عروج و زوال کے اس قانون سے ہم واقف ہوں یانہ ہوں، اس کے پابند ضرور ہیں۔دوسری ہر چیز کی طرح وہ قوم بھی ، جس کے ہم فرد ہیں اور وہ معاشرہ جس کا ہم جز ہیں، اسی راہ کے مسافر ہیں۔ایک قوم پر وہ سارے ادوار کم و بیش اسی طرح گزرتے ہیں، جس طرح ایک انسان پر۔ جزئیات میں یقیناً فرق ہے ، مگر اصول میں یہ واقعہ قوم کی زندگی میں بھی لازماً پیش آتا ہے۔اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے ، مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس با ت کو جاننے کی قومی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟مان لیا کہ اس دنیا میں قوموں کا عروج و زوال کچھ مخصوص خدائی ضابطوں کے تحت روبہ عمل ہوتا ہے ، مگر وہ کیا فرق ہے جو اس حقیقت کو جاننے اور نہ جاننے سے پیدا ہو جاتا ہے؟ 
بات یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں رہنے اور ترقی کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ یہاں خدا کے بنائے ہوئے قوانین سے موافقت کرکے زندگی گزاری جائے۔ جو لوگ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں ، وہ کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور جو لوگ ایسانہ کریں،وہ بربادی کا شکار ہوجاتے ہیں۔قوموں کے بارے میں خدا کے بنائے ہوئے عروج وزوال کے قانون کی بھی یہی حیثیت ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ کسی قوم کو اس قانون سے استثنا مل جائے ، مگر جو قومیں اس قانون اور اس کے پس پردہ کام کرنے والے اسباب و علل کو سمجھ لیتی ہیں ، وہ عروج کی منزلیں جلد طے کرتی ہیں۔ ان کے اقبال کا زمانہ طویل اورزوال کا دور ممکنہ حد تک دور ہوجاتا ہے۔ ہم آگے چل کر بعض مغربی اقوام کے حوالے سے یہ بتائیں گے کہ کس طرح عصر حاضر میں وہ اس قانون سے واقفیت کی بنا پر اپنے زوال کے فطری عمل کو موخر کر رہی ہیں۔
عروج و زوال کے قانون سے آگہی کی اہمیت کو ایک اور پہلو سے دیکھیں۔ ہم پیچھے یہ بتا چکے ہیں کہ یہ قانون تدریجی طور پر قوموں میں اثر دکھاتا ہے۔کسی قوم کے عروج و زوال کا واقعہ ایک دن میں رونما نہیں ہوتا ، بلکہ اس دوران میں قوم مختلف مراحل سے گزرتی ہے ۔یہ عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ وہ اس کے حالات کا مشاہدہ کرکے یہ بتائیں کہ قوم اس وقت کس مرحلہ میں ہے۔ یہ کام رہنماؤں کا ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو جانیں اور اسی اعتبار سے قوم کے اہداف و مقاصد اور لائحۂ عمل کا تعین کریں۔ مثال کے طور پر ایک بچے سے اس کے والدین یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ نکاح کرے اور ان کے آنگن میں مزید بچوں کی خوشیاں بکھیرے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنا کاروبار اپنے ناسمجھ لڑکے کے حوالے نہیں کرتا ، کیونکہ اس طرح نقصان کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔
تاہم، قوم کے معاملے میں عاقبت نااندیش رہنما ٹھیک اسی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ قوم کے مرحلۂ حیات سے ناواقفیت کی بنا پر اس کے سامنے ایسے مقاصد رکھ دیتے ہیں جو اس کی استعداد سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ قوم جو ابھی اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں ہوتی ، اسے اکھاڑے کے میدان میں کسی پہلوان قوم سے بھڑا دیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ناکامی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔اسی طرح قوموں کے عروج و زوال کی حقیقی بنیادوں سے ناواقف رہنما نہ ان کو لاحق امراض کی صحیح تشخیص کرپاتے ہیں اور نہ مناسب علاج۔ وہ بھرپور غذا دے پاتے ہیں نہ وقت پر دوا۔ اس کے بعد قوم کمزور ہوجاتی ہے ۔ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں ، مگر کسی کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا۔ایک بیمار کے سامنے طبل جنگ بجایا جاتا ہے اور ایک ناتواں اور ناسمجھ بچے کودنیا کی امامت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے ، اسے الفاظ میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عالم اسلام بالخصوص مملکت خداداد پاکستان کے حالات پر ایک نظر ڈالنے سے باقی کہانی سامنے آجاتی ہے۔
مختصراًیہ کہ کسی قوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے اس کے حالات سے درست آگہی جتنی ضروری ہے ، اتنا ہی قوموں کے عروج وزوال کے بارے میں خدائی قانون کا گہرا شعور بھی لازمی ہے۔ چنانچہ اگلے صفحات میں ہم اس قانون کے ان مختلف پہلوؤں کی وضاحت کریں گے جو ہمیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتے ہیں اورجن کا براہ راست تعلق ہماری قوم سے ہے۔ 

____________