۱۷۔وراثت میں بیٹی کا حصہ ۲۹؂

اسلامی شریعت میں آخر بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا کیوں ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ بیٹا بیٹی کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلہ کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔ یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے ماں باپ، بچوں اور اسی طرح کے دوسرے رشتوں سے جو مدد اور سہارا ملتا ہے، وہ کسی اور رشتے سے نہیں ملتا۔
بلاشبہ، دنیا نے ہمیشہ مرنے والے کے قریبی رشتہ داروں کو اس جایداد کا حق دار سمجھا ہے جو اس نے چھوڑی ہوتی ہے، لیکن اس سلسلے میں یہ بات ہمیشہ غور طلب رہی ہے کہ اولاد میں سے مرنے والے کے لیے اس کی زندگی میں سب سے زیادہ فائدے مند کون ہے اور اس بنیاد پر کس طرح میراث کو تقسیم کیا جانا چاہیے، تاریخ میں دیکھا گیاہے کہ اس معاملے میں بہت سی غلطیاں اور خطائیں ہوئی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان نے صحیح حصے متعین کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ محبت ، نفرت، تعصب اور دوسرے جذبات نے اسے عقل انسانی کے لیے نا ممکن بنا دیا کہ وہ میراث کے حصوں کا منصفانہ طریقہ دریافت کرسکے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے اسلامی معاشرے کو اس کی بے قاعدگیوں سے چھٹکارا دینے کے لیے ہدایات دیں جو اس معاملے میں پائی جاتی تھیں۔ قرآن مجید میں ہے:

اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ لاَ تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا.(النساء ۴: ۱۱)
’’تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپوں میں سے اور تمھارے بیٹوں میں سے کون تمھارے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرض ہے۔ بے شک، اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘

درج بالا آیت سے یہ بات واضح ہے کہ میراث کا قانون جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، وہ اس بنیاد پرمبنی ہے کہ مرنے والے کے لیے کون زیادہ نفع پہنچانے والا ہے، جیسا کہ ان الفاظ سے واضح ہے: ’لاَ تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا‘ (تم نہیں جانتے کہ تم میں سے کون تمھارے لیے زیادہ نفع بخش ہے)، لہٰذا حقیقت میں یہ حکم رشتے داروں سے نسبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ رشتے میں موجود منفعت سے ہے ۔
یہی اصل وجہ ہے جس کی بنیاد پر بیٹے کا حصہ بیٹی سے زیادہ مقررکیا گیا ہے۔ یہ بات محتاجِ بیان نہیں ہے کہ ماں باپ کی زندگی میں عام طور پر بیٹے بیٹیوں کی نسبت ماں باپ کے لیے زیادہ نافع ہوتے ہیں۔ یہ ایک بڑی واضح حقیقت ہے جسے ان معاشروں میں بہت آسانی سے دیکھاجاسکتا ہے جہاں خاندانی نظام آج بھی بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ خاندانی نظام میں ماں باپ کا بڑھاپے میں سارا انحصار اپنی اولاد پر ہوجاتا ہے۔ وہ زیادہ سہولت اورآسانی اس بات میں محسوس کرتے ہیں کہ وہ بیٹیوں کے بجاے بیٹوں کے ساتھ رہیں۔
بیٹے کے پاس رہنے کو ترجیح دینے کی وجہ بڑی سادہ ہے۔ بیٹے کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے بالکل آزاد ہوتے ہیں ، جبکہ بیٹیوں کی جب شادیاں ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے شوہروں پرمنحصرہوجاتی ہیں اور اپنے معاملات میں اتنی آزاد نہیں ہوتیں جتنے بیٹے ہوتے ہیں۔ جدید مغربی معاشرے کا ذہن اس تقسیم کو قبول نہیں کرتا، کیونکہ ان کے ہاں خاندانی نظام کی جڑیں کھوکھلی ہوچکی ہیں۔
ایک خاص بات جس کا یہاں ذکر کرنا بہت ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ بعض مواقع پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ بیٹیاں ماں باپ کے لیے بیٹوں سے زیادہ سود مند ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جن میں ایک بیٹی کو معاشی سہارے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور یہی معاملہ کسی بیٹے کا بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کسی بیٹے یا بیٹی نے اپنے مرحوم ماں باپ کے لیے کوئی غیر معمولی خدمت بھی سرانجام دی ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے تمام معاملات میں اس بات کی گنجایش موجود ہے کہ ان کی ضرورت اور خدمت کی وجہ سے ان کے حق میں وصیت کرکے انھیں زیادہ دیا جاسکتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حصوں کے علاوہ ہوگا۔ان کے حق سے زیادہ جوانھیں وصیت کی صورت میں دیا جائے گا، یہ ان کے ضرورت مند ہونے یا حق خدمت کی بنیاد پر دیا جائے گا، رشتے داری کی بنیاد پر نہیں دیا جائے گا۔
یہ بات معلوم ہے کہ حق رشتہ داری کی بنیاد پر وارثوں کے لیے وصیت ممنوع ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر وارثوں کے حق میں کوئی وصیت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم ضرورت ، خدمت یا اس طرح کی دیگر بنیادوں پر وارثوں کے حق میں وصیت کی جاسکتی ہے۔ اسلامی قانون میراث میں ایک اور گنجایش یہ بھی ہے کہ ماں باپ میں سے کوئی اپنی زندگی میں جتنا مناسب سمجھے عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی کسی اولاد کو اپنا مال یا جایداد ہبہ (gift)کر سکتا ہے۔
چنانچہ یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دو نسبت ایک کی تقسیم عام حالات سے متعلق ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ میراث میں بیٹے اور بیٹی میں حصے کا فرق صرف اس بنیاد پر ہے کہ مرنے والے کے لیے کون زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے، اس وجہ سے نہیں کہ بیٹی بیٹے کے مقابلے میں کم حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حقیقت اس معاملے میں بالکل واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے جب ہم ماں اور باپ کے حصوں پر غور کرتے ہیں۔ اولاد کی میراث میں ماں اور باپ، دونوں کو برابر حصہ ملتا ہے، یعنی ایک بٹا چھ (۶/ ۱)، ایک بٹا چھ (۶/ ۱)۔ یہ بات اس چیز کا ثبوت ہے کہ میراث کی تقسیم میں مرد اور عورت ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا گیا، بلکہ مرنے والے کے لیے جو زیادہ نفع بخش ہوسکتا ہے، اسے زیادہ دیا گیا ہے۔چونکہ اولاد کے لیے ماں باپ، دونوں یکساں نفع بخش ہوتے ہیں، اس لیے دونوں کا حصہ برابر رکھا گیا۔اسی طرح بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا اس لیے ہے کہ بالعموم وہ اپنے ماں باپ کے لیے زیادہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔
_____
۲۹؂ اس مضمون میں پیش کردہ وضاحت استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کے نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔ دیکھیے: میزان ۴۹۷۔۴۹۸۔

____________