جہاد کے علاوہ مولانا محترم نے ہمارے استاذ کی اس راے پر بھی اظہار خیال فرمایا تھا کہ: ’’زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔‘‘ مولانا محترم نے اپنے مضمون میں اس راے کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا:

’’لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

اس کے جواب میں ہم نے اپنی معروضات میں اپنے استاذ کی راے انھی کے الفاظ میں مولانا کی خدمت میں پیش کر دی تھی ۔
روزنامہ ’’اوصاف‘‘ کی ۱۷ مارچ کی اشاعت میں مولانا محترم نے استاذ گرامی کی اس راے پر اظہار خیال فرمایا ہے۔ وہ اب تک کے تبادلۂ خیالات کا خلاصہ اور استاذ گرامی کے استدلال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’زکوٰۃ کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی نے فرمایا تھا کہ اسلامی مملکت میں اجتماعی معیشت کے نظام کو چلانے کے لیے زکوٰۃ ہی کا نظام کافی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام نے حکومت کو اور کوئی ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا تھا کہ یہ درست ہے کہ اگر زکوٰۃ اور دیگر شرعی واجبات کا نظام صحیح طور پر قائم ہو جائے، تو معاشرے کی اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور کوئی ٹیکس لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور یہ بھی درست ہے کہ ٹیکسوں کا مروجہ نظام سراسر ظالمانہ ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجایش نہیں ہے، لیکن اگر کسی وقت قومی ضروریات زکوٰۃ اور بیت المال کی دیگر شرعی مدات سے پوری نہ ہوں تو کیا حکومت وقتی ضرورت کے لیے کوئی اور ٹیکس، جائز حد تک، لگانے کی مجاز ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ممانعت کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں ہے۔ اگر کوئی دلیل غامدی صاحب کے پاس موجود ہو تو وہ رہنمائی فرمائیں۔ اس کے جواب میں معز امجد صاحب نے قرآن کریم کی بعض آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات سے استدلال کیا ہے۔ مگر یہ استدلال ان کے موقف کی تائید نہیں کرتا۔ مثلاً انھوں نے سورۂ توبہ کی آیت کا حوالہ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘، ’’ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘ یعنی ’ان کی راہ چھوڑ دو‘ سے انھوں نے استدلال کیا ہے کہ ان سے اور کوئی مالی تقاضا کرنا درست نہیں ہوگا، مگر اس کی وضاحت میں مسلم شریف کی جو روایت انھوں نے پیش کی ہے، اس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دے دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور جب وہ ایسا کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے۔ یہاں اموال کے محفوظ ہو جانے کا مفہوم معز امجد صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ ان سے مزید کوئی مالی تقاضا نہیں ہو سکے گا، مگر اسی روایت میں ’الا بحقھا‘ کی استثنا موجود ہے جو خود انھوں نے بھی نقل کی ہے جس سے یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اسلام کے حقوق کے حوالے سے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال کا تقاضا مسلمانوں سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (روزنامہ اوصاف، ۱۷ مارچ، ۲۰۰۱ء)

مولانا محترم کی اس بات کا خلاصہ یہ ہے کہ روایت کے آخر میں ’إلا بحقھا‘ کے الفاظ نے وہ استثنا پیدا کردیا ہے جس کی بنیاد پر اب حکومت روایت میں مذکور مطالبات کے پورا کر دینے کے باوجود بھی اپنے مسلمان شہریوں پر مزید ذمہ داریاں عائد کر سکتی ہے۔
مولانا محترم کی اس بات کا جائزہ لینے سے پہلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ قارئین کے سامنے سورۂ توبہ کی محولہ آیت کا موقع و محل اور اس میں پایا جانے والا زور پوری طرح سے واضح کر دیں اور پھر اس آیت کے حکم کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی مذکورہ روایت کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ اس سے وہ بات کس حد تک نکلتی ہے جو مولانا محترم نے اس سے نکالی ہے۔ سورۂ توبہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد جزیرہ نماے عرب سے مشرکین کے خاتمے کا حکم نازل ہوا ہے۔ اسی حکم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات واضح فرما دی گئی کہ اب ان مشرکین کو زندگی کی مہلت صرف اسی صورت میں حاصل رہے گی کہ اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔ مذکورہ سورہ کی آیت ۵ میں ان مشرکین کی جان بخشی کے شرائط بیان ہوئے ہیں۔ ان میں اسلام کے خلاف عقائد سے توبہ کرنے، نماز کا اہتمام کرنے اور ریاست کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کرنے کے شرائط شامل ہیں۔ اس کے بعد مسلمان ریاست کو یہ حکم دیا ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے اگر یہ تقاضے پورے کر دیے جائیں ’تو پھر ان کی راہ چھوڑ دو‘۔ بہ الفاظ دیگر اس آیت میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کے بعد اب اس سرزمین پر آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق صرف انھی کا ہے جو اس پیغمبر پر ایمان لے آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس آیت نے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ وہ کون کون سے مطالبات ہیں جو ایک شخص کو مومن و مسلم سمجھنے کے لیے ریاست ان سے کر سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ کا پورا زور سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس آیت میں مسلمان ریاست کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو مسلمانوں کے حقوق دینے کے لیے ان سے کون کون سے مطالبات کر سکتی ہے۔ اس صورت میں مولانا محترم ہی ہمیں سمجھائیں کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ کے معنی اس کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں کہ مذکورہ مطالبات کو پورا کر دینے کے بعد ان کے اوپر اور کوئی ذمہ داری نہ ڈالو، ان پر مزید کوئی بوجھ نہ ڈالو اور انھیں وہ تمام حقوق دینے کے لیے، جو ایک اسلامی ریاست کے شہری کی حیثیت سے انھیں حاصل ہونے چاہییں، ان سے مزید کوئی تقاضا نہ کرو۔ اس حکم کی موجودگی میں نہ صرف یہ کہ ایک اسلامی ریاست کے لیے اپنے مسلمان شہریوں پرزکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، بلکہ قانونی و اخلاقی منکرات سے اجتناب کو چھوڑ کر، ان پر کسی بھی قسم کی کوئی مزید قانونی ذمہ داری عائد کرنے کی راہ بھی مسدود ہو جاتی ہے۔
آیت کا یہ مفہوم بالکل واضح ہے۔ مولانا محترم کے نزدیک مذکورہ آیت کے اگر وہ معنی نہیں ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں تو ہماری گزارش ہے کہ وہ مہربانی فرما کرآیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں ہماری غلطی ہم پر واضح فرما دیں۔
اس آیت کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی مذکورہ روایت کو اگر دیکھا جائے تو ظاہر ہے کہ اس کے وہ معنی کسی طرح بھی نہیں ہو سکتے جو مولانا محترم نے بیان فرمائے ہیں۔ اس صورت میں روایت میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ قرآن مجید کے خلاف قرار پائے گی اور اس وجہ سے اس روایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے بارے میں شبہ پیدا ہو جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ تو کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے واضح حکم کے خلاف کوئی بات ارشاد فرمائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ روایت میں ’إلا بحقھا‘ کے الفاظ میں جو استثنا بیان ہوا ہے، اس کے وہ معنی ہی نہیں ہیں جو مولانا محترم نے بیان فرمائے ہیں۔ ’إلا بحقھا‘ کے معنی اگر وہ ہیں جو مولانا محترم نے بیان فرمائے ہیں تو اس سے نہ صرف یہ روایت قرآن مجید کے واضح حکم کے خلاف قرار پاتی ہے، بلکہ خود اس روایت میں بھی جو بات بیان ہوئی ہے، وہ بھی بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس پوری روایت پر ایک مرتبہ پھر سے نظر ڈال لیجیے۔ اس روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 

أمرت أن أقاتل الناس حتی یشہدوا أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأن محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلٰوۃ ویؤتوا الزکٰوۃ فإذا فعلوا عصموا منی دماء ہم وأموالہم إلا بحقہا وحسابہم علی اللّٰہ.(مسلم،رقم۳۳)
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب و ہ یہ شرائط پوری کر دیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

غور کیجیے، اگر ’إلا بحقھا‘ کے معنی فی الواقع وہی ہوں جو مولانا محترم بیان فرما رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی جان و مال کو اپنی جو امان دی ہے، وہ بالکل ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ اس صورت میں پوری بات کچھ یوں ہو جائے گی کہ’’لوگوں کی جان و مال کی حرمت اس وقت تک کے لیے ختم ہوگئی ہے ،جب تک وہ اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت کا اقرار نہ کر لیں اور نماز کا اہتمام اور زکوٰۃ ادا نہ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو پھر ان کے جان و مال مجھ سے مامون ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ میں ان پر کوئی خراج عائد کروں (یا کسی مقصد سے ان کی جان لینے کا فیصلہ کروں)۔ ‘‘ ظاہر ہے کہ ’إلا بحقھا‘ کے استثنا کے اگر یہ معنی ہیں، جیسا کہ مولانا محترم نے بیان فرمایا ہے تو اس کے نتیجے میں لوگوں کی جان ومال کو ایمان لانے، نماز و زکوٰۃ ادا کرنے کے باوجود بھی کوئی امان حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ عربیت کی رو سے ’إلا بحقھا‘ میں جو استثنا بیان ہوا ہے، اس میں صرف مال کی حرمت کا استثنا نہیں، بلکہ جان کی حرمت کا استثنا بھی شامل ہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح شریعت ہی کا کوئی حق قائم ہوئے بغیر ریاست اپنے کسی شہری کی جان نہیں لے سکتی، بالکل اسی طرح شریعت ہی کا کوئی حق قائم ہوئے بغیر وہ اپنے کسی شہری کے مال کی حرمت کو بھی پامال نہیں کر سکتی۔ یہی وہ بات ہے جو زیر غور روایت میں بیان ہوئی ہے۔ ’إلا بحقھا‘ کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ’’سوائے اس صورت میں کہ (شریعت ہی کے ) کسی حق کے تحت وہ ان (یعنی جان و مال) سے محروم کر دیے جائیں۔‘‘ ابو طیب ’’عون المعبود‘‘ میں لکھتے ہیں:

إلا بحقھا أی الدماء والأموال و الباء بمعنی عن یعنی ھی معصومۃ إلا عن حق اللّٰہ. (۷/ ۲۱۶)
’’’إلا بحقھا‘ سے مراد جان اور مال پر حق کا قائم ہونا ہے۔ یہاں ’باء‘، ’عن‘ کے معنی میں ہے، یعنی یہ دونوں مامون ہیں سوائے اس کے کہ ان پر اللہ ہی کا (بیان کردہ) کوئی حق قائم ہو جائے۔‘‘

عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ سنن ترمذی کی شرح ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’اسلام میں داخل ہوجانے اور نماز کے قائم اور زکوٰۃادا کر دینے کے بعد لوگوں کا خون بہانا اور ان کے اموال کو کسی بھی سبب سے مباح کرنا ناجائز ہے، سوائے اس کے کہ اسلام ہی کا کوئی حق ان کے جان و مال پر قائم ہو جائے۔ مثال کے طور پر قصاص کے قانون کے تحت کسی کی جان لینا یا کسی سے غصب شدہ مال واپس لینا۔‘‘ یہی بات مناوی رحمہ اللہ نے ’’فیض القدیر‘‘ میں بھی لکھی ہے۔ اسی طرح ابو الفرج حنبلی اپنی کتاب ’’جامع العلوم والحکم‘‘ میں ’إلا بحقھا‘ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومن حقھا الإمتناع عن الصلاۃ والزکاۃ بعد الدخول فی الإسلام کما فھمہ الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم.(۱/۸۵)
’’اور وہ حقوق جو ان پر قائم ہوتے ہیں، ان میں سے اسلام لانے کے بعد نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار ہے، جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم سے واضح ہے۔ ‘‘

اس ساری تفصیل سے یہ بات پوری طرح سے واضح ہو جاتی ہے کہ ’إلا بحقہا‘ کے وہ معنی کسی طرح بھی نہیں لیے جا سکتے جو مولانا محترم بیان فرما رہے ہیں۔
اس کے بعد مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’پھر انھوں نے ابن ماجہ کی یہ روایت پیش کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی حق عائد نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی ترمذی کے حوالے سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی نقل کر دیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق موجود ہے۔ اس لیے میرے خیال میں یہ آیات اور روایات غامدی صاحب کے موقف کے بجاے ہمارے موقف کی تائید کرتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس بھی اسلامی حکومت کی طرف سے عائد کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘ (روزنامہ اوصاف،۱۷ مارچ، ۲۰۰۱ء)

مولانا محترم کی یہ بات پڑھ کر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ہماری معروضات کو اپنی توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔ ہم نے اپنے مضمون میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی یہ دوبظاہر متناقض فرمان ہی نقل نہیں کیے، بلکہ ان کے باہمی تناقض کو حل کرنے کے لیے ان کا الگ الگ محل بھی واضح کیا ہے۔ یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ان روایتوں کو ہم نے جس محل میں سمجھا ہے، وہ ہو سکتا ہے کہ مولانا محترم کی نظر میں درست نہ ہو، لیکن معاملہ اگر فی الواقع یہی ہے تو پھر مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ وہ کم از کم ان دونوں روایتوں کا صحیح محل ہی واضح فرما دیں جس سے ان کے باہمی تناقض کو حل کرنے کی کوئی راہ کھل جائے۔ اس وضاحت کے بغیر مولانا محترم اگر محض یہ کہہ کر آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں کہ ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی حق عائد نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق موجود ہے۔‘‘ تو پھر یقیناًقارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیا مولانا محترم اس بات کے قائل ہیں کہ مختلف موقعوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہم متناقض تعلیمات ارشاد فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ان دونوں ارشادات کے محل بالکل الگ الگ ہیں۔ ایک میں آپ نے حکومت کے حوالے سے یہ فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے اموال میں زکوٰۃ کے بعد حکومت کا کوئی اور حق قائم نہیں ہوتا، جبکہ دوسری روایت میں آپ نے قرابت مندوں، غربا، مساکین اور معاشرے کے اہل حاجت کے حوالے سے یہ فرمایا ہے کہ زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد بھی مسلمانوں کے اموال میں ان لوگوں کی مالی امداد کرنے کا حق قائم ہوتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر حکومت تو اگرچہ زکوٰۃ کے علاوہ مسلمانوں سے جبری طور پر کچھ وصول کرنے کا حق نہیں رکھتی، تاہم مسلمانوں پر اجتماعی و انفرادی ضروریات کے لیے خرچ کرنے کی ذمہ داری اس کے بعد بھی قائم ہوتی ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اس سے ملتی جلتی بات اس طرح سے واضح کی ہے:

وفیہ أن فی المال حقًا سوی الزکاۃ. وأجاب العلماء عنہ بجوابین: أحدھما أن ھذا الوعید کان قبل فرض الزکاۃ و یؤیدہ ما سیاتی من حدیث بن عمر فی الکنز لکن یعکر علیہ أن فرض الزکاۃ متقدم علی إسلام أبی ھریرۃ کما تقدم تقریرہ. ثانی الأجوبۃ أن المراد بالحق القدر الزائد علی الواجب ولا عقاب بترکہ وإنما ذکر إستطرادًا لما ذکر حقھا بین الکمال فیہ وإن کان لہ أصل یزول الذم بفعلہ وھو الزکاۃ. (۳/ ۲۶۹)
’’اور اس میں یہ بھی ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق قائم ہوتا ہے۔ علما نے اس (باہمی تناقض) کے دو طرح سے جواب دیے ہیں: ایک یہ کہ یہ بات زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے فرمائی گئی ہو گی۔ کنز کے بارے میں ابن عمر کی روایت، جس کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے، اس توجیہ کی تائید کرتی ہے، مگر اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت حضرت ابو ہریرہ کے اسلام لانے سے پہلے ہو چکی تھی، جیسا کہ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں ’حق‘ سے مراد وہ اضافی مقدار ہے جو زکوٰۃ واجب کے ادا کر دینے کے بعد دی جائے جس کے نہ ادا کرنے پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔ اس کا ذکر اس معاملے میں درجۂ کمال کی تعلیم کے حوالے سے کیا گیا ہے، اگرچہ وہ ادائیگی جس کے بعد حق واجب مکمل طور پر پورا ہو جاتا ہے، وہ زکوٰۃ ہی ہے۔‘‘

جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، اس ’اضافی حق‘ کی مثال وہ خرچ ہے جو کوئی شخص کسی اجتماعی یا انفرادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں غزوات کے موقعوں پر ان کا خرچ اسی مد میں آئے گا۔ یہ معلوم ہے کہ ریاست مدینہ میں مسلمانوں سے زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ چنانچہ جب کسی اجتماعی ضرورت کے لیے پیسا جمع کرنے کی ضرورت پیش آتی تو اس مقصد کے لیے ریاست کی طرف سے اپیل کی جاتی تھی جس پر مسلمان دل کھول کر اپنی جمع پونجی لٹا دیتے تھے۔ اس سے یہ بات بھی بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست مدینہ کو بارہا ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے لیے زکوٰۃ کے پیسے سے اپنی ضرورتیں پوری کرنی مشکل ہو گئیں، مگر ایسے حالات میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کے مسلمان شہریوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا، بلکہ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مسلمانوں سے اپنی مقدور بھر اعانت کرنے کی اپیل کی۔ یہ واقعات خود اس بات کی دلیل ہیں کہ ’’اگر کسی وقت قومی ضروریات زکوٰۃ اور بیت المال کی دیگر شرعی مدات سے پوری نہ ہوں‘‘، جیسا کہ مولانا نے یہ سوال اٹھایا ہے، تب بھی ریاست اپنے مسلمان شہریوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ ریاست اپنے مسلمان شہریوں سے مالی اعانت کی اپیل کرے۔ اس طرح کی کسی قومی ایمرجنسی میں ریاستی اپیل کے جواب میں قرآن مجید مسلمانوں کو ’العفو‘ یعنی ان کے پاس اپنی ضروریات سے بڑھ کر جو کچھ ہو، وہ سب خرچ کر دینے کی ہدایت کرتا ہے۔
اس کے بعد مولانا محترم نے مولانا مناظر احسن گیلانی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمہما اللہ کے حوالے سے امت کے بعض جلیل القدر بزرگوں کی یہ راے نقل کی ہے کہ:

’’اجتماعی ضروریات ،مثلاً نہر کھودنے، دفاعی تیاریوں ،فوج کی تنخواہ اور قید کی رہائی وغیرہ کے لیے مزید ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔ البتہ ، ہنر مندوں اور کاروباری لوگوں پر ان کے ہنر یا کاروبار کے حوالے سے جو ٹیکس لگائے جاتے ہیں، وہ ظالمانہ ہیں اور شریعت میں ان کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ‘‘(روزنامہ اوصاف، ۱۷ مارچ، ۲۰۰۱ء)

اوپر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ دین کے ان اصل ماخذوں سے مسلمان شہریوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس عائد کرنے کی کوئی گنجایش نہیں نکلتی۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کے بعد کسی شخص کی بات یہ حیثیت نہیں رکھتی کہ اسے ان آیات و ارشادات سے نکلنے والے حکم پر ترجیح دی جائے، اس وجہ سے مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے تو ہمارے استدلال کی کمزوری ہم پر واضح فرمائیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی مذکورہ آیت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے محولہ ارشادات سے مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد کرنے کی حرمت اگر ثابت نہیں ہوتی تو مولانا کو ٹیکس کے جواز کا استدلال کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر دین و شریعت میں واضح طور پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف کوئی حکم موجود نہیں ہے تو اس کے نتیجے میں آپ سے آپ زکوٰۃ کے علاوہ مزید ٹیکس لگانا جائز قرار پائے گا۔ مولانا محترم کو اس کے جواز کے لیے کسی استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔
اس وجہ سے مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ لوگوں کی آرا کا حوالہ دینے کے بجاے ہمارے استدلال کی غلطی واضح فرما دیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی راے آپ سے آپ صائب قرار پا جائے گی۔
مولانا محترم مزید لکھتے ہیں:

’’... اصولی طور پر قومی ضروریات کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ اسلامی حکومت جائز حد تک اور ٹیکس بھی لگا سکتی ہے اور اس کی کوئی واضح شرعی ممانعت موجود نہیں ہے۔ ‘‘ (روزنامہ اوصاف، ۱۷ مارچ، ۲۰۰۱ء)

ہمارے نزدیک وہ ’’جائز حد‘‘ جس تک حکومت کو اپنے مسلمان شہریوں سے ٹیکس لینے کا حق حاصل ہے، وہ زکوٰۃ ہی ہے۔ مولانا محترم کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اگر فی الواقع حکومت کے پاس اپنے مسلمان شہریوں پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار موجود ہوتا تو پھر اموال، مواشی اور پیداوار وغیرہ پر زکوٰۃ کی زیادہ سے زیادہ شروح متعین کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مختلف صورتوں پر زکوٰۃ کی زیادہ سے زیادہ شروح کی تعیین کرنے کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے کہ حکمرانوں کے ہاتھوں ٹیکس کے ذریعے سے ہونے والے لوگوں کے استحصال کے خلاف پیش بندی کر دی جائے۔ ظاہر ہے کہ اگر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور ٹیکس عائد کرنے کی گنجایش موجود ہوتی تو پھر زکوٰۃ کی زیادہ سے زیادہ شروح متعین کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آخر زکوٰۃ کی متعین شروح میں اضافہ کرنے یا کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے میں وہ کون سا فرق ہے جس کے باعث ایک جائز اور ایک ناجائز ٹھہرتا ہے؟ چنانچہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اسی حکمت کو واضح کرتے ہوئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن انس رضی اللہ عنہ کو مختلف صورتوں پر عائد ہونے والی زکوٰۃ کی شروح واضح کرتے ہوئے یہ ہدایت بھیجی تھی:

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ھذہ فریضۃ الصدقۃ التی فرض رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی المسلمین والتی أمر اللّٰہ بھا رسولہ فمن سئلھا من المسلمین علی وجھھا فلیعطھا ومن سئل فوقھا فلا یعط.(بخاری، رقم ۱۳۶۲)

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ صدقات کے معاملے میں یہ وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا۔ چنانچہ مسلمانوں سے جب اس کے مطابق مانگا جائے تو انھیں چاہیے کہ وہ اسے ادا کر دیں اور جب ان سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو پھر وہ نہ دیں۔‘‘

اسی طرح جب انھوں نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تو لوگوں کے معارضہ پر یہ حقیقت پوری قطعیت کے ساتھ اس طرح واضح فرمائی :

قال اللّٰہ تعالٰی، فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ، واللّٰہ لا أسئل فوقھن ولا أقصر دونھن. (احکام القرآن،الجصاص ۲/ ۸۲)
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اس کے بعد اگر وہ توبہ کر لیں، اورنماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ، (اس لیے) خدا کی قسم ، میں ان شرطوں پر کسی اضافے کا مطالبہ کروں گا اور نہ ان میں کوئی کمی برداشت کروں گا۔ ‘‘

اسی طرح حضرت عمر بن عبد العزیز کو جب ان کے بعض عمال نے یہ لکھا کہ لوگوں کے مسلمان ہونے سے چونکہ حکومت کی وصولی میں کمی ہو جاتی ہے، اس وجہ سے لوگوں سے مسلمان ہونے کے بعد بھی جزیہ وصول کیا جاتا رہے تو انھوں نے ’’جائز حد‘‘ ہی تک صحیح مسلمانوں پر کوئی اضافی ٹیکس عائد کرنے سے انکار کرتے ہوئے لکھا:

فإن اللّٰہ بعث محمدًا صلی اللّٰہ علیہ وسلم داعیًا ولم یبعثہ جابیًا فإذا أتاک کتابی ھذا فارفع الجزیۃ عمن أسلم من أھل الزمۃ. (احکام القرآن، الجصاص ۴/۲۹۶)
’’اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کی طرف پکارنے والا بنا کر بھیجا تھا، لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا۔ چنانچہ اس خط کے پہنچتے ہی اسلام قبول کرنے والوں پر سے جزیہ ختم کر دو۔‘‘

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں زکوٰۃ کی شرحیں متعین کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ثم مست الحاجۃ إلی تعیین مقادیر الزکاۃ إذا لو لا التقدیر لفرط المفرط ولا عتدی المعتدی. ویجب ان تکون غیر یسیرۃ لا یجدون بہا بالًا ولا تنجع من بخلھم ولا ثقیلۃ یعسر علیھم اداؤھا. (۲/ ۳۹)
’’پھر ضرورت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ مختلف صورتوں کے لیے زکوٰۃ کی مقدار متعین کر دی جائے۔ اگر یہ تعیین نہ کی جاتی تو زیادتی کرنے والوں کی زیادتی کی راہ کھلی رہتی۔ یہ ضروری تھا کہ یہ مقدار نہ اتنی کم ہو کہ لوگ اسے کوئی اہمیت نہ دیں اور نہ اتنی زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی لوگوں کے لیے بہت مشکل ہو جائے۔‘‘

زکوٰۃ کی متعین شرحیں ہی وہ ’’جائز حد‘‘ ہے جس تک ایک اسلامی ریاست اپنے مسلمان شہریوں سے وصولی کر سکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر ٹیکس لینا ’’ناجائز‘ ‘حدود میں داخل ہونا ہی ہے۔ بہرحال مولانا محترم اگر اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے طے کردہ حدود سے آگے بھی ’’جائز‘‘ و ’’ناجائز‘ ‘کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو پھر وہی مہربانی فرما کر یہ واضح فرمادیں کہ اس معاملے میں جائز و ناجائز کا فیصلہ کون کرے گا؟

____________