تیسری بحث
 

امت مسلمہ کا پس منظر

اس سے قبل کہ ہم امت مسلمہ کے عروج و زوال کے ضمن میں قرآن کاقانون واضح کریں، یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی تشکیل کا پس منظر بیان کردیا جائے۔
ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو آزمایش کے لیے بھیجا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آزمایش میں انسانیت کی مدد کے لیے متعدد اہتمام کیے۔ان میں سے ایک آخری درجہ کا اہتمام وہ تھا جس کا تفصیلی ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں۔ جس میں ایک رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اور وہ آخرت میں ہونے والی سزا وجزا کی داستان کو اس دنیا میں عملاً بر پا کرکے دکھادیتا ہے۔ اس طرح رسول کی قوم دنیا کے لیے ایک حسی نشان بن جاتی ہے کہ جس طرح دنیا میں خدا کے رسول کی نافرمانی پرتباہی آتی ہے اور فرماں برداری پر غلبہ نصیب ہوتا ہے ، اسی طرح قیامت کے دن خدا کے فرما ں برداروں کا مقدر ابدی عروج اور نافرمانوں کا مقدر ابدی زوال ہوگا۔
تاہم آزمایش کی اس دنیا میں ہمیشہ یہی ہوا کہ ایک رسول کے ماننے والے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان برائیوں ، خصوصاً شرک میں مبتلا ہوتے چلے گئے جو دنیا میں پھیلی ہوئی تھیں اور حق محض تاریخ کی ایک داستان بن کر رہ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قدیم دنیا میں ایک دوسری صورت حال پید اہوچکی تھی۔وہ یہ کہ اس وقت کی کم و بیش تمام متمدن دنیا میں حکومتی طاقت شرک کی محافظ تھی اوراہل حق کو مذہبی تعذیب کا نشانہ بناکر توحید کے راستے سے روکا جاتا تھا۔اس طرح حق کے آزادانہ طور پر پنپنے کے امکانات ہی ختم ہوچلے تھے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی اس اسکیم کے خلاف تھا جس کے تحت انسان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اپنی مرضی سے حق کے ردو قبول کا فیصلہ کرسکے۔
ہمارے پاس جو معلوم تاریخی ریکارڈ ہے ، وہ تقریباً اسی عرصے میں منضبط ہونا شروع ہوا، اسی لیے وہ لوگوں کے عقائد کی داستان ہمیشہ شرک کے حوالے سے سناتا ہے،حالاں کہ قرآن نے اس دور کے رسولوں اور ان کی اقوام کی جو داستان بیان کی ہے، مثلاً ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہم السلام وغیرہ، اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حق و باطل کا معرکہ ہمیشہ کی طرح اس دور میں بھی جاری تھا،۔ تاہم بد اعتقادی اور بد اعمالی کا غلبہ اس قدر تھا کہ قوم تباہ ہوجاتی ، مگر حق قبول نہ کرتی، یعنی انسانیت توحید کی راہ سے اس طرح اتری کہ اس کا واپس آنا بہت مشکل ہوچکا تھا۔
ان حالات میں آج سے تقریباً چار ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ابراہیم کو کاررسالت کے ساتھ ایک دوسری ذمہ داری کے لیے قبول کیا۔ وہ ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مختلف آزمایشوں سے گزارا اور جب وہ ان میں کامیاب ہوگئے تو انھیں انسانیت کی امامت کے لیے منتخب کرلیا۔ اس امامت کے نتیجے میں نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ کی اولاد میں خاص کردیا گیا اورآپ کی اولاد میں سے دو عظیم الشان امتیں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان امتوں کی تاسیس کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ وہ شرک کی ان زنجیروں کو بالجبر توڑ ڈالیں جنھوں نے انسانیت کو صدیوں سے جکڑ رکھا تھا۔دوسرے ان کی شکل میں ایک ایسا معاشرہ ہر دور میں انسانوں کے سامنے رہے جو توحید کی بنیاد پر قائم ہو اور جہاں اللہ کے نبیوں کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق لوگ ایک خدا پرستانہ زندگی گزارتے ہوں۔اس طرح یہ لوگ نہ صرف انسانوں پر حق کی شہادت دیں،بلکہ شمع حق کی صورت، تاریکی میں بھٹکے ہوؤں کے لیے منزل کی طرف رہنمائی کرنے والے بھی بن جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے عروج کو اپنی فرماں برداری اور ان کے زوال کو اپنی نافرمانی سے مشروط کردیا۔اس طرح حق لوگوں کے لیے تاریخ کی ایک سنی سنائی داستان نہ رہا ، بلکہ حال کی ایک زندہ تصویر بن کر ان کے سامنے مجسم ہوگیا کہ کس طرح خدا اپنے فرماں برداروں پر رحمتیں اور غداروں پر عذاب نازل کرتا ہے۔

____________