باب ششم



بائبل کے علما کا یروشلم کو موریاہ (مقام قربانی) کا محلِ وقوع قرار دینے کا دعویٰ قدرے تفصیلی بحث کا طالب ہے۔ اصل میں اسے موریاہ کا نام خداوند کے گھر کو، جسے عام طور پر ہیکل کہا جاتا ہے، اہمیّت اور تعظیم عطا کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ میکنزی کی لغات بائبل (McKenzie's Dic. of the Bible)میں وضاحت کی گئی ہے:

The hill on which Solomon\'s temple was built is called Moriah (2 Ch 3:1), the only other incidence of the name; but this is in all probability due to the theological invention, which identified the Temple, the place of Yahweh\'s dwelling and of Israel\'s worship, with the site of the sacrifice of Isaac.؂1

وہ پہاڑی جس پر ہیکل سلیمانی تعمیر کیا گیا تھا، موریاہ کہلاتی ہے (۲۔ تواریخ ۳: ۱)۔ بائبل میں صرف یہی وہ دوسرا مقام ہے جس میں یہ نام آیا ہے،لیکن غالب امکان یہی ہے کہ یہ سب کچھ دینیاتی اختراع ہے جس نے خداوند کی جاے قیام اور اسرائیل کے مقامِ پرستش، یعنی ہیکل کو اسحاق ؑ کی قربانی کا مقام قرار دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس مقام پر ہیکل تعمیر کیا گیا، پہلیاس کا سرے سے کوئی نام ہی نہ تھا۔ اسے محض شناخت کے لیے ’اور نان یبوسی کا کھلیان ‘کہا جاتا تھا۔ ’موریاہ‘ کا نام اس کے ساتھ دھاندلی سے منسوب کیا گیا ہے تاکہ اسے تقدس اور اہمیت دی جائے۔ جی اے بروائس(G.A. Barrois) نے ’انٹرپریٹرز ڈکشنری آف بائبل‘ (Interpreter\'s DB)میں اس نکتے کی یوں وضاحت کی ہے:

Since the name Moriah appears nowhere else in the texts relative to the topography of Jerusalem, there is good reason to suspect that the author of Chronicles intended to ascribe an early origin to the royal sanctuary, by identifying the unnamed hilltop formerly used as a threshing floor with the mountain in the land of Moriah, where Abraham had made ready to sacrifice his son. ؂2

کیونکہ موریاہ کا نام یروشلم کی سرحدوں سے متعلق متون میں کسی اور جگہ نہیں آیا۔ اس لیے یہ شک کرنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ کتاب تواریخ کے مصنف کی یہ خواہش تھی کہ اس شاہی حرم مقدس کی کوئی پرانی بنیاد ظاہر کی جائے۔ اس طرح اس نے بے نام پہاڑی چوٹی کو جو پہلے ایک کھلیان کے طور پر استعمال ہوتی تھی، سرزمین موریاہ کے پہاڑ سے مشابہ قرار دیا ،جہاں ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو قربانی کے لیے تیار کیا تھا۔

کتاب تواریخ کا مصنف، جس نے اس جگہ کے لیے موریاہ کا لفظ استعمال کیا ہے، بذاتِ خود بھی اس جگہ کے لیے یہ نام اپنے بیانات میں کسی اور جگہ استعمال نہیں کرتا، جبکہ اس نے اس جگہ کا متعددمرتبہ حوالہ دیا ہے۔ اگر اس جگہ کی شناخت موریاہ کے اسم معرفہ کے ساتھ منسلک ہوتی تو کتاب تواریخ کا مصنف دوسرے مقامات پر بھی اسے استعمال کرتا۔ مزید براں اس کے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ یروشلم کے شہر میں واقع ہے جو یہودی قوم کے لیے انتہائی اہم شہر تھا۔ پھر اس کے متعلق یہ بھی دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ ہیکل سلیمانی کا محل وقوع ہے۔ یہ ہیکل قومِ یہود کے لیے اپنی تعمیر کے روزِ اول ہی سے ہمیشہ ایک انتہائی اہم عمارت رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری بائبل میں اس تحریف شدہ مقام کے علاوہ یہ کسی جگہ بھی موریاہ کے نام سے مذکور نہ ہوتا۔ ذیل میں بائبل سے اس واقعے کا قدرے تفصیلی متن درج ہے تاکہ قاری اس کے پس منظر سے آگاہ ہو سکے:

اور خدا نے ایک فرشتہ یروشلیم کو بھیجا کہ اسے ہلاک کرے اور جب وہ ہلاک کرنے ہی کو تھا تو خداوند دیکھ کر اس بلا سے ملول ہُوا اور اس ہلاک کرنے والے فرشتہ سے کہا بس اب اپنا ہاتھ کھینچ اور خداوند کا فرشتہ یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیان کے پاس کھڑا تھا۔اور داؤدؔ نے اپنی آنکھیں اٹھا کر آسمان و زمین کے بیچ خُداوند کے فرشتہ کو کھڑے دیکھا اور اسکے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی جو یروشلِیم ؔ پر بڑھائی ہوئی تھی۔ تب داؤدؔ اور بزُرگ ٹاٹ اوڑھے ہوئے منہ کے بل گِرے۔ اور داؤدؔ نے خُدا سے کہا کیا میں ہی نے حکم نہیں کِیا تھا کہ لوگوں کا شُمار کِیا جائے؟ گُناہ تو میں نے کیا اور بڑی شرارت مُجھ سے ہُوئی پر اِن بھیڑوں نے کیا کِیا ہے؟ اَے خُداوند میرے خُدا تیرا ہاتھ میرے اور میرے باپ کے گھرانے کے خِلاف ہو، نہ کہ اپنے لوگوں کے خِلاف کہ وہ وبا میں مُبتلا ہوں۔ تب خُداوند کے فرِشتہ نے جادؔ کو حُکم کِیا کہ داؤدؔ سے کہے کہ داؤدؔ جا کر یبُوسی اُرنانؔ کے کھلیہان میں خُداوند کے لِیے ایک قُربا ن گاہ بنائے۔ اور داؤدؔ جادؔ کے کلام کے مُوافِق جو اُس نے خُداوند کے نام سے کہا تھا گیا۔اور اُرنانؔ نے مُڑ کر اُس فرِشتہ کو دیکھا اور اُسکے چاروں بیٹے جو اُس کے ساتھ تھے چھپ گئے۔ اُس وقت اُرنانؔ گیہُوں داؤتا تھا۔اور جب داؤدؔ اُرنانؔ کے پاس آیا تب اُرنانؔ نے نِگاہ کی اور داؤدؔ کو دیکھا اور کھلِیان سے باہر نکل کرداؤدؔ کے آگے جُھکا اور زمین پر سرنِگون ہوگیا۔تب داؤدؔ نے اُرنانؔ سے کہا کہ اِس کھلِیہان کی یہ جگہ مُجھے د ے دے تاکہ مَیں اِس میں خُداوند کے لیے ایک قُربان گاہ بناؤں۔ تُو اِس کا پُورا دام لے کر مُجھے دے تاکہ وبا لوگوں سے دُور کر دی جائے۔اُرنانؔ نے داؤدؔ سے کہا تُو اِسے لے لے اور میرا مالِک بادشاہ جو کُچھ اُسے بھلا معلوم ہو کرے۔ دیکھ! میں اِن بَیلوں کو سوختنی قُربانیوں کے لیے اور داؤ نے [گاہنے] کے سامان اِیندھن کے لیے اور یہ گیہُوں نذر کی قُربانی کے لیے دیتا ہوں۔ میں یہ سب کُچھ دِیے دیتا ہوں۔داؤدؔ بادشاہ نے اُرنانؔ سے کہا نہیں نہیں بلکہ میں ضرور پُورا دام دے کر تُجھ سے خرید لُوں گا کیونکہ مَیں اُسے جو تیرا مال ہے خُداوند کے لیے نہیں لینے کا اور نہ بغیر خرچ کیے سوختنی قُربانی چڑھاؤں گا۔سو داؤدؔ نے اُرنانؔ کو اُس جگہ کے لیے چھ سَو مِثقال سونا تول کر دیا۔اور داؤدؔ نے وہاں خداوند کے لیے مذبح بنا یا اور سوختنی قُربانیاں اور سلامتی کی قُربانیاں چڑھائیں اور خداوند سے دُعا کی اور اس نے آسمان پر سے سوختنی قُربانی کے مذبح پر آگ بھیج کر اُس کو جواب دیا۔اور خداوند نے اُس فرِشتہ کو حُکم دیا۔ تب اُس نے اپنی تلوار پِھر میان میں کر لی۔اُس وقت جب داؤدؔ نے دیکھا کہ خُداوند نے یبُوسی اُرنانؔ کے کھلِیہان میں اُس کو جواب دیا تھا تو اس نے وہیں قُربانی چڑھائی۔ ۳؂

مندرجہ بالا بیان میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ ان چند سطور میں موریاہ کے متنازعہ محل وقوع کا گیارہ مرتبہ ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں اس مقام کے لیے جو مختلف نام استعمال کیے گئے ہیں، وہ ہیں(۱) اورنان یبوسی کا کھلیان، یا محض (۲) کھلیان ، (۳) اس کھلیان کی جگہ ، (۴) جگہ ، (۵) یہ ، (۶) وہاں اور (۷) اس میں، لیکن پورے بیان میں ایک مرتبہ بھی اس کو ’موریاہ‘ کے اسم معرفہ کے ساتھ منسوب نہیں کیا گیا۔ مزید یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اس مقام کے لیے یہ مختلف الفاظ مختلف لوگوں نے استعمال کیے ہیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے ( اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی فریق بھی یہ نہیں جانتا کہ اس مقام کا ’موریاہ‘ نامی کوئی اسم معرفہ بھی ہے):

الف ’اورنان یبوسی کا کھلیان‘ کے الفاظ (۱) ایک مرتبہ کتاب کے مدیر نے (۲) ایک مرتبہ حضرت داؤد ؑ نے اور (۳) ایک مرتبہ خداوند کے فرشتے نے [اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند کا فرشتہ بھی (اور کیونکہ وہ خداوند کی طرف سے بول رہا تھا، اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے خداوند خود بھی) نہیں جانتا تھا کہ ہیکل کے اس محل وقوع کا نام ’موریاہ‘ تھا] (کل تین مرتبہ)،
ب ’کھلیان ‘ کا لفظ صرف ایک مرتبہ ،اور وہ کتاب کے مدیر نے،
ج ’اس کھلیان کی جگہ‘ کے الفاظ صرف ایک مرتبہ، اور وہ حضرت داؤد ؑ نے،
د ’اس میں‘ کے الفاظ صرف ایک مرتبہ، اور وہ بھی حضرت داؤد ؑ نے،
ہ لفظ ’یہ‘ : (۱) دو مرتبہ حضرت داؤد ؑ نے اور (۲) ایک مرتبہ اور نان یبوسی نے (کل تین
مرتبہ)،
و لفظ ’وہاں ‘ صرف ایک مرتبہ ،اور وہ کتاب کے مدیر نے،
ز ’جگہ‘ کا لفظ صرف ایک مرتبہ، اور وہ بھی کتاب کے مدیر نے استعمال کیا ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ اس بات کا علم نہ تو کتاب کے مؤلف کو تھا ، نہ حضرت داؤدعلیہ السلام کو تھا، نہ اورنان یبوسی کو تھا اور نہ خداوند کے فرشتے کو اور چونکہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کر رہا تھا تو گویا نعوذ با للہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ کو بھی اس کا علم نہ تھا کہ اس جگہ کا نام ، جہاں بعد میں ہیکل سلیمانی نے تعمیر ہونا تھا، ’موریاہ‘ تھا ۔ یہ بات قطعی طور پر ناقابل یقین ہے۔
اگر اس مقام کا نام ’موریاہ‘ ہوتا اور وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام یا اس سے بھی پہلے کے زمانے سے اور وہ بھی ان کے ا س مقام پر اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی جیسے عظیم الشان واقعے کے سلسلے میں، تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ خداوند کا فرشتہ اور حضرت داؤدعلیہ السلام اور کتاب کا مؤلف اور اس جگہ کا مالک اورنان یبوسی ، سب لوگ اس مقام کے بارے میں ایسی حقارت اور بے نیازی کا مظاہرہ کرتے کہ اس پورے بیان میں کسی جگہ اس کے نام کا ذکر تک گوارا نہ کرتے۔
جوزیفس نے بھی اپنی کتاب 'Antiquities' میں یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ اس سے اس نکتے پر مزید روشنی پڑتی ہے:

When God heard his [David\'s] supplication, he caused the pestilence to cease; and sent Gad the prophet to him, and commanded him to go up immediately to the threshing-floor of Araunah the Jebosite, and build an altar there to God, and offer sacrifices. When David heard that, he did not neglect his duty, but made haste to the place appointed him. Now Araunah was threshing wheat; and when he saw the king and all his servants coming to him, he ran before, and came to him (133). Now Araunah inquired, Wherefore is my lord come to his servant? He answered, To buy of him the threshing-floor, that he might therein build an altar to God, and offer a sacrifice. He replied, That he freely gave him both the threshing-floor, and the ploughs and the oxen for a burnt offering; and he besought God graciously to accept his sacrifice; (133); and when Araunah said he would do as he pleased, he bought the threshing-floor of him for fifty shekels; and when he had built an altar, he performed divine service, and brought a burnt offering, and offered peace-offerings also. (133). Now when king David saw that God had heard his prayer, and had graciously accepted of his sacrifices, he resolved to call that entire place The Altar of all the People, and to build a temple to God there; ؂4

جب خداوند نے اس [حضرت داؤدعلیہ السلام ] کی التجا سنی تو اس نے اس وبا کے ختم ہونے کا حکم فرمایا اور جعد نامی پیغمبر کو اس کے پاس بھیجا اور اسے [حضرت داؤدعلیہ السلام کو] حکم دیا کہ وہ فوری طور پر ارونا یبوسی کے کھلیان پر جائیں اور وہاں خداوند کے لیے ایک چبوترہ تیار کریں اور قربانیاں پیش کریں۔ جب حضرت داؤد ؑ نے یہ سنا تو اس نے اپنے فریضے میں کوئی کوتاہی نہ کی، بلکہ فوری طور پر مقررہ مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ اب ارونا وہاں گندم کی گہائی کر رہا تھا۔ جب اس نے بادشاہ [حضرت داؤدعلیہ السلام] اور اس کے تمام خَدَم و حشم کو اپنی طرف آتے دیکھا، وہ آگے دوڑا اور اس کے پاس آیا۔ ( ... )۔ اب ارونا نے دریافت کیا میرا آقا اپنے غلام کی طرف کس لیے تشریف لایا ہے؟ اس [حضرت داؤد] نے جواب دیا کہ تم سے یہ کھلیان خرید نے کے لیے [آیا ہوں]۔ تاکہ یہا ں خداوند کے لیے ایک چبوترہ تعمیر کروں اور قربانی پیش کروں۔ اس نے جواب دیا کہ وہ خوشی سے یہ کھلیان اور ہل اور یہ بیل سوختنی قربانی کے لیے پیش کرتا ہے۔ اور اس نے خداوند سے التجا کی کہ وہ اپنے فضل سے اس کی (یہ) قربانی قبول فرمائے۔(... )؛ اور جب ارونا نے کہا کہ جیسے آپ کی خواہش ہے میں ویسے ہی کروں گا تو انھوں [حضرت داؤد ؑ ] نے اس سے یہ کھلیان پچاس شیکل میں خرید لیا۔ اور جب اس نے ایک چبوترہ تیار کر لیا تواس نے خدا کی عبادت کی اور ایک سوختنی قربانی لایا اور امن کی قربانیاں بھی پیش کیں۔ (...)۔ اب جب بادشاہِ داؤد ؑ نے دیکھا کہ خداوند نے اس کی دعا سن لی اور اپنے فضل سے اس کی قربانیاں قبول کر لیں تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس تمام جگہ کا نام ’تما م لوگوں کا (عبادت وقربانی کا) چبوترہ‘ (The Alter of all the People) رکھے گا اور وہاں خداوند کا ایک ہیکل تعمیر کرے گا۔

پچھلی عبارت کی طرح اس مندرجہ بالا عبارت میں بھی اس مقام کا، جسے کتاب تواریخ کے مصنف نے متنازع طور پر’ موریاہ‘ کا نام دیا ہے ، سات مرتبہ ذکر آیا ہے، لیکن کسی ایک جگہ بھی اس نے اس کا ذکر’ موریاہ‘ کے نام سے نہیں کیا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب بادشاہ حضرت داؤد ؑ خود اس جگہ کے لیے کوئی نام تجویز کرتے ہیں تو وہ اسے ’ تمام لوگوں( کی عبادت و قربانی )کا چبوترہ (The Alter of all the People)‘ کا نام دیتے ہیں ۔ اگر یہ وہ مقدس جگہ ہوتی جس کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے سے ’موریاہ ‘ ہوتا اور جس کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے پہلونٹے، اکلوتے اور پیارے بیٹے کی قربانی جیسی عظیم الشان روایت منسوب ہوتی تو حضرت داؤدعلیہ السلام کو اس نام کا لازماً علم ہوتا اور وہ اس جگہ کے لیے یقینا یہی نام استعمال کرتے۔ وہ اس اہم نام کے ذکر کوہرگز نظر انداز نہ کرتے اور اسے ’تمام لوگوں (کی عبادت و قربانی) کا چبوترہ‘ جیسے ادنیٰ قسم کے نام میں تبدیل کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے۔
اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی قابل لحاظ ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ یا تو حبرون (جسے آج کے دور میں الخلیل کہتے ہیں) میں رہتے تھے یا ممرے میں جو حبرون سے قریباً تین کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔ ان کے مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں کی چراگاہیں بِیر سبع کے مقام پر تھیں جو حبرون سے قریباً پچیس میل جنوب میں واقع ہے۔ یروشلم اورحبرون کے درمیان بیس میل سے زیادہ کا فاصلہ نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام صبح سویرے سفر کے لیے نکلے تھے جس سے ان کی مستعدی، اشتیاق، ذوقِ عمل اور پرہیز گاری ظاہر ہوتی ہے۔ اگر انھوں نے اپنا سفر حبرون سے شروع کیا ہوتا تو انھیں صرف بیس میل کا سفر طے کرنا تھا۔ اگر وہ ممرے سے روانہ ہوتے تو ان کے سامنے صرف اٹھارہ میل کا سفر تھا ۔ اگر وہ بیر سبع سے چلے تھے تو انھیں قریباً چالیس میل کا سفر طے کرنا تھا۔ ان کے سفر کا نقطۂ آغاز جو کچھ بھی ہو،کیونکہ وہ گدھے پر سفر کر رہے تھے اور انھوں نے اپنے سفر کا آغاز صبح سویرے ہی کر دیا تھااور وہ یہ سفر بڑے ذوق و شوق اور جذبے سے سرانجام دے رہے تھے،۵؂ تو اگر ان کی منزل مقصود یروشلم ہوتی (جو ان کی ہر ممکن رہایش گاہ سے اٹھارہ سے پنتالیس میل کے اندر اندر واقع تھی) تو انھیں اس تک پہنچنے میں ایک یا دو دن لگتے، لیکن بائبل کا بیان یہ ہے کہ تین دن کے سفر کے بعد بھی وہ ابھی تک مقررہ مقام سے بہت ہی دور تھے۔ اس کا مطلب ہوا کہ، جیسا کہ’ نیو جیرومِ ببلیکل تفسیر‘میں بیان کیا گیا ہے، انھیں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں قریباً سات دن لگے ہوں گے۔ ۶؂ اس طرح کسی صورت میں بھی یہ منزل یروشلم نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو مقام حقیقت میں منزلِ مقصود تھا،وہ اتنے طویل فاصلے پر واقع تھا کہ وہاں تک پہنچنے میں اتنا لمبا عرصہ درکار تھا (جبکہ یروشلم کسی طرح بھی ایک دو دن کے فاصلے سے زیادہ دور نہ تھا)۔ کوئی شخص ’نیوجیروم تفسیر بائبل‘ سے اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ لگاتار تین دن ۷؂ کے ذوق و شوق اور جذبے کے ساتھ کیے گئے سفر کے بعد بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچے تھے اور ابھی تک اپنی منزل مقصود سے بہت دور تھے۔ اس طرح یہ نظریہ کہ موریاہ یروشلم کی پہاڑی چوٹی پر واقع تھا، باطل قرار پاتا ہے، کیونکہ یروشلم ایک دو دن کے سفر سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ یہ ابہام اور پیچیدگی بائبل کے علما کی نظر سے بھی اوجھل نہیں رہی۔ ’السٹریٹڈ بائبل ڈکشنری‘ میں درج ہے:

The only other mention of the name occurs in 2 Ch. 3:1, where the site of Solomon\'s Temple is said to be on mount Moriah, on the threshingfloor of Ornan the Jebusite where God appeared to David (133). It should be noted that no reference is made here to Abraham in connection with this site. It has been objected that Jerusalem is not sufficiently distant from S Philistia to have required a 3 day's journey to get there [not to say of three days, the actual journey which is allegedly claimed to be undertaken, was of not less than a week, as observed by the New Jerome B.C whereas, in view of the earnestness of Abraham and the distance to be covered being small, it could not have taken him more than one day, had the destination been Jerusalem.], and that one of the characteristics of Jerusalem is that the Temple hill is not visible until the traveler is quite close, so that the correctness of the Biblical identification is called in question. ؂8

اس نام کا واحد دوسرا ذکر ۲۔ تواریخ ۳:۱ میں آیا ہے، جہاں ہیکل سلیمانی کا محل وقوع ’اورنان یبوسی کے کھلیان‘ پر واقع کوہ’ موریاہ ‘پر بتایا گیا ہے، [اور یہ وہی جگہ ہے] جہاں خداوند داؤد ؑ پر نمودار ہوا تھا۔ (...)۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس محل وقوع کے سلسلے میں ابراہیم ؑ کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یروشلم جنوبی فلسطیہ سے اتنا زیادہ دور نہیں کہ وہاں پہنچنے میں تین دن درکار ہوں، ۹؂ اور یہ کہ یروشلم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ جب تک کوئی مسافر ہیکل کی پہاڑی کے بالکل قریب نہ پہنچ جائے، وہ اسے دکھائی نہیں دیتی۔ اس طرح بائبل کی اس مقام کی نشان دہی کا درست ہونا محل نظر ہے۔

پیک (Peake)کی تفسیرِ بائبل میں بھی اس موضوع پر معقول انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ اُس کا بیان ہے:

In v. 2 the scene of the episode is said to be a mountain \'in the land of Moriah', and it is possible that these words and the obscure phrase in v. 14, 'in the Mount (i.e the Temple Mount) where Yahweh is seen.' (where the Hebrew text has evidently suffered some corruption), may have been inserted by the Priestly editor to carry back the sanctity of the Temple site to the age of Abraham. But it is impossible that the Temple Mount at Jerusalem could have been the scene of the incident for various reasons.؂10

دوسری آیت میں اس واقعے کا منظر ’ موریاہ کی سرزمین میں‘ ایک پہاڑ بیان کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ الفاظ اور آیت نمبر ۱۴ کے مبہم سے الفاظ ’اُس پہاڑ (یعنی ہیکل والے پہاڑ) میں جہاں اللہ تعالیٰ کو دیکھا گیا‘ ( جہاں عبرانی متن میں صریحاً تحریف واقع ہوئی ہے)، پریسٹلی ایڈیٹر کی طرف سے اضافہ معلوم ہوتا ہے۔ جس سے اُس کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہیکل کے محلِ وقوع کا تقدس [حضرت] ابراہیم ؑ کے عہد سے جوڑا جا سکے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ بات نا ممکن نظر آتی ہے کہ یروشلم کے مقام پر واقع ہیکل کی پہاڑی وہی جگہ ہو جہاں یہ واقعہ رونما ہوا تھا۔

مندرجہ بالا معلومات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہاڑ کی اُس چوٹی کا نام، جس پر ہیکل سلیمانی تعمیر کیا گیا تھا’اور نان یبوسی کا کھلیان‘تھا، نہ کہ موریاہ ۔ کتابِ تواریخ کے مصنف نے دیدہ و دانستہ غلط طور پر ہیکل کے محلِ وقوع کو تقدس اور اہمیت دینے کے لیے اسے ہیکل کے ساتھ منسوب کر دیا ہے۔ ہیکل سلیمانی کے محلِ وقوع پر کسی’ موریاہ‘ کے موجود ہونے کا تصور زمینی حقائق کے قطعی طور پر خلاف ہے اور محض جعل سازی پر مبنی ہے۔ ایس آر ڈرائیور نے ’ہیسٹنگز بائبل ڈکشنری‘ میں صاف لکھا ہے کہ موریاہ کے یروشلم پر واقع ہونے کا نظریہ صرف کتاب تواریخ کے مصنف کی اختراع ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعویٰ صریحاً ایک مشکوک نوعیت کا معاملہ ہے۔ وہ یروشلم کے’ موریاہ‘ کا مقام ہونے کے امکان کو اس حقیقت کی بنا پر رد کر دیتا ہے کہ یہ کسی دور دراز مقام سے نظر نہیں آسکتا ،جبکہ بائبل کا بیان ہے کہ’ تب تیسرے دن [حضرت] ابراہیم ؑ نے اپنی نگاہ اٹھائی اور اس مقام کو بہت دور دیکھا۔‘ اس کے ملاحظات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

What was originally denoted by this designation is very obscure. It is indeed evident that in 2Ch 3:1 the Temple hill is referred to; but this does not settle the sense of the expression \'land of Moriah\' in Gn 22:2: the Chronicler may, in common with the later Jews, have supposed that that was the scene of the sacrifice of Isaac, and borrowed the expression from Gn 22:2۔ perhaps to suggest that the spot was chosen already by \'J\' in the patriarchal age. (133). It is remarkable that, though it is here implied that it is well known to Abraham, the region is not mentioned elsewhere in the OT. It is difficult, under the circumstances, not to doubt the originality of the text; (133); Gerizim, moreover, is an elevation which a traveler approaching from the S. might \'lift up his eyes\' (22:4) and see conspicuously at a distance, which is not the case with Jerusalem. ؂11

یہ نام ابتدا میں کس چیز کی طرف دلالت کرتا تھا، اس کا جواب بہت مبہم ہے۔ یہ بات تو یقینی طور پر ظاہر ہے کہ۲۔ تواریخ ۳ : ۱ میں ہیکل کی پہاڑی کا حوالہ دیا گیا ہے، لیکن اس سے کتابِ پیدایش ۲۲ : ۲ کے الفاظ ’سرزمینِ موریاہ‘ کا مفہوم متعین نہیں ہوتا۔ بعد کے یہودیوں کی طرح کتاب تواریخ کے مصنف نے بھی یہ فرض کر لیا ہو گا کہ اس سے[ حضرت ] اسحاق ؑ کی قربانی کا منظر مراد ہے۔ اور اس نے یہ الفاظ کتاب پیدایش ۲۲: ۲ کے الفاظ سے مستعار لیے ہوں گے۔ اس سے اس کی غرض شاید اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہو کہ یہ محلِ وقوع پہلے ہی سے بزرگ آبا کے دور سے اللہ تعالیٰ نے چن رکھا تھا۔(... )۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اگرچہ اس عبارت میں یہ بات مضمر ہے کہ [حضرت] ابراہیم ؑ اس (جگہ) سے بخوبی آشنا تھے، [لیکن] عہد نامہ قدیم میں اس خطے کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ ان حالات کے تحت اس متن کی صداقت پر شک نہ کرنا بہت مشکل ہے ۔(... ) ۔ مزید براں جریزیم ایک بلند جگہ ہے جسے جنوب کی طرف سے آنے والا مسافر ، ’اپنی نگاہ اٹھائے‘ (۲۲: ۴) تو نمایاں طور سے ایک فاصلے پر دیکھ سکتا تھا، جبکہ یروشلم کے معاملے میں یہ صورت حال نہیں۔

ہیسٹنگز کی نظر ثانی شدہ لغاتِ بائبل میں ایل ریڈ اور اے ایچ میکنیل ’موریاہ‘ پر اپنے مقالے میں بیان کرتے ہیں کہ موریاہ کے ہیکل سلیمانی کے محل وقوع سے تعلق کی روایت کا کوئی ثبوت نہیں:

The Chronicler (2 Ch 3:1) leaves no doubt concerning the Jewish tradition that Mount Moriah was the Temple hill where Solomon built the house of the Lord in Jerusalem and the place of David\'s theophany. Efforts to identify the source of this tradition have been unsuccessful. ؂12

کتاب تواریخ کا مصنف (۲۔تواریخ ۳: ۱) اس یہودی روایت کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑتا کہ موریاہ ہیکل کی وہ پہاڑی تھی جہاں سلیمان ؑ نے خداوند کا گھر تعمیر کیا تھا اور جہاں داؤد ؑ کو اللہ تعالیٰ کی تجلی نصیب ہوئی تھی۔ اس روایت کے ماخذ کی نشان دہی کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

مائیکل ایوی یونا ’انسا ئیکلو پیڈیا جُدائیکا‘ میں بیان کرتا ہے کہ موریاہ کو یروشلم میں اورنان یبوسی کا کھلیان قرار دینا ایک دور کی کوڑی ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ ہیکل سلیمانی کی اہمیت اجاگر کی جائے:

The assumption that Abraham intended to sacrifice Isaac on the threshing floor of Jebus (Jerusalem), in full view of the Canaanite city, is farfetched; nor is the Temple Mount visible from afar, as it is hidden by the higher mountains around it. It seems more probable that the biblical story left the location of Moriah deliberately vague; the importance of the sacrifice of Isaac in the series of covenants between God and Israel made it natural [to the later redactors of the Bible] that at an early time this supreme act of faith was located on the site destined to become the most holy sanctuary of Israel, the Temple of Solomon, just as the Samaritans transferred the act to their holy mountain, Mt. Gerizim. ؂13

یہ مفروضہ کہ [حضرت] ابراہیم ؑ کا ارادہ اسحاق ؑ کو جیبوس(یروشلم) کے کھلیان پر قربان کرنا تھا، اس کنعانی شہر کے پورے منظر کے پیشِ نظر، ایک دور کی کوڑی ہے۔ ہیکل کی پہاڑی دور سے نظرنہیں آتی، کیونکہ اس کے ارد گرد جو اونچے اونچے پہاڑ ہیں، انھوں نے اسے چھپا رکھا ہے۔ یہ بات زیادہ قرین قیاس نظر آتی ہے کہ بائبل نے اس کہانی کے بیان میں موریاہ کے محل وقوع کو جان بوجھ کر مبہم رکھا ہے۔ خداوند اور بنی اسرائیل کے مابین متعدد معاہدوں کے تسلسل میں اسحاق ؑ کی قربانی کی اہمیت کے پیشِ نظر [ بائبل کے بعد کے مؤلفین کو] یہ بات فطری محسوس ہوئی کہ ایمان کا یہ انتہائی عظیم الشان عمل پرانے زمانے میں کسی ایسی جگہ رونما ہوا ہو جسے بعد میں بنی اسرائیل کا انتہائی مقدس حرم یعنی ہیکل سلیمانی بننا تھا۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے، جس طرح سامریوں نے یہ عمل اپنے مقدس پہاڑ کوہِ جریزیم کی طرف منتقل کر دیا تھا۔

’انٹرنیشنل اسٹینڈرڈبائبل انسا ئیکلو پیڈیا‘میں وضاحت ہے:

This land is mentioned only here [Gen. 22:2], and there is little to guide us in trying to identify it. A late writer (2 Chronicles 3:1) applies the name of Moriah to the mount on which Solomon\'s Temple was built, possibly associating it with the sacrifice of Isaac. A similar association with this mountain may have been in the mind of the writer of Genesis 22 (see 22:14), who, of course, wrote long after the events described (Driver). (133). The description could hardly apply to Jerusalem in any case, as it could not be seen \'afar off\' by one approaching either from the South or the West. (133). With our present knowledge we must be content to leave the question open (W. Ewing).؂14

اس سرزمین کا صرف یہیں ذکر کیا گیا ہے[پیدایش ۲۲: ۲] اور اس کے تعین کی کوششوں میں کوئی چیز ہماری رہنمائی نہیں کرتی۔ بعد کا ایک مصنف ( ۲ ۔تواریخ۳:۱) موریاہ کے نام کا اطلاق اُس پہاڑ پر کرتا ہے جس پر ہیکلِ سلیمانی تعمیر کیا گیا تھا۔ ممکن یہ ہے کہ وہ اِسے اسحاق ؑ کی قربانی سے متعلق قرار دیتا ہے۔ امکان یہ ہے کہ کتابِ پیدایش باب ۲۲ (دیکھیے ۲۲: ۱۴) کے مصنف کے ذہن میں بھی، جس نے بیان کردہ یہ واقعات یقیناًطویل عرصے کے بعد لکھے ، اس پہاڑ کے ساتھ اسی طرح کا تعلق موجود ہو (ڈ رائیور)۔(133)۔ بہر صورت اس بیان کا اطلاق یروشلم پر مشکل ہی سے کیا جاسکتا تھا، کیونکہ اس کے متعلق جنوب یا مغرب کی طرف سے آنے والا کوئی ایسا شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اُس نے اِسے ’بہت دور‘ سے دیکھا۔ (133)۔اپنے موجودہ علم کی روشنی میں ہمیں اس سوال کو کھلا ہی چھوڑ دینے پر مطمئن ہو جا نا چاہیے(ڈبلیو ای ونگ)۔

پوری بائبل میں صرف کتاب تواریخ ہی ہے جو ’موریاہ‘ کو ہیکل سلیمانی کا محلِ وقوع قرار دیتی ہے (۲۔ تواریخ ۳ : ۱)۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کتاب تواریخ کا یہی مؤلف جب پہلے حضرت داؤدعلیہ السلام کی اور نان یبوسی سے اس مقام کی خرید کاذکر کرتا ہے ( ۱۔ تواریخ ۲۱: ۱۵ تا ۲۸) تو اس مقام کے لیے جہاں بعدمیں ہیکل سلیمانی نے تعمیر ہونا تھا، ’موریاہ‘ کا نام نہیں لیتا۔ وہ اپنے پورے بیان میں متعدد مرتبہ اس مقام کے لیے محض ’اورنان یبوسی کا کھلیان‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اگر اس جگہ کانام ’موریاہ‘ ہوتا تو وہ لازمی طور پر صراحت سے یہ نام استعمال کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قصے کے سلسلے میں کتاب تواریخ کے مؤلف کا ماخذ ۲۔ سموئیل ہے۔ اور وہ یہ قصہ ۲۔ سموئیل ۲۴: ۱۶۔ ۲۵ سے نقل کرتا ہے۔ وہاں بھی اس مقام کے لیے لفظ ’موریاہ‘ کا کسی جگہ بھی ذکر نہیں ہے، مندرجہ ذیل اقتباس سے بھی یہی ظاہر ہے:
اور جب فرشتہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ یروشلیم کو ہلاک کرے تو خداوند اس وبا سے ملول ہوا اور اس فرشتہ سے جو لوگوں کو ہلاک کر رہا تھا کہا یہ بس ہے، اب اپنا ہاتھ روک لے۔ اس وقت خداوند کا فرشتہ یبوسی ارونا ہ کے کھلِیہان کے پاس کھڑا تھا۔ اور داؤد نے جب اس فرشتہ کو جو لوگوں کو مار رہا تھا، دیکھا تو خداوند سے کہنے لگا، دیکھ گناہ تو میں نے کیا اور خطا مجھ سے ہوئی پر ان بھیڑوں نے کیا کِیا ہے؟ سو تیرا ہاتھ میرے اور میرے باپ کے گھرانے کے خلاف ہو۔
اسی دن جادؔ نے داؤدؔ کے پاس آکر اس سے کہا، جا اور یبوسی اروناہؔ کے کھلیہان میں خداوند کے لیے ایک مذبح بنا۔سو داؤد ؔ جادؔ کے کہنے کے موافق، جیسا خداوند کا حکم تھا، گیا۔اور اروناہؔ نے نگاہ کی اور بادشاہ اوراس کے خادموں کو اپنی طرف آتے دیکھا ۔ سو اروناہؔ نکلا۔ اور اروناہ ؔ کہنے لگا میرا مالک بادشاہ اپنے بندہ کے پاس کیوں آیا؟ داؤدؔ نے کہا یہ کھلیہان تجھ سے خریدنے اور خداوند کے لیے ایک مذبح بنانے آیا ہوں تاکہ لوگوں میں سے وبا جاتی رہے ۔ اروناہ نے داؤد سے کہا میرا مالک بادشاہ جو کچھ اسے اچھا معلوم ہو لے کر چڑھائے۔ دیکھ سوختنی قربانی کے لیے بیل ہیں اور دائیں چلانے کے اوزار اور بَیلوں کا سامان ایندھن کے لیے ہیں۔ یہ سب کچھ اے بادشاہ اروناہؔ بادشاہ کی نذر کرتا ہے اور اروناہؔ نے بادشاہ سے کہا کہ خداوند تیرا خدا تجھ کو قبول فرمائے۔ تب بادشاہ نے اروناہ ؔ سے کہا نہیں، بلکہ میں ضرور قیمت دے کر اس کو تجھ سے خریدوں گا اور میں خداوند اپنے خدا کے حضور ایسی سوختنی قربانیاں نہیں گذرانوں گا جن پر میرا کچھ خرچ نہ ہوا ہو۔ سو داؤدؔ نے وہ کھلیہان اور وہ بَیل چاندی کی پچاس مثقالیں ۱۵؂ دے کر خریدے۔ اور داؤدؔ نے وہاں خداوند کے لیے مذبح بنایا اور سوختنی قربانیاں اور سلامتی کی قربانیاں چڑھائیں اور خداوند نے اس ملک کے بارے میں دعا سنی اور وبا اسرائیل میں سے جاتی رہی۔۱۶؂
ہیکل کے خاکے کی تفصیلات ، تفصیلی نقشے ، پیمایشوں اور عمارت کی دیگر تفاصیل اور تعمیر کا اسلوب اور اس کے مراحل کتابِ تواریخ سے پہلے ۱۔ ملوک ۶ ۔ ۸ اور حِزقی ایل ۴۰۔ ۴۷ میں درج ہو چکے تھے۔ ان دونوں مقامات پر کسی جگہ بھی موریاہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ کتاب تواریخ کا مؤلف اس واقعہ کا عینی شاہد نہیں تھا، جیسا کہ کتاب ہذا کے آخر میں دیے گئے ضمیمہ ۲ سے ظاہر ہے، اس نے یہ تفصیلات تعمیر کے واقعے سے سات صدیاں گزر جانے کے بعد لکھی تھیں۔ اُس نے اس جگہ کا نام ’ موریاہ‘ ہیکل کے محل وقوع کو مقدس قرار دینے کے لیے رکھا تھا۔اُس سے پہلے کبھی کسی اور مصنف نے ہیکل کے محل وقوع کے لیے ’موریاہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد اگرکسی اور نے ہیکل کے محل وقوع کے لیے ’موریاہ‘ کا نام استعمال کیا تو اس نے اسے ’کتابِ تواریخ‘ ہی سے نقل کیا۔ بعد کے تمام نام نہاد ’کتبِ تواریخ‘ کے خوش عقیدہ مصنفین، جنھوں نے اس قصے اور اس کے ماخذ کے کسی معروضی اور تنقیدی جائزے کے بغیر اسے بڑے شوق سے قبول کیا ہے، ان سب کا واحد ماخذ یہی کتاب تواریخ تھی، لیکن اسے ’تاریخ‘ نہیں کہا جا سکتا ۔ من پسند خیالات اور تخیلاتی تخلیق کاری کسی ادبی شہ پارے کے مصنف کے اچھے اوصاف تو ہو سکتے ہیں ، لیکن ایک سنجیدہ اور حقیقی مؤرِّخ کے لیے صریحاً ایک عیب ہیں اور ان سے اس کی استنادی حیثیت لازماً مجروح قرار پائے گی۔
بعض مقامات پر بائبل ہیکل کا محل وقوع موریاہ کے بجاے کوہِ صیہون کو قرار دیتی ہے، لیکن یہ کوئی متفقہ راے نہیں۔ ۱۷ ؂
پوری بائبل میں واحد جگہ، جہاں ہیکل سلیمانی کو موریاہ سے منسلک قرار دیا گیا ہے، وہ کتابِ تواریخ (۲۔ تواریخ ۳: ۱) ہے۔ اوپر اس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ اس کی بنیاد کسی معروضی حقیقت یا تاریخی واقعات پر نہ تھی ۔ یہ ایک ’دینیاتی اختراع‘ تھی اور اسے اس لیے گھڑا گیا تھا تاکہ ’خداوند کے گھر‘ کو مقدس اور اہم قرار دیا جا سکے ۔ ۱۸؂
توقع ہے کہ کتاب کے اس باب اوراس سے متعلقہ کتاب کے آخر میں دیے گئے ضمیہ۲ کا قاری یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرے گا کہ:
(الف) مصنفِ کتاب ’تواریخ‘کا یہ بیان کہ ہیکلِ سلیمانی موریاہ کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا، ایک صریح غلط بیانی ہے۔
(ب) کتاب ’تواریخ‘کی استنادی و تاریخی حیثیت اور اس کا قابلِ اعتماد ہونامشکوک ہے۔
یہ دعویٰ کہ موریاہ ہیکلِ سلیمانی کا محلِ وقوع تھا، قطعی طورپر بے بنیاد، لایعنی اور تحکُّمانہ ہے۔ ۲۔ تواریخ (۳: ۱) میں موریاہ کا ذکر کالعدم تصور کیاجانا چاہیے، کیونکہ یہ مصنفِ کتابِ تواریخ کی ایک بے بنیاد اختراع ہے۔
کیونکہ (مندرجہ بالا درجہ بندی کے مطابق) جن چار مقامات کے متعلق علما ے بائبل اس بات کادعویٰ کرتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہیں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا، وسیع دلائل کی بنیاد پر مسترد قرار پاتا ہے،اس لیے پوری بائبل (پیدایش ۲۲: ۲) میں صرف ایک مقام باقی رہ جاتا ہے جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ وہی حقیقی موریاہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے (اکلوتے بیٹے) کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ اگلے باب میں اس سے متعلق تفصیلی مطالعہ پیش کیا جا رہا ہے۔

________

 

 

حواشی باب ششم

1. John L. McKenzie\'s Dic. of the Bible (London: Geoffrey Chapman, 1984), p. 586.
2. The Interpreter's Dic. of the Bible, 3:438-39.

۳؂ کتابِ مقدس، ۱۔ تواریخ ۲۱: ۱۵تا۲۸۔
اصل میں یہ قصہ ۲۔ سموئیل ۲۴: ۱۶ ۔ ۲۵ پر درج کیا گیا تھا جو کتابِ تواریخ کے مؤلف کا ماخذ ہے۔ اس کے بعض اقتباسات اسی باب میں آگے بیان کیے گئے ہیں تاکہ قاری تقابلی مطالعہ کر سکے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ ۲۔ سموئیل نے اس جگہ کا متعدد مرتبہ حوالہ دیا ہے، لیکن اس نے کبھی اس کے لیے ’موریاہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

4. The Works of Flavius Josephus, Tr. William Whiston (Boston: D Lothrop & Co., na): Antiquities XIII: 4, pp. 203-4.
5. W. Gunther Plaut, The Torah, A Modern Com. (NY: Union of Am. Hebrew Congregations, 1981), p. 154 asserts:

Abraham and his followers rose \"early in the morning" and \"went unto" the place of which God had told him; (133); it is as if, while he traveled on, Abraham had looked neither to the right nor to the left, had suppressed any sign of life in his followers and himself save only their footfalls.

ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھ کے لوگ ’صبح سویرے‘ اٹھے اور اس جگہ گئے جو اللہ تعالیٰ نے انھیں بتائی تھی۔ (...) ۔ یوں لگتا ہے جیسے جب ابراہیم ؑ مسافت طے کر رہے تھے تو انھوں نے دائیں بائیں کسی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اور سوائے قدموں کی چاپ کے اپنے اندر اور اپنے شرکاے سفر کے اندرسے زندگی کی تمام علامات دبا دی تھیں۔

6. Raymond E. Brown, The New Jerome Biblical Com. (Bangalore: TPI, India, 1994), P. 25:

This may be the halfway point of a seven-day journey ending in the arrival at the mountain.

یہ اس سات روزہ سفر کا نصف ہو سکتا ہے جو اس پہاڑ پر پہنچ کر ختم ہونا تھا۔

7. John Fawcett, The Devotional. Family Bible., 1811, Vol. I, no paging, says:

and after that long journey (133) the place was far distant: Mount Moriah; (133). He travels three successive days.

اور اس طویل سفر کے بعد وہ جگہ یعنی کوہ موریاہ،ابھی بہت دور دراز فاصلے پر تھی۔ وہ لگاتار تین دن تک سفر کرتا رہا تھا۔

8. T. C. Mitchell, The Illustrated Bible Dic. (Inter-Versity Press, nd), 2:1025.

۹؂ تین دن کا تو کیا ذکر جس حقیقی سفر کے سر انجام دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ ایک ہفتے سے کم کا نہ تھا، جیسا کہ ’نیو جیروم تفسیر بائبل‘ (صفحہ ۲۵)میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ اگر منزلِ مقصود یروشلم تھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذوق وشوق اور طے کیے جانے والے فاصلے کی کمی کے پیش نظر اس میں ایک دن سے زیادہ نہیں لگنے چاہییں تھے۔

10. Peake\'s Com. on the Bible, 193.
11.Hastings Dic. of the Bible 3:437 s.v. \'Moriah\' by S.R. Driver.
12. Hastings Dic. of the Bible (Rvd. by Frederick Grant & H. H. Rowley), pp. 674-75.
13. Enc Judaica (Second Edn.), Fred Scolnik (NY: Thomson Gale, 2007), 14:491 s.v. \'Moriah\'.
14. International Standard Bible Encyclopedia, OR USA: Books For The Ages, AGES Software, Versioin 1.0 169 1997, 7:924-25.

۱۵؂ مصنفِ کتابِ تواریخ لکھتا ہے :’ سو داؤد نے اُرنان کواُس جگہ کے لیے چھ سو مثقال سونا تول کر دیا‘ (۱۔ تواریخ ۲۱: ۲۵)۔ جو صریحاً مصنفِ کتابِ تواریخ کی مبالغہ آرائی ہے اور یہ اس کے ہاں ایک عام بات ہے۔ دو نوں بیانات میں اختلاف بھی قابلِ ملاحظہ ہے۔
۱۶؂ کتاب مقدس، ۲۔سموئیل ۲۴: ۱۶ تا ۲۵۔
۱۷؂ ہیسٹنگز کی’ لغاتِ بائبل‘ (۴: ۹۸۳) میں بیان کیا گیا ہے:

Throughout the OT there are passages which have no meaning, if Zion and the temple hill were two separate topographical features. Zion is the holy hill or mountain (Ps26), the chosen habitation of Jahweh (Ps 911 742 762 847 13213, Is 818 6014, Jer 810, Zec 83). There He manifests Himself (Ps 147202 536 1285 1343, Am 12); and there He must be worshipped and praised (Ps 651,2, Jer 316). (133.). In 1 Maccabees, written c. BC 100 by some one who was well acquaited with the localities, Zion is identified with the temple hill (437,38 534 733 etc), and so it is in 1Es 881 2Es525 Sir2410, and Jth 913 [See also Ps 78 68,69 and Jer 50 28].

عہد نامہ قدیم میں جگہ جگہ ایسی عبارتیں ہیں کہ اگرصیہون اور ہیکل کی پہاڑی کو دو الگ الگ جگہیں قرار دیا جائے تو ان عبارتوں کا کوئی مفہوم نہیں بنتا۔صیہون مقدس پہاڑی یا پہاڑ ہے (مزامیر ۲:۶)، اللہ تعالیٰ کی چنی ہوئی آبادی ہے (مزامیر ۹: ۱۱، ۷۴: ۲، ۷۶: ۲، ۸۴: ۷، ۱۳۲: ۱۳، یسعیاہ ۸: ۱۸، ۶۰: ۱۴، یرمیاہ ۸: ۱۰، زکریاہ ۸:۳)۔ وہاں وہ (اللہ تعالیٰ) اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے( مزامیر ۱۴: ۷،۲۰: ۲، ۵۳: ۶، ۱۲۸: ۵،  ۱۳۴: ۳، عاموس ۱: ۲)؛ اور وہاں اُس (اللہ تعالیٰ) کی عبادت اور تعریف کی جانی چاہیے (مزامیر ۶۵: ۱۔۲، یرمیاہ ۳۱: ۶) ۔ (....) ۔۱ ۔ مکابیون میں جو قریباً ۱۰۰ ق م میں کسی ایسے شخص نے لکھی تھی جو مختلف مقامات کے محلِ وقوع سے بخوبی با خبر تھا، صیہون کو ہیکل کی پہاڑی سے تعبیر کیا گیا ہے (۴: ۳۷۔ ۳۸، ۵: ۳۴، ۷: ۳۳ وغیرہ)، اور ا۔ عزرا ۸: ۸۱، ۲۔ عزرا ۵: ۲۵، سراق ۲۴: ۱۰، اور جودت ۹: ۱۳ میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے [مزامیر ۷۸: ۶۸ ۔ ۶۹ اور یرمیاہ ۵۰: ۲۸ بھی ملاحظہ کیجیے]۔

۱۸؂ یہاں یہ بات بڑی برمحل نظر آتی ہے کہ کتاب کی تاریخی اور استنادی حیثیت کا معروضی جائزہ لے لیا جائے ۔ کتاب کے آخر میں’ کتاب تواریخ کی حیثیت‘ کے عنوان سے ضمیمہ ۲ میں اس پر گفتگو کی گئی ہے۔

____________