ضمیمہ ۴

 

(ڈاکٹر احسان الرحمن غوری)

 

 

کیا یروشلم دارالسلام ہے؟

’یروشلم‘ کنعان کے قدیم شہروں میں سب سے معروف شہر ہے۔ آج سے قریباً تین ہزار سال قبل حضرت داوٗد علیہ السلام نے اس شہر کو اپنی عظیم سلطنت’ اسرائیل‘ کا دارالحکومت بنایا۔ یہیں سے اس شہر کی عظمت اورمرکزی حیثیت کو ایک نیا مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔ یہی شہر ہے جو حضرت عیسٰی ؑ کی زندگی کے اہم ترین ایام کا شاہد تھا۔ اسی شہر میں آپ ؑ نے اپنی دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا اور مسیحی عقائد کے مطابق یہیں ان کو مصلوب کیا گیا۔ دین اسلام میں بھی اس شہر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ پیغمبر اعظم و آخرﷺنے تمام انبیاے کرام ؑ کی امامت بھی اسی شہرمیں فرمائی اور معراج کے سفر کا آغازبھی اسی مقام سے ہوا۔ گویا یہ شہر بہ یک وقت دنیا کے تین اہم ترین ادیان کے لیے دینی مرکزکی حیثیت کا حامل ہے۔
مقالہ ہٰذا میں یروشلم کی تاریخی حیثیت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ امن یا سلامتی کے اعتبار سے اس شہر کی کیا نوعیت ہے ۔

 

’یروشلم‘ کا لغوی مفہوم

’انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ بائبل انسا ئیکلوپیڈیا ‘میں اس کے لفظی معانی کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے:

With regard to the meaning of the original name there is no concurrence of opinion. The oldest known form, Ura-sa-lim, has been considered by many to mean either the 'City of Peace' or the 'City of (the god) Salem,' but other interpreters, considering the name as of Hebrew origin, interpret it as the 'possession of peace' or 'foundation of peace.' It is one of the ironies of history that a city which in all of its long history has seen so little peace and for whose possession such rivers of blood have been shed should have such a possible meaning for its name. ؂1

جہاں تک یروشلم کے اصل نام کے معنی کا تعلق ہے، اس کے بارے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی قدیم ترین صورت Ura-sa-lim کا مفہوم اکثر لوگوں نے یا تو ’ امن کا شہر‘ لیا ہے یا پھر اسے ’دیوتا سالم کا شہر‘ قرار دیا ہے، لیکن بعض دیگر شارحین نے اسے عبرانی الاصل قرار دے کر اس کا مفہوم ’غلبۂ امن‘ یا ’امن کی اساس‘ سمجھا ہے۔ تاریخ کی یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا شہر جس نے اپنی طویل تاریخ کے دوران میں شاذ ہی امن دیکھا ہوا ور جس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے اتنی خون کی ندیاں بہائی گئی ہوں، اُس کے نام کے یہ معنی قرار دیے جائیں۔

 

 

’یروشلم‘ تاریخ کے آئینے میں

 

زمانہ قبل از داوٗد ؑ

بائبل کے عہدنامہ قدیم کی کتاب پیدایش(۱۴: ۱۸) میں اس شہر کا نام \'Salem\' درج ہے۔ مزمور داوٗد ؑ (۷۶: ۳) اور قدیم یہودی روایات میں اسے یروشلم کا نام دیا گیا ہے۔ جدید علما بھی اسی روایت کو درست قرار دیتے ہیں۔ انیسویں صدی ق م میں جب حضرت ابراہیم ؑ یہاں تشریف لائے، اُس وقت خداوند تعالیٰ کا کاہن ملک صِدق(Melchizedek ) سالم (Salem) کا بادشاہ تھا۔اس کی قدامت کے متعلق ’یروشلم‘ نامی کتاب میں وضاحت کی گئی ہے :

Various pre-historic sites of the Lower Paleolithic period have been found. in the Mesolithic period, which followed, the climate was stabilized in its present form and, due to the prevailing dryness, conditions became much more difficult for prehistoric man in the Jerusalem area. Only two sites are dated to this period. the agricultural revolution of the Neolithic period enabled man to make progress against the desert: 16 sites are indicated for this period. in the Chalcolithic period, settlement contracted somewhat, probably because of the strong attraction of the Jordan Valley and the Negev, which led to a relative decline of the mountain area. ؂2

زمانۂ قبل از تاریخ کے پتھر کے عہد۳؂ کے ابتدائی دور سے متعلق مختلف مقامات دریافت ہوئے ہیں۔ بعد والے پتھر کے زمانے کے درمیانی دور۴؂ میں آب وہوا موجودہ دورجیسی ہی ہوگئی تھی۔ (موسم میں) خشکی کا دور دورہ ہونے کی وجہ سے یروشلم کے علاقے میں زمانۂ قبل از تاریخ کے انسان کے لیے مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ اس دور کے صرف دو مقامات کے زمانے کا تعین کیا جا سکا ہے۔ پتھر کے آخر ی زمانے۵؂ کے زرعی انقلاب نے انسان کو صحرا کی تسخیر میں پیش رفت کی صلاحیت عطا کی ۔اس دور کے سولہ مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ دھات کے زمانے ۶؂میں غالباً وادئ اردن اور نجف کی اس مضبوط کشش کی وجہ سے آباد کاری میں کچھ کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں پہاڑی خطوں کی آبادی میں نسبتاً زوال آیا۔

’انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ بائبل انسا ئیکلوپیڈیا ‘اس کی قدامت کی نشان دہی ان الفاظ میں کرتا ہے:

Pre-Israelite period, --- The beginnings of Jerusalem are long before recorded history; at various points in the neighborhood, e.g. at el-Bukei'a to the Southwest, and at the northern extremity of the Mount of Olives to the Northeast, were very large settlements of Paleolithic man, long before the dawn of history, as is proved by the enormous quantities of Celts ؂7 scattered over the surface. It is certain that the city's site itself was occupied many centuries before David, and it is a traditional view that the city called SALEM (Genesis 14:18), over which Melchizedek was king, was identical with Jerusalem. ؂8
The first certain reference to this city about 1450 BC, when the name Ur-u-salem occures in several letters belonging to the Tell el-Marna Letters correspondence. In 7 of these letters occurs the name Abd Khiba, and it is clear that this man was 'king,' or governor of the city, as the representative of Pharaoh of Egypt. (...). Incidently we may gather that the place was then a fortified city, guarded partly by mercenary Egyptian troops, and there are reasons for thinking that then ruler of Egypt, Amenhotep IV, had made it a sanctuary of his god Aten --- the sun-disc. ؂9

قبل از اسرائیل دور: یروشلم کی ابتدا تاریخ کے ضبطِ تحریر میں لائے جانے سے بہت پہلے ہو گئی تھی۔ قرب وجوار کے مختلف مقامات پر (مثلاً جنوب مغرب میں البقیعہ اورشمال مشرق میں کوہِ زیتون کے انتہائی شمالی علاقے میں) تاریخ کی ابتدا سے بہت پہلے پتھر کے ابتدائی زمانے کے انسان کی بہت بڑی بڑی نو آبادیاں تھیں، جیسا کہ سطح زمین پر بکھری ہوئی پتھر کے اوزاروں کی بڑی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ بذاتِ خود شہر کے محلِ وقوع پرداوٗد ؑ سے کئی صدیاں پہلے کسی نہ کسی کا قبضہ تھا۔ روایتی نقطۂ نظر یہ ہے کہ وہ شہر، جسے سالم (Salem) کہا جاتا تھا (کتابِ پیدایش ۱۴: ۱۸) اور جس پر ملکِ صدق کی حکمرانی تھی، وہ یروشلم ہی تھا۔
اس شہر کا پہلا یقینی حوالہ۴۵۰ق م کے قریب ملتا ہے، جب یو رو سالم (Ur-u-salem) کا نام ان متعددمکتوبات میں وارد ہوا ، جن کا تعلق تل الامرنا کے خطوط سے ہے۔ ان خطوط میں سے سات خطوط ایسے ہیں جن میں عبد خیبا ( Abd Khiba ) کا نام مذکور ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ شخص فرعونِ مصر کے نمائندے کے طور پر اس شہر کا’ بادشاہ‘ یا گورنر تھا۔ (....) ۔ اتفاق سے اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ یہ مقام اُس وقت ایک قلعہ بند شہر تھا، جسے جزوی طور پر مصرکے اجرتی سپاہیوں کا تحفظ بھی حاصل تھا۔ یہ سوچنے کے لیے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ اس وقت کے مصری حکمران امن ہوتپ چہارم (Amenhotep IV) نے اس علاقے کو اپنے دیوتا آتن (Aten) کی عبادت گاہ کے لیے منتخب کیا تھا۔ آتن (Aten)سے مراد ہیسورج کی طشتری ۔

ایک روایت کے مطابق۳۲۰۰ق م سے بھی پہلے یہاں آبادی موجود تھی۔۱۰؂ یروشلم شہر کی کھدائی کے نتیجے میں چار ہزار سال ق م کے ظروف ملے ہیں۔۱۱؂ ابتدائی کانسی کے دور (Early Bronze Age 3150-2200 BCE)اور وسطی کانسی کے دور (Middle Bronze Age 2200-1550 BCE)کے دستیاب ظروف سے ثابت ہوتا ہے کہ اس علاقے میں تیسرے اور دوسرے ہزارے قبل مسیح کے نصف اول میں بھی لوگ آباد تھے۔ ایک مشہور مستشرق، مؤرخ اور مصنف Stewart Henry Perowne لکھتے ہیں:

Excavation has shown that a settlement existed on the site south of the Temple platform, possibly in the Early Bronze Age and certainly by 1800 BC. A massive town wall still survives, just above the spring that determined the location of the ancient settlement. ؂12

علاقے کی کھدائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ حد تک ابتدائی کانسی عہد اور یقینی طور پر۱۸۰۰ ق م تک ہیکل کے چبوترے (Temple Platform) کے جنوب میں ایک آبادی موجود تھی۔ چشمے کے بالائی طرف اب بھی ایک بھاری بھر کم فصیلِ شہر موجود ہے، جس کے ذریعے سے قدیم آبادی کے محل وقوع کا تعین ہوتا ہے۔

اس دور کا فصیل والا یہ شہر بہت چھوٹا تھاجو صرف نو یا دس ایکڑ رقبے پر محیط تھا۔ چشمے کے قدرے شمال میں بالائی سرے پر ایک مقدس مقام تھا۔ شاہی محل اور قبرستان اس کے نیچے واقع تھے اور باقی ماندہ پہاڑی اپنے جنوبی سرے تک شہر پر مشتمل تھی۔ ابتدائی کانسی دور کی فصیل کی باقیات اس پہاڑی کے اسی حصے میں دریافت ہوئی ہیں۔ پندرھویں صدی ق م میں Hurrians یا Horites نامی اقوام فلسطین میں وارد ہوئیں۔ مراسلاتِ امرنا لکھنے والوں میں سے ایک شخص عبد حبا ('Abd Hiba) یا ارتی ہپا (Arti-Hepa) تھا جوچودھویں صدی ق م میں یروشلم پر حکمران تھا۔اوفیل ( Ophel) کی مشرقی ڈھلوان پر پتھر سے بنے ہوئے ایک قلعے کی مضبوط فصیل اسی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ۱۳؂ بارھویں صدی ق م کی ابتدا میں ’بنی یہودا [اسی طرح بنی شمعون بھی (دیکھیے قضاۃ ۸:۳)] نے یروشلم کے خلاف جنگ لڑی اور اسے فتح کرلیا۔ انھوں نے اس شہر کے باشندوں کو قتل کیا اور شہر کو نذرِ آتش کردیا۔‘ ۱۴؂ اس آیت کے حوالے سے W. Smith ان الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں:

In the fifteen centuries which elapsed between this siege and the siege and destruction of the city by Titus, A.D. 70, the city was besieged no fewer than seventeen times; twice it was razed to the ground, and on two other occasions its walls were levelled. in this respect it stands without a parallel in any city, ancient or modern. ؂15

۷۰ عیسوی میں Titus رومی کے ہاتھوں شہر کی تباہی اور ان محاصروں کے درمیان جو پندرہ صدیاں گزریں اُن میں اس شہر کا سترہ سے زیادہ مرتبہ محاصرہ کیا گیا۔ دو مرتبہ تو اسے پیوندِ خاک کر دیا گیا۔ دیگر دو مواقع پر اس کی فصیل منہدم کر دی گئی۔ اس لحاظ سے اس شہر کا موازنہ کسی بھی قدیم یا جدید شہر سے نہیں کیا جاسکتا۔

یبوسی قوم (Jebosites) نے جلد ہی اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیااور شہر کو ازسرنو تعمیر کیا۔۱۶؂

 

حضرت داوٗد کا دورِ حکومت

دسویں صدی ق م کے ربع اول میں حضرت داوٗد علیہ السلام نے یبوسی قوم کو شکست دے کر یروشلم پر قبضہ کرلیا اور اسے اپنی عظیم سلطنت کا دارالحکومت بنالیا۔ یہ بڑی تاریخی اہمیت کا اقدام تھا۔ یہ شہر نہ تو بنی اسرائیل کے شمالی قبائل کے علاقے میں واقع تھا اور نہ جنوبی قبائل کے علاقے میں۔ لہٰذا اس کے جغرافیائی محل وقوع نے ریاست کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ ؑ نے اپنے محل کے قریب ایک خیمہ لگا کر اور تابوت سکینہ (Ark of Covenant)کو اس میں منتقل کرکے اس شہر کو قوم کا مذہبی دارالحکومت بھی بنادیا۔ آپؑ ایک خانۂ خدا بھی بنانا چاہتے تھے، البتہ کاتبِ تقدیر نے انھیں اس بات کی اجازت نہ دی (۲۔سموئیل ۷)۔۱۷؂
حضرت سلیمان علیہ السلام نے یروشلم میں اپنا محل اور ہیکل (بیت المقدس ) تعمیر کروایا۔ انھوں نے شہر کے گرد ایک فصیل بھی تعمیر کرائی ،کیونکہ یہ شہر ان کے اور اُن کے والد حضرت داوٗد علیہ السلام کے دور میں کافی وسعت اختیار کر چکا تھا، تاہم حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ عظیم سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ شمالی سلطنت کا نام اسرائیل تھا اور اُس کا دارالحکومت سامرہ (Samariah) تھا۔ جنوبی سلطنت کا نام یہودیہ (Judea) تھا اور اس کا دارالحکومت یروشلم تھا۔ شمالی سلطنت میں بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبائل آباد تھے، جبکہ جنوبی ریاست میں دو قبائل بس گئے۔ ان دونوں ریاستوں کے مابین اگلی دو صدیوں تک شدید چپقلش چلتی رہی، تاہم ہیکل کی موجودگی کی وجہ سے یروشلم کو ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

 

حضرت داوٗد علیہ السلام کے بعد کا زمانہ

اس شہر کو۹۲۲ق م میں فرعون مصرشیشک(Sheshak) یا شیشونق (Sheshonq I)نے خوب لوٹا۔ نویں صدی ق م کے وسط میں بھی یہ شہر فلسطینیوں اور عربوں کے ہاتھوں کئی مرتبہ لوٹا گیا۔

By the reign of Jehoshapht the city had again largely recovered its importance (cf. I Kings 22), but in his son Jehoram's reign (849-842 BC) Judah was invaded and the royal house was pillaged by Philistians and Arabs (2 Chron. 21 : 16 - 17). ؂18

یہو شافت (Jehoshapth) کے دورِ حکومت میں شہر نے اپنی اہمیت بڑی حد تک دوبارہ حاصل کرلی تھی، لیکن اس کے بیٹے یہورام ( Jehoram) کے دورِ حکومت (۸۴۹ ۔۸۴۲ ق م) میں فلسطینیوں اور عربوں نے سلطنت یہودیہ پر چڑھائی کر کے شاہی محلات کو تاخت وتاراج کردیا (۲۔تواریخ ۲۱: ۱۶۔۱۷)۔

۷۸۶ ق م میں بادشاہ امازیہ (Amaziah) کے دورِ حکومت (۷۹۷ ۔ ۷۶۷ ق م) میں شمالی ریاست اسرائیل کے بادشاہ یہوعاش(Jehoash) (۷۹۸ ۔۷۸۲ ق م) نے یروشلم پر چڑھائی کی۔۱۹؂ اوربیت شمس ( Beth-shemesh) کے مقام پر جنوبی ریاست یہودیہ کو شکست دی۔

(...), and [Jehoash of Israel] brake down the wall of Jerusalem from the gate of Ephraim unto the corner gate, 400 cubits. And he took all the gold and silver, and all the vessels that were found in the house of the Lord [Temple of Solomon], and in the treasures of the king's house, and hostages, and returned to Samaria. ؂20

(...) اور [اسرائیل کے بادشاہ یہوعاش ( Jehoash)نے] یروشلم کی فصیل میں سے بابِ اِفرائیم کے مقام سے لے کر بغلی دروازے تک چار سو کیوبٹس(ہاتھ) حصہ گروا دیا۔ اُس نے خانۂ خدا اورشاہی محل کے خزانوں سے ملنے والے تمام سونے چاندی ، برتنوں اور یرغمالیوں پر قبضہ کر لیااور سامرہ واپس چلا گیا۔

عمازیہ (Amaziah) کے بیٹے عزاریا (Azariah (Uzziah نے ۷۶۷ق م سے لے کر۷۴۰ ق م تک یہودیہ پر حکمرانی کی۔ اس نے شہر کی فصیل کی مرمت کرائی اور اس کی مضبوطی بڑھانے کے لیے بُرج تعمیر کرائے۔عزاریا( Azariah) کے بیٹے احاذ ( Ahaz) نے اپنی چھوٹی سی ریاست کی کمزوری کا احساس کرتے ہوئے ہمسایہ اشوری سلطنت کے بادشاہ تغلث پائلسر سوم (Tiglath-pilser III) کے ساتھ ایک خطیر رقم کے عوض اتحاد کرلیا۔ اُس نے اپنے دین و مذہب کے بارے میں بھی اس حد تک کمزوری کا مظاہرہ کیا کہ ہیکل میں اپنی ذاتی عبادات کے لیے تغلث پائلسرکے عبادت کے چبوترے سے ملتا جلتا ایک چبوترہ تعمیر کیا (۲ ۔ سلاطین ۱۶: ۱۰۔۱۲)۔ اُس کا دورِ حکومت مشرکانہ رسوم وعبادات سے داغ دار ہے ۔ اُس نے یہاں تک کیا کہ بَلّی دان (انسانی قربانی) کے طور پر اپنے بیٹے کو آگ پر سے گزارا (۱۔سلاطین ۱۶: ۳۔۴؛ مزید دیکھیے ۲۔ تواریخ ۲۸: ۳)۔

 

اشوریوں کے ہاتھوں تباہی

ہوشیاہ (Hoshea) کے دورِ حکومت (۷۳۱۔ ۷۲۲ ق م) میں۷۲۲ ق م میں اشوری بادشاہ شلمانسر(Shalmaneser) کے بیٹے سارغون دوم (Sargon II) نے شمالی سلطنت اسرائیل کے دارالحکومت سامرہ پر قبضہ کرکے اس سلطنت کا خاتمہ کر دیااور قریباً 27,290 بنی اسرائیلیوں کو اسیرِجنگ بنا کر سامریہ سے گوزان( Gozan)،حاران (Harran)، میڈیا (Media)، حولہ (Hullah)، اورنینوا (Ninevah) میں لے جابسایا۔ اُس وقت جنوبی ریاست یہودیہ پر بادشاہ احاذ (Ahaz) (۷۳۲ ۔ ۷۱۶ ق م) کی حکومت تھی۔
جنوبی سلطنت یہودیہ پرشاہ احاذ ( Ahaz)کے بعداس کا بیٹا حزقیاہ (Hezekiah) (۷۱۶ ۔ ۶۸۶ ق م) تخت نشین ہوا۔ اُس نے بعض مذہبی اصلاحات نافذ کیں۔ حزقیاہ (Hezekiah) کے بعد اس کا بیٹا منسی (Manasseh ) ( ۶۸۶ ۔ ۶۴۲ ق م) حکمران بنا۔ اس نے قریباً پچاس سال یہودیہ پر حکومت کی۔ اُس کا دورِ حکومت اسرائیلی مذہب کے لیے تاریک زمانہ ثابت ہوا۔ اس نے ہیکل سلیمانی تک میں بتوں کی پرستش کو رواج دیا۔ وہ اسرائیلی مذہب کو بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ اشوری بادشاہ سینا قرب (Sennacherib) (۷۰۵ ۔ ۶۸۱ ق م) ۷۰۱ ق م میں قید کرکے اُسے اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ نامعلوم عرصے تک وہاں قید رہنے کے بعد وہ واپس یروشلم آ گیا۔
یہودیہ کی تاریخ نے ایک اور کروٹ لی اور عمون (Amon) کا بیٹا یوسیا ہ (Josiah) ۶۴۰ق م میں یہاں کا بادشاہ بنا۔ اس نے ہیکل میں موجود بت پرستی کی تمام باقیات کو وہاں سے ہٹایا اور ہیکل کے تقدس اور عظمت کو بحال کیا اور اس کی مرمت اور تزئین کے کام کا آغاز کیا۔ دورانِ مرمت قریباً ۶۲۱ ق م میں اس وقت کے سردار کاہن حلقیاہ (Hilkiah) کو ہیکل میں سے ’خدا وند کے قانون کی کتاب‘ کا ایک نسخہ ملا۔ یرمیاہ نبی نے حلقیاہ کی سلطنت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم وتربیت کی توسیع واشاعت کے سلسلے میں اُس کی مدد کی۔ اُس نے بت پرستی اور اوہام پرستی کا ہر نقش مٹادینے کی کوششیں کیں ۔ یوسیاہ کو ۶۰۹ ق م میں فرعون مصرنیخو (Necho) کے ساتھ جنگ کے دوران میں اِسدرا لون (Esdraelon) کی وادی میں ایک مہلک ضرب آئی اور یروشلم پہنچنے سے قبل ہی وہ موت کی آغوش میں چلا گیا۔۲۱؂
یہودیہ کے مشرق کی جانب اسی دوران میں ایک اہم واقعہ رونما ہوا۔ بابلیوں نے اشوری سلطنت کے دارالحکومت نینوا پر قبضہ کرلیا۔ ۶۱۲ ق م میں بابلیوں نے اشوریوں سے یروشلم کی حکمرانی بھی چھین لی۔ انھوں نے ۶۰۹ق م میں اشوری سلطنت کا مکمل خاتمہ کردیا۔ انھوں نے یروشلم کو تاخت و تاراج کیا اور اس کے بادشاہ کو بابل لے گئے۔
اسی دوران میں یرمیاہ نبی (تقریباً ۶۲۰ ۔ ۵۸۰ ق م ) نے بیالیس (تقریباً ۶۲۶ ۔ ۵۸۴ ق م) سال تک نبوت کے فرائض سر انجام دیے۔ وہ یروشلم کے گلی کوچوں اور ایوانِ اقتدار میں جا کر اس بات کی پیشین گوئی کرتے رہے کہ شہر پر تباہی آنے والی ہے۔ بادشاہ اوراُس کے دربار میں یہ پیغامات سخت غصے اور نفرت کے ساتھ سنے گئے ( کتابِ یرمیاہ ۳۶: ۲۳)۔

 

بابلیوں کے ہاتھوں تباہی

نبیوکد نضردوم (Nebuchadnezzer II) نے ۱۵ مارچ ۵۹۷ق م میں یروشلم پر قبضہ کرلیا۔ یروشلم کا تمام خزانہ لوٹ لیا گیا۔ بہت سے یہودی بشمول یہو یاکین(Jehoiachin)اور حزقی ایل (Ezekiel) جلاوطن کردیے گئے۔ نبیوکد نضر(معروف نام بخت نصر)نے صدیقیاہ( Zedekiah) کو یروشلم کا بادشاہ نامزد کردیا۔ صدیقیاہ (Zedekiah) نے دس سال بعد نبیوکد نضر کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔ نبیوکد نضر نے ایک برس سے زائد عرصہ تک شہر کا محاصرہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ قحط نے شہر کو ویران کردیا۔رات کے وقت تمام جنگجو دو دیواروں کے درمیان والے دروازے سے، جو شاہی باغ کے قریب تھا، فرار ہوگئے۔ بادشاہ خود بھی عربہ (Arabah) کی طرف چلا گیا، لیکن یریحوکے میدان میں اُسے گرفتار کر لیاگیا۔ بابل سے غداری اور بے وفائی کی وجہ سے اُسے عبرت ناک سزا دی گئی (۲۔ سلاطین۲۵: ۱۔ ۷)۔ شہر اور ہیکل میں لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی گئی۔ یروشلم کی فصیل کو گرادیا گیا (۲۔ سلاطین ۲۵: ۸ و بعداور ۲ ۔تواریخ ۳۶: ۱۷ وبعد)۔ غالب امکان یہ ہے کہ تابوتِ سکینہ کو بھی اسی دوران میں غائب کردیا گیا۔

 

شہنشاہ ایران کے تحت باج گزاری

۵۳۸ ق م میں ایرانی بادشاہ خورس (Cyrus)نے بابلی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اُس نے یہودیوں کو یروشلم واپس جانے اور خدا وند کا گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی(عزرا ۱:۱ وبعد)۔ یہودیہ کے شہزادے شش بضر (Sheshbazzar) ، جو ایک صوبے کا گورنر بھی تھا، کی سربراہی میں چالیس ہزار سے زیادہ لوگ واپس آئے اور ہیکل کے مقدس ظروف بھی اپنے ساتھ لائے۔ روزانہ کی قربانیوں کا دوبارہ اجرا ہوا اور دعوتیں اور روزے بحال کر دیے گئے( عزرا ۳: ۳ ۔ ۷)۔ واگزار کردہ ہیکل سلیمانی کی بنیادیں رکھی گئیں( عزرا ۳: ۱۰،۵:۱۶)، لیکن سامریوں اور علاقے کے لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے عمارت کی تعمیرکہیں بیس سال بعد جاکر مکمل ہو سکی(عزرا ۶: ۱۵)۔
مارچ ۵۱۶ ق م میں معبد کی عمارت مکمل ہوگئی اور۵۱۵ ق م میںیروشلم کو خودمختاری کا درجہ دے دیا گیااور اسے سلطنت یہودیہ کا دارالحکومت بنادیا گیا۔
نحیمیاہ نبی نے۴۴۴ق م میں شہر کی قلعہ بندیوں اور فصیل کی تعمیر کی۔ یہ نئی تعمیر باون دنوں میں مکمل ہوئی۔ بلاشبہ یہ دیوار اُس دیوار کی نسبت کمزور تھی جسے نبیوخد نضر نے۱۴۲ سال پہلے گرا دیا تھا، تاہم نئی تعمیر کردہ دیوار کو انھی بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا اور اس کا ڈھانچا بھی وہی تھا۔ اس شہر کے آیندہ سو سال کی تاریخ ’انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ بائبل انسا ئیکلوپیڈیا‘ میں ان الفاظ میں بیان کی ہے:

For the next 100 years we have scarcely any historical knowledge of Jerusalem. A glimpse is afforded by the papyri of Elephantine where we read of a Jewish community in Upper Egypt petitioning Bagohi, the governer of Judea, for permission to rebuild their own temple to Yahweh in Egypt; incidently they mention that they had already sent an unsuccessful petition to Johanan the high priest and his colleagues in Jerusalem. In another document we gather that this petition to the Persian governor was granted. These documents must date about 411-407 BC. Later, probably about 350, we have somewhat ambiguous referneces to the destruction of Jerusalem and the captivity of numbers of Jews in the time of Artaxerxes (III) Ochus (358-337 BC). With the battle of Issus and Alexander's Palestinian campaign (ca. 332 BC), we are upon surer historical ground. ؂22

یروشلم کی آیندہ سوسال کی تاریخ کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ اس کی ایک معمولی سی جھلک ایلیفنٹائن پیپائرس میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہم بالائی مصرکی ایک یہودی کمیونٹی کے متعلق پڑھتے ہیں کہ انھوں نے یہودیہ کے گورنربگوہی ( Bagohi) کے دربار میں درخواست دائر کی کہ انھیں مصر میں یہوواہ (Yahweh) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہیکل کی تعمیر نو کی اجازت دی جائے۔ ضمنی طور پر انھوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ انھوں نے پہلے بھی سردار کاہن یوحانن (Johanan) اور اُس کے یروشلم کے دیگر رفقا کو ایک درخواست پیش کی تھی جو شرفِ قبولیت حاصل نہ کر سکی تھی۔ ایک اوردستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درخواست علاقے کے ایرانی گورنر کو پیش کی گئی تھی اور اِسے قبول کر لیاگیا تھا۔ یہ دستاویزات۴۱۷ تا ۴۱۱ ق م کے دوران کی معلوم ہوتی ہیں۔ بعد ازاں غالباً ۳۵۰ ق م کے قریب، ہمیں کچھ مبہم سے حوالے ملتے ہیں، جن سے ظاہرہوتاہے کہ ارطخرخس سِوم اَوخوس (Artaxerxes III Ochus) کے زمانے (۳۵۸ ۔ ۳۳۷ ق م) میں یروشلم تباہ کر دیا گیااور یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کو غلام بنا لیا گیا۔ جنگِ عیسوس (Issus) اور اسکندر اعظم کی فلسطین پر چڑھائی (قریباً ۳۳۲ ق م) کی بدولت ہمیں زیادہ قابلِ یقین تاریخی بنیاد دستیاب ہوئی ہے۔

 

یونانی دور

سلطنت فارس کے زوال پذیر ہونے میں مقدونیہ (یونان) کے عظیم فاتح اسکندرکی فتوحات کا بہت عمل دخل ہے۔ اسکندر کی فتوحات کا آغاز قریباً ۳۳۳ق م سے شروع ہوا اور۳۲۳ق م میں اس کی وفات تک تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ مصر کے بطلیموسوں اور انطاکیہ (شام) کے سلوسیوں (Seleucids)میں گھِر کر فلسطین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ باری باری اس کے حکمران بنتے رہے اور معلوم ہوتاہے کہ ایک موقعے پر فلسطینیوں کی طرف سے ادا کردہ خراج اِن دونوں کے درمیان تقسیم ہوا۔ بطلیموس نے اسکندریہ فتح کرکے اِسے ریاست کا دارالحکومت بنا دیا۔ ۳۲۱ ق م میں بطلیموس سوتر (Ptolemy Soter) نے فلسطین پر حملہ کیا اور کہا یہ جاتاہے کہ چال بازی سے یروشلم پر قبضہ کر لیا۔ اُس نے یہ ظاہر کیاکہ وہ قربانی ادا کرنے کے لیے بے تاب ہے اور اس بہانے سبت کے دن شہر میں داخل ہو گیا۔ وہ اپنے بہت سے یہودی اسیروں کو مصر لے گیا اور انھیں وہاں آباد کر دیا۔ اِن متحارب بادشاہیوں کے درمیان آویزشوں میں اگر چہ فلسطین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بذاتِ خود دارالحکومت مصر کی حکمرانی کے تحت محفوظ رہا، کیونکہ یہ الگ تھلگ جگہ پر واقع تھا۔ ۲۱۷ ق م میں بطلیموس چہارم فِلو پیٹر (Ptolemy IV Philopator) نے رافیہ کے مقام پر انطیوکس سِوم (Antiochus III) کوشکست دینے کے بعدیروشلم میں واقع ہیکل کا دورہ کیا اور قربانیاں پیش کیں۔ بیان کیا جاتا ہے (۳۔ مکابیون ۱:۱۔۷)کہ وہ قدس الاقداس میں بھی گیا تھا۔
انطیوکسِ اعظم سِوم (۲۲۳ ۔ ۱۸۷ ق م)نے ۱۹۸ ق م میں بطلیموس پنجم کو شکست دی جس کے نتیجے میں فلسطین پر سلوسیوں کا قبضہ ہو گیا۔ یہودیوں نے عکرہ کے مقام پر مصریوں کی چھاؤنی کا محاصرہ کرنے میں اُس کی مدد کی ۔ یسوع بن سیرہ نے اِس زمانے کے قریب (۱۹۰ ۔ ۱۸۰ ق م) شہر کی خوش حالی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہودیوں کو مصریوں کے ماتحت کافی حد تک خوش حالی اور مذہبی آزادی حاصل تھی، لیکن سلوسیوں کے نئے حکمران نے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا اور یہودی عقائد پر ایمان کو سلوسی حکمرانی کے خلاف بغاوت تصور کیا جانے لگا۔ انطیوکس سِوم کو ۱۹۰ ق م میں میگنیشیا (Magnesia) کے مقام پر رومیوں کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی۔ جو اُس کے بیٹے انطیوکس چہارم کو یرغمال بنا کر روم لے گئے۔ انطیوکس چہارم کو ۱۷۵ ق م میں دیمیتریس (Demetrius) کے بدلے میں رہا کر دیا گیا اور اُسے شام کے تخت پر قابض ہونے (۱۷۵ تا ۱۶۴ ق م) کی اجازت دے دی گئی۔ انطیوکس چہارم نے جلدی سے ایک بڑی فوج کے ساتھ یروشلم پر حملہ کیا، اس پر قبضہ کر لیا، لوگوں کا قتلِ عام کیا اور ہیکل کو تاخت وتاراج کر دیا (۱۔ مکابیون۱: ۲۰ ۔ ۲۴)۔ ایسا لگتا ہے کہ دو سال بعد مصر میں رومیوں کے تسلط سے خوف زدہ ہو کر انطیوکس نے مُصمَّم ارادہ کر لیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر یروشلم میں مصر کے حمایتیوں کو نہیں رہنے دے گا۔ ۱۶۸ ق م میں اُس نے اپنے خراج کے مُنتظِمِ اعلیٰ کو اُدھر روانہ کیا جس نے ایک مضبوط فوج کے ساتھ شہر پر حملہ کیا اور اُس میں داخل ہو گیا (۱۔ مکابیون۱: ۳۰)۔ اُس نے شہر میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم کیا، اُسے نذرِ آتش کر دیااور فصیلِ شہر اور آبادیوں کو مسمار کر دیا۔ اُس نے لوگوں کا قتل عام کیااور بہت سی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر فروخت کر دیا (۱۔ مکابیون ۱: ۳۱ ۔ ۳۵، ۲۔ مکابیون۵: ۲۴)۔ اُس نے یروشلم کے عظیم ہیکل کو نیست ونابود کر دیااور یہودیہ کے لوگوں کو بت پرست بنانے کی کوشش کی۔
’انٹر نیشنل اسٹینڈرڈ انسائیکلو پیڈیا‘ واضح کرتا ہے:

He [Antiochus Iv] sacrificed swine upon the holy altar, and caused the high priest himself --- a Greek in all his sympathies --- to partake of the impure sacrificial feasts; he tried by barbarous cruelties to suppress the ritual of circumcision. In everything he endeavoured, (...), to organize Jerusalem as a Greek city, and to secure his position he built a strong wall, and a great tower for the Akra, and, having furnished it well with armor and victuals, ؂23 he left a strong garrison. But the Syrians had overreached ؂ 24 themselves this time, and the reaction against persecution and attempted religious suppression produced the great uprising of the Maccabeans. ؂25

اُس [انطیوکس] نے مقدس چبوترے پر خنزیروں کی قربانیاں پیش کیں اور سردار کاہن کو، جو خود بھی اپنی تمام ہمدردیوں کے لحاظ سے ایک یونانی تھا، اِن ناپاک قربانیوں کی ضیافتوں میں شامل کیا۔ اُس نے وحشیانہ مظالم کے ذریعے سے ختنے کی رسم ختم کرنے کی کوشش کی۔ ہر بات میں اُس نے کوشش کی کہ (...) یروشلم کو ایک یونانی شہر کی طرح منظم کرے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اُس نے ایک مضبوط دیوار اور عکرہ کے لیے ایک عظیم برج تعمیر کیااور اِسے اچھی طرح اسلحے اور سامانِ رسد فراہم کرکے وہاں ایک مضبوط فوج مقرر کی، لیکن اس دفعہ شامیوں کو اپنی ناممکن الحصول کاوشوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑااور جبرو استبداد اور مذہبی تشدد سے شدید ردِ عمل پیدا ہوااور مکابی اِس کے خلاف پوری طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

مکابی (حسمونی) بغاوت

۱۶۷ق م میں مودِن شہر کے ایک یہودی پیشوامتاتیاس (Mattathias) نے انٹیوکس کی عائدکردہ پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کرلُد (Lydda)کی بیرونی پہاڑیوں کی طرف فرار ہو گیااور علم بغاوت بلند کردیا۔ ۱۶۵ق م میں متاتیاس (Mattathias) انتقال کر گیااور اُس کے بعداُس کے بیٹوں نے بغاوت جاری رکھی۔ یہودہ مکابی اور اس کے بھائیوں نے یروشلم کو شامیوں کے قبضے سے واگزار کرایا۔ انھوں نے عظیم ہیکل کو مشرکانہ آلایشوں اور بتوں سے پاک کیا، مقدس قربان گاہ کو ازسرنو تعمیر کیا اور ہیکل کی عبادتی سرگرمیوں کو بحال کیا۔
ابتدا میں یہودہ (مکابی) نے تین شامی افواج کو کھلے میدان میں شکست دی، لیکن وہ عکرہ میں تعینات فوجی دستوں کو نہ نکال سکا۔ ۱۶۳ق م میں ایک عظیم شامی لشکر ان دستوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا جوسخت دباؤ میں تھے۔ لائیسیاس (Lysias) اپنے نوجوان بادشاہ (انٹیوکس پنجم) کی بذاتِ خود معیت میں جنوبی سمت سے بیت زور (Beth-Zur) کے راستے شہر میں پہنچا۔بیتِ زکریا (Beth-Zachariah)کے مقام پر یہودیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اور یہودہ کا بھائی الیعزر (Eleazer) مارا گیا۔ جلد ہی یروشلم پر بھی قبضہ ہوگیا ۔ کوہِ صیہون (Zion) پر واقع قلعہ جس نے بیتِ مُقدَّس کو گھیرا ہوا تھا، ایک معاہدے کے تحت اُن کے حوالے کر دیا گیا، مگر جب بادشاہ کواُس کی قوت کا علم ہوا تو اُس نے اپنا معاہدہ ختم کر دیا اور قلعہ بندیوں کوتباہ و برباد کر دیا۔ (۱۔ مکابیون ۶: ۶۲)، لیکن اِس مایوس کن صورت حال میں بھی یہودہ اور اُس کے پیرو کار محفوظ رہے ۔ فلپس نامی ایک جھوٹے مدعی نے سلطنت کے کسی دور دراز علاقے میں عَلَمِ بغاوت بلند کر دیا۔ اور لائیسیاس (Lysias) کو مجبوراً قوم پرست یہودیوں کے ساتھ ایسی شرائط پر صلح کرنی پڑی جو یہودہ کی شکست سے پہلے سے بھی زیادہ اُن کے حق میں تھیں، تاہم عکرہ کی فوجی چھاؤنی برقرار رہی تا کہ یہودیوں کو یہ بات یاد رہے کہ وہ آزاد نہیں ہیں۔ ۱۶۱ ق م میں ایک دوسرے شامی جرنیل نکانور (Nicanor) کو یہودہ کے خلاف بھیجا گیا، لیکن وہ پہلے تو دوستی کے جال میں پھنس گیا اور بعد میں یونانیوں کے گروہ کے برانگیختہ کرنے پرجب وہ یہودہ پر حملہ کرنے کے لیے مجبور ہو گیا تو اُس نے جلدی میں ترتیب دی ہوئی فوج کے ساتھ حملہ کیا اور یروشلم کے قدرے شمال میں عداسہ کے مقام پر شکست سے دوچار ہوا، تا ہم یہودہ یہ جشن فتح منانے کے لیے زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکا۔ ایک ماہ بعد ہی یروشلم کے سامنے بشائیڈز (Bacchides) نمودار ہوا اور اپریل ۱۶۱ ق م میں یہودہ اُس کے ساتھ جنگ میں بریع (Berea) کے مقام پر مارا گیا۔ ۲۶؂
۱۵۲ق م تک اس علاقے پر عملاًیہودہ کے بھائی جوناتھن (Jonathan) کی حکمرانی تھی۔ اس نے اتنی کامیابیاں حاصل کیں جو اس کے خاندان میں اس سے پہلے کبھی کسی نے حاصل نہ کی تھیں۔ اسے سردار کاہن مقرر کردیا گیااور ریاست یہودیہ کے بادشاہ کا نائب بھی بنا دیا گیا۔ اس نے شہر کی مرمت کی اور ہیکل کی قلعہ بندیوں کو بحال کیا۔ اس نے فصیلِ شہر کو مزید بلند کیا اور مشرقی فصیل کا ایک وسیع حصہ تعمیر کیا۔ اس نے شامی دستوں کو الگ تھلگ کرنے کے لیے عکرہ (Akra) اور شہر کے درمیان ایک بڑا ٹیلہ بھی تعمیر کرایا۔

________

 

حواشی

1. International Standard Bible Enc., (Albany, OR USA: Books For The Ages, AGES Software, Version 1.0 169 1997), s.v. 'Jerusalem' by Geerhardus Vos, 6:181.
2. "Jerusalem", Israel Pocvket Library, (Kate Books, 1973), 5.

۳؂ قدیم حجری دور(Old Stone Age) ، 10,000 BCE سے ماقبل کا دور(Paleolithic) ۔
۴؂ وسطی حجری دور (Middle Stone Age)، 10,000 to 7,500 BCE کا دور(Mesolithic)۔
۵؂ اواخرِ حجری دور(the latest part of the Stone Age)، اس دور کی نمایاں خصوصیت پتھروں کے کٹے ہوئے اور صیقل شدہ ہتھیاروں اور اوزاروں کا استعمال ہے(Neolithic)۔ (’نیو شارٹر اوکسفرڈ ڈکشنری‘، ۱۹۹۳ء)۔
۶؂ عہدکانسی (Copper Age) ، -(Chalcolithic) 4,000 to 3,150 BCE
۷؂ اس اصطلاح کے صحیح ہجے \'celts\' ہونے چاہییں، جس کے معنی ہیں: ’ پتھر کا کلہاڑا‘۔ جہاں تک \'Celts\'(بڑے ’سی‘ کے ساتھ) کا تعلق ہے، یہ اصطلاح مغربی یورپ کے لوگوں کے لیے مستعمل ہے، جورومن کے آنے سے پہلے برطانیہ میں آباد ہوگئے تھے۔ وہ بڑے تند خو قسم کے جنگجو اور اعلیٰ قسم کے شہسوار تھے۔ وہ اچھے کسان بھی تھے اور بیلوں سے کھینچے جانے والے ہل استعمال کرتے تھے۔

8. International Standard Bible Enc., CD-ROM Version 1.0, 1997, 6:227.
9. International Standard Bible Enc., CD-ROM Version 1.0, 1997, 6:227-28.
10. Enc. of Judaism, Second (2005) edn., 2:1201.
11. Interpreter\'s Dic. of the Bible,(2000) , 2:846.
12. Enc. Britannica: Macropaedia 15th edn. (1982), s.v. 'Jerusalem'10:139.
13. Interpreter's Dic. of the Bible, (2000), 2:846-47.

۱۴؂ Judges 1:8 NKJV یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے قبل بھی یہ شہر ’شہرِ امن‘ نہیں تھا۔

15. William Smith, A Dic. of the Bible (Michigan: Grand Rapid, 1067), 302.
16. Interpreter\'s Dic. of the Bible (2000), 2:847.

۱۷؂ دیکھیے Interpreter\'s Dic. of the Bible, 2:848.

18. International Standard Bible Enc., \'Jerusalem,\', 6:231.
19. Enc. Britannica: Macropaedia 15th edn. (1982), 10:139.
20. 2-Kings 14:14 KJV.

۲۱؂ ملاحظہ کیجیے ’ سمتھ کی لغاتِ بائبل‘، ۱۹۶۷ء ، زیر لفظ ’یوسیاہ‘ صفحہ ۳۲۴۔

22. International Standard Bible Enc., s.v. 'Jerusalem,' by Geerhardus Vos, 6:237.

۲۳؂ ’Victuals‘ کے معنی ہیں:’ سامان رسد و خوراک‘۔
۲۴؂ ’Overreach‘کے معنی ہیں:’ ناممکن کے حصول کی کوشش کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا‘۔

25. International Standard Bible Enc., s.v. 'Jerusalem,' by Geerhardus Vos, 6:239.
26. See International Standard Bible Enc., s.v. 'Jerusalem,' by Geerhardus Vos, 6:240f.

____________