آٹھواں باب 

سورہ آل عمران آیت نمبر139میں صحابہ کرامؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا : ’’دل شکستہ نہ ہو۔ غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو‘‘۔دراصل قرآن مجید کی بے شمار آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسولوں کے بارے میں اللہ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ ان کی قوم کو دین کی دعوت قبول کرنے کے لیے ایک مہلت ملے گی۔مہلت کا وقت گزرنے کے باوجود جو لوگ دین کی مخالفت میں سرگرم رہیں گے اور وہ دین کو قبول نہیں کریں گے تو انہیں اسی دنیا میں سزا دی جائے گی۔ قوم نوح، قوم لوط، قوم شعیب اور عاد وثمود کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ چونکہ حضورؐ بھی اسی سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہیں، اس لیے ایک خاص وقت گزر جانے کے بعد پھر بھی جو لوگ ایمان نہیں لائیں گے، ان کو اسی دنیا میں سزا دی جائے گی اور حضورؐ کے ساتھیوں کا کامل غلبہ سرزمینِ عرب پر قائم کردیا جائے گا۔ یہ چیز قیامت تک کے لیے رسالتِ محمدیؐ کی سب سے بڑی دلیل ہوگی۔ 
تاریخ نے دیکھا کہ ہو بہویہی کچھ ہوا۔ اسلام کے تمام مخالف ملیامیٹ ہوگئے۔ اس سزا کی پہلی قسط جنگِ بدر میں پوری ہوئی، جب مشرکینِ مکہ کے سارے اہم سردار اس معرکے میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اس سزا کی آخری قسط سورہ توبہ کے ذریعے پوری ہوئی، جب اعلان کیا گیا کہ اب منکرینِ حق کے لیے مہلت ختم ہوچکی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب حضورؐ کو دین کی دعوت دیتے ہوئے بائیس برس ہوچکے تھے اور سرزمینِ عرب کے ایک بڑے حصے پر اسلام کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اُس وقت سرزمینِ عرب میں کچھ مشرکین، کچھ اہل کتاب اور کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے۔ مشرکین کے ضمن میں یہ اعلان کردیا گیا کہ ان کے پاس چار مہینے کی مہلت ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اس مدت کے دوران میں دین کو سمجھنے کے لیے آجائیں، اس کے بعد انہیں ان کی محفوظ جگہوں تک پہنچا دیا جائے گا۔ اگر اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوں تو وہ لڑائی اور موت کے لیے تیار ہوجائیں اور یا پھر جزیرہ نمائے عرب کو چھوڑ دیں۔ باقی ماندہ اہل کتاب کے بارے میں ا س سے کم تر سزا کا اعلان ہوا اور اعلان کیا گیا کہ سرزمینِ عرب کے اندر مسلمانوں کی سیاسی حکومت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور وہ حکومت کو ٹیکس دیں گے۔ منافقین کے بارے میں یہ اعلان ہوا کہ انہیں آئندہ حضورؐ کے ساتھ کسی بھی جنگ میں جانے کی اجازت نہ ہوگی اور حضورؐ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے۔ صحابہ کرامؓ کو یہ بھی بتایا گیا کہ بعد میں کچھ فتنے ظہور پذیر ہوں گے، جن کی سرکوبی وہ کریں گے۔ 
دین کے سب سے بڑے دشمن مشرکین تھے۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ان چار مہینوں کے اندر اندر سب مشرکین نے اسلام قبول کرلیا اور حضورؐ کی وفات سے پہلے پہلے سرزمینِ عرب پر ایک ایسا وقت آیا جب اس پوری سرزمین میں ایک بھی مشرک نہ رہا اور شرک کے سب مظاہر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا۔ قرآن مجید میں کئی مرتبہ یہ فرمایا گیا کہ یہ ساری سکیم خالصتاً اللہ کی ہے اور ایسا ہوکر رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 
حضورؐ کے زمانے میں بعض صحابہ کرامؓ سے مختلف اوقات میں کچھ غلطیاں ہوئیں۔ قرآن مجید نے وقتاً فوقتاً اُن غلطیوں کی اصلاح کی۔ ان میں سے ایک غلطی جنگ اُحد کے موقع پر بھی ہوئی جب مسلمانوں کے ایک دستے نے اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا مورچہ چھوڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو شکست کی سی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ قرآن مجید نے سورہ آل عمران میں اس جنگ پر آیت نمبر121سے لے کر آیت نمبر200تک ایک تفصیلی تبصرہ کیا۔ اس تبصرے کے درمیان میں وہ درجِ بالا آیت نازل ہوئی اور اس میں یہ کہا گیا کہ یہ شکست دراصل تمہاری غلطیوں کی وجہ سے تمہارے لیے ایک سبق تھا۔ تاہم اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہو گے تو اللہ کے قانون کے مطابق تمہیں ہی آخری اور فیصلہ کن فتح نصیب ہوگی کیونکہ تم حضورؐ کے مخلص ساتھی ہو۔ 
یہ اللہ کا ایک وعدہ تھا جو اپنے رسول کے لیے مکمل طور پر پورا ہوااور اب یہ رہتی دنیا کے لیے رسالتِ محمدیؐ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ تاہم مسلمانوں کے ہاں ایک طبقہ، ان آیات کو سارے مسلمانوں پر مستقل طور پر پھیلا دیتا ہے۔ چنانچہ یہ طبقہ مسلمانوں سے کہتا ہے کہ مخالف قوتوں کے مقابلے میں لازماً تمہیں ہی کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ پچھلے ایک ہزار برس کی تاریخ میں مسلمانوں کو بارہا فیصلہ کن شکستیں ہوئی ہیں۔ ان میں کچھ شکستیں ایسی بھی تھیں جہاں مسلمانوں کا لشکر بہت مخلص اہلِ ایمان پر مشتمل تھا، مثلاً بالاکوٹ کے مقام پر سید احمد شہیدؒ کی فوج کی سکھوں کے مقابلے میں فیصلہ کن شکست۔ 
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج اگر ہم مقابل قوت کو شکست دینا چاہتے ہیں تو خلوصِ ایمان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جنگی مشینوں کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر ہمیں دشمن سے بڑھ کر عبور حاصل ہو اور ہم ہر وقت حالات کے مطابق بہترین تدبیر اختیار کریں۔ اگر ہم سمجھیں کہ فی الوقت لڑائی ہمارے مفاد میں نہیں ہے اور ہم دنیوی تجزئے کے اعتبار سے اس لڑائی کو جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو ہمیں متبادل تدبیریں اختیار کرنی چاہیے اور اس وقت تک لڑائی کو ٹالنا چاہیے جب تک ہم اس کو جیتنے کے لیے پوری طرح تیار نہ ہو جائیں۔