پہلی بحث



عروج و زوال کیا ہے؟


عروج و زوال اس دنیا کا ایک غیر متبدل واقعہ ہے۔دنیا میں ہر شے عروج کی خواہش مند اور اسی راہ کی مسافر ہے، مگر ہر عروج کا مقدر ہے کہ ایک روز وہ زوال کی آغوش میں جاگرے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ جس کو ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ انسان کا اپنا وجود اس کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ ہم ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے گوشت کے ایک حقیر لوتھڑے کی شکل میں اس دنیا میں آتے ہیں ۔ ایک ایسے وجود کی شکل میں جو اپنے عجز کا بیان آپ ہوتا ہے۔ شعر و ادب کے شاہ کار تخلیق کرنے والا انسان بھی اس دور میں بے معنی چیخ و پکار کے سوا اظہار مدعا کی دوسری صورت نہیں پاتا۔تاہم یہی عاجز انسان مناسب غذا اور تحفظ ملنے پر نشوونما پاتا ہے۔ وہ اٹھنا اور بیٹھنا ، ہنسنا اور بولنا ، چلنا اور دوڑنا ، کھیلنا اور جھگڑنا سیکھتا ہے۔ وہ تعلیم و تربیت کی منزلیں طے کرتا ہے۔شعور و آگہی کے نت نئے میدان دریافت کرتا ہے۔ پھر بچپن کی دہلیز عبور کرکے وہ لڑکپن کے حد ودمیں قدم رکھتا ہے ۔ابھی تک صرف مطالبات کرنے والا بچہ والدین کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانے لگتا ہے۔ وہ دوڑ دوڑ کر ان کے کام کرتا ہے۔ما ں باپ سے لینے والا اب انھیں کچھ دینے لگتا ہے۔
اسی سعی و جہد میں جوانی اس کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ وہ احساسات و جذبات کی ایک نئی دنیا دریافت کرتا ہے۔توانائی کا ایک انتھک خزانہ اس کے اندر سے ابلنے لگتا ہے۔زندگی کو وہ ایک ایسے روپ میں دیکھتا ہے جو اس سے قبل اس نے دیکھا نہ اس کے بعد دیکھ سکے گا۔وہ ستاروں پر کمند ڈالنے کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے۔ اس کے بلند عزائم کے آگے ہررکاوٹ ہیچ اورہر مشکل آسان ہوتی ہے۔ وہ معاشرے میں اپنی جگہ بناتا ہے ۔ اپنی معاش کی راہ تلاش کرتا ہے۔اس کی بے پناہ قوتیں اسے مجبور کرتی ہیں کہ اب وہ بھی صفحۂ ہستی پر اپنا عکس بکھیرے ۔ اس کے لیے وہ ایک خاندان کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں کا کوہ گراں اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔ اب وہ نئی زندگیوں کا محافظ ہوتا ہے، مگر اسی دوران میں اس کے عروج کو زوال کا غیر محسوس سایہ گہنانے لگتا ہے۔جوانی کی فولادی سیاہی کو بڑھاپے کاسفید زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔ ضعف بڑھتا ہے اور اسے لاغر و ناتواں کرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک ایسے مقام پر آجاتا ہے جہاں وہ خود محسوس کرتا ہے کہ اب زوال کی تاریک رات ابدی ہوتی جارہی ہے۔ اس کے حوصلے جواب دے دیتے ہیں۔ وہ عوارض جن سے اس کا وجود آگاہ نہیں تھا ، اسے چار طرف سے گھیر لیتے ہیں۔وہ بیماریاں جنھیں اس نے کبھی درخور اعتنا نہ سمجھا تھا ، اب اس کی جان کا روگ بن جاتی ہیں۔اب کوئی غذا زندگی بخش رہتی ہے اور نہ کوئی دوا صحت بخش ۔ آخرکار یہ روگی موت کے ہاتھوں شکست کھاکر وادی عدم میں اترجاتا ہے۔یوں عروج و زوال کا یہ قصہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔
عروج و زوال کے اس قانون کے بارے میں جو عالم جمادات، عالم نباتات ،عالم حیوانات اور عالم انسانیت میں یکساں طور پر جاری و ساری ہے ، دوباتیں واضح رہنی چاہییں: اول، جیسا کہ اوپر کی مثال سے ظاہر ہے کہ یہ تدریجی شکل میں رونما ہوتا ہے۔دوم یہ کہ اس کو تقویت اور ضعف دینے والے بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ دوسری ہر چیز کی طرح عروج و زوال کا قانون بھی اسباب کے پردے میں منصہ شہود پر جنم لیتاہے۔ ہر عروج کے پیچھے کچھ متعین اسباب ہوتے ہیں اور ہر زوال بہرحال کچھ بنیادیں رکھتا ہے ۔ان اسباب و علل کا سلسلہ کسی بنا پر اگر متاثر ہوجائے تو واقعات اپنی رفتار اور ترتیب بدل لیا کرتے ہیں۔پھر موت بچپن میں بھی آجاتی ہے اور عالم پیری میں بھی اولاد ہوجایا کرتی ہے۔پھر ایک نوجوان بھی ضعف کی تصویر نظر آسکتا ہے اور ایک کہن سال شخص پر بھی نوجوانی کا رنگ چڑھ سکتا ہے۔

____________