زکوٰۃ کے بارے میں مولانا محترم نے اپنے پچھلے مضمون میں یہ فرمایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایت میں ’إلا بحقہا‘ کے الفاظ نے وہ استثنا پیدا کر دیا ہے جس کے باعث حکومتوں کو اپنے مسلمان شہریوں پر زکوٰۃ کے علاوہ ٹیکس عائد کرنے کا جواز مل گیا ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے مولانا محترم سے یہ گزارش کی تھی:

’’’إلا بحقہا‘ کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ’سوائے اس صورت میں کہ (شریعت ہی کے) کسی حق کے تحت وہ ان (یعنی جان و مال) سے محروم کر دیے جائیں۔‘‘

مولانا محترم اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

’’’إلا بحقہا‘ کی استثنا جان اور مال دونوں کے حوالے سے ہے اور دونوں صورتوں میں یہ استثنا موجود ہے کہ کلمۂ طیبہ پڑھنے، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کے باوجود اگر کسی مسلمان کی جان و مال سے کسی حق کے عوض تعرض ضروری ہوا تو ’عصموا منی‘ کی ضمانت کے تحت اسے تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور اس کی جان اور مال دونوں سے تعرض روا ہو گا۔ مثلاً جان کے حوالے سے یہ کہ کسی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا ہے تو قصاص میں اس کا قتل جائز ہو گا۔ کوئی شادی شدہ مسلمان زنا کا مرتکب ہوا ہے تو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق اسے سنگسار کیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان (نعوذ باللہ) مرتد ہو گیا ہے تو اسے بھی شرعی قانون کے مطابق توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر اس کے مال میں ریاست یا سوسائٹی کا کوئی حق متعلق ہو گیا ہے تو اس سے ضرورت کے مطابق مال لیا جاسکے گا۔ ‘‘

مولانا محترم نے ’إلا بحقہا‘ کے تحت جان کی امان سے جو استثنا بیان فرمائے ہیں، وہ سب کے سب دراصل ان کے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق وہ جرائم ہیں جن کے مرتکب کو شریعت ہی نے سزاے موت سنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ گویا مولانا محترم نے ہماری اس بات کی مثالوں کے ساتھ وضاحت کر دی ہے جو ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں عرض کی تھی۔ ’شریعت ہی کے کسی حق کے تحت وہ ان سے محروم کر دیے جائیں‘ کے اس کے سوا اور کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا اقدام کریں جس کی سزا، کفارے یا جرمانے کے طور پر ریاست کے لیے ان کی جان یا ان کے مال پر دست درازی کا حق قائم ہو جائے۔ ’إلا بحقھا‘ کا استثنا بس اسی حد تک ہے اور اسی کی مثالیں مولانا محترم نے دی بھی ہیں۔اگرچہ یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا، تاہم امید یہی ہے کہ مولانا محترم اس بات کو ناجائز ہی سمجھتے ہوں گے کہ شریعت کی سند کے بغیر کوئی مسلمان ریاست اپنے شہریوں کی جان لینا شروع کر دے۔ ظاہر ہے کہ اسی اصول کا اطلاق مال کی حرمت پر بھی ہو گا۔
مولانا محترم کی مذکورہ مثالوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ جان ہی کی طرح مال کی حرمت کا استثنا بھی اسی صورت میں پیدا ہوگا، جب کوئی شخص ایسے کسی جرم کا مرتکب ہو جس کی پاداش میں شریعت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس کا مال اس سے لیا جا سکتا یا اس پر کوئی جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ جس طرح جان کی حرمت کا استثنا شریعت ہی کے کسی قائم کردہ حق سے پیدا ہوگا، اسی طرح مال کی حرمت کا استثنا بھی شریعت ہی کے کسی قائم کردہ حق سے پیدا ہو گا، جیسے مثال کے طور پر قتل خطا کی صورت میں دیت کی وصولی یا کسی کا مال غصب کرنے کی صورت میں غصب شدہ مال کی وصولی۔ چنانچہ جس طرح کسی خاص صورت میں جان کی حرمت سے استثنا ماننے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ اس استثنا کے حق میں قرآن و سنت کے واضح نصوص پیش کیے جائیں اور ان نصوص کی غیر موجودگی میں ہر حال میں جان کی حرمت کو قائم سمجھا جائے، اسی طرح کسی خاص صورت میں مال کی حرمت سے استثنا ماننے کے لیے بھی یہ ضروری ہوگا کہ اس استثنا کے حق میں قرآن و سنت کے واضح نصوص پیش کیے جائیں اور ان نصوص کی غیر موجودگی میں مال کی حرمت کو بہرحال قائم سمجھا جائے۔
ظاہر ہے کہ اس وضاحت کے بعد اب جو شخص بھی حکومت کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ دیگر ٹیکس لگانے کو جائز سمجھتا ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وسنت کے واضح نصوص سے اس جواز کے حق میں دلیل پیش کرے۔
اس کے بعد مولانا محترم فرماتے ہیں:

’’سوال یہ ہے کہ اگر جان کی ضمانت سے استثنا کی صورتیں موجود ہیں تو مال کی حفاظت کی ضمانت سے استثنا کا امکان کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا؟ ‘‘

ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا محترم نے ہماری کس بات سے اخذ کیا ہے کہ ہم مال کی حرمت سے استثنا کا امکان تسلیم نہیں کرتے۔ ہم تو شروع سے یہ بات بیان کرتے آ رہے ہیں کہ شریعت ہی کا کوئی حق قائم ہونے کے نتیجے میں ایک شخص کی جان اور اس کے مال کی حرمت جزوی یا کلی طور پر ختم ہوسکتی ہے۔
اس کے بعد مولانا محترم مزید فرماتے ہیں:

’’اور اگر کسی بھی درجے کی شرعی دلیل سے اس کی ضرورت اور جواز مل جاتا ہے تو اسے ’عصموا منی‘ کی ضمانت کے منافی قرار دینے کا آخر کیا جواز ہے؟‘‘

’کسی بھی درجے کی شرعی دلیل‘ سے مولانا کی کیا مراد ہے، یہ ہم سمجھ نہیں سکے۔ اس میں، البتہ کوئی شبہ نہیں ہے کہ اگر قرآن وسنت کے واضح نصوص کی روشنی میں اضافی ٹیکس عائد کرنے کا جواز ثابت کر دیا جائے اور سورۂ توبہ کی متعلقہ آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب محولہ روایات کا اس پیش کردہ جواز کے ساتھ توافق ثابت کر دیا جائے تو پھر زکوٰۃ کے علاوہ اضافی ٹیکس کے ناجائز ہونے کے بارے میں استاذ محترم کی راے آپ سے آپ غلط ثابت ہو جائے گی۔ اس صورت میں یقینایہ اضافی ٹیکس ’عصموا منی‘ کی ضمانت کے منافی قرار نہیں دیا جا سکے گا۔
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی ایسی کوئی نص اگر ان کے سامنے موجود ہے تو پھر مہربانی فرما کر ہم جیسے طالب علموں کو بھی اس پر مطلع فرمائیں۔ ہم ان کے بے حد شکرگزار ہوں گے۔
اس کے بعد مولانا محترم فرماتے ہیں:

’’اگر معز امجد صاحب کو یاد ہو تو ہمارا پہلا اور اصولی سوال یہ تھا کہ اگر زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور ٹیکس کی ممانعت کی کوئی صریح دلیل موجود ہے تو ہماری رہنمائی کی جائے۔ مگر ان کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی واضح اور صریح دلیل موجود نہیں ہے اور وہ بھی اپنا موقف استدلال و استنباط کے ذریعے ہی واضح کرنا چاہے تو ہمیں اس تکلیف میں پڑنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے کہ امت کے اجتماعی تعامل اور فقہاے امت کے استدلال کو محض اس شوق میں دریا برد کر دیں کہ ہمارے ایک محترم دوست جاوید احمد غامدی صاحب نے نئے سرے سے قرآن و سنت کی تعبیر وتشریح اور اجتہاد واستنباط کا پرچم بلند کر دیا ہے۔‘‘

مولانا محترم بالکل بجا فرما رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے پہلے ہی مقالے میں یہ تقاضا کیا تھا کہ زکوٰۃ کے علاوہ ٹیکس کی ممانعت کی اگر کوئی ’صریح دلیل‘ ہے تو وہ پیش کی جائے۔ یقیناًیہ ہماری ہی سادہ لوحی ہے کہ اس کے جواب میں ہم نے قرآن مجید کی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایسے ارشادات پیش کرنے کی جسارت کی جن کو مان لینے کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ زکوٰۃ کے علاوہ مسلمانوں سے کوئی اور ٹیکس وصول کرنا ناجائز قرار پاتا۔ آخر قرآن کی آیات اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کب سے ’واضح اور صریح دلیل‘ قرار پانے لگے؟ ہم اس جسارت کے لیے مولانا محترم سے دست بستہ معافی مانگتے ہیں، تاہم اپنے عذر کے طور پر ہم مولانا سے صرف اتنی گزارش کرنا چاہیں گے کہ یہ جسارت ہم سے محض اس غلط فہمی کے باعث ہوئی کہ ہم نے قرآن مجید کی آیات بینات اور ان کے واضح تقاضوں کو بیان کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ارشادات کو ’صریح دلیل‘ سمجھا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ’صریح دلیل‘ تو محض اگلوں کے فہم کو کہا جاسکتا ہے، خواہ یہ فہم اپنے اندر الفاظ ومعنی کا کوئی تعلق رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ’واضح بات‘ وہ نہیں جو قرآن و سنت سے سمجھی جا رہی ہو، بلکہ ’واضح بات‘ کہلانے کی مستحق تو صرف وہ بات ہے جو اگلوں کے استدلال واستنباط میں بیان ہوئی ہو، خواہ اسے قرآن کی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ارشادات قبول کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔ پھر ہماری سادگی کی انتہا دیکھیے کہ ہم یہی سمجھتے رہے کہ قرآن وسنت سے ہم نے اگر کوئی غلط استدلال کیا تو مولانا محترم جیسے شفیق بزرگ علمی طریقے پر ہماری غلطی پر ہمیں متنبہ فرمائیں گے۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ علم کی دنیا اب اتنی بنجر ہو چکی ہے کہ اپنی قائم کردہ آرا سے ہٹ کر کسی نئی بات پر غور و تدبر کرنا، خواہ وہ بات قرآن وسنت ہی کی بنیاد پر کیوں نہ پیش کی جا رہی ہو، اس کے لیے ’باعث تکلیف‘ ہو چکا ہے۔
یہاں ہم قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ مولانا محترم کے ’واضح اور صریح دلیل‘ کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ہم نے سب سے پہلے سورۂ توبہ کی آیت کا حوالہ دے کر یہ گزارش کی تھی کہ اس کے الفاظ ’واضح اور صریح‘ طور پر ایک اسلامی ریاست کو اس بات کاحکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسلمان شہریوں کے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد ’ان کی راہ چھوڑ دے‘۔ ہم نے وہاں یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے نزدیک سورۂ توبہ کی آیت کے یہ الفاظ اسلامی ریاست سے یہ ’واضح اور صریح‘ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی کو چھوڑ کر اپنے مسلمان شہریوں سے قانون کے زور سے کوئی ایجابی مطالبہ نہیں کر سکتی۔ بلا شبہ، وہ ان سے مختلف معاملات میں تعاون کی اپیل کر سکتی اور اس پر انھیں ابھار سکتی ہے، مگر اپنی قانونی مشینری کے زور سے وہ ان پر کوئی اضافی ایجابی ذمہ داری نافذ نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا تھا جس میں آپ نے سورۂ توبہ کی آیت کے اس ’واضح اور صریح‘ حکم کے تحت اسلام قبول کر لینے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد لوگوں کے جان ومال میں ہر قسم کے حکومتی تصرف سے امان دی اور یہ اعلان فرما دیا کہ اس سے استثنا کی صورت صرف یہی ہے کہ شریعت ہی کے کسی حکم کے تحت ان کے جان و مال پر کوئی حق قائم ہو جائے، جیسے قتل کی صورت میں قصاص یا دیت کا حق قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم نے اسی کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ’واضح اور صریح‘ ارشاد کا حوالہ بھی دیا تھا جس کے تحت آپ نے لوگوں کی جان ومال کی حرمت کے پامال کرنے کو حرم کعبہ کی حرمت پامال کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ سب کچھ صاف بتا رہا ہے کہ کسی مسلمان ریاست کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ قانون کے زور سے اپنے مسلمان شہریوں کے مال میں سے زکوٰۃ کے علاوہ ایک پیسا بھی لے۔ یہ بتا رہا ہے کہ ایسا کرنے والی ریاست نے مسلمان کے مال کی اس حرمت کو پامال کیا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلان میں قائم کر دی تھی۔ یہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں کے مال کی حرمت پامال کرنے والی اسلامی ریاست کا جرم حرم کعبہ کی حرمت کو پامال کرنے کے برابر ہے۔ چنانچہ جرم کی اسی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ’واضح اور صریح‘ ارشاد بھی نقل کیا تھا کہ ’’کوئی ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ و مامون رکھے۔

[۲۰۰۱ء]

____________