اخبار کے بیان کے مطابق استاذگرامی نے کہا ہے:

’’زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔‘‘

مولانا محترم اس بیان کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’... لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

استاذ گرامی اپنی بہت سی تحریروں میں اپنی راے کی بنیاد واضح کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون ’’قانون معیشت‘‘ میں وہ لکھتے ہیں:

’’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ. (التوبہ ۹: ۵)
’’پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘

سورۂ توبہ میں یہ آیت مشرکین عرب کے سامنے ان شرائط کی وضاحت کے لیے آئی ہے جنھیں پورا کر دینے کے بعد وہ مسلمانوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست کے شہری بن سکتے تھے۔ اس میں ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ‘ (ان کی راہ چھوڑ دو) کے الفاظ اگر غور کیجیے تو پوری صراحت کے ساتھ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آیت میں بیان کی گئی شرائط پوری کرنے کے بعد جو لوگ بھی اسلامی ریاست کی شہریت اختیار کریں، اس ریاست کا نظام جس طرح ان کی جان، آبرو اور عقل و راے کے خلاف کوئی تعدی نہیں کر سکتا، اسی طرح ان کی املاک، جائدادوں اور اموال کے خلاف بھی کسی تعدی کا حق اس کو حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر اسلام کے ماننے والے ہیں، نماز پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں تو عالم کے پروردگار کا حکم یہی ہے کہ اس کے بعد ان کی راہ چھوڑ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان واجب الاذعان کی رو سے ایک مٹھی بھر گندم، ایک بالشت زمین، ایک پیسا، ایک حبہ بھی کوئی ریاست اگر چاہے تو ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لے لینے کے بعد بالجبر ان سے نہیں لے سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت میں فرمایا ہے:

أمرت أن أقاتل الناس حتی یشہدوا أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأن محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلٰوۃ ویؤتوا الزکٰوۃ فإذا فعلوا عصموا منی دماء ہم وأموالہم إلابحقہا وحسابہم علی اللّٰہ.(مسلم،رقم ۳۳)
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں،یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ و ہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الاّ یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں اس طر ح بیان فرمائی ہے:

إن دماء کم وأموالکم حرام علیکم کحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا.(مسلم،رقم ۲۱۳۷)

’’بے شک، تمھارے خون اور تمھارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں ۱؂ ، جس طرح تمھارا یہ دن (یوم النحر) تمھارے اس مہینے (ذوالحجہ) اور تمھارے اس شہر (ام القریٰ مکہ) میں۔‘‘

اس سے واضح ہے کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست زکوٰۃ کے علاوہ جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کر دی ہے، اپنے مسلمان شہریوں پر ان کی رضامندی کے بغیر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إذا أدیت زکٰوۃ مالک فقد قضیت ما علیک. (ترمذی رقم ۵۶۱)
’’جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو تو وہ ذمہ داری پوری کر دیتے ہو جو (ریاست کی طرف سے) تم پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:

لیس فی المال حق سوی الزکٰوۃ.(ابن ماجہ،رقم ۱۷۷۹)
’’لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے سوا (حکومت کا) کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔‘‘

ارباب اقتدار اگر اپنی قوت کے بل بوتے پر اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ ایک بد ترین معصیت ہے جس کا ارتکاب کوئی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف کر سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا یدخل الجنۃ صاحب مکس.(ابو داؤد،رقم ۲۵۴۸)
’’کوئی ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔‘‘

اسلام کا یہی حکم ہے جس کے ذریعے سے وہ نہ صرف یہ کہ عوام اور حکومت کے مابین مالی معاملات سے متعلق ہر کشمکش کا خاتمہ کرتا، بلکہ حکومتوں کے لیے اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا کر قومی معیشت میں عدم توازن پیدا کردینے کا ہر امکان بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔
تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مال سے متعلق اللہ پروردگار عالم کے مطالبات بھی اس پر ختم ہو جاتے ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ اس معاملے میں اصل مطالبہ انفاق کا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح یہ فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد حکومت کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے:

إن فی المال حقًا سوی الزکٰوۃ.(ترمذی،رقم ۵۹۶)
’’بے شک، مال میں زکوٰۃ کے بعد بھی (اللہ کا)ایک حق قائم رہتا ہے۔‘‘‘‘

(ماہنامہ اشراق، اکتوبر ۱۹۹۸ء ، ۲۹ ۔ ۳۲)

امید ہے کہ دیے گئے اقتباس سے مولانا محترم پر استاذ گرامی کا استدلال پوری طرح سے واضح ہو جائے گا۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس استدلال میں اگر کوئی خامی دیکھیں تو ہمیں اس سے ضرور آگاہ فرمائیں۔

 

_______

۱؂ مال کی یہ حرمت اس بات کے لیے کوئی گنجایش نہیں چھوڑتی کہ اللہ اور رسول کے علاوہ کوئی ایک حبہ بھی جبراً کسی سے لینے کی کوشش کرے۔

____________