باب یازدہم



حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے مزمور ۸۴ میں بکہ کے حج کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے اس تمنا کا اِظہار کیا ہے کہ کاش ،انھیں بھی حجاجِ کرام کی معیت میں حج کا موقع نصیب ہوتا۔ وہ ان پرندوں کی خوش نصیبی پر رشک کرتے ہیں جو خانۂ خدا میں آشیانے بناتے اور ان میں آباد ہوتے ہیں، جبکہ ان کی کم نصیبی کا حال یہ ہے کہ وہ خود یہاں زیارت کے لیے حاضری بھی نہیں دے سکتے۔ وہ خداوندکے حضور خانۂ خدا کے دیوان میں حاضری کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

تیرے دیوان میں حاضری کا ایک دن ایک ہزار [دن] سے بہتر ہے۔ کاش میں [اتنا بڑا بادشاہ ہونے کے بجاے] اپنے خداوند کے گھر کا دربان ہی ہوتا۔

کیسی شدید ہے یہ خواہش! کتاب کے اس باب میں مزمور کا معروضی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔۱؂ اکثر نکات کی تشریح موقع پر ہی ذیلی حواشی میں کر دی گئی ہے۔ ذیل میں اردو کتابِ مقدس سے زبور نمبر ۸۴ کی عبارت نقل کی جاتی ہے:

(۱)اے لشکروں کے خدا وند !۲؂
تیرے مسکن ۳؂ کیا ہی د ل کش ہیں!
(۲) میری جان خداوند کی بارگاہوں کی مشتاق ہے۴؂،بلکہ گُداز ہو چلی ہے۔
میرا دل اور میرا جسم زندہ خدا کے لیے خوشی سے للکارتے ہیں۔
(۳)اے لشکروں کے خدا وند !۵؂ اے میرے بادشاہ اور میرے خدا !
تیرے مذبحوں کے پاس گوریّا نے اپنا آشیانہ
اور ابابیل نے اپنے لیے گھونسلا بنا لیا ۶؂
جہاں وہ اپنے بچوں کو رکھے۔۷؂
(۴)مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔
وہ سدا۸؂ تیری تعریف۹؂ کریں گے۔۱۰؂ (سِلاہ)
(۵) مُبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے ہے۔۱۱؂
جس کے دل میں صِیّون کی شاہراہیں ہیں۔۱۲؂
(۶)وہ وادئ بکا سے گزر کر ۱۳؂ اسے چشموں کی جگہ بنا لیتے ہیں۔۱۴؂
بلکہ پہلی بارش اسے برکتوں سے معمور کر دیتی ہے۔۱۵؂
(۷)وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔۱۶؂
ان میں سے ہر ایک صِیّون ۱۷؂ میں خدا کے حضور حاضر ہو تا ہے۔
(۸)اے خد اوند لشکروں کے خدا! میری دعا سن۔
اے یعقوب کے خدا ! کان لگا۔ (سِلاہ)
(۹)اے خدا !اَے ہماری سپر! دیکھ
اور اپنے ممسوح کے چہرے پر نظر کر ۔
(۱۰)کیونکہ تیری بارگاہوں میں ایک دن ہزار ] دن[ سے بہتر ہے ۔
میں اپنے خدا کے گھر کا دربان ہونا۔
شرارت کے خیموں میں بسنے سے زیادہ پسند کروں گا۔۱۸؂
(۱۱)کیونکہ خداوند خدا، آفتاب اور سپر ہے۔۱۹؂
خدا وند فضل اور جلال بخشے گا۔
وہ راست رَو سے کوئی نعمت باز نہ رکھے گا۔
(۱۲) اے لشکروں کے خدا وند !
مبارک ہے وہ آدمی جس کا توکّل تجھ پر ہے۔۲۰؂

مناسب ہو گا کہ اس مزمور کا مفہوم متعین کرنے کے لیے اس کی آیات کا الگ الگ مطالعہ کیا جائے۔ کیتھولک کلامِ مقدس میں پہلی آیت کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ’اے ربّ الافواج، تیرے مساکن کیاہی دلکش ہیں۔‘ ۲۱؂
N.I.V.(صفحہ ۶۲۱) اور NOAB(صفحہ ۷۴۷) کے ترجمے کے مطابق آیت ۱ میں کہا گیا ہے :

How lovely is your dwelling place, O Lord Almighty! (NOxfAB: O Lord of hosts!)

اے خداوند قدیر!تیری جاے رہائش کیسی پیاری ہے! (NOABکے مطابق اے رب الافواج)۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ مزمور خداے قدیر کی کسی ’جاے رہائش‘ سے متعلق ہے، جو اُس وقت فی الحقیقت صفحۂ ارضی پر موجود تھی۔ عربی زبان میں ’خداوندِ قدیر کی جاے رہائش‘ کا ترجمہ ’بیت اللہ‘ کے الفاظ میں کیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے’اللہ تعالیٰ کا گھر‘۔ یہ’بیت اللہ‘ حضرت داؤد علیہ السلام کے مورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور مکہ میں اسی نام کے ساتھ عملاً ایک زمینی حقیقت کے طور پر موجود تھا، تاہم اہل عرب اسے’الکعبہ‘ کے نام سے بھی پکارتے تھے۔ دوسری طرف اس وقت صفحۂ ارضی پر کسی اور جگہ’خداوندِ قدیر کی جاے رہائش‘ یا ’بیت اللہ‘ نامی کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ اس وقت تک ہیکل سلیمانی تو سرے سے معرضِ وجود ہی میں نہ آیا تھا۔ یہ تو تعمیر ہی اس سے قریباً نصف صدی بعد ہوا تھا۔ اس کی تعمیر تو حضرت داؤد علیہ السلام کی زندگی کے دوران میں شروع ہی نہ ہو سکی تھی، اس لیے ’خداوند قدیر‘ کی اس ’جاے رہائش‘ کو مکے میں واقع ’الکعبہ‘ یا ’بیت اللہ‘ قرار دیے جانے کے علاوہ اور کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا ۔ اسی مزمور کے متن میں اور بھی ایسے متعدد شواہد موجود ہیں جن سے یہ بات بالکل یقینی طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
دوسری آیت سے بادشاہ داؤد علیہ السلام کی اپنے حیّ و قیوم خداوند کے دربار میں حاضری کی ولولہ انگیز خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’خداوند حیّ و قیوم کا دربار‘ پہلے ہی کسی جگہ موجود تھا، لیکن یہ حضرت داؤد علیہ السلام کی حدودِ سلطنت میں شامل نہ تھا، جس کی وجہ سے وہ اس کی زیارت سے محروم تھے۔ چنانچہ وہ’خداوند کے دربار‘ کی زیارت کی خواہش ہی کا اظہار کر سکتے تھے۔
جہاں تک آیات ۳ اور ۴ کا تعلق ہے تو اوپر موقع ہی پر ذیلی حواشی میں جو تشریح درج کی گئی ہے، اس سے بات کی وضاحت ہو چکی ہے، تاہم چند باتیں یہاں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ NOAB(صفحہ ۷۴۷ ) کے ذیلی حواشی میں ان آیات کی ایک خوب صورت تشریح بیان کی گئی ہے:

Envy of the birds and servitors who live there.

رشک طیور و خدام ۲۲؂جو وہاں قیام پذیر ہیں۔

’کالج ولا تفسیر بائبل‘ (صفحہ۷۷۲) میں ان آیات ۳۔۴ کی جو وضاحت کی گئی ہے ،وہ بھی قابل غور ہے:

All living things are safe from threat in the presence of the Lord.

تمام زندہ اشیا خداوند کے حضور میں ہر قسم کے خطرے سے محفوظ ہیں[حرم مکہ میں عملی، شرعی و قانونی اور واقعی صورت حال یہی ہے کہ وہاں تمام ذی روح اشیا محفوظ و مامون ہیں]۔

’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘میں اس کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے:

The general meaning of the verse, whose conclusion the poet only implies, is that even the birds have free access to the sacred precincts of the sanctuary, they make their homes there undisturbed, while the psalmist is exiled from the source of his joy, is denied the privilege of worshipping within the sacred enclosure. The nostalgic appeal of this verse is one of the most delicately beautiful expressions of homesickness in the whole realm of literature . ؂23

آیت کا عمومی مفہوم جس کے نتیجے کی طرف شاعر محض اشارہ ہی کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ پرندے تک حرم کی مقدس حدود میں آزادی سے داخل ہو سکتے ہیں، وہ وہاں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے آشیانے بناتے ہیں، جبکہ داؤد اپنی مسرت کے سرچشمے سے جدا ہے اور اس مقدس عمارت کی حدود میں اسے عبادت کا حق حاصل نہیں۔ اس آیت کی حسرت بھری اپیل پوری دنیاے ادب میں وطن کی یاد کے انتہائی نزاکت اور خوب صورتی کے ساتھ اِظہار کی بہترین مثال ہے۔

اس طرح آیت ۱ ۔۴ سے جو نِکات واضح ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ حضرت داوٗد علیہ السلام کسی ایسے حرم کی تعریف میں رطبُ اللسان ہیں جو اُس وقت روے زمین پر عملاً موجود تھی اور جس کاتعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے تھا۔
۲۔ حضرت داوٗد علیہ السلام کے دل میں اس حرمِ مقدس کی زیارت کی شدید خواہش ہے، لیکن وہ اسے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے (ظاہر ہے اِس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ اِن کی حدودِ سلطنت سے باہر ہے)۔
۳۔ یہ حرمِ مقدس مکے کا خانۂ کعبہ یعنی بیت اللہ ہی ہو سکتا تھا، کیونکہ بیتُ الْمَقْدِس (ہیکلِ سلیمانی) تو اِس وقت تک تعمیر ہی نہیں ہوا تھااور خانۂ کعبہ کے علاوہ روے زمین پر اور کوئی ایسی عمارت موجود ہی نہ تھی جس کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب ہو اور جو خداے واحد کی عبادت کے لیے مختص ہو۔
۴۔ حضرت داوٗد علیہ السلام اپنی حسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ پرندے تک دربارِ اِلٰہی میں آزادانہ بسیرا لیتے ہیں، لیکن اِنھیں یہاں حاضری کا شرف میسر نہیں ۔

KJV میں آیت ۵ کے دوسرے جملے کا ترجمہ واضح نہیں ہے۔ اکثر دوسرے تراجم میں اس مفہوم کو ’جن کے دل میں حج کی لو لگی ہے‘ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ نیچے بائبل کے کچھ تراجم اور تفاسیر کی فہرست دی گئی ہے جو آیت اور اس مزمور کے مضمون کا حج سے تعلق قائم کرتے ہیں:

(i) Bible Knowledge Commentary, p. 855.
(ii) Christian Community Bible, p. 1000.
(iii) Collegeville Bible Commentary, p.772.
(iv) Contemporary English Version, p. 707.
(v) Good News Bible, p. 900.
(vi) Jerome Biblical Com., p. 591.
(vii) New American Bible, p. 615.
(viii) New Bible Com., p. 472.
(ix) New Bible Com. (Rvd), p. 504.
(x) New Catholic Com., p. 473.
(xi) New Commentary on Holy Scripture, p. 264.
(xii) New English Version, p. 441.
(xiii) New International Version., p. 621.
(xiv) New Jerome Commentary, p.540.
(xv) New Jerusalem Bible, p.900.
(xvi) New KJV (Nelson Study Bible), p. 966.
(xvii) Peake\'s Bible Com., p. 431.
(xviii) Today\'s English Version, p. 607.
(xix) Wycliffe Bible Com., p. 526.
(xx) 7th Day Adventist Bible Com., p. 828.
(xxi) The Holy Bible (O&NT): An Improved Edn. (American Baptist Publication Society), as quoted by \'The OT books of poetry from 26 trans.\', p. 334.
(xxii) A New Trans. Of the Bible (James Moffatt), as quoted by \'The OT books of poetry from 26 trans.\', p. 334.

مندرجہ بالا مواد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس مزمور کا تعلق کسی حج سے ہے جو ایک عرصۂ دراز سے کسی حرم میں روایتی طور پر ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس مزمور میں سب سے پہلے حضرت داوٗد علیہ السلام اُن لوگوں کو برکت عطا کررہے ہیں ’جو خداوند کے اس گھر میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں اور ہمیشہ اس کی حمد کرتے ہیں۔‘ دوسرے نمبر پر وہ [حضرت داوٗد علیہ السلام] ان لوگوں کے لیے برکت کی دعا کرتے ہیں ’جن کے دلوں میں حج کی محبت رچ بس گئی ہے [لیکن وہ اس میں مستقل طور پر رہائش پذیر نہیں ہیں]۔‘اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ حرمِ پاک وہاں عملی طور پر موجود ہے۔ یہ خداوند کے لیے وقف ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ لوگ ’حج‘ کے لیے اس کا سفر اختیار کرتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یروشلم کا حرم یعنی ہیکل سلیمانی ابھی وہاں معرضِ وجود میں بھی نہیں آیا تھا ۔ یہ اس سے قریباً نصف صدی بعد تعمیر ہوا تھا ، جبکہ حرم کعبہ جسے اہل عرب بیت اللہ یا اللہ کا گھر کہتے تھے، عرب کے شہر مکہ میں ایک ٹھوس زمینی حقیقت کے طور پر حضرت داوٗد علیہ السلام سے بھی قریباً ایک ہزار سال پہلے سے موجود چلا آ رہا تھا۔ ان [حضرت داوٗد علیہ السلام] کے مورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسلیں اور پورے جزیرۃ العرب کے قبائل یہاں حج کرنے کے لیے بہت بڑی تعداد میںآیا کرتے تھے۔ وہ اپنے حج کے دوران میں خداوند کی حمد کا مندرجہ ذیل الفاظ میں اعلان کرتے چلے آ رہے ہیں:

لبیک اللّٰھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک.

حاضر ہوں، اے اللہ ، میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ حقیقت میں تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تمام نعمتیں تیری ہیں اورحاکمیت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔

حضرت داوٗد علیہ السلام کے دل میں اس حرم کی محبت، آرزو اوراحترام ضرور رہا ہو گا ، کیونکہ اسے ان کے مورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا، لیکن یہ ان کی حدودِ سلطنت سے باہر تھا اور وہ ایک دوسری سرزمین کے بادشاہ تھے، اور کیونکہ وہ لگاتار مختلف جنگوں میں مصروف رہتے تھے ، اس لیے وہ اس کی زیارت سے قاصر تھے۔ وہ بس اس بات کی خواہش کا اِظہار ہی کر سکتے تھے کہ کاش وہ اس حرمِ مقدس میں حاضری دیں اور اس کا حج ادا کریں اور اس پر قربانی پیش کریں۔ حضرت داوٗد علیہ السلام کی مکہ کے حج کی آرزو کا ایک اور سبب بھی ہے جس کی وضاحت اگلی فصل میں کی گئی ہے۔

________

 

 

حواشی

۱؂ جہاں تک اس مزمور کی تالیف کا تعلق ہے، اسے پورے اطمینان سے بذاتِ خود حضرت داوٗد علیہ السلام کی حقیقی تالیف قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں بعض مستند علما کی آرا درج کی گئی ہیں۔ میتھیو ہنری (Matthew Henry) ’پرانے اور نئے عہد نامے کی تفسیر‘ (۴ : ۳۲۴) کے مقدمے میں رقم طراز ہے:

Though David\'s name be not in the title of this song, yet we have reasons to think he was the penman of it, because it breathes so much of his excellent spirit and is so much like the sixty-third psalm which was penned by him; (133), witness this psalm, which contains the pious breathing of a gracious soul after God and communion with him.

اگرچہ اس مزمور کے عنوان میں داوٗد ؑ کا نام نہیں ہے، پھر بھی ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ وہی اس کے مصنف تھے، کیونکہ یہ ان کی عظیم الشان روح سے مطابقت رکھتا ہے اور بالکل تریسٹھویں مزمور سے مشابہ ہے جو اسی [حضرت داوٗد علیہ السلام] کا لکھا ہوا ہے۔ (...)، اس مزمور کو پڑھ کر دیکھیں۔ اس میں ایک کریم روح اور تقویٰ کی آمیزش صاف جھلکتی ہے اور اپنے خداوند سے رشتۂ عبودیت استوار کرنے کا جذبہ موجزن ہے۔

’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ میں (۳: ۸۲۷ پر) اس مزمور کے متعلق مقدمے میں تحریر ہے:

Ps 84 was composed by David, the Lord\'s "anointed"(...). It is a passionate lyrical expression of devotion and love for the house of Jehovah and His worship.The psalm seems to describe the blessedness of those who dwell in the sacred precincts (vs. 1-4, 9-11); the blessedness of those who make pilgrimages to the sanctuary (vs. 5-8).

مزمور ۸۴ خداوند کے ممسوح داؤ د ؑ کی تالیف ہے ۔ (...)۔ یہ اللہ تعالیٰ کے گھر اور اس کی عبادت کے لیے لگن اور محبت کا نظم کے انداز میں جذباتی اظہار ہے۔ اس مزمور سے ان لوگوں کے خوش نصیب اور بابرکت ہونے کے بیان کا اظہار ہوتا ہے جو اس کی مقدس حدود میں رہائش پذیر ہیں (آیات ۱ ۔ ۴، ۹۔ ۱۱)۔ اس سے ان لوگوں کے بابرکت ہونے کا اظہار بھی ہوتا ہے جو اس حرم کی زیارت سر انجام دیتے ہیں(آیات ۵ ۔ ۸)۔

’پِیک (Peake) کی تفسیر بائبل ‘(صفحہ ۴۳۱) میں درج ہے:

The period of its composition is clearly that of the monarchy.

اس کی تالیف کا زمانہ واضح طور پر (متحدہ) شہنشاہیت کا دور ہے۔

ان چند اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ بائبل کے مفسرین اسے بذاتِ خود حضرت داوٗد علیہ السلام کی تحریر قرار دیتے ہیں۔
۲؂ یہاں ’لشکروں یاگروہوں کا خداوند‘ کے الفاظ سے مراد یہی ہو سکتی ہے کہ وہ صرف اسرائیل کا خداوند نہیں ہے، بلکہ تمام قوموں کا پروردگار ہے۔
۳؂ یہاں عبرانی کا جو اصل لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ ہے ’مشکان‘ ، جو عربی کے لفظ’مسکن‘ یعنی جاے رہائش کا بعینہٖ مترادف ہے۔ سڑونگ کی محوّلہ بالا ڈکشنری (اندراج ۴۹۰۸، صفحہ ۷۴) کے مطابق اس کے معنی ہیں:

a residence; dwelling (place), habitation.

رہائش: (جاے) رہائش، آبادی۔

اس طرح ’تیرا خیمۂ عبادت اے رب الافواج‘ کے لفظی معنی ہوں گے: ’اے قوموں کے خداوند تیرا گھر‘۔ عربی میں اسے ’بیت اللہ‘ کہا جائے گا جو مکہ کا الکعبہ ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ہیکلِ سلیمانی ابھی تک تعمیر نہیں ہوا تھا، اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ صرف مکے کے خانہ کعبہ سے متعلق ہے، کیونکہ اُس وقت تک روے زمین پر اس کے علاوہ کوئی ’خدا وند کا گھر‘ موجود نہ تھا۔
۴؂ ’گرے اینڈ ایڈمز کی تفسیر بائبل‘ میں( ۲:۶۱۱ پر) وضاحت کی گئی ہے:

David says not, Oh how I long for my palace, my crown, my sceptre, my kingdom; but oh how I long to return to the house of God! [the word \'return\' shows that King David had previously been to this place.]

داوٗد ؑ یہ نہیں کہتے کہ’میں اپنے محل، اپنے تاج و تخت، اپنے عصاے اقتدار، اپنی سلطنت کی آرزو میں کتنا بے تاب ہوں۔‘ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں: ’میں اپنے خداوند کے گھر میں واپس جانے کے شوق میں کتنا بے چین ہوں!‘ [لفظ ’واپس جانے‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داو‘د ؑ پہلے بھی اس جگہ ہو آئے تھے]۔

تاہم یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ حضرت داوٗد علیہ السلام کے عہد تک صرف ایک ہی خانۂ خداموجود تھا جو بکہ میں [اس وقت مکہ کا نام بکہ ہی تھا]، ان کے آباو اجداد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔
۵؂ ’ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘(۳: ۸۲۸) پراس آیت کی ان الفاظ میں وضاحت کی گئی ہے :

The general meaning of the verse, whose conclusion the poet only implies, is that even the birds have free access to the sacred precincts of the sanctuary, they make their homes there undisturbed, while the psalmist is exiled from the source of his joy, is denied the privilege of worshipping within the sacred enclosure. The nostalgic appeal of this verse is one of the most delicately beautiful expressions of homesickness in the whole realm of literature.

اس آیت کے، جس کاانجام شاعر محض ضمناً بیان کرتا ہے، عمومی معنی یہ ہیں کہ اس حرمِ مقدس کی حدود میں پرندے تک رسائی رکھتے ہیں اور وہ بغیر کسی خلل کے اپنے گھر بناتے ہیں، جبکہ مصنفِ زبور اپنے سرچشمۂ مسرت سے خارج البلد ہے اور وہ اس مقدس چار دیواری کی حدود میں عبادت کے استحقاق و اعزاز سے محروم ہے۔ اس آیت کی حسرت بھری آرزو عالمی ادب میں اپنے گھر سے دوری اور مہجوری کے انتہائی حسین و نازک طرزِاظہار کی ایک بہترین مثال ہے۔

۶؂ ’نیو آکسفرڈ اینوٹیٹڈبائبل‘ (NOAB) میں صفحہ ۷۴۷ پر آیات ۳ ۔ ۴ کے سلسلے میں ایک خوبصورت حاشیہ درج ہے:

Envy of the birds and servitors [a male servant] who live there.

پرندوں اور ان خادموں پر رشک جو وہاں رہتے تھے۔

’کالج ولا تفسیر بائبل‘ صفحہ ۷۷۲ میں ان آیات ۳۔ ۴ کی جو تشریح کی گئی ہے، وہ بھی قابل ملاحظہ ہے:

All living things are safe from threat in the presence of the Lord.

خداوند کے حضور میں تمام زندہ چیزیں دھمکی یا خطرے سے محفوظ ہیں۔

۷؂ میتھیو ہنری کی ’عہد نامہ قدیم و جدیدکی تفسیر‘(۴: ۳۲۴ ۔۳۲۵) نے اس نکتے کی مندرجہ ذیل وضاحت کی ہے:

He would rather live in a bird's nest nigh God's altars than in a palace at a distance from them. It is better to be serving God in solitude than serving sin with a multitude. (...). Observe, David envies the happiness not of those birds that flew over the altars, and had only transient view of God\'s courts, but of those that had nests for themselves there. David will not think it enough to sojourn in God\'s house as a way-faring man that turns aside to tarry for a night; but let this be his rest, his home; here he will dwell.

وہ اس بات کو زیادہ ترجیح دے گا کہ خداوند کی قربان گاہ کے قرب و جوار میں کسی گھونسلے میں رہائش اختیار کرلے، بہ نسبت اس کے کہ اس سے دور ہو کر کسی محل میں رہے۔ یہ بہتر ہے کہ تنہائی میں رہ کر خدا کی عبادت کی جائے، بہ نسبت اس کے کہ ہجوم میں رہ کر گناہ کی خدمت بجا لائی جائے۔ (...)۔ ملاحظہ کیجیے کہ داوٗد ؑ ان پرندوں کی مسرت پر رشک نہیں کرتے جو قربان گاہوں کے اوپر سے ہو کر گزر جائیں اور خداوند کے ایوانوں کی صرف ایک جھلک ہی دیکھ پائیں، بلکہ ان پرندوں کی مسرت پر رشک کرتے ہیں جو وہاں اپنے لیے مستقل آشیانے بنا کر ان میں رہتے ہیں ۔ داوٗد ؑ کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ خانۂ خدا میں ایک ایسے راہ گیر انسان کی طرح تھوڑی دیر قیام کر لیں جو شب بسری کے لیے راستہ چھوڑ کر آرام کرتا ہے، بلکہ خانۂ خدا کو اس کا مستقر اور مستقل ٹھکانا ہونا چاہیے جہاں وہ رہائش اختیار کرے۔

۸؂ انگریزی ’کنگ جیمز ورشن‘ میں اصل عبارت یہ ہے:'They will be "still" praising thee.'
گرے اور آدم کی تفسیر بائبل(۲: ۶۱۱) کے مطابق یہاں 'still'کے معنی\' \'All the Day long یعنی ’سارا دن‘ ہیں۔
۹؂ NIVصفحہ ۶۲۱ میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے:'they are ever praising you' یعنی ’وہ ہمیشہ تمھاری حمد بیان کر رہے ہیں‘ ۔ بجاے اس کے کہ یہ ترجمہ کیا جائے:'they will be still praising thee.' یعنی ’وہ ابھی تک تیری تعریف کر رہے ہوں گے۔‘
۱۰؂ ’نیو کیتھولک کومنٹری‘ (صفحہ ۴۷۳) میں اس آیت کا ترجمہ ہے:

Blessed [be] those who dwell in thy house, still they praise thee.

مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ابھی تک تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔

اس میں مزید درج ہے :

Yet the idea of 'They are pilgrims at heart' is consistent with the theme of the psalm.

پھر بھی ’وہ دل سے زیارت کے لیے آئے ہیں‘ کا نظریہ مزمور کے مضمون سے مناسبت رکھتا ہے۔

۱۱؂ NIVصفحہ ۶۲۱ نے اس کا نہایت عمدہ ترجمہ کیا ہے: 'who have set their hearts on pilgrimage', ’جنھوں نے اپنے دل میں حج و زیارت کی لو لگائی ہے‘ ،بجاے اس ترجمے کے کہ 'in whose heart are the ways of them.' یعنی’جن کے دل میں ان کی راہیں ہیں۔‘
۱۲؂ ’سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ تفسیر بائبل‘ (۳: ۸۲۸) پر اس آیت کی یہ تشریح کی گئی ہے:

The second blessing is bestowed on those who hold God in their hearts as they make the pilgrimage.

دوسری برکت ان کو عطا کی گئی ہے جو حج کی ادائیگی کے وقت خداوند کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہاں اردو ترجمے میں جو لفظ ’صیون‘ لکھا ہے(نیز بعض انگریزی تراجم میں بھی، مثلاً ’نیو اوکسفرڈاینوٹیٹڈ بائبل‘ ایڈیشن سوم نے صفحہ ۸۴۹ پر اورPraise Songs of Israel: Rendering of the Book of Psalms: 26 Translations of the OT Books of Poetry نے صفحہ ۳۳۴پر لکھا ہے: In whose heart are the highways to Zion. ، یعنی’ جن کے دل میں صیہون کی شاہراہیں ہیں‘، لیکن نیچے حاشیے میںیہ بھی لکھ دیا ہے: ’Heb. lacks to Zion‘ ) تو اکثر وبیش تر انگریزی تراجم میں یہ موجود نہیں ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اصل عبرانی عبارت میں بھی اس کا کوئی وجود نہیں حتیٰ کہ کیتھولک اردو بائبل’ کلامِ مقدس‘ میں بھی نہیں ۔ اس کے برعکس اس میں حج کا مفہوم موجود ہے۔ لکھا ہے: ’جب اس کے دل میں زیارت کا خیال ہے (کلامِ مقدس، روما ۱۹۵۸ء، صفحہ ۷۳۹)‘۔ اسی طرح ’دی ہولی بائبل مشتمل بر عہد نامۂ قدیم وجدید، این امپرووڈ ایڈیشن‘ (امیریکن بپٹسٹ پبلیکیشنز سوسائٹی بحوالہ ’The OT Books of Poetry from 26 Translations, 1973, p.334‘ ) میں ترجمہ ہے:

I n their heart the pilgrim-ways.

یعنی ’ اُن کے دل میں ہیں حج کی راہیں‘۔’نیو انگلش بائبل‘ میں ہے (صفحہ ۴۴۱): whose hearts are set on the pilgrim-ways!یعنی ’جن کی نظریں حج کی راہوں پر لگی ہیں‘۔’اے نیو ٹرانسلیشن آف دی بائبل‘James Moffatt, A New Translation of the Bible (London: Hadder and Stoughton, Ltd., at St.Paul's House, 1941) میں صفحہ ۳۳۴ پر ہے:Set out on pilgirmage. یعنی ’ حج کے لیے چل پڑے ہیں‘۔ ’نیو انٹرنیشنل ورشن‘ (NIV) میں ہے: Who have set their hearts on pilgrimage. یعنی ’ جنھوں نے اپنے دلوں میں حج کی لو لگائی ہے‘: اس سے صاف ظاہر ہے کہ مزمور۸۴ کا اصل موضوع ’حج‘ ہی ہے۔
’کنٹمپریری انگلش ورشن‘ (CEV) نے صفحہ ۷۰۷ پراس کا ترجمہ یوں کیا ہے:

You bless all who depend on you for their strength and all who deeply desire to visit your temple.

تم ان سب پر برکت نازل کرتے ہو جو اپنی قوت کے لیے تم پر بھروسا کرتے ہیں اور جو تمھارے ہیکل کی زیارت کی شدید آرزو رکھتے ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اِس جگہ بھی ’حج‘ ہی کا ذکر ہے۔اور’صیہون‘ کا لفظ یہاں سراسر خلطِ مبحث ہے۔
۱۳؂ ’میتھیو ہنری کی تفسیر‘ (۴: ۳۲۶) نے اس جگہ اس راے کا اظہارکیا ہے:

Our way to heaven lies through a valley of Baca, but even that may be made a well if we make due improvement of the comforts God has provided for the pilgrims of the heavenly city.

ہمارا جنت کا راستہ ایک وادی بکا میں سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن وہاں بھی ایک کنواں بنایا جا سکتا ہے ، بشرطیکہ ہم ان آسایشوں کی ترقی کا فریضہ سر انجام دیں جو خداوند نے اس شہرِ جنت کے زائرین (حاجیوں) کے لیے فراہم کی ہیں۔

۱۴؂ ’گرے اور آدم کی تفسیر‘۲: ۶۱۲ پر وضاحت کی گئی ہے:

To such a one, whose soul is athirst for God, the valley of Baca becomes a well, while the hot rock pours out its streams of blessing.

جب گرم اور سنگلاخ چٹان سے اس کی برکت بھری ندی پھوٹ بہتی ہے تو وادئ بکاایسے شخص کے لیے، جس کی روح خداوند کی پیاسی ہے، ایک کنواں بن جاتی ہے ۔

ان الفاظ میں زائرین مکہ کے ذہن کی مکمل عکاسی کی گئی ہے۔
۱۵؂ پشیتا (Peshitta) بائبل صفحہ ۶۲۸ میں ہے:

They have passed through the valley of weeping [the word 'weeping' shows that the actual word here was 'Baca', because its meaning, if not taken as a proper noun, is 'weeping'], and have made it a dwe lling place; the Lawgiver shall cover it with blessings.

وہ رونے کی وادی میں سے گزر کر آئے ہیں[لفظ ’رونا‘ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں اصل عبرانی لفظ ’بکا‘ ہے، کیونکہ اگر اسے اسمِ معرفہ قرار نہ دیا جائے تو اس کے معنی رونا ہی بنتے ہیں] اور اسے جاے رہائش بنا لیا ہے۔شارع اسے برکت سے ڈھانپ دے گا۔

۱۶؂ بائبل میں اس مقام پر جو اصل عبرانی لفظ استعمال ہوا ہے، وہ ہے ’حایل‘۔ ’سٹرونگز ڈکشنری‘ (اندراج ۲۴۲۸، صفحہ۳۹) کے مطابق اس کے معنی ہیں: ’ایک فوج، قوت، آدمیوں کا دستہ، کمپنی‘۔اس کا مطلب ہوا: ’وہ جوق در جوق آتے ہیں‘،جیسا کہ مکے میں حجاج و زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔
۱۷؂ ’صیون‘ اصلاً ایک با معنی لفظ ہے اور اِس کا مادہ ’صِیَہْ‘ ہے۔ ’سٹرونگز ڈکشنری‘ میں اندر اج ۶۷۲۳، صفحہ ۹۹ کے تحت اس کے معنی ہیں:

to Parch; concretely a desert; - barren, dry (land, place), wilderness, solitary place.

جھلسنا؛ عملی طور پر ایک صحرا: بنجر، خشک (علاقہ یا جگہ)، صحرا و بیابان، ویران اور غیر آباد جگہ۔

اس لحاظ سے اس کا اطلاق کسی جھُلسی ہوئی، بنجر، خشک جگہ یا صحرا ہی پر ہو سکتا ہے، جیسا کہ مکہ ہے۔ یروشلم جیسی کسی سر سبز وشاداب جگہ پر اس کا اطلاق درست نہیں ۔
The Hebrew and Aramaic Lexicon of the O.T (۲:۱۰۲۲ ) پر ’صِیون‘ کے معنی ہیں: ’Barren place, bare hill,‘ ۔اردومیں اس کا مطلب ہے: بنجر جگہ،بے آب و گیاہ پہاڑی۔
’انسا ئیکلو پیڈیا ببلیکا‘ (۴: ۵۴۲۱) میں ’صیون‘ کے ضمن میں درج ہے:

Gesenius and Lagarde derive from [a Hebrew word which means] 'to be dry,'. (....) It may be better however, to add zion to group Zin, Zenan, and Zoan, and to suppose Zion to be a descendent of the race-name \'Ishmael\' through the intermediated form Zibeon.

جسینیئس اور لیگارڈے اسے ایک عبرانی لفظ سے ماخوذ قرار دیتے ہیں جس کے معنی ہیں: ’خشک ہونا‘۔(....) ،تاہم بہتر یہ ہو گا کہ صیہون کوزین، زینان اور زوآن کے گروپ میں شامل کیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ صیہون ’زبیون‘ کی درمیانی حالت کے واسطے سے نسلی نام ’اسماعیل‘ کی اولاد سے متعلق ہے۔

نیز ملاحظہ کیجیے اوپر حاشیہ ۱۲۔
۱۸؂ ’گرے اور آدم کی تفسیر‘(۲: ۶۱۲) میں وضاحت کی گئی ہے:

The poet would rather be the humblest of the guests of Jehovah than dwell at ease among the heathen.

شاعر کہتا ہے کہ وہ مشرکوں کے ساتھ عیش کی زندگی گزارنے پر اس بات کو ترجیح دے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک حقیر ترین مہمان بن کے زندگی گزارے۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر (حضرت داوٗد علیہ السلام) ’خانۂ خدا‘کو کس قدر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
۱۹؂ پشیتا(Peshitta) میں صفحہ ۶۲۸ پراس جگہ مندرجہ ذیل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں:

For the Lord God is our supply and our helper;

کیونکہ خداوند خدا ہمارا مددگار اور ہمیں وسائل مہیا کرنے والا ہے۔

۲۰؂ کتابِ مقدس ،زبور، ۸۴۔
۲۱؂ کلامِ مقدس ، مطبوعہ سوسائٹی آف سینٹ پال، روما، ۱۹۵۸ء، صفحہ۷۳۹۔
۲۲؂ انگریزی میں یہاں 'Servitor' کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’مرد ملازم‘ (چیمبرز انگلش ڈکشنری، ۱۹۸۹ء، صفحہ ۱۳۴۵)

23. The 7th Day Adventist Bible Com., 3:828.

____________