ستائیس واں باب 

ہر انسان اپنی ذاتی زندگی میں اس حقیقت کو جانتا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے تیاری بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر پوری تیاری کے بغیر کوئی اقدام کیا جائے تو وہ اقدام نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ بلکہ بسا اوقات الٹ نتائج اور شکست کا عنوان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے صاحبانِ عقل ہر کام سے پہلے ایک پورا نقشہ بناتے ہیں، پھر اس کے مطابق تیاری کرتے ہیں، اور جب پوری تیاری مکمل ہوجاتی ہے تو تب اقدام کرتے ہیں۔ 
یہی طرزِعمل قوموں کے لیے بھی صحیح ہے۔ قوموں اور ریاستوں کے لیے بھی یہ لازم ہے کہ وہ ہمیشہ ایک طویل المیعاد منصوبہ بندی کریں اور پھر اُس کے مطابق تیاری کریں۔ اگر کسی قوم نے پوری تیاری کے بغیر کوئی کام شروع کیا تو اُس کا نتیجہ اُس قوم کی شکست کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ 
یورپ میں چھاپے خانے کی ایجاد کے بعد ان قوموں نے پوری تیاری کی اور اس کے بعد اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کاروائی کی۔ چنانچہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ پہلے انہوں نے بے شمار ملکوں کو فتح کیا اور وہاں اپنی حکومتیں مستحکم کردیں۔ اس کے بعد جب ان کو اپنی مجبوریوں اور حالات کے دباؤ کے تحت ان ملکوں سے نکلنا پڑا تو ان ملکوں کی معیشت کو اپنا غلام بنالیا۔ چنانچہ آج بھی عالمِ اسلام کا بہت بڑا حصہ معاشی طور پر مغرب کا غلام ہے۔ 
اس کے بالکل برعکس امت مسلمہ کی پچھلے تین سو برس کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مسلمانوں نے نہ اپنی کمزوری کا تجزیہ کیا، نہ اُس تجزئے کے مطابق تیاری کی، بلکہ بغیر تیاری کے، اشتعال کے عالم میں اقدام کر ڈالا۔ چنانچہ ایسے ہر اقدام کا وہی نتیجہ ہوا جو قانونِ قدرت کے تحت ہونا چاہیے تھا۔ مسلمانوں کو شکستوں پر شکستیں ہوتی رہیں، اور ہر شکست کے بعد لیڈروں نے ان کی ہمت بندھائی کہ اس دفعہ تو کچھ افراد کی غداری کی وجہ سے شکست ہوگئی لیکن آئندہ فتح ہمارا انتظار کررہی ہے۔ پچھلے کئی برسوں میں ہماری پے درپے شکستیں دراصل تیاری کے بغیر اقدام کا نتیجہ ہیں۔ اب اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ شکستوں کے اس گھن چکر(vicious circle)سے نکلیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے پوری طرح تیاری کریں اور اس کے بعد اقدام کریں۔ ایسا ہی اقدام نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ 
حضورؐ نے اپنی ساری زندگی میں اسی اصول پر عمل فرمایا۔ فتحِ مکہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اُس موقع پر حضورؐ نے مکے پر حملے کے لیے اتنی بڑی فوج بنالی جو مکے کی پوری آبادی سے زیادہ تھی۔ پھر اس کے بعد ایک انتہائی خفیہ سفر کے ذریعے مشرکین کو عین اُس وقت جالیا جب وہ بالکل غافل تھے۔ حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب مدینے سے دس ہزار افراد کی فوج کو مکہ پہنچتے پہنچتے کئی ہفتے لگ جاتے تھے اور یہ بہت مشکل تھا کہ اس پورے سفر کو اس طرح خفیہ رکھا جائے کہ دشمن کو کانوں کان بھی خبر نہ ہو۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بغیر کسی خون خرابے کے مکہ پرامن طور پر فتح ہوگیا۔ 
آج امتِ مسلمہ کے لیے بھی یہ تیاری کا مرحلہ ہے۔ تیاری کے اس مرحلے کو مکمل کیے بغیر کوئی اقدام کرنا دشمن کے مفاد میں ہوگا اور ہمارے ملک اورامت کے لیے شکست کا پیغام ہوگا۔ تیاری کا یہ مرحلہ جتنا وقت بھی چاہے لے لے، لیکن جب تک ہم دوسری طاقتوں کے مقابلے میں تیاری کے اعتبار سے ایک خاص تناسب تک نہیں پہنچ جاتے، تب تک ہمیں اقدام سے پرہیز کرنا چاہیے۔ پشتو کی ایک ضرب المثل کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم نے سوسال بعد بھی اپنی شکست کا بدلہ لے لیا، تو یہ تم نے جلدی لے لیا۔ گویا اگر تیاری کے مرحلے میں سو سال بھی گزر جائیں تو یہ کوئی غلط بات نہیں۔ غلط بات یہ ہے کہ تیاری سے پہلے اقدام کیا جائے۔