ممالیک کے دور (۱۲۵۰ء۔۱۵۱۶ء) کے آغاز میں یروشلم زیادہ تر ویران اور کھنڈر تھا۔ ممالیک نے شہر کی تعمیر نو کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان دنوں میں اس شہر میں مقدس صوفیوں کا بسیرا تھا۔ یروشلم پر ۱۵۱۶ء سے ۱۸۳۱ء تک عثمانی ترکوں کی حکومت رہی۔ ’فوسٹ بائبل ڈکشنری‘ میں اس کا خلاصہ اس طرح پیش کیا گیا ہے:

In a dismantled state it was ceded to the Christians [or Muslims?] by the treaty with the emperor Frederick II, in 1219, and has ever since remained in the Mahometans' hands. From the first siege by the children of Judah (Judges 1:8), 1400 B.C., to A D. 1244 Jerusalem underwent 27 sieges, the last being by the Kharesmian hordes who slaughtered the priests and monks. There was the city before David, the second that of Solomon 1000 to 597 B.C., the third city that of Nehemiah which lasted for 300 years. A Grecised city under Herod (the fourth city) succeeded. This city, destroyed by Titus A.D. 70, was followed by a Roman city, the fifth, which lasted until the Mahometan time, the sixth city. Then followed the Christian city of Godfrey and the Baldwins, the seventh; lastly the eighth, the modern city of 600 years of Moslem rule. The Ottoman Suleiman in 1542 built the present walls. After a brief possession by the [Ibrahim] Pasha of Egypt from 1832 to 1840, Jerusalem was restored to the Sultan of Turkey, in whose hands it continues. ؂45

۱۲۱۹ء میں شاہِ فریڈرک دوم(Frederic II) کے ساتھ ایک معاہدے کے ذریعے سے یہ شہر برباد شدہ حالت میں مسیحیوں نے مسلمانوں کے سپرد کیا۔ اُس کے بعد سے یہ شہر ہمیشہ مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ یہودہ کی نسل کے ہاتھوں پہلے محاصرے (قضاۃ ۱: ۸) کے بعد سے ، یعنی ۱۴۰۰ ق م سے ۱۲۴۴ء تک، یروشلم کا ۲۷ مرتبہ محاصرہ کیا گیا جن میں سے آخری محاصرہ وہ تھا جو خوارزمی افواج نے کیا تھا، جنھوں نے مسیحی کاہنوں اور راہبوں کو خوب تہ تیغ کیا تھا۔ پہلا شہر داوٗد سے پہلے کا تھا۔ دوسراشہر [حضرت] سلیمان (۱۰۰۰ ۔ ۵۹۷ ق م) کے دور والا تھا۔ تیسرا شہر[ حضرت] نحیمیاہ والا تھاجو ۳۰۰ سال تک باقی رہا۔ اس کے بعد چوتھا شہر آیا جو ہیرود کے زیرِ اقتدار یونانی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ یہ شہر ٹائیٹس نے ۷۰ ء میں تباہ وبرباد کر دیا۔ اس کے بعد پانچواں شہر رومیوں کا تھا جو مسلمانوں کے دور اقتدار تک باقی رہا، جو چھٹا شہر ہے۔ پھر اس کے بعد ساتواں شہر گوڈ فرے (Godfrey) اور بالڈ وینیوں (Baldwins) کا مسیحی شہر تھا۔ آخری اور آٹھواں جدید شہر ہے، جو ۶۰۰ سال سے مسلمحکمرانی کے زیر تسلط ہے۔ عثمانی شہنشاہ سلیمان[ذیشان] نے ۱۵۴۲ء میں موجودہ فصیل تعمیر کی ۔ ۱۸۳۲ء سے ۱۸۴۰ء تک مصر کے ابراہیم پاشا کے مختصر سے تسلط کے بعد یروشلم دوبارہ ترکی سلطان کے زیر اقتدار چلا گیا اور اب تک یہ[عثمانی] ترکوں ہی کے قبضے میں ہے۔

۱۸۶۵ء میں یروشلم کا تار(ٹیلی گراف) کے ذریعے سے بیرونی دنیا سے رابطہ قائم ہو گیا تھا۔ ۱۸۶۸ء میں یروشلم اور یافہ کے درمیان پہلی سٹرک پایۂ تکمیل کو پہنچی جو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے قابل استعمال تھی۔ اس کے بعد ۱۸۹۲ء میں ریلوے لائن بھی بن گئی۔
۱۱؍ دسمبر ۱۹۱۷ء کو برطانوی جرنیل ایلن بائی (Allenby) یروشلم میں داخل ہوا۔ یکم جولائی۱۹۲۰ء کو برطانوی فوج کی ملٹری حکومت کی جگہ سول ایڈمنسٹریشن نے لے لی۔ ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی ۹۰۵۰۳ نفوس پر مشتمل تھی، جن میں سے ۵۱۲۲۲ یہودی تھے، ۱۹۸۹۴ مسلمان تھے اور ۱۹۳۳۵ مسیحی تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کی ابتداتک یہ آبادی قریباً ڈیڑھ لاکھ نفوس تک پہنچ گئی۔ میونسپل کارپوریشن کا میئر ہمیشہ مسلمانوں میں سے مقرر کیا جاتا تھا۔۴۶؂
اپریل ۱۹۲۰ء میں یروشلم میں یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان پہلا خونی تصادم رونما ہوا جس میں بہت سے لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ نئے برطانوی ہائی کمشنر سر ہربرٹ سموئیل (Sir Herbert Samuel) نے الحاج امین الحسینی کو یروشلم کا مفتی مقرر کیا۔ ۱۹۲۱ء میں انھیں حکومت کی بنائی ہوئی مسلم سپریم کونسل کا سربراہ چن لیاگیا۔ انھوں نے ۱۹۳۱ء میں یروشلم کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس طلب کی۔ اسی سال مولانا محمد علی جوہر کو حرم شریف کی حدود میں دفن کیا گیا۔ ۱۹۳۳ء اور اِس کے بعد میں رونما ہونے والی یہودی پناہ گزینوں کی اجتماعی ہجرت کے نتیجے میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔
آج کل یروشلم اسرائیل کی اُس جدید ریاست کادارالحکومت ہے جو ۱۴؍ مئی ۱۹۴۸ء کو بطور ایک یہودی ریاست کے اُس سرزمین پر قائم ہوئی تھی جسے پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز نے برطانوی حکومت کے کنٹرول میں دیا تھا۔
’انسا ئیکلو پیڈیا امریکانا‘ نے یروشلم کی تاریخ کے اس مرحلے کے حالات جامع انداز میں اس طرح بیان کیے ہیں:

In the 19th century, Jerusalem and the rest of Palestine, then part of the Ottoman Empire, became the focus of international concern. For several centuries European countries had had political and commercial interests in Palestine because of its position at the crossroads to India and the Far East. Several of these countries had attempted to expand their influence there from the 16th century on by extending their protection and patronage over the Christian Holy Places and the Christian subjects of the Ottomans. They also sought certain privileges within the empire. It was such privileges that the Ottomans had granted to the French and the Russians that the British, Austrians, Prussians, and Italians attempted to have set aside in their favor in the 19th century.
The Ottoman Turks were defeated in World War I and evicted from Palestine by the British, to whom the League of Nations awarded the Palestine mandate. The mandate period witnessed an immense struggle between Arab and Jewish nationslist movements for control of Palestine, with Jerusalem as the chief prize and heart of the conflict. (...).
By the end of World War II the British had despaired of unreveling the tangled issue, and it was turned over to United Nations. A UN resolution of November 29, 1947, recommended the partition of the country between Arabs and Jews and the internationalization of Jerusalem. The Palestinian Arabs and the Arab states rejected the plan. The day after its adoption a general attack was launched against the Jews throughout the area. As a result of the ensuing war, Jerusalem was divided by an armistice agreement in 1949 between Jordan and Israel, with the Old (Walled) City and East Jerusalem under Jordanian control and West Jerusalem (the New City) under Israeli rule.
Jordan ruled East Jerusalem for 19 years, until 1967. On June 5, 1967, after war broke out between Israel and Egypt, Jordan\'s King Hussein opened hostilities in the Jerusalem sector. The Israeli Army conquered and occupied East Jerusalem on June 7, and on June 27 the city was annexed to the state of Israel. ؂47

انیسویں صدی میں یروشلم اور بقیہ فلسطین جو اُس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا، بین الاقوامی دلچسپی کا مرکز بن گیا۔ کئی صدیوں تک یورپی ممالک کے فلسطین کے ساتھ سیاسی اور تجارتی مفادات وابستہ رہے تھے، کیونکہ یہ انڈیا اور مشرقِ بعید کے چوراہے پر واقع تھا۔ سولھویں صدی سے لگاتار ان میں سے اکثر ممالک اس بات کی کوشش میں تھے کہ مسیحی مقدس مقامات اورعثمانیوں کی مسیحی رعایاکے تحفظ اور سرپرستی کے بہانے اپنا اثرو رسوخ وہاں تک پھیلا لیں۔ انھوں نے سلطنتِ عثمانی میں بعض خصوصی مراعات بھی حاصل کر لیں تھیں۔ یہ اُسی طرح کی خصوصی مراعات تھیں جو عثمانیوں نے فرانسیسیوں اور روسیوں کو عطا کی تھیں۔ انیسویں صدی میں برطانیہ، آسٹریا، پرشیا اور اٹلی والوں نے کوشش کی کہ یہ مراعات فرانس اور روس والوں کے بجاے انھیں عطا کی جائیں۔
جنگِ عظیم اول میں عثمانی ترکوں نے شکست کھائی اور برطانیہ نے انھیں فلسطین سے بے دخل کر دیا۔ لیگ آف نیشنز نے برطانیہ کو فلسطین کا مینڈیٹ عطاکیا۔ مینڈیٹ کے زمانے کے دوران میں عرب اور یہودی قومی تحریکوں کے درمیان فلسطین کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدید کشمکش جاری رہی۔ اِس کشمکش کا مرکز ومحور یروشلم پر تسلط حاصل کرنا تھا۔(...) ۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک برطانیہ اِس الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے کی طرف سے مایوس ہو چکا تھا، اس لیے اِسے اقوام متحدہ کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ ۲۹؍ نومبر ۱۹۴۷ء کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد میں سفارش کی گئی کہ ملک کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے اور یروشلم کو بین الاقوامی شہر قرار دے دیا جائے۔ فلسطینی عربوں اورعرب ریاستوں نے یہ منصوبہ مسترد کر دیا۔ اس قرار داد کے پاس ہونے کے ایک دن بعد ہی یہودیوں کے خلاف پورے علاقے میں ایک عمومی حملہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد جو جنگ برپا ہوئی، اُس کے نتیجے میں۱۹۴۹ء میں اردن اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدۂ صلح کے ذریعے سے یروشلم کواِس طرح تقسیم کر دیا گیاکہ فصیل کے اندر والا پرانا شہر اور مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں دے دیا گیا اور مغربی یروشلم (نیا شہر) اسرائیل کی حکمرانی میں چلا گیا۔
اردن نے ۱۹۶۷ء تک پورے انیس سال مشرقی یروشلم پر حکومت کی۔ ۵ ؍جون ۱۹۶۷ء کو جب اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو اردن کے شاہ حسین نے بھی یروشلم سیکٹر میں جنگی کارروائیوں کاآغاز کر دیا۔ ۷ ؍جون کو اسرائیلی فوج نے مشرقی یروشلم کو فتح کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔ اور ۲۷؍ جون کو یہ شہر اسرائیلی ریاست میں ضم کر دیا گیا۔

’انسا ئیکلو پیڈیا آف اسلام ‘بیان کرتا ہے:

The Peel Royal Commission, sent out in 1936 to investigate the situation, for the first time recommended the creation of an Arab and a Jewish state and the conversion of Jerusalem, together with Bethlehem, into a separate unit remaining under British mandate. But neither this nor any other of the subsequent attempts of the mandatory government to find a solution led to results. On 29 November 1947, the General Assembly of the United Nations adopted Resolution 189 (II) calling for the division of Palestine into two states, but united by economic union. Jerusalem was to be "internationalized".
Immediately after this decision the country was in flames. Jerusalem in particular suffered great losses in life and property even before 15 May 1948, the official end of the British mandate. (....). The ceasefire divided Jerusalem by a line slightly west of the western wall of the old city. (....). On 13 Dec. 1948 the Transjordonian parliament resolved the annexation of the areas of Palestine occupied by the Arab Legion. Israel followed suit by transferring its parliament from Tel Aviv to Jerusalem in Feb. 1949 and proclaiming Jerusalem its capital on 13 Dec. 1949. Both actions were in contradiction of the UN resolution of Nov. 1947, which had foreseen Jerusalem as a corpus separatum. The matter came up repeatedly in the UN until 1952, when it was left dormant, until the war of 1967 created an entirely new situation. ؂48

پیل رائل کمیشن (Peel Royal Commission) نے، جو ۱۹۳۶ء میں صورت حال کی تفتیش کے لیے بھیجا گیا تھا، پہلی دفعہ یہ سفارش کی تھی کہ عربوں اوریہودیوں کی الگ الگ ریاستیں قائم کرکے یروشلم بشمول بیت اللحم کو برطانوی انتداب میں برقرار رکھتے ہوئے ایک الگ یونٹ بنا دیا جائے، لیکن برطانیہ کی انتدابی حکومت کی نہ تو یہ اور نہ بعد میں کی جانے والی کوئی دوسری کوشش نتیجہ خیز ثابت ہو سکی۔ ۲۹؍ نومبر ۱۹۴۷ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر ۱۸۹ (II) منظورکی، جس میں کہا گیا کہ فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے، لیکن معاشی یونین کے طور پر متحد رکھا جائے۔ (البتہ) یروشلم کو بین الاقوامی تحویل میں دیا جانا تھا۔
اس فیصلے کے فوری بعد ملک میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ بالخصوص یروشلم نے ۱۵؍ مئی ۱۹۴۸ء کے سرکاری طور پر برطانوی انتداب کے خاتمے سے بھی پہلے بڑے جانی اور مالی نقصانات برداشت کیے۔ (....)۔ جنگ بندی میں یروشلم کو پرانے شہر کی مغربی دیوار سے ذرا مغرب میں کھینچی گئی ایک لائن کے ذریعے سے(دو حصوں میں) تقسیم کر دیا گیا۔(....)۔ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کو شرق اردن کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کے اُن علاقوں کا اپنے ساتھ الحاق کر لیا جن پر عرب لجن (فوج) نے قبضہ کیا تھا۔ اسرائیل نے بھی اسی طرح کی روش اختیار کی اورفروری ۱۹۴۹ء میں اپنی پارلیمنٹ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دی اور ۱۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کو یروشلم کے اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کا اعلان کر دیا۔ یہ دونوں اقدام اقوام متحدہ کے نومبر ۱۹۴۷ء والی قرارداد کے خلاف تھے، جس کے مطابق یروشلم کو ایک الگ وجود قرار دیا گیا تھا۔ ۱۹۵۲ء تک یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بار بار زیر بحث آیا، جس کے بعدیہ زیرِالتوا ہی رہا حتیٰ کہ ۱۹۶۷ء کی جنگ نے مکمل طور پر ایک نئی صورت حال پیدا کر دی۔

ابا عبان اسرائیل کے وزیر خارجہ رہے ہیں انھوں نے ’میرٹ اسٹوڈنٹس انسا ئیکلو پیڈیا ‘کے ۱۹۷۳ء کے سال نامے میں یروشلم پر ایک خوب مصور مضمون لکھا ہے۔ اس عالمانہ مضمون کے بعض اقتباسات درج ذیل ہیں:

Yet none of this would have brought Jerusalem into the war had King Hussein heeded a message from Israeli Prime Minister Levi Eshkol on June 5, 1967. Fighting had broken out with Egypt as a result of President Gamal Abdel Nasser's blockade of the Straits of Tiran on May 22 and his intimidatory troop concentrations accompanied by threats to destroy Israel. Eshkol's message, conveyed through the United Nations chief of staff, General Odd Bull, said plainly that if Jordan kept out of the war, Israel would leave every-thing as it was. The reply was an all-out Jordonian assault on western Jerusalem. Indeed, the fighting in Jerusalem was the fiercest of that in any sector-and it took a heavy toll of Israeli lives. On June 5, Israel hastily improvised troop convoys for the Jerusalem front. By June 7 the laconic ؂49 message of the brigade commander ('The Temple Mount is ours') conveyed the momentous news that Jerusalem was united. It had known many masters. Now, after 19 centuries, its original builders were back again. Soon the barriers were down-the barbed-wire fences, the tank traps, the Mandelbaum Gate, all the symptoms of ghetto-like separation-and Jews, Muslims, and Christians, with multitudes of pilgrims from all over the world, swarmed together, mingling, jostling, sometimes colliding, but always together in a single human destiny. Requests from United Nations organs that they get themselves divided again۔back to their respective cages and compartments۔evoked their good-humoured derision. ؂50

پھر بھی اگر شاہ حسین نے اسرائیلی وزیر اعظم لاوی اشکول (Levi Eshkol) کے ۵؍ جون ۱۹۶۷ء کے پیغام کو اہمیت دی ہوتی تو اِن میں سے کسی بات کی وجہ سے یروشلم میں جنگ برپا نہ ہوتی۔ صدر جمال عبد الناصر کے ۲۲؍ مئی کو آبناے طیران کی ناکہ بندی کرنے اور اسرائیل کو تباہ وبرباد کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ مرعوب کرنے کے لیے افواج کی صف بندی کے نتیجے میں مصر کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے چیف آف سٹاف جنرل اوڈ بل (Odd Bull) کے ذریعے سے پہنچائے گئے اشکول کے پیغام میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اگر اردن جنگ سے باہر رہا تو اسرائیل ہر چیز کو اُسی حالت میں رکھے گا، جیسی یہ پہلے تھی۔ اس کے جواب میں اردن نے مغربی یروشلم پر ایک بھرپور حملہ کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یروشلم کی یہ جنگ کسی بھی سیکٹر سے زیادہ شدید تھی اور اس کی وجہ سے اسرائیل کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا تھا۔ ۵؍ جون کو اسرائیل نے جلدی سے یروشلم کے محاذ کے لیے فوجی دستے ترتیب دیے۔ ۷؍ جون تک بریگیڈ کمانڈر نے یہ عظیم اور یادگاری خبر (ہیکل کی پہاڑی اب ہماری ہے) پہنچائی کہ یروشلم اب متحد ہو گیا ہے۔ اس نے اب تک بہت سے مالک دیکھے تھے۔ انیس صدیوں کے بعد اب اس کے اصل معمار ایک بار پھر واپس آ گئے تھے۔ جلد ہی تمام رکاوٹیں ۔۔ خاردار تاروں کے جنگلے، بارودی سرنگیں، منڈل بام گیٹ، غرض یہودیوں کی الگ بستیوں جیسی تمام علامات ۔۔ ہٹا دی گئی تھیں۔ پوری دنیا کے یہودی، مسلمان اور عیسائی زائرین جوق در جوق اکٹھے ہوتے، ملتے جلتے، دھکم پیل کرتے، بلکہ بعض اوقات تو متصادم ہوتے نظر آتے تھے، لیکن ہمیشہ ایک متحدہ انسانی مقصد کی تکمیل کے لیے مصروف تھے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے یہ درخواست، کہ وہ پھر الگ الگ ہو جائیں اور اپنے اپنے پنجروں اور حجروں میں پھر سے جا کر بند ہو جائیں، اُن کی حس مزاح کو تو دعوت دے رہی تھی، لیکن وہ اُس کا منہ چڑانے اور تمسخر اڑانے کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکتے تھے۔

ابا عبان اپنے فاضلانہ مقالے کا اختتام اس عبارت کے ساتھ کرتے ہیں:

Jerusalem's population distribution (218,300 Jews, 62,300 Muslims, and 11,100 Christians) cannot fail to be determinant in its political status. But on a deeper and higher level of history, Jerusalem represents the confluence of many streams of memory and culture. Its sun has risen and set on a multitude of human longings, passions, agonies, and hopes. It is the capital of one nation and yet also the touchstone of the entire human condition. ؂51

یروشلم کی آبادی کی تقسیم ( دو لاکھ اٹھارہ ہزار تین سو یہودی، باسٹھ ہزار تین سو مسلمان اور گیارہ ہزار ایک سو عیسائی) اس کے سیاسی مستقبل کی حیثیت کے تعین میں بڑی اہمیت کی حامل ہے، لیکن تاریخ کی اعلیٰ اور گہری سطح پر دیکھا جائے تو یروشلم ثقافت اور روایات کی بہت سی ندیوں کے سنگم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا سورج رنگا رنگ انسانی امنگوں، جذبوں، دکھوں اور امیدوں پر طلوع وغروب ہوتا رہا ہے۔ یہ اگرچہ دارالحکومت تو ایک ہی قوم کا ہے، تاہم پورے عالمِ انسانیت کے احوال کی جانچ پرکھ کے لیے ایک کسوٹی کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

’دی جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا ‘(۷: ۱۴۶ ، ۱۴۸) سے یروشلم کی سال بہ سال تاریخ کی ایک بعینہٖ جھلک درج ذیل ہے ۔ وہاں درج ہے:
یہ سال بہ سال تاریخی چارٹ اُن زیادہ اہم واقعات کی ایک فہرست فراہم کرتا ہے جن کا یروشلم کے یہودیوں کی تاریخ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی تعلق ہے:

B.C.
1500. Earliest historical mention of Jerusalem, found in the El-Amarna tablets.
1048. David takes possession of Jerusalem from the Jebusites.
1007. Solomon's Temple completed after seven years' labor [It may be ca. 955]
972. Shishak of Egypt takes the city from Rehoboam.
722. The fall of Samaria at the hands of Assyrians.
713. Sennacherib advances toward Jerusalem.
700. Hezekiah perfects the water-supply.
586. (Ab 9.) [Jerosalem] Captured by Nebuzar-adan [Nebuchadnezzer].
516. Rebuilt during reign of Darius.
350. Seized by the Persians.
332. Visited by Alexander the Great?
320 or 305. Seized by Ptolemy Soter.
170. Plundered by Antiochus Epiphanes.
165. Judas Maccabeus recaptures Jerusalem and reconsecrates the Temple.
166. Pompey enters Jerusalem.
37. Besieged and taken by Herod the Great.
20. Restoration of the Temple begun by Herod the Great.

C.E.
29. (April.) Jesus of Nazareth executed at Jerusalem.
70. (Nisan 14.) Siege commenced by Vespasian, lasting 134 days.
70. (Ab 9.) Jerusalem destroyed by Titus.
135. Hadrian rebuilds the city.
136. Jerusalem called 198lia Capitolina.
362. Restoration of the Temple undertaken by Julian the Apostate.
614. Jews aid the Persian Chosroes II. in attack on Jerusalem.
628. Retaken by Heraclius; Jews forbidden to enter the city.
637. Omar puts Jerusalem under Moslem power.
688. 'Abd al-Malik builds the Dome of the Rock.
1046. Solomon ben Judah head of the yeshibah at Jerusalem.
1077. Seljuk Turks capture Jerusalem.
1099. (July 15.) Crusaders put 70,000 infidels to the sword, and found a new Christian kingdom.
1100. "Assize of Jerusalem" established by Godfrey of Bouillon.
1140. Judah ha-Levi visits Jerusalem.
1173. Benjamin of Tudela visits Jerusalem.
1187. (Oct. 2.) Saladin defeats the Franks and takes Jerusalem.
1211. Several hundred English and French rabbis settle in Jerusalem.
1218. Al-Harizi visits Jerusalem.
1267. (Aug. 12.) Nahmanides visits Jerusalem.
1437. Elijah of Ferrara made chief rabbi.
1492. Jews expelled from Spain settle in Jerusalem.
1517. Capture by Ottoman Turks.
1580. Nahmanides synagogue closed by the Moslems, claiming that it had previously been a mosque.
1621. Isaiah Horowitz and a number of his friends settle in Jerusalem.
1627. Ibn Farukh, governor of Jerusalem and persecutor of the Jews, deposed.
1705. Jews subjected to certain vexatious restrictions in matters of attire.
1798. Napoleon visits Palestine; Jewish community of Jerusalem accused of assisting him and its members threatened with death.
1827. First visit of Moses Montefiore.
1838. Edward Robinson commences archeological research in Jerusalem.
1840. Cr233mieux, Montefiore, and Albert Cohn visit Jerusalem.
1841. (Nov. 7.) S. M. S. Alexander, convert to Christianity, consecrated first Anglican Bishop of Jerusalem.
1854. Albert Cohn establishes many charitable institutions.
1862. (Sept. 5.) Treaty to preserve the Holy Sepulcher signed by Russia, France, and Turkey.
1880. Siloam Inscription discovered.
1892. (Sept. 13) Railway from Jerusalem to Jaffa, built by a French company, opened.
1898. (Nov. 1.) William II. of Germany visits Jerusalem in state and receives a Jewish deputation.
1900. Abarbanel Library founded.

 

Sources Consulted
(for 'Hist. Of Jerusalem')

ENCYCLOPAEDIAS, ETC.
Compton's Enc. Chicago: Compton's Learning Co., 1989, s.v. 'jerusalem' (12:99-102).
Enc. Americana. Connecticut: Grolier Incorpora-ted, 1986, s.v. 'Jerusalem', by J. L. Kraemer, Tel Aviv University, 16:26-32.
Enc. of Islam, New (1986) edn., s.v. 'al-Kuds' by O. Grabar, Harvard Univ.
Enc. of Judaism Second (2005) edn. Leiden: Brill, s.v. 'Jerusalem in Judaism', by Mayer Gruber (2:1201-1211).
Enc. of Religion, Second (2005) edn. USA: Thompson Gale, s.v. 'Jerusalem' by Reuven Firestone.
Grolier Academic Enc., 1985 (11:399-401).
Illustrated World Enc. NY: Illustrated World Enc., Inc., 1969 (12:2903-05).
International Standard Bible Enc. (Version 1.0 169 1997). Albany, OR USA: AGES Software, s.v. 'Jerusalem' (6:180-250).
Jewish Enc. NY: KTAV Publishing House, INC., 1901 (7:118-57).
Merit Students Enc. USA: Crowell-Collier Educational Corporation, 1967 edn., s.v. 'Jerusalem' by Donald N. Wilber (10:158-162).
-----Year Book 1973, s.v. 'Jerusalem' by Abba Eban (p. 46-55).
New Book of Knowledge, The Cildren's Enc. NY: Grolier Inc., 1970 (10:78-81).
New Caxton Enc. London: Caxton Pubg. Co., 1973, s.v. 'Jerusalem' (11:3420-22).
New Enc. Britannica, Macropaedia. Chicago: University of Chicago, 1982, s.v. 'Jerusalem' by Stewart Henry Perowne (10:138-44).
New Standard Enc. Chicago: Standard Educatioinal Corp., date etc. have been recorded in Vol. I only, which is not available (7:J-52 to J-55).
Universal World Reference Enc. Chicago, Illinois: Consolidated Book Publishers, 1964 (8:2709-10).
al-Suwaidan, Dr. Tariq. Falastine, al-Tarikh al-Musawwar. al-Ibda' al-Fikri, Kuwait, 2004 (84-86).
Jerusalem. Keter Books, Israel Pocvket Library, 5 (1973).
Jamie Scott & Paul simpsom-Housley. Sacred Places and Profane Spaces. NY: Greenwood Press, 88 Post Road West, Westport, CT 06881, 1991.
Islamic Studies (Special. Issue on 'Jerusalem'), Vol. 40: Nos. 3,4 Autumn-Winter, 2001. Ed. Dr. Zafar Ishaq Ansari, Guest ed. Salma Khadra Jayyusi. Islamabad: Isl. Research Institute, International Isl. Univ.

 

ATLASES

Oxford Bible Atlas. Ed. Herbert G. May. Oxford: Oxf. Univ. Press, 1984.
New Bible Atlas. Ed. J. J. Bimson and J. P. Kane. Leicester: I.V. Press, 1985.
Terrien, Samuel. Lands of the Bible. Wisconsin: Western Pblg. Co. Inc., 1957.
Magi, Giovanna. Jerusalem. Florence: Casa Editrice Bonechi, 1992.

 

DICTIONARIES, ETC:

Fausset's Bible Dic. (Version 1.0 169 2000). Albany, OR USA: AGES Software, s.v. 'Jerusalem' (2:417-51).
Interpreter's Dic. of the Bible (2000). Nashville: Abingdon Press, s.v. 'Jerusalem' by M. Burrows (2:843-66).
McKenzie, John L. Dic. of the Bible. London: Geoffrey Chapman (1984), s.v. 'Jerusalem' (426-31).
Smith, William. Dic. of the Bible. Michigan: Regency Reference Library, Zondervan Pblg House, Grand Rapids (1967), s.v. 'Jerusalem' (292-305).
Illustrated Bible Dic. Inter-Varsity Press (1980). S.v. 'Jerusalem' by D.F. Payne, London Bible College, (2:752-60).

________

 

حواشی

45. A. R. Fausset, Bible Dic., 2:438.

۴۶؂ ۱۹۴۴ ء میں مسلمان میئر کے انتقال کے بعد اس وقت کے قائم مقام یہودی میئر کو سرکاری طور پر مقرر کیے جانے کا مطالبہ کردیا گیا۔ اسی چپقلش کے نتیجے میں کونسل کو تحلیل کردیا گیا اور انگریز افسروں پر مشتمل ایک کمیشن مقرر کیا گیا۔

47 . Enc. Americana (1985), s.v. 'Jerusalem' by J. L. Kraemer, 16:26f.
48. The Enc. of Islam, s.v. 'al-Kuds' by O. Graber, 5:337.

۴۹؂ \'laconic\' سے مراد ہے:’ جامع ، مختصر اور دو لفظی‘ ۔

50 . Merit Students Enc. (Year Book 1973), s.v. 'Jerusalem' by Abba Eban (the then Israeli Minister of Foreign Affairs), p.55.
51. Merit Students Enc. (Year Book 1973), p

____________