرور سوچ لیں کہ اِس کا لازمی نتیجہ ، اُن کے لیے یہ نکلے گا کہ وہ پھر اپنے فلسفۂ انقلاب کے لیے ’’انقلاب کا نبوی منہاج‘‘ کی تعبیر سے محروم ہو جائیں گے۔ اِس کے بعد تو ’’زیدی‘‘ یا ’’ابن زبیری‘‘ یا ’’حسینی منہاج‘‘ ہی کی تعبیر اُن کے لیے رہ جائے گی ۔ دوسری عرض یہ ہے کہ بات اگر سیرت سے شریعت تک آ پہنچتی ہے تو اُنھیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ اسلامی شریعت کی رو سے خروج کبھی واجب نہیں ہوتا ، بلکہ واجب کیا معنی ، کبھی مستحب بھی نہیں ہوتا ، زیادہ سے زیادہ جو بات اِس کے متعلق کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ شریعت نے بعض حالات میں اِسے جائز قرار دیا ہے ، لیکن ڈاکٹر صاحب کے لیے اِس میں یہ مشکل پیدا ہو جائے گی کہ وہ پھر ’’فریضۂ اقامت دین‘‘ کے جو لوازم بیان فرماتے ہیں ، اُن میں اِس کے لیے کوئی جگہ پیدا نہ کر سکیں گے اور اِس طرح ’’فرائض دینی کا جامع تصور‘‘ کی جو عمارت اُنھوں نے برسوں کی محنت سے تعمیر کی ہے اور پہلے ہی بہت کچھ بے ستون ہو رہی ہے ، وہ اِس ستون کے گر جانے سے بالکل ہی زمین بوس ہو جائے گی ۔ تیسری عرض یہ ہے کہ اِس صورت میں اُنھیں خروج کی وہ تین لازمی شرطیں بھی ماننا پڑیں گی جو شریعت کا تقاضا ہیں ، یعنی : اول یہ کہ حکمران کھلے کفر کا ارتکاب کریں ، دوم یہ کہ اُن کی حکومت ایک استبدادی حکومت ہو جو نہ مسلمانوں کی رائے سے قائم ہوئی ہو اور نہ اُن کی رائے سے اُسے تبدیل کر دینا کسی شخص کے لیے ممکن ہو، سوم یہ کہ خروج کے لیے وہ شخص اٹھے جس کے بارے میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکے کہ قوم کی واضح اکثریت اُس کے ساتھ اور پہلے سے قائم کسی حکومت کے مقابلے میں اُس کی قیادت تسلیم کرنے کے لیے بالکل تیار ہے ۔ لیکن ہمارے ڈاکٹر صاحب اگر خروج کے یہ شرائط مان لیں گے تو اِس کے نتیجے میں اُن کے لیے پہلا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ اب اُنھیں حکمرانوں کے فکرو عمل میں کوئی کھلا کفر ثابت کرنا پڑے گا ۔اِس میں شبہ نہیں کہ وہ حوصلہ مند آدمی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کر گزریں ، مگر ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اِس قوم میں اُن کے اِس فتویٰ کا حشر بھی اُس سے مختلف نہ ہو گا جو اب سے چند روز پہلے محترمہ بے نظیر صاحبہ کے خلاف ہمارے مولانا عبد الستار صاحب نیازی کے فتویٰ کا ہو چکا ہے ۔ دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ وہ ہماری موجودہ جمہوری حکومت کو، جو مسلمانوں کی رائے سے وجود میں آئی ہے ، ایک استبدادی حکومت میں بدلیں ، لیکن یہ قضا و قدر کا معاملہ ہے جو ڈاکٹر صاحب کی مرضی سے تو بہرحال نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اُن کے لیے اِس معاملے میں پھر اِس کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہے گا کہ اپنی سب جدوجہد سمیٹ کر خاموشی کے ساتھ قدرت کی طرف سے اِس تمنا کے برآنے کا انتظار کرتے رہیں ۔ تیسرا مسئلہ یہ پیدا ہو جائے گا کہ قوم کی اکثریت کو ہم نوا بنانے کا وہی تقاضا جس سے بچنے کے لیے وہ اِس خروج کے دامن میں پناہ لے سکتے تھے ، پوری شان کے ساتھ یہاں بھی اُن کے سامنے آ کھڑا ہو گا۔ غرض یہ کہ مجنوں کے لیے اگردوگونہ عذاب تھا تو ہمارے ڈاکٹر صاحب اِس کے نتیجے میں سہ گونہ عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ بات لمبی ہو رہی ہے ۔ اِس وجہ سے ہم نے یہاں خروج کے ان شرائط کے ماخذ بیان نہیں کیے۔ ہمیں امید نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب اِنھیں چیلنج کریں گے ۔ تاہم اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مطمئن رہیں ، ہم اِس معاملے میں بھی ، ان شاء اللہ ، قرآن و حدیث کی حجت اِنھی صفحات میں اُن پر ہر لحاظ سے پوری کر دیں گے۔ اپنے مضمون کے آخر میں اُنھوں نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اگر میرے اس فلسفۂ انقلاب کو نہیں مانتے تو لاؤ ، کوئی متبادل پیش کرو: آؤ، یہ گوے ہے اور یہ چوگان ۔ اُنھوں نے فرمایا ہے کہ اُنھیں تو یہ بات علی وجہ البصیرت معلوم ہو چکی ہے کہ : جا ایں جاست ۔ ہم کہتے ہیں کہ لاریب ، جا ایں جاست ۔ انقلاب نبوی کا منہاج ہم نے پوری وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یہ دعوت کا منہاج ہے ۔ اِس میں دیکھ لیجیے ، دعوت ہی ابتدا ہے اور دعوت ہی انتہا۔ آپ میں حوصلہ ہے تو اٹھیے، اپنے فلسفۂ انقلاب کی بھول بھلیاں سے نکلیے، اسلام کا روشن چہرہ پوری اجتہادی شان کے ساتھ لوگوں کو دکھائیے، لادینیت اور ملائیت، دونوں سے نجات کا پیغام اُن کو دیجیے ، ظلم و استحصال میں پسی ہوئی اِس قوم کو اسلام کے عدل و قسط کی طرف بلائیے اور خدا کے لیے یہ بیعت سمع و طاعت اور حق استرداد وغیرہ کی دیواریں جو آپ نے اپنے گرد چن رکھی ہیں ، اِن کو ڈھا کر اِس قوم کے ذہین عناصر کو اگر بیعت ہی کے لیے بلانا ہے تو اُس بیعت کے لیے بلائیے جس کی دعوت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی قوم کے اکابر و اشراف کو دی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا :

فایکم یبایعنی علی ان یکون اخی وصاحبی.( احمد،رقم ۱۳۷۱) ’’پھر تم میں سے کون مجھ سے یہ بیعت کرتا ہے کہ وہ اِس کام میں میرا بھائی اور میرا ساتھی بن کر رہے گا ۔ ‘‘

ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اِس کے بعد ہم سب آپ کے بھائی اور آپ کے ساتھی ہوں گے ، اور صرف ہم ہی نہیں ، وہ تمام لوگ بھی جو سمع و طاعت اور تحکم کی گھٹن سے نکل بھاگے ہیں، ایک مرتبہ پھر آپ کے شانہ بہ شانہ آ کر کھڑے ہو جائیں گے ۔ آپ حق کی منادی کیجیے ۔ یہ قوم نہیں مانتی تو آپ پر اِس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ آپ ، ان شاء اللہ ، سرخ رو اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے ، لیکن ڈاکٹر صاحب، کیا عجب کہ جب آپ سمع و طاعت اور تحکم کے بجائے محبت و اخوت کی فضا میں کھڑے ہو کر اپنے رفقا کے ساتھ یہ منادی کریں تو ہماری یہ قوم بھی اِسی طرح ٹاٹ کے کپڑے پہن کر توبہ کے لیے نکل آئے ، جس طرح سیدنا یونس کی قوم اُن کی منادی کے نتیجے میں نکل آئی تھی ۔ وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز. آخرمیں اب اِس کے سوا کیا عرض کروں کہ :

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری مری دعا ہے، تری آرزو بدل جائے
 
۴

اسلام کی پہلی ریاست یثرب اور اُس کے نواح میں قائم ہوئی ۔ اِس کی نیو ’’بیعت عقبہ‘‘ سے اٹھی ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد اِس کی سربراہی کا منصب سنبھالتے ہی اِس کے لیے ایک دستور تحریر کیا ۔ تاریخ و سیر کے محققین نے اِسے ’’میثاق مدینہ‘‘کا نام دیا ہے۔ انسانی تاریخ کا یہ پہلا تحریری دستور ہے جس کے اِس ریاست میں نافذ ہو جانے کے بعد اِسے ایک باقاعدہ دستوری حکومت کی حیثیت حاصل ہو گئی اور اِس کے استحکام اور توسیع کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد نے پانچ چھ سال ہی میں اِس کی سرحدیں ایک طرف نجد، دوسری طرف حدود شام ، تیسری طرف ساحل بحر احمر اور چوتھی طرف ام القریٰ مکہ کے قریب تک پہنچا دیں ۔ تمدن ، سیاست ،معیشت، معاشرت، حدودوتعزیرات اور جہادوقتال سے متعلق پروردگار عالم کی آخری شریعت اِسی ریاست میں ، آں سوے افلاک سے نازل ہوئی ۔ فتح مکہ سے بہت پہلے یہ شریعت اِس ریاست کے امام و فرماں روا، محمد رسول اللہ نے بتدریج اِس میں نافذ کر دی اور اِس طرح وہ انقلاب خدا کی زمین پر برپا ہو گیا ہے جسے مسیح علیہ السلام نے ’’خدا کی بادشاہی‘‘ کہا ، اور جسے اِس زمانہ میں لوگ ’’اسلامی انقلاب‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جو تاریخ میں اِسی قطعیت کے ساتھ ثابت ہے جس قطعیت کے ساتھ خلافت راشدہ ، امویہ، عباسیہ اور رومن امپائرکا وجود دنیا کی تاریخ میں ثابت ہے ۔ امت مسلمہ میں کوئی دو اہل علم بھی اِس کے بارے میں کبھی مختلف الرائے نہیں رہے ، یہاں تک کہ اب سے چند ہفتے پہلے تک ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بھی نہیں رہے۔ چنانچہ دیکھیے ، اپنی کتاب ’’منہج انقلاب نبوی‘‘ میں مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کے اِس اعتراض پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ مدینہ کے محمد ، مکہ کے محمد سے مختلف ہیں ، وہ لکھتے ہیں :

’’لیکن مدینہ میں نقشہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے ، وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تلوار ہے ، آپ فوج کے سپہ سالار ہیں اور جرنیل ہیں، آپ مدینہ کی ریاست کے سربراہ ہیں ، آپ ہی چیف جسٹس کا رول ادا کر رہے ہیں ، معاہدے کر رہے ہیں ، گویا مدینہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک مدبر سیاست دان کے روپ میں نظر آرہے ہیں ۔ ‘‘ (۱۱۸)

اِس سلسلہ میں چند جملوں کے بعد فرماتے ہیں :

’’وہاں تو اِن لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک سیاست دان و مدبر ، ایک سربراہ مملکت اور ایک جرنیل کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔‘‘ (۱۱۹)

اِس سے ذرا آگے سورۂ حج کی آیت ۴۱ نقل کر کے اِس کے الفاظ : ’ اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ‘ کا ترجمہ، ’’اگر ہم اِن کو زمین میں تمکن و اقتدار عطا فرمائیں‘‘، کرتے اور اِس کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’اِس آیت سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کو جو تمکن فی الارض عطا کیا جانے والا تھا، اور اُس میں جو توسیع ہونے والے تھی تو یہ آیت گویا حزب اللہ اور اسلامی انقلاب کے منشور (manifesto)کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ‘‘ (۱۲۶)

پھر اِسی کتاب میں ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں :

’’ہجرت کے نتیجہ میں مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کام فی الفور انجام دیے تھے ، پہلا کام: اقامت صلوٰۃ کے لیے مسجد نبوی کی تعمیر جو محض مسجد ہی نہیں تھی، بلکہ اُسے اسلامی انقلابی حکومت کے مرکز، ایوان حکومت نیز تربیت گاہ کا مقام بھی حاصل تھا۔‘‘(۲۳۲

یہ اِس درجہ کی مسلمہ حقیقت ہے ، لیکن ڈاکٹر صاحب کو داد دیجیے کہ اُن کے فلسفۂ انقلاب کی تردید میں ہم نے اُنھیں اِس کی طرف توجہ دلائی ہے تو اِس کی روشنی میں اپنے اِس فلسفہ پر نظر ثانی کرنے کے بجائے وہ چندرا کر پوچھتے ہیں کہ کون سی حکومت؟ کیسی حکومت؟ چنانچہ اِس حکومت کی نفی کے لیے وہ بزعم خود چند دلیلیں نکال لائے ہیں جو اُنھوں نے اپنے مضمون میں پیش کر دی ہیں ۔ وہ ایسے غبی نہیں ہیں کہ اِن دلیلوں کی بے مایگی سے واقف نہ رہے ہوں، اور جہاں تک ہمیں علم ہے ایسے زودفراموش بھی نہیں ہیں کہ خود اپنی ہی کتاب میں چھپی ہوئی اپنی یہ تحریریں بھلا بیٹھے ہوں، لیکن اِس کے باوجود جس اصرار کے ساتھ اِس حقیقت کو اُنھوں نے جھٹلایا ہے اور اِس کے لیے یہ دلیلیں پیش فرمائی ہیں ، اِس پر اُن کی خدمت میں یہی عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ :

ایں کار از توآید و مرداں چنیں کنند

ہمارے نزدیک یہ حقیقت چونکہ دین و شریعت کے فہم میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور اِس کا انکار تعبیر دین کے معاملے میں آدمی کو بہت خطرناک نتائج تک پہنچا سکتا ہے ، اِس وجہ سے ڈاکٹر صاحب اب جس راستے پر بھی جائیں اور جس وادی میں بھی اتریں ، ہم نے قلم اٹھا لیا ہے تو اُن کے نظریۂ انقلاب کی حقیقت ، ان شاء اللہ ، اِس قوم کے ارباب دانش پر ہر لحاظ سے واضح کر دینے کے بعد ہی اِسے رکھیں گے ۔ لیکن اِس سے پہلے کہ ہم اصل مسئلہ پر بحث کے لیے آگے بڑھیں ، دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے: ایک یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ ہم سے جو شکایت کی ہے کہ ہم نے اُن کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اُن پر تنقید شروع کر دی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اُن کا تجاہل عارفانہ ہے ۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنا یہ فلسفۂ انقلاب وہ پہلی مرتبہ لوگوں کے سامنے پیش نہیں کر رہے ہیں۔ پچھلے دس پندرہ سال میں اُنھوں نے بارہا اِسے اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان فرمایا اور اپنے رسائل و جرائد میں شائع کیا ہے ، بلکہ ’’منہج انقلاب نبوی‘‘ کے نام سے اُن کی ایک پوری کتاب اِس موضوع پر چھپی ہوئی موجود ہے، اس وجہ سے ہمارے لیے اُن کی یہ بات ہرگز ادھوری نہیں، بلکہ ہر لحاظ سے پوری ہے اور ہم اِسے پورا کا پورا سن لینے کے بعد ہی اِس پر تنقید کر رہے ہیں۔ دوسری یہ کہ ’’ہجرت‘‘ اور ’’خاموش اکثریت‘‘ کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا موقف فی الواقع ہمارے مضمون میں اِس اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اُس سے غلط فہمی ہو سکتی ہے ، لیکن اِس کا مسئلۂ زیر بحث پر چونکہ کوئی اثر نہیں پڑتا، اِس وجہ سے ہم اِس معاملے میں ڈاکٹر صاحب کی وضاحت پورے شرح صدر کے ساتھ مانتے ہیں اور اپنے قارئین کو ابتدا ہی میں مطلع کیے دیتے ہیں کہ ہجرت ڈاکٹر صاحب کے نزدیک انقلاب نبوی کا ایک مرحلہ ضرور ہے ، لیکن دور حاضر میں وہ نہ اِسے ممکن سمجھتے ہیں اور نہ اپنے انقلاب کی جدوجہد میں اِس کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ اِسی طرح خاموش اکثریت کے بارے میں بھی اُن کا موقف صحیح تر الفاظ میں یہ ہے کہ وہ جب اپنے ’’فدائین‘‘ کی معیت میں نظام باطل کے ساتھ تصادم کے لیے میدان میں اتریں گے تو اُنھیں پورا اطمینان ہے کہ عوام کی یہ اکثریت ، الخاموشی نیم رضا، کے اصول پر اُن کے اِس اقدام کی تائید کرے گی ۔ ان دو باتوں کی وضاحت کے بعد اب ہم آگے بڑھتے اور ڈاکٹر صاحب کے دلائل کا جائزہ لینے سے پہلے ایک نظر اُن حقائق پر ڈالتے ہیں جن کی بنیاد پر یثرب میں قیام حکومت کا یہ مقدمہ علم و تحقیق کی دنیا میں ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت کی حیثیت سے ہمیشہ ثابت رہا ہے ۔ سب سے پہلے قرآن مجید کو دیکھیے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ ریاست و حکومت اور اُس کے مترادف الفاظ قرآن میں کہیں آئے ہی نہیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ یہی دو لفظ اور غالباً اِن کے اردو مترادفات قرآن میں تلاش کرتے رہے ، ورنہ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے ، اُس میں نہ صرف یہ کہ اُس حکومت کا ذکر جگہ جگہ موجود ہے جو فتح مکہ کے بعد پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہوئی، بلکہ اُس حکومت کا ذکر بھی نہایت واضح الفاظ میں موجود ہے جو ہجرت کے بعد یثرب میں قائم ہوئی ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ ریاست و حکومت کے الفاظ بھی اصلاً عربی ہیں ، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان میں یہ اُس معنی میں استعمال نہیں ہوتے جس میں یہ اب ہماری زبان میں بولے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں اِس مفہوم کے لیے ’’امر‘‘ ، ’’حکم‘‘، ’’استخلاف‘‘ ، ’’تمکین‘‘اور ’’سلطان‘‘ کے الفاظ مستعمل ہیں ۔ فتح مکہ اور اُس کے بعد کی صورت حال اِس وقت موضوع بحث نہیں ہے ، لیکن ہجرت کے بعد جو حکومت یثرب اور اُس کے گردونواح میں قائم ہوئی ، اُس کے بارے میں دیکھیے، سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے :

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ، اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا.(۱۷: ۸۰۔۸۱) ’’تم دعاکرو، اے پیغمبر کہ مجھے عزت سے داخل کر، اے مالک اور عزت سے نکال، اور مجھے اپنی طرف سے ایک ’’سلطان نصیر‘‘ عطا فرما، اور اعلان کردو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ باطل نابود ہو جانے ہی کی چیز ہے ۔‘‘

اپنے اسلوب کے لحاظ سے یہ بظاہر ایک دعا ہے جو خدا کے حکم سے پیغمبر کی زبان پر جاری ہوئی، لیکن قرآن مجید کے ذوق آشنا جانتے ہیں کہ اُس نے ’ وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ ‘ کو اِس پر عطف کر کے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ یہ درحقیقت ایک عظیم بشارت ہے جو ہجرت کے موقع پر پیغمبر اور اُس کے ساتھیوں کو دی گئی اور جس نے پیغمبر کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کے وہ سب مراحل بالکل متعین کر دیے جو آپ کی سرگزشت احوال میں اب پیش آنے والے تھے ۔ اِس بشارت کا تجزیہ کیجیے ۔ اِس میں پہلی بات جو ’’نکالنے‘‘ پر ’’داخل کرنے‘‘ کی تقدیم سے واضح ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے کہ ہجرت اگرچہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے ، لیکن آپ مطمئن رہیے ، ہم نے آپ کے داخل ہونے کا انتظام آپ کے نکلنے سے پہلے ہی کر لیا ہے ۔ دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ ام القریٰ مکہ سے آپ کانکلنا اور اپنے دارالہجرت میں داخل ہونا، یہ دونوں نہایت عزت و وقار ، بڑی آبرو اور بڑے رسوخ و استحکام کے ساتھ ہوں گے ۔ تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ وہاں جس طرح آپ کو ’’انصار‘‘ ملیں گے ، اِسی طرح ’’سلطان نصیر‘‘ بھی حاصل ہو گا جس کے ذریعے سے آپ کی جدوجہد اپنی قوم کے خلاف مرحلۂ اقدام میں داخل ہو جائے گی۔ چوتھی بات یہ فرمائی ہے کہ اِس ’’سلطان نصیر‘‘ سے جو مدد آپ کو حاصل ہو گی ، اُس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ باطل اِس سرزمین سے بالکل مٹ جائے گا اور دین حق کا غلبہ سرزمین عرب میں پوری شان کے ساتھ قائم ہو جائے گا ۔ اِن سب باتوں کو سامنے رکھیے اور اِس کے بعد اب ’’سلطان نصیر‘‘ کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ ’’سلطان‘‘ کا لفظ توصاف واضح ہے کہ یہاں اقتدار و حکومت کے معنی میں استعمال ہوا ہے ، لیکن یہ حکومت کون سی حکومت ہے ؟ کیا وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے بعد پورے جزیرہ نماے عرب میں حاصل ہوئی یا وہ جو ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں یثرب اور اُس کے نواح میں قائم ہوئی؟ اِس دعا میں ہجرت کی پیش گوئی اور غلبۂ حق کی بشارت کے درمیان اِس کا ذکر اور اِس کے ساتھ ’ مِنْ لَّدُنْکَ‘ کے الفاظ ہی اگرچہ فیصلہ کن تھے کہ یہ وہ حکومت نہیں ہو سکتی جو غلبۂ حق کے بعد پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہوئی اور یقیناًوہی حکومت ہے جو بغیر کسی جارحانہ اقدام کے محض پروردگار کی عنایت سے اور خاص اُس کی طرف سے اُس کے پیغمبر کو حاصل ہوئی، لیکن اِس کے ساتھ ’’نصیر‘‘، یعنی ’’مددگار‘‘کی صفت کا اضافہ کر کے تو گویا قرآن نے انگلی اٹھا کر بتا دیا ہے کہ یہ لاریب، وہی یثرب کی حکومت ہے جس کی مدد سے حق کا غلبہ پہلے ام القریٰ مکہ میں اور اِس کے بعد پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہو گیا ۔ یثرب کے وہ لوگ جنھوں نے بیعت عقبہ کے موقع پر رسول کی حیثیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اِس فیصلۂ خداوندی کی تنفیذ میں کہ آپ جزیرہ نماے عرب پر دین حق کو غالب کریں گے ، تعاون کا عہد کیا، قرآن نے اُنھیں ’’انصار‘‘ کہا ، اِس تعاون کے لیے ’’نصرت‘‘ کا لفظ اختیار کیا اور اِس کے نتیجے میں جو ’’سلطان‘‘، یعنی حکومت آپ کو حاصل ہوئی، اُس کے لیے ’’سلطان نصیر‘‘ کی تعبیر اختیار کر کے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ وہی حکومت ہے جس کی مدد سے آپ نے پروردگار عالم کے اِس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ۔ ’’مجھے اپنی طرف سے ایک سلطان نصیر عطا فرما‘‘، قرآن مجید کے یہ الفاظ اِس حقیقت کو بالکل آخری درجے میں ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ حکومت یثرب کی حکومت ہے جس کے قائم ہو جانے کے بعد ایک طرف ریاست و حکومت سے متعلق خدا کی شریعت نازل ہونا شروع ہوئی اور دوسری طرف جزیرہ نماے عرب کے آخری کناروں تک اِس حکومت کی توسیع کے لیے قتال کا اذن ہوا۔ اِس حکومت کی یہی خصوصیت ہے جس کی بنا پر یہ محض ’’سلطان‘‘ نہیں ، بلکہ ’’سلطان نصیر‘‘ کہلائی، اور اِس کی یہ نصرت ایک ناقابل تردید حقیقت کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی ۔ چنانچہ دیکھیے ، اردو زبان میں قرآن مجید کے اولین مترجم شاہ عبد القادر نے اِس بشارت کا یہ ترجمہ کیا کہ : ’’بنا دے مجھ کو اپنے پاس سے ایک حکومت کی مدد‘‘، اور پھر اُس کی شرح میں پوری وضاحت کے ساتھ لکھا ہے :

’’یعنی اِس شہر سے نکال آبرو سے اور کسی اور جگہ بٹھا آبرو سے ۔ وہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں بٹھایا اور وہاں کے لوگ حکم میں دیے جن سے دین کو امداد ہوئی۔‘‘(موضح القرآن ۴۷۹)

قرآن مجید کی اِس نص صریح کے بعد اگرچہ مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، لیکن اتمام حجت کے لیے اب ہم آگے بڑھتے اور اثبات مدعا کے لیے سیرت نبوی کی مراجعت کرتے ہیں ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے موضوع پر اِس امت کے ذخائر علمی میں جو چیز ایک ناقابل تردید دستاویزی شہادت کی حیثیت سے اِس حکومت کو ثابت کرتی ہے ، وہ ’’میثاق مدینہ‘‘ ہے ۔ یہ میثاق ابن ہشام ، ابن کثیر اور ابو عبید قاسم بن سلام نے بالترتیب اپنی کتابوں: ’’السیرۃ النبویہ‘‘ ، ’’البدایۃ والنہایہ‘‘ اور ’’کتاب الاموال‘‘ میں لفظ بہ لفظ نقل کیا ہے۔ اِس کے بعض اقتباسات ’’سنن ابی داؤد‘‘، ’’مسند احمد بن حنبل‘‘ ، ’’تاریخ طبری‘‘ ، ’’لسان العرب‘‘ اور ’’طبقات ابن سعد‘‘ میں بھی نقل ہوئے ہیں ۔ دور حاضر کے محققین نے اِسے جس طرح ترتیب دیا ہے ، اُس کے مطابق اِس کی ۵۲ دفعات ہیں ۔ پہلی ۲۳ دفعات مہاجرین و انصار سے متعلق اور باقی مدینہ کے یہودی قبائل کے حقوق و فرائض سے بحث کرتی ہیں۔ اِس دستاویز کو جو شخص بھی محض دین و شریعت کو سمجھنے اور حقائق کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کے ارادے سے پڑھے گا ، اُس پر یہ حقیقت بالکل واضح ہو جائے گی کہ یہ ’’معاہدۂ حدیبیہ‘‘ کی طرح دو جماعتوں یا دو قوموں کے درمیان کوئی معاہدۂ امن نہیں ہے، بلکہ اپنی ایک ایک دفعہ کے لحاظ سے رعایا اور حکمران کے حقوق و فرائض پر مشتمل ایک باقاعدہ دستور ہے جسے یہ امت تاریخ عالم کے پہلے تحریری دستور کی حیثیت سے نہایت فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہے ۔ چنانچہ تمام دستوری دستاویزات کی طرح اِس میں صرف وہی مسائل زیر بحث آئے ہیں جو نظم مملکت کی اساس قرار دیے جا سکتے ہیں اور دستوری قانون کے ماہرین جانتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر پانچ ہی ہوتے ہیں : ایک ، مملکت کی نوعیت ۔ دوسرے ، نظم ریاست میں حاکمیت اور اطاعت کے مراجع ۔ تیسرے ، صلح و جنگ اور امور خارجہ ۔ چوتھے ، شہریوں کے حقوق وفرائض ۔ پانچویں ، جرم و سزا میں عدالت و مرافعہ کے اختیارات۔ اِس دستاویز کو شروع سے آخر تک پڑھ جایئے ، اِس کی تمام دفعات اِنھی پانچ چیزوں کی تفصیل ہیں ۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اِس دستور کے تحت قائم ہونے والی حکومت ایک وفاقی حکومت ہے ؛ اُس کا علاقہ اُس کے شہریوں کے لیے حرم اور اُس سے متعلق تمام شہری سیاسی لحاظ سے ایک امت، حقوق و فرائض کے اعتبار سے بالکل برابر اور اپنے دینی معاملات میں پوری طرح آزاد ہیں ؛ اُس کے مجرم سب کے مجرم ہیں اور اُس میں قصاص و دیت کے معاملات ایک قاعدے اور دستور کے مطابق طے ہوتے ہیں ؛ اُس کی جنگ ہر شہری کی جنگ اور اُس کی صلح ہر شہری کی صلح ہے ؛ اُس کا کوئی باشندہ مملکت سے باہر اُس کے کسی دشمن کے ساتھ براہ راست کوئی معاملہ نہیں کر سکتا اور اُس میں اللہ اور رسول کا حکم سپریم لا ہے ، لہٰذا سیاسی معاملات میں اِس ریاست کے شہریوں کے لیے آخری مرجع اطاعت کی حیثیت اُسی کو حاصل ہے ۔ دیکھیے ، اُس میں لکھا ہے :

وان یھود بنی عوف امۃ مع المؤمنین، للیھود دینھم وللمسلمین دینھم، موالیھم وانفسھم، الا من ظلم واثم، فانہ لا یوتغ الا نفسہ و اھل بیتہ. ’’یہود اِس دستور کے مطابق سیاسی حیثیت سے مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جاتے ہیں۔ رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور اُن کے موالی، سب اپنے دین پر۔ اُن میں سے جو لوگ البتہ، کسی ظلم یا عہد شکنی کا ارتکاب کریں گے ، وہ لامحالہ اپنی ذات اور اپنے گھرانے کو ہلاکت میں ڈالیں گے۔‘‘
وانہ من اعتبط مؤمناً قتلا عن بینۃ فانہ قود بہ الا ان یرضی ولی المقتول، وان المؤمنین علیہ کافۃ، ولا یحل لھم الا قیام علیہ. ’’جو شخص کسی مومن کو ناحق قتل کرے گا اور اُس کا ثبوت بھی مل جائے گا تو اُس سے قصاص لیا جائے گا ، الاّ یہ کہ مقتول کے اولیا کسی دوسری صورت پر راضی ہو جائیں۔ اور سب اہل ایمان اُس کی تعمیل کے لیے اٹھیں گے اور اُس کے سوا کوئی صورت اُن کے لیے جائز نہ ہو گی ۔‘‘
و ان یثرب حرام جوفھا لاھل ھذہ الصحیفۃ. ’’یثرب کی سرزمین، اِن پہاڑوں کے درمیان اِس دستور کے ماننے والوں کے لیے ایک حرم ہو گی جس کا تقدس کوئی شخص پامال نہ کر سکے گا ۔ ‘‘
و ان بینھم النصر علی من دھم یثرب. ’’یثرب پر اگر کوئی حملہ آور ہو تو اِس دستور کے تحت زندگی بسر کرنے والوں پر لازم ہو گا کہ ایک دوسرے کی مدد کریں ۔ ‘‘
وانہ لا تجار قریش ولا من نصرھا. ’’قریش کو کوئی پناہ نہ دی جائے گی اور نہ اُس کو جو اُنھیں مدد دے ۔ ‘‘
وان سلم المؤمنین واحدۃ، لا یسالم مؤمن دون مؤمن فی قتال فی سبیل اللّٰہ الا علی سواء وعدل بینھم. ’’اہل ایمان کی صلح ایک ہی صلح ہو گی۔ اللہ کی راہ میں لڑائی ہو تو کوئی مومن کسی دوسرے مومن کو چھوڑ کر دشمن سے صلح نہ کرے گا، جب تک یہ صلح سب کے لیے برابر نہ ہو۔ ‘‘
واذا دعوا الی صلح یصالحونہ ویلبسونہ فانھم یصالحونہ ویلبسونہ وانھم اذا دعوا الی مثل ذٰلک فانہ لھم علی المؤمنین الا من حارب فی الدین. ’’یہود کو اگر صلح کر لینے کی دعوت دی جائے گی تو وہ اُسے قبول کریں گے اور اُس میں شریک رہیں گے۔ اِسی طرح وہ اگر صلح کے لیے بلائیں گے تو مسلمان بھی اُسے قبول کریں گے، الاّ یہ کہ معاملہ دین کے لیے کسی جنگ کا ہو ۔‘‘
وانہ لا یخرج منھم احد الا باذن محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم. ’’محمد رسول اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کسی فوجی اقدام کے لیے ہرگز کوئی کارروائی نہ کرے گا۔ ‘‘
وانکم مھما اختلفتم فیہ من شیء، فان مردہ الی اللّٰہ عز وجل والی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۲/۱۱۱) ’’کسی چیز کے متعلق اگر کوئی اختلاف پیدا ہو گا تو فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ ‘‘

یہ ’’میثاق مدینہ‘‘ ہے ۔۳؂ اِسے پڑھیے ، دستوری قانون سے واقف کوئی شخص کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ اِس کے بعد بھی ریاست مدینہ کا وجود کسی درجے میں مشتبہ رہ جاتا اور کسی کے لیے یہ کہنے کی گنجایش باقی رہ جاتی ہے کہ مدینہ اب بھی ’’دارالاسلام‘‘ نہیں ، بلکہ محض دارالسلام تھا۔ پھر یہ نہیں کہ یہ بات اِس میثاق کے بارے میں پہلی مرتبہ ہم نے کہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس امت کے تمام محققین اِس کو یہی حیثیت دیتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھیے ، تاریخ و سیر کے نام ور عالم ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ’’عہد نبوی میں نظام حکمرانی‘‘ کے نام سے اِس موضوع پر اپنی جو کتاب مرتب کی ہے ، اُس میں ایک پورا باب اِس دستاویز کے لیے مختص کیا ہے ، اِس کا عنوان ، ’’دنیا کا پہلا تحریری دستور‘‘ قرار دیا ہے ، اِسے ’’ترجمۂ دستور مملکت مدینہ بہ عہد نبوی‘‘کے زیر عنوان نقل کیا ہے اور اِس کے بارے میں لکھا ہے :

’’...مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آنے کے پہلے ہی سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوشتہ مرتب فرمایا جس میں حکمران اور رعایا کے حقوق و فرائض اور دیگر فوری ضروریات کا تفصیلی ذکر ہے ۔ ‘‘ (۷۶)
’’لیکن ایک واقعی مملکت کی بنیاد ہجرت کے بعد ہی پڑی ۔ ہجرت کر کے مدینہ آتے ہی آنحضرت نے فوراً اپنے عدالتی حقوق و فرائض کا تعین فرمادیا تھا ، اور ہماری خوش قسمتی سے یہ دل چسپ اور اہم دستاویز بجنسہٰ و بلفظہٖ ہم تک نقل ہوتی آئی ہے ۔ اِسے سب سے پہلی اسلامی مملکت کا دستور اور آئین کہا جا سکتا ہے ۔ ‘‘ (۱۵۳)
’’یہ عہد آفرین کارنامہ اِسی دستاویز میں ریکارڈ میں لایا گیا جس نے قبائلیت کی افراتفری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اور ایک وسیع تر ادارے ، یعنی مملکت کی بنیاد ڈالی ۔ اِس دستاویز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدالتی ، تشریعی ، فوجی اوراعلیٰ ترین تنفیذی اختیارات اپنے لیے محفوظ فرما لیے ۔ ‘‘ (۸۳)

پھر دیکھیے، عالم اسلام کے ممتاز عالم اور محقق امام ابو زہرہ نے سیرت نبوی پر اپنی کتاب، ’’خاتم النبیین‘‘ کی دوسری جلد میں ہجرت کا ذکر ’’اسلامی حکومت کی تاسیس‘‘ کے عنوان سے شروع کیا ہے اور اُس میں جہاں ’’میثاق مدینہ‘‘ کی دفعات نقل کی ہیں ، وہاں اِس دستاویز کا تعارف اِس طرح کرایا ہے :

وجعل ما یسری علی المومنین فی شعوبھم وقبائلھم یسری علی الیھود وغیرھم علی ان یکون لھم ما للمومنین وعلیھم ما علیھم، لا یضارون فی دینھم ولا یعتدی علیھم فی اعتقادھم، وعلی ان تکون الریاسۃ الکبریٰ للنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم.(۵۶۲) ’’اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس دستور میں وہی قانون یہود اور دوسرے غیر مسلموں پر جاری کر دیا جو مسلمانوں پر اُن کے شعوب و قبائل کے بارے میں جاری کیا، اِس طرح کہ اُن کے حقوق و فرائض مسلمانوں ہی کی طرح ہوں گے، اُن پر دین و عقیدہ کے معاملہ میں کوئی تعدی نہ کی جائے گی اور حکومت و فرماں روائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گی ۔ ‘‘

اِسی طرح دیکھیے ، ’’الرحیق المختوم‘‘ جو رابطۂ عالم اسلامی کے عالمی مقابلۂ سیرت نگاری میں دنیاے اسلام کے جید علما کے فیصلے کے مطابق اول انعام کی مستحق قرار پائی ، اُس کے مصنف مولانا صفی الرحمن صاحب مبارک پوری نے اِس دستور کا خلاصہ اپنی اِس کتاب میں بیان کیا اور اِس کے بارے میں پوری صراحت کے ساتھ لکھا ہے :

’’اِس معاہدے کے طے ہو جانے سے مدینہ اور اُس کے اطراف ایک وفاقی حکومت بن گئے جس کا دارالحکومت مدینہ تھا، اور جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، اور جس میں کلمۂ نافذہ اور غالب حکمرانی مسلمانوں کی تھی، اور اِس طرح مدینہ واقعتاً اسلام کا دارالحکومت بن گیا۔‘‘(۲۶۴

اِس دستور کے متعلق یہ تاریخ و سیر کے محققین کی آرا ہیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے بقول، یہ سب اگر اِس حکومت کے بارے میں مجاز کے اسالیب ہیں تو بیان حقیقت کے اسالیب کیا ہوا کرتے ہیں۔ بہرحال ، اِس سے قطع نظر، ہم ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ، بلکہ سیرت کے ذخائر میں اِ س سے آگے اور اِس سے بھی زیادہ فیصلہ کن اِس ریاست کے ایک شہری کا بیان ہے جنھوں نے یہ حکومت اپنے سامنے قائم ہوتی اور یہ انقلاب اپنی آنکھوں کے سامنے برپا ہوتے دیکھا ۔ تاریخ و سیر کی کتابوں میں اُن کا یہ بیان روایت بالمعنٰی کے طریقے پر نہیں، بلکہ اُن کے اپنے الفاظ میں نقل ہوا ہے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اُ س میں نہ صرف یہ کہ اُنھوں نے اِس انقلاب کی خبر دی ہے، بلکہ اِس کے لیے عربی زبان میں ’’اظہار دین‘‘ کی تعبیر بھی بالکل وہی اختیار کی ہے جسے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب قرآن مجید میں ’’اسلامی حکومت‘‘ اور ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے لیے ایک نص قطعی قرار دیتے ہیں اور اپنے روزوشب کا بڑا حصہ لوگوں کو اُس کے یہی معنی سمجھانے میں بسر کرتے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے یہ شہری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ، ابوقیس صرمہ بن ابی انس، انصار کے شاعر ہیں ۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لائے تو یہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اسلام لائے اور آپ کے بارے میں ایک قصیدہ لکھا ۔ ابو قیس صرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ قصیدہ، ابن اسحاق کی روایت سے ابن ہشام نے اپنی ’’السیرۃ النبویہ‘‘ اور ابن جریر طبری نے اپنی ’’تاریخ الامم والملوک‘‘ میں نقل کیا ہے ۔ حافظ ابن حجر نے اِن کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے ابن عیینہ کے حوالے سے ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ حبرالامت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تاریخ کے ایک ماخذ کی حیثیت سے اِس کی اہمیت کے پیش نظر بڑے اہتمام کے ساتھ ابوقیس صرمہ کے پاس جا کر یہ قصیدہ اُن سے حاصل کیا۔ ہمارے ڈاکٹر صاحب اگر ابھی تک مصر ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب فتحمکہ کے بعد ہی برپا ہوا تھا تو اِس قصیدے کی روشنی میں دیکھ لیں کہ وہ کیا کہتے ہیں اور اِس کے برخلاف اِس انقلاب کے عینی شاہد اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی اِس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ۔ اُن کا ارشاد ہے :

ثوی فی قریش بضع عشرۃ حجۃ یذکر، لو یلقی صدیقاً مواتیاً
’’آپ دس سال سے کچھ زیادہ عرصے تک قریش میں اِس امید پر لوگوں کو نصیحت کرتے رہے کہ کوئی ساتھی، کوئی رفیق (اُن کے اعیان و اکابرمیں) مل جائے ۔ ‘‘
ویعرض فی اھل المواسم نفسہ فلم یر من یؤوی ولم یر داعیاً
’’اور حج کے موقعوں پر اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے ، لیکن نہ کوئی پناہ دینے والا ملا اور نہ کوئی ایسا شخص جو آپ کے ساتھ حق کا داعی بن کر کھڑا ہو جاتا ۔‘‘
فلما اتانا ، اظھر اللّٰہ دینہ فاصبح مسرورًا بطیبۃ، راضیًا
’’لیکن اِس کے بعد جب ہمارے پاس آئے تو اللہ نے یہاں اپنے دین کو غلبہ عنایت فرمایا ۔ چنانچہ طیبہ کی اس بستی سے آپ ہر لحاظ سے خوش اور ہر لحاظ سے راضی ہو گئے ۔ ‘‘

یہ ابو قیس صرمہ رضی اللہ عنہ کے اشعار ہیں ۔ دیکھ لیجیے ، وہ پوری صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ آپ ہمارے پاس آئے تو طیبہ کی اس بستی میں ’ اظھر اللّٰہ دینہ‘ ،’’اللہ نے اپنے دین کو غالب کر دیا۔‘‘ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس انقلاب کے عینی شاہد اور ایک صحابی رسول کے بعد کسی دوسرے کی رائے اب بات کی قوت میں کوئی اضافہ نہ کرے گی ، لیکن اتمام حجت کے لیے اتنی بات اور سن لیجیے کہ سلف و خلف میں تاریخ و سیر کے علما اور محققین بھی ابوقیس صرمہ کی طرح صرف حکومت ہی نہیں ، اِس حکومت میں دین حق کے غلبہ کا تذکرہ، کم و بیش اِنھی الفاظ میں اور اِسی وضاحت سے کرتے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے، اسلامی تاریخ کے پہلے سیرت نگار، اِس فن کے امام الائمہ اور سیرت کی ام الکتاب ، ’’المغازی‘‘ کے مصنف ، ابن اسحاق اِس کے بارے میں لکھتے ہیں :

فلما اطمأنت برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دارہ واظھر اللّٰہ بھا دینہ، وسرہ بما جمع الیہ من المھاجرین والانصار من اھل ولایتہ، قال ابو قیس صرمۃ بن ابی انس، اخو بنی عدی بن النجار.(السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۲/۱۱۶) ’’چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے دارالہجرت میں پوری طرح مطمئن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے وہاں اپنے دین کو غلبہ عطا فرما دیا اور مہاجرین و انصار کو آپ کی قیادت میں جمع کر دیا اور آپ اِس بستی سے راضی ہو گئے تو بنو عدی بن النجار کے ابو قیس صرمہ بن ابی انس نے آپ کے بارے میں شعر کہے۔ ‘‘

یہ دور اول کی بات ہوئی۔ ہمارے اِس زمانے میں عالم اسلام کے جلیل القدر عالم اور مفکر مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی ہجرت کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ریاست مدینہ میں عہد بہ عہد اِس انقلاب کی سرگزشت اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’تفہیم القرآن‘‘ میں اِس طرح بیان کرتے ہیں :

’’مدینہ پہنچ کر اسلامی دعوت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ مکہ میں تو معاملہ صرف اصول دین کی تبلیغ اور دین قبول کرنے والوں کی اخلاقی تربیت تک محدود تھا ، مگر جب ہجرت کے بعد عرب کے مختلف قبائل کے وہ سب لوگ جواسلام قبول کر چکے تھے، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگے اور انصار کی مدد سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد پڑ گئی تو اللہ تعالیٰ نے تمدن، معاشرت، قانون اور سیاست کے متعلق بھی اصولی ہدایات دینی شروع کیں اور یہ بتایا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظام زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے ۔ ‘‘ (۱/۴۷)
’’یا تو وہ وقت تھا کہ جنگ احد کے صدمہ نے مسلمانوں کے لیے مدینہ کے قریبی ماحول کو بھی پرخطر بنا دیا تھا یااب یہ وقت آ گیا کہ عرب میں اسلام ایک ناقابل شکست طاقت نظر آنے لگا اور اسلامی ریاست ایک طرف نجد تک ، دوسری طرف حدود شام تک ، تیسری طرف ساحل بحر احمر تک اور چوتھی طرف مکہ کے قریب تک پھیل گئی۔ ‘‘ (۱/۴۳۵)
’’پھر اِن چند برسوں میں اسلامی اصول اور نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کی اپنی ایک مستقل تہذیب بن چکی تھی جو زندگی کی تمام تفصیلات میں دوسروں سے الگ اپنی ایک امتیازی شان رکھتی تھی ۔ اخلاق، معاشرت، تمدن ، ہر چیز میں اب مسلمان غیر مسلموں سے بالکل ممیز تھے ۔ تمام اسلامی مقبوضات میں مساجد اور نماز باجماعت کا نظم قائم ہوگیا تھا ۔ ہر بستی اور ہر قبیلے میں امام مقرر تھے ۔ اسلامی قوانین دیوانی و فوج داری بڑی حد تک تفصیل کے ساتھ بن چکے تھے اور اپنی عدالتوں کے ذریعے سے نافذ کیے جا رہے تھے ۔ لین دین اور خرید و فروخت کے پرانے معاملات بند اور نئے اصلاح شدہ طریقے رائج ہو چکے تھے ۔ وراثت کا مستقل ضابطہ بن گیا تھا۔ نکاح و طلاق کے قوانین، پردۂ شرعی اور استیذان کے احکام اور زنا و قذف کی سزائیں جاری ہونے سے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی ایک خاص سانچے میں ڈھل گئی تھی ۔ مسلمانوں کی نشست وبرخاست، بول چال، کھانے پینے، وضع قطع اور رہنے سہنے کے طریقے تک اپنی ایک مستقل شکل اختیار کر چکے تھے ۔ اسلامی زندگی کی ایسی مکمل صورت گری ہو جانے کے بعد غیر مسلم دنیا اِس طرف سے قطعی مایوس ہو چکی تھی کہ یہ لوگ، جن کا اپنا ایک الگ تمدن بن چکا ہے، پھر کبھی اُن میں آ ملیں گے ۔ ‘‘ (۱/۴۳۵)

یہ سیرت کے حقائق ہیں ۔ بات اگر دلیل و برہان کی ہوتی تو یہاں ختم ہو جاتی ، لیکن معاملہ اُن لوگوں سے آ پڑا ہے جو آفتاب کے وجود پر حجت کرتے اور مانی ہوئی باتوں کو بھی مان کر نہ دینے پر اصرار کر رہے ہیں ، اِس وجہ سے اِس کے بعد اب ہم فقہ اسلامی میں اِس حکومت کی اساسات بیان کریں گے ۔ اسلامی شریعت سے واقف، ہر صاحب علم جانتا ہے کہ اُس میں جمعہ ، زکوٰۃ ، فے ، قتال اور اقامت حدود ، یہ پانچ حکم ایسے ہیں جن کے لیے ’’سلطان‘‘ ، یعنی اقتدار اور صاحب اقتدار کا وجود ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ائمۂ ثلاثہ جمعہ کے بارے میں یہ شرط بیان نہیں کرتے ، لیکن اسلامی تاریخ میں فقہ و اجتہاد کے امام الائمہ ، ابو حنیفہ نعمان بن ثابت نہ صرف یہ کہ اِسے ایک شرط لازم قرار دیتے ہیں ، بلکہ اِس کے ساتھ جمعہ کے شرائط میں سے ایک دوسری شرط ، ’’مصر جامع‘‘ کی تعریف ہی اِس طرح کرتے ہیں کہ یہ وہ بستی ہے جہاں امیر المومنین کی نیابت میں اُن کا کوئی عامل پورے اختیارات کے ساتھ موجود ہو ۔ چنانچہ یہ بالکل مسلم ہے کہ نماز جمعہ کا خطبہ اور اُس کی امامت، اسلامی شریعت میں سربراہ حکومت اور اُس کے عمال کا حق ہے ۔ مسلمانوں سے زکوٰۃ بالجبر صرف حکومت وصول کر سکتی ہے اور یہ صرف اُسی کی قوت اور اُسی کا اقدام ہے جس کے نتیجے میں اگر کوئی علاقہ مفتوح ہو جائے تو اُس کے اموال فے اور غنیمت قرار پاتے ہیں ۔ قتال اُسی کے فیصلے اور اُسی کے حکم سے ہوتا ہے اور لوگوں پر اقامت حدود کا حق بھی خدا کی زمین پر صرف اُسے ہی حاصل ہے ۔ لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی مسلم ہے اور کوئی شخص اِس کا انکار نہیں کر سکتا کہ شریعت کے یہ پانچوں حکم فتح مکہ سے بہت پہلے مدینہ اور اُس کے اطراف میں نافذ ہو چکے تھے ۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ جمعہ بیعت عقبہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یثرب میں قائم کر دیا گیا تھا۔ جہادوقتال کے اقدامات ہجرت کے پہلے ہی سال مدینہ میں شروع ہو گئے تھے ۔ بنو نضیر کے اموال ، ربیع الاول ۴ ہجری میں جب اُن کا محاصرہ ہوا تو فے قرار پا گئے تھے ۔ زکوٰۃ کی تحصیل کا بندوبست ۵اور ۶ کے درمیان کسی وقت قائم ہو گیا تھا اور زنا، قذف ، چوری اور حرابہ کے جو مجرم اِسی ۵ اور ۶ کے بعد قانون کی گرفت میں آئے ، اُن پر حدودالٰہی نافذ کر دی گئی تھیں ۔ یہ دونوں باتیں بالکل مسلم ہیں ، لہٰذا اِن کا یہ لازمی نتیجہ بھی بالکل مسلم ہونا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ اِس امت کے ہر دو رمیں بالکل مسلم ہی رہا ہے کہ فقہ و اجتہاد کے ائمہ جب اِن احکام کو اپنی اصطلاح میں ’’ موکول الی السلطان‘‘ قرار دیتے اور یہ کہتے ہیں کہ ہر صاحب علم قرآن مجید میں اِس طرح کے احکام سے متعلق آیتیں سنتے ہی بغیر کسی تردد کے جان لیتا ہے کہ اِن کے مخاطب مسلمانوں کے امراوحکام ہیں تو یہ اُن کی طرف سے گویا اِس بات کا اعلان ہے کہ بیعت عقبہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے مدینہ میں ایک باقاعدہ حکومت کا وجود ، اُن کے نزدیک ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں ۔ ابوبکر جصاص اپنی کتاب ’’احکام القرآن ‘‘ میں لکھتے ہیں :

وقد علم من قرع سمعہھذاالخطاب من اھل العلم انالمخاطبین بذلک ھم الائمۃ دون عامۃ الناس فکان تقدیرہ: فلیقطع الائمۃ والحکام ایدیھما ولیجلدھما الائمۃ والحکام. (۳/۲۸۳) ’’اہل علم میں سے جو شخص بھی اِس خطاب کو سنتا ہے ،فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اِس کے مخاطب عام مسلمان نہیں، بلکہ اُن کے ائمہ و حکام ہیں۔ چنانچہ اِس میں، مثال کے طور پر، تقدیر کلام ہی یہ مانی جاتی ہے کہ : پس چاہیے ک