پہلا باب  

موضوع کی ضرورت اور اہمیت 

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جب عالم اسلام بہت سے اندرونی و بیرونی بحرانوں کا شکار ہے۔ یوں تو دنیا میں چھپن مسلمان ممالک موجود ہیں لیکن بلحاظِ مجموعی ہم ترقی یافتہ دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہم کئی حوالوں سے غلامی کی زندگی بسر کرر ہے ہیں تو چنداں غلط نہ ہوگا۔ ترقی یافتہ دنیا جی بھر کر ہمارا استحصال کررہی ہے۔ عالمِ اسلام کو باقی دنیا کے سامنے ایک خطرے کے روپ میں پیش کیا جارہا ہے، اور بے شمار لوگوں کے نزدیک تو شاید ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ عالمِ اسلام کو منظم طور پر ٹارگٹ کیا جارہا ہو۔ عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے میں غیر ملکی افواج موجود ہیں۔ ان افواج کے ہاتھوں پچھلے تیس برسوں میں کئی ملین مسلمان موت سے ہم کنار ہوچکے ہیں اور سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان ہمیں پہنچایا جاچکا ہے۔ یہ ترقی یافتہ ممالک ، خصوصاً امریکہ، جب چاہتے ہیں،مسلمان ممالک کو ڈراتے دھمکاتے ہیں، یہاں اپنے اڈے بناتے ہیں اور ان کی افواج نے پچھلے برسوں میں معصوم اور بے گناہ لوگوں پر لرزہ خیز مظالم ڈھائے ہیں۔ 
مغرب میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کھلم کھلا بذاتِ خود اسلام ہی کوخطرہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے نقطہ ہائے نظر وجود میں آگئے ہیں جن کے خیال میں دنیا کی آئندہ ترقی اور حضرت مسیح ؑ کی دوبارہ آمد کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہودی مسلمانوں پر خوب ظلم ڈھائیں اور اس کام میں مسیحی بھی یہودیوں کی مدد کریں۔ مغرب کے کئی حکمران طبقے شعائرِ اسلام کی بے حرمتی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسلام کا مذاق اڑانے والے بدطینت لوگوں کو اعزازات سے نوازتے ہیں، اُن کو ہیرو بناتے ہیں اور ان کو آزادئ رائے کے علم بردار کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ 
برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی کوششوں سے وجود میں آنے والے اسرائیل نے پچھلے پچاس برس میں لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پچھلے بیس برس میں کشمیر کے اندر بھی ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد اب تک کئی لاکھ افغانی اس لڑائی کی نذر ہوچکے ہیں۔ عراق میں امریکی مداخلت کے بعد وہاں مقتولین کی تعداد، ایک اندازے کے مطابق، چھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ چیچنیا میں روسی افواج نے لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کردیا ہے۔ بوسنیا میں سربیائی افواج نے مسلمانوں کا منظم قتلِ عام کیا۔ اس وقت صومالیہ سمیت بہت سے مسلمان ممالک میں غیر ملکی افواج موجود ہیں۔ 
دوسری طرف ہر معیار کے اعتبار سے عالمِ اسلام اس وقت بدحالی ،کمزوری، نااتفاقی، بد انتظامی ،اور بے انصافی کی آخری حد پر ہے۔تمام عالم اسلام کی مجموعی قومی آمدنی (تیل والے ممالک کی آمدنی سمیت )ترقی یافتہ ممالک میں سے کسی ایک ملک کی آمدنی سے بھی کم ہے۔سوائے ملایشیا ،کے کسی ملک کی کوئی خاص صنعتی بنیاد نہیں ۔چند افریقی ممالک کو چھوڑ کر ہمارے ہاں تعلیم سب سے کم ہے۔ صحت کی سہولتوں کا بھی یہی حال ہے۔پورے عالم اسلام میں سے کسی ملک میں مضبوط ادارے موجود نہیں ہیں۔دفاعی صنعت کے اعتبار سے صرف پاکستان کے پاس نیو کلییر ٹیکنالوجی موجود ہے۔ہوائی جہاز ،ٹینک ،توپ، آب دوز،بحری جہاز،ریڈار،بکتر بند گاڑ یاں اور اس نوعیت کی دیگر تمام چیزوں کے لیے مسلمان دوسروں کے محتاج ہیں۔ایک سعودی عرب کے علاوہ ،باقی مسلمان ملکوں میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ہم مسلمان ہر وقت مغرب پر دہرے معیار کا الزام لگاتے ہیں۔یقیناًیہ الزام اس حد تک صحیح ہے کہ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک اپنے اندرونی نظام میں تو نہیں ، لیکن بیرونِ ملک تعلقات کے ضمن میں قابلِ مذمت دہرے معیار سے کا م لیتی ہیں۔ تاہم اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ مسلمان ممالک اندرونی اور بیرونی دونوں اعتبارات سے دہرے معیار سے کام لیتے ہیں ۔سارے مسلمان ملکوں میں صرف ملایشیا اورانڈونیشیا میں صرف کسی حد تک جمہوریت ہے۔ ایران میں انتخابات ہوتے ہیں ، مگر اصل اختیار ایک خاص قوت کے پاس ہے ۔ترکی میں بھی انتخابات ہوتے ہیں ، مگر طاقت کا سرچشمہ فوج ہے۔ پاکستان کی صورت حال تو ہم سبھی کے سامنے ہے۔جہاں تک عرب ممالک کا تعلق ہے تو وہاں یا بد ترین فوجی آمریتیں ہیں یا خاندانی بادشاہتیں ہیں۔ حکمران خود اپنے عوام کو اپنے ملکی معاملات میں دخیل ہونے کا حق نہیں دیتے ،اور عوام کی حیثیت رعایا سے زیادہ کچھ نہیں۔مسلمان ملکوں میں کہیں بھی عدلِ اجتماعی نہیں ۔احتساب کے اداروں کا کوئی تصور ہی نہیں ۔حکمران ہر طرح کے قوانین سے بالا تر ہیں ۔مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ساری آمدنی درحقیقت حکمران کی ذاتی آمدنی ہوتی ہے۔حکمران خاندانوں اور حکمران طبقوں کے لیے بالکل علیحدہ قوانین ہیں اور عام انسان کے لیے بالکل علیحدہ ۔مثلاً عرب ممالک کے شاہی خاندانوں کے ہزراوں لوگوں کو ساری دنیا میں لامحدود مفت سفر کی سہولت حاصل ہے ۔چند امیر مسلمان ممالک کو چھوڑ کر باقی ملکوں میں مفلوک الحال نچلے طبقے کی صورت حال بہت نا گفتہ بہ ہے۔زندگی کی بنیادی سہولیات تک بھی ان کی رسائی نہیں ۔تعلیم، صحت ،رہایش اور روزگار تک محض خوش قسمت کی رسائی ہے ۔ایسانہیں ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے رقم میسر نہیں ، بلکہ پیسہ ہے ، مگر وہ غلط ترجیحات،مخالفین کو دبانے اور حکمران طبقے اور ان کے چہیتوں کے کام آتا ہے۔
مسلمان ملکوں نے بلحاظِ مجموعی صنعتی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ہمارے یہاں سائنس دانوں کی تعدادبہت کم ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ پچھلے کئی سو برس میں کسی مسلمان ملک میں کوئی نئی ایجاد نہیں ہوئی ۔اسی لیے ہمیں ہر چیز میں مغربی ممالک کا محتاج ہو نا پڑتا ہے۔چنانچہ اگر وہ ہماری محتاجی کا فائدہ اٹھائیں ،ہم پر اپنی شرائط مسلط کریں اور ہمارا بازو مروڑنے کی کوشش کریں تو اصل قصور یقیناًہمارا ہی بنتا ہے۔ 
مسلمان ملکوں میں عام طور پر رشوت ،کرپشن ،سفارش،عیاشی اور کام چوری کا کلچر ہے۔ ہمارے امیر طبقے نے اپنی دولت کا بہت کم حصہ کمزور طبقے کے لیے مختص کیا ہے ،وہ بھی عجیب ترجیحات کے ساتھ۔مثلاً امارات کے امیر شیخ پاکستان اور بنگلہ دیش میں آکرعظیم ا لشان مساجد تعمیر کر لیتے ہیں۔حالانکہ ان کا سرمایہ یہاں مسجدوں میں نہیں ،بلکہ کارخانوں میں لگنا چاہیے۔مسجد تو ہر بستی کے مسلمان اپنے معاشی حالات کے مطابق لازماً تعمیر کر ہی لیتے ہیں ۔
ہمارے عام لوگوں کی ترجیحات بھی کسی زندہ قوم کے شایانِ شان نہیں ۔ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے بجائے شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں دکھاوے پر زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں ۔ہم وقت کی قدر کر نا نہیں جانتے، اس لیے ہماری ایک بڑی کلچرل قدر مسلسل غمی شادی میں شریک ہونا ہے۔ہمارے یہاں کسی بڑے جنازے کو اپنے بہت فخر اور دوسرے بہت قدر اورر شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ، خواہ اس میں قوم کے کتنے ہی قیمتی دن ضائع ہو جائیں۔
ہم لوگ بے حسی ،خود غرضی ،لاپروائی اور غیر ذمہ داری کے آخری مقام پر ہیں ۔سوائے پاکستان کے ،اکثر مسلمان ممالک اپنے دفاع کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسلمان ممالک آپس میں پالیسیوں کی اعتبار سے بھی بالکل منتشر،غیر متفرق اور مختلف الخیال ہیں۔ایک فلسطین کے متعلق کسی حد تک ذہنی ہم آہنگی موجود ہے ، مگر اس کا معاملہ بھی یہ ہے کہ مصر کے مرحوم صدر سادات نے اسرائیل سے مذاکرات کے ذریعے سے صحرائے سیناتو واپس لے لیا اور غزہ کا فلسطینی علاقہ بدستور اسرائیل کے کنٹرول میں رہنے دیا ، حالانکہ وہ علاقہ اسرا ئیل نے مصر سے ہی چھینا تھا ۔اسی طرح فلسطینیوں اور اردن کی آپس کی دشمنی سے ایک دنیا واقف ہے ۔شام اور فلسطینیوں کے درمیان بھی کئی اختلافات ہیں ۔ایک مدت سے پوری عرب دنیا نے عملاً فلسطینیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوا ہے۔خود فلسطینیوں کا یہ حال ہے کہ وہ بیسیوں تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں جن کے درمیان وسیع اختلافات پائے جاتے ہیں ۔
چنانچہ یہ ہے عالمِ اسلام کی زبوں حا لی ،دو عملی ،کمزوری ،نااتفاقی اور دہرے معیار کا ایک مختصر خاکہ ۔ا س حالت کے ساتھ تو ہمارا محض زندہ رہنا بھی ایک بڑی باعث حیرت بات ہے ۔کجا یہ کہ ہم یہ سوچ سکیں کہ اپنی اس حالت کو بدلے بغیر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ بن سکیں گے ،ان کا مقابلہ کر سکیں گے اور ان کی سازشوں کا توڑ کر سکیں گے ۔ایسا ممکن نہیں ہے ۔پہلے ہمیں اپنے گھر کو ہر اعتبار سے ٹھیک کر نا ہو گا تب کہیں جا کر ہم آگے کا سوچ سکیں گے ۔
عالم اسلام کے حکمران ہوں یا سیاسی لیڈر ،دانش ور ہوںیا مذہبی وا عظ ،صحافی ہوں یا کالم نگار،سب کے سب جذباتی الفاظ و اصلاحات استعمال کرنے،جذباتی تقریریں اور کالم لکھنے اور ہر وقت عوام کو ایک سحر کے عالم میں رکھنے میں اپنا ثانی نہیں ر کھتے ۔عوام بھی اس انداز کو پسند کرتے ہیں۔ہر مقرر اپنی تقریرمیں یو ں سماں باند ھتا ہے جیسے پوری دنیا بس ہمارے ایک ہی وار کی زد میں ہے۔ ہر کالم نگار رائی کو یوں پہاڑ بناتا ہے کہ ہر نوجوان کا جی چاہتا ہے کہ ابھی اٹھ کر عالم کفر کو للکار کر تخت یا تختہ میں سے کسی کا انتخاب کر لے۔ماضی کے کسی بھی واقعے کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کے بجائے ا س کو افسانہ طرازی کے انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے گویا ہم سے تو کبھی کوئی غلطی ہوئی ہی نہیں ۔
ہمارے لیڈر ہماری ہر خواہش اور جذبے کو نعرے کی صورت دے کر دلوں کو گرماتے ہیں، چاہے وہ نعرہ یا دعویٰ کتنا ہی کھوکھلا کیوں نہ ہو۔’’اب روس کے بعد امریکہ کی باری ہے ‘‘، ’’ہم دہلی کے لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرا کے رہیں گے ‘‘، ’’سارا ہندوستان مسلمان ہونے والا ہے ‘‘، ’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو ‘‘۔ اس طرح کے نعرے پاکستان میں عام سنائی دیتے ہیں۔ 1967ء میں ناصر نے کہا :’’ہم اسرائیل کو اٹھا کر بحیرۂ روم میں غرق کر دیں گے۔‘‘ اس بیان کے تین چار دن بعد اسرائیل نے حملہ کر کے پانچ دن کے اندر اندر بشمول مصر تین ملکوں کو یوں شکست دی کہ سویز سے قاہرہ تک مصر کا ایک سپاہی بھی موجود نہیں تھا ۔خلیجی جنگ میں امریکی حملہ کے وقت صدام نے اسے ’’ام المحارب ‘‘یعنی جنگوں کی ما ں قرار دیا ۔یہ جنگ تین دن میں عراق کی بد ترین شکست پر اپنے انجام کو پہنچی ۔
عالمِ اسلام کا ہر قائد اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیں ۔ہر ایک اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار رہتا ہے۔اسی لیے کسی بھی ملک کے اندر متبادل لیڈر شپ نہیں ابھرتی۔ہر حکمران مسلسل غلطیاں کرتا رہتا ہے اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے ۔یہاں جمہوریت ہے نہ ادارے ۔نہ اجتماعی قربانی ہے، نہ انفرادی ۔نفسانفسی کا دور دورہ ہے ۔اسی لیے مسلمان ممالک نے پچھلے پچاس برسوں میں آپس میں نہایت خوف ناک جنگیں لڑی ہیں ۔صرف یہی نہیں ، بلکہ خود کئی ملکوں کے اندر خانہ جنگیوں میں بھی لاکھوں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک لمبے عرصے تک انڈونیشیا اور ملائشیا کا آپس میں قضیہ چلتا رہا ۔یمن خانہ جنگی کا شکار رہا ۔سعودی عرب شمالی یمن کا طرف دار اور مصر جنوبی یمن کا حمایتی تھا ۔سعودی عرب کے فوجی، شمالی یمن کی طرف سے اور مصر کے فوجی، جنوبی یمن کی طرف سے لڑتے تھے ۔یہ لڑائی ایک لمبی مدت تک چلتی رہی جس میں دونوں طرف سے ہزاروں سپاہی ہلاک ہوئے ۔شام اور عراق میں خون ریز انقلاب آئے ۔شام میں ایک لمبے عرصے تک حکومت اور اخوان المسلمون کے درمیان مسلح جنگ ہوتی رہی ۔ایک دفعہ حکومت نے اخوان کے زیر قبضہ ایک شہر پر بمباری کر کے ایک تہائی شہر کو ملیامیٹ کر دیا ۔صرف اسی ایک حملے میں ہزاروں اموات ہوئیں ۔عراق میں صدام انتظامیہ نے اپنے سیاسی مخالفین اور کُرد علیحدگی پسندوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم کیے رکھا۔افریقہ میں الجزائر ،تیونس اور مراکش کا مغربی صحارا کے مسئلے پر آپس میں مناقشہ زوروں پر تھا۔الجزائر میں 1991ء کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 
پاکستان کی اپنی غلطیوں سے بنگالی عوام میں احساس محرومی آخری درجے میں پیدا ہوگیا۔1970ء کے انتخابی نتائج کو عملاً ماننے سے انکار اور مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے نتیجے میں خانہ جنگی برپا ہوئی، جس میں لاکھوں بنگالی بھی تہہ تیغ ہوئے اور پاکستانی افواج کو بھی ایک بڑے نقصان کے علاوہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔انڈونیشیا میں فوج کے دومتحارب دھڑوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ایک گروہ کمیونزم کا حامی ،جب کہ دوسرا گروہ مغرب کا حامی تھا۔اس لڑائی میں بھی بہت نقصان ہوا۔اسی کے نتیجے میں سوہارتو برسراقتدار آئے اور اگلے پینتیس برسوں تک انڈونیشیا کے سیاہ وسفید کے مالک بنے رہے۔
افغانستان میں ظاہر شاہ کی پالیسیوں کی وجہ سے کمیونسٹوں کو بڑا اثر ونفوذ حاصل ہوگیا۔پھر سردار داؤد نے بھی ابتدا میں اس کو بڑھایا اور پھر جب اسے ہوش آیا تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔1977ء میں سردار داؤد کا تختہ بھی الٹ کر ایک اشتراکی انقلاب برپا کردیا گیا۔ خانہ جنگی میں اتنی شدت پیدا ہوئی کہ دو برس بعد روس نے اپنی فوج بھیج کر براہ راست مداخلت کردی۔سات برس بعد روسی افواج واپس ہوئیں۔لیکن ان کی واپسی کے مزیدچار سال بعد تک کابل اور دوسرے اہم شہروں پر نجیب کی حامی افواج کا قبضہ رہا، اور لڑائی جاری رہی۔گویا روسیوں کا بھیانک جُرم اپنی جگہ پر،مگر بعد میں تو یہ افغان تھے جو آپس میں لڑتے رہے اور آج تک لڑتے چلے آرہے ہیں۔
1980ء کی دہائی میں عراق نے ایران پر حملہ کردیا۔یہ لڑائی آٹھ برس جاری رہی اور اس میں دونوں طرف سے دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے،چھ لاکھ ایرانی اور چار لاکھ عراقی۔نہ صرف پوری دنیا بلکہ مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی تماشا دیکھتی رہی۔جہاں ایک طرف ایران کی ساری آمدنی اسلحہ پر لگ گئی،وہاں مال دار عرب ممالک مسلسل عراق کی مدد کرتے رہے۔آٹھ برس بعد یہ بے نتیجہ اور فضول جنگ اس وقت ختم ہوئی جب دونوں طاقتوں میں لڑنے کا دم خم رہا ہی نہیں۔
اس کے بعد عراق نے ایک سرحدی تنازعہ کو بہانہ بناکر کویت پر قبضہ کرلیا۔ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے پوری دنیا عراق کے خلاف صف آرا ہوگئی۔عراق سے بار بار اپیلیں کی گئیں۔اقوام متحدہ کی قراردادیں سخت سے سخت تر ہوگئیں۔مگر صدام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔بالآخرامریکہ کی زیر قیادت ایک فوجی آپریشن کے ذریعے سے چند ہی دنوں میں عراق کو کویت سے نکال باہر کیا گیا۔اس تنازعہ میں لاکھوں اموات کے علاوہ تمام عرب ممالک کی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا۔
یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پچھلے پچاس برس کے دوران میں مسلمانوں نے آپس کی خانہ جنگیوں میں ایک دوسرے کا بہت خون بہایا ہے۔ہمارا ہی ایک طبقہ بڑی آسانی سے یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر وں کی سازشوں سے ہوا ۔لیکن یہ محض حقائق سے آنکھیں چرانے والی بات ہے ۔سوال یہ ہے کہ صرف ہم ہی کیوں دوسروں کی سازشوں کا آلۂ کار اور شکار بنتے ہیں؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اصل خرابی دراصل ہم میں ہے او ر اگر ہم میں خامی وکمزوری نہ ہو تو کوئی طاقت بھی ہمیں اپنا آلۂ کار نہیں بنا سکتی ۔اجتماعی معاملات میں قدرت کے کچھ اصول ہیں جن کی بنیاد پر معاشرہ آگے بڑھتا ہے یا پیچھے رہ جاتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے لوگ ہمیشہ سازشوں کی دہائی دیتے ہیں۔ حالانکہ پس ماندگی کے اسباب میں سازش کو وجہ جواز بنالینا دراصل ایک ملک کو کوشش سے محروم کردیتا ہے۔ چنانچہ آئندہ صفحات میں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ جذباتیت، اورتعصب کے بجائے انصاف اور غیر جانبداری کے ساتھ امتِ مسلمہ کی موجودہ بے توقیری کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہماری کامیابی کا راستہ کیا ہے۔