تیسری بحث

اس بحث میں مختصراًہم یہ بتائیں گے کہ معاشرے کی اجتماعی زندگی کے اجزاے ترکیبی کون سے ہوتے ہیں اور وہ کس طرح وجود پذیر ہوتے ہیں۔ نیز قومی زندگی میں ان کی اہمیت و مقام کیا ہے اور قوم کے عروج و زوال میں وہ کس طرح اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔


قومی زندگی کے اجزاے ترکیبی


قومیں افراد کے مجموعے سے تشکیل پاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ افراد کو متنوع صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کرتا ہے۔پھر عملی زندگی میں ان کے سامنے مواقع بھی مختلف آتے ہیں۔ فرد کے اعتبار سے اس طریقۂ کار کا مقصد آزمایش ہے ، مگر اجتماعی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یکساں صلاحیتوں اور مواقع ملنے والے افراد ایک گروہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کو قیادت کی غیر معمولی صلاحیتیں اور مواقع ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ سوسائٹی کی فکری اور عملی قیادت انھی لوگوں میں سے آتی ہے۔کچھ لوگوں کو مال و اقتدار کے حصول کے غیر معمولی مواقع نصیب ہوتے ہیں۔ یہ لوگ قوم کی اشرافیہ(Elite)کی تشکیل کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کو علوم و فنون کی طرف غیر معمولی رغبت ہوتی ہے۔ انھیں اپنے ذوق کی تسکین کے مواقع بھی میسر ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ علم و فن کی دنیا آباد کرتے ہیں ۔کسی معاشرے کے افکار و رجحانات، عقائد و عبادات، خیالات و نظریات، رسوم ورواج، طرز معاشرت ، غرض یہ کہ وہ تمام بنیادیں جو کسی سوسائٹی کا رخ متعین کرتی ہیں، ان لوگوں کے اثرات ہی سے پیدا ہوتی ہیں۔
تاہم سوسائٹی کی اکثریت وہ ہوتی ہے جن کا تعلق ان میں سے کسی گروہ سے نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں خدا نے غیر معمولی صلاحیتوں سے نہیں نوازا ہوتا ہے یا وہ لوگ جنھیں زندگی میں مواقع نہیں ملے ہوتے یا وہ لوگ جنھیں مواقع اور صلاحیت میں سے کوئی چیز نصیب نہیں ہوتی۔ چنانچہ ان لوگوں سے مل کر عوام الناس کا گروہ وجود میں آتا ہے۔ اور پھر مواقع اور صلاحیتوں میں فرق کے اعتبار سے خود ان لوگوں کے مختلف درجات بنتے چلے جاتے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر ان کی شناخت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ قوم کی رہنمائی نہیں کرتے، بلکہ مذکورہ بالا گروہ کی متعین کردہ راہوں پر چلتے ہیں۔
اسی طرح کسی قوم کی زندگی کے ابتدائی مراحل میں اس کے افراد قومی عصبیت کے اس جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں جو قوم کی تشکیل کا باعث ہوتی ہے۔ایسے میں ہر فرد قوم کا قائم مقام ہوتا ہے اوراپنی ذات کی نفی کی قیمت پر قومی تعمیر کے عمل میں حصہ لیتا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ عصبیت کا یہ جذبہ مدھم پڑتا جاتا ہے اور اس کا اظہار صرف غیر معمولی مواقع پر ہی ہوتاہے۔ چنانچہ جیسے جیسے قوم تہذیبی ارتقا کا سفر طے کرتی ہے، ضروری ہوتا چلا جاتا ہے کہ معاشرے کے نظام کو چلانے اور اس کے استحکام کے لیے ادارے وجود میں لائے جائیں۔ چنانچہ زمانۂ قدیم میں جب کسی قوم کی بقا و استحکام کا سب سے بنیادی ذریعہ فوج ہوا کرتی تھی تو ابتدائی دور کے گزرنے کے بعد سب سے پہلے فوج کو باقاعدہ ادارے کی شکل میں منظم کیا جاتا تھا اور اسی کے سہارے ملک کو اندرونی و بیرونی خلفشار سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ مختلف معاشروں کے حالات کے اعتبار سے اسی دوران میں سیاسی اورمذہبی قوتیں بھی اداروں کی شکل میں ڈھل جاتی ہیں۔تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر ادارے بھی وجود میں آنے لگے اور آج حال یہ ہوچکا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں معاشرے کا بڑا حصہ اب غیر فوجی اور غیر سیاسی اداروں کی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے۔
جب ہم ایک قوم کی بات کرتے ہیں تو مندرجہ بالا تمام عناصر اس میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کی قوت قوم کی قوت ہوتی ہے اور ان کی کمزوری قوم کی کمزوری بن جاتی ہے۔ معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی و استحکام میں تمام عناصر کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے۔جب تک وہ یہ کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتے ہیں ، اس وقت تک قوم بام عروج کی سیڑھیاں چڑھتی رہتی ہے اور جب یہ عناصر اپنے مطلوبہ کردار کو ادا کرنے سے قاصر ہوجا تے ہیں تو قومی زندگی کی گاڑی شاہراہ ترقی سے اتر جاتی ہے اور زوال کی کھائی میں جاگرتی ہے۔
ذیل میں ہم ان میں سے ایک ایک گروہ کو لے کر قوم کے عروج و زوال میں اس کے کردار اور اہمیت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کریں گے۔

_____________