امت مسلمہ کو لگنے والا دوسرا مرض وہ ہے جو شریعت کو اس کے لیے بے وقعت بنادیتا ہے۔یہ مرض ظاہر پرستی کا ہے۔ یہ انسان کی کمزور ی ہے کہ وہ معنوی حقائق کو براہ راست سمجھنے کی کامل استعداد نہیں رکھتا۔ چنانچہ ان معنوی حقائق کو اس کے ذہن میں تازہ رکھنے کے لیے خدا کی شریعت کچھ ظواہر کو استعمال کرتی ہے۔مثال کے طور پر خدا کی یاد تو ہر حال میں انسان کے دل و دماغ میں زندہ رہنی چاہیے ، لیکن چونکہ انسان بھول جانے کی ایک مستقل صفت اپنے اندر رکھتا ہے ، اس لیے نماز کو خدا کی یاد کے لیے ہر شریعت کا حصہ بنایا گیا ہے۔نماز خدا کی مقرر کردہ ہے ، اس لیے ہر حال میں قابل اتباع چیز ہے، مگر ایک ظاہر پرست ذہن سے نماز کی یہ اصل کہ نماز کا مقصد خدا کی یاددہانی ہے* تو محو ہوجاتی ہے اور اس کا تمام تر دھیان نماز کی ظاہری ہےئت اور اس کی جزئیات کی طرف ہوجاتا ہے۔جزئیات میں چونکہ اختلاف کی گنجایش رہتی ہے ، اس لیے تفرقہ بازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد صرف اس بات پر کسی شخص کے کفر و ایمان کا فیصلہ صادر ہوتا ہے کہ اس نے ’’رفع یدین‘‘ کیا یا نہیں۔اور بعض اوقات اس بات پر ایک نئی مسجد بنادی جاتی ہے کہ جماعت کی تکبیر میں کس وقت کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ رویہ بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ دین کی ہر چیز اختلافی ہوجاتی ہے۔اس طرح یہ ظاہر فرقہ پرستی فرقہ بندی کا بنیادی سبب بن جاتی ہے،جس کے بعد امت مسلمہ کے افراد اپنی شناخت مسلمان کے بجاے ان ناموں سے کراتے ہیں جن سے اللہ اور رسول کا کوئی تعلق نہیں۔
یہی ظاہر پرستی ہے جس کے نتیجے میں لوگ دین کے نام پر شرعی احکام میں فروعی چیزوں کا اضافہ کرتے ہیں اور اس کے بعد انھیں اصل شریعت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ہم دین میں فقہی احکامات کے مخالف ہیں، نہ اس کی اہمیت سے بے خبر۔ فقہ زندگی کی لازمی ضرورت ہے جس کا انکار کوئی ناواقف شخص ہی کرسکتا ہے۔ہمارا عتراض صرف اس رویہ پر ہے جس میں فقہ کو شریعت میں ملاکر اس کے برابر یا اس سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
بات یہ ہے کہ خدا کی شریعت جو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہے، بہت مختصر ہے ۔ یہ صرف انھی احکام کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے جہاں انسانی عقل پہنچنے سے عاجز ہے۔ مثلاً عبادات جن میں انسان کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ خدا کی عبادت کا بہترین طریقہ کیا ہے۔چنانچہ شریعت نے عبادات کو موضوع بنایا اور اس سلسلے میں تفصیلی احکامات دیے ۔اسی طرح وہ مقامات جہاں عقل انسانی ٹھوکر کھاجاتی ہے ، وہاں بھی شریعت نے اس کی رہنمائی کی ہے۔ مثلاً معاشرتی معاملات میں زن و شو کے حقوق و فرائض یا معاشی میدان میں سود کی حرمت وغیرہ۔
تاہم ایک محدود دائرے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو آزاد چھوڑا ہے کہ وہ اپنے حالات کے اعتبار سے اپنی زندگی کے معاملات میں جو چاہے قانون سازی کرے، تاہم یہ قانون سازی ایک انسانی کام ہے۔ یہ مقدس نہیں ہے۔ اس میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ یہ سب باتیں صرف اس وقت واضح ہوں گی، جب یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ اصل شریعت اس قانون سازی سے بلند چیز ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دے کر گئے ہیں۔ جس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ جو اجتہاد کا موضوع نہیں ہے۔لیکن جب یہ بات لوگوں پر واضح نہیں ہوتی تومقدس شریعت میں انسانی قانون سازی کا پیوند لگاتے ہیں اور اسی کو دنیا کے سامنے دین حق کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ جب انسانی کاموں پر بعض اعتراضات سامنے آتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ گویا شریعت پر اعتراض ہورہا ہے۔جس کے بعد ایک طرف تو معترضین کی تکفیر کی جاتی ہے اور دوسری طرف فقہی کام کے دفاع میں اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں ضائع کی جاتی ہیں۔انفارمیشن ایج میں کھڑے ہوکر ایگریکلچرل ایج کے انسانی کام کے دفاع کے نتائج اکثر یہ نکلتے ہیں کہ لوگوں کی نگاہوں میں پورا دین ہی بے وقعت یا ناقابل عمل ہوجا تا ہے،اور بد قسمتی سے یہی اس وقت ہورہا ہے۔
ظاہر پرستی کا ایک اور اثر اخلاقی حالت پر پڑتا ہے، جسے ہم آگے’’ اخلاقی پستی‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کریں گے،تاہم ان سب چیزوں کے ساتھ ظاہر پرستی کا سب سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ وہ بنیادی حقیقتیں جن کی یاد دہانی کے لیے یہ ظاہری عبادات مقرر کی گئی تھیں ، لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔نماز رہ جاتی ہے ، مگر خشوع اور خد اکی یاد نہیں رہتی۔ فواحش ومنکرات نماز کے ساتھ زندگی کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ روزے کا اہتمام خوب ہوتا ہے ، مگر خدا خوفی کا اہتمام نہیں رہتا۔ زکوٰۃ پابندی سے دی جاتی ہے، مگر دل دنیا کی محبت سے پاک نہیں ہوتا۔ حج و عمرہ کی کثرت ہوتی ہے ، مگر خدا کی نصرت اور شیطان سے دشمنی زندگی کا مقصد نہیں بن پاتی۔
ظاہر پرستی کے مرض کی شناعت کو اس کے صحیح تناظر میں اگر سمجھنا ہے تو اس کے لیے تورات اور انجیل کا تقابلی مطالعہ کافی مفید ثابت ہوگا۔تورات اور انجیل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ تورات میں قانون و شریعت کا بیان ہے ، جبکہ انجیل شریعت کی اس حکمت کا خزانہ ہے جو ہزار برس میں بنی اسرائیل سے کھوگیا تھا۔ بائیبل چونکہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا بھی بیان ہے ، اس لیے اس کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تورات سے ملنے والی شریعت انجیل تک پہنچتے پہنچتے ’’تالمود‘‘ کے فقہی انبار تلے دب چکی تھی۔چنانچہ سیدنا عیسیٰ کی پوری دعوت کا مرکزی خیال بنی اسرائیل کو ظاہر پرستی سے نکال کر واپس دین کی صحیح حکمت کی روشنی میں واپس لانا تھا۔آپ نے بنی اسرائیل کی مذہبی قیادت پراس حوالے سے شدید ترین تنقید کی ہے۔
مثلاً یہودی فقیہوں اور فریسیوں کے اس اعتراض کے جواب میں کہ سیدنا مسیح کے پیروکار بزرگوں کی روایت کے مطابق کھانا کھاتے وقت ہاتھ کیوں نہیں دھوتے؟ آپ نے فرمایا کہ اے ریاکارو، پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم خدا کے حکم کے برخلاف والدین سے بدکلامی کیوں کرتے ہو؟ پھر آپ نے اپنے شاگردوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی دینی بصیر ت پر اس طرح تبصرہ کیا کہ یہ اندھے راہ بتانے والے ہیں۔ فرمایا کہ جو چیز منہ میں جاتی ہے، وہ آدمی کو ناپاک نہیں کرتی ، بلکہ جو چیز منہ سے نکلتی ہے، وہی آدمی کو ناپاک کرتی ہے ۔ آدمی بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانے سے ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ حرام کاری، چوری، زنا، خوں ریزی وغیرہ سے ناپاک ہوتا ہے۔**
ایسے ہی ایک دوسرے موقع پر جب آپ پر اعتراض کیا گیاتو آپ نے انتہائی تلخ جواب دیا کہ تم لوگ پیالے اور رکابی کو تو اوپر سے صاف کرتے ہو، لیکن تمھارے اندر لوٹ اور بدی بھری ہوئی ہے۔ اس پر شریعت کے ایک عالم نے کہا کہ ایسی باتوں سے آپ ہماری بے عزتی کررہے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ اے شرع کے عالمو، تم پر بھی افسوس ! کہ تم ایسے بوجھ کو جن کو اٹھانا مشکل ہے ، آدمیوں پر لادتے ہواور خود ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے۔***
سیدنا مسیح سے ظاہری اعمال کی اہمیت پوشیدہ نہ تھی، مگر اس دور میں جس طرح بنی اسرائیل کی مذہبی قیادت ظاہر پرستی کا شکار ہوچکی تھی، اس میں بہت کم اہمیت کے ظاہری اعمال کے پیچھے دین کی تمام بنیادی حقیقتیں نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھیں۔ چنانچہ آپ ہر اعتراض کے جواب میں ان کی توجہ ان کے ایسے رویوں کی طرف مبذول کرادیتے جن میں وہ زیادہ بنیادی باتوں کی خلاف ورزی کررہے ہوتے۔آپ نے شریعت کو منسوخ نہیں کیا ، بلکہ آپ اس کی تکمیل کے لیے آئے تھے****، یعنی احکام کی حکمت و مقام واضح کرنے کے لیے۔آپ نے اپنی تعلیمات میں ظاہری چیزوں کے مقابلے میں احکام کی حقیقت اور ترجیحات کو واضح کرنے پر زور دیا۔پہاڑی کا مشہور خطبہ اس کی بہترین مثال ہے۔*****
ہم نے اس بحث میں انجیل کے حوالے سے کچھ مثالیں اس لیے دی ہیں کہ سیدنا عیسیٰ کے دور میں یہ مرض بہت بڑھ چکا تھا،اور جب ایک امت مسلمہ اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو دین و شریعت اور ایمان واخلاق کے ہر حکم سے زیادہ فقہ کا ظاہری ڈھانچا لوگوں کی نگاہوں میں محبوب ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے پیچھے خدا کے ایک جلیل القدر رسول کے کفر اور قتل کی سازش جیسے اقدامات تک کر لیے جاتے ہیں۔آج بھی ظاہر پرستی ہمارا عظیم مسئلہ بن چکی ہے۔فرد سے لے کر حکومت تک صرف ظاہری لیپا پوتی کو اتباع شریعت کا معیار قرار دے دیا گیا ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر معمولی محنت اور قربانی کے بعد امت میں ’’دین داری ‘‘ تو بہت بڑھ رہی ہے ، مگر دین دار نہیں بڑھتے۔ پھراخلاق و معاملات کی ہر چڑھائی پر یہ دین داری جس طرح ساتھ چھوڑتی ہے، اس کے نتائج انتہائی افسوس ناک نکلتے ہیں۔
جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، ہم کبھی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے جوایک مسلمان قوم ہونے کے حوالے سے ہم پر عائد ہوتی ہے۔اس مسئلہ کا حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین کا صحیح علم لوگوں تک پہنچایا جائے۔احکام کی ترجیحات اور ان کے مقاصد کا شعور ان میں واضح کیا جائے۔دین کے اصل مآخذ قرآن و سنت کی بنیاد پر مروج دینی افکار اور روایتی تصورات پر جو شاہ کار اور حکیمانہ تنقید بعض اہل علم نے اس دور میں کی ہے، اسے لوگوں تک پہنچایا جائے۔

_______

* طہٰ۲۰: ۱۴۔
** خلاصہ کتاب متی، باب ۱۵ ۔
*** خلاصہ کتاب لوقا ۱۱: ۳۷۔۶ ۴ ۔
**** متی ۵: ۱۷۔
***** متی، باب ۵۔ ۷۔

____________