۱

اسلامی تاریخ میں سمع و طاعت کی بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے یہ صرف مسلمانوں کے اولی الامر ہیں جو اللہ اور اُس کے پیغمبر کے بعد لوگوں سے سمع و طاعت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ بیعت سمع و طاعت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ہو سکتی ہے تو اُنھی کے لیے ہو سکتی ہے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ عہد اطاعت لینے کا یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود رہا ہے ۔ آپ اگرچہ اپنی حیثیت رسالت ہی میں مطاع تھے ، لیکن اِس بیعت کا تعلق چونکہ سیاسی امارت سے ہے ، اِس وجہ سے ام القریٰ مکہ میں آپ نے نہ کسی شخص سے یہ بیعت لی ، نہ اِس کی بنیاد پر اسلامی انقلاب کے لیے کوئی جماعت قائم کی اور نہ مرحلۂ دعوت میں اپنے پیرووں سے کبھی اِس کا مطالبہ کیا۔ یثرب کے لوگوں نے آپ کو حکمران کی حیثیت سے مدینہ آنے کی دعوت دی تو آپ نے اُن سے اِس بیعت کا مطالبہ کیا۔ اسلامی تاریخ میں یہ بیعت، بیعت عقبہ کے نام سے مشہور ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ بیعت آپ کے خلفا نے لوگوں سے لی ۔ تاریخ و سیر کی روایات سے واقف کوئی شخص اِس کا انکار نہیں کر سکتا ۔ اتنی بات سے کسی کو اختلاف نہ تھا، لیکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت اگر اسلامی نہ ہو تو یہ بیعت اُس حکومت کو اسلامی بنانے کی جدوجہد کرنے والی جماعت کے امیر کے ہاتھ پر بھی کی جائے گی ۔ اُن کی یہ بات ، افسوس ہے کہ کسی طرح مانی نہیں جا سکتی ۔ قرآن و حدیث کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اُن میں اِس کے لیے کوئی نص موجود نہیں ہے اور نص کے بغیر کسی چیز کو دین قرار دینے کا حق اِس زمین پر اب کسی شخص کو بھی نہیں دیا جا سکتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو بیعت کی دعوت دے کر اُنھوں نے ایک سنت کو زندہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔ یہ بالکل اِسی طرح کی بات ہے جس طرح کوئی شخص ایک جتھا بنا کر ہمارے اِس شہر کے زانیوں کو کوڑے مارنے اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے نکل کھڑا ہواور کوچہ و بازار میں اعلان کرتا پھرے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنے دو فرضوں کو زندہ کرنے کی سعادت عطا فرما دی ہے ۔ ہمارا خیال تھا کہ اِس طرح کے لوگ، اِس زمانے میں غالباً نہیں پائے جاتے ، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ :

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

بیعت سمع و طاعت ڈاکٹر صاحب کے نزدیک اگر سنت ہے ۱ ؂ تو اِس کا حکم، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، زانی اور چور کی سزا کی طرح حکمرانوں سے متعلق ہو گا ۔ اِس طرح کی چیزوں کے بارے میں ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم ارباب اقتدار کو اِن پر عمل پیرا ہونے کی نصیحت کریں۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے جذبۂ بے اختیار شوق کو کچھ تھام کر رکھیں، بہت سی سعادتیں وہ بیعت سمع و طاعت کے بغیر بھی حاصل کر سکتے ہیں، بہتر یہی ہے کہ وہ اُنھی پر اکتفا کریں :

نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا گر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلیٰ نہ سہی
 
۲

بیعت سمع و طاعت کے بارے میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے موقف پر جو تنقید ہم نے لکھی تھی ، اُس کے بارے میں اُن کے برادر گرامی ، جناب اقتدار احمد صاحب کا تبصرہ نومبر ۸۷کے ’’میثاق‘‘ میں شائع ہوا ہے ۔ اپنے مضمون میں ابتذال اور استدلال کا جو حسین امتزاج اُنھوں نے پیدا کیا ہے ، اُس پر تو حق یہ ہے کہ اُنھیں ہدیۂ تبریک پیش کرنا چاہیے۔ اسلامی انقلاب کے یہ علم بردار اِس ملک میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین نافذ کرنے میں تو ، معلوم نہیں ، کبھی کامیا ب ہوں گے یا نہیں ، لیکن آپ کے اخلاق عالیہ ہی یہ اگر کسی حد تک اپنانے میں کامیاب ہو جاتے تو اِن کا انجام یقیناوہ نہ ہوتا جو برسوں کی جدوجہد کے بعد اب اِن کے لیے نوشتۂ دیوار ہے ۔ اُنھوں نے اپنے اِس مضمون میں غالباًطنز لکھنے کی کوشش کی ہے ۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ اصناف ادب میں سب سے مشکل صنف یہی ہے ۔ اِس کی نزاکتوں کو نبھالے جانا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اِس میں ہر لمحہ ہشدار کہ رہ برسرتیغ است قدم را کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اُن کو اِس زمانے میں کچھ لکھنے کا شوق اگر ہوا ہے تو ہم اُن کی خدمت میں بصد ادب عرض کریں گے کہ وہ اِس کے لیے ایسا اسلوب اختیار کریں جو اُن کی دعوت کے شایان شان ہو۔ تاہم اُن کے ابتذال سے غض بصر کر کے جتنا کچھ استدلال اُن کے مضمون میں موجود ہے ، اُس کا جواب ہم یہاں پیش کیے دیتے ہیں ۔ سمع و طاعت کی بیعت کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ اسلامی تاریخ میں یہ بیعت صرف ارباب اقتدار کے لیے ثابت ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اس بیعت کا مطالبہ اُس وقت کیا جب اُنھوں نے آپ کو ام القریٰ سے ہجرت کر کے اپنی بستی کا اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی۔ آپ نے اسلامی انقلاب کے لیے نہ اِس بیعت کی بنیاد پر کوئی جماعت قائم کی اور نہ مرحلۂ دعوت میں اپنے پیرووں سے کبھی اِس کا مطالبہ کیا۔ اِس کے جواب میں اُنھوں نے ہماری یہ بات تو حرف بہ حرف مان لی ہے کہ نبوت کے بعد پورے تیرہ سال تک جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی دعوت سرزمین عرب میں برپا کی؛ جب کچھ لوگ آپ کی اِس دعوت کو قبول کر کے آپ کے ساتھی بنے؛ جب آپ نے اپنے اِن ساتھیوں کی تعلیم و تربیت اور تہذیب نفس کا اہتمام کیا؛ جب اِن لوگوں نے قریش مکہ کے مظالم سہے؛ جب اِنھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جب اِنھیں ہر ظلم کے مقابلے میں صبر محض اور ثبات و استقامت کا امتحان پیش آیا، اِن سب مراحل کے دوران میں آپ نے اپنے اِن ساتھیوں سے سمع و طاعت کی بیعت کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، لیکن اِس کے باوجود وہ اِس حقیقت کو چونکہ کسی طرح مان کر دینا نہیں چاہتے تھے کہ تنظیم سازی کی یہ ’’مسنون بنیاد‘‘ اُن کا محض طبع زاد افسانہ ہے ، اِس لیے اُنھوں نے اِس کی ایک توجیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’رہا یہ اشکال کہ اِس سے پہلے حضور نے اپنے پیرووں سے کبھی سمع و طاعت کی بیعت نہ لی تھی تو اِس کا سبب اِس حقیقت سے شعوری یا غیر شعوری صرف نظر ہے کہ جب تک آنحضور کی جماعت صرف مکہ تک محدود تھی، جہاں رسالت مآب بنفس نفیس خود موجود تھے ، کسی رسمی بیعت کی ہرگز ضرورت نہ تھی ۔ یہ ضرورت پیش ہی اِس بنا پر آئی کہ اب معاملہ اہل یثرب کا تھا جو نبی اکرم سے براہ راست اور مسلسل تنظیمی رابطہ رکھنے سے معذور تھے ۔ ‘‘

اِن کی اس توجیہ کا ذرا گہری نظر سے جائزہ لیجیے : پہلی بات تو یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیعت اِس مرحلے میں لوگوں سے نہیں لی تو اُن پر یہ راز اب چودہ صدیوں کے بعد کس طرح کھلا کہ اسلامی انقلاب کے لیے تنظیم سازی کی بنیاد تو درحقیقت ، یہی بیعت سمع و طاعت ہے ، لیکن آنحضرت چونکہ بنفس نفیس ام القریٰ میں موجود تھے ، اِ س لیے آپ نے اِس عرصے کے دوران میں لوگوں سے اِس کا مطالبہ نہیں کیا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یہ بات خود کہیں فرمائی ہے ؟ دین میں کوئی چیز اگر ثابت کی جا سکتی ہے تو قرآن مجید کے بعد پیغمبر کے قول ہی سے ثابت کی جا سکتی ہے ۔ آپ نے مرحلۂ دعوت میں یہ بیعت اگر نہیں لی اور اِس مرحلہ میں اس کے ثبوت کے لیے آپ کا کوئی قول بھی حدیث کے پورے ذخیرے سے وہ اگر پیش نہیں کر سکتے تو اُن کے اس ارشاد کا ماخذ کیا ہے؟ وحی و الہام کا دعویٰ تو اُنھوں نے ابھی کیا نہیں کہ محض اُن کے فرمانے سے اُن کی یہ بات تسلیم کر لی جائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ اِسے دعوت اسلامی کے لیے تنظیم سازی کی مسنون بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ ابھی تک تو ہمیں یہی معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کرنے اور سنت قرار دینے سے کوئی کام مسنون قرار پاتا ہے ۔ اب کیا اُن کی اِس تحقیق کے نتیجے میں یہ مان لیا جائے کہ سنت اِس کے بغیر بھی ثابت ہو جاتی ہے ؟ ہمارے اِس شہر میں کوئی شخص اگر ہر روز صبح دس بجے لوگوں کو نماز کے لیے مسجد میں بلائے ، پھر اُنھیں دو رکعت نماز پڑھائے اور اِس کے بعد یہ اعلان کرے کہ تزکیۂ نفس کا یہ مسنون طریقہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صرف اُسی نے اِس زمانے میں زندہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے تو اُس کی یہ بات کیا محض اِس دلیل کی بنا پر مان لی جائے گی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بنفس نفیس صحابہ کے درمیان موجود تھے ، اِس وجہ سے آپ کے زمانے میں تو فجر و ظہر کے درمیان کسی نماز کی ضرورت نہ تھی ، لیکن تزکیۂ نفس کا مسنون طریقہ بہرحال یہی ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بنفس نفیس موجود ہوں ، وہاں اگر بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی تو جیسا کہ حدیث کی متعدد روایات سے ثابت ہے ،آپ نے مدینہ آنے کے بعد سب انصارومہاجرین سے یہ بیعت کیوں لی ؟ چوتھی بات یہ ہے کہ اہل یثرب کی بیعت سے پہلے قبیلۂ دوس کے سردار طفیل بن عمرو، بنی غفار کے ابوذر ، بنی سلیم کے عمرو بن عبسہ، یمن کے ابو موسیٰ اشعری، بنی ضمرہ کے جعال بن سراقہ، بنی کنانہ کے عبد اللہ اور عبد الرحمن اور بنی خزاعہ کے بریدہ بن الحصیب بھی دوسرے علاقوں سے آ کر مکہ میں اسلام لائے اور اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے ، اِسی طرح نبوت کے چھٹے سال حبشہ سے بیس کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مکہ آیا اور اسلام لانے کے بعد اپنے وطن لوٹ گیا ، لیکن اِس کے باوجود کہ آپ اُن کے علاقوں میں بنفس نفیس موجود نہیں تھے اور وہ آپ سے براہ راست او رمسلسل تنظیمی رابطہ رکھنے سے معذور تھے ، آپ نے اُن سے اِس بیعت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ پانچویں بات یہ ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بھی اِس ملک میں بنفس نفیس موجود ہیں ۔ یہاں جن لوگوں نے اُن کی بیعت کی ہے ، وہ برطانیہ اور فرانس سے نہیں آئے ، اُن میں سے زیادہ تر اِسی لاہور کے رہنے والے ہیں۔ پھر وہ اپنی اِس توجیہ کی رو سے اِن سب لوگوں سے اِس بیعت کا مطالبہ کس دلیل کی بنیاد پر کرتے ہیں ؟ ہم نے یہاں اِس توجیہ کے صرف چند پہلووں کی طرف اشارہ کیا ہے ، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی اس نادر تحقیق پر داد دینے کے لیے حدیث و سیرت کے ذخیرے میں ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ اِس کے بعد بیعت عقبہ کے بارے میں ہمارے نقطۂ نظر کی تردید میں اُنھوں نے لکھا ہے :

’’وہ سمجھتے ہیں کہ اہل یثرب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ام القریٰ سے ہجرت کر کے اپنی بستی کا اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی اور اِسی بنا پر حضور نے بیعت سمع و طاعت اور ہجرت و جہاد کا مطالبہ شروع کیا تھا ، حالانکہ یہ وہ بات ہے ، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا۔ ہماری تاریخ کا ایک ایک لمحہ آج بھی حضور کے رخ روشن کی طرح منور ہے ۔ جناب رسالت مآب نے بیعت عقبۂ ثانیہ کے نتیجے میں یثرب کی طرف ہجرت فرمائی تھی تو وہ ہرگز اقتدار سنبھالنے یا حکومت کی تشکیل کے لیے نہ تھی ۔ (یہ الگ بات ہے کہ نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بالفعل راستہ اِسی کے لیے صاف فرما دیا)۔ اہل یثرب سے عہد و پیمان صرف اِس بات کا ہوا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں میں کفار مکہ کی جس جارحیت کا سامنا ہے ، اُس کے مقابلے میں اُنھیں پناہ، حفاظت اور نصرت مہیا کی جائے گی ۔ اہل یثرب کو انصار کا نام بھی نصرت کے اِس وعدے کے باعث ہی ملا تھا۔ یہی وجہ ہے ، اِس مرحلے پر آنحضور نے یثرب میں اپنا کوئی نائب یا عامل مقرر نہیں فرمایا تھا، بلکہ اہل یثرب ہی میں سے بارہ نقبا نامزد فرمائے تھے ۔ اور قبل ازیں پہلے مرحلے پر حضرت مصعب بن عمیر بھی حضور کے گورنر یا عامل کی حیثیت میں نہیں ، بطور داعی و معلم مقیم رہے تھے ۔ علاوہ ازیں بیعت عقبۂ ثانیہ کے الفاظ کو سامنے رکھا جائے تو اُس کا عنوان بیعت حکومت نہیں ، بلکہ بیعت تنظیم ہی قرار پائے گا ۔ ‘‘

اب ذرا بیعت عقبہ کا یہ سارا ’’افسانہ‘‘بھی سن لیجیے ۔ ابن سعد اور دوسرے مورخین نے لکھا ہے کہ نبوت کے گیارھویں سال زمانۂ حج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قاعدے کے مطابق قبائل عرب سے ملاقات کے لیے مکہ سے منیٰ گئے۔ وہاں عقبہ کے قریب قبیلۂ خزرج کے ایک گروہ کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوئی ۔ آپ نے اُن کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی ۔ اُنھوں نے پورے اطمینان کے ساتھ آپ کی یہ دعوت سنی اور اُسے قبول کر لیا ۔ چنانچہ یہ سب لوگ جن کی تعداد بعض روایات میں چھ اور بعض میں آٹھ بیان کی گئی ہے، آپ پر ایمان لے آئے۔ آپ نے اِس کے بعد اِن لوگوں سے فرمایا: کیا تم میری پشت پناہی کرو گے تاکہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں؟ اِس پشت پناہی کے معنی کیا تھے ، وہ اہل یثرب کی زبان سے سنیے ۔ اُنھوں نے عرض کیا:

نحن مجتھدون للّٰہ ولرسولہ. نحن، فاعلم، اعداء متباغضون، وانما کانت وقعۃ بعاث عام الاول، یوم من ایامنا اقتتلنا فیہ. فان تقدم، ونحن کذا، لا یکون لنا علیک اجتماع، فدعنا حتی نرجع الی عشائرنا، لعل اللّٰہ یصلح ذات بیننا، وموعدک الموسم العام المقبل.(ابن سعد،الطبقات الکبریٰ ۱/ ۱۴۸) ’’ہم اللہ اور اُس کے رسول کی خاطر اس کام میں پوری طاقت صرف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اِس وقت ہم آپ کی خدمت میںیہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ باہمی عداوت میں مبتلا ہیں، ابھی پچھلے سال ہمارے ہاں جنگ بعاث ہوئی ہے، اِس حالت میں اگر آپ تشریف لے گئے تو ہم آپ کی قیاد ت پر جمع نہ ہو سکیں گے ۔ آپ فی الحال ہمیں اپنے لوگوں کی طرف واپس جانے دیجیے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے باہمی تعلقات درست فرما دیں گے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آیندہ سال یہیں آپ سے پھر ملاقات ہو گی ۔ ‘‘

اِس روایت میں ’لایکون لنا علیک اجتماع‘ (ہم آپ کی قیادت پر جمع نہ ہو سکیں گے) کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اُن سے یہ بات صاف واضح ہے کہ پشت پناہی کے یہ معنی اِس زمانے کے محققین سیرت کی سمجھ میں بے شک ، نہ آئیں مگر اہل یثرب کو اُن کا مدعا سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ چنانچہ یثرب واپس پہنچ کر اُنھوں نے اِس مقصد کے حصول کی جدوجہد شروع کی۔ دوسرے سال (یعنی ۱۲ بعد بعثت میں) اُن کے بارہ آدمی آنحضرت سے اِسی عقبہ کے مقام پر ملے ۔ اُن میں پانچ آدمی تو وہی تھے جنھوں نے پچھلے سال اسلام قبول کیا تھا۔ باقی سات آدمیوں میں سے پانچ خزرج کے اور دو اوس کے تھے ۔ اِن لوگوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اسلام کی دعوت اگرچہ اوس و خزرج کے سب گھرانوں میں پھیل چکی تھی ، لیکن اِن قبائل کے اکابر چونکہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے اور یثرب کا سیاسی اقتدار ابھی تک اُنھی کے پاس تھا، اِس وجہ سے آپ نے اِس موقع پر بھی اُن سے سمع و طاعت کی بیعت نہیں لی، بلکہ صرف بیعت اسلام لی جو ہماری تاریخ میں بیعت نساء کے نام سے مشہور ہے ۔ جب یہ لوگ مدینہ واپس جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر کو بھیجا۔ اُن کی قیادت میں اِن لوگوں نے بڑی تیزی کے ساتھ مدینہ میں اسلام پھیلانا شروع کیا۔ چنانچہ اگلے سال (یعنی ۱۳ بعد بعثت) زمانۂ حج آنے تک اوس و خزرج کے اشراف و اکابر اسلام میں داخل ہو گئے اور اِس طرح یثرب کا سیاسی اقتدار فی الواقع محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہو گیا۔ اِس کے بعد اُن میں سے ستر آدمی حج کے موقع پر آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُنھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سمع و طاعت اور جہاد کی بیعت کی ۔ یہ بیعت ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ، آپ نے اُن لوگوں سے بھی نہیں لی جو پہلی مرتبہ عقبہ کے مقام پر مسلمان ہوئے ۔ دوسری مرتبہ بھی آپ نے اُن سے اِس بیعت کا مطالبہ نہیں کیا، دراں حالیکہ آپ نہ بنفس نفیس اُن کے اندر موجود تھے اور نہ اُن کے ساتھ براہ راست اور مسلسل تنظیمی رابطہ رکھنا آپ کے لیے ممکن تھا۔ آپ نے سمع و طاعت کی یہ بیعت اُن سے اُس وقت لی ، جب یثرب کے حکمران قبائل کے اکابر آپ پر ایمان لائے اور اُنھوں نے اپنی بستی کے امام و فرماں روا کی حیثیت سے آپ کو مدینہ آنے کی دعوت اِس شعور کے ساتھ دی کہ بیعت کے موقع پر اسعد بن زرارہ نے کہا :

’’ٹھیرو اے اہل یثرب ،ہم اپنے اونٹ دوڑاتے ہوئے اِن کے پاس اِسی لیے آئے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج اِن کو نکال کر اپنے ساتھ لے جانے کے معنی اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم تمام عرب کی دشمنی مول لے رہے ہیں، اِس کے نتیجے میں تمھارے بچے قتل ہوں گے اور تلواریں تمھارا خون چاٹیں گی، اِس لیے اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تو اِن کا دامن تھام لو۔ تمھارا اجر یقیناًتمھارے پروردگار کے ذمہ ہے ۔ ‘‘ (البدایۃ والنہایہ ۳/۱۵۹)

چنانچہ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی اپنی کتاب ’’سیرت سرور عالم‘‘ میں ’’بیعت عقبہ کی اہمیت‘ ‘ کے زیر عنوان لکھتے ہیں :

’’اسلام کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اہل یثرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محض ایک پناہ گزین کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام وفرماں روا کی حیثیت سے بلا رہے تھے، اور اسلام کے پیرووں کو اُن کا بلاوا اِس لیے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سرزمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پا لیں،بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں، وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم اسلامی معاشرہ بنا لیں۔ اِس طرح یثرب نے دراصل اپنے آپ کو ’’مدینۃ الاسلام‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے قبول کر کے عرب میں پہلا ’’دارالاسلام‘‘ بنا لیا۔ ‘‘ (۲/ ۷۰۶)

یہ وہ بیعت ہے جس کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ وہ ہرگز اقتدار سنبھالنے یا حکومت کی تشکیل کے لیے نہ تھی ، البتہ اِس کے نتیجے میں، معلوم نہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ نے راستہ اِسی حکومت کے لیے صاف فرما دیا۔ رہی یہ بات کہ اِس موقع پر آپ نے مدینہ کے لیے کوئی عامل کیوں مقرر نہیں فرمایا تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ اس بیعت کے ساتھ ہی آپ نے خود یثرب جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ ام القریٰ آپ کا دارالحکومت نہیں تھا کہ وہاں سے آپ مدینہ کے لیے عامل مقرر فرماتے ۔ اِس کے کم و بیش تین ماہ بعد آپ یثرب کا اقتدار سنبھالنے کے لیے مکہ سے روانہ ہو گئے ۔ تاہم جن بارہ نقبا کا تقرر آپ نے اِس موقع پر کیا ، وہ محض نقیب دعوت نہ تھے ، ’’سیرۃ النبی‘‘ کے مصنف مولانا شبلی کے الفاظ میں رئیس القبائل بھی تھے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اِس بیعت میں آپ نے انصار مدینہ سے ہرحال میں سمع و طاعت پر قائم رہنے کے ساتھ اِس بات کا عہد بھی لیا تھا کہ : ’وان لا ننازع الامر اھلہ‘ (اور ہم حکومت کے معاملہ میں اہل حکومت سے نزاع نہ کریں گے)۔ بیعت عقبہ کے اِن الفاظ سے تو ہر صاحب علم واقف ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اِس کے علاوہ اُس کے وہ کیا الفاظ ہیں جو اگر سامنے رکھے جائیں تو اُس کا عنوان، اُن کی تحقیق کے مطابق، بیعت حکومت نہیں ، بلکہ بیعت تنظیم قرار پائے گا۔ ہم نے لکھا تھا کہ اِس بیعت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت کی جا سکتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اہل ایمان کی کوئی جماعت اگر کسی خطۂ ارض میں اقتدار حاصل کرلے تو اُس کا امیر اِس جماعت کے افراد سے سمع و طاعت کی بیعت لے سکتا ہے ۔ اِس مرحلے سے پہلے اس طرح کی بیعت ایک بدعت ہے جس کا کوئی ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں:

’’اس بدعت کے سب سے پہلے مرتکب تو حضور کے نواسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے جنھوں نے کسی خطۂ ارض میں اقتدار حاصل کیے بغیر اہل کوفہ سے بیعت لینے کے لیے اپنے نمائندے کو اُن کے پاس بھیج دیا۔‘‘

اُن کے اِس جواب پر غور فرمائیے ۔ علم و استدلال کی دنیا میں اِس سے زیادہ دل چسپ کوئی چیز، شاید ہی کبھی وجود میں آئی ہو ۔ اُن کا خیال غالباً یہ ہے کہ سیدنا حسین نے بھی اُن کے برادر گرامی کی طرح یزید کی حکومت میں پہلے حلقہ ہاے درس قرآن اور پھر بیعت سمع و طاعت کی بنیاد پر اپنی ایک جماعت قائم کی اور اِس کے بعد اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو حلقۂ کوفہ کے ارکان کی تنظیم کے لیے بھیجا جنھوں نے پہلے مسلم اسدی اور پھر ہانی بن عروہ کے گھر میں اپنا دفتر قائم کر کے لوگوں کو علی الاعلان اس نئی جماعت میں شامل کرنا شروع کر دیا۔ہم اُن کی خدمت میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ مسلم بن عقیل نے کوفہ کے لوگوں سے یزید کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے لیے بیعت لی تھی ۔ سیدنا حسین بھی حجاز سے اِسی مقصد کے لیے کوفہ روانہ ہوئے تھے ۔ بغاوت کیا چیز ہوتی ہے ؟ اِس کے لیے وہ کسی اردو لغت کی مراجعت کر لیں ۔ اُنھیں معلوم ہو جائے گا کہ بغاوت کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو اقتدار کسی خطۂ ارض میں پہلے سے قائم ہے ، اُس کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ کر کوئی شخص اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔اہل کوفہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے نمائندہ مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر اِسی بغاوت کے لیے بیعت کی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اُن کی یہ کوشش بوجوہ ناکام ہو گئی ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ حکومت اگر یہ بغاوت فرو کرنے میں کامیاب نہ ہوتی تو سیدنا حسین ایک امام و فرماں روا کی حیثیت سے کوفہ میں داخل ہوتے۔ اُن کے بالفعل اقتدار سنبھالتے ہی یزید کا گورنر معزول قرار پاتا اور یزید کی فوج اگر باہر سے حملہ کرتی تو وہ اپنی اِس سلطنت کے باقاعدہ حکمران کی حیثیت سے اُس سے جنگ کرتے ۔ مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر سیدنا حسین کی بیعت مرحلۂ دعوت و تربیت میں نہیں ، قیام حکومت کے مرحلے میں ہوئی۔ اِس بحث سے قطع نظر کہ حسین رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام بغاوت صحیح تھا یا نہیں، معاملے کی اِس نوعیت کے لحاظ سے اُن کی بیعت کو کسی طرح بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بزرگوارم ڈاکٹر اسرار احمد بھی اُن کے برادر گرامی کے بقول اہل ایمان کا سیاسی اقتدار چونکہ صرف اُسی سرزمین میں قائم سمجھتے ہیں ، جہاں اللہ کی حکومت فی الواقع برپا ہو جائے اور ریاست پاکستان میں یہ صورت چونکہ ابھی پیدا نہیں ہوئی ، اِس لیے اُنھیں بھی اگر کسی شہر میں اپنا اقتدار قائم کر کے اُس شہر کے رہنے والوں نے موجودہ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی دعوت دی ہے اور اُنھوں نے اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو وہ شوق سے اپنا نمائندہ سمع و طاعت کی بیعت کے لیے وہاں بھیج دیں۔ اِس صورت میں ہم اُن کی عقل و دانش کا ماتم ضرور کریں گے، لیکن اُن کی بیعت کو بدعت ہرگز قرار نہ دیں گے۔

 
۳

۔ سیرت نبوی کے حوالے سے ’’انقلاب بذریعہ احتجاج‘‘ کا جو نظریہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب پچھلے دس پندرہ سال سے اپنے رسائل و جرائد اور اپنے پیرووں کی مجالس میں بڑے شد و مد سے پیش کرتے رہے ہیں ، ہمیں روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اُس نے پہلی مرتبہ اُسے قومی سطح پر بحث و مباحثہ کے لیے پیش کرنے کا موقع ڈاکٹر صاحب کو دیا، اور اِس طرح ہم طالب علموں کے لیے بھی یہ موقع پیدا کر دیا ہے کہ اِس نظریے کی غلطی اپنی قوم کے اہل دانش اور ڈاکٹر صاحب کے اُن ’’اہل بیعت‘‘پر واضح کر سکیں جو اِسے انقلاب کا نبوی منہاج سمجھ کر اپنا نقد دل و جاں اِس کے لیے ڈاکٹر صاحب کے حضور میں پیش کر چکے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ خدا کے اِن سادہ دل بندوں کے ذہن بھی اگر اپنے امیر المومنین کی طرح اِس نظریۂ انقلاب پر ’’متحجر‘‘ نہیں ہو گئے تو وہ یقیناًاِسے گوش حق نیوش سے سنیں گے :

اے لالۂ صحرائی باتو سخنی دارم

اِس معاملے میں ہم ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں بھی یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ اِس طرح کی تحقیقات میں اُن کا منبع الہام اگرچہ بالعموم اُن کا شرح صدر ہوتا ہے ، لیکن طوعاً و کرہاً اب اُنھوں نے دلیل و برہان کی راہ اختیار کر لی ہے تو تھوڑی دیر کے لیے اِسی میدان میں ٹھیر کر ہماری یہ معروضات بھی سن لیں ۔ اُن کا شرح صدر حجت قاطع سہی ، لیکن اتنی بات تو غالباً وہ بھی مانتے ہوں گے کہ :

گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے کہ اسلامی انقلاب کا جو منہاج اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت خاص سے اُن پر واضح کیا ہے، اُس کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ اُسی کے اعماق میں اتر کر یہ گوہر نایاب اُنھوں نے اِس زمانے میں دریافت کیا ہے ، اور اب وہ چاہتے ہیں کہ دنیا والوں کو بھی اپنی اِس غیر معمولی دریافت سے روشناس کریں :

بیا کہ جان تو سوزم ز حرف شوق انگیز

اِس منہاج کی تفصیل وہ اِس طرح کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انقلاب خدا کی زمین پر برپا کیا ، اُس میں آپ نے پہلے لوگوں کو اپنے نظریے کی طرف دعوت دی ؛ پھر جو لوگ اِس دعوت سے متاثر ہوئے اُن کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ کا اہتمام کیا ؛ اِس کے بعد اُنھیں ہر ظلم و ستم کے مقابلے میں صبر محض اور بالآخر ہجرت کے مرحلے سے گزارا ؛ اور جب وہ اِس سارے عمل سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے تو اُنھیں نظام باطل کے خلاف اپنے زمانے کے حالات کے مطابق جہاد وقتال کا حکم دیا اور اِس طرح یہ انقلاب بالفعل برپا کر دیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ اِس جدوجہد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے کہ سمع و طاعت کی بنیاد پر ایک ایسی جماعت قائم کی جائے جس میں امیر کا فیصلہ حتمی حجت ہو ، جس کے ارکان اُس کے اشارۂ ابرو کو حکم سمجھیں اورجب وہ چاہے، اپنا تن ،من ، دھن اِس جدوجہد میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ اُنھیں اصرار ہے کہ اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے لیے اپنا لائحۂ عمل اُنھوں نے اِسی منہاج نبوی کے مطابق ترتیب دیا ہے ۔ ہاں، البتہ اپنی اجتہادی بصیرت سے اتنی ترمیم وہ اِس میں کرنا چاہتے ہیں کہ اِس زمانے کے حالات کے لحاظ سے آخری مرحلے میں جہا د و قتال کے بجائے ۔۔۔ اگرچہ نوبت اُس کی بھی آ سکتی ہے ۔۔۔ اب احتجاجی مظاہروں اور تحریک لاتعاون پر انحصار کرنا چاہیے۔ وہ اِس بات کو بالکل نہیں چھپاتے کہ اُن کا یہ انقلاب جب بھی آئے گا ، قوت کے ذریعے سے آئے گا۔ اُن کے نزدیک ، اِس میں اصل کی حیثیت ، اُن کے اپنے الفاظ میں، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول کو حاصل ہے ۔ چنانچہ وہ برملا کہتے ہیں کہ اپنی قیادت میں خدائی فوج داروں کی جو جماعت وہ تیار کر رہے ہیں ، اُس نے جس دن ضروری طاقت حاصل کر لی ، اُسے لے کر وہ میدان میں کود پڑیں گے ، اور قوم کی اکثریت جو اُن کے بقول اکثر خاموش ہی رہتی ہے، اُن کی ہم نوا ہو یا نہ ہو، وہ اگر خدا نے چاہا تو اپنا یہ انقلاب اِسی جماعت کے ذریعے سے برپا کر دیں گے:

چوں پختہ شوی خود رابر سلطنت جم زن

اِس سب کا ماخذ اُن کے نزدیک، سیرت نبوی ہے۔ ہم اِس وقت اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ رسول کی حیثیت سے جو انقلاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برپا کیا، وہ قرآن و سنت کی رو سے اِس لائحۂ عمل کا ماخذ بن بھی سکتا ہے یا نہیں ۔ برسبیل تنزل، ہم مان لیتے ہیں کہ بن سکتا ہے ، لیکن اِس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ ماخذ استدلال کیا خود اپنی جگہ ثابت بھی ہے ؟ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی قوم کے ارباب دانش کو اِس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ جس سیرت کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب انقلاب کی یہ داستان پچھلے دس پندرہ سال سے ہر جگہ سنا رہے ہیں، اُس کے بارے میں تاریخ کی یہ شہادت بالکل ناقابل تردید ہے کہ اُس میں یہ سب کچھ کبھی واقع ہی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے اِسے اپنے نہاں خانۂ دماغ میں کہیں پایا اور اپنے صحیفۂ دل میں کہیں پڑھا ہو تو یہ دوسری بات ہے ، لیکن جہاں تک قرآن مجید کی آیات، فقہ و حدیث کے ذخائر اور تاریخ و سیر کے دفاتر کا تعلق ہے ، اُن میں یہ سب کہیں موجود نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ، تاریخ کا کوئی گم گشتہ ورق نہیں ہے ۔ اُس کی سرگزشت احوال بالکل محفوظ اور اُس کا ہر پہلو صبح درخشاں کی طرح روشن ہے ۔ ہم اُس کی یہ گواہی ، بغیر کسی خوف تردید کے صفحۂ قرطاس پر ثبت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انقلاب تو یقیناًبرپا کیا اور تاریخ عالم کا سب سے حیرت انگیز انقلاب برپا کیا، لیکن اِس کے لیے جدوجہد کے دوران میں نہ بیعت سمع و طاعت کی بنیاد پر کوئی تنظیم قائم کی ، نہ اپنے صحابہ سے اِس کا کبھی مطالبہ کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِن نفوس قدسیہ نے تعلیم بھی پائی اور تزکیہ بھی حاصل کیا ، لیکن نہ اِس انقلاب کو برپا کر دینے کے لیے بحیثیت جماعت یہ کبھی میدان میں اترے، نہ اِس کے لیے کبھی تلوار اٹھائی ، نہ جہاد و قتال کی نوعیت کا کوئی اقدام کیا۔ انقلاب بے شک ، برپا ہوا، اور اُسے پیغمبر اور اُس کے چند ساتھیوں ہی نے برپا کیا، مگر یقین کیجیے تیر و تفنگ اور تیغ و تبر سے نہیں، بلکہ دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے ۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ اِس انقلاب کی جدوجہد میں کسی جارحانہ اقدام کے لیے تیغ وتبر تو ایک طرف ، ایک چھڑی اور ایک لٹھیا بھی کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کبھی نہیں دیکھی ۔ اِس کے لیے جدوجہد کی ابتدا بھی دعوت سے ہوئی اور انتہا بھی دعوت پر ہوئی۔ اِس میں دعوت سے آگے کوئی اقدام کبھی کیا ہی نہیں گیا۔ اِس کا ایک یہی مرحلہ ہے اور اِسی مرحلۂ دعوت میں یہ جدوجہد اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئی ۔ باور کیجیے ، تاریخ عالم کے اس حیرت انگیز انقلاب میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔ یہ خدا کی زمین پر دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے برپا ہو گیا۔ ہمارے قارئین ، ہو سکتا ہے کہ ہمارے اِس بیان پر تعجب کریں ، لیکن وہ تھوڑی دیر کے لیے توقف کر لیں ۔ ہم اِس کی پوری تفصیل اُن کے سامنے پیش کیے دیتے ہیں ۔ اِس انقلاب کی تاریخ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اِس کی دعوت ام القریٰ مکہ میں اپنی قوم کو دی ۔ کم و بیش دس سال تک یہ دعوت ہر پہلو سے قوم کے سامنے پیش کی گئی۔ اِسے بے شک ، کچھ لوگوں نے قبول کیااور اِس کے لیے اپنی قوم کا ہر ظلم بھی سہا، لیکن قوم ، بحیثیت قوم اِس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی ، یہاں تک کہ اللہ کی حجت پوری ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اب آپ یہ دعوت اپنی قوم کے دائرۂ اختیار سے باہر دوسرے قبائل کے سامنے پیش کریں۔ اِس حکم الٰہی کے تحت آپ نے حج کے موقع پر منیٰ میں یہ دعوت عرب کے مختلف قبائل کے سامنے پیش کی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سب نے انکار کر دیا ، مگر یثرب کے چند لوگ آگے بڑھے اور اُنھوں نے اِسے پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کر لیا۔ اُن کی تعداد بعض روایات میں چھ اور بعض میں آٹھ بیان کی گئی ہے ۔ اِس کے بعد آپ نے اِن لوگوں سے پوچھا : کیا تم میری پشت پناہی کرو گے؟ اِس کے جواب میں اُنھوں نے عرض کیا :

نحن مجتھدون للّٰہ ولرسولہ. نحن، فاعلم، اعداء متباغضون، وانما کانت وقعۃ بعاث عام الاول، یوم من ایامنا اقتتلنا فیہ. فان تقدم، ونحن کذا، لا یکون لنا علیک اجتماع، فدعنا حتی نرجع الی عشائرنا، لعل اللّٰہ یصلح ذات بیننا، وموعدک الموسم العام المقبل.(الطبقات الکبریٰ،ابن سعد۱/ ۱۴۸ ) ’’ہم اللہ اور اُس کے رسول کی خاطر اِس کام میں پوری طاقت صرف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اِس وقت ہم آپ کی خدمت میںیہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ باہمی عداوت میں مبتلا ہیں، ابھی پچھلے سال ہمارے ہاں جنگ بعاث ہوئی ہے، اِس حالت میں اگر آپ تشریف لے گئے تو ہم آپ کی قیاد ت پر جمع نہ ہو سکیں گے۔ آپ فی الحال ہمیں اپنے لوگوں کی طرف واپس جانے دیجیے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ہمارے باہمی تعلقات درست فرما دیں گے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آیندہ سال یہیں آپ سے پھر ملاقات ہو گی۔ ‘‘

چنانچہ یثرب پہنچ کر اُنھوں نے اِس کے لیے جدوجہد شروع کی۔ دوسرے سال، یعنی ۱۲۔ بعد بعثت میں ، اُن کے ۱۲ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ کے مقام پر ملے۔ اُن میں پانچ آدمی تو وہی تھے ، جنھوں نے پچھلے سال اسلام قبول کیا تھا۔ باقی سات آدمیوں میں سے پانچ قبیلۂ خزرج اور دو اوس کے تھے۔ اُن سے معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت اگرچہ اُن کے سب گھرانوں میں پھیل چکی ہے ، لیکن اُن کے ارباب حل و عقد ابھی تک ایمان نہیں لائے ۔ یہ لوگ مدینہ واپس جانے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت مصعب بن عمیر کو اِن کے ساتھ کر دیا ۔ اُن کی رہنمائی میں اِن لوگوں نے بڑی تیزی کے ساتھ یثرب میں اسلام کی دعوت پھیلانا شروع کی ۔ چنانچہ اگلے سال ، یعنی ۱۳۔ بعد بعثت میں ، زمانۂ حج آنے تک اوس وخزرج کے ارباب حل و عقد اور اشراف و اکابر اسلام میں داخل ہو گئے اور اِس طرح بغیر کسی جارحانہ اقدام کے دعوت اور محض دعوت کے ذریعے سے یثرب کا سیاسی اقتدار آں حضرت کو منتقل ہوا ،اسلامی تاریخ کا پہلا ’’دارالاسلام‘‘ وجود میں آیا اور یہ انقلاب برپا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرماں روا کی حیثیت سے اِسی عقبہ کے مقام پر اہل یثرب سے بیعت سمع و طاعت لی اور اِس کے کم و بیش تین ماہ بعد یثرب کا اقتدار سنبھالنے کے لیے مکہ سے روانہ ہو گئے ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی اپنی کتاب ، ’’سیرت سرور عالم‘‘ میں ’’بیعت عقبہ کی اہمیت‘‘ کے زیر عنوان لکھتے ہیں :

’’اسلام کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اہل یثرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محض ایک پناہ گزین کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام و فرماں روا کی حیثیت سے بلا رہے تھے ، اور اسلام کے پیرووں کو اُن کا بلاوا اِس لیے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سرزمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پا لیں ، بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں ، وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم اسلامی معاشرہ بنا لیں۔ اِس طرح یثرب نے دراصل اپنے آپ کو ’’مدینۃ الاسلام‘‘کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے قبول کر کے عرب میں پہلا ’’دارالاسلام‘‘ بنا لیا۔‘‘ (۲/۷۰۶)

تاریخ کا یہ حیرت انگیز انقلاب اِس طرح برپا ہوا۔ اِس کے لیے کوئی جتھا منظم نہیں ہوا ، کوئی مظاہرہ نہیں کیا گیا ، کوئی لاٹھی نہیں چلی ، کوئی تلوار نہیں اٹھائی گئی ، صرف دعوت پیش کی گئی ، اِس سے لوگوں کے دل و دماغ مسخر ہوئے ، اُن کے ارباب حل و عقد نے پورے شرح صدر کے ساتھ اِس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور خدا کی زمین پر ایک عالم نو نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی ۔ مدینہ پہنچتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس ریاست کا دستور تحریر کیا ۔ تاریخ میں یہ ’’میثاق مدینہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں یہود کو اپنی قیادت کے تابع ایک معاہد اقلیت کی حیثیت سے اِس نئی ریاست کا شہری تسلیم کیا ۔ اُنھیں اور مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے ایک وحدت قرار دیا ۔ دیت ، قصاص اور صلح و جنگ کا قانون رقم کیا او ریہ دفعہ پوری شان کے ساتھ اُس میں ثبت کر دی کہ خدا کی شریعت ’سپریم لا‘ ہے ، اِس لیے تمام نزاعات میں فیصلہ کن حیثیت اب اِس ریاست میں صرف اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہو گی۔ آپ نے لکھا:

وانکم مھما اختلفتم فیہ من شیء، فان مردہ الی اللّٰہ عز وجل والی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۲/۱۱۱) ’’اور جب کبھی تم میں کسی چیز کے متعلق کوئی اختلاف پیدا ہو گا تو فیصلے کے لیے اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا ۔ ‘‘

یہی ’’میثاق مدینہ‘‘ ہے جس کے بعد ایک باقاعدہ حکومت وجود میں آ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے سیاست ، معیشت ، معاشرت ، حدودوتعزیرات اور جہاد وقتال سے متعلق اسلام کا پورا قانون چند ہی برسوں میں اِس ریاست میں پوری طرح نافذ کر دیا ۔ چنانچہ فتح مکہ سے بہت پہلے نکاح ، میراث ، بیع و شرا ، مزارعت ، شفعہ ، سود اور جوئے کی حرمت وغیرہ کے ضوابط اِس میں نافذ کیے گئے ، صلح و جنگ کا اسلامی قانون جاری ہوا، شوریٰ کی روایت قائم ہوئی ، اللہ کی حدود مجرموں پر جاری کی گئیں ، انسانوں کے بیچ اونچ نیچ ، جبر و استبداد اور ظلم و استحصال کی جڑ کاٹی گئی، عدل و قسط کے تمام اعلیٰ تصورات لباس حقیقت میں نمودار ہوئے اور لوگوں نے اُنھیں اپنے ہاتھوں سے چھوا اور آنکھوں سے دیکھا ۔ یہ سب ہوا، اور اِس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا برپا کیا ہوا یہ انقلاب اپنے تمام ثمرات کے ساتھ منصہ عالم پر نمودار ہو گیا۔ یہ اِس انقلاب کی تاریخ ہے ۔ اِسے بار بار دیکھیے ، یہ قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے ، یہ حدیث و سنت کے ذخائر میں موجود ہے ، اِسے مورخوں نے قلم بند کیا ہے ، یہ فقہ و اصول کی کتابوں اور قرآن کی تفسیروں تک میں پڑھ لی جا سکتی ہے ، اِس کا ایک ایک ورق الٹ کردیکھ لیجیے ، آپ تسلیم کریں گے کہ جہاں تک قتال کا تعلق ہے ، وہ اِس کوبرپا کرنے کے لیے ہرگز نہیں ہوا، اِس انقلاب کے بالفعل برپا ہوجانے کے بعد ہوا ہے اور کسی ’’تنظیم اسلامی‘‘ اور اُس کے ’’امیر‘‘ کی قیادت میں نہیں ہوا ، بلکہ ایک باقاعدہ حکومت کی طرف سے ، جس کے شہریوں پر اُس کے فرماں روا کو ہر لحاظ سے کامل سیاسی اقتدار حاصل تھا ، مکہ اور جزیرہ نماے عرب کے آخری کناروں تک اِس انقلاب کی توسیع کے لیے ہوا ہے ۔ اِس فرق کو ذہن نشین کر لیجیے ، انقلاب کو برپا کرنے کے لیے نہیں، اِس انقلاب کے برپا ہو جانے کے بعد ایک باقاعدہ حکومت کے تحت اِس کی توسیع کے لیے ہوا ہے ۔ چنانچہ ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے اندر اِس کی اہلیت پاتا ہو تو وہ آج بھی اِسے برپا کرنے کی جدوجہد کر سکتا ہے ، لیکن اِس کا طریقہ یہ نہیں کہ کوئی داعی انقلاب اپنا جتھا منظم کر کے زور و قوت کے ساتھ اِسے امت پر مسلط کر دے ۔ اِس کے لیے پیغمبر کی سیرت سے کوئی رہنمائی اگر حاصل ہوتی ہے تو وہ یہی ہے کہ دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے مسلمانوں کو اپنا ہم نوا بنا کر اُن کی آزادانہ مرضی اور اُن کی رائے اور مشورے سے پہلے اِسے امت میں برپا کیا جائے، اور پھر اگر ضرورت ہو تو جہادو قتال کے ذریعے سے یہ امت اپنے فرماں رواؤں کی قیادت میں بالکل اُسی طرح پوری دنیا میں اِس کی توسیع کے لیے نکل کھڑی ہو، جس طرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام ، خلفاے راشدین کی قیادت میں روم و ایران کی بادشاہتوں میں اِس کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے اور اُنھوں نے اِن کی سرحدوں پر کھڑے ہو کر کہا تھا : اسلام لاؤ ، جزیہ دو یا لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ ۲؂ اِس انقلاب کی یہی تاریخ ہے جس کی بنا پر اسلامی قانون میں یہ دفعہ ثبت ہوئی ہے کہ جہادوقتال کے لیے حکومت شرط ہے ۔ یہ فقہ اسلامی کا مسلم قانون ہے ۔ صاحب ’’فقہ السنہ‘‘ لکھتے ہیں :

والنوع الثالث من الفروض الکفائیۃ ما یشترط فیہ الحاکم، مثل: الجھاد واقامۃ الحدود. (السید سابق ۳/۳۰) ’’اور کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے ، مثال کے طور پر جہاد اور اقامت حدود۔‘‘

شریعت کی رو سے جس طرح کوئی شخص اقتدار اور حکومت کے بغیر کسی زانی کو کوڑے نہیں مار سکتا، کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتا ، اِسی طرح جہاد وقتال کے لیے بھی اقدام نہیں کر سکتا ۔ اِس نوعیت کا ہر اقدام شریعت میں جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر نے اقتدار کے بغیر کبھی جہاد نہیں کیا۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ عالم کے پروردگار نے اُن کو اِس کی اجازت اُس وقت دی جب اُنھوں نے ہجرت کر کے اپنی جماعت کسی آزاد علاقے میں منظم کر لی اور اُن کا اقتدار اِس جماعت پر بزور و قوت قائم ہو گیا۔ اللہ کے یہ پیغمبر اِس معاملے میں اس قدر محتاط رہے ہیں کہ اُنھیں جب تک اقتدار حاصل نہیں ہوا ، قتال کا نام بھی اُن کی زبان پر کبھی نہیں آیا ۔ چنانچہ دیکھ لیجیے ، قرآن مجید کی وہ سورتیں جو ام القریٰ میں نازل ہوئیں، وہ اِس حکم سے بالکل خالی ہیں ۔ یہی حقیقت سیدنا موسیٰ اور سیدنا مسیح کی سیرت سے بھی صاف واضح ہوتی ہے ۔ اسلام کے نزدیک یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ جو نظام امارت اپنے لوگوں پر اللہ کی حدود نافذ کرنے اور ارتکاب جرم کی صورت میں مجرم کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا ، اُسے قتال کی اجازت دے دی جائے ۔ قاضی ابوبکر بن العربی سورۂ حج کی آیت ۴۰ کی شرح میں لکھتے ہیں :

قال علماؤنا رحمھم اللّٰہ: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبل بیعۃ العقبۃ لم یؤذن لہ فی الحرب ولم تحل لہ الدماء. (احکام القرآن ۳/۱۲۹۷) ’’ہمارے علما نے فرمایا ہے : حضور صلی اللہ علیہ سلم کو بیعت عقبہ سے پہلے نہ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ آپ کے لیے خون بہانا جائز ٹھیرایا گیا۔‘‘

اور، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ، یہ بیعت عقبہ وہی ہے ، جس سے جزیرہ نماے عرب میں اسلام کے دور اقتدار کی ابتدا ہوئی ۔ انقلاب اور انقلاب کے بعد اِس کی توسیع کا یہ نبوی منہاج ہے ۔ اِس سے ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ ’’بیعت سمع و طاعت‘‘ ، ’’ٹھیٹ فوجی نظم و ضبط کی حامل تنظیم‘‘ ، ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ اور ’’جہادو قتال‘‘ کے جو اساطیر ڈاکٹر صاحب پچھلے دس پندرہ سال سے اِس قوم کو سنا رہے ہیں ، اُن کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے :

ببیں تفاوت رہ از کجا ست تا بہ کجا

اسلامی انقلاب کے اِن علم برداروں کا المیہ یہ ہے کہ یہ نہ دین کو اُس کی صحیح تعبیر کے ساتھ اِس قوم کے سامنے پیش کر سکے ؛ نہ جاہلیت جدیدہ کے پیدا کیے ہوئے مسائل کا کوئی واضح حل اُس کے سامنے لا سکے ، نہ شریعت کو ملائیت کے تعصبات سے بالاتر ہو کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر سمجھنے کا کوئی اہتمام کر سکے ، نہ سیاست ، معیشت ، معاشرت، تعلیم وتعلم اور حدودوتعزیرات کے مسائل میں دین حق کی برتری ذہنوں پر قائم کر دینے میں کامیاب ہو سکے ؛ چنانچہ اِس کے نتیجے میں قوم نے اِن کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اب یہ ہنگامہ و احتجاج اور جہادو قتال کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کا فلسفہ سیرت نبوی سے برآمد کر رہے ہیں :

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق