بہت سے معاشروں میں جہاں جاگیردارانہ نظام موجود ہے، وہاں لوگ اپنی بیٹی اور بہن کی بعض اوقات زبردستی شادی کردیتے ہیں جو کہ یقیناًاس آزادی راے اور حق کے خلاف بات ہے جو اسلام خواتین کو اپنا شریک حیات چننے کے لیے دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث مروی ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأْذَنَ وَلاَ الثَّیِّبُ حَتّٰی تُسْتَأْمَرَ، فَقِیلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ إِذْنُہَا؟ قَالَ: إِذَا سَکَتَتْ. (بخاری، رقم ۶۵۶۷)
’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کی شادی نہ کرو جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اور بیوہ کی شادی نہ کرو جب تک اس سے مشورہ نہ کرلو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یارسول اللہ، کنواری سے اجازت کیسے لی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ (تمھارے پوچھنے پر) خاموش رہے۔ ‘‘

عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِیْ نَفْسِہَا. (مسلم، رقم۱۴۲۱)
’’حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی نسبت خود اپنا فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے گی۔ ‘‘

اس طرح کی زبردستی کی شادیاں اسلام کی نظر میں نا پسندیدہ ہیں اور اگر دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو بھی ناپسند ہو تو انھیں ختم کیا جا سکتا ہے:

عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّ أَبَاہَا زَوَّجَہَا وَہِیَ ثَیِّبٌ فَکَرِہَتْ ذٰلِکَ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِکَاحَہُ. (بخاری، رقم۴۸۴۵)
’’حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کردی، جبکہ وہ بیوہ تھیں، خنساء کو یہ شادی پسند نہیں تھی۔ لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی (اور پورا واقعہ بیان کیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح ختم کردیا۔ ‘‘

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شادی میں ماں باپ اور ولی کی مرضی ہونا ضروری ہے؟ ہمارے معاشرے میں جب سے کچھ شادیاں ماں باپ اور ولی کی مرضی کے بغیر ہونے لگی ہیں، یہ سوال بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
اس ضمن میں قرآن مجید کے مطابق شادی میں ماں باپ اور ولی کی اجازت کوئی قانونی تقاضا نہیں ہے۔ شادی کے لیے قانونی تقاضے صرف دو ہیں: پہلا یہ ہے کہ دونوں پاک دامن ہوں اور دوسرا یہ کہ مرد پر یہ لازم ہے کہ بیوی کو اس کا مہر دے ۔ تاہم ماں باپ اور ولی کی شادی میں رضامندی سماجی اور معاشرتی ضرورت ہے۔ ’لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِیٍّ‘ (کوئی شادی ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہونی چاہیے)۳۱؂ اوراس طرح کی دوسری روایات اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
یہ حکم خاندان کے ادارے کے لیے اسلام کی معاشرتی ہدایات پر مبنی ہے اور اس میں یقیناً حکمت پائی جاتی ہے۔ اسلام کے نزدیک خاندان کے تحفظ اور بقا کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اس لیے یہ بالکل فطری ہے کہ شادی ماں باپ کی مرضی سے ہونی چاہیے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ شادی جو والدین کی رضا مندی کے ساتھ ہوتی ہے، اس سے نئے وجود میں آنے والے خاندان کو تحفظ اور سہارا ملتا ہے۔
تاہم یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس عام اصول میں ہمیشہ ایک استثنا ہو سکتا ہے۔اگر شادی کرنے والے مرد اور عورت یہ سمجھتے ہیں کہ شائستگی سے قائل کرنے کی پوری کوشش کے باوجود ماں باپ کی طرف سے شادی پر رضامند نہ ہونے کے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ نہیں یا کسی وجہ سے والدین اس ملاپ کی بنیادوں کو نہیں سمجھ پا رہے تو پھر شادی کرنے والے مردوعورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اس بندھن میں بندھ جائیں، وہ معاملات عدالت میں لے جائیں ۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ پورے معاملے کا جائزہ لے ۔ اگر وہ مرد اور عورت کے موقف سے مطمئن ہے تو وہ انھیں شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس صورت میں جیسے کہ ایک حدیث۳۲؂ سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست کو اس جوڑے کا ولی تصور کیا جائے گا۔ دوسری صورت میں اگر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ ماں باپ کا اعتراض بالکل صحیح ہے تو وہ دونوں فریقوں کو اس بندھن کو باندھنے سے روک سکتی ہے۔ البتہ کوئی عدالت ماں باپ اور ولی کی مرضی کے بغیر کی گئی شادی کو منسوخ قرار نہیں دے سکتی۔
_____
۳۱؂ ابوداؤد، رقم ۲۰۸۵۔
۳۲؂ ترمذی، رقم ۱۱۰۲۔

____________